Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    15 ستمبر 1890. یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔
    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔
    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    کبھی ترے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    اصلی نام :سلمہ اعجاز
    قلمی نام:سلمیٰ حجاب
    تاریخ ولادت:15 ستمبر 1949
    ء

    نام سلمہ اعجاز: قلمی نام :سلمہ حجاب۔ پیدائش 15 ستمبر 1949 ۔ وطن۔ لکھنؤ، تعلیم: فلسفے میں ایم ۔اے اور بی ۔ایڈ۔ پہلا شعری مجموعہ ’’دھنک‘‘اور دوسرا’’اسماں اور بھی ہیں‘‘ ’’تیسرا زیر ترتیب ہے۔ ’’بزم اردو‘‘ لکھنو، کی پانچ سال صدر رہیں اورپروفيسر ملک زادہ منظور احمد کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’امکان‘‘ لکھنؤ سے مسلسل دس برسوں تک معاون اور نائب مدیر کی حیثیت سے منسلک رہیں اور ان کے انتقال کےبعد 2017 میں ’’امکان‘‘ کا ایک خصوصی شمارہ، پروفيسر ملک زادہ منظور احمد نمبر نکالنے کے بعد ادارت سے دستبردار ہو گئیں۔ شاعری کے علاوہ افسانے اور مضامین بھی لکھتی ہیں جومعروف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا
    نیا آرزو کا مزاج ہے نئے دور کی ہیں رفاقتیں
    تری قربتوں کا جو زخم تھا تری دوریوں نے مٹا دیا
    مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے
    کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا
    میں حصار میں تو حصار میں اسی سلسلے کو دوام ہے
    کبھی مصلحت نے جدا کیا تو کبھی غرض نے ملا دیا
    سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا جو گزر گیا وہی خوب تھا
    ابھی ایک پل جو ہے آسرا اسے سب نے یوں ہی گنوا دیا
    وہ شرر ہو یا کہ چراغ ہو ہے تپش مزاج میں اے حجابؔ
    کبھی ہر نفس کو جلا دیا کبھی روشنی کو بڑھا دیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جینا کیا ہے حباب ہو جانا
    اک حقیقت کا خواب ہو جانا
    عشق ہے سلسلہ سوالوں کا
    اور وفا لا جواب ہو جانا
    بارہا محفلوں نے دیکھا ہے
    خامشی کا رباب ہو جانا
    یہ کرشمہ ہے زر نوازی کا
    ان کا تم سے جناب ہو جانا
    جنبش فکر کی یہی حد ہے
    بس عذاب و ثواب ہو جانا
    جب وہ گوہر شناسیاں نہ رہیں
    اے گہر پھر سے آب ہو جانا
    تشنگی امتحان لیتی ہے
    اے ندی تو سراب ہو جانا
    اٹھ گئی اس طرف نظر ان کی
    اے تمنا حجابؔ ہو جانا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکون دل کو مرا اضطراب کیا جانے
    شکست خواب کو تعبیر خواب کیا جانے
    وہ منکشف ہے ابھی صرف دشت و صحرا پر
    جو کیف تشنہ لبی ہے وہ آب کیا جانے
    نشاط سجدہ سے جس کو غرض ہے وہ بندہ
    جھکا دے سر تو عذاب و ثواب کیا جانے
    وہ زندگی سے ادا سیکھتا ہے جینے کی
    تمام چہرے جو پڑھ لے کتاب کیا جانے
    اسیر شوق تو اذن سفر کا طالب ہے
    مقام عیش کو خانہ خراب کیا جانے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آخری خواہش
    ۔۔۔۔۔۔
    تھی خواہش کسی کی
    کہ میں زندگی کا
    اہم واقعہ
    کوئی چن کر سناؤں
    میری فکر نے جب ادھر رخ کیا تو
    یہ پایا کہ
    مشکل بڑی ہے
    کہ یہ زندگی تو
    اہم واقعوں کی
    مسلسل کڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    اسی فکر میں میں پڑی رہ گئی کہ
    اٹھاؤں کدھر سے
    اہم واقعہ اک
    تسلسل کو اس کے
    کدھر سے میں توڑوں
    اگر توڑ بھی دوں
    تو پھر کیسے جوڑوں
    شروع کی کڑی تو بہت ہی اہم تھی
    اسے چھو کے دیکھا تو بالکل نرم تھی
    ابھی درمیاں تک میں
    پہنچی نہیں تھی
    کہ رنگین کڑیاں
    کھنکنے لگیں خود
    مجھے چھو کے دیکھو
    مجھے چوم لو تم
    کہ مجھ سے اہم
    کچھ نہیں زندگی میں
    عجب معجزہ تھا کہ
    کڑیاں سبھی وہ
    نہ آنچل سے الجھیں
    نہ ٹھہریں کہیں بھی
    گزرتی رہیں اور
    گزرنے سے پہلے
    حسیں رنگ اپنے
    عطا کر کے مجھ کو
    مری ہی کلائی میں
    بن بن کے کنگن
    کھنکنے لگی تھیں
    تسلسل مگر ان کا ٹوٹا نہیں تھا
    کوئی رنگ بھی ان کا جھوٹا نہیں تھا
    ابھی تک تو ان کو
    سنبھالے سنبھالے
    گزرتی رہی میں
    سرا آخری جب
    مرے ہاتھ میں ہے
    تو جی چاہتا ہے
    مجھے تھام لے وہ
    میری سست رفتاریوں کے مقابل
    اگر وہ ٹھہر نہ سکے
    تو مرا ساتھ دینے کی خاطر
    وہ اتنا تو کر دے
    کہ میرے گزرنے سے پہلے
    مرا وقت آنے سے پہلے
    بڑھے
    اور
    مجھے قید کر لے

  • میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی

    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔ سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔ ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    آغا نیاز مگسی

    ڈاکٹر رتھ فائو جن کا پورا نام رتھ کیتھرینا مارتھا فائو ہے وہ 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر لپزگ میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام والتھر فائو اور والدہ کا نام مارتھا فائو ہے ۔ رتھ نے 1949 میں ” مینز” سے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے ایک بار ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھی کہ کراچی پاکستان میں جذام کے مریضوں کا کوئی علاج نہیں ہے وہ سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں تو انہوں نے ” تنظیم دختران قلب مریم ” کی جانب سے پاکستان جا کر ان کا علاج کرنے فیصلہ کیا اور کراچی پہنچ گٙئیں یہاں آکر انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر ایک جھونپڑی میں چھوٹا سا کلینک قائم کر کے علاج شروع کر دیا کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر آئی کے گل اور سسٹر پیرنس نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا جس سے ان کے کام کو مزید تقویت پہنچی وہ اس وقت 31 سال کی ایک وجیہہ اور خوب صورت عورت تھیں جس نے انسانیت کی خدمت کی غرض سے رہبانیت اختیار کرتے ہوئے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ڈاکٹر رتھ نے بے سہارا مریضوں کو ڈاکٹر ، ماں ، بیٹی اور بہن بن کر جذام کے مریضوں کا علاج معالجہ شروع کر دیا ان کی خدمت اور خلوص کو دیکھ کر حکومت اور عوام نے ان سے بھرپور تعاون کیا جس سے انہیں جذام کے مریضوں کے علاج معالجے میں آسانی پیدا ہوتی گئی ۔ابتدا میں انہوں نے کراچی میں ” میری ایڈلیڈ لپریسی سینٹر ” قائم کیا اس کے بعد پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اس کا دائرہ کار بڑھا دیا ۔ کراچی میں افغانستان سے بھی جذام کے مریض آنے لگے ۔ ڈاکٹر رتھ کی شبانہ روز محنت اور خدمت کے نتیجے میں پاکستان میں 1996 کو جذام کے مرض پر قابو پایا گیا جس پر عالمی ادارہ صحت نے یہ تسلیم کرتے ہوئے 1996 میں پاکستان کو جذام پر قابو پانے والا ملک قرار دے دیا ۔

    حکومت پاکستان نے 1979 میں ڈاکٹر رتھ کو محکمہ صحت کا وفاقی مشیر بنا دیا تھا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی ۔ ان کی خدمات کے اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال پاکستان ، ستارہ قائد اعظم، ، ہلال امتیاز ، جناح ایوارڈ اور نشان قائد اعظم ایوارڈ دیا گیا جبکہ جرمنی کی حکومت کی جانب سے انہیں بیم بی ایوارڈ دیا گیا ، آغا خان یونیورسٹی کراچی کی جانب سے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ پاکستان میں انسانیت کی محسن کی اعلیٰ خدمات کی بدولت پاکستان ایشیا میں جذام کے مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو 10اگست 2017 کو کراچی میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ 19 اگست 2017 میں سینٹ پیٹرک چرچ صدر کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس کے بعد انہیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو جرمنی اور پاکستان کی دہری شہریت حاصل تھی۔

  • ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    غلام محمد قاصر

    تاریخ پیدائش: 4 ستمبر 1944
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ایک خوب صورت شاعر ًغلام محمد قاصر 4 ستمبر 1944 میں پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے جنہوں نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی اور قاصر کو جدید اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں ایک منفرد مقام کا حامل قرار دیا گیا۔ ان کا تمام شعری کلام جس میں مذکورہ بالا تینوں مجموعے اور غیر مطبوعہ و غیر مدون کلام شامل ہے۔ کلیاتِ قاصر (اک شعر ابھی تک رہتا ہے ) کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے اور پروگرام لکھے جو ناظرین و سامعین میں بے حد مقبول ہے۔ قاصر کا تحریر کردہ ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے خاص طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔ قاصر نے پاکستان کے کچھ اہل قلم پر عمدہ مضامین رقم کیے۔ پاکستان اور بیرون ملک پاکستان منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔ جبکہ این ڈبلیو ایف پی ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے ساتویں ، گیارہویں جماعت کے لیے نصاب مرتب کیا۔

    ملازمت
    گورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑ پور سے میٹرک کرنے کے بعد اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ تاہم ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقوں میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلی تقرری گورنمنٹ کالج مردان میں ہوئی۔ اس کے بعد سپیرئیر سائنس کالج پشاور ، گورنمنٹ کالج درہ آدم خیل ، گورنمنٹ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج طورو اور گورنمنٹ کالج پبی میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔

    شاعری کا آغاز
    اسی دوران کہیں سے شعر کی چنگاری پھوٹی جس نے بالآخر پورے ملک میں ان کے نرالے طرزِ ادا کے شعلے بکھیر دیے۔ حتیٰ کہ 1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’تسلسل‘ شائع ہوا تو اس کے بارے میں ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
    ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔

    مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔ ایک چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر ایسے لہجے میں غزل سنانا شروع کی جسے کسی طرح بھی ٹکسالی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اشعار کی روانی، غزلیت کی فراوانی اور خیال کی کاٹ ایسی تھی کہ بڑے ناموں کی باری کے منتظر سامعین بھی نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔
    جب نوجوان اس شعر پر آئے تو نہ صرف گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا یک لخت اٹھ بیٹھے اور بلکہ انھوں نے تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر وہ داد دی کہ پنڈال کی محاوراتی چھت اڑ گئی۔ شعر تھا:

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
    لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب غزل کے آخری شعر میں شاعر نے خود ہی دے دیا:
    کون غلام محمد قاصر بیچارے سے کرتا بات
    یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
    قاصر نے روایت اور کلاسیکی زبان کا دامن تھامے رکھا۔ تاہم انھوں نے روایت میں بھی جدت اور ندرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
    احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’جب کوئی سچ مچ کا شاعر بات کہنے کا اپنا سلیقہ روایت میں شامل کرتا ہے تو پوری روایت جگمگا اٹھتی ہے۔
    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
    ان کی وسعتِ نظر ایسی ہے جو انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں کمال سہولت سے اتر جاتی ہے:
    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا
    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    قاصر کے ہاں روایت اور جدت کے امتزاج کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ اساطیری روایات کو پلٹ کر انھیں نیا رنگ عطا کر دیتے ہیں، اور ہزاروں بار سنی ہوئی بات بھی اچھوتی ہو جاتی ہے:
    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا
    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں
    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھ دجلے بنا فرات بنا
    یوں تو قاسمی، ظفر اقبال، احمد فراز، قتیل شفائی، شہزاد احمد، صوفی تبسم، رئیس امروہوی جیسے کئی مشاہیر نے قاصر کی ستائش کی ہے، لیکن مشہور کالم نگار منو بھائی نادانستگی میں اپنے ایک کالم میں قاصر کا یہ شعر میر کے نام سے نقل کر گئے:
    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
    کسی بھی نئے یا پرانے شاعر کو اس سے بڑھ کر داد نہیں دی جا سکتی۔
    وفات
    تین ماہ تک جگر کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد غلام محمد قاصر 20 فروری 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

  • کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    ہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    سیلم احمد

    اردو زبان میں سلیم احمد جیسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔ جناب سلیم احمد27 نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔ سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
    ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا۔
    روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے۔

    سیلم احمد کی چند منتخب غزلیں

    غزل

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی
    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی
    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان
    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا
    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ
    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے
    وہ ہنستی آنکھیں پوچھتی ہیں یہ کتنا گہرا پانی ہے

    بیتاب ہوا کے جھونکوں کی فریاد سنے تو کون سنے
    موجوں پہ تڑپتی کشتی ہے اور گونگا بہرا پانی ہے

    ہر موج میں گریاں رہتا ہے گرداب میں رقصاں رہتا ہے
    بیتاب بھی ہے بے خواب بھی ہے یہ کیسا زندہ پانی ہے

    بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
    سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے

    اس بستی میں اس دھرتی پر سیرابیٔ جاں کا حال نہ پوچھ
    یاں آنکھوں آنکھوں آنسو ہیں اور دریا دریا پانی ہے

    یہ راز سمجھ میں کب آتا آنکھوں کی نمی سے سمجھا ہوں
    اس گرد و غبار کی دنیا میں ہر چیز سے سچا پانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    دیدنی ہے ہماری زیبائی
    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی
    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس
    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا
    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے
    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے
    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے
    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے
    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی
    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ
    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔
    .
    بشکریہ ، عامر شیرازی

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    نام کتاب : اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں
    ناشر : دارلسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور

    مرتب : محمد حنیف شاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ( اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ )” Why Islam Is Our Only Choice “کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کو مرتب کرنے والے محمد حنیف شاہد ہیں جو نامور محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ انہیں اسلام سے گہری محبت ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ تعلیم وتعلم میں صرف کیا ہے ۔ محمد حنیف شاہد کی علمی وجاہت اور قدرومنزلت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کی کتابیں دنیا کے معتبر کتب خانے لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ڈی سی ( امریکہ ) میں بھی محفوظ ہیں ۔ اس کتاب میں ان خوش نصیبوں کے ذاتی تاثرات ، مشاہدات اور قیمتی خیالات جمع کئے گئے جو غیر مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر وہ اسلام کی حقانیت وصداقت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس طرح سے انھیں اسلام کی نعمت اور دولت عطا ہوئی۔ اس کتاب میں حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں نے یہ بتایا ہے کہ وہ اسلام سے اس قدر متاثر کیوں ہوئے کہ انہوں نے اپنے آباو اجداد کے مذاہب کو چھوڑنے کا بہت بڑا اور انتہائی مشکل فیصلہ کر ڈالا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسلام ہی دین واحد ہے جسے روزانہ بہت بڑی تعداد میں لوگ قبول کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام قبول کرنے والوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں ۔ مگر اس کتاب میں زیادہ تر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کی آرا ءشامل کی گئی ہیں۔

    کتاب کا انگریزی کا ترجمہ پروفیسر منور علی ملک نے کیا ہے محمد حنیف شاہد کی کتاب اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں بطور محقق ان کی زندگی بھر کی خدمت اسلام کا ایک حصہ ہے ۔یہ کتاب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کے قبول اسلام کے حوالے سے واقعات، تجربات، سابقہ عقائد ، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں جن لوگوں کے بیانات، احساسات اور خیالات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے اکثر اپنی قوموں کے روسا ، معززین ، دانشور، سائنسدان ، اعزاز یافتہ ، با رسوخ ، دولت مند ، عام افراد، پیشہ ور ماہرین، خواتین یہاں تک کہ اخلاق باختہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ اس کتاب کا تحقیقی مواد کرہ ارض کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں اور مذہب سے لیا گیا ہے ۔کتاب کاتحقیقی مواد دو صدیوں سے زائد عرصے کا احاطہ کرتا ہے ۔کتاب 6ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ہے ” اسلام کی آغوش میں “ اس باب میں 45افراد کے قبول اسلام کے واقعات بیان کیے گیے ہیں ۔ دوسرے باب کا عنوان ہے ” خواتین اسلام کی دہلیز پر “ اس باب میں 22خواتین کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے ایمان افروز واقعات درج ہیں ۔ تیسرے باب کا عنوان ہے ” اسلامی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے تاثرات “ اس باب میں 58نومسلم بہن بھائیوں کے اسلام کے بارے میں دل موہ لینے اور ایمان تازہ کردینے والے تاثرات سپرد قلم کئے گئے ہیں ۔چوتھے باب کا عنوان ہے ” اسلام کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے مختصر خیالات “ اس باب میں 18نومسلم مرد وخواتین کی آراءشامل کی گئی ہیں ۔

    پانچویں باب کا عنوان ہے ” قرآن حکیم کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے خیالات “ اس باب میں 11مرد وخواتین کے قرآن مجید کے بارے میں انتہائی خوبصورت خیالات شامل کئے گئے ہیں ۔ آخری باب کا عنوان ہے ” نبی کریم کے بارے میں نومسلموں کے خیالات “جن انتہائی قابل احترام مرد وخواتین کی آراءکتاب میں شامل کی گئی ہیں ان میں سے برطانیہ کے سٹینلے اینیان کہتے ہیں ” مجھے اسلام ہی مطلوب تھا “ ڈنمارک کے علی احمد ہولمبو کہتے ہیں ” مستقبل کا دین اسلام کے علاوہ کوئی اور نہ ہوگا “ ۔امریکہ کے کرنل راک ویل کہتے ہیں ” اعتدال اور تقوی اسلام کی کلیدی خصوصیات ہیں “ ٹی ۔ ایچ میک بارکلی کہتے ہیں ” اسلام واحد دین ہے جو جدید تہذیب کے لیے ہمیشہ قابل قبول رہے گا “ ۔ اے ایم ٹی کہتے ہیں ” میں اسلام کے لئے زندہ ہوں جو ہمیشہ قائم رہے گا “ بلجئیم کے ٹی یوڈ ڈئینیل کہتے ہیں ” صرف شریعت محمدی ہی امن وآشتی کی ضامن ہے ۔یہ تو صرف چند ایک مثالیں ہیں ساری کتاب ہی سونے پر سہاگہ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان حالات میں جبکہ یورپ میں اسلام دشمنی کا عفریت انگڑائیاں لے رہا ہے ہمارے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا ہم شافی وکافی جواب دے سکیں ۔

  • میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    سعداللہ شاہ

    تاریخ پیدائش: 28 اگست

    ممتاز شاعر سعداللہ شاہ 28 اگست 1958 کو چشتیاں میں پیدا ہوئے۔ سعداللہ شاہ کا شمار عصرِ حاضر کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ سعداللہ شاہ نے اُردو، پنچابی اور انگریزی تین زبانوں میں شاعری کی۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی ادب کے اُستاد اور معروف کالم نگار بھی ہیں۔ سعداللہ شاہ کے 25 سے زائد شعری مجموعے شائع ہو کر پزیرائی کی سند حاصل کر چکے ہیں۔اُن کے شعری مجموعوں "تمھی ملتے تو اچھا تھا” ، "اک کمی سی رہ گئی” ، ” مجھے کچھ اور کہنا تھا” ، ” نیلے پھولوں کی بارش میں ” اور ” کتنی اُداس شام ہے” کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ سعداللہ شاہ زندگی کے شاعر ہیں۔ اُن کے ہاں بے کار فلسفوں کے بہ جائے زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ نمایاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار خواص و عوام میں یکساں مقبول ہیں۔ جہاں خواب، محبت اور اُداسی اُن کی شاعری کی نمایاں علامات ہیں وہیں مزاحمتی شاعری بھی اُن کا ایک حوالہ ہے۔ سعداللہ شاہ کے بے شمار اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور یہی وصف اُنھیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔

    منتخب اشعار

    اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے
    مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    مَیں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

    لوگ فہم و آگہی میں دُور تک جاتے مگر
    اے جمالِ یار تُو نے راستے میں دھر لیا

    مجھ کو اچھی نہیں لگتیں یہ شعوری باتیں
    ہائے بچپن کا زمانہ وہ اُدھوری باتیں

    کتنا نازک ہے وہ پری پیکر
    جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

    بحرِ رجز میں ہوں نہ مَیں بحرِ رمل میں ہوں
    مَیں تو کسی کی یاد کے مشکل عمل میں ہوں

    مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو
    کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو

    جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے
    ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے

    تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا
    نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا

    تُو نہ رسوا ہو اِس لیے ہم نے
    اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا

    کہنے کو اک الف تھا مگر اب کُھلا کہ وہ
    پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ

    اے مرے دوست ذرا دیکھ مَیں ہارا تو نہیں
    میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ

    رنجشِ کارِ زیاں ، دربدری ، تنہائی
    اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ

    کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے
    آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو

    اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے
    خواب ہو جاتے ہیں اِس شہر میں آنے والے

    عمر گزری ہے دربدر اپنی
    ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

    دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے
    ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے

    مجھ کو میری ہی اُداسی سے نکالے کوئی
    مَیں محبت ہوں، محبت کو بچا لے کوئی

    پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
    لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے
    دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے

    پھر چشمِ نیم وا سے ترا خواب دیکھنا
    اور اُس کے بعد خود کو تہِ آب دیکھنا

    کتنا دشوار ہے ہر اک سے فسانہ کہنا
    کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے

    مت شکایت کرو زمانے کی
    یہ علامت ہے ہار جانے کی

    وہ یہ کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو
    جس نے منصف کو بھی سولی پہ چڑھا رکھا ہے

    خود مصنف نے اُسے لا کے کہیں مار دیا
    ایک کردار جو کردار سے آگے نکلا

    اُس کی خاطر سوچنا، سوچنا بھی رات دن
    پھر بھی مجھ کو یوں لگا مَیں نے سوچا کچھ نہیں

    تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال
    جس کو چھوتی ہے اُسے خواب بنا دیتی ہے

    بے ربط کر کے رکھ دیے اُس نے حواس بھی
    جتنا وہ دُور لگتا ہے اُتنا ہے پاس بھی

    خودی کو سعد کسی مرتبے پہ لا کہ جہاں
    ادائے ناز قیام و قعود ڈھونڈتی ہے

    کون سمجھے مرا تنہا ہونا
    یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا

    جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
    تمھی کو ہم نے چاہا تھا تمھی ملتے تو اچھا تھا

  • لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ  کا  چہرہ  دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "_واہ واہ” کرتے ہیں

    میں صرف 3 خواتین کو شاعر مانتی ہوں

    پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے ادبی اداروں کی کارکردگی زیرو ہے

    شاعری درد سے جنم لیتی ہے شوق سے نہیں
    معروف شاعرہ ثبین سیف کی کی دلچسپ باتیں

    گفتگو و تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ ثبین سیف صاحبہ کراچی میں پیدا ہوئیں ان کا اصل نام ثبینہ پروین ہے لیکن سیف اللہ خان سے شادی کے بعد ان کی نسبت سے ثبین سیف کا نام اختیار کر لیا۔ ان کے والد کا نام سید ابن حسن صدیقی ہے وہ آرمی افسر تھے۔ ثبین کی مادری زبان اردو ہے ۔ ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں ہیں بڑی بہن شادی کے بعد امریکہ منتقل ہو چکی ہیں ۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اس لیئے والدین اور بہن بھائیوں نے انہیں ایک گڑیا اور شہزادی جیسا پیار دیا ۔ اولاد میں ماشاء اللہ ان کے 2 بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ اور بچوں کے باپ ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ میں پہلے خودکشی کرنا چاہتی تھی مگر اپنے بیٹوں کے بچوں کی وجہ سے جینا چاہتی ہوں ۔ ثبین کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

    معروف ادیبہ اور شاعرہ فرحین چودھری کی طرح ثبین کے خیالات بھی خواتین شاعرات اور ادبی اداروں کے بارے میں کچھ مختلف ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی ” زیرو” ہے جبکہ خواتین شاعرات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ پاکستانی شاعرات کی اکثریت شاعر نہیں ہے وہ صرف حمیدہ شاہین ، ریحانہ روحی اور نرجس زیدی کو شاعرہ تسلیم کرتی ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ اکثر خواتین صرف نام کی شاعرہ ہیں لوگ مشاعروں اور فیس بک پر ان کی شاعری کی بجائے ان کے چہروں اور تصاویر کو دیکھ کر ” واہ واہ” کی بھرپور داد دیتے ہیں ۔ ثبین مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک بھی ایسے مشاعروں میں جاتی ہیں جہاں منتظمین کی جانب سے آمد و روانگی کے ٹکٹ و قیام و طعام کا مکمل انتظام کیا جاتا ہو ان کا کہنا ہے کہ میں ان شاعروں میں سے نہیں ہوں جو بیرون ممالک کے مشاعروں کا صرف دعوت نامہ ملنے پر اپنے خرچے پر چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شاعری کی وجہ کے بارے میں بتایا کہ شاعری شوق سے نہیں درد سے جنم لیتی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے آنسوں دیکھ کر شاعری شروع کی ہے کیوں کہ والدین کی ازدواجی زندگی بہتر نہیں تھی انہوں نے کہا کہ انسان کو شادی بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے اور پھر اس شادی کے رشتے کو عمر بھر مضبوطی کے ساتھ نبھانا چاہئے ۔ اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں اپنے شوہر کے ” معیار” پر پورا نہیں اتر سکی ۔میں بی اے کر رہی تھی کہ میری شادی کر دی گئی لیکن میری شادی کا ” رزلٹ ” صحیح نہیں آیا۔ ثبین نے شادی شدہ جوڑوں اور تمام والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیوں کہ والدین کے مابین علیحدگی کی وجہ سے ان کے بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ثبین نے اس بات پر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کی طرف سے بہت عزت اور پیار ملتا ہے جس میں خواتین کی گرم جوشی قابل رشک ہے۔

    ثبین صاحبہ کا ایک بہت مشہور و معروف شعر

    پہلے ڈرتی تھی اک پتنگے سے
    ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں

    ایک ضروری وضاحت

    آج ثبین صاحبہ کی سالگرہ ہے لیکن ان کی طرف سے تاریخ پیدائش نہ بتانے کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش نہیں لکھ سکا جبکہ ان کے وائس میسیج کی وجہ سے ان کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات نہ سمجھنے اور نوٹ نہ کر سکنے کی وجہ سے میں لکھنے سے قاصر رہا ہوں

    غزل . ثبین سیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا
    ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا
    آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے
    اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا
    روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے
    اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا
    چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں
    آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں جا سکتا
    تم نے اک عمر مرے دل پہ حکومت کی ہے
    تم کو پل بھر میں بھلایا تو نہیں جا سکتا
    جن کو الفاظ سے ڈسنے کا ہنر آتا ہے
    ہاتھ اب ان سے ملایا تو نہیں جا سکتا
    جس قدر سنگ زنی چاہیے کر لیں مجھ پر
    سنگ زادی کو رلایا تو نہیں جا سکتا
    ہوں مکیں جن میں کئی سال سے زندہ لاشیں
    ان مکانوں کو سجایا تو نہیں جا سکتا
    جس کی خاموشی میں آسیب سکوں کرتے ہوں
    ایسا ویرانہ بسایا تو نہیں جا سکتا
    تو بت عشق نہیں تو تو خدا ہے میرا
    اب تجھے ہاتھ لگایا تو نہیں جا سکتا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی
    گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی
    جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا
    آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی
    انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر
    آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی
    بندہ پرور ناامیدی کفر ہے
    اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی
    چاند تارے منتظر ہیں آپ کے
    آسماں تک آپ جائیں تو سہی
    وصل کر دے گا خزاں کو فصل گل
    پھول بالوں میں لگائیں تو سہی
    دیکھیے سنیے ارے جانے بھی دیں
    آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی
    خود کو رکھ کر بھول بیٹھی ہوں کہیں
    میں کہاں ہوں کچھ بتائیں تو سہی
    آپ تو بس گھر بنا کر رہ گئے
    آپ اس گھر کو بسائیں تو سہی
    چٹکیوں میں بھول جاؤں گی انہیں
    اب مجھے وہ یاد آئیں تو سہی
    نیند آنکھوں سے خفا ہو جائے گی
    خواب پلکوں پر سجائیں تو سہی
    جان لے لوں گی قسم اللہ کی
    بھول کر مجھ کو بھلائیں تو سہی
    آزمانے کے لیے قسمت ثبینؔ
    دل کو داؤ پر لگائیں تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔
    پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا
    بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا
    آدمی بے حد برا تھا وہ مگر
    پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا
    جس دئے کی آبرو تھی روشنی
    وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا
    میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا
    ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا
    آدمی سے پوچھتا ہے آدمی
    آدمی خود سے جدا کیسے ہوا
    مجھ کو آیا تھا منانے کے لیے
    کیا خبر مجھ سے خفا کیسے ہوا
    سوچتی رہتی ہوں میں اکثر ثبینؔ
    جو نہیں سوچا گیا کیسے ہوا

  • جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہوئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ماچس لکھنوی

    اصلی نام:مرزا محمد اقبال
    سن ولادت:1918ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تاریخ وفات:26 اگست 1970ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تصنیفات:انتخابِ کلام ماچس لکھنوی-2004ء
    (مرتبہ:رئیس آغا)

    ماچسؔ لکھنوی نامور مزاحیہ شاعر حضرت ماچس لکھنوی کا اسم گرامی مرزا محمد اقبال تھا۔ ماچسؔ لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں۔ 1918 میں اپنے آبائی مکان متصل کاظمین لکھنؤ گیٹ میں پیدا ہوئے اور 26 اگست 1970 کو مختصر علالت کے بعد بعارضۂ کینسر وفات پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تذکرۂ معاصرین جلد اول مصنف مالک رام کے مطابق سنولادت 1911ء ہے۔

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
    پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
    جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
    میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
    کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر
    اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے
    نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس
    ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے
    جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو
    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال
    ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے
    بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے
    نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے
    ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ
    ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے
    جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال
    سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے
    جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب
    عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے
    اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن
    آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد
    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد
    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد
    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا
    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد
    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے
    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے
    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت
    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے
    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں
    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے
    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت
    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے
    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی
    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت
    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے