Baaghi TV

Category: پنجاب

  • بھارت کا پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ

    بھارت کا پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق بھارت نے پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دے دی۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے،ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق وزارت آبی وسائل نے صوبائی حکومتوں اور اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے،این ڈی ایم اے اور واپڈا سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں جبکہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو سیلاب الرٹ بھجوا دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے سیلاب سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئےپنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سیلاب سے متعلق اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے 14 لاکھ 96 ہزار 363 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور پنجاب میں 42 لاکھ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    پاک فضائیہ مکمل یکسوئی سے اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہے،سربراہ پاک فضائیہ

    ان کا کہنا تھا کہ دریائے چناب کے 1957 اور دریائے راوی کے 1477 موضع جات متاثر ہوئے جبکہ دریائے ستلج کے سیلابی پانی سے پنجاب کے 625 موضع جات متاثر ہوئےوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرنگرانی تاریخی ریسکیو آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو خوراک اور صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے متاثرین کو انسولین اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جن شہروں میں سیلابی پانی کا بہاؤ زیادہ ہے وہاں مشینری اور عملہ تعینات ہے۔ اور ممکنہ مقامات سے پانی کا بہاؤ موڑا کر آبادیوں کو بچایا جا رہا ہے۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

  • ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    دریائے ستلج اور فیروزپور بیراج کے قریب بھارتی وارننگ پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 8 سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی ہے،وزارتِ آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ7 ستمبر2025 صبح 8 بجے دریائے ستلج کے علاقے ہریکے اور فیروزپور کے نیچے حصوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    مشترکہ کمشنر برائے سندھ طاس، محمد خورشید اصغر نے ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاع باقاعدہ منظوری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے،مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)، فوجی اور کور انجینئرز کے اداروں، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھیجی گئی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے اچانک اخراج کے باعث پاکستان کے نشیبی علاقے خصوصاً پنجاب اور جنوبی حصے متاثر ہوسکتے ہیں،متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔

    محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 8 ستمبر سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کر دی ہےمراسلے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بھاری سے انتہائی بھاری بارشیں اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارشیں متوقع ہیں،سب سے زیادہ بارشوں کا امکان سکھر، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بہاولپور ڈویژن میں ہے۔

    اسی طرح بالائی دریائی علاقے بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی شدید بارشیں برسنے کا خدشہ ہےدریاؤں کی صورتحال کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جو آئندہ دنوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے.

    جبکہ دریائے راوی بلکیسر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب اور سدھنائی و جسر کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہےدریائے پنجند میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،اسی طرح ڈی جی خان، راجن پور، کوہِ سلیمان اور مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کے امکانات ہیں۔

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ایک مضبوط سسٹم بھارت کے علاقے راجستھان سے پاکستان میں داخل ہوا ہے جس نے بارشوں کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران وسطی اور بالائی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ 9 ستمبر تک مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بہاولپور، بہاولنگر اور گجرات میں ابھی بارش ہو رہی ہے اور ساتھ ہی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی اور گجرات میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے بھی دورہ کیا،گجرات کی بڑی سڑکیں کلیئر ہیں، اور اگلے 24 گھنٹوں میں گجرات کو کلیئر کر دیا جائے گا گجرات کی کئی سڑکوں پر پانی نکالنے کا عمل جاری ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آج اتوار کو صبح سویرے گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ جس کے باعث موسم ٹھنڈا ہو گیا۔ تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  • گنڈا سنگھ والا سے اوچ شریف تک سیلابی ریلے، بستیاں اجڑ گئیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ

    گنڈا سنگھ والا سے اوچ شریف تک سیلابی ریلے، بستیاں اجڑ گئیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ

    گنڈا سنگھ والا سے اوچ شریف تک سیلابی ریلے، بستیاں اجڑ گئیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ،بھارت سے چھوڑا گیا پانی، دریائے ستلج اور چناب بپھر گئے، جنوبی پنجاب تباہی کی لپیٹ میں،پنجاب کے دریاؤں میں تباہ کن طغیانی، بند ٹوٹ گئے، درجنوں علاقے زیر آب،سیلابی ریلا بے قابو، ملتان، بہاولپور، چنیوٹ اور جھنگ میں بستیاں ڈوب گئیں،ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے 884 اموات، خطرہ مزید بڑھ گیا

    باغی ٹی وی کے نمائندگان کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں چھوڑے گئے اضافی پانی اور مسلسل مون سون بارشوں کے باعث پنجاب اور ملک بھر میں تباہ کن سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ سلیمانکی اور اسلام ہیڈورکس پر بھی اونچے درجے کے سیلاب سے بہاولپور کی چار تحصیلیں زیر آب آ گئیں۔ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر انتہائی اونچے اور ہیڈ بلوکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں خانکی، ہیڈ قادرآباد اور چنیوٹ کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے، چنیوٹ میں پانی کا بہاؤ ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

    ملتان میں قاسم بیلا کے قریب شجاع آباد کینال تین گنا زیادہ پانی کے دباؤ سے اوور فلو ہو گئی، شیر شاہ بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیر آب آگئیں، جہاں مکین گھروں سے بھی نہ نکل پائے ۔ سکندری نالے اور اکبر فلڈ بند کے علاقوں میں بھی پانی داخل ہو گیا، اکبر پور اور بستی کوتوال سمیت متعدد علاقے ڈوب گئے۔ جھنگ کے شورکوٹ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، ریلوے پل سے پانی ٹکرانے پر شورکوٹ-خانیوال سیکشن دوسرے روز بھی بند رہا۔

    پنڈی بھٹیاں میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جہاں 5 لاکھ 57 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ احمد پور سیال میں موضع سمند وانہ بند ٹوٹنے سے علاقے زیر آب آگئے۔ لیاقت پور میں دریائے سندھ اور چناب کے ریلوں سے تباہی ہوئی۔ اوچ شریف میں دریائے ستلج کا پانی مزید 20 بستیوں میں داخل ہو گیا، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، چنیوٹ میں اب تک 1312 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے تاہم پانی کی شدت کے باعث کئی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔

    ادھر ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور سیلاب سے 26 جون سے اب تک 884 افراد جاں بحق اور 1181 زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں 489 ہوئیں، پنجاب میں 223، سندھ میں 58، بلوچستان میں 26، اسلام آباد میں 9، گلگت بلتستان میں 41 اور آزاد کشمیر میں 38 افراد جان سے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب میں 6 سے 8 ستمبر اور سندھ میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔

  • چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے چناب میں شیر شاہ کے مقام پر پانی انتہائی خطرے کی سطح سے اوپر آ گیا جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کینال میں شگاف پڑنے سے بڑی آبادی زیر آب آ گئی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سدھنائی کینال میں گنجائش سے 4 گنا زیادہ پانی آ چکا ہے، سدھنائی کینال کے شگاف کو پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،دریائے راوی کا پانی نہروں میں داخل ہونے سے ملتان روڈ پر رانگو نہر میں دو مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ رانگو نہر کے شگاف سے درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے۔

    اس کے علاوہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کہروڑ پکا میں میٹاں والا بند ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں پانی نے درجنوں آبادیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ علاقوں سے انخلاء کا عمل جاری ہے ، تقریباً 70 فیصد لوگ محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنی ٹیلی کام سائٹس متاثر ہوئیں،اعدادوشمارجاری

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے ملتان کے لیے انتہائی اہم ہیں ، ملتان میں شیر شاہ برج متاثر ہوا ، تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال کی وجہ سے 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب ہے، برج کو بریچ کرنا آسان نہیں ہوتا، بہت کچھ دیکھ کر فیصلہ لیا جاتا ہے۔

    خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سسٹم کے تحت کراچی میں بارشیں ہونے یا نہ ہونے سے متعلق پیش گوئی کر دی گئی،محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوا کا کم دباؤ اس وقت بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے قریب ہے۔

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    حالیہ سسٹم مغرب اور شمال مغرب کی جانب حرکت کر رہا ہے جو 6 یا 7 ستمبر کو بھارتی راجستھان اور گجرات کے قریب پہنچ جائے گا،مون سون سسٹم کے زیر اثر جنوب مشرقی سندھ میں 7 ستمبر سے بارش کا امکان ہے جبکہ گرج چمک کے تیز بارش ہو سکتی ہےسسٹم کے قریب آنے پر کراچی میں بارش کے حوالے سے حتمی پیشگوئی کی جا سکے گی۔

  • دریائے ستلج  میں سیلابی صورتحال، بھارت کا پاکستان سے 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ

    دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال، بھارت کا پاکستان سے 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ

    بھارت نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ کیا ہے۔

    وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے دریائے ستلج میں ہر یکے اور فیروز پور کے مقامات پر سیلاب کا خدشہ ہے، 4 ستمبر کو دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے،وزارت آبی وسائل نے 28 اہم محکموں کو انتباہی خط جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔

    بھارت نے گزشتہ روز بھی دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے رابطہ سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد دریائے آبی وسائل نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج پر فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خڈشہ ظاہر کیا تھا۔

    گلگت بلتستان:مارخور کے شکار کا پرمٹ ریکارڈ 10 کروڑ روپے میں نیلام

    اس سے قبل 25 اگست کو بھی بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عملدر آمد کیے بغیر پاکستان سے مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر رابطہ کرتے ہوئے دریائے توی میں جموں کے مقام پر سیلاب کی پیشگی اطلاع دی تھی، بھارت نے دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا،بھارت کی طرف سے ممکنہ سیلاب کی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، حکومت نے بھارت سے موصولہ معلومات کی روشنی میں الرٹ جاری کر دیا تھا۔

    ہاکی کھلاڑیوں کا روزانہ کا الاؤنس صرف 400 روپے،کھلاڑی سیخ پا

  • سیلاب سے تباہیاں ، 4 ہزار بستیاں ڈوب گئیں ، 35 لاکھ افراد متاثر

    سیلاب سے تباہیاں ، 4 ہزار بستیاں ڈوب گئیں ، 35 لاکھ افراد متاثر

    راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے مزید سیکڑوں دیہات زیر آب آنے کے باعث ہزاروں لوگوں نے نقل مکانی کر لی۔

    قصور میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک کا خطرناک ریلا گزر رہا ہے، جس نے نوری والا، بھیڈیاں عثمان والا سمیت 100 سے زائد دیہات کو لپیٹ میں لے لیا ہے،کبیروالا کے علاقے کنڈ سرگانہ، قتالپور اور بربیگی میں دریائے راوی کا پانی داخل ہو گیا، حفاظتی بند متعدد جگہوں سے ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہو رہا ہےاس کے علاوہ کوٹ مومن میں تخت ہزارہ کے قریب سیم نالے کا بند ٹوٹ گیا جس کے بعد پانی قریبی علاقوں میں داخل ہونے لگا ہے۔

    دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اب تک 46 افراد جاں بحق ہو چکے جبکہ مجموعی طور 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے،اب تک پنجاب میں سیلاب سے 3 ہزار 944 موضع جات متاثر ہو چکے، 14 لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 10 لاکھ سے زائد جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا سدھنائی کے مقام پر راوی کا پانی چناب میں جانے کی بجائے واپس آ رہا ہے، جب تک چناب میں پانی کم نہیں ہو گا اس وقت تک راوی کاپانی چناب میں شامل نہیں ہو گا۔

    ستلج میں پانی کی سطح برقرار ،کئی سکول بھی زیر آب،پناہ گزین کیمپوں میں عارضی سکول قائم

    ادھر فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کےمقام پر انتہائی اونچے درجے جبکہ دریائے راوی میں جسڑ کےمقام پر درمیانےدرجے اور شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہےبلوکی پر پانی کی آمداور اخراج ایک لاکھ 18 ہزار520 کیوسک اور سدھنائی کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 42ہزا ر690 کیوسک ہے ، چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے، خانکی اور قادرآباد کے مقام پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نومبر 2027 تک آرمی چیف رہیں گے، رانا ثنا اللہ

  • بھارت کاایک بار پھر رابطہ،پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کر دیا

    بھارت کاایک بار پھر رابطہ،پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کر دیا

    بھارت نے پاکستان سے سفارتی سطح پر ایک بار پھر رابطہ کرکے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورت حال سے آگاہ کر دیا۔

    وزارت آبی وسائل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستان سے سفارتی سطح پر ایک بار پھر رابطہ کیا ہے، بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کیاوزارت آبی وسائل نے انتباہی خط جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    دریائے توی میں جموں کے مقام پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس سے قبل بھارت نے دریائے چناب میں بھی سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا تھاوزارت آبی وسائل کی جانب سے 28 اہم محکموں کو بھارت کی جانب سے دی گئی معلومات سے آگاہ کرتے ہوئے فوری اقدامات اور انتظامات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر مکمل پابندی

    واضح رہے کہ اس سے قبل 25 اگست کو بھی بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عملدر آمد کیے بغیر پاکستان سے مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر رابطہ کرتے ہوئے دریائے توی میں جموں کے مقام پر سیلاب کی پیشگی اطلاع دی تھی، بھارت نے دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا،بھارت کی طرف سے ممکنہ سیلاب کی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، حکومت نے بھارت سے موصولہ معلومات کی روشنی میں الرٹ جاری کر دیا تھا۔

    شادی پر رضامند تھی مگر..ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کا نیا انکشاف

  • جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر مکمل پابندی

    جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر مکمل پابندی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے درختوں کی نیلامی کی آڑ میں جنگلات کی کٹائی کے دھندے پر سخت پابندی عائد کر دی۔

    وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار جنگل کی لکڑی کی نیلامی کا روایتی نظام ختم کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب کے تمام جنگلات میں کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر فوری طور پر تاحکمِ ثانی پابندی لگا دی گئی ہے،اس حوالے سے باضابطہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی اور میپنگ کے ذریعے نئے اور شفاف قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے اس کے علاوہ نیلامی سے قبل اعلیٰ معیار کی تصاویر اور ویڈیوز فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ جنگلات کے تحفظ، جنگلی حیات کے فروغ اور زمین کو کٹاؤ سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے محکمۂ جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکم نامے پر فوری اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

    ملتان: فلڈ ریلیف کیمپس میں واش رومز کی عدم دستیابی، خواتین کو مشکلات کا سامنا

    ماہرینِ ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ سے وابستہ حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس اقدام کو سراہا ہے ان کا کہنا ہے کہ نیلامی کے نام پر بے دریغ درختوں کی کٹائی ہوتی تھی اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ چند جیبوں میں چلا جاتا تھا جبکہ جنگلات اور زمین کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا تھا۔

    یوکریں کی حفاظت کریں گے،پیوٹن ملاقات سے مایوسی ہوئی،ٹرمپ

  • پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث دریاؤں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی کر دی،محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بیشتر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ کہیں کہیں تیز/موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے،خیبر پختونخوا، خطہ پو ٹھو ہار، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔

    اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، مری، گلیات اورگرد و نواح میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،راولپنڈی، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، لاہور، منڈی بہاؤ الدین، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، اٹک، چکوال، خوشاب، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، میانوالی، بہاولنگر، رحیم یار خان، ساہیوال، تونسہ، کوٹ ادو، راجن پور، بہاولپور، لیہ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پشاور، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، بونیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، مہمند، کرم، باجوڑ، اورکزئی، ٹانک، لکی مروت، کوہاٹ، ہنگو، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور وزیرستان میں بارش کی توقع ہے،ژوب، موسی ٰخیل، بار کھان اور گرد و نواح میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، سکھر، گھوٹکی اورکشمور میں گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کی توقع ہے،گلگت بلتستا ن میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ آزاد کشمیر میں بیشتر مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح 4 لاکھ 68 ہزار کیوسک تک جا پہنچی جبکہ خانکی ہیڈ ورکس میں پانی 339470 کیوسک اور قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی 232450 کیوسک پہنچ گیااسی طرح، چنیوٹ پل پر پانی کی سطح 108343 کیوسک وار تریموں ہیڈ ورکس میں 355744 کیوسک ہے۔

    دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی 71010 کیوسک، سائفن پر 54190 کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر 53630 کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر 117655 کیوسک اور سدھنائی ہیڈ ورکس پر 193470 کیوسک تک پہنچ گیا،دریائے ستلج میں جی ایس والا پر پانی 269501 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 122736 کیوسک، اسلام ہیڈ ورکس پر 95727 کیوسک اور پنجند ہیڈ ورکس پر 182107 کیوسک پہنچ گیا۔

    سندھ میں بھی سیلاب سے بچاؤ کے لیے ممکنہ اقدامات کا سلسلہ کیا جا رہا ہےحیدرآباد کے مقام پر دریائےسندھ کے حفاظتی بندکے قریب رہائش پذیر خاندانوں کو ہٹانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔میگا فون سے کیے جانے والے اعلانات میں حفاظتی بندکے قریب رہائشی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرکی ہدایت پر دریائے سندھ کےقریب آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پرمنتقل کرنےکاعمل جاری ہےترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے اس حوالے سے بتایا کہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے علاقوں کو خالی کرانے کا عمل جاری ہے، لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، حکومت مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، مانیٹرنگ سیل کا عملہ الرٹ اور انتظامات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں،مرکزی کنٹرول روم میں متعلقہ حکام 24 گھنٹے موجود ہیں، عملہ ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے، 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، محکمہِ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا، صورتحال بہتر ہے،کمزور مقامات کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے،محکمہ صحت کی جانب سے 92 کیمپس قائم کیے گئے، کتے کے کاٹے اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسینز بھی وافر مقدار میں موجود ہیں، مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے 300 کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا، 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے۔

    دوسری جانب میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت ارسلان اسلام شیخ نے کشتی پر دریائے سندھ میں سیلاب کا جائزہ لیا، میئر سکھر کا کہنا تھا کہ 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔