Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    کیسے کیسے لوگ/آغا نیاز مگسی

    غصہ اور جذبات شتر بے مہار اور بے لگام مست گھوڑے اور ہاتھی کی طرح ہوتے ہیں جن پر قابو پانا انسان کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے غصے پر تو بہرحال قابو پایا جاتا سکتا ہے خواہ وہ بڑی مشکل سے ہی سہی لیکن میرے خیال میں جذبات پر قابو پانا کسی کے بس یا اختیار میں نہیں ہے ۔ خوشی ، غم ، محبت ، فتح و شکست اور ہجر و وصال کے کچھ ایسے جذبات اور لمحات ہوتے ہیں جب انسان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے ہیں یا اشک جاری ہو جاتے ہیں ۔ میرے ساتھ بھی آج ایسا ہی ہوا جب 2 مارچ 2023 کے دن دو پہر کو میں اپنی بچی کو اس کی چھٹی کے وقت نرسنگ کالج سے لانے کیلئے گھر سے جا رہا تھا تو ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کے دفتر ڈیرہ مراد جمالی میں” اللہ ہو” چوک شہید بینظیر بھٹو پریس کلب کے سامنے چند بلوچ نوجوانوں کو بلوچوں کی ثقافت کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچوں کے روایتی لباس میں ملبوس بلوچی گیت گاتے اور بلوچی رقص کرتے ہوئے دیکھا تو بے اختیار میرے قدم رک گئے ۔ میں اپنے ارد گرد کی دنیا سے بیگانہ اور بے نیاز ہو کر بلوچی رقص اور گیت کے منظر اور پس منظر میں کھو گیا اور مجھ پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری گئے یہ میرے دلی جذبات کے عکاس تھے جن پر میں سخت کوشش کے باوجود قابو نہ پا سکا اور میرےدل و دماغ میں یہ خیال آنے لگا کہ ہم بلوچ کیسی خوب صورت ثقافت کے وارث اور امین ہیں اور پھر یہ خیال بھی دل میں آیا کہ دنیا کی تمام اقوام کی ثقافت خوب صورت ہوتی ہیں لیکن یہ قدرتی یا فطری امر ہے کہ ہر قوم یا ہر انسان کو اپنی ثقافت پر ہی فخر ہوتا ہے۔

    قوموں کی ثقافت کے حوالے سے میرے دل میں دو صحافیوں کیلئے بہت بڑا احترام ہے ایک سندھ کے ممتاز صحافی علی قاضی صاحب اور بلوچی کے نامور صحافی اقبال بلوچ صاحب ہیں ۔ علی قاضی نے روزنامہ کاوش ، کے ٹی این نیوز اور کشش ٹی وی کے ذریعے سندھی ثقافت کو اجاگر اور محفوظ کرنے کی غرض سے ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کے روز ” سندھی کلچرل ڈے” منانے کی روایت ڈالی اور اس کے دو تین سال بعد علی قاضی کی تقلید کرتے ہوئے اقبال بلوچ نے بلوچی چینل "وش نیوز” کے ذریعے 2 مارچ کو ” بلوچ کلچرل ڈے” منانے کی روایت قائم ڈالی ۔ علی قاضی کے سندھی قوم پر اور اقبال بلوچ کے بلوچ قوم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قومی ثقافت کو زندہ اور محفوظ رکھنے کی روایت ڈالی ورنہ ان کی ثقافت برائے نام رہ گئی تھی ۔ کسی بھی قوم کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور اجاگر کرنے میں حکمرانوں سے زیادہ دانشوروں ، گلوکاروں ، نوجوانوں جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں اور عام افراد کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ۔

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    25 فروری 1968

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے مشہور اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے۔
    ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    1968ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔
    شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن
    اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍﻝﺩﯾﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ..
    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
    ﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ
    ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍ
    ﮨﻮﺍ … ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ
    ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ
    ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ
    ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ …
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯ
    ﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے ۔۔ وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں ۔۔
    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔
    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔۔
    انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،
    بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہے ۔۔۔۔
    بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہے ۔۔۔ لیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی ۔۔۔

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں ۔
    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے )،مصنف:اشفاق احمد خاں

    نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے )،مصنف:اشفاق احمد خاں

    نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے ) ،مصنف : اشفاق احمد خاں
    صفحات : 192
    ناشر : دارالسلام ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور 042-37324034
    زیر نظر کتاب ”خلفائے راشدین “ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام کی شائع کردہ ایک خوبصورت پیشکش ہے جو کہ بالترتیب چار حصوں پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب مشہور ماہر تعلیم، ادیب اور محقق اشفاق احمد خاں کی تصنیف ہے ۔ اشفاق احمد خاں کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری محمد یونس حسرت مرحوم کے فررزند ارجمند ہیں ۔محمد یونس حسرت مرحوم نے بچوں کےلئے بیشمار تربیتی اور اصلاحی کتب لکھیں جو کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں میں بھی بہت زیادہ دلچسپی کے ساتھ پڑھی اور پسند کی جاتی تھیں ۔ اشفاق احمد خاں کی تحریر میں وہی اپنے والد مرحوم والی پختگی، شگفتگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے جو کہ زیر نظر کتاب ” خلفائے راشدین “ میں بھی نمایاں ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو بڑاانسان بنانا چاہتے ہیں تو انھیں بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کروائیں۔مسلمانوں کے نزدیک انبیا ءعلیھم السلام کے بعد سب سے زیادہ عظمت اور شان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم ہیں ۔ جبکہ صحابہ کرام میں سے عظمت والے خلفائے راشدین ہیں ۔خلفائے راشدین وہ عظیم ہستیاں ہیں جنھوں نے اسلام کی آبیاری کےلئے اپنا تن من دھن ، وطن ، اولاد ، ماں باپ سب کچھ قربان کردیا ۔ خلفائے راشدین میں سے ہر صحابی کااپنا ایک مقام ہے ۔

    سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنھم خلفائے راشدین ہیں اور ان کا عہد ۔۔۔۔ خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ خلافت راشدہ کے عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے۔ تیس سال کوئی بہت لمبا عرصہ نہیں صرف تین عشرے ہیں ان تین عشروں میں خلفائے راشدین نے اسلام کے پھیلاﺅ ، تبلیغ و اشاعت اور اسلامی ریاست کی توسیع و استحکام کےلئے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوتے ہیں ۔ خلفائے راشدین میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولین خلیفہ ہیںجبکہ خلافت راشدہ کے زریں عہد کی آخری لڑی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔
    خلافت راشدہ ۔۔۔۔کا دورہر لحاظ سے تاریخ کا ایک سنہرا دور ہے جو ہمارے آج کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اس دور میں تمام رعایا کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔ ان کی شخصی و سیاسی آزادی کی حفاظت کی جاتی تھی۔ مسلمان اور غیر مسلم کے حقوق یکساں تھے ۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی جرات کرسکتا تھا۔ غیر مسلموں کو مذہبی آزادی حاصل تھی اس کے ساتھ ان کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت بھی کی جاتی تھی۔ عدل کا ترازو سب کے لیے برابر تھا۔ نہ کوئی امیر، نہ غریب، نہ بادشاہ ، نہ عامی، نہ گورا ، نہ کالا اور نہ ہی رنگ و نسل کا امتیاز تھا۔ سب برابر تھے۔ مجرم مجرم ہی تھا خواہ کوئی بھی ہو۔خلافت راشدہ میں فتوحات کا سلسلہ بھی جاری ہوا اور سلطنت وسیع ہوئی۔ اندرونی فتنوں کو بھی دبایا گیا اور بیرونی خطرات کا مقابلہ بھی ہوا لیکن ان تمام کاموں میں ایک چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ان کا مقصد عوام کی فلاح، ان کی خوشحالی و آسودہ حالی، ان کو امن و سکون اور اسلامی ریاست و اسلام کا تحفظ تھا۔آج امت مسلمہ خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کا جسد تارتار ہے تاہم نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے اللہ اسی امت میں سے ایسے جوان پیدا فرمائے گاجو امت کے درد کا درماں کریں گے شرط ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی بنیادوں پر کریں انھیں اسلامی ، اخلاقی اور اصلاحی کتب پڑھنے کےلئے دیں ۔اور یہ بات سمجھیں کہ خلفائے راشدین کا بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ۔۔۔۔ہمارے آج کے بچوں ، بچیوں ، جوانوں اور بزرگوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔
    یہ بات یقینی ہے کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے ، اس دور میں موبائل ، فیس بک ، پب جی گیم ، واٹس ایپ اور دیگر ایسے بہت سے ذارئع موجود ہیں جو بچوں اور بچیوں کے اخلاق وکردار پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔۔۔۔ان حالات میں یہ بات بے حد ضروری ہے بلکہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کے لئے ایسی کتابوں کاانتخاب کریں جو ان کے اخلاق وکردار کو سنواریں اور ان کے دلوں میں اپنے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کی محبت پیدا کریں ۔” خلفائے راشدین “ بچوں کے مطالعہ لئے بہترین انتخاب ہے۔چار حصوں پر مشتمل اس خوبصورت اور لاجواب کتاب میں بطریق احسن خلفائے راشدین کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں ۔ کتابوں کاانداز بیاں بہت دلچسپ ، سادہ، آسان اور شستہ ہے جو کہ ان شاءاللہ بچوں کی شخصیت پر گہرے نقوش مرتب کرے گا ، ان کے دلوں میں اسلام ، نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین کی محبت پیدا کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتاب دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے باطنی طور پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔ یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    پیدائش:18 فروری 1883ء
    ایراکلیون
    وفات:26 اکتوبر 1957ء
    فری برگ
    وجۂ وفات:ابیضاض
    مدفن:ایراکلیون
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:یونان
    مادر علمی:جامعہ ایتھنز
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:ڈاکٹریٹ
    پیشہ:منظر نویس، صحافی، شاعر، مترجم، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار، مصنف، سیاست داں
    مادری زبان:یونانی زبان
    شعبۂ عمل:سفر نامہ، ناول

    نکوس کزنتزاکس کو بیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والا ادیب و فلسفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم انھیں حقیقی شہرت اپنے ناول زوربا پر 1964 میں مائکل کے کویانس کی فلم بننے کے بعد حاصل ہوئی۔

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر

  • ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں

    سیما غزل

    پیدائش:17فروری 1964ء
    لاہور، پاکستان

    پیدائش لاہور میں جمیل الدین عالی(چچا) کے گھر ہوئی لیکن کراچی میں پروان چڑھی۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ والد شاعر اور ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے۔ ریڈیو سے ”آئو بچو کہانی سنو“ لکھنے سے شروعات کی۔ پھر 1989 میں پاکستان کے مشہور رسالہ ”دوشیزہ“ کی ایڈیٹر رہیں اور ساڑھے 12 سال ذمےداری نبھائی۔ پھر ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھنے لگیں۔ کئی ڈرامے بے پناہ مشہور ہوئے جن میں مہندی، چاندنی راتیں، انا، ہم سے جدا نہ ہونا کو لگاتار ہر سال لکس ایوارڈ ملے۔ اب تک تقریبا” 400 سے زیادہ ٹی وی ڈرامے لکھ چکی ہیں جس میں سے 375 سے زیادہ آن ائر آچکے ہیں اب بھی 4 سے زیادہ ڈرامے آن ائر ہیں جن میں اے آر وائی پہ ”دل نہیں مانتا“، ہم ٹی وی پہ ”دے اجازت جو تو“ ہم 2 پہ ”شدت“۔ زی زندگی انڈین چینل پہ ”میرا سایہ“، پی ٹی وی پہ دو سیریئلز ”نا آشنا“ اور ”چاہت“ ہے۔ ایک شعری مجموعہ ”میں سائے خود بناتی ہوں“ 2013 میں چھپا ہے اور اس کو 2013 کا پروین شاکر ”خوشبو“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 7 ناولز لکھے جو مارکیٹ اور نیٹ پر موجود ہیں جن میں ”چاند کے قیدی“، ”کمند“، ”زرد پتوں کا بھنور“ ۔ ”کوری آنکھیں کال بیل“ ، ”اندھی رات کا بیٹا“ اور ”آدھا وجود“ ہیں. نظموں کی کتاب چھپنے کے مراحل میں ہے۔ کراچی میں ایک ادبی تنظیم ” سائبان“ کی چئرپرسن ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں
    عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں
    راستہ دل تلک تو جاتا تھا
    اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں
    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں
    جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا
    اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں
    دل میں اترا وہ دیر سے لیکن
    میرا پہلا لگاؤ آنکھیں تھیں
    قطرہ قطرہ جو بہہ گئیں کل شب
    آؤ تم دیکھ جاؤ آنکھیں تھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس
    جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس
    آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی
    بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس
    ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے
    ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس
    تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ
    میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ تھا اور بس
    یوں تو پڑے رہے مرے پیروں میں ماہ و سال
    مٹھی میں میری ایک ہی لمحہ تھا اور بس

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سانس کی مہلت کیا کر لے گی
    اب یہ سہولت کیا کر لے گی
    بے بس کر کے رکھ دے گی نا
    اور محبت کیا کر لے گی
    کیا کر لے گا چارہ گر بھی
    درد کی شدت کیا کر لے گی
    ایک جہنم کاٹ لیا ہے
    اب یہ قیامت کیا کر لے گی
    میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب
    اس کی رفاقت کیا کر لے گی
    میرا آنگن صحرا جیسا
    دشت کی وحشت کیا کر لے گی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
    یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی

    خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
    ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا

    میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
    اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا

    مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
    کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے

    ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
    جن پہ میں آج تک نہیں روئی

    میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
    وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی

    سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
    کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں

    بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
    اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے

    جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
    دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے

  • معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    پیدائش: 11اکتوبر 1924ء
    وفات: 14 فروری 2015ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں

    پیر نصیر الدین نصیر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
    دیگر نام:چراغ گولڑہ
    پیر صاحب گولڑہ شریف
    حضور نصیر ملت
    نصیرالدین اولیا
    پیدائش:14 نومبر 1949
    گولڑہ شریف،پاکستان
    وفات:13 فروری 2009ء
    گولڑہ شریف، اسلام آباد،پاکستان
    مذہب:سلام
    سلسلہ چشتیہ اور قادریہ قمیصیہ
    پیشرو:غلام معین الدین گیلانی
    جانشین:پیر سید نظام الدین جامی گیلانی
    پیر سید نجم الدین گیلانی
    پیر سید شمس الدین شمس گیلانی

    پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری قمیصی ایک شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا و پیر سلسلہ چشتيہ تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں ”شاعر ہفت زبان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑو شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑو شریف میں مرجع خلائق ہے۔
    تصانیف و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
    ۔ (2)پیمانِ شب (غزلیات اردو)
    ۔ (3)دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
    ۔ (4)امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
    ۔ (5)نام و نسب(در بار سیادت پیران پیر )
    ۔ (6)فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
    ۔ (7)رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
    ۔ (8)عرشِ ناز (کلام در زبان فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
    ۔ (9)دستِ نظر ( غزلیات اردو)
    ۔ (10)راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
    ۔ (11)تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
    ۔ (12)قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
    ۔ (13)لفظ اللہ کی تحقیق
    ۔ (14)اسلام میں شاعری کی حیثیت
    ۔ (15)مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
    ۔ (16)پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (17)فتوی نویسی کے آداب
    ۔ (18)موازنہ علم و کرامت
    ۔ (19)کیا ابلیس عالم تھا؟
    نمونہ اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نمونہ اشعار فارسی
    ۔۔۔۔۔۔
    اے صاحبِ اسمِ پاک!مَن یـَنصُرُنِی
    دل ریشم و سینہ چاک،مَن یـَنصُرُنِی
    دستم اگر از فضل نہ گیری ربی
    مَن یـَنصُرُنِی سَوَاک!مَن یـَنصُرُنِی

    نمونہ اشعار اردو
    ۔۔۔۔۔۔
    دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

    ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
    مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

    بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
    مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

    غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
    محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

    یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
    آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

    عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
    جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

    میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
    سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

    نمونہ اشعار پنجابی
    ۔۔۔۔۔۔
    بے قدراں کج قدر نہ جانی کیتی خوب تسلی ھو
    دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کُتیاں دے گل ٹلی ھو
    بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
    کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو

    نمونہ اشعار عربی
    ۔۔۔۔۔۔
    یا مدرک احوالي
    قد تعلم واللہ ،ما يخطر في بالي

    الفخر له جازا
    من جاء علٰي بابك، قد نال و قد فازا

    نمونہ اشعار پوربی
    ۔۔۔۔۔۔ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں
    جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

    دُور بھیے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں
    پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

    یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر
    ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

    درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا
    ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

    اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں
    اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

    چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے
    چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

    جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی
    تیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نِردھن ماں

    ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا
    چتون میں جادو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

  • بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    عطا شاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :محمد اسحاق
    قلمی نام:عطا شاد
    تاریخ پیدائش :01 نومبر 1939ء
    تاریخ وفات:13 فروری 1997ء
    کوئٹہ، بلوچستان

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 1 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
    عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
    ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
    13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو
    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا
    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا
    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا
    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا
    مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
    مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا
    کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
    ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
    تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا
    نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
    سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا
    عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
    چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا