پنجاب کے ضلع وہاڑی کے شہر بورے والا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پولیس کانسٹیبل نے چھٹی نہ ملنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق کانسٹیبل لئیق احمد نے خود کو سینے میں گولی مار لی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔اہلِ خانہ کے مطابق لئیق احمد کئی دنوں سے کام کے دباؤ میں تھا اور مسلسل چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لئیق احمد چھٹی کی درخواست مسترد ہونے پر دل برداشتہ ہو گیا تھا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن حالت بگڑنے پر انہیں ساہیوال کے بڑے اسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لئیق احمد پنجاب کانسٹیبلری میں تعینات تھا اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کام کے دباؤ کی شکایت کر رہا تھا۔ اس واقعے پر پولیس اہلکاروں میں افسردگی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
Category: پنجاب
-

پنجاب میں بارشوں کا الرٹ: پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہدایت
صوبہ پنجاب میں بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے ایک الرٹ جاری کیا ہے۔ یہ الرٹ 26 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، بارشوں کی پیشگوئی کے تحت لاہور سمیت مختلف اضلاع میں ہنگامی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ ان اضلاع میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، اور حافظ آباد شامل ہیں۔
27 ستمبر سے ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور، اور بھکر میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے، عرفان علی کاٹھیا نے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کنٹرول روم کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو بھی مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ پیشگوئی عوامی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے کہا ہے کہ وہ موسم کی تبدیلی کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں منصوبہ بندی کریں اور حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔یہ اقدام صوبے کی سیکیورٹی اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ -

پی ٹی آئی کا جلسہ: جگہ ایک بار پھر تبدیل، کاہنہ میں مشروط اجازت
ضلع انتظامیہ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کا مقام ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے این او سی کے تحت پی ٹی آئی کو قصور روڈ پر کاہنہ کے قریب جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے اس حوالے سے کئی شرائط عائد کی ہیں، جن میں علی امین گنڈا پور کی جانب سے اپنے بیانات پر معافی مانگنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اگر علی امین گنڈا پور معافی نہیں مانگتے تو این او سی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے دوپہر 2 بجے سے 5 بجے تک کا وقت فراہم کیا ہے۔
پنجاب حکومت نے مزید واضح کیا ہے کہ جلسے میں کسی ادارے یا اعلیٰ شخصیات کے خلاف بیان بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر پی ٹی آئی اس بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرواتی تو اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے میں پی ٹی آئی کی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ لاہور میں جلسہ عام کے حوالے سے ایس او پیز طے ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کو اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جلسے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے آج لاہور ہائیکورٹ میں مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ -

پنجاب پولیس کا لاہور جلسے کے موقع پر 3,700 مفرور افراد کی گرفتاری کا فیصلہ
لاہور: پنجاب حکومت نے نو مئی کے مفرور 3,700 افراد کو لاہور میں ہونے والے جلسے کے دوران گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیس کی کارروائیوں کے لیے تفصیلی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، پنجاب پولیس نے مفرور افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان گرفتاریوں کا عمل جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انجام دیا جائے گا، تاکہ مؤثر انداز میں ان افراد کو نشانہ بنایا جا سکے جو نو مئی کے واقعات میں ملوث تھے۔
پنجاب حکومت کے ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ کارروائیاں لاہور جلسے کے موقع پر متوقع ہیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مفرور افراد کی گرفتاری کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں، پولیس نے مختلف سیکیورٹی اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ جلسے کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
پنجاب پولیس کے افسران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع کریں، تاکہ موثر کارروائی کی جا سکے۔ یہ معاملہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ماضی میں ہونے والے مظاہروں اور عوامی اجتماعوں کے دوران پرتشدد واقعات سامنے آئے ہیں۔پولیس کی یہ نئی حکمت عملی نہ صرف مفرور افراد کی گرفتاری کے لئے ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی بھی کوشش ہے، تاکہ لوگ محسوس کریں کہ حکومت ان کی حفاظت کے لئے سرگرم عمل ہے۔ -

12 ربیع الاول: پنجاب میں موبائل فون سروس بند کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے 12 ربیع الاول کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس قسم کا فیصلہ انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کرتی ہے، اور پنجاب کے بڑے علاقوں میں موبائل سروس کی بندش کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر صوبے بھر میں جوش و جذبے سے تقریبات منائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی مکمل ذمہ داری آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو سونپی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز خود سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عید میلاد النبی ﷺ خوشی کا موقع ہے اور اس دن کے احترام میں ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی، اور جب تک یہ تقریبات ختم نہیں ہوتیں، انتظامیہ گراؤنڈ پر موجود رہے گی تاکہ عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ابھی تک صوبائی حکومت کی جانب سے موبائل فون سروس بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اور موجودہ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے بڑے علاقوں میں موبائل سروس بند کرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔جلوس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں خصوصی لائٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ میلاد کی تقریبات کو روشنیوں سے منور کیا جا سکے۔ جلوس کے دوران شرکا میں حلوہ، مٹھائیاں اور نیاز تقسیم کی جائے گی تاکہ اس مبارک موقع کو اور بھی خوشیوں بھرا بنایا جا سکے۔وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ عید میلاد النبی ﷺ کا موقع خوشیوں کا ہے اور اس میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ جلوس کے شرکا کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ لوگ بغیر کسی پریشانی کے اس موقع کو منائیں۔عظمیٰ بخاری نے سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً 55 ہزار پولیس اہلکار مختلف محافل اور جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس موقع پر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اس مبارک دن کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔##
-

عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس، سہولت کار ملزم گرفتار
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو کے کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔
باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو کیس میں مرکزی ملزمہ فلک جاوید کے خلاف مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ذرائع ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا کہنا ہے کہ فلک جاوید کے مبینہ سہولت کار حیدر علی کو گرفتار کر لیا گیا، ملزم حیدر علی فلک جاوید سے مسلسل رابطے میں تھا۔ ذرائع سائبر کرائم کا کہنا ہے کہ ملزم حیدر علی کو پشاور کی تحصیل مٹہ سے گرفتار کیا گیا۔
دودھ پینے سے 13 افراد جاں بحق، کیس میں سنسنی خیز انکشافات
یاد رہے کہ چند روز قبل وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سوال کیا تھا کہ خاتون کی فیک ویڈیو بنا کر لگا دینا اتنا آسان کیوں ہے؟ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے نازیبا ویڈیو لیک کیس کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایک فلم میں تو تاریخ کے بعد تاریخ سے حل نکل آیا تھا، مجھے نہیں لگتا کہ میرے کیس میں تاریخ کے بعد حل نکلے گا۔
-

توہین مذہب کے ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی
کوئٹہ میں تھانے میں بند ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کر سرینڈر کردیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق توہین رسالت کے الزام میں زیرِ حراست ایک ملزم کو ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ملزم عبدالعلی کو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد تھانے کی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی اور یہ ہجوم ملزم کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نےبتایا کہ ’خروٹ آباد پولیس سٹیشن مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے غیرمحفوظ تھا اس لیے ملزم کو کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔‘
پولیس اہلکار کے مطابق کینٹ تھانے میں ہی ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ملزم عبدالعلی کو ہلاک کیا ہے۔‘خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ عبدالعلی پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی عمل جاری ہے۔پولیس کے مطابق عبدالعلی کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے متعلقہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایک محفوظ مقام پر بلا لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں توہین مذہب کے معاملے میں ملزم کے خلاف قانون ہاتھ میں لیا گیا ہو۔ رواں برس جون میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو مشتعل ہجوم نے پولیس کی حراست سے زبردستی نکال کر قتل کر دیا تھا۔
عبدالعلی کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ بننے والی مبینہ ویڈیو ایک چلتی گاڑی میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے مواد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی عبدالعلی خود چلا رہے تھے اور اس دوران گاڑی میں سوار ایک شخص ان سے تحریک انصاف کے ایک رہنما کی گرفتاری پر ان کا ردِعمل پوچھتا ہے۔اس گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اب لوگوں کو ہر علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ حالات کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔‘ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اسی گفتگو کے دوران مذہبی اعتبار سے ’نازیبا‘ الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بدھ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں جبل نورالقرآن کے قریب مغربی بائی پاس پر جمع ہو گئی تھی۔
لوگوں نے مغربی بائی پاس اور اسپنی روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی اور وہ ملزم کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔تاہم ملزم کی گرفتاری کے بعد بھی مظاہرین منتشر نہیں ہوئے بلکہ خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ پولیس سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ایس پی صدر پولیس شوکت مہمند کے مطابق ’ہجوم کی جانب سے یہ غیر قانونی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔‘ انھوں نے ہجوم کے مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اسے گرفتار بھی کیا گیا۔بدھ کی شام ہجوم کی جانب سے تھانے پر پتھراؤ کیا گیا اور مشتعل افراد نے تھانے کے مرکزی دروازے کو توڑ کر تھانے کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی جس پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔مظاہرین کی جانب سے تھانے کا گھیراؤ اور اس پر پتھراؤ کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا اور اسی دوران ملزم کو کینٹ تھانہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
-

ٹک ٹاک کا جنون جیل کی سلاخوں تک لے پہنچا
کراچی مٰیں ٹک ٹاک کا جنون نوسرباز کو جیل کی سلاخوں تک لے پہنچا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورنگی الفلاح پولیس نے دوران پیٹرولنگ کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی وردی پہن کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے والے نوسرباز کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزم خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے ٹک ٹاک ویڈیو بناتا تھا۔ملزم کی چند روز قبل سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔گرفتار ملزم کی شناخت عاطف عرف وکی بابو کے نام سے ہوئی۔نوسرباز ملزم کے خلاف تھانہ الفلاح میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور اس سے مزید تفشیش جاری ہے.
واضح رہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کے جنون میں جلدی مشہور ہونے کے چکر میں اکثر ٹک ٹاکر جعلی اداروں اور افسران کے پھروپ مٰیں وڈیوز بناتے ہیں جو قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے.
-

رحیم یار خان، غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل
رحیم یار خان کے علاقے ماچھکہ میں غیرت کے نام پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ فائرنگ کوش قبیلے کے ایگ گروپ نے خواتین کے ساتھ تعلقات کے الزام میں دوسرے گروپ پر کی۔ فائرنگ کے بعد ملزمان کچے کے علاقے کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع دیر سے ملی جس کی وجہ سے پولیس موقع پر دیر سے پہنچی۔ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے لیا ہے اور کارروائی شروع کر دی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
-

سیف سٹیز اتھارٹی کا پنجاب میں جرائم کمی ہونے کا دعوی
پنجاب میں سیف سٹیز اتھارٹی نے 8 ماہ کی رپورٹ جاری کردی۔ سنگین وارداتوں، اسٹریٹ کرائم کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کی گئی کالز میں کمی ریکارڈ ہوئی۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کار چوری کی وارداتوں میں 23 فیصد جبکہ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 20 فیصد کمی آئی۔ ڈکیتی کے رجسٹرڈ کیسز میں پچھلے سال کی نسبت 34 فیصد کمی دیکھی گئی۔رپورٹ کے مطابق 15 پر کرائم پر پراپرٹی کے بارے میں موصولہ کالز میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں کی 15 کی کالز میں 20 فیصد کمی دیکھی گئی، دیگر وہیکلز چھیننے کی وارداتوں کی 15 کی کالز میں 22 فیصد کمی واقع ہوئی۔ راہزنی کے رجسٹرڈ کیسز میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، منشیات فروشوں کے خلاف گزشتہ سال کی نسبت 9 فیصد زیادہ مقدمات درج کیے گئے.
کراچی: گزشتہ ماہ کے دوران 5 ہزار 960 وارداتیں درج
آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام تھانوں میں فری رجسٹریشن آف کرائم کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جرائم میں کمی کا رجحان پنجاب پولیس کی کارکردگی میں بہتری کے حوالے سے خوش آئند ہے۔
