Baaghi TV

Category: پنجاب

  • پنجاب کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا الگ بجٹ بنایا گیا ہے        صوبائی  وزیر توانائی

    پنجاب کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا الگ بجٹ بنایا گیا ہے صوبائی وزیر توانائی

    صوبائی وزیر توانائی اختر ملک کا کہنا ہے کہ تعلیم ، صحت ، انرجی ، زراعت اور انڈسٹری کے لیے بجٹ میں خطیر رقم رکھی گئی-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر توانائی اختر ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج پنجاب حکومت کی جانب سے عوامی بجٹ پیش ہو گا- پنجاب کا بجٹ عوامی اُمنگوں کا ترجمان ہوگا-

    اختر ملک نے بتایا کہ پنجاب کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا الگ بجٹ بنایا گیا ہے یہاں تک کہ جنوبی پنجاب کے بجٹ کی کتاب ہی الگ شائع کی گئی ہے-

    واضح رہے آج پنجاب اور جنوبی پنجاب کا الگ الگ بجٹ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بحٹ پیش کیا جائے گا-

    جنوبی پنجاب کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 196 ارب روپےرکھنے کی تجویز دی گئی جنوبی پنجاب کی ترقیاتی ا سکمیوں کے لیے مختص فنڈز کسی اور جگہ خرچ نہ ہو سکیں گے-

    علاوہ ازیں بجٹ میں ماحولیات ، اقلیتوں ، اوقاف اور سیاحت کے منصوبے کےلیے بھی بھاری رقم مختص کی جائے گی-

    بجٹ سے متعلق اپوزیشن کا پراپیگنڈا آج دم توڑ جائے گا وزیر جنگلات پنجاب

    پنجاب کا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بحٹ آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا

  • بجٹ سے متعلق اپوزیشن کا پراپیگنڈا آج دم توڑ جائے گا      وزیر جنگلات پنجاب

    بجٹ سے متعلق اپوزیشن کا پراپیگنڈا آج دم توڑ جائے گا وزیر جنگلات پنجاب

    وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان کا کہنا ہے کہ بجٹ سے متعلق اپوزیشن کا پراپیگنڈا آج دم توڑ جائے گا-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیرسبطین خان کا کہنا ہے کہ بجٹ ہر طبقے کیلئے ریلیف کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے-

    وزیر جنگلات پنجاب نے کہا کہ آج کے بجٹ سے حکومت کی عوام دوستی کا ثبوت ملے گا ،پنجاب بجٹ میں عوام کا ہر طرح سے خیال رکھا گیا ہے بجٹ سے متعلق اپوزیشن کا پراپیگنڈا آج دم توڑ جائے گا-

    واضح رہے کہ پنجاب اور جنوبی پنجاب کا الگ الگ بجٹ بنایا گیا ہے بجٹ لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بنایا گیاہے جو آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا-

    پنجاب کا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بحٹ آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا

    فاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بے بس صحافیوں کوخوشخبری سنادی

    ن لیگ کا نیا بیانیہ کیا آرہا ہے؟اورکیوں؟فواد چوہدری نے اندرکی بات بتادی

  • پنجاب  کا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بحٹ آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا

    پنجاب کا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کا بحٹ آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائےگا

    پنجاب کا بحٹ آج صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 2ہزار 600 ارب روپے کے لگ بھگ ہو گا، پنجاب کے 36 اضلاع کے لیےضلعی ترقیاتی پروگرام کے تحت 100 ارب روپے کی تجویز پیش کی گئی –

    پنجاب میں ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب روپے رکھنے کی تجویز،جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ڈھائی سو ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز جبکہ صحت اور تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں ڈیڑھ گنا اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی-

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں صحت کارڈ کے لیے خصوصی طور پر 60 ارب روپے رکھنے کی تجویز ،کورونا سے متاثر کاروباری صنعت کو چھوٹ دینے کے لیے 50 ارب روپے کی تجویز پیش کی گئی-

    پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھانےکے لیے 30 اب روپے مختص کرنے کی تجویز،ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 80 ارب روپے کی لاگت سے روڈ انفراسٹرکچر پروگرام کی تجویز،ورلڈ بینک کے تعاون سے 89 ارب روپے کی لاگت سے رولر واٹر سپلائی پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی جائے گئی-

    جنوبی پنجاب کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 196 ارب روپےرکھنے کی تجویز،جنوبی پنجاب کی ترقیاتی ا سکمیوں کے لیے مختص فنڈز کسی اور جگہ خرچ نہ ہو سکیں گے-

    ذرائع کے مطابق ذرعی شعبے کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 20 ارب روپے خرچ ہوں گے،ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کا منصوبہ 3برس تک چلے گا-

    پنجاب میں انصاف ا سکول آپ گریڈیشن پروگرام کے تحت 8 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ،گرین انفراسٹرکچر فنڈ میں 3 ارب روپے تک رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے-

    علاوہ ازیں بجٹ میں ماحولیات ، اقلیتوں ، اوقاف اور سیاحت کے منصوبے کےلیے بھی بھاری رقم مختص کی جائے گی-

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش اور ژالہ باری جاری ہے-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد اور گردونواح میں بارش اور ژالہ باری، لاہور اور گردونواح میں بھی رات سے بارش،لاہور میںآج دن بھر وقفہ وقفہ سے بارش جاری رہنے کا امکان ہے، کاہنہ،قصوراورگردونواح میں بارش،موسم خوشگوار-

    جڑانوالہ،میانوالی اور چنیوٹ میں تیزہواوَں اور گرج چمک کے ساتھ بارش،حافظ آباد اور گردونواح میں موسلا دھار بارش،موسم خوش گوار،حافظ آباد بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے-

    میرپور آزاد کشمیر اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش، ظفروال اور گردونواح میں موسلادھار بارش،شاہ کوٹ ، سانگلہ ہل اور گردونواح میں بارش، ڈسکہ ،نارووال اورگردونواح میں بھی بارش ہوئی –

    میرپور،چیچیاں، جاتلاں، خالق آباد، منگلا میں بھی بارش ،بارش شروع ہوتے ہی متعدد سیکٹرز اور دیہاتوں میں بجلی غائب ہو گئی-

    بارکھان اور گردونواح میں موسلادھار بارش سے مقامی ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

    کوہلو میں آسمانی بجلی گرنے سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات بوندا باندی ہوئی-

  • کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟      تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟ تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اگر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو جنگل میں چھوڑ آئیں تو وہ پہلی بات حالات کا مقابلہ نہیں کرسکے گا اگر وہ زندہ بچ بھی گیا تو وہ انسانوں کی طرح نہیں ہوگا نہ اس کو بولنا آتا ہوگا بہت سارے لوگ اکٹھے رہ کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہر کامیاب کاروبار جو ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ جو ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرتا ہے۔

    ایک ملک ایک چیز پر انحصار نہیں کر سکتا اس کو مختلف شعبوں میں ترقی کرنا ہوتی ہے میرے ملک پاکستان کا جو سب سے بڑا سیکٹر جس کو پاکستان کہا جاتا ہے وہ بہت ہی کمزور ہے اور کسان زبوں حالی کا شکار ہے حالانکہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو ترقی ہوتی ہے اس میں زراعت کا بہت زیادہ ہاتھ ہے ۔

    پاکستان کی معیشت کو چلانے کے لیے زراعت کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی نہ تو کوئی گورنمنٹ پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    کچھ گورنمنٹ ہے جو اس سیکٹر میں اس پیشے میں توجہ دیتی ہیں تو آئیے ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں کسان زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں اور ان کو کس کس مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بھاگتے ہیں۔

    موجودہ حکومت نے تھوڑی بہت ہی اس پر توجہ دی ہے جس کی وجہ سے حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں لیکن میں بہت زیادہ جو اہم معاملات ہیں اس پر گورنمنٹ کی توجہ کروانا چاہوں گا۔

    کچھ ایسے حالات ہیں جس کی وجہ سے کچھ سال زبوں حالی کا شکار ہیں بجلی والے ٹیوب ویل کی بات کر لیتے ہیں ابھی حالیہ دل میں بجلی والوں نے ضرورت سے زیادہ یونٹ ڈال دیے ہیں جس پر کسان پریشان ہیں اگر ان کے دفتر میں جائیں تو وہ آگے سے کوئی بات ہی نہیں سننے کو تیار نہیں کہ وہ تو افسر شاہی ہی عوام کی بات بلا کیوں سنیں گے۔

    حکومت نے جو بل کا نظام بنایا ہے کہ بل کے ساتھ تصویر بھی کھینچی جاتی ہے تاکہ بل زیادہ نہ آئے اور ساتھ عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
    لیکن واپڈا کے اہلکار بھی فراڈ میں بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں انہوں نے ایک ایسا طریقہ بنایا ہے کہ جو تصویر اصل ہوتی ہے اس کو بدل کے اپنی مرضی کی تصویر لگا دیتے ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں کسانوں کو ان کے دفتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے یہ صحیح طریقے سے اپنی فصل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔

    جتنی بجلی کسانوں نے استعمال کی ہوتی ہے اس سے زیادہ بل ڈالا جاتا ہے۔ آج چاچا جان سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کل یا پرسوں کو واپڈا آفس جانا ہے جب وجہ پوچھی گئی تو یہی بتایا گیا کہ بل اس بار پھر زیادہ آگیا ہے ٹیوب ویل کا تو میں نے کہا کہ آپ ہیلپ لائن 118پر کال کریں مسئلہ حل ہوجائے گا انہوں نے آگے سے کہا (پتر اوہ وی اوناں دے نال رل گئے نے )
    مطلب کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل گئی ہیں پتہ نہیں کتنی بار ان کو بھی کال کرکے دیکھی ہے پہلے تو وہ مسئلہ حل کر دیتے تھے لیکن اب وہ بھی بات نہیں سنتے ہیں۔

    اگر واپڈا آفس جائیں تو وہاں پر کرپٹ سے کرپٹ کرپٹ افسر بیٹھا ہوا ہے جو پیسے لئے بنا بات ہی نہیں سنتے۔

    پیسے دے دوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے ایک اور مزے کی بات بتاؤں شاید بہت سارے لوگوں کو نہ پتا ہو بلکہ پتا ہی نہیں ہوگا واپڈا کے جو کرپٹ افسر ہیں وہ دھان کی فصل کے موسم کے وقت کیونکہ ان دنوں میں ٹیوب ویل دن رات چلتے ہیں اور بل کافی زیادہ آتا ہے انہوں نے اپنی جعلی میٹر بنائے ہوتے ہیں وہ کسانوں کو کہتے ہیں کہ یہ میٹر لگا لو اور سیزن کے اتنے پیسے دے دینا۔

    اور آپ کو بل وغیرہ نہیں آئے گا جب سیزن گزر جائے گا تو آپ اپنا اصلی میٹر لگا لینا اگر ایسا کوئی نہ کرے تو اس کو پھر اپنی مرضی کے یونٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی کا بل بھیجا جاتا ہے۔

    اللہ اللہ یہ کیسے لوگ ہیں جو میرے ملک کو کھا رہے ہیں یہاں پر مجھے عہد حاضر کے ایک شاعر علی زریون صاحب کا شعر یاد آ گیا ہے۔

    ‘اے میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے۔۔
    یہ کون لوگ ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے۔۔’

    حکومت پاکستان کو ایسے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اگر کسان پریشان ہوں گے اور وہ فصل نہیں کاشت پائیں گے تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے بڑھے گی۔اور پاکستان ترقی کیسے کرے گا کیونکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    کبھی تو واپڈا والوں کا خلاصہ ہی بیان کیا گیا ہے اگر ان پر پوری کہانی لکھنے بیٹھ جائیں اور ان کی کرپشن کے بارے میں بتانا شروع کر دیا جائے کہ یہ کن کن طریقوں سے کرپشن کرتے ہیں تو کاغذ کم پڑ جائیں گے اور سیاہی ختم ہو جائے گی۔

    کسانوں کو دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے ان کے پاس پیسے بہت کم ہوتے ہیں اور ان کو فصل کی بوائی کاشت ہل چلانے کے لئے روپوں کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ آڑھتیوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان کو سود پر قرضے دیتے ہیں اور بہت بھاری سود واپس ادا کرنا ہوتا ہے۔

    سود کے ساتھ ساتھ جب ان کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو ان کو مجبوری کے طور پر فصل بھی ان ساہو کاروں کو دینی پڑتی ہے اور وہ اپنی مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ ہیرا پھیری بھی کرتے ہیں۔ اسے کاٹ کر اور سود بھی کاٹ کر جب آخر میں حساب کیا جاتا ہے تو کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور وہ افسردہ دل منڈیوں سے واپس آتا ہے۔

    جب انسان ہی افسردہ دل ہوگا تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے گروتھ کرے گی اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ کسانوں کو ایک سال یا چھ ماہ کے لیے فری قرضے دیں۔

    جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو ان سے حکومت پاکستان ہی فصل خریدے اور خود اپنی مرضی سے ایک اچھا ریٹ تجویز کریں اس طرح کسان خوش ہوجائے گا جب کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

    جب حکومت اس کے ساتھ اچھا تعاون کرے گی تو وہ تو میں دلجمعی سے کام کرے گا اور وہ بھی حکومت کے ساتھ اچھا تعاون کرے گا اور اس طرح سے ہماری فصلوں کی پیداوار بڑھے گی جب پیداوار بڑھے گی تو ہمارے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی اس طرح عالمی منڈیوں میں پاکستان کے ساکھ بیٹھےگی۔

    ایک اور بڑا مسئلہ کسانوں کو بیج کھادیں اسپرے بھی بہت مہنگی ملتی ہیں اتنا زیادہ منافع نہیں ہوتا جتنا زیادہ فصل پر خرچہ ہو جاتا ہے اس طرح سے پھر لوگ بدل ہو جاتے کسانوں کو پوری سبسیڈی دینی چاہیے کسانوں کو زرعی آلات مشینری دینی چاہیے کہ وہ روایتی طریقے سے ہٹ کر کھیتی کریں اور زراعت میں جدت لانی چاہیے۔

    بہت سارے اہم مسائل کی طرح ایک اور بھی مسئلہ ہے ہمارے 80 پرسنٹ کسانوں کو کھیتی باڑی کے بارے میں علم نہیں ہے وہی پرانا روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔اس طرح فصل کی پیداوار بہت ہی زیادہ کم ہوتی ہے پاکستان میں زراعت کا محکمہ نام کی بھی ایک چیز ہے۔

    صاحب بہادر کی تنخواہ چل رہی ہے لیکن آج تک جب سے میں نے اپنی ہوش سنبھالی ہے کبھی بھی کسی زراعت کے افسر کو یا کسی ویسے زراعت کے بندے کو اپنے گاؤں یا علاقے میں نہیں دیکھا وہ بس سرکاری مال کھا کر خواب خرگوش کیے مزے لے رہے ہیں۔
    حالانکہ کے ان کا اصل کام گاؤں لوگوں کو جاکر شعور دینا لوگوں کو بتانا کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے۔

    دھان کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے اور گنے کی فصل کو کس کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے گندم کو کیسی زمین میں کاشت کرنا چاہیے اور کپاس کو کیا ادویات ڈالنی چاہیے۔

    لیکن وہ صاحب بہادر اپنے دفتروں سے نکلنا بھی گوارا نہیں کرتے ہان ان کی شان کے خلاف بھی ہے اگر کسی کو ان سے فائدہ ہو گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا۔

    مجھے یہاں پر تہذیب حافی کا ایک شعر یاد آ گیا
    ‘تم کو دور سے دیکھتے دیکھتے گزر رہی ہے۔۔
    مر جانا پر کسی غریب کے کام نہ آنا ۔’

    حالانکہ ہر تحصیل لیول پر لیباٹری ہونی چاہیے جہاں پر یہ دیکھا جائے کہ کس فصل کو کیسے کاشت کرنا ہے اور کون سی زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے۔

    ایک سب سے بڑا مسئلہ اور پاکستان کے جسم کے ساتھ ناسور کرپٹ پٹواری بھی ہیں اگر زمین کی نشاندہی کروانی ہو یا کچھ اور ہو تو لاکھوں روپے مانگتے ہیں۔ اس پاکستان کو بہت سے ناسور لگے ہوئے ہیں ان کو الگ کرنا ہوگا ورنہ تب تک پاکستان ترقی نہیں کر پائے گا اور پٹواریوں کی شان میں پھر کسی دن لکھوں گا۔
    تحریر: احسن ننکانوی
    Ahsannankanvi@gmail.com

  • گرمی کے ستائے لاہوریوں کے لئے بڑی خبر، کب برسے گی بارش؟

    گرمی کے ستائے لاہوریوں کے لئے بڑی خبر، کب برسے گی بارش؟

    محکمہ موسمیات کی لاہور میں بارش کی پیشنگوئی-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے لاہور میں بار ش کی پیشن گوئی کی ہے ج س کے بعد ڈی سی لاہورنے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے-

    محکمہ موسمیات کی لاہور میں ہفتہ اور اتوار بارش کی پیشگوئی کے بعد متعلقہ ادروں کو ہدایات جاری کردیں۔

    جاری ہدایات کے مطابق ایل ڈبلیو ایم سی ، واسا تیز بارش ہونے کی صورت میں متحرک رہے گے، شہر کے نشیبی پوائنٹس پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔

    ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا کہ واسا اپنے تمام ملازمین کو پوائنٹ پر الرٹ رکھے اور واسا کے تمام ڈسپوزل پوری طرح فنکشنل ہوں۔

    ڈی سی لاہور نے کہا کہ اسسٹنٹ کمیشنرز بارش کی صورت میں فیلڈ میں موجود رہیں گے.

    حکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹو ں میں موسم کی صورتحال

  • کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں رواں برس مختلف مقامات سے 7 ہزار636 مقامات پر لاروا پایا گیا-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق لاہورمیں ڈینگی کے 17ہزار84 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی تعداد17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں برس ایک ہزار195 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں رواں سال اب تک 17 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے-

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق لاہورمیں ڈینگی وائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئےہیں-

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    کیا ڈینگی کے مریضوں میں کووڈ کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

    نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا سامنا کرنے والے افراد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر کووڈ کی علامات ابھرنے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو بائیومیڈیکل سائنس انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں برازیل کے ایمیزون خطے کے ایک قصبے کے 1285 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان میں کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایک طرف کووڈ 19 کے نتیجے میں ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وہی دوسری جانب ڈینگی سے کووڈ کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

    کرونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ، ایک اور نیا مریض سامنے آ گیا

    یہ تحقیقی ٹیم عرصے سے اس خطے میں ملیریا کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے اور 2018 میں انہوں نے ہر ماہ بعد قصبے کی آبادی کے سروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کا رخ کووڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ستمبر 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے علاقے جہاں ڈینگی کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہوچکے ہیں وہاں کووڈ 19 سے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

    انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم اس خطے کے رہائشیوں کے خون کے نمونے کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر سے پہلے اور بعد میں اکٹھے کرچکے تھے، تو ہم نے ان کو اس خیال کی جانچ پڑتال کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس کا سامنا کرنے والے افراد کو کسی حد تک کووڈ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر نتائج اس سے بالکل متضاد رہے۔

    تحقیق میں جن خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا وہ نومبر 2019 اور نومبر 2020 میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان میں موجود اینٹی باڈیز کو ڈینگی تمام اقسام اور کورونا وائرس کے خلاف آزمایا گیا تاہم نتائج سے ثابت ہوا کہ 37 فیصد افراد نومبر 2019 سے قبل ڈینگی جبکہ 35 فیصد افراد نومبر 2020 سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے تھے۔

    محققین کے مطابق ہم نے شماریاتی تجزیے سے نتیجہ نکالا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے سے کووڈ سے بیمار ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

    ان کہنا تھا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے، ان میں کورونا سے متاثر ہونے پر علامات ابھرنے کا امکان دیگر سے زیادہ ہوتا ہے-

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا سرکاری ملازمین کے لئے بڑا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب کا سرکاری ملازمین کے لئے بڑا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس کا ناعقاد ہوا جس میں ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی امور کا جائزہ لیاگیا-

    باغی ٹی وی : اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی اچھی خبر دیں گے –

    عثمان بزدار نے کہا کہ تعلیم، صحت، فراہمی و نکاسی آب کے لیے بجٹ بڑھایا جائے جبکہ انہوں نےاگلے مالی سال کے بجٹ میں سوشل سیکٹر کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی ہدایت بھی کی-

    اجلاس میں عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کے شہروں میں نکاسی آب کے 10 منصوبے لائے جائیں گے –

    عثمان بزدار نے کہا کہ خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجودسڑکوں کی حالت خراب ہونا انتہائی افسوسناک امر ہے،عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی حکمت عملی بنا لی ہے-

    وزیراعلیٰ پنجا ب عثمان بزدار نے سی ایم پیکج برائے بحالی روڈزکی منظوری دے دی، پیکج کے تحت ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کو بحال کیا جائے گا-

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ گوجرانوالہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو موٹروے سے منسلک کیا جائے گا اور کوٹلی ستیاں ٹورازم ہائی وے بنائی جائے گی –

    علاوہ ازیں پی ایس ڈی پی کے تحت خوشاب، میانوالی سرگودھا روڈ تعمیر بھی کی جائے گی-

    انہوں نے کہا کہ ہر محکمے سے فنڈز کے درست استعمال کی ماہانہ مانیٹرنگ رپورٹ طلب کی جائے گی-

    وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس میں زیر تکمیل منصوبوں کے لیے فنڈز ترجیحی بنیاد وں پر جاری کرنے حکم دیا-

    عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں سرکاری وصولیوں میں 20 فیصد اضافہ حکومت کی شفاف پالیسیوں کا ثمر ہے-

  • راجن پور:کچے میں ڈاکوؤں نے2 مغوی پولیس اہلکاروں کوچھوڑ دیا

    راجن پور:کچے میں ڈاکوؤں نے2 مغوی پولیس اہلکاروں کوچھوڑ دیا

    راجن پور: کچے میں ڈاکوؤں نے2 مغوی پولیس اہلکاروں کوچھوڑ دیا-

    باغی ٹی وی :پولیس ذرائع کے مطابق راجن پور،دونوں مغوی اہلکار تھانہ بنگلہ اچھا پہنچ گئے ہیں-

    ذرائع کے مطابق پولیس اور ڈاکوؤں میں گزشتہ رات معاملات طے ہوئے تھے، پولیس نےڈاکووَں کے رشتہ داروں کو گرفتار کیا تھا اور ڈاکووَں کے کمین گاہوں کو چاروں اطراف سے گھیرلیا تھا-

    بعد ازاں دو نوں جانب سے مذاکرات میں معاملات طے پائے اور ڈاکوؤں نے مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا-

    واضح رہے کہ ،ڈاکووَں نے کچے میں پولیس چوکی سے 2پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تھا-

    شکار پور: کچے میں آپریشن کا دوسرامرحلہ ایک دو دن میں شروع کیے جانے کا امکان

  • احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس  کیس کی سماعت

    احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس کیس کی سماعت

    احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس کیس کی سماعت

    باغی ٹی وی : سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش ہوئے ، شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ تاحال عدالت نہ پہنچ سکے جج اعظم خان نے کیس کی سماعت کی-

    جج اعظم خان کا شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ آپکے وکیل کہاں ہیں؟ وکیل سے رابطہ کریں اور انہیں عدالت پہنچنے کا کہیں-

    جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بیرسٹر ظفر اللہ پہنچ چکے ہیں کمرہ عدالت میں آ رہے ہیں سماعت تاحال جاری ہے-