Baaghi TV

Category: پنجاب

  • پنجاب حکومت نے چوہدری نثار کا حلف روکنے کی تیاری کر لی

    پنجاب حکومت نے چوہدری نثار کا حلف روکنے کی تیاری کر لی

    لاہور :سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار پیر کو پنجاب اسمبلی میں حلف اٹھائینگے-

    باغی ٹی وی : چوہدری نثار پیر کو پنجاب اسمبلی میں حلف اٹھائیں گے جبکہ پنجاب حکومت نے تکنیکی بنیاد پر چوہدری نثار کا حلف روکنے کی تیاری کر لی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ ارکان اسمبلی کے حلف اٹھانے کی مدت کے بارے آرڈیننس کابینہ سے منظور ہوچکا ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے جواز بنا کر حلف روکنے کی کوشش کی جائے گی۔

    وزیر قانون فروغ نسیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک آرڈیننس کا باضابطہ نفا ذ نہیں ہوجاتا، حلف اٹھانے میں کوئی ممانعت نہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے دوران آرڈیننس نہیں آسکتا، قانونی اور آئینی جواز بنا کر پنجاب حکومت مزید وقت لینا چاہتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں عثمان بزدار اور جہانگیر ترین کی سیاست کو حلف سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    چوہدری نثار حلف سے قبل تمام سیاسی پہلووں کو پبلک کر سکتے ہیں اور وہ اپنے حلقے کی جیتی ہوئی نشست کو ضائع نہیں کرنا چاہتے حکومت آرڈیننس کے زریعے اسحاق ڈار کی جگہ شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کرانا چاہتی ہے۔

  • پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے پی ٹی آئی پنجاب حکومت کی  اڑھائی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری

    پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے پی ٹی آئی پنجاب حکومت کی اڑھائی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری

    پاکستان مسلم لیگ ن کے تحقیقاتی ادارے نے پنجاب حکومت کی اڑھائی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ایم ایل این کے تحقیقاتی ادارے کے مطابق پاکستان ملسم لیگ کے 5 سالہ عہد کے دوران پنجاب کی معیشت 5.4 فیصد کی شرح سے بڑھی اور معشیت میں مسلسل اضافہ اور اس پنجاب بجٹ کے استعمال سے دوگنا تھا جو کہ مالی سال 2012۔13 میں 1021 ارب روپے تھا جبکہ بعد ازاں مالی سال 2017-18ء میں 1971 بلین روپے تھا-

    پنجاب میں 2014 سے 2018 تک اکانومی گروتھ

    پی ٹی آئی کی حکومت میں مالی سال 2020-21 کے لئے بھی پنجاب کا تیسرا بجٹ جاری کیا وہ محض 10 فیصد اضافے کے ساتھ 2240 ارب روپے تھا- پنجاب کے موجودہ بجٹ میں فیڈرل ڈویبل ایبل پول کو11٪ تک گرایا گیا جو 1601 ارب روپے (مالی سال- 2019-20 میں) سے لے کرموجودہ سال مالی سال -2020-21 میں 1432 ارب روپے ہے-

    تاہم کم کی گئی رقم کو بھی پوری طرح استعمال نہیں کیا گیا تھا موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ اکانومی گروتھ کم رہی-

    پنجاب کے بجٹ کا مختصر کارکردگی کا آڈٹ ذیل میں دیا گیا ہے۔

    پنجاب حتمی کلیکشن (ملین میں)
    پی ایم ایل این نے پنجاب کی محصولات کی وصولی میں 121 فیصد کا اضافہ کرکے 1215 روپے کردیا اپنے 5 سال کے دورانیے میں 3 ارب 15 کروڑ روپے تک-

    جبکہ موجودہ حکومت میں ، محصول کی وصولی منفی نمو میں رہی مالی سال 2018 کے مقابلے میں ، اقتدار میں رہنے کے تیسرے سال میں بھی ، محصول جمع کرنا مالی سال 2018 کی پوزیشن کے قریب بھی نہیں ہے۔

    پچھلے 7 سالوں میں پنجاب ریونیو کلیکشن پرفارمنس

    ترقیاتی بجٹ:
    5 سالوں میں ، پی ایم ایل این نے مجموعی طور پر 2220 بلینز روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا جو 150 فی صد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
    اس ترقیاتی فنڈ کا تقریبا 80٪ یعنی 1،157 بلین روپے پانچ سالوں میں بھی استعمال کیا گیا جو پنجاب میں تاریخ کا اب تک کا سب سے بلند بجٹ ہے-

    دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت میں ، ترقیاتی بجٹ اس میں آدھا رہ گیا پہلے سال یعنی مالی سال 2018-19ء میں حالیہ سال میں بھی ، 238 بلین روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ کیلئے مختص 337 بلین روپے تھا جو مالی سال 2018 سے 50٪ کم ہے –

    . دوسری طرف ، پی ٹی آئی گورنمنٹ 238 ارب روپے خرچ کرنے کے قابل نہیں تھی مالی سال 2019 میں اور مالی سال 2020 میں 350 بلین روپے ، حتی کہ موجودہ سال میں بھی 8 کے وقفے کے بعد فروری 2021 تک صرف 44 فیصد فنڈ استعمال ہوا-

    ترقیاتی بجٹ مختص بمقابلہ گذشتہ 8 سالوں کے دوران کھپت کا موازنہ

    صحت:
    پی ایل ایل این کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وبائی مرض COVID-19 کی وجہ سے غیر معمولی حالات کے باوجود پی ٹی آئی حکومت ، صحت کے شعبے میں خرچ کرنے میں ناکام رہی اس کے بجائے صحت کے شعبے کی استعداد کار بڑھانے اور بہتری لانےموجودہ سہولیات میں صحت کا بجٹ غیر استعمال رہا نمایاں طور پر 2.5 سال کے دوران کوئی نیا ہسپتال نہیں بنایا گیا-

    جبکہ پی ایم ایل این نے اپنے آخری سال میں ہیلتھ کیئر پر 46.49 بلین روپے خرچ کیے تھے گورنمنٹ یعنی 2017-18 تک ، تاہم پی ٹی آئی نے 32 فیصد کم فنڈز مختص کیے تھے-

    مالی سال -2020-21 میں صحت مالی سال 2018 میں استعمال ہونے والے حقیقی فنڈز کے مقابلے میں کم فنڈز تھے ، اس کے باوجود فروری 2021 تک صرف 17.27 بلین روپے خرچ ہوئے موجودہ اخراجات کے بجٹ کا صرف 45٪ یعنی 70.39 بلین روپے فروری 2021 تک استعمال کیا گیا تھا۔

    تعلیم:
    2020-21 کے سالانہ بجٹ میں ، تعلیم کا ترقیاتی بجٹ تھا پنجاب میں پی ٹی آئی نے کافی حد تک کمی کی ، اگرچہ بجٹ کا استعمال
    اس سے بھی بدترہے جبکہ پی ایم ایل این نے مالی سال 2018 میں تعلیمی ترقی پر 36.014 بلین روپے خرچ کیے تھے جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے سال میں بھی صرف ایجوکیشن ڈویلپمنٹ کے مقصد کیلئے 31.55 بلین روپے مختص کئے گئے۔

    مزید یہ کہ اس بجٹ سے لے کرفروری 2021 تک صرف 5.8 بلین روپے ہی استعمال ہوئے جو پنجاب حکومت کی سراسر نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔

    پبلک آرڈر سیفٹی:
    پی ٹی آئی گورنمنٹ پبلک آرڈر اینڈ سیفٹی کے لئے صرف 1.1 بلین روپے مختص کیے تھے معاملات جو واقعی کھپت کے مقابلے میں 88٪ کم ہیں یعنی اس شعبے میں مالی سال 2018 میں پی ایم ایل این نے 9.09 بلین روپے مختص کئے ناکافی فنڈ کی مختص کے باوجود پنجاب حکومت صرف 182 ملین روپے (16.44٪) بجٹ فروری 2021 تک رقم خرچ ہوئی-

    ہاؤسنگ اور معاشرتی فوائد:
    پی ایم ایل این نے مالی سال 2018 میں کمیونٹی کی ترقی اور پانی کی فراہمی میں بہتری کے لئے 80.88 بلین روپے خرچ کئے بجٹ
    جبکہ پی ٹی آئی گورنمنٹ نے ہاؤسنگ اینڈ کمیونٹی سہولیات کے لئے ترقی کی سطح کے فنڈ 50 فیصد کم کر دیا مالی سال 2020-21 میں 41.328 بلین اور 20 فروری تک صرف 22.231 ارب روپے استعمال کئے-

    ایگریکلچر، فوڈ ، آبپاشی ، زراعت اور ماہی گیری:
    یہ پاکستان کی معیشت کا ایک اہم طبقہ ہے ملک کی بڑی مزدور قوت طبقہ اس کی اہمیت پر غور کرنا نہایت ضروری ہے پی ایم ایل این نے اس طبقہ کیلئے 38.07 بلین روپے کے ترقیاتی بجٹ خرچ کیا جبکہ تاہم پی ٹی آئی گورنمنٹ نے مالی سال 2020-21 میں یہ فنڈ 25 فیصد اضافے سے 28.26 بلین روپےمختص کیا فروری 2021 تک صرف 14.97 بلین روپے خرچ کئے-

    تعمیر اور ٹرانسپورٹ:
    تعمیر اور آمدورفت تک رسائی کو بہتر بنانے اور کافی معاشی لاگت کو کم کرنے کی مدد کی مالی سال 2018 میں تعمیر و نقل و حمل کے لئے اربوں ترقیاتی بجٹ ، میں پی ایم ایل این نے 131.70 بلین روپے خرچ کیے تھے جبکہ پی ٹی آئی گورنمنٹ اس طبقہ کے لئے ترقیاتی بجٹ کو21٪ کم کردیا تھا جو 104 بلین اور صرف 32.47 روپے تھا موجودہ مالی سال کے 08 مہینوں کے دوران استعمال کیا گیا۔

    ماحولیاتی تحفظ:
    عمران خان ، ماحولیات کے تحفظ کے خود سفیر ہیں عمران خان کی حکومت اس کے لئے بھی اس حصے کا مناسب بجٹ خرچ کرنے کے قابل نہیں تھا صرف 2 ملین روپے فروری 2021 تک (مختص بجٹ کا 1٪ سے بھی کم) خرچ ہوا جبکہ پی ایم ایل نے ان کے برعکس مالی سال 2018 میں 1.84 بلین روپے خرچ کئے-

    پچھلے دو 2 بجٹ میں پی ٹی آئی کے ادھورے وعدوں کا اعلان کیا گیا-

    ہیلتھ کے شعبے میں پی ٹی آئی کی جانب سے بہاولپور میں بچوں کے ہسپتال کا قیام، مختلف شہروں میں 9 نئے جنرل ہسپتالز
    (لیہ ، لاہور ، میانوالی ، رحیم یار خان ،راولپنڈی ، بہاولپور ، ڈی جی خان ، ملتان ، راجن پور) کا قیام

    • فاطمہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹسٹری تیار کرنے کا اعلان کیا۔ صوبوں میں 37 ارب روپے کی فراہمی کے لئے مختص کی گئی تھی
    انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ گریڈیشن ٹرانسپلانٹیشن کی فراہمی ، راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال سے ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ۔


    کھانے کی اشیاء میں معلومات
    رمضان المبارک ، اپریل 2021 میں ، موجودہ ایس پی آئی کی افراط زر 18٪ تک بڑھ گئی 2.5 سال کے دوران ، خوراک کی اوسط افراط زر میں 55 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا دن بہ دن باورچی خانے کی اشیاء کے بازار کے نرخوں کا موازنہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

    کوڈ ریلیف ورلڈ بمقابلہ پی ٹی آئی کی کارکردگی:

    پی ٹی آئی حکومت کوCOVID-19 وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے معاشی امداد میں بھاری مقدار میں امداد اور چندہ بھی ملا ، جو درج ذیل ہے-

    اس امداد کی پاکستانی روپے میں ویلیو 25 بلین روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم اس فنڈ کے استعمال کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہے ، فی الحال لاہور میں اسپتال میں مریضوں ی بھر مار ہے ، وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کی دستیابی بہت کم ہے۔

    انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں:

    ریسرچ ونگ نے ایچ آر سی پی کے ساتھ بات چیت شروع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ کی قیادت نے سرکردہ کارکنوں سے ملاقات کی اور فیصلہ کیا گیا کہ اعلی درجے کی قیادت کے ساتھ اس طرح کی مزید مصروفیات ہوں گی-

    اپریل -2021 کے آخری ہفتے میں ، ایک مشترکہ قرارداد یورپی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی پاکستان کے خلاف پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ 681/3 ووٹوں کی اکثریت ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی جس کی وجہ سے GSP + پاکستان کی حیثیت خطرے میں پڑ گئی۔

  • موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی، بیمار بچے ابراہیم کو اسکی والدہ DHQ ھسپتال ساہیوال چیک کروانے گئی تھی، نامعلوم خاتون بچے کو اسکی ماں سے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے بہانے اندر لے گئ۔کافی دیر تک خاتون کے واپس نہ آنے پر بچے کے لواحقین نے تھانہ فرید ٹاؤن میں رپورٹ درج کرا دی

    ضلعی کنٹرول سے اطلاع ملنے پر موٹر وے پولیس نے بسوں کی چیکنگ شروع کر دی۔موٹروے پولیس نے دوران چیکنگ پتوکی کے قریب لاہور جانے والی بس سے بچے کو برآمد کروا لیا اغواکار خاتون مریم بی بی جلو موڑ لاھور کی رہائشی تھی ۔

    ملزمہ مریم بی بی کو گرفتار کر کے بچے سمیت مزید کاروائی کے لیے مقامی ضلعی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ موٹروے پولیس کی بروقت کاروائی کرنے پر بچے کے والدین اور عوام نے موٹر وے پولیس کی کارکردگی کو سراہا ۔ڈاکٹر سید کلیم امام کی جانب سے موٹروے افسران کیلئے انعام کا اعلان بھی کیا گیا

  • وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا ماؤں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا ماؤں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکاماں سے محبت کے اظہار کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

    عثمان بزدار نے کہا کہ ماں سے محبت عالمگیر جذبہ ہے جو کسی دن کا محتاج نہیں۔ہمارا ہر دن ماں کی محبت سے معمور ہوتاہے-ماں سے محبت اور خدمت ہر فرد کی جبلت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے-ماں محبت،پیار،خلوص اور سچے جذبے کی انمول حقیقت ہے-

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے مزید کہا کہ وطن عزیز کیلئے قربانیاں پیش کرنے والے شہداء کی ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں۔کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والی ماؤں کے بچوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    آج کے دن ہمیں ماؤں کی صحت اور تندرستی کی خصوصیت سے دعا کرنی چاہیئے۔آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میری ماں کی دعائیں شامل ہیں –
    اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد ماں کی دعاؤں سے وزارت اعلیٰ کا منصب ملا۔زندگی میں کامیابیوں کیلئے خود کو آج بھی والدہ کی دعاؤں کا محتاج سمجھتا ہوں۔

  • فیصل آباد: ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    فیصل آباد: ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    فیصل آباد:ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    باغی ٹی وی : ڈپٹی کمشنر محمد علی کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر ایوب بخاری کی کاروائی اسسٹنٹ کمشنر ایوب بخاری نے سمن آباد کے علاقہ میں مختلف فوڈ پوائنٹس کا دورہ کیا-

    لاک ڈاون کی خلاف ورزی اور بغیر ماسک کے درجنوں دوکانداروں اور شہریوں کو حراست میں لے لیا تمام افراد کے خلاف مقدمات درج کروا دئیے گئے-

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ شہری خود کو محفوظ رکھنے کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد کریں کررونا وباء نے شدت اختیار کرلی ہے ایسے میں احتیاط لازمی جزو ہے۔

  • ضمنی الیکشن پی پی 84 کے انتظامات مکمل،  جبکہ 5 مئی کو عام تعطیل ہو گی

    ضمنی الیکشن پی پی 84 کے انتظامات مکمل، جبکہ 5 مئی کو عام تعطیل ہو گی

    خوشاب ،صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے حلقہ پی پی 84 خوشاب کے ضمنی انتخاب کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ اس حوالے سے 5 مئی کو خوشاب میں عام تعطیل ہو گی حلقہ خوشاب میں ضمنی انتخاب 5 مئی کو منعقد کیا جائیگا۔ حلقہ پی پی 84 خوشاب تھری کی نشست ن لیگ کے امیدوار محمد وارث شاد کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی. ن لیگ کے محمد وارث شاد نے 2018 میں 66775 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ 5 مئی کو منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب کیلئے 16کاغذات نامزدگی وصول کئے گئے تھے .. ایک نامنظور کیا گیا جبکہ 6 امیدواران نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے .

    انتخابی میدان میں 8امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ علی حسین خان، پاکستان تحریک انصاف سے، محمد معظم شیر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے، غلام حبیب احمد پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیر ینز سے، امجد رضا بطور آزاد امیدوار، اورنگزیب بطور آزاد امیدوار، عمران حیدر خان بطور آزاد امیدوار، محمد الیاس خان بطور آزاد امیدواراور حافظ محمد اصغر علی ٹی ایل پی سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ خورشید عالم، بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور شکیل احمد بطور ریٹرننگ آفیسر تعینات کئے گئے ہیں۔حلقے کی حدود میں ضلع خوشاب کی 3 تحصیلیں نور پور تھل، قائدآباد اور تحصیل خوشاب کا علاقہ شامل ہے۔ حلقہ میں رجسٹرووٹر ز کی کل تعداد 2لاکھ 92ہزار چھ سو ستاسی ہے۔

    ایک لاکھ 55ہزار ایک سو چار مرد ووٹر ہیں جبکہ ایک لاکھ 37ہزار پانچ سو تراسی خواتین ووٹرز ہیں۔ حلقہ میں کل 229پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے. 27 مردانہ پولنگ اسٹیشنز 26خواتین پولنگ اسٹیشنزاور176 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے۔ تمام پولنگ اسٹیشنز کو GIS کے ذریعے جیو ٹیگ کیا گیا ہے۔ حلقہ میں ضمنی انتخاب کیلئے انتخابی عملہ کی تربیت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ انتخابی عملہ میں 229پریزائیڈنگ آفیسرز، 666اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسراور 666پولنگ آفیسرز تعینات کئے گئے ہیں۔ حلقے میں 14پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار، جبکہ 43 حساس اور 172نارمل پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ حلقے میں 2800سے زائد پولیس اہلکاران جبکہ500 سے زائد رینجرز کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔تمام حساس پولنگ اسٹیشنز پر CCTVکیمرے نصب کئے جائیں گے۔ پولنگ اسٹیشن سے نتائج اور پولنگ ریکارڈریٹرننگ افسر تک پہنچانے کیلئے ہر پریزائیڈنگ افسر کیساتھ پولیس اور رینجرز کی مناسب نفری تعینات کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ہر پولنگ اسٹیشن کا پولنگ ریکارڈ بحفاظت ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچانے کیلئے انتظامیہ کا ایک فوکل پرسن بھی ہمراہ ہوگا۔ انتخابی عوامل کو مانیٹر کرنے کیلئے کنٹرول روم قائم کر دئے گئے ہیں۔ کنٹرول روم میں ان نمبرز پر عوام الناس شکایات درج کرا سکیں گے۔
    ٭ کنٹرول روم دفتر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب فون: 042-99212607, 042-99212717
    فیکس نمبر: 042-99211021
    ای میل: comptcellna75@gmail.com

  • فیصل آباد: ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق

    فیصل آباد: ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق

    فیصل آباد : تحصیل سمندری میں ٹریفک حادثےمیں‌ 2افراد جاں بحق –

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل سمندری قومی شاہراہ 45 اڈہ جگدے روڈ سمندری پر ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل تصادم کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے –

    جاں بحق ہونے والوں میں 53 سالہ محمد مشتاق ولد منگتا اور اس کی 50 سالہ بیوی کنیز بی بی شامل ہیں-

    کیس کو تھانہ تارخانی کی پولیس کے ہینڈ اوور کر دیا گیا پولیس نے لاشیں اپنی تحویل میں لے کر قریبی اسپتال میں منتقل کر دی ہیں–

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 70 اموات ہوئی ہیں جبکہ 4 ہزار825 نئے مریض سامنے آئے ہیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار69 ہو گئی ہے جبکہ کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 94 ہزار841 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 9.61 فی صد رہی۔


    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں ایکٹو کیسز کی تعداد89 ہزار219 ہے اور6لاکھ 94 ہزار46 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں 16 ہزار 983 ،پنجاب میں 19 ہزار 445 ، خبیر پختونخوا میں 7 ہزار 709، اسلام آباد میں 3725، بلوچستان 1 ہزار 36، گلگت بلتستان 333، آزاد جموں کمشیر 975 نئے کیسز سامنے آئے-

    کورونا کے سبب پنجاب میں 7 ہزار990 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار599، خیبر پختونخوا 3 ہزار134، اسلام آباد 665، گلگت بلتستان 105، بلوچستان میں 232 اور آزاد کشمیر میں 462 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 73ہزار750، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 140ہزار77، پنجاب2لاکھ 90 ہزار 788، سندھ 2 لاکھ 78 ہزار545، بلوچستان21 ہزار743، آزاد کشمیر16ہزار591 اور گلگت بلتستان میں5 ہزار258 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور تیسرے مرحلے میں50تا60 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن کی صحافی کے گھر کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن کی صحافی کے گھر کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن (ایمرا)کے صدر محمد آصف بٹ،سینئرنائب صدرجوادملک،نائب صدرعرفان ملک،سیکرٹری سلیم شیخ،ایڈیشنل سیکرٹری نعمان شیخ،فنانس سیکرٹری ارشدچوہدری،سینئرجوائنٹ سیکرٹری کنور عزیر،جوائنٹ سیکرٹری عبدالقادر خواجہ،انفارمینشن سیکرٹری شفیق شریف،آفس سیکرٹری افضل سیال اور ایمراباڈی نے پبلک نیوز چینل کے صحافی توصیف احمد کےگھر میں گھس کرپولیس کی جانب سے اہلخانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے،توڑپھوڑکرنے،پولیس گردی کا مظاہرہ کرنے کی بھرپوراورشدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے صحافی توصیف احمد میں گھر میں گھس کر پولیس گردی کاجو مظاہرہ کیاگیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم یے۔
    تفصیلات کے مطابق صحافی حافظ توصیف احمدپبلک نیوز چینل کے اینکر پرسن ہیں جن کے بڑے بھائی خلیق احمد اعوان نے 2018 میں ٹی ایل پی کی جانب سے الیکشن لڑا فیض آباد والے کیس کے بعد بھائی نے شورٹی بانڈ بھر کے دیا میرا ٹی ایل پی اور انکی سرگرمیوں سے اب کوئی تعلق نہیں اور قطع تعلق کرلیا تھا۔لیکن جب بھی ٹی ایل پی کا معاملہ ہوتا ہے تو ہمیں بلاوجہ پوری فیملی کو تنگ کیا جاتا ہے

    گزشتہ روزقائد اعظم انڈسٹریل سٹیٹ ٹاون شپ تھانے کی پولیس نے ان کے بھائی کے گھر جہاں بزرگ والدین بھی ہیں چھاپہ مارا بدتمیزی کی محلے والوں کے اکٹھا ہونے پرپولیس واپس چلی گئی ۔اسی روزرات دس بجے گھر حافظ توصیف احمد اعوان جو کہ صحافی ہیں جنکا ٹی ایل پی سے دور دور تک تعلق نہیں اور اپنے اہلخانہ کے ہمراہ الگ رہائش پذیر ہےصحافی توصیف احمدکی غیر موجودگی میں پولیس نے چھاپہ مارا ان کے اہلخانہ اور بچوں کو حراساں کیا گیا۔بغیر سرچ وارنٹ کے گھر میں گھسے توڑ پھوڑ کی دو لیپ ٹاپس توڑے گھر کے دروازے توڑے اور وائف سے گن پوائنٹ پر موبائل چھین کر لے گئے۔ایمرا باڈی پولیس اہلکاروں کے ایسے اقدام کی بھرپور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ سی سی پی او لاہور ،ائی جی پنجاب، وزیرقانون پنجاب اور مشیر اطلاعات پنجاب سمیت اعلی حکام سے پولیس اہلکاروں کے اقدام کے نوٹس لینے اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔