Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار

    یوم پیدائش 2 نومبر 1971

    آغا نیاز مگسی

    ہندوستان اور پاکستان کی معروف ٹی وی اور فلمی اداکارہ زیبا بختیار 2 نومبر 1971 میں کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان یحیٰی بختیار اور ہنگری کی عیسائی خاتون ایوا کی بیٹی ہیں، زیبا بختیار نے 1988 میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ ” انارکلی ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیاجبکہ 1991 میں ایک انڈین فلم ” حنا”میں کام کر کے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،

    1995 انہوں نے مشہور انڈین گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع خان سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا اذان پیدا ہوا۔ چار سال کی ازدواجی زندگی کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1989 میں ان کی شادی جاوید جعفری سے ہوئی ایک سال بعد 1990 میں ان کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ سائرہ بختیار زیبا بختیار کی بہن جبکہ ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار ان کے بھائی ہیں۔ زیبا بختیار کی مستقل رہائش کراچی میں ہے،

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    موسیقار خواجہ خورشید انور

    30 اکتوبر 1984: تاریخ وفات

    باکمال موسیقار خواجہ خورشید انور ساز بجانا نہیں جانتے تھے بلکہ انہوں نے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
    ایم اے فلسفہ میں اول آئے، گولڈ میڈل ملا مگر لینے گئے ہی نہیں۔
    مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔
    یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔

    اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے دل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی سجن پردیسی، چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھونے چھونے ناچوں گی گونے گونے گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، کدی آ مل رانجھن وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
    خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔

    خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے جہاں انکے نانا بطور سول سرجن ضلعی ہسپتال تعینات تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں. علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا. ان کے والد بیرسٹر فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ انکے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد (بیرسٹر خوجہ حارث کے والد) لاہور کے بڑے اور استاد وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں، استاد غلام علی خاں، موسیقار فیروز نظامی، رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
    خواجہ خورشید انور نے 1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گائیک شرکت کر رہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

    اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں ( آئی سی ایس ) کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریز راج کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔ بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
    یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
    1939 میں خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی پر میوزک پروڈیوسر کی حیثیت سے نوکری کر لی ۔ وہاں ان کی ملاقات اے۔آر۔ کاردار سے ہوئی۔ کاردار اس زمانے کے سکہ بند فلمساز تھے۔ 1941ء میں خواجہ صاحب نے ان کی پنجابی فلم”کڑمائی” کا میوزک بنایا۔ یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہو سکی جتنی توقع کاردار اور خورشید انور کر رہے تھے۔ دو سال کے بعد 1943ء میں “اشارہ” فلم آئی۔ اس میں بھی موسیقی خواجہ صاحب ہی کی تھی۔ اس کے گانے “ثریا بیگم” ـ” گوہر سلطان” اور وستالہ کماٹھیکر نے گائے تھے۔ ان گانوں نے برصغیر کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا۔ ہر گلی کوچے میں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اس عظیم موسیقار کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد شہرت کا ایک لامتناہی زینہ تھا جس پر یہ نوجوان چڑھتا چلا گیا۔

    1947ء میں سہگل نے خواجہ خورشید انور کی بنائی ہوئی دُھن پر اپنی زندگی کا آخری گانا گایا۔ اس فلم کا نام “پروانہ” تھا۔ اس فلم کے پانچوں گانوں کی موسیقی خواجہ خورشید انور کی تھی۔ گانے ڈی این مدھوک نے لکھے ۔ دو میں نخشب اور تنویر نقوی کا اشتراک تھا۔ 1949ء میں خواجہ صاحب کو موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا نام “کلیئر ایوارڈ” تھا۔موسیقار”روشن” اور “شنکر جے کشن” اس موسیقی کے جادوگر کی دہلیز پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ “نوشاد” جو خود ایک یکتا موسیقار تھے، خواجہ صاحب کے احترام میں کھڑے رہتے تھے۔

    خواجہ خورشید انور 1952ء میں پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کے پائے کے موسیقار نہ ہونے کے برابر تھے۔ نورجہاں جیسی عظیم گائیکہ بھی ایک مشکل دور سے دوچار تھی۔ 1956ء میں خورشید انور نے”انتظار” فلم کی دُھنیں ترتیب کیں۔ اس کے گانے نورجہاں کے لیے ایک نئی فنی زندگی کا ذریعہ بنے۔ یہ اپنے وقت کی مقبول ترین فلم تھی۔ اس کی کامیابی خواجہ صاحب کے بے مثال میوزک کے سبب تھی۔ اس فلم کے بعد تو خواجہ صاحب فن کے آسمان پر چمکنے لگے۔
    مرزا صاحبان، زہرعشق، جھومر، کوئل، ایاز، گھونگھٹ حویلی، چنگاری، سرحد، ہیررانجھا، شیریں فرہاد، مرزاجٹ اور سلام محبت، وہ فلمیں تھیں جنکی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی جادوئی موسیقی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، 15 اردو اور 3 پنجابی۔ انہوں نے گھونگھٹ، حیدر علی، اور ہمراز سمیت چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

    فیض احمد فیضؔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ فیض صاحب، ان سے بہت متاثر تھے۔ فیض کالج میں خواجہ صاحب سے ایک سال سینئر تھے۔ ن م راشد بھی ان دنوں کالج میں تھے۔

    خواجہ خورشید انور کا ایک بڑا کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ ہے۔ یہ 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک البم ہے جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ محفوظ کر دئیے۔ یہ لانگ پلے ریکارڈ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، استاد سلامت علی خان، ذاکر علی خان اور اختر علی خاں، استاد فتح علی خاں (پٹیالہ)، اسد امانت علی خاں اور حامد علی خاں، استاد اسد علی خاں، استاد رمضان خان، استاد امراﺅ بندو خان، استاد غلام حسین شگن، استاد حمید علی خان، استاد فتح علی خان (گوالیار)، ملک زادہ محمد افضل خان اور ملک زادہ محمد حفیظ خان کی آوازوں میں تیار کئے گئے تھے۔ “آہنگ خسروی” اور “راگ مالا” ایسے عظیم کام ہیں جو ان کے بعد بہت کم لوگ کر پائے۔

    خواجہ صاحب کا موسیقی بنانے یا ترتیب دینے کا طریقہ بہت مختلف بلکہ منفرد تھا۔ وہ ماچس کی ڈبیا کو ایک خاص انداز میں بجاتے تھے اور وہیں سے وہ اپنی نایاب دُھن کی بنیاد تشکیل دے دیا کرتے تھے۔ 1980ء میں خواجہ صاحب کو “ستارہ امیتاز” سے نوازا گیا۔ 1982ء میں انھیں بمبئی کی میوزک انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام تھا
    ”Mortal-Men، Immortal-Melodies Award”
    خواجہ صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ریڈیو پاکستان نے ان کی بنائی ہوئی سگنیچر ٹیون سے آغاز کیا ۔
    خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    نیلما ناہید درانی

    ادیبہ، شاعرہ ، سفرنامہ نگار
    پاکستان کی پہلی خاتون SSP
    15 اکتوبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف و گفتگو: آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی شہرت یافتہ 4 زبان پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، سفر نامہ نگار اور پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی محترمہ نیلما ناہید درانی صاحبہ 15 اکتوبر 1955 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام آغا اعجاز حسین درانی ، والدہ محترمہ کا نام آفتاب بیگم اور دادا محترم کا نام آغا نعمت اللہ جان درانی ہے۔ دادا مذہبی اسکالر اور مصنف تھے جن کا تخلص احقر امرتسری تھا۔ والد صاحب شاعری اور مصوری کرتے تھے ۔ نیلما صاحبہ کا تعلق پٹھانوں کے مشہور درانی قبیلے ( سدوزئی ) سے ہے ان کی مادری زبان اردو، پدری زبان فارسی اور پیدائشی زبان لاہوری پنجابی ہے۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں ان کے دو بھائی ہیں اور دونوں لکھاری ہیں۔ ایک بھائی آغا مدثر پنجابی کہانی نویس ہیں اور دوسرے بھائی آغا مزمل اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے ہیں ۔ نیلما درانی کے 3 بچے ہیں بڑا بیٹا سوفٹ ویئر انجنیئر ہے بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اور چھوٹا بیٹا لندن یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم ہے اور نیلما صاحبہ اس وقت لندن میں ان کے ہاں قیام پذیر ہیں ۔ نیلما ناہید درانی اردو ، انگریزی ، پنجابی اور فارسی زبان میں شاعری کرتی ہیں اس کے علاوہ وہ ایک بہت بڑی لکھاری بھی ہیں وہ سفرنامہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں ان کے لکھنے کا انداز بہت متاثرکن ہے اس لیے ان کے قارئین کی تعداد کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ نیلما کی پہلی کہانی ماہنامہ ہدایت لاہور میں شائع ہوا جس کے ایڈیٹر نظرزیدی تھے۔ انہوں نے 1965 سے یعنی 10 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ نیلما نے اسلامیہ گرلز ہائی سکول لاہورسے میٹرک ، لاہور کالج برائے خواتین لاہور سے بی اے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی ، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور سے صحافت میں ایم اے کیا۔ اور 2000 میں ایم اے پنجابی کیا ۔

    ایم اے صحافت کے دوران ہی پی ٹی وی پر انائونسر کی جاب مل گئی ۔ ریڈیو پاکستان کیلئے بچوں کی کہانیاں بھی لکھتی رہیں جب وہ ایف اے کی طالبہ تھیں ۔
    پاکستان ٹیلی ویژن میں 4 ماہ کی سروس کے بعد انہیں محکمہ پولیس میں انسپکٹر کی جاب مل گئی۔ ۔۔اور وہ دونوں ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔صبح کو پولیس کی ڈیوٹی سر انجام دیتیں ۔۔شام کو پی ٹی وی سے اناونسمنٹ کرتیں۔۔۔
    جب رائل ٹی وی کا آغاز ہوا تو اس کے ایک گھنٹہ دورانیہ کے ٹاک شو پروگرام ۔۔ستاروں کے ساتھ۔۔۔کی دو برس تک کمپیرنگ کی
    ایف ایم ریڈیو 101۔۔کے غزل ٹائم کی کمپئرنگ کی۔
    ریڈیو پاکستان لاہور کے مقبول ادبی پروگرام ۔۔تخلیق کی کپمئیرنگ کی اور بہت سے شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز ریکارڈ کروائے
    وہ اپنی محنت ۔ ذہانت اور بہتر کارکردگی کی بدولت ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی کا منفرد اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جبکہ وہ مختلف پولیس ٹریننگ اسکولز کی پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ وہ اقوام متحدہ کےامن مشن میں افریقہ میں بھی تعینات رہی ہیں ۔ 2010 میں انہیں ان کی انگریزی نظم پر یونائٹڈ نیشن افریقن یونین UNAMID کی جانب سے World Aids day کے حوالے سے پہلا انعام دیا گیا ۔ 2004 میں گورنر پنجاب خالد مقبول نے انہیں بہترین شاعری اور پولیس کارکردگی پر فاطمہ جناح میڈل دیا جبکہ 2005 وزیر اعظم شوکت عزیز نے انہیں بھی اعلی کارکردگی کی بنا پر گولڈ میڈل کا انعام دیا ۔ 1989 میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے نیلما کی شاعری پر مشتمل ” انتظار” کے عنوان سے کیسٹ جاری کیا جس میں ان کی تمام غزلیں حامد علی خان نے گائی ہیں۔ نیلما صاحبہ حمد، نعت، غزل ، نظم ، سلام، منقبت اور مرثیہ کی اصناف میں طبع آزمائی کر چکی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ۔۔جب تک آنکھیں زندہ ہیں۔۔۔جو 1986 میں چھپی تھی کی پہلی غزل کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے جس کا مطلعہ ہے

    اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
    سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے

    نیلما ناہید درانی صاحبہ کی اب تک 16 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کی اردو اور پنجابی شاعری ، سفرنامے اور افسانے شامل ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
    1 جب تک آنکھیں زندہ ہیں 2 جب نہر کنارے شام ڈھلی 3 تمھارا شہر کیسا ہے 4 واپسی کا سفر 5 قطرہ قطرہ عشق 6 جنگل ، جھیل اور میں 7 نیلما کی غزلیں 8 اداس لوگوں سے پیار کرنا 9 راستے میں گلاب رکھے ہیں 10 چانن کتھے ہویا 11 دکھ سبھا ایہ جگ 12 چاند ، چاندنی چندی گڑھ 13 چڑھدے سورج دی دھرتی 14 ٹھنڈی عورت 15 بیلجم میں 20 دن 16۔تیز ہوا کا شہر

    چند منتخب اشعار قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں خوف زدہ چہرے لیے پھرتے ہیں سارے
    لوگوں کو کسی نے تو ڈرایا ہے کوئی ہے

    اب اونچی فصیلیں ہیں یہاں آہنی در ہیں
    یوں موت کو پہرے پہ بٹھایا ہے کوئی ہے

    مجھے جہاں کے یزیدوں سے ڈر نہیں لگتا
    کہ میرے گھر پہ مرے پنجتن کا سایہ ہے

    جو بھی قریب آیا اسے پیار کر لیا
    اپنی نظر کو یونہی گنہ گار کر لیا

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    ظلم ہے اور کوئی روتا نہیں
    ظلم ہے سب کو دکھائی بھی تو دے

    کوئی تو خزاں میں پتے اگانے والا
    گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے

    شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
    مجھ کو ایسے انسانوں سے ڈر لگتا ہے

    مسجد کے حجرے میں بچے مر جاتے ہیں
    تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہے

    بچھڑتے وقت اس نے جو کہا تھا
    اسی اقرار نے چونکا دیا تھا

    نیلما ناہید درانی

  • جدید اردو نظم کے بانی؛  نون میم راشد کا تعارف

    جدید اردو نظم کے بانی؛ نون میم راشد کا تعارف

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
    ن م راشد

    جدید اردو نظم کے بانی اور آزاد نظم کے پہلے شعری مجموعے ” ماورا” کے خالق نذر محمد جنجوعہ المعروف ن م راشد یکم اگست 1910 میں ضلع گجرانوالہ کے قصبہ علی پور چٹھہ کے اکال گڑھ کے ایک زمیندار اور ڈپٹی انسپکٹر اسکولز راجہ فضل الاہی چشتی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و میٹرک اکال گڑھ میں بقیہ تعلیم لائل پور اور لاہور میں حاصل کی۔ 1935 میں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی جس کا 1961 میں انتقال ہوا جس کے بعد انہوں نے 1963 میں ایک برطانوی خاتون شیلا انجیلی سے شادی کی ۔

    ن م راشد نے تعلیم سے فراغت کے بعد کمشنر آفس ملتان میں ملازمت کی۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ وہ ریڈیو لکھنو اور پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہے ۔ کچھ عرصہ فوج میں ملامت کی جس کے بعد آئی ایس پی آر میں ملازمت کی اس دوران ایران، عراق، مصر اور سری لنکا میں تعینات رہے۔ کچھ عرصہ بعد اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات میں ملازم رہے اس دوران نیو یارک، کراچی اور جکارتہ میں تعیناتی رہی ۔

    گھڑ سواری ، تیراکی اور کشتی رانی کے شوقین رہے۔ ن م راشد نے 7سال کی عمر میں ” انسپکٹر اور مکھیاں” کے عنوان سے پہلی نظم کہی جبکہ باقاعدہ شاعری کا آغاز انہوں حمدیہ اور نعتیہ شاعری سے کیا۔ 1942 میں ان کی آزاد نظموں کا شعری مجموعہ” ماورا” شائع ہوا جو کہ اردو میں آزاد نظموں کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں ” لا_انسان” ایران میں اجنبی اور ” گمان کا ممکن” شامل ہیں۔ 9 اکتوبر 1975 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں مذہب بیزار ہو چکے تھے چناں چہ انہوں نے اپنی نعش کو جلانے کی وصیت کر دی تھی اس لیے ان کی اہلیہ شیلا نے ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کرا دیا تھا جبکہ ن م راشد کے بیٹے اپنے والد کی لاش کو جلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی ماں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے آنے سے پہلے ہی اپنے شوہر کی وصیت پر عمل درآمد کر دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کرگئی
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
    دل میں ترے وہ ذوقِ محبت نہیں رہا

    پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
    تو ہی حریفِ ذوقِ سماعت نہیں رہا

    آئیں کہاں سے آنکھ میں آتشِ چکانیاں
    دل آشنائے سوزِ محبت نہیں رہا

    گل ہائے حسنِ یار میں دامنِ کشِ نظر
    میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

    شاید جنوں ہے مائلِ فرزانگی مرا
    میں وہ نہیں وہ عالمِ وحشت نہیں رہا

    ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگِ ناگہاں
    میں اب اسیر گردشِ قسمت نہیں رہا

    جلوہ گہہِ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
    لو میں رہین زحمتِ خلوت نہیں رہا

    کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
    سر میں اگر وہ شوقِ شہادت نہیں رہا

    ن م راشد

  • نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    نام کتاب : نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، نزد لوئر مال لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔ انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے، جن کی تعریف وتوصیف خود آسمانے والے نے اپنی کتاب مقدس میں فرمائی ہے ، جو محبوب ملائکہ ہیں ، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار کے امام و پیشوا ہیں ، جو ساقی کوثر ہیں ، جو سرداران جنت حسن وحسین کے نانا ہیں ،جو عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ طاہرہ مطاہرہ کے شوہر ہیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہیں ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک اس دنیا میں جتنے ادور بھی گزرے، ان میں سے رسول ﷺ واحد ہستی ہیں کہ جن کی مبار ک زندگی پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے ۔ ادوار گزرے چلے جائیں گے، لکھنے والے لکھتے رہیں گے ، ان کے قلم ٹوٹ جائیں گے، سیاہیاں خشک ہوجائیں گی لیکن رسالت ماٰ ب ﷺ کی سیرت طیبہ کو لکھنے کا حق ادا نہیں کیا جاسکے گا ۔ سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔
    ارشاد احمد ارشد
     نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    اہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے

    نوابزادہ نصر اللہ خان

    شاعر۔ سیاست دان۔ دانشور

    یوم پیدائش 13 نومبر 1916 خان گڑھ
    یوم وفات 27 ستمبر 2003 اسلام آباد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان نورزئی قبیلے کےط سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے فرزند نوابزادہ افتخار احمد خان 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

    غزل

    نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
    پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے

    کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
    اور کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

    دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
    اٹھو کہ یہ وقت کا فرمان چلی ہے

    غارت گر یہ اہل ستم بھی کوئی دیکھے
    گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے

    ہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی