Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    عطاء الله خان نیازی عیسیٰ خیلوی

    تاریخ پیدائش : 19 اگست 1951

    مزدوری، بیرا گیری اور ٹرک کلینری سے گلوگار بننے تک

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی 19 اگست 1951 میں ضلع میانوالی کے قصبہ عیسیٰ خیل کے محلہ بھنبھراں کے ایک متوسط طبقہ کے خاندان احمد خان نیازی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ نیازی پٹھان قوم کا ایک مشہور قبیلہ ہے لیکن یہ لوگ پشتو زبان کی بجائے سرائیکی زبان بولتے ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کی دو بہن اور دو بھائی ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی کا نام ثناء الله خان ہے ان کی بڑی بہن فوت ہو چکی ہیں چھوٹی بہن گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ۔ عطاء الله نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہیں بچپن سے ہی گانے بجانے سے دلچسپی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے کی بجائے موسیقی سے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے گانا سیکھنے کی اجازت مانگی مگر ان کے والد صاحب نے سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گانا بجانا میراثیوں یعنی ڈھول بجانے والوں کا کام ہے ۔ ان کے والد ان کو اعلیٰ تعلیم دلا کر آفیسر بنانے کے خواہش مند تھے مگر عطاء الله 1975 میں گھر سے نکل کر کراچی پہنچ گئے ۔ یہاں 10 روپے ماہانہ کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کی ۔ دن کو مزدوری کرتے تھے اور رات کو گانا سیکھنے کی کوش کوشش کرتے تھے ۔ 2 سال بعد اپنی بڑی بہن کی وفات کی اطلاع ملنے پر اپنے گاؤں گئے ۔ چند روز رہنے کے بعد والد سے دوبارہ گانا گانے کی اجازت مانگی مگر اب بھی والد نہیں مانے عطاء الله کی ضد دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر تم گانا ہی چاہتے ہو تو اس گھر میں تمھارے لیے گنجائش نہیں ہے اور گلوکار بننے کی صورت میں اپنا قبیلہ نیازی ظاہر نہیں کرنا جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور یہاں وہ دن کو ہوٹلوں میں بیراگیری کرتے اور رات کو موسیقی کی تربیت حاصل کرنے لگے۔ کچھ عرصہ ٹرک کے کلینر بنے اور کچھ عرصہ کرایہ کا رکشہ چلانے لگے۔

    1978 میں عطاء الله کو ریڈیو پاکستان بہاولپور میں گانے کا موقع مل گیا جس کا معاوضہ انہیں 25 روپے کے چیک کی صورت میں دیا گیا۔ 1979 میں ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا جب فیصل آباد کے ایک رہائشی چوہدری رحمت علی نے عطاء الله کا اپنے خرچے پر آڈیو کیسٹ کا البم ریکارڈ کروایا جس کی پہلی غزل نے ہی دھوم مچا دی جس کے بول تھے

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
    ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    اس البم میں عطاء اللہ خان نے اپنے والد کے حکم کے مطابق اپنے نام کے ساتھ نیازی نہیں لکھا بلکہ اپنے قبیلے کی بجائے اپنے گاؤں کی نسبت سے عیسیٰ خیلوی لکھوایا اور یہیں سے وہ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ عطاء الله خان کی شہرت اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا یہاں تک وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گئے۔ وہ اردو، سرائیکی، سندھی ، پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں گاتے ہیں لیکن ان کی اصل شہرت اردو اور سرائیکی زبان کی گائیکی میں ہے وہ اب تک 100 سے زائد ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ 1992 میں لندن میں ملکہ برطانیہ نے ان کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ 1994 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آڈیو کیسٹ البم ریکارڈ کرانے پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ۔ عطاء الله خان نے یکے بعد دیگر 5 شادیاں کیں جن میں سے انہوں نے 3 بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور 2 بیویاں ان کے عقد میں ہیں جن میں ایک معروف فلمی اداکارہ بازغہ اور ایک بیوی تونسہ شریف کے ایک اعلیٰ طبقے کے خاندان سے ہے۔ بازغہ اپنے بچوں سمیت انگلینڈ میں مقیم ہے جبکہ عطاء الله خان اپنی دوسری بیوی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی ثناء اللہ خان نیازی راولپنڈی میں مقیم ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے چار بچوں میں دو بیٹے سانول، بلاول اور دو بیٹیاں لاریب اور فاطمہ ہیں ۔ لاریب ایک بہت بڑی اداکارہ بن چکی ہے جس نے ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے ۔ سانول خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن گائیکی کو اپنا لیا ہے ۔ عطاء الله خان نے کچھ عرصہ فلموں میں اداکاری بھی کی مگر وہ اس شعبے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ موسیقی پر دے دی۔ انہوں نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی گزارا پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں اور اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں ۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے عمران خان نیازی کے بارے میں یہ گیت گایا

    آئے گا عمران ہے سب کی جان
    بنے گا نیا پاکستان

    اس گیت کی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بڑا اضافہ ہوا لیکن پی پی پی کی طرح وہ پی ٹی آئی سے بھی مایوس ہو کر سیاست سے الگ ہو گئے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لہو کو گرمانے کے لیے ان کا گایا ہوا یہ گیت اب بھی اسی طرح مقبول ہے ۔

    عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے گائے ہوئے ہزاروں گیت، غزلوں اور گانوں سے چند گیت اور غزلوں کے بول قارئین کی نذر

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    قمیض تیڈی کالی تے سہنی پھلیں والی

    عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں کس قدر چوٹ کھائے ہیں

    انج پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسیٰ خیل دور تے نئیں سجناں

    ایہہ تھیوا مندری دا تھیوا

    چن کتھاں گزاری ہے رات وے

    بے وفا یوں تیرا مسکرانا بھول جانے قابل نہیں ہے

    ہمیں چھوڑ دیاکس دیس گئے پیا لوٹ کے آنا بھول گئے

    نکی دی گل توں رسدائیں ڈھولا تیڈی کمال اے

    دونوں کو آ سکی نہ نبھانی محبتیں
    اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں

  • لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسپ سے اک موڑ پر

    گلزار (سمپورن سنگھ کالرا)

    تاریخ پیدائش : 18 اگست 1936
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ100 کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہونے والے گلزارؔ بھارت کے مشہور گیت کار بھی ہیں۔ مشہور اداکارہ راکھی کے شوہر نامدار ہیں اورایک بیٹی میگھنا گلزار کے باپ ہیں۔ ریشم کا یہ شاعر آج بھی اپنی جنم بھومی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، جیسے آج سے پون صدی پہلے کرتا تھا:

    ذکر جہلم کا ہے، بات دینے کی
    چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
    کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
    رات کوشش میں ہے چاند کو سِینے کی

    گلزارؔ 18اگست 1936 ء کو دینہ شہر سے قریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔ گلزارؔ نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں، جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا،لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔ جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے، تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
    گلزارؔ کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے۔ بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزارؔ کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’’گلزارؔ سٹریٹ‘‘ رکھ دیں، تو گلزارؔ کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔

    شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے 70 سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالرہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزارؔ کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔گلزارؔ کا یہ گھر قریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دینہ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھاکہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے ،تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے، لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا، لیکن گلزار ؔکے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔وہ سکول جہاں گلزارؔ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزارؔ کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ، تاہم اس سکول کے ایک بلاک کا نام ’گلزارؔ کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921ء میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزارؔ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1989 ء میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

    شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار ؔکچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے، تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ میں نے گلزارؔ سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ؛وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ؛ بستہ، جس پر وہ مسکرا دئیے۔

    گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔ دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے، لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔دینہ میں گلزارؔ کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزارؔ پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار ؔکے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں گلزارؔ کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے: دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے –

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام

    غالب

    بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں
    سامنے ٹال کی نُکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے
    چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے
    اور دُھندلائی ہوئی شام کے بےنُور اندھیرے سائے
    ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں
    چُوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
    اپنی بُجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
    اِسی بےنُور اندھیری سی ” گلی قاسم ” سے
    ایک ترتیب چراغوں کی شُروع ہوتی ہے
    ایک قرآنِ سخن کا بھی ورق کُھلتا ہے
    اسد اللہ خاں غالِب کا پتہ ملتا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "دِل ڈھونڈتا ہے”

    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
    جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
    آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
    اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
    یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
    بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
    تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
    برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
    جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
    وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
    جو بول دوں تو زباں جلے ھے
    سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
    جو بات میری زباں تلے ھے

    لگے تو پھر یوں ، کہ روگ لاگے
    نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
    یہ عشق ھے نامراد ایسا
    کہ جان لیوے تبھی ٹلے ھے۔

    ھماری حالت پہ کتنا رووے
    آسماں بھی تُو دیکھ لینا
    کہ سرخ ھو جاویں گی اُس کی آنکھیں
    جیسے جیسے , یہ دن ڈھلے ھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "سکیچ”
    یاد ہے اِک دن
    میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
    سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
    چھوٹے سے اِک پودے کا
    ایک سکیچ بنایا تھا
    آ کر دیکھو
    اس پودے پر پھول آیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "اِک نظم”
    یہ راہ بہت آسان نہیں
    جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
    یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
    اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
    ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
    تھک جاؤ اگر
    اور تم کو ضرورت پڑ جائے
    اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "رُخصت”
    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
    جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
    ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
    کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
    تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

    گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔

    "تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ‘ فارمز’ میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن ‘تروینی’ کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ‘ تروینی’ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔”

    **************
    وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
    جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

    پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
    *************
    کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
    کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

    شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
    *************
    وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
    دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

    کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
    *************
    کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
    آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

    ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
    *************
    تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
    اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے ہیں مجھے

    تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
    ************
    اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
    اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

    طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
    *************
    آؤ سارے پہن لیں آئینے
    سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

    سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
    ************
    عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
    کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

    اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
    *************
    جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
    اک پتہ اور بتا جاتا ہے

    یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
    *************
    زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
    زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

    ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
    *************
    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

    یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
    *************
    کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
    کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں

  • مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ترنم ریاض

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسائی ادب کی فہرست کے صف اول میں شامل ارود کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، کہانی و افسانہ نویس اور ناول نگار ترنم ریاض 9 اگست 1960 میں سری نگر جموں و کشمیر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فریدہ ترنم ہے لیکن معروف ادیب پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کے بعد ترنم ریاض کا قلمی نام اختیار کیا۔ اردو کےجدید افسانہ نگاروں میں ان کا بہت بڑا نام اور مقام ہےافسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ناول نگاری ، کہانی نویسی اور شاعری میں بھی خوب جوہر دکھایا ہے۔

    افسانہ نگاری ان کی پہلی پہچان ہے لیکن ان کی شہرت کا آغاز ان کی کہانی” شہر” سے ہوا بعد میں ان کے افسانے مشہور ہوتے گئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ” ابابیلیں لوٹ آئیں گی” 2000 میں شائع ہوا۔ حقانی القاسمی نے ترنم ریاض کو Sweet Temper افسانہ نگار کا خطاب دیا ہے۔ ترنم ریاض کی تحریروں اور شاعری میں کشمیری معاشرے کا بھرپور عکس ملتا ہے اور احتجاج کی توانا آواز بھی ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ دکھ ، درد ، کرب اور مختلف احساسات اور کیفیت میں گزرا ہے۔

    انہوں نے اپنے تخلیقی احساسات کے بارے میں لکھا ہےکہ افسانہ” آدھے چاند کا عکس ” لکھتے وقت وہ ماں کی ممتا کے جذبے سے سرشار رہی کہانی ” باپ” لکھتے وقت وہ شدید ذہنی تناو کا شکاررہی افسانے ” ایجاد کی ماں” اور”میرا پیارا گھر” لکھتےوقت اسے بہت بڑا روحانی سکون میسر ہوا جبکہ افسانہ” مٹی” لکھتے وقت وہ سخت اذیت، کرب اوررنجیدہ احساس و کیفیت سے دوچاررہی ان کی تحریروں میں عورت کی مظلومیت اور محرومی کے تاثرات زیادہ ہیں وہ عورت کو حالات سے مقابلہ کرنے اور صبر کی تلقین بھی کرتی رہیں ۔ نسائی ادب کے اس نمایاں نام ترنم ریاض کی وفات 20 مئی 2021 میں ہوئی ۔

    ترنم ریاض کی تصانیف

    یہ تنگ زمین(1998)، ابابیلیں لوٹ آئیں گی (2000)، یمبرزل (2004)، مورتی (2004)، چشم نقش قدم (2005)، پرانی کتابوں کی خوشبو (2006)، مرا رخت سفر(2008)، فریب خطۂ گل (2009)، برف آشنا پرندے (2009)، اجنبی جزیروں میں (2015)، بھادوں کے چاند تلے (2015)، زیر سبزہ محو خواب (2015) جیسی کتابیں اُن کی شعری و نثری تصانیف ہیں جب کہ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب (2004)اُن کی ترتیب کردہ کتاب ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق
    ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ہو چکا ہے جو علم اب نایاب
    اور جو پھیلے گا جانتے ہیں ورق

    سوچتا ہے یہ ذہن کیا کیا کچھ
    بے سبب ہم الٹ رہے ہیں ورق

    ہوشمندی سے ڈائری لکھنا
    دونوں جانب سے دیکھتے ہیں ورق

    روح کو دو جہاں کی راحت دیں
    رحل پر راہبر رکھیں ہیں ورق

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑی گتھیاں ہیں بڑے مسئلے ہیں
    کہیں کس سے ہم کس قدر مرحلے ہیں

    کوئی دن کی باتیں ہیں کچھ اور سانسیں
    بہت مختصر روح کے سلسلے ہیں

    گلستان ہی زد میں ہے بجلیوں کی
    لیے چار تنکے کدھر ہم چلے ہیں

    کڑی دھوپ گم گشتہ راہیں بے منزل
    شکستہ نظر ہے بلند حوصلے ہیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    عیاشی
    ۔۔۔۔۔
    محبوب کی مانند اٹھلائے
    معشوق کی صورت شرمائے
    ہریالی کا آنچل اوڑھے
    ہر شاخ ہوا میں رقصاں ہے
    میں پیار بھری نظروں سے انہیں
    مسکاتی دیکھے جاتی ہوں
    شاموں میں پیڑوں کو تکنا
    ہے میری نظر کی عیاشی

  • وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    شگفتہ شفیق

    8 اگست 1969: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی معروف ادیبہ ، شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق 8 اگست 1969 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حمد، نعت ، غزل اور نظم کی اصناف میں شاعری کی ہے جبکہ نثر میں انہوں نے کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئی تھیں مگر اللہ کے فضل سے تندرست ہو کر اس سے چھٹکارہ پا چکی ہیں۔ شفگتہ شفیق گلستان جوہر کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہیں ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
    1 , میرا دل کہتا ہے
    2 , یاد آتی ہے
    3 , جاگتی آنکھوں کے خواب
    4 , شگفتہ نامہ
    5 , مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے
    اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے

    اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے
    آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے

    اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی
    قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے

    دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا
    خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے

    دنیا کی بات چھوڑیئے قصہ یہ گھر کا ہے
    دن جا چکے ہیں لوٹ کے رنج و ملال کے

    آنسو بہا کے باپ نے بیٹے سے یہ کہا
    کیا مل گیا تجھے مری پگڑی اچھال کے

    میں سوچتی ہوں کیسی شگفتہؔ یہ بات ہے
    اب تو پہاڑ بن گیا غم پال پال کے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا
    یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا

    روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
    اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا

    خوبصورت دل ربا سی شاعری
    سلسلہ ہے روح تک الہام کا

    چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ
    خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا

    دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی
    وقت آئے گا مرے آرام کا

    وہ جنوں خیزی تو کب کی مٹ چکی
    اب شگفتہؔ واسطہ ہے نام کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
    خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی

    گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
    ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی

    ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا
    کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی

    تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے
    مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی

    تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا
    ہر اک بات تجھ سے چھپانی پڑے گی

    تیرے تیکھے تیور بتاتے ہیں مجھ کو
    کہ ہستی تو اپنی مٹانی پڑے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلب عشق ساری مٹا دی ہم نے
    اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

    خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

  • وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا
    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    موسیقار : مدن موہن

    14 جولائی 1975: یوم وفات

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور موسیقار اور میوزک ڈائریکٹر مدن موہن اردو اور ہندی فلموں کے مشہور و مقبول و معزز اور سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے موسیقاروں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے کچھ زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائیں وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن موہن 25 جون 1924 کردستان میں پیدا ہوئے،. 1932 میں ان کا خاندان چکوال اس کے بعد جہلم اور کچھ عرصہ لاہور میں آباد ہوا 1951 میں ان کا خاندان بمبئی ہندوستان منتقل ہو گیا وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے، جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔ ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا۔14 جولائی 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

    مدن موہن کی موسیقی میں گائے ہوئے مشہور گیتوں میں سے کچھ گیتوں کے بول درج ذیل ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے

    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہے

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

    تیرے پاس آ کے میرا وقت گزرتا ہے

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا

    میں تو تم سنگ نین ملا کے ہار گئی سجناں

    ہم سے آیا نہ گیا تمسے بلایا نہ گیا

    وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

  • میں سمجھ بیٹھی جسے  اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان ، خدا خیر کرے

    8 جولائی 1955

    مینو بخشی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
    دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے

    رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں
    ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے

    وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے
    یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے

    یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا
    دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے

    اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا
    مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے

    جس کی فطرت ہے جفا اور ستم ہے شیوہ
    ہے وہی دل کا نگہبان خدا خیر کرے

    اٹھ گئے پاؤں اسی راہ میں اب تو مرے
    جس میں نیں جی کا ہے نقصان خدا خیر کرے

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان خدا خیر کرے

    ایسی ماضی کے سمندر نے قیامت ڈھائی
    دل کی بستی ہوئی ویران خدا خیر کرے
    ….
    پیدائش : 08 Jul 1955

    مینو بخشی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسپینش زبان کی پروفیسر ہیں لیکن شاعری ان کا شوق ہے۔ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود شاعری میں لطیف جذبات کے اظہار کے لئے انہوں نے اردو جیسی خوبصورت اور دلکش زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں تربیت یافتہ مینو نے اردو کے سلیس مترنم الفاظ اپنی غزلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ موسیقی کے سترنگی سروں میں باندھ کر ادب نواز ناظرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ دہلی ، لکھنو اور پٹنہ میں منعقد معیاری مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک و ملک سے باہر محفل موسیقی میں مینو نے اپنی مترنم آواز سے سامعین کو محظوظ کیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’ہائوس آف لارڈس ‘ میں بھی وہ اپنی شاعری اور غزل گائیکی پیش کرچکی ہیں۔ مینو لندن فلم فیسٹول کی چیئر پرسن ہیں۔

    کلاسیکل موسیقی کی تعلیم کے بعد مینو نے گائیکی کی شروعات صوفیانہ کلام سے کی۔لفظوں نے جب دل کی راہ پکڑلی تو اندر چھپی شاعرہ نے دستک دی اور اس طرح مینو بخشی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’ تشنگی ‘‘ روپا پبلکیکشنز انڈیا نے شائع کیا۔ شاعری کے قدردانوں نے ان کی تخلیقی صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ 2014 میں حسن آرا ٹرسٹ نے امیر خسرو اعزاز اور بہار اردو اکادمی نے جمیل مظہری ایوارڈ سے نواز کر مینو کی شاعرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ موج سراب ‘‘ بھی روپا پبلیکشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔حکومت ہند کے لئے اسپینش ترجمان کا اہم کام بھی پروفیسر مینوبخشی بخوبی نبھاتی آرہی ہیں۔ وہ کئی زبانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہیں۔اس کی بہترین مثال اردو میں شاعری ، یونیورسٹی میں اسپینش، سماجی حلقوں میں ہندی اور انگریزی ہے۔ حال ہی میں انہیں اسپین اور اسپین کی ثقافت کو پروموٹ کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کرنے کے لئے Order of Isabella la Catolica ایوراڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اسپین کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے جو اسپین کے بادشاہ کے ہاتھوں کسی غیر اسپینش شخصیت کو دیا جاتاہے۔ شادی کے موقع پر گائے جانے والے روایتی پنجابی گیتوں کا البم مینو کی آواز میں بے حد مقبول ہے۔

  • دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے

    زیب النساء زیبی

    تاریخ ولادت:03 جولا‎ئی 1958ء
    رہائش: گلشن اقبال کراچی پاکستان
    مادر علمی:وفاقی جامعۂ اردو
    جامعہ کراچی
    تعلیمی اسناد:ایم اے سیاسیات
    ایم اے اجتماعی ابلاغیات
    ادبی حیثیت :شاعرہ، افسانہ نگار

    زبان:اردو

    زیب النساء زیبی صاحبہ ایک نامور پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، مترجم اور ماہر تعلیم ہیں۔ اب تک 60 ادبی تخلیق اور 25 نصابی کتابیں تالیف اور ترجمہ کر چکی ہیں۔ شعری صنف سوالنے متعارف کرائی ہے، جب کہ تروینی میں اردو زبان کا پہلا مجموعہ شائع کیا ہے۔ اب تک تین کلیات شائع ہو چکی ہیں جن میں غزلیات کی کار دوام، ستر شعری اصناف پر مشتمل 23 مجموعے سخن تمام کے عنوان سے اور افسانوں، ناولٹوں اور ناول پر مشتمل عکس زندگی شامل ہیں۔ جب کہ ایک کلیات تحقیق و تنفید، ادبی مضامین اور کالموں کی زیر ترتیب ہے۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء کراچی میں اقبال بیگ اور زہرا خاتون کے ہاں 3 جولائی 1958ء کو پیدا ہوئیں، ان کے دیگر بہن بھائیوں میں 4 بھائی اور 3 بہنیں شامل ہیں۔ ایم اے صحافت، ایم اے سیاسیات کی سند جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ محکمہ اطلاعات، حکومت سندھ میں افسر اطلاعات کے عہدے پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔ زیب النساء کی شادی محمد اقبال شیخ (سابق سرکاری افسر) سے ہوئی، ان کی اولاد میں دو بیٹیاں عنبرین افشاں اور سحرین درخشاں ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سخن تمام، (کلیات)
    اس میں ستر اصناف سخن پر شاعری کے 23 مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (2)کارِ دوام، کراچی، زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1744 ص (غزلیات)
    اس میں غزلیات کے اکیس مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (3)عکسِ زندگی، ،کراچی،زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1040 ص (کلیات)
    اس میں افسانوں کے اٹھارہ مجموعے،سات ناولٹ اور ایک ناول شامل ہے۔
    حمد و نعت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)حرف حرف بندگی (مجموعہ نعت)
    ۔ (2)بھیگی بھیگی پلکیں (مجموعہ نعت)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)چاند ستارے آسمان
    ۔ (2)پھول کلیاں خوشبو
    ۔ (3)کہکشاں در کہکشاں
    فکاہیہ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یہ عالم شوق کا
    ۔ (3)ایسی تیسی
    ۔ (4)یہ کہانی اور ہے
    سہ مصرعی نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تنہا تنہا چاند
    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مجھے کچھ کہنا ہے
    ۔ (2)کبھی تو ملیں گے
    سوالنے
    ۔۔۔۔۔
    آتی رت کا پھول (ذاتی اختراع)
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    تیرا انتظار ہے (اردو میں دوسرا اور کسی شاعرہ کا پہلا مجموعہ تروینی)
    قطعات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سحر درخشاں
    ۔ (2)عنبر وافشاں
    رباعیات اور دوہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یاد کے موسق
    ۔ (2)مسمط
    ۔ (3)تم سے دور تو نہیں (مثلث، مربع، مخمس، مسبح، مثمن، متسح، معثر، مسمط، تربیج بند، ترکیب بند میں)
    ۔ (4)ہتھیلی پر گلاب (چہار بیت، کہہ مکرنی، لوری، کافی، ڈھولا، گیکت، پہلی، ہیر، خماسی، پنجگانہ، سداسی، ملی نغمہ، قوالی، سہرا رخصتی یا مصری تکونی، ترائیلے)
    ناولٹ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خاموش جنازے
    ۔ (2)جہنم کے فرشتے
    ۔ (3) دلدل
    ۔ (4)کالی زبان
    ۔ (5)شہزادے کا انتظار
    ۔ (6)سیر عدم کی
    ۔ (7)اوروہ ہے اور ہم ہیں دوستو
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    آدھی گواہی

    تاثرات
    ۔۔۔۔۔
    رئیس امروہوی
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی کو قدرت نے فیاضی کے ساتھ فہم و ادراک اور مشاہدات کی قوت سے شناسا کیا ہے۔
    عصمت چغتائی
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی اور ان کی ذہانت و تخلیقی کارکردگی پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے ادب ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔
    ڈاکٹر وزیر آغا
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی نے اپنی تحریروں میں زندگی کے تلخ حقائق کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے موضوعات میں بہت تنوع ہے اور ان کا فکر و خیال میں بلا کی برق رفتاری ہے۔
    فیض احمد فیض
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیبی انقلابی جوش و جذبے سے پر ایک حقیقت پسند دردمند دل رکھنے والی تخلیق کار ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریرون میں مظلوموں اور نسائیت کے مسائل کو بہت جرات سے بے نقاب کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    : محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا
    نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا
    یہ تیری دلنشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی
    سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
    – جہنم پیٹ کا رکھا ہے تونے ساتھ انساں کے
    سمندر خواہشوں کا جسم کو کچھ کم دیا ہوتا
    ملا کیا اس کو سچائی کے رستےپر قدم رکھ کر
    کہ ایسی نیک نامی کا یہاں کچھ تو صلہ ہوتا
    جو اتنے امتحاں لینے تھے ہر انسان سے تونے
    تو ہر انسان کو تونے پیمبر ہی کیا ہوتا
    دہے ہیں نا تواں زیبی کو اتنے درد و غم تونے
    دیا اک آس کا دل میں جلا کر رکھ دیا ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کردار ہے اور اپنی کہانی سے جڑا ہے
    انسان تو بس عالم ِ فانی سے جڑا ہے
    میں کیسے کہوں پیاس سے مرتے نہیں پنچھی
    یہ سانس کا رشتہ بھی تو پانی سے جڑا ہے
    دل ا ب بھی تیری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے
    ہر شخص ہی دنیا سے چلا جائے گا اک دن
    ہر شخص ہی جب نقل مکانی سے جڑا ہے
    اس غم کو بھی اب دل میں جگہ دینی پڑے گی
    یہ غم بھی مرے ساتھ جوانی سے جڑا ہے
    یہ درد میری جان کا دشمن بنا زیبی
    اس درد کا رشتہ بھی روانی سے جڑا ہے

    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    کیسی مہنگائی
    غربت سے تنگ آکر ماں
    بچے بیچ آئی

    ہر گھر روشن ہے
    جانے میرے گھر کا کیوں
    سورج دشمن ہے

    سرسی چھند دوہا
    ۔۔۔۔۔
    باپ ہوا ہے بوڑھا پھر بھی محنت کرنےجائے
    سچ کہتا ہے نہیں تو اس کو روٹی کون کھلائے

    جس کے پاس ہے دولت شہرت ساتھ چلے سنسار /
    سب کے لبوں پر ایسے منش کی دیکھی جےجے کار

    دوہا چھند
    ۔۔۔۔۔
    میں بھی لکھتی ہوں غزل پاس مرے ہیں نیر
    میرے رہبر رہنما غالب مومن میر

    کہہ مکرنی
    ۔۔۔۔۔
    کیسا برگ و بار شجر ہے
    سایہ بھی اس کا گھر گھر ہے

    اس کے بنا جیون ویراں
    اے سکھی رب . نا سکھی ماں
    _
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    دنیا کی دوزخوں میں انسان جل رہا ہے
    جنت کی حسرتوں میں خود کش بھی پل رہا ہے
    تہذیب کا جنازہ شاید نکل رہا ہے

    رباعی
    ۔۔۔۔۔
    ملتا ہے زمانے کو بھی محنت سے کمال
    آتا ہے ہر اک شے پہ زمانے میں زوال
    اک بار ملا کرتی ہے دنیا میں حیات
    رہتا ہی نہیں حسن سراپا یہ جمال