Baaghi TV

Category: پنجاب

  • مریم نواز کا ہمت کارڈ منصوبے کے  افتتاح کے دوران کے پی  حکومت پر تنقید

    مریم نواز کا ہمت کارڈ منصوبے کے افتتاح کے دوران کے پی حکومت پر تنقید

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج ہمت کارڈ منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کی تقریب میں انہوں نے خصوصی افراد کے حقوق اور ان کی بہبود کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں کہ ایک اور خواب کی تکمیل ممکن ہوئی، اور ہم خصوصی افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مریم نواز نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے میں 65 ہزار خصوصی افراد کو ہمت کارڈ دیئے جائیں گے، جنہیں مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمت کارڈ منصوبے کے لیے 2 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور اس کارڈ کے حامل افراد کو تین ماہ میں ساڑھے دس ہزار روپے ملیں گے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ "پنجاب حکومت خصوصی افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہم ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ہمت کارڈ کے ذریعے ملنے والی رقم میں اضافہ کیا جائے گا، اور اس منصوبے کے تحت خصوصی افراد کو میٹرو بس میں فری سفر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ "کیا وجہ ہے کہ (ن) لیگ کے دور میں ملک ترقی کرتا ہے؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں موٹرویز کی تعمیر اور مہنگائی میں کمی ہوئی۔ انہوں نے سابقہ حکومت کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، لیکن آج یہ مسلسل کم ہو رہی ہے۔مریم نواز نے خاص طور پر روٹی کی قیمت میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "روٹی کی قیمت پہلے 25 روپے تھی اور آج یہ 12 روپے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ وہ ہمیشہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے حالات اور پی ٹی آئی پر تنقید
    تقریب کے دوران مریم نواز نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حالات پر بھی تبصرہ کیا، کہا کہ "میرا دل خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔” انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا کام صرف "جلاؤ گھیراؤ” کرنا ہے، جو عوام کی خدمت میں خلل پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ دوسرے صوبے پر حملہ کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوام کی خدمت کریں۔وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ پنجاب کے اوپر بار بار حملہ کر رہے ہیں، اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں کو جلسوں میں لایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا پیسہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھول میں نہ رہنا، "مجھے دہشت گردوں سے نمٹنا آتا ہے۔”

  • پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

    پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

    پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کو روکنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے حملے سے بچا جا سکے۔میانوالی میں دفعہ 144 کا نفاذ یکم اکتوبر سے 7 اکتوبر تک رہے گا۔ جبکہ فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 صرف دو دن کے لیے لاگو ہو گی۔محکمہ داخلہ کے مطابق، یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات اور مظاہرے دہشت گردوں کے لیے "سافٹ ٹارگٹ” ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ بڑے عوامی اجتماعات کے دوران دہشت گرد عناصر کسی بڑے حملے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
    دفعہ 144 کے تحت ان اضلاع میں سیاسی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، اور دیگر عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو بغیر اجازت کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ ممکنہ سکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان دنوں میں دہشت گردی کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور یہ پابندی عارضی ہوگی، جو حالات کے بہتر ہوتے ہی ختم کر دی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت اور اجتماعات سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری

    بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری

    لاہور: بینائی سے محروم افراد کا احتجاجی دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کے منصوبے کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔نابینا افراد نے حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے پر فیصل چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا آغاز کیا تھا۔ مارچ کے دوران گورنر ہاؤس کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے افراد زخمی ہوئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نابینا افراد پر تشدد کی خبریں غلط ہیں۔ "ہم گزشتہ 9 دنوں سے ان کے ساتھ ہیں اور ہمارے بھی 8 سے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ان کے مطالبات کے حوالے سے جلد ایک پلان کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری جانب نابینا مظاہرین نے کہا کہ وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مستقل ملازمتوں کی فراہمی کا اعلان نہیں ہوتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

  • میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

    میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

    میانوالی: پنجاب حکومت نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق میانوالی میں دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا، ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگئی، پابندی کا اطلاق منگل یکم اکتوبر سے سوموار 7 اکتوبر تک ہوگا،ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، میانوالی میں رینجرز کی 2 کمپنیاں یکم سے 3 اکتوبر تک تعینات ہوں گی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی، سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہےمحکمہ داخلہ پنجاب نے عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کردی۔

    واضح رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق پی ٹی آئی کل میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور میں احتجاج کرے گی۔

  • ملک احمد  بھچر کی فارم 47 کی جعلی حکومت پر تنقید، 5 تاریخ کو لاہور میں پاور شو کا اعلان

    ملک احمد بھچر کی فارم 47 کی جعلی حکومت پر تنقید، 5 تاریخ کو لاہور میں پاور شو کا اعلان

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما ملک احمد خان بھچر نے فارم 47 کی جعلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت تحریک انصاف کے پر امن جلسوں اور احتجاج میں مداخلت سے باز رہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد بھچر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا پرامن احتجاج کا سفر خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے شروع ہوا اور ان کا مقصد ملک میں جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے جلسے کے این او سی نہ دینے اور پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "ہم نے راولپنڈی لیاقت باغ میں جلسے کے لیے این او سی مانگا، مگر انہوں نے نہیں دیا۔ ہمارے کارکنان کو گرفتار کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں بچا۔ آپ ملک کو کس سمت میں لے جا رہے ہیں؟”
    ملک احمد بھچر نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف جھوٹے مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئینی عدالتیں بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو جمہوری حکومتوں میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، "آپ کے اس اقدام میں بدنیتی صاف ظاہر ہے، آپ عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہماری آپ کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔تحریک انصاف کے رہنما نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ فارم 47 کی جعلی حکومت کے تحت غیر جمہوری اقدامات اٹھا رہی ہے اور تحریک انصاف کے پرامن جلسوں میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک جماعت نے مینار پاکستان پر جلسہ کیا، جو ہمارے لیے قابل احترام ہے، لیکن پی ٹی آئی کے جلسے پر کیوں پابندی لگائی جا رہی ہے؟ ہم پرامن احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور 5 تاریخ کو لاہور میں اپنا پاور شو کریں گے۔ملک احمد بھچر نے تحریک انصاف کے کارکنان کو یقین دلایا کہ ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ کسی صورت اپنے آئینی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

  • پنجگور: فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 7 مزدوروں کی نماز جنازہ اور تدفین

    پنجگور: فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 7 مزدوروں کی نماز جنازہ اور تدفین

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہونے والے سات مزدوروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے ملتان روانہ کیا گیا۔ اس دردناک واقعے نے پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے اس کی مذمت کی ہے۔جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی شناخت ساجد، شفیق، فیاض، افتخار، خالد، سلمان، اور اللہ وسایا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تمام مزدور ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے مختلف علاقوں، بشمول بستی چدھڑ، بستی راجا پور، چک سردارپور، شاہ پور ابھہ، اور بستی ملوک سے تعلق رکھتے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے مزدوروں کی میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملتان پہنچانے کا بندوبست کیا۔ نشتر ہسپتال پہنچنے پر رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم اور ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم سندھو نے میتیں وصول کیں، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
    مزدوروں کی لاشیں ملنے میں تاخیر کے باعث ورثا نے موٹروے ایم فائیو چدھر پل پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ملتان سکھر موٹر وے کی ٹریفک کی روانی بند ہوگئی۔ یہ احتجاج متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے عدم تحفظ اور انصاف کے مطالبات کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔پنجگور میں مزدوروں کی تدفین شجاع آباد کے مقامی قبرستان میں کی گئی، جہاں نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا جب پورے علاقے کے لوگ اپنی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔محنت کشوں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف پنجگور کے تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل، اقدام قتل، اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام نے اس واقعے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی مذمت
    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور رانا ثنااللہ نے مزدوروں کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہتے اور بے گناہ افراد کے بہیمانہ قتل کی بد ترین مثال ہے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کے اس درندہ صفت دشمن کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ رانا ثنااللہ نے اس غم کی گھڑی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحومین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی پنجگور میں مزدوروں کے بہمانہ قتل کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر دھرتی پر بے گناہوں کا لہو گرا، اور دہشت گرد بزدل اور انسانیت سے بے بہرہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دہشت گردوں کا حساب لیا جائے گا جو بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔
    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلوچستان میں عسکریت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پچھلے ماہ ایک ہی دن میں موسیٰ خیل، مستونگ، بولان، اور قلات میں مختلف واقعات میں 40 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 21 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے تھے۔یہ واقعہ نہ صرف مزدوروں کے لواحقین کے لیے ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے بلکہ یہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی لہر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے انصاف کی فراہمی اور محفوظ ماحول کی تشکیل کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے تاکہ ایسی درندگی کی روک تھام کی جا سکے۔

  • پنجاب حکومت کا راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ

    راولپنڈی: پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس پابندی کا اطلاق ہفتہ 28 ستمبر اور اتوار 29 ستمبر کو ہوگا۔اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج، اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔ مزید برآں، راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم، اور چکوال میں بھی دفعہ 144 نافذ ہوگی۔
    محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز کی 6 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، تاکہ ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر کی ممکنہ آمد کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلحہ رکھنے اور نمائش پر بھی دفعہ 144 کا اطلاق ہوگا، اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان کو پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ اقدام امن و امان کے قیام اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جیسا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حالات کے پیش نظر حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

  • مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں پولیس کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری دے دی

    مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں پولیس کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پولیس اہلکاروں کی محنت اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے۔ یہ اقدام پولیس کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے، خاص طور پر کچے کے خطرناک علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے۔پنجاب پولیس کے ذرائع کے مطابق، یہ الاؤنس پہلی بار فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جن میں انسپکٹر، سب انسپکٹر اور اے ایس آئی:** ہر ماہ 25 ہزار روپے ہارڈ ایریا الاؤنس۔ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل:** ہر ماہ 20 ہزار روپے ہارڈ ایریا الاؤنس، جبکہ درجہ چہارم کے پولیس ملازمین:** ہر ماہ 18 ہزار روپے ہارڈ شپ الاؤنس مقرر کیا گیا ،
    یہ اقدامات خاص طور پر رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں تعینات 943 اور راجن پور کے 414 پولیس افسران و اہلکاروں کے لیے کیے گئے ہیں، جو اس الاؤنس سے مستفید ہوں گے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 33 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کے اس اقدام پر کچے کی چوکیوں پر تعینات پولیس جوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اب پہلے سے زیادہ دل جمعی اور جوش و جذبے کے ساتھ کام کریں گے تاکہ کچے کے ڈاکوؤں اور شرپسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا عزم ہے کہ یہ الاؤنس ان کی محنت کو تسلیم کرنے کا ایک بڑا قدم ہے اور اس سے ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس اقدام نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت ان پولیس اہلکاروں کی خدمات کو کبھی نظرانداز نہیں کرے گی جو عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ الاؤنس ان کے حوصلے بڑھانے کا باعث بنے گا اور انہیں اپنے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دینے کی تحریک دے گا۔یہ اقدام نہ صرف پولیس کی مدد کرے گا بلکہ علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس کا بنیادی مقصد عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدام حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کا ثبوت ہیں اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • لاہور:ایئرپورٹ پر نجی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، مسافر محفوظ

    لاہور:ایئرپورٹ پر نجی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، مسافر محفوظ

    لاہور: لاہور ایئرپورٹ پر ایک نجی طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی، جس کی وجہ کاک پٹ میں آگ لگنے کے الارم کا بجنا تھا۔ سول ایوی ایشن کے ذرائع کے مطابق، پائلٹ نے صورت حال کے پیش نظر فوری طور پر ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔لینڈنگ کے بعد، جہاز کے ایمرجنسی گیٹ کھولے گئے اور سلائیڈ کے ذریعے مسافروں کو باحفاظت باہر نکالا گیا۔ ایئرپورٹ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ تکنیکی ٹیم نے جہاز کا معائنہ کیا ہے، تاہم ابھی تک الارم بجنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
    اس واقعے کے باعث ایئرپورٹ پر معمولات متاثر ہوئے، لیکن خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ ہیں۔ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ صورت حال کی مکمل وضاحت کی جا سکے۔

  • پنجاب میں وزراء کے درمیان اختیارات کا تنازع: عظمی  بخاری کی  مریم نواز سے قلمدان کی تبدیلی کی درخواست

    پنجاب میں وزراء کے درمیان اختیارات کا تنازع: عظمی بخاری کی مریم نواز سے قلمدان کی تبدیلی کی درخواست

    لاہور: پنجاب کی اطلاعاتی وزیر عظمیٰ بخاری نے چیف منسٹر مریم نواز سے درخواست کی ہے کہ وہ انکا قلمدان تبدیل کریں، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب مسلسل ان کے وزارت کے امور میں مداخلت کر رہی ہیں۔ یہ اطلاعات "دی اسکوپ” (TS) کے ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔وزارت اطلاعات اور چیف منسٹر کے سیکرٹریٹ کے متعدد اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ عظمی بخاری جلد ہی اپنی جگہ بدل سکتی ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، عظمی بخاری نے اپنے شکوے کے حل کے لیے چیف منسٹر سے ملاقات کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر 150 ملین روپے کی ڈیجیٹل اشتہارات کی تقسیم میں طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کے معاملے پر، جو ایک ایسی کمپنی کو دیے گئے ہیں جو کہ مریم اورنگزیب کے قریبی رشتے دار سے منسلک بتائی جاتی ہے۔

    عظمی بخاری نے مریم نواز کو بتایا کہ "لوگ سوال کر رہے ہیں کہ چیف منسٹر اس بدعنوانی سے بے خبر کیسے ہو سکتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اسکینڈل نہ صرف میری ساکھ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ آپ کی بھی۔” بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اورنگزیب کے کہنے پر دو سیکرٹریز اور دو ڈائریکٹر جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے اور تیسرا بھی جلد ہی جانے والا ہے۔
    عظمی بخاری نے نئے قلمدان کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق مریم نواز ، مریم اورنگزیب کو نئے اطلاعاتی وزیر کے طور پر مقرر کرنے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کے موجودہ ترجمان سید کوثر کاظمی کو خصوصی معاون کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے تاکہ وزارت کے امور مریم اورنگزیب کے زیر نگرانی چلائے جائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عظمی بخاری اور مریم اورنگزیب کے درمیان تنازع اس وقت بڑھ گیا جب مریم اورنگزیب نے وزارت کے آپریشنز میں مداخلت شروع کی۔ دونوں وزراء حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی منظوری کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کے بہاؤ میں آنے والے بڑے فنڈز پر کنٹرول حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

    یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مریم اورنگزیب نے 150 ملین روپے کی رقم کو حکومت کے رمضان نگہبان پیکج کے تحت چینل 7 پر تشہر کے لیے منتقل کیا، بغیر طے شدہ منظوری کے طریقہ کار کی پیروی کیے۔ یہ اشتہارات 15 سے 22 مارچ 2024 تک چلائے گئے تھے، جن کی دستاویزات درست طریقے سے مکمل نہیں کی گئی تھیں اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) سے درکار SPL نمبر نہیں ملا۔ مریم اورنگزیب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود، DGPR کے اہلکاروں نے درست دستاویزات کے بغیر فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا، جس نے وزارت کے اندر کشیدگی کو جنم دیا۔ کئی اہلکاروں، بشمول DGPR کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد طارق اسماعیل اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالناصر نے ادائیگیوں کی منظوری دینے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور قومی احتساب بیورو (NAB) کی جانب سے قانونی جانچ پڑتال کا خدشہ موجود ہے۔بعد میں DGPR کے دفتر نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) سے اشتہارات کی قانونی حیثیت کی تصدیق کرنے کی درخواست کی، یہ واضح کرتے ہوئے کہ چینل 7 سے حاصل کردہ اسکرین شاٹس یا جزوی ثبوت کافی نہیں ہوں گے۔ یہ درخواست DGPR کی جانب سے عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔

    اس کے بعد، سیکرٹری اطلاعات دانیال گیلانی اور DGPR روبینہ افضال خان کو ان کی غیر تعمیری درخواستوں کی بنیاد پر اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے، اور وہ DGPR کے پروٹوکولز کو نظرانداز کرتے ہوئے ادائیگی کو انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ افواہیں یہ بھی ہیں کہ انہیں چینل 7 کو اشتہار کی جگہ دینے کے بدلے 30 ملین روپے کا کمیشن ملا ہے۔دوسری طرف، احمد عزیز تارڑ، جو گریڈ-20 کا بیوروکریٹ ہے اور فرح گوگی بدعنوانی کے اسکینڈل سے منسلک ہے، کو دانیال گیلانی کی جگہ سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا اور انہیں DGPR کے اضافی ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔ اس اقدام نے یہ قیاس آرائی پیدا کی ہے کہ اورنگزیب ممکنہ طور پر اس طاقت کے ڈھانچے کی نقل کرنا چاہ رہی ہیں جو گوگی کے تحت قائم تھا، جہاں ان کی وفادار بیوروکریٹس کو ان لوگوں کے متبادل مقرر کیا جا رہا ہے جو غیر تعمیری طور پر ہٹائے گئے تھے۔اس کے بعد، تارڑ کو بھی شاہن شاہ فیصل عظیم سے تبدیل کر دیا گیا، جنہیں DGPR اور سیکرٹری اطلاعات کے اضافی چارج کے طور پر مقرر کیا گیا۔ "اب شاہن شاہ فیصل بھی جلد ہی ہٹائے جانے والے ہیں،” DGPR کے ایک سینئر اہلکار نے TS کو بتایا۔