وزیر دفاع و رہنما مسلم لیگ ن خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ایک اور 9 مئی برپا کرنے کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے سیاسی ماحول میں ہر وقت حرارت برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں بشریٰ بی بی اور دیگر رہنماؤں کی میڈیا پر سامنے آنے والی گفتگو نے ملک کے خلوص پر بڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور سپرنٹنڈنٹ جیل کی گفتگو کے بارے میں جو باتیں کی گئی ہیں، ان کا کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نہ تو بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے اور نہ ہی سپرنٹنڈنٹ جیل کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر 9 مئی کے واقعات کی طرح کا ایک اور بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف بغاوت کا بیانیہ بنایا گیا ہے، اور مختلف بین الاقوامی اخبارات میں پیڈ آرٹیکلز چھپوا کر پاکستان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیہونی ایجنڈا ہے جس کے تحت کچھ لوگ اقتدار میں آئے ہیں اور انہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا ارادہ کیا ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 9 مئی کی بغاوت کو اللہ نے ناکام کر دیا، مگر ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود 9 مئی کے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس تصادم میں قانونی اور آئینی اداروں نے بھی ایک پوزیشن لے رکھی ہے۔خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تمام بیانیہ ملک مخالف ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جیلوں کی گفتگو چھپی نہیں رہتی، اور علی امین گنڈا پور کو بزدار نمبر ٹو قرار دیتے ہوئے سواتی صاحب کی اچانک آمد پر بھی سوالات اٹھائے۔
Category: پنجاب

جھوٹا بیانیہ بنا کر 9 مئی کی طرح کا ایک اور بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، خواجہ آصف

پنجاب میں جانوروں کے لیے نادرا کی طرز کا ادارہ: رجسٹریشن کے لیے عملی اقدامات کا آغاز
لاہور: پنجاب حکومت نے جانوروں کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی طرز کا ایک نیا ادارہ قائم کرنے کے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ قانون پنجاب نے اس حوالے سے ضروری نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر کے جانوروں کی عمر، رنگ، نسل، جنس سمیت دیگر تمام خصوصیات کو ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا۔اس نئے نظام کے تحت ہر جانور کو ایک منفرد رجسٹریشن نمبر اور تصویر والا شناختی ٹیگ جاری کیا جائے گا۔ شناختی ٹیگ میں جانور کے متعلق تمام اہم معلومات شامل ہوں گی، جیسے کہ عمر، رنگ، نسل، اور جنس وغیرہ۔ اس اقدام کا مقصد جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور ان کی شناخت کو منظم انداز میں محفوظ کرنا ہے۔
پنجاب حکومت نے جانوروں کی رجسٹریشن کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں۔ فارمرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود جانوروں کی ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کروائیں۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی نیا جانور خریدا جاتا ہے تو اس کی رجسٹریشن ایک ہفتے کے اندر کرنا لازمی ہوگی۔ نئے پیدا ہونے والے جانوروں کی رجسٹریشن ایک ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی۔ ہر جانور کو ایک منفرد شناختی ٹیگ جاری کیا جائے گا، جو کہ جانور کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ اس ٹیگ کو مجاز آفیسر کی اجازت کے بغیر نہیں اتارا جا سکے گا۔ جانور کے متعلق تمام معلومات اور ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا تاکہ جانور کی شناخت اور دیگر معاملات میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
اس نئے نظام کے تحت جانوروں کی بہتر دیکھ بھال، نگرانی اور انتظام ممکن ہو سکے گا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد جانوروں کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ جانوروں کی خرید و فروخت اور نقل و حرکت کو بھی منظم کرنا ہے۔ اس ڈیٹا بیس کی مدد سے نہ صرف جانوروں کی شناخت آسان ہو گی بلکہ مویشی پالنے والوں کے لیے بھی بہتری کے مواقع پیدا ہوں گے۔پنجاب حکومت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف جانوروں کی شناخت اور رجسٹریشن کا عمل شفاف اور مؤثر ہو گا بلکہ مویشی پالنے والوں کو بھی اپنے جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں کی رجسٹریشن کے اس نئے نظام سے صوبے میں جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام اور ان کی صحت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، شناختی ٹیگ کی مدد سے جانوروں کی چوری کے واقعات میں بھی کمی کا امکان ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس نظام کے نفاذ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے بھر میں جانوروں کی رجسٹریشن کے عمل میں تیزی آئے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں مویشی پالنے والوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی اور جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ایک نیا معیار قائم ہو گا۔حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد جانوروں کی فلاح و بہبود اور ان کی شناخت کا محفوظ اور مؤثر نظام قائم کرنا ہے، جو کہ آنے والے وقت میں ملک بھر کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
رحیم یار خان میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور دو سینئر افسران کی تبدیلی، نئے افسران کی تعیناتی
رحیم یار خان میں ڈاکوؤں کے حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد، پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطح پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رحیم یار خان، ملک عمران، ایڈیشنل ایس پی جاوید اختر جتوئی اور ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کلیم احمد کو "سی پی او کلوز” کیٹیگری میں شامل کر کے لاہور آئی جی آفس طلب کر لیا گیا ہے۔ ان افسران کی جگہ نئے افسران کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔یہ تبدیلیاں سانحہ کچہ ماچھکہ کے بعد کی گئی ہیں، جہاں ڈاکوؤں کے ایک شب خون میں 12 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور افسران کی ذمہ داریوں پر سوالات کھڑے کر دیے، جس کے بعد پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
جمعہ کے روز لاہور میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق، ڈی پی او رحیم یار خان ملک عمران، ایڈیشنل ایس پی جاوید اختر جتوئی، اور ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کلیم احمد کو سی پی او کلوز قرار دیا گیا ہے۔ ان تینوں افسران کو لاہور آئی جی آفس میں طلب کیا گیا ہے، جہاں ان سے اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات لی جائیں گی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔رحیم یار خان میں خالی ہونے والی پوسٹوں پر نئے افسران کا تقرر فوری طور پر کی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق، ایس ایس پی رضوان عمر گوندل کو ڈی پی او رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایس پی آپریشنز ملتان ارسلان زاہد کو تبدیل کر کے ایس پی انویسٹیگیشن رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح، ایس پی انویسٹیگیشن لودھراں ناصر جاوید رانا کو ایس پی رحیم یار خان مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی ایس پی صدر ٹوبہ ٹیک سنگھ سعید احمد کو تبدیل کر کے ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔ ان افسران کی فوری تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان پر فوری عمل درآمد بھی کر دیا گیا ہے۔یہ تبدیلیاں اس وقت کی گئی ہیں جب رحیم یار خان میں پولیس پر دباؤ انتہائی بلند سطح پر ہے۔ سانحہ کچہ ماچھکہ کے بعد پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہ تبدیلیاں پولیس کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کی گئی ہیں۔ نئے تعینات ہونے والے افسران کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ: جلسے جلوس، ریلیوں اور احتجاج پر تین روزہ پابندی
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوام کی حفاظت کے پیش نظر تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ یہ پابندی 22 اگست سے 24 اگست تک نافذ رہے گی، جس کے دوران جلسے جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاج پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، موجودہ صورتحال میں کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمی، جیسے کہ جلسے جلوس، ریلیاں، یا احتجاجی مظاہرے، کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ دفعہ 144 کی پابندی کو بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچایا جائے گا تاکہ لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی ہو اور وہ اس دوران کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچ سکیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پنجاب حکومت کے اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پابندی کا احترام کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات: تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے مری میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں، اور باہمی تعاون کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں پنجاب کے طلبہ کے لیے برطانیہ کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم کے مواقع بڑھانے کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پنجاب کے ذہین اور ہونہار طلبہ کو برطانیہ کی معروف تعلیمی اداروں میں داخلے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس حوالے سے مختلف تعلیمی اور ثقافتی پروگرامز پر بھی غور کیا گیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت کے پائیدار اقدامات سے برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پنجاب حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں شجرکاری مہم، صاف پانی کی فراہمی، اور توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ شامل ہیں۔ اس حوالے سے دونوں فریقین نے باہمی مہارتوں اور تجربات سے استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس اور انتظامیہ کی مانیٹرنگ کے لیے متعارف کرائے گئے کے پی آئی (Key Performance Indicators) سسٹم کے بارے میں برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام پنجاب کی حکومت کے مختلف محکموں کی کارکردگی کو جانچنے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
ملاقات کے دوران ڈیجیٹل پنجاب کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو پنجاب حکومت کے ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اور اس بات پر زور دیا کہ پنجاب ڈیجیٹائزیشن کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی پنجاب اس شعبے میں لیڈ کرے گا اور صوبے میں آئی ٹی یونیورسٹیز کے قیام کے لیے برطانوی اداروں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی، وزیراعلیٰ مریم نواز نے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں برطانوی اداروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے لاہور میں جاری نواز شریف آئی ٹی سٹی اور ٹوئن ٹاورز پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جسے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو صوبے کی ترقی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو پنجاب میں سولر پینل پراجیکٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی اور اس منصوبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت صاف اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، اور اس سلسلے میں برطانوی تعاون کو سراہا جائے گا۔ملاقات کے دوران، مریم نواز نے فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کی جانب سے تعلیم اور دیگر شعبوں میں فراہم کیے جانے والے اشتراک پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ اسلام آباد میں برطانوی پولیٹیکل قونصلر زوی ویئر بھی موجود تھیں، جو اس موقع پر ہونے والے اہم تبادلہ خیال میں شریک تھیں۔یہ ملاقات پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم انکوائری کے بعد کلیئر قرار
سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دو روز کی انکوائری کے بعد کلئر کر دیا گیا۔ شاہد سلیم بیگ اپنی رہائش گاہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو دو دن قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا۔ تاہم، ان کی حراست اور اس سے متعلقہ تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھا گیا تھا، اور اس دوران کسی قسم کی معلومات میڈیا کو فراہم نہیں کی گئیں۔انکوائری کے بعد شاہد سلیم بیگ کو کلئر قرار دے کر رہا کر دیا گیا ہے، اور وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ اس پورے معاملے پر کسی بھی حکومتی یا متعلقہ ادارے کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اور نہ ہی انکوائری کے موضوع یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب کے سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو حساس اداروں نے گرفتار کر لیا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، سابق آئی جی جیل کو حساس اداروں کے ساتھ قریبی رابطوں کے الزام پر حراست میں لیا گیا تھا ۔شاہد سلیم بیگ پانچ سال تک پنجاب میں آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے پر فائز رہے، اور وہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل جانے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق، شاہد سلیم بیگ کو ان کی سرکاری رہائش، آئی جی ہاؤس، سے گرفتار کیا گیا۔
اس کے علاوہ، اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ظفر کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ظفر کی بھی حساس اداروں کے ساتھ مبینہ رابطے تھے، جن کی وجہ سے انہیں تحقیقات کا سامنا ہے۔مزید برآں، ڈی آئی جی جیل راولپنڈی کے دفتر سے ایک آفس سپرنٹنڈنٹ ناظم علی شاہ سے بھی پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے اردلی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کا ایک وارڈن اور ہیڈ وارڈن بھی زیر حراست ہیں۔یہ گرفتاریاں حساس اداروں کے اندرونی رابطوں اور ممکنہ بدعنوانیوں کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، اور ان گرفتاریوں سے جیل خانہ جات کے محکمے میں مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
اوکاڑہ: حجرہ شاہ مقیم میں بھائی کے ہاتھوں بہن کا لرزہ خیز قتل
ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جس نے علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ نویں جماعت کی طالبہ ساجدہ کو اس کے اپنے بھائی نے معمولی تکرار پر فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساجدہ نویں جماعت کے ریاضی کے مضمون میں فیل ہو گئی اور اس کے بھائی عادل حسین نے اس پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی قدم اٹھایا۔پولیس کے مطابق، یہ سانحہ رات کے وقت پیش آیا جب ساجدہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ سو رہی تھی۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، ملزم عادل حسین نے آتے ہی للکارا مارا کہ "میرے ساتھ جھگڑا کرنے اور نہم کلاس میں فیل ہونے کا مزہ چکھاتا ہوں۔” والدہ نے اپنے بیٹے کو اس بہیمانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی، لیکن عادل حسین نے بے رحمی سے اپنی بہن پر دستی پستول سے چھ گولیاں فائر کیں، جس سے ساجدہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئی۔
پولیس اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں اور ساجدہ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سوگوار ماحول چھا گیا ہے اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ بھائی کے ہاتھوں بہن کے قتل نے علاقے کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔پولیس نے مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور ملزم عادل حسین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشرتی دباؤ اور غصے کی انتہا کس حد تک جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ساجدہ کے بہیمانہ قتل نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشرتی اقدار اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔

اٹک: 78 سالہ ارب پتی بزرگ کے خلاف زبردستی زیادتی کا مقدمہ درج، ملزم گرفتار
اٹک: 78 سالہ ارب پتی بزرگ حاجی گلاب خان کے خلاف ایک سنگین الزام سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر میں کام کرنے والی شادی شدہ خاتون کے ساتھ زبردستی زیادتی کی۔ متاثرہ خاتون صائمہ وقار، جو کہ محنت کش ہیں اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنے خاندان کا گزر بسر کرتی ہیں، نے ماڈل پولیس اسٹیشن اٹک سٹی میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ صائمہ وقار دختر وقار حسین زوجہ شیر افضل، جو ڈھوک فتح اٹک کی رہائشی ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ وہ حسب معمول حاجی گلاب خان کے ڈیرے پر صفائی کر رہی تھیں، جو کہ آستانہ عالیہ باغدرہ شریف حسن ابدال کے قریب واقع ہے۔ صائمہ نے بیان دیا کہ کام کے دوران حاجی گلاب خان نے انہیں زبردستی کمرے میں پکڑ لیا اور ان کے ساتھ زنا بالجبر کیا۔
پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا۔ ملزم حاجی گلاب خان، جو کہ دکھنیر کے رہائشی ہیں اور گورا قبرستان کے قریب اپنے ڈیرے پر مقیم ہیں، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ملزم حاجی گلاب خان کے خلاف یہ الزام اس وقت سامنے آیا ہے جب مذہبی پیشوائی کا لبادہ اوڑھ کر ایسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی خبر نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہلچل مچادی ہے، جہاں پر لوگوں نے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ متاثرہ خاتون صائمہ وقار اور ان کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کے دوران حاصل کردہ شواہد کی روشنی میں عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ یہ واقعہ مذہبی پیشواؤں کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لیڈی ایچیسن اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے دو بڑے ہسپتالوں میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کر دیا ہے۔ لیڈی ایچیسن ہسپتال میں اپ گریڈڈ او پی ڈی اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ آئی وارڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لیڈی ایچیسن ہسپتال کی اپ گریڈڈ او پی ڈی بلاک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کنسلٹنٹ او پی ڈی، او پی ڈی، اینٹی نینٹل کلینک، نرسنگ آفس، اور ٹرائیج روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وارڈ میں موجود زچہ و بچہ کی خیریت دریافت کی، ننھے بچوں کو پیار کیا اور درازی عمر کی دعائیں دیں۔ وزیراعلیٰ نے وارڈ میں موجود نومولود بچے کو گود میں اٹھا کر پیار کیا اور ایک مریضہ کے مسائل سنے۔ وزیراعلیٰ نے مریضہ کو تسلی دیتے ہوئے مسئلہ فوری حل کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی خواہش پر وزیراعلیٰ نے ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز میو ہسپتال کے آپتھلما لوجی وارڈ پہنچ گئیں اور اپ گریڈیشن پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے آپتھلما لوجی بلاک کے مختلف فلورز کا دورہ کیا، تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، اور او پی ڈی، آپریشن تھیٹر، سی ایس ایس ڈی سٹرلائزیشن روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف نے اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز کے ان دوروں کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے مریضوں کو بہتر علاج معالجہ اور ہسپتال کی سہولیات میں بہتری ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہسپتال عملے کی محنت اور لگن کی تعریف کی اور انہیں مزید بہتر خدمات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
پنجاب اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے قرارداد جمع
پنجاب اسمبلی میں ایم پی اے باسمہ چودھری نے امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ایک اہم قرارداد جمع کرادی ہے۔ قرارداد میں عافیہ صدیقی کی پاکستانی شہری ہونے کے ناطے حفاظت کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کو اس حق کا تحفظ حاصل ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ ان پر جسمانی اور جنسی تشدد کیا جا رہا ہے، اور ان کی عزت کی پامالی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہیں اپنے مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امام سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور انہیں قانونی دفاع کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ دستاویزات پر دستخط کرنے کی اجازت نہ دینے کی شکایت بھی کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بیٹی پر یہ ظلم اور بربریت ہرگز قابل قبول نہیں۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کی جائیں، اور یہ کوششیں صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر کی جائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز پر فوری عمل درآمد کا بھی کہا گیا ہے۔قرارداد میں عافیہ صدیقی کی گرتی ہوئی جسمانی اور ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ سے تحریری طور پر صدارتی معافی اور ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کے لیے درخواست کریں۔
قرارداد میں حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے فوری طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی میڈیکل ٹیم کے معائنہ اور اپنی مرضی کے امام سے ملاقات کی اجازت طلب کی جائے۔یہ قرارداد عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر مزید توجہ مبذول کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینے کی کوشش ہے۔









