Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    پیدائش:16 مارچ 1907ء
    تبریز
    وفات:05 اپریل 1941ء
    تہران
    شہریت:ایران
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: ویکی پیڈیا انگلش کے مطابق تاریخ ولادت 17 مارچ 1907ء درج ہے ۔

    پروین اعتصامی بروز ہفتہ یکم صفر المظفر 1325ھ مطابق 16 مارچ 1907ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئیں۔ ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ“ تھا۔
    والدین و حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروین کے والد اعتصام الملک مرزا یوسف اعتصامی تھے۔ پروین کے داد مرزا ابراہیم خان مصطفوی اعتصام الملک تھے جو شہر آشتیان صوبہ مرکزی سے ہجرت کرکے تبریز آ گئے تھے۔ بعد ازاں شہنشاہ نصیر الدین شاہ قاچار کے حکم پر اُنہیں وزارت خزانہ در صوبہ آذربائیجان میں مقرر کیا گیا۔ پروین کے چار بھائی تھے۔ پروین کی والدہ کا 1973ء میں اِنتقال ہوا۔
    تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بعد میں یہ خاندان تبریز سے تہران چلا آیا اور یہاں پروین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پروین نے امریکن گرلز کالج میں تحصیل علم کیا۔ 1924ء میں اِیران بیتھل اسکول سے گریجویشن کیا۔
    1926ء سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1941ء تک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کے حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء- 1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ”دانش گاہِ سرائے عالی“ میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔
    پروین اعتصامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پروین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔
    1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
    اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
    پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 05 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    ہے جس کا تخت سجدہ گاہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا

    سعادت سعید

    پیدائش:15 مارچ 1949ء
    لاہور
    شہریت: پاکستان
    مادر علمی:جامعہ پنجاب

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں بطور پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ انقرہ یونیورسٹی، ترکی میں اردو و پاکستان اسٹڈیز چئیر سے بھی منسلک رہے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید 15 مارچ، 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر اللہ دتہ (الف د) نسیم بھی اردو زبان و ادب کے استاد تھے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے ابتدائی تعلیم منٹگمری یعنی ساہیوال سے حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج، ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ 1969ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور بہترین کارگردگی پر انھیں طلائی تمغے اور بابائے اردو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 1988ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی اردو زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریسی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔ 2009ء سے تا حال وہ مذکورہ یونیورسٹی سے بطور سینئر وزٹنگ پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (1) کجلی بن (نظموں کا مجموعہ)
    سنگ میل ،لاہور، 1988ء
    (2)اقبال اور مجلہ ساہیوال
    بزم اقبال، لاہور، 1989ء
    (3) تہذیب، جدیدیت اور ہم
    اقبال۔ شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1991ء
    (4) مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
    (اردو نثری ترجمہ)، اقبال۔
    شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1992ء
    (5) جہت نمائی،
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1995ء
    (7) فن اور خالق،چند جدید نظم گو
    شعرا کے مطالعے
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (8) ادب اور نفی ادب ،ادبی نظریہ سازی
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (9) اقبال ایک ثقافتی تناظر
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (10) چاند وقت، ترکی شاعری
    از سرپل کلفل، (ترجمہ)
    مکتبہ الفاروق، لاہور، 1998ء
    (11) فنون آشوب (طویل نظم)
    مکتبہ ابلاغ، لاہور، 2002ء
    (12) بانسری چپ ہے (شعری مجموعہ)
    دستاویز مطبوعات، لاہور، 2002ء
    (13) شناخت (شعری مجموعہ)
    مکتبہ نسیم، لاہور، 2007ء

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا
    غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
    کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
    آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا
    لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر
    عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
    شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق
    قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا
    دشت فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
    اشرف نہیں رہا کوئی اسفل نہیں رہا
    ہے جس کا تخت سجدہ گہہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا
    جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
    طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    مرنے کا خوف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے
    گرفتار ہونے کا موسم
    سر قریۂ آبرو
    آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے
    شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے
    بھنور در بھنور روشنی کے سمندر
    طوفان قیدی ہوئے
    یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے
    نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں سمیٹے
    ضمیروں میں لتھڑی جرائم زدہ خواہشوں کو
    مٹائے تو کیسے
    رگوں کے دریچوں سے لپٹی فصیلوں کو ریزوں کی صورت
    ہوا میں اچھالے تو کیسے
    کہ اس کا نوشتہ فقط از سر نو گرفتار ہونا
    نے دائروں کے تسلط میں جینا
    سیاہی کے باطن میں موجود غاروں میں رہنا
    ہلاکت کی سرچشمہ گاہوں سے
    آزاد رہنے کی عظمت سے واقف ہواؤ
    ہماری فصیلوں کی جانب بھی آؤ
    ہمیں یہ بتاؤ
    گرفتار ہونا ہمارا نوشتہ نہیں تھا
    ارادوں میں موجود طوق و سلاسل
    ہوس ناک دہشت
    تمنا کی مٹی میں فولاد ہوتے رہے ہیں
    خود اپنی توانا حقیقت
    گرفتار کرنے سے قاصر رہے میں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    اپنی محرومی کا دکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے
    سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا
    منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا
    مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں
    میں دائروں کے مہین تاروں کی
    ناتمامی میں
    ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں
    کہانیوں کے دبیز پردوں کی تہ میں عریاں
    تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ عذاب بن کر
    مرے سفر کی ہر ایک منزل میں آ چھپی ہے
    میں نوحہ لکھتا ہوں
    زرد سوچوں کا
    کالی سانسوں کا
    اپنے ہونٹوں کے شمسی لفظوں کا ذائقوں کا
    تمہارے سینے پہ کنڈلی مارے جو سانپ بیٹھا ہے
    اس کی خونی زباں کا نوحہ
    خود اپنے باطن کے خشک صحرا میں
    اجلے تاروں کی تابناکی کا
    خواہشوں سے بھری ہواؤں کی کائناتوں کا نوحہ لکھتا ہوں نوحہ خواں ہوں

  • بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    پیدائش:15 مارچ 1894ء
    تیجن
    وفات:03 مارچ 1974ء
    اشک آباد
    شہریت:سلطنت روس
    سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    رکن:اکیڈمی آف سائنس سویت یونین
    زبان:ترکمن زبان
    اعزازات:
    آرڈر آف لینن
    اعزاز اکتوبر انقلاب

    بردی مرادووچ قربابائیف ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف 03 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔
    بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔ 1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول فیصلہ کن قدم، ناول اور طویل افسانے نیبت داغ، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان، پھٹ پڑنے والا بند، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ، شمالی بعید کی روشنی” وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں آئیلار کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انہیں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انہیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[5]آپ نے گوگول، لیرمونتوف، پشکن اور ٹالسٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء – 1950ء تک وہ نے ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے صدر رہے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول اور افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    فیصلہ کن قدم
    نیبت داغ
    سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
    پھٹ پڑنے والا بند
    پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
    شمالی بعید کی روشنی
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔
    جرات میندوں کا گیت
    آئیلار
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن
    (1944ء -1950ء)
    رکن ترکمانی سائنس اکادمی
    نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
    رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور
    23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
    رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی اسٹالن انعام 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا لینن انعام اور سوشلست محنت کے ہیرو کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں مختوم قلی انعام بھی دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 03 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

  • طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)
    پیدائش : نومبر 1944
    وفات: 11 مارچ 2012
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماضی کی خوب صورت پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ طاہرہ واسطی نومبر 1944 میں خوشاب /سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب اور سرگودھا میں حاصل کی جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ طاہرہ واسطی نے 1968 میں بطور اداکارہ اپنے فنی کیریئر کا آغاز سعادت حسن منٹو کے ایک ناول پر بنانے گئے ڈرامہ ” جیب کترا ” سے کیا لیکن پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” آخری چٹان ” میں ملکہ ازابیل کے کردار میں انہیں لازوال شہرت ملی جس سے وہ پاکستان کی صف اول کی اداکارائوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں ۔ 1980 میں انہوں نے معروف اداکار اور انگریزی کے نیوز کاسٹر رضوان واسطی سے شادی کی جس سے انہیں دو بچے پیدا ہوئے۔

    ان کے دونوں بچوں بیٹا عدنان واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی اور ان کی بھانجی ماریہ واسطی نے بھی فن اداکاری کو اپنا لیا ۔ طاہرہ واسطی نے بطور مصنفہ کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ان کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ” کالی دیمک ” بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے ایڈز کے موضوع پر لکھا تھا ۔ 1980 سے 1990 تک طاہرہ واسطی پاکستان کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول اور مصروف اداکارہ رہیں ۔ وہ 1990 میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئیں ۔ طاہرہ واسطی کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ، کشکول، جانگلوس، آخری چٹان ، جیب کترا، اس کی بیوی، ٹیپو سلطان ، دل دریا دہلیز وغیرہ ہیں ۔ وہ فالج کا شکار ہو کر مختصر علالت کے بعد 11 مارچ 2012 میں کراچی میں انتقال کر گئیں ۔

  • ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

    ہستی مل ہستی

    تاریخ ولادت:11 مارچ 1946ء
    جائے ولادت:ضلع راجسمند، راجستھان

    ہستی مل ہستی ہندی غزل میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ 11 مارچ 1946 کو راجستھان کے ضلع راجسمند میں پیدا ہوئے۔ 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، منوہر ادھاس وغیرہ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے گایا ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی یہ غزل ‘”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ بہت مشہور ہوئی۔ کس سے کیا کہیں، کچھ اور طرح سے بھی، پیار کا پہلا خط وغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔ انھیں مختلف ادبی اداروں نے ایوارڈ سے نوازا جن میں مہاراشٹر ہندی ساہتیہ اکادمی سرفہرست ہے۔ یہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے ”یوگن کاویہ“ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
    جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
    لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
    گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
    لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
    ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
    گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے
    تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے
    صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں
    ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
    سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی
    چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے
    بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
    ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
    وہ جو قصے میں تھا شامل وہی کہتا ہے مجھے
    مجھ کو معلوم نہیں یار یہ قصہ کیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
    ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
    ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
    ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
    کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا
    بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں
    انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن
    نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں

  • یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات ممتاز شیریں

    تاریخ ولادت:12 ستمبر 1924ء
    تاریخ : وفات:11 مارچ 1973ء

    ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

    ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
    اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاؤ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔
    ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

    1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔
    اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
    افسانوی مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    اپنی نگریا
    حدیث دیگراں
    میگھ ملہار
    ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی
    تنقید
    ۔۔۔۔۔۔
    معیار
    منٹو، نوری نہ ناری
    مدیر
    ۔۔۔۔۔۔
    نیا دور (ادبی جریدہ)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔۔
    درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
    پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)
    ممتاز شیریں پر کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں، ناقد، کہانی کار ، ابو بکر عباد، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2006ء
    ممتاز شیریں: شخصیت و فن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، اکادمی ادبیات پاکستان
    ملازمت
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔

  • اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    عزم بہزاد

    پیدائش:31دسمبر 1958ء
    کراچی، پاکستان
    وفات: 4مارچ 2011ء
    کراچی، پاکستان
    رشتہ دار :بہزاد لکھنوی (دادا)

    اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کا اصل نام مختار احمد تھا اور وہ 31 دسمبر 1958ءکو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے تھے۔ ان کے والد افسر بہزاد بھی کراچی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ عزم بہزاد کو شاعری ورثے میں ملی ہے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ ڈاکٹر بیتاب نظیری اور نازش حیدری سے مشورۂ سخن کیا۔ عزم بہزاد نے ہندستان کے مختلف شہروں میں اور خلیجی ریاستوں کے مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ وہ آج کل کسی اشتہاری ایجنسی میں بطور اردو کاپی رائٹر ملاز م ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے اسکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔ عزم بہزاد کی شاعری کا مجموعہ” تعبیر سے پہلے“کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ عزم بہزاد 04 مارچ 2011ءکو اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کراچی میں وفات پاگئے۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے موسم سر گرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
    میں نے شاید دیر لگادی خود سے باہر آنے میں

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
    لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

    دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
    کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

    آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ
    یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

    عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں
    عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

    اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں
    اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

    اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو
    اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

    سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک
    جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

    کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
    قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

  • ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو

    شبنم آپی

    اصل نام : شبنم سید

    تخلص:شبنم آپی
    ولدیت: سیّد معین الدین
    آبائی وطن : عثمان آباد
    جائے ولادت: عثمان آباد
    تاریخ ولادت:04 مارچ 1973ء
    تعلیم: ایم۔اے ۔ڈی۔ ایڈ
    پیشہ: معلمہ
    تلمیذ:منظر خیامی، کوکن، رائے گڈھ
    تصنیفات:افکار شبنم ۔زیر طباعت
    آغازِ تحریر: باز دہم
    پتا: خواجہ نگر گلّی نمبر ۳، اقصی چوک
    عثمان آباد مہاراشٹر انڈیا

    پذیرائی:
    ایوارڈ:Yoga, Pune-2005

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تو نے جب ہاتھ سر پہ رکھا تھا
    سرد موسم بھی آگ جیسا تھا
    کتنی ویرانیاں تھیں اس گھر میں
    جب تو پردیس جاکے رہتا تھا
    وہ نہ آیا یہ اس کی مرضی تھی
    مجھ کو بس انتظار کرنا تھا
    باغ میں جب وہ ساتھ چلتے تھے
    خار بھی پھول جیسا لگتا تھا
    ایسے میں زندگی کا حاصل کیا
    میں بھی تنہا تھی وہ بھی تنہا تھا
    بے سبب کب اداس تھی شبنم
    اس کی یادوں نے دل کو گھیرا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اس نے کیا کیا نہ غم دیا مجھ کو
    اور پھر چھوڑ کر گیا مجھ کو
    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو
    آج بھی اس کے گھر کی رونق ہوں
    جس نے مجبور کر رکھا مجھ کو
    میں اسے بھی دعائیں دیتی ہوں
    جو بھی دیتا ہے بد دعا مجھ کو
    خود وفــــــادار بھی نہیــں لیـــکن
    او ر کہــتا ہے بے وفــــا مجھ ـکو
    درد و غم کے سوا بھلا شبنم
    پیار میں اور کیا ملا مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    حضور دور نہ جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں گر گئی تو اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    ہنسی کے کچھ تو اجالے مکان میں ہوں گے
    خود ہنس کے مجھ کو ہنساؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں اپنے حسن کی تنویر کو بڑھاؤں گی
    چراغ دل کے جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے
    خبر ہے مجھ کو سویرا بھی ہونے والا ہے
    ابھی نہ روٹھ کے جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    یہ چاند دور سے کتنا حسین لگتا ہے
    اسے قریب بھی لاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    کہ ٹوٹ جائے گی شبنم تمھارے جانے سے
    ہنساؤ یا کہ رلاؤ، بڑا اندھیرا ہے

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروز رضوی

    وہ چاک جن کو رفو کر رہی ہوں سالوں سے
    میں ایک سیتی ہوں تو دوسرا ادھڑتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    3 مارچ 1969

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی صاحبہ کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جنا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح