Baaghi TV

Category: پنجاب

  • غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    غیراخلاقی ویڈیوز شیئر کرنے کا الزام، عامر لیاقت مرحوم کی سابقہ بیوی دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار کر لیا گیا،ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ملزم حکیم شہزاد المعروف لوہاپاڑ کو گزشتہ روز پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے شجاع آباد سےگرفتارکیا۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی تھیں۔ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد کے رہائشی یوٹیوبر حکیم شہزاد نے ویڈیوز کے ذریعے نجی کالج کی طالبہ کے حوالے سے گمراہ گن افواہیں پھیلائیں، حکیم شہزاد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے بھی نفرت آمیز ویڈیوز اپلوڈ کیں حکیم شہزاد نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عامر لیاقت مرحوم کی بیوہ دانیہ شاہ سے شادی کی تھی۔ ایف آئی اے نے حکیم شہزاد کو گرفتار کر کے مزید قانونی کاروائی شروع کردی۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط اور ذمہ داری ضروری ہے۔ غیر اخلاقی مواد کی اشاعت نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اقدار کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے متاثر ہونے والے افراد کے حقوق کی پاسداری ضروری ہے، اور ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ دیگر افراد اس سے سبق سیکھ سکیں۔

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    پانچویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی،بنائی گئی نازیبا ویڈیو

    بچوں کی دینی تعلیم کے نام پر نازیبا ویڈیو بنانے والا گرفتار ، 497 ویڈیوز برآمد

    خواتین اداکاروں کی کپڑے بدلنے کے دوران نازیبا ویڈیو بنائے جانے کا انکشاف

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

  • مریم نواز کا پارلیمنٹ کی بالادستی کا عزم: آئینی ترمیم کو عوامی مفاد کی ترجیح قرار دیا

    مریم نواز کا پارلیمنٹ کی بالادستی کا عزم: آئینی ترمیم کو عوامی مفاد کی ترجیح قرار دیا

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ بیان میں پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلانے کا عزم کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی قائدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے سیاست کے بجائے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے، اور پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلایا ہے۔مریم نواز نے مزید وضاحت کی کہ یہ ترمیم ایک حفاظتی دیوار کی مانند ہے تاکہ کوئی بھی آئین، پارلیمنٹ، حکومتوں اور اداروں کی وقار کے ساتھ من مانی نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "1973 کے آئین کی خالق جماعتوں نے ایک بار پھر دستور پاکستان کو بہتر اور مضبوط بنانے کا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔”
    وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اس ترمیم میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر عوامی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے عدلیہ کا وقار، ساکھ اور کردار بہتر ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں صرف وہ جج آئیں گے، جو آئین اور عوام کے حقوق کے پاسدار ہوں گے۔مریم نواز نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف کے سیاسی وژن کو بھی سلام پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں ہے۔یہ بیان مریم نواز کی جانب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں وہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی کوششوں کو نمایاں کر رہی ہیں۔ ان کے اس عزم سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

  • آئینی ترمیم کا معاملہ: جاتی امراء میں پانچ بڑوں کی اہم میٹنگ  ، ڈیڈ لاک بر قرار

    آئینی ترمیم کا معاملہ: جاتی امراء میں پانچ بڑوں کی اہم میٹنگ ، ڈیڈ لاک بر قرار

    آئینی ترمیم کا معاملہ ایک بار پھر ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا ہے۔ جاتی امراء میں ہونے والی اہم ملاقات میں، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری، اور دیگر اہم رہنما شامل ہوئے، مگر ملاقات کے نتیجے میں کوئی متفقہ فیصلہ نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی آصف علی زرداری کی آمد سے پہلے ایک ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں مولانا فضل الرحمان نے 25 اکتوبر کے بعد آئینی ترمیم پیش کرنے کی تجویز دی۔ اس ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے بلائی گئی وفاقی کابینہ کا اجلاس موخر کر دیا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں آئینی ترمیم پیش نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے معاملے میں مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کو بھی اس معاملے میں آن بورڈ لینے کی تجویز دی ہے۔
    علاوہ ازیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بھی آئینی ترمیم کی بعض شقوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے ن لیگ کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام پر بھی اتفاق نہیں کیا۔ اس صورتحال میں دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے، تاکہ آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔اس وقت حکومت کے آئینی مسودے پر مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے میں آصف زرداری اور نواز شریف ناکام رہے ہیں۔ آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری مذاکرات کی پیچیدگیوں نے اس مسئلے کو مزید تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتائج ملکی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آئینی ترمیم کے معاملے میں پیشرفت نہ ہونے کے باعث ملکی سیاسی منظرنامہ میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جلد ہی کوئی حل نہ نکالا گیا تو یہ مسئلہ سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلبرگ میں واقع ایک نجی کالج میں طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ کالج کے حوالے سے غلط خبر پھیلائی گئی، جس کی وجہ سے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے نجی کالج کو سیل کر دیا ہے اور اگر رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ایس ڈی پی او بانو نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے لاہور میں ہنگامے ہوئے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کو اطلاع کریں اور امن و امان کی صورتحال کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔
    اس واقعے کے خلاف کالج کی طالبات نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور کنال روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی۔ پولیس نے بتایا کہ مبینہ زیادتی کی واقعے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی اور متاثرہ بچی یا اس کے خاندان کا کوئی فرد سامنے نہیں آیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کے بعد اسپتالوں میں چیک کیا گیا، لیکن کسی اسپتال میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ سے بات چیت کی گئی اور سکیورٹی گارڈز کا ریکارڈ لیا گیا۔ ایک گارڈ کو حراست میں لیا گیا، لیکن وہ واقعے سے انکاری ہے۔ فیصل کامران نے طلباء سے کہا کہ اگر کسی کے پاس متاثرہ لڑکی کی تفصیلات ہیں تو وہ شیئر کریں۔
    طلبہ نے گلبرگ کیمپس کے باہر شدید احتجاج کیا، جس کے دوران سیکیورٹی گارڈز نے کلاس رومز اور مرکزی گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ طلبہ نے اس پر توڑ پھوڑ شروع کر دی، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنا اور کرسیوں کو آگ لگانا شامل ہے۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم زخمی ہوا، اور چند طالبات کی حالت خراب ہو گئی۔ وزیر تعلیم پنجاب، رانا سکندر حیات، نے طلبہ سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ طالبہ کو انصاف دیا جائے گا اور ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
    پولیس کی بھاری نفری کالج کے باہر اور اندر موجود ہے، اور انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔ ترجمان لاہور پولیس نے بتایا کہ پولیس کالج انتظامیہ اور طلبا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔فیصل کامران نے مزید وضاحت کی کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، اور کالج کے اندرونی حصوں کے کلوز سرکٹ کیمروں سے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے طلبہ سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور اگر کوئی متاثرہ طالبہ ہے تو پولیس کو آگاہ کرنے کی اپیل کی۔

  • پنجاب:  موسم سرما کے لیے سرکاری سکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان

    پنجاب: موسم سرما کے لیے سرکاری سکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان

    محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سردیوں کے موسم کے پیش نظر سرکاری اسکولوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سردیوں میں اسکول صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے، جبکہ طلبہ کو چھٹی 2 بج کر 45 منٹ پر ہوا کرے گی۔ جمعہ کے روز اسکول میں چھٹی کا وقت دوپہر 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔دو شفٹوں میں کام کرنے والے اسکولوں کے لیے بھی نئے اوقات کار کا تعین کر دیا گیا ہے۔ پہلی شفٹ کے اسکول روزانہ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے اور چھٹی کا وقت 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔ تاہم جمعہ کے روز پہلی شفٹ کے لیے چھٹی کا وقت دوپہر 12 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری شفٹ کا آغاز دوپہر 1 بجے سے ہوگا اور یہ اسکول شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے، جمعہ کے روز دوسری شفٹ دوپہر 2 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
    اساتذہ کے لیے بھی حاضری کے نئے اوقات کار کا اعلان کیا گیا ہے۔ اساتذہ کو ہر روز صبح 8 بج کر 30 منٹ پر اسکول میں حاضر ہونا ہوگا اور وہ طلبہ کے بعد دوپہر 3 بجے چھٹی کریں گے۔ یہ نئے اوقات کار موسمِ سرما کی تعطیلات تک نافذ العمل رہیں گے، تاکہ طلبہ اور اساتذہ دونوں سرد موسم میں سہولت کے ساتھ اپنے تعلیمی عمل کو جاری رکھ سکیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ یہ اقدام سردیوں کے دوران طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر سہولت فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں کو شدید سرد موسم میں آسانی میسر آئے گی، جبکہ تعلیمی معیار بھی برقرار رہے گا۔

  • پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نے ہاسٹل میں خودکشی کر لی، بلیک میلنگ کا انکشاف

    پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نے ہاسٹل میں خودکشی کر لی، بلیک میلنگ کا انکشاف

    پنجاب یونیورسٹی کی ہاسٹل نمبر 8 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سمبڑیال سے تعلق رکھنے والی اُمِ حبیبہ، جو انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IER) کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ تھیں، نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اُمِ حبیبہ کی لاش ہاسٹل کے کمرہ نمبر 91 میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اُمِ حبیبہ کو سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا مبینہ طور پر بلیک میل کر رہا تھا، جو اس سانحے کی ممکنہ وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
    پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ہاسٹل وارڈن نے دروازہ توڑ کر اُمِ حبیبہ کی لاش کمرے سے نکالی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق، اُمِ حبیبہ کے والدین کو اس افسوسناک واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خودکشی کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • لاہور: فلار ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ

    لاہور: فلار ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ

    لاہور کی فلار ملز نے 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 20 روپے اور 10 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لاہور کے عوام کے لئے آٹے کی دستیابی مزید مہنگی ہو گئی ہے، جس سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ڈیلرز کے مطابق، یہ قیمتوں میں اضافہ پانچ بڑی فلار ملز کی جانب سے کیا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ گندم کی مہنگائی نے فلار ملز کی کاروباری حالت کو متاثر کیا ہے، اور انہوں نے صارفین کی قیمتوں میں اضافے کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم، عوامی حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیمتوں میں اضافہ بغیر کسی واضح وجہ کے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کے حقوق کے علمبرداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو فلار ملز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کو روکا جا سکے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے کاروباری ادارے مل کر اجارہ دارانہ کیفیت پیدا کر لیتے ہیں، جس کا بھرپور فائدہ وہ عوامی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر اٹھاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ صورتحال ملک کی معیشت اور عام لوگوں کے روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ قیمتوں کی کنٹرولنگ میں کیا مشکلات درپیش ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا  آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج لاہور میں "گرین پنجاب ایپ” اور "سموگ ہیلپ لائن 1373” کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” اور اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل صرف پنجاب یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لئے ایک اہم چیلنج ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ انہیں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ملنے والی وظیفہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 25 ہزار روپے کی رقم بچوں کے لئے ناکافی تھی، اسی لئے انہوں نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پورے پنجاب سے ایک ہزار انٹرنز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ انٹرن شپ کے بعد نوجوانوں کو ان کے اپنے شعبے میں نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پاکستان میں ماحولیات کے مسائل پر حکومتوں نے درست طریقے سے کام نہیں کیا”، اور اب جب یہ مسائل روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اپنے ماحول کو بہتر بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے” اور یہ کہ ان کی حکومت نے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مختلف منصوبے شروع کئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ "جو طلبہ صوبائی حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے سہولت کاری کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے اور سموگ کے سبب سکول اور دفاتر بند کرنا پڑتے ہیں۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” کیونکہ انڈسٹری کی وجہ سے ایئر کوالٹی خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دسمبر میں 28 الیکٹرک بسیں لاہور میں متعارف کرائی جائیں گی اور بسوں کے الیکٹرک چارجنگ سٹیشن سولر پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پنجاب حکومت روزانہ ایک نیا منصوبہ لانچ کرتی ہے” اور یہ کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ "پنجاب حکومت کبھی عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتی” اور ماحولیاتی مسائل کو بہتر بنانے کے لئے 25 کروڑ عوام کو اس مسئلے کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
    مریم نواز نے اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، بغیر نام لئے کہا کہ "ان کو احتجاج کے لئے سرکاری لوگوں کو بلانا پڑتا ہے” اور یہ کہ "آپ کا ایجنڈا ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "اسی افراتفری کے دوران اسلام آباد کا ایک جوان شہید ہو گیا” اور واضح کیا کہ سیاسی سموگ پھیلانے والوں کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے مریم اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جتنا میں ماحولیات پر کام کرنا چاہتی تھی اس سے زیادہ مریم اورنگزیب نے اس پر کام کیا ہے۔”

  • موجودہ حکومت ایک مجبوری کا اتحاد ہے،  گورنر پنجاب

    موجودہ حکومت ایک مجبوری کا اتحاد ہے، گورنر پنجاب

    رحمان پورہ میں ایک تقریب کے دوران گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، دراصل محبت کا نہیں بلکہ مجبوری کا اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا، "ملک اس وقت کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا،” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ استحکام اور مؤثر حکومت کی ضرورت ہے۔گورنر خان نے صوبے کی بہتری کے لیے اولین ترجیح دینے پر زور دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو اسلامی اصولوں کے مطابق میرٹ پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اخلاقی حکمرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
    گورنر نے اتحادی حکومت کے چیلنجز کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ وہ اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کو اس کے نتیجے میں سیاسی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی عزت و وقار کے لیے اکھٹے ہوں، حالانکہ وہ اپنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ "ہمیں اتحاد کو چلانا ہے، لیکن اس کی سیاسی مضمرات کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیے ہے،سردار سلیم حیدر خان نے پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عوامل پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر چینی صدر کے دورے کے حوالے سے، جو انہوں نے اس وقت میں اہم قرار دیا جب بین الاقوامی رہنما پاکستان آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں نے بیرونی سازشوں، دہشت گردی، اور قانون و نظم کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کیا، اور ان مسائل کا تعلق ناقص حکمرانی سے جوڑا۔
    گورنر نے ایک زیادہ خوش امید لہجے میں کہا کہ چیزیں بہتری کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کامیاب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ عوامی بھلائی کے لیے اپنے ذاتی ایجنڈے کو چھوڑ دیں، کہا، "خدا کے لیے، تھوڑی دیر کے لیے سیاست کو چھوڑ دیں اور غریبوں کو ریلیف دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے لیے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے، گورنر خان نے انہیں ہٹ دھرمی چھوڑنے کی اپیل کی، کہا کہ "اگر انہوں نے منفی سیاست نہ چھوڑی تو پھر پی ٹی آئی تباہ ہو جائے گی۔ عقل کا استعمال کریں، یہ ملک کے لیے اور ان کے لیے بھی بہتر ہوگا۔”یہ تقریر گورنر کے پنجاب اور پاکستان کے درپیش مسائل کے حل کے لیے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس نے مشکل وقت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام

    پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام

    لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کر دیا ہے۔ اس کی جگہ نیا پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو خوراک کے متعلق تمام اہم امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو غذائی اشیاء کی قیمتوں اور انتظامی امور کی نگرانی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام بنیادی طور پر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام اور مناسب کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ نیا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں فیصلے کرے گا بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گا۔ یہ ادارہ اشیائے خورونوش کی پیداوار سے لے کر ان کی مارکیٹ تک رسائی کے تمام مراحل پر نظر رکھے گا تاکہ عوام کو معیاری اور مناسب قیمت پر غذائی اجناس دستیاب ہوں۔
    محکمہ خوراک کا خاتمہ ایک اہم قدم ہے جسے صوبائی حکومت نے اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف لڑائی کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق، محکمہ خوراک کو ختم کرنے کا مقصد نظام کو بہتر بنانا اور عوامی مفاد میں زیادہ شفافیت اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔حالیہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے واقعات نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ نئے ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا بنیادی مقصد اشیاء خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور مصنوعی مہنگائی کا تدارک کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے قیمتوں کے تعین اور ان پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔پنجاب حکومت کے اس اہم فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور عوام کو سستے اور معیاری غذائی اجناس فراہم ہوں گی۔
    ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ تمام غذائی اجناس کے کاروبار اور قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گا۔یہ اقدام پنجاب حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔