Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    میں نے حساب کرنے کی عادت چھوڑ دی
    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    ریحام خان ( صحافی اور مصنفہ)

    پیدائش:3 اپریل 1973ء
    اجدابیا (لیبیا)
    قومیت:برطانوی
    پاکستانی
    مذہب:اسلام
    شریک حیات:اعجاز رحمان
    (1993-2005)
    عمران خان (2015)- طلاق

    مرزا بلال (2022)

    اولاد:ساحر
    ردا
    عنایہ
    تعداد اولاد:3
    تعلیم:صحافت میں ماسٹرز
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    دور فعالیت:2007ء تا حال

    ریحام خان کی زندگی کا گوشوارہ عباس تابش کے درج بالا شعر کے مترادف ہے وہ اب تک 3 شادیاں کر چکی ہیں۔ اور یہ تینوں شادیاں ان کی محبت کا نتیجہ ہیں لیکن پچھلی دو شادیوں کا انجام اچھا نہ ہوا دعا ہے کہ ان کی تیسری شادی کامیاب رہے۔ ریحام خان (Reham Khan) ایک برطانوی پاکستانی صحافی ہیں ۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیوی رہ چکی ہیں تاہم اب دونوں کے درمیان میں طلاق ہو چکی ہے جس کی تصدیق 30 اکتوبر 2015ء کو ہوئی جب عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بابت ٹوئٹ کیا تھا۔ اس علیحدگی کے بعد پہلے عمران خان نے بشری مانیکا سے تیسری شادی کی اور پھر ان کے 5 سال بعد ریحام خان بھی مرزا بلال سے 23 دسمبر 2022 میں امریکہ میں تیسری شادی کی

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں جن میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔
    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردا رحمان اور عنایہ رحمان۔ ان کے تینوں بچے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے بچے بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

    کیریئر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    طلاق کے بعد ریحام نے براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلا ہوسٹنگ شو 2006 میں لیگل ٹی وی پر کیا۔ 2007 میں سن شائن ریڈیو ہیرفورڈ اور ورسیسٹر کے لیے کام کیا۔ 2008 میں ریحام نے بی بی سی میں براڈکاسٹ جرنسلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
    2013 میں پاکستان آمد ہوئی اور پاکستانی ٹی وی چینل نیوزون میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد آج ٹی وی میں چلی گئیں۔ 2014 میں کچھ مدت کے لیے پی ٹی وی گئیں مگر مختصر مدت بعد اسے چھوڑ کر ڈان نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام ان فوکس شروع کر دیا۔
    2015 میں کچھ دیر شادی کے بعد ٹی وی پروگرام نہیں کیا مگر پھر ڈان سے ہی مئی میں ایک نیا پروگرام ”ریحام خان شو“ شروع کیا جس میں پاکستانی ہیروز کی ستائش کی گئی۔ دسمبر 2015 میں نیو ٹی وی سے تبدیلی (تبدیلی سابقہ شوہر عمران خان کا سیاسی نعرہ ہے ) کے نام سے ایک نیا ٹی وی پروگرام شروع کیا۔ جون 2016 میں نیو ٹی وی کو خیرباد کہا۔
    فلم
    ۔۔۔۔۔
    ریحام نے جاناں نام کی رومانوی مزاحیہ فلم بھی بنائی، جوسوات کے علاقے میں فلمائی گئی اور ستمبر 2016 میں ریلیز ہوئی۔
    عمران خان سے شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔
    06 جنوری 2015 کے دن عمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کر دی جس کے بارے میں اکتوبر 2014 سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں (بعد ازان ریحام خان نے دعوی بھی کیا کہ ان کی عمران خان سے شادی نواز شریف کے خلاف دھرنے میں ہی ہو گئی تھی)۔ شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔
    چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور بالآخر 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی۔

    مرزا بلال سے شادی

    ریحام خان نے 23 دسمبر 2022 میں خود سے 13 سال چھوٹے کراچی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان مرزا بلال سے امریکہ میں شادی کی۔

    ریحام خان کی کتاب

    ریحام خان نے 2018 میں ” Reham Khan” کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھ کر شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    سائل دہلوی

    پیدائش:29مارچ 1864ء
    دلی، ہندوستان
    وفات:25 ستمبر 1945ء
    دلی، ہندستان

    داغ کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں سائل کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے۔ انھوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
    نواب سراج الدین خاں سائل کی پیدائش 29 مارچ 1864 کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب کے بیٹے اور نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد غالب نواب غلام حسین خاں محو کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
    داغ کے انتقال کے بعد سائل اور بیخود دہلوی داغ کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لیے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ شاہد احمد دہلوی نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘ ۔
    25 ستمبر1945 کو دہلی میں سائل کا انتقال ہوا اور صندل خانہ بابر مہرولی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت میں جینا نئی بات ہے
    نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے
    میں رسوائے الفت وہ معروف حسن
    بہم شہرتوں میں مساوات ہے
    نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب
    یہ خمیازۂ ترک عادات ہے
    شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک
    اجل کا ہے دن موت کی رات ہے
    اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام
    کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
    حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
    جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر
    قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں
    خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
    سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
    سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے
    کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں
    عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
    کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں
    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
    قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
    کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
    مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
    ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
    ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ
    جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں
    امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ
    گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے
    ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے
    نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے
    چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے
    ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے
    نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے
    جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے
    پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے
    الف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے
    جناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے
    ہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے
    دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے
    کٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں
    وہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے
    تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت
    کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔
    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
    بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کا

    خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
    یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

    محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
    کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

    جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے
    دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو

    ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو
    نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
    اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

    جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر
    اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی

    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

    کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال
    دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں

    تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
    نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    تمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے
    کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی

  • ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی (کلاسیکل رقاصہ)
    یوم پیدائش: 27 مارچ

    پاکستان کی نامور کلاسیکل رقاصہ ناہید صدیقی 27 مارچ 1949ء کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اداکارہ طلعت صدیقی اور بشیر صدیقی کی بڑی بیٹی اور معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہو گئیں۔ ان کے والدین نے ان کو کراچی کے ہیپی ہوم اسکول میں داخل کرایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں، ناہید صدیقی اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ یہ کالج اس سے قبل ہوم اکنامکس کالج کے نام سے مشہور تھا۔
    مہاراج غلام حسین کتھک اور پنڈت برجو مہاراج سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ اسی دوران ان کی شادی ضیا محی الدین سے ہوئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے رقص کا پروگرام” پائل” شروع کیا جسے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید صدیقی ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔
    14 اگست 1994ء کو انہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔
    انہوں نے ناہید صدیقی فاؤنڈیشن کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنائی ہے، یہ تنظیم رقص، یوگا اور موسیقی کے لئے کام کرتی ہے۔

  • دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    سراج الدین ظفر

    پیدائش:25 مارچ 1912
    وفات:06 مئی 1972ء

    نام سراج الدین اور تخلص ظفر تھا۔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’زمزمۂ حیات‘‘ 1946ء اور ’’غزال وغزل‘‘ 1968ء میں شائع ہوئے۔ ’’غزال وغزل‘‘ پر 1969ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ افسانوں کا مجموعہ ’’آئینے‘‘ 1943ء میں فیروز سنز نے شائع کیا۔ شروع میں انھوں نے سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ 06 مئی1972ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:32

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات
    ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    ہجومِ گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
    صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

    وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں
    ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

    مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں
    چھڑکے ابھی نسیمِ بہاراں گلاب اور

    ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
    پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

    اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
    اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

    میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو
    اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو

    اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
    بنامِ گل بدناں رُخ سوئے پیالہ کریں

    شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
    رقصِ وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

    ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
    آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں

    دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
    رات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے

    ہم آہوانِ شب کا بھرم کھولتے رہے
    میزانِ دلبری پہ انہیں تولتے رہے

    یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
    مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے

    اس طرح شوقِ غزالاں میں غزل خواں ہو ظفرؔ
    شہرتِ مشکِ غزل شہرِ ختن تک پہنچے

  • جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    آرتی کماری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ ولادت:25 مارچ 1977ء
    جائے ولادت:گیا، بہار
    والد کا نام:الکھ نرنجن پرساد سنہا
    والدہ کا نام:ریتا سنہا
    شوہر کا نام:مادھویندر پرساد
    موجودہ/مستقل پتا:ششی بھون، آزاد کالونی، روڈ 3
    ماڑی پور، مظفر پور بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آرتی کماری کی شاعری سے انتخاب

    عشق میں وصل کم تھا جدائی بہت
    کروٹوں میں سسکتی رہی زندگی

    تُو نہیں ہے زیست میں تو تیرگی ہے ہر طرف
    ہجر کی تنہائی میں دل کو جلایا جائے گا

    زخم اتنے دیجئے جتنے کہ سہہ پاؤں گی میں
    درد گزرا حد سے تو ہمت میری بڑھ جائے گی

    آہٹ سی کیا ہوئی کہ مرا دل سہم گیا
    اب دل کی دھڑکنوں کو جگانے لگے ہیں آپ

    اوروں کے عیب دیکھیے اِک شرط ہے مگر
    اک روز اپنے گھر کے بھی حالات دیکھیے

    دل کی دھڑکن ذرا تیز ہونے لگی
    پاؤں جب بھی بڑھے تیرے گھر کی طرف

    میری دنیا میرا مسکن میری جنت تُو ہے
    مجھ کو سینے سے لگا پاس بلا لے مجھ کو

    دور تک ریت ہے نہ دریا ہے
    پیاس کو پیاس سے پیا کیجے

    جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی
    آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات

    میں تو بکھرنے والی تھی راہِ حیات میں
    تُو بن کے حوصلہ ملا تو مَیں سنور گئی

    غم سے جب ملنا ملانا ہو گیا
    کم خوشی کا آنا جانا ہو گیا

    تیرے ہمراہ یوں چلنا نہیں آتا مجھ کو
    وقت کے ساتھ بدلنا نہیں آتا مجھ کو

    ہر طرف ہے شور جاری خوف طاری ہے
    من ویوتھت ہے سانس بھاری خوف طاری ہے

    يدُھ میں کتنے ہی نر سنہا ر کا کارن بنا تھا
    دروپدی کا وہ کٹل پریہاس ہم سب جانتے ہیں

    منگل راہو کیتو شنیچر جب بھی آنکھ دکھاتے ہیں
    جپ تپ سنیم دان سے اکثر اُن کو مناتی میری ماں

    نہ گھبرائیں گے بادھا سے نہ ہا ریں گے نراشا سے
    چلیں گے مشکلوں کو پار کر اگلی صدی میں ہم

    پریم کی بھاونا رکھو من میں
    پشپ کھلتے ہیں جیسے اپون میں
    تُم بھی رم جاؤ اس طرح مجھ میں
    جیسے مِیرا رمی ہے موہن میں

    خامشی بڑھنے لگی ہے آرتی
    حال آنکھوں سے سنانا چاہئے

    یہ دیکھیے کہ پیاس ہےہونٹوں پہ کس قدر
    آنکھوں کے درمیان سمندر نہ دیکھیے

    میرا سایہ بچھڑ گیا مجھ سے
    دھوپ سر سے اُتر گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تری یاد میں جو گزارا گیا ہے
    وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے
    بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے
    ترا نام لے کر پکارا گیا ہے
    تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی
    مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے
    تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے
    مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے
    عجب ہے محبت کا میدان یارو
    نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے
    لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا
    ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے
    ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی
    ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مشکلیں لاکھ ہوں لیکن مری خواہش ہوگی
    آپ کا ساتھ نبھانے کی تو کوشش ہوگی
    تہمتیں کتنی لگاؤ گے محبت پہ مری
    اس سے تو شہر میں نفرت کی نمائش ہوگی
    ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
    میں سمجھتی ہوں یہاں نور کی بارش ہوگی
    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی
    اب تو مظلوم بھی خنجر کا سہارا لے گا
    نہ کوئی ونتی کرے گا نہ گزارش ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے
    مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے
    مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے
    تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے
    کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو
    تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو
    کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے
    میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم
    میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی
    ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے

  • شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    نہ اضطراب نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    انجم عثمان

    اصل نام : انجم
    والد کا نام:احمد علی
    والدہ کا نام:رئیسہ خاتون
    شوہر کا نام:مرزا عثمان علی بیگ
    اولاد:دو بیٹے، دوبیٹیاں
    آبائی وطن:پاکستان
    جائے ولادت:کراچی، پاکستان
    تاریخ پیدائش : 25 مارچ : 1968
    تعلیم:ایم ایس سی (کیمسٹری)
    پیشہ:خاتونِ خانہ
    زبان:اردو
    اصناف:غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)العطش(شعری مجموعہ)
    ۔ (2)ناشنیدہ (شعری مجموعہ)
    آغازِ شاعری:1965
    ایوارڈ : بیشمار
    پتا:کلفٹن ، کراچی، پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زر غبار کو آئینہ بار کر نہ سکے
    نقوش عکس کو تصویر یار کر نہ سکے
    ہے وحشتوں کا تلاطم پسِ نوائے سکوت
    میان موجۂ گل ذکر یار کر نہ سکے
    نہ اضطراب، نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے
    ٹپک نہ چشمِ ہم آہنگ سے اے قطرۂ خوں
    کہ چارہ گر بھی تجھے شرمسار کر نہ سکے
    ستارہ گیر تھا رخشِ ہنر مگر پھر بھی
    طلسم حسن سخن بے کنار کر نہ سکے
    ہزار زاویۂ حرف آشکار کیے
    قبائے سرو غزل زرنگار کر نہ سکے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    جب کسی شعر میں پوشیدہ بھنور کُھلتے ہیں
    تب کہیں جا کے طلسمات کے در کُھلتے ہیں

    نشانِ راہ تھے افلاک راستے میں فقط
    غبارِ جاں تو نجانے کہاں کہاں پہنچا

    آئینۂ عالم کی خبر دیکھ رہے ہیں
    ناپید سے پیدا کا سفر دیکھ رہے ہیں

    یہ دیر و حرم ،گرجا و صومعہ کیوں !
    خرابہ ،خرابات از کار رفتہ

    شیشۂ خوش نظر سے پی بادۂ عشق ،ہاں مگر
    میکدۂ نشاط میں تذکرۂ سبو نہ کر

  • گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    پیدائش:28 اگست 1749ء
    فرینکفرٹ
    وفات:22 مارچ 1832ء
    وایمار
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    رکن:سائنس کی پروشیائی اکیڈمی
    فری میسن، الومناتی
    سائنس کی روسی اکادمی
    مادر علمی:لائپزش یونیورسٹی
    (1765-1768)
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:سند یافتہ جامعہ
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:تشریح، موسمیات
    کارہائے نمایاں:دیوان الشرقی للمولف الغربی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    آرڈر آف سینٹ آنا
    فرسٹ کلاس (1808)

    گوئٹے (آلمانی زبان میں Johann Wolfgang von Goethe ) آلمان یعنی جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ 28 اگست 1749ء کو پیدا ہوا اور 22 مارچ 1832ء کو انتقال کیا۔ شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، الغرض بے شمار اصناف میں لکھتا رہا۔ گوئٹے اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن وہ عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں۔ ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔
    اس کا باپ جوہان کیسپر گوئٹے(کاسپارگوٹے) (1710ء۔1782)ایک وکیل تھا لیکن گوئٹے کی پیدائش کے وقت وہ اپنے چار منزلہ مکان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی اپنی لائبریری بہت بڑی تھی اور مصوری کے بہت سے نمونے بھی اس کے پاس تھے۔ مزاجاً سخت، مغرور اور سنکی کتابوں کا رسیا گوئٹے کی ماں کیتھرین ایلزبیتھ (کاتارین الیسابیتھ) (1731۔ 1808) فرینکفرٹ (فرانکفورٹ) کے میئر کی بیٹی تھی۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، نیک سیرت، شاعری اور تھیٹر کی رسیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا تھیٹر بھی اپنے گھر میں بنا رکھا تھا۔ اپنے بچپن کا ذکر گوئٹے نے بہت محبت سے کیا ہے۔ ماں کی خوش مزاج شخصیت نے گوئٹے کی شخصیت کو وہ دلآویزی عطا کی کہ وہ جہاں جاتا پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی اور بعد میں مختلف اتالیق سے مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گوئٹے لاطینی، یونانی اورانگریزی پڑھ سکتا تھا۔ عبرانی سے بھی شدبد تھی۔ فرانسیسی اور اطالوی روانی سے بول سکتا تھا۔ وائلن بجانا۔ اسکیچ بنانا، مصوری کرنا، گھوڑ سواری، رقص اور تیرا کی اس نے اسی زمانے میں سیکھے۔ 1765میں وہ قانون کی تعلیم کے لیے لیئپ زگ گیا 1768ء میں وہ بیمار پڑ گیا اور فراینکفرٹ(فرانکفورٹ) واپس آگیا۔ چھ بچوں میں سے صرف گوئٹے اور اس کی بہن بچے تھے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت پر والدین نے پوری توجہ دی۔ 1771ء میں اسٹراس بورگ میں اس نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہیں اس کی ملاقات ہر ڈر سے ہوئی۔ ہر ڈر گوئٹے سے پانچ سال بڑا تھا۔ یہیں اس کی ملاقات ان نوجوانوں سے بھی ہوئی جو درباروں کی تصنع پسندی، مبلغوں کے کھوکھلے لفظوں اور تاجروں کے استحصال کے خلاف تھے اور اس بات پر افسردہ اور شاکی تھے کہ نوجوانوں کو جرمن معاشرہ میں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ اپنی اہلیت وصلاحیت کے لحاظ سے مستحق ہیں۔ احساس محرومی ان پر چھایا ہوا تھا۔ وہ آزادی فکر و اظہار کے حامی اور سارے معاشرے میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا نام شٹورم اونڈ ڈرانگ Sturm Und Drang تھا۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر گوئٹے نے غنائیہ نظمیں لکھیں۔ اسی زمانے میں گوئٹے رومو اور اسپنوزا سے بھی متاثر ہوا۔ اسی دور میں اسے جانوروں اور پودوں کے مطالعے کا شوق بھی پیدا ہوا، جو ساری عمر جاری رہا اور اس نے علم حیاتیات اور نباتات کی بھی اہم خدمت انجام دی۔1772ء میں اس نے وکالت شروع کی۔ اس وقت گوئٹے کی عمر صرف 23سال تھی ۔

  • تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    یوم پیدائش : 20 مارچ 1966
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔ الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔ انہوں نے اب تک ہو چکی ہیں ۔ الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپور ہے۔ شادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    پیدائش:16 نومبر 1930ء
    وفات:21 مارچ 2013ء
    بوسٹن
    وجۂ وفات:مرض
    رہائش؛کوگی ریاست
    شہریت:نائجیریا
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    مادر علمی:جامعہ لندن
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:براؤن یونیورسٹی
    کارہائے نمایاں:عوام کا نمائندہ
    اعزازات؛
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مین بکر انٹرنیشنل پرائز (2007)
    پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ (2002)
    سینٹ لوئیس ادبی انعام (1999)
    بین الاقوامی نونینو انعام (1994)
    لوٹس انعام برائے ادب (1975)
    نائیجیرین نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز

    چینوا آچہ بہ یا چنوا اچیبے (انگریزی: Chinua Achebe) ایک نائیجیریائی ناول نگار، شاعر، پروفیسر اور ناقد تھے۔اچیبے کا 1958ء میں لکھا گیا پہلا ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ بے حد مشہور ہوا تھا۔ اس ناول میں افریقا میں نوآبادیت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب تک اس ناول کی ان گنت جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ وہ 1990ء کے بعد سے امریکا میں مقیم تھے۔ اچیبے نائجیریا سے امریکا منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ 1990ء میں کار کے ایک حادثے میں ان کے بدن کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔ اچیبے نے 20 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں سے کچھ کتابوں میں نائیجیریا میں قیادت اور سیاست دانوں کی ناکامیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ 21 مارچ 2013ء میں 82 برس کی عمر میں مختصر بیماری کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔