Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان

    19؍جنوری 1873 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔

    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ظفر علی خان نے 8؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔

    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
    ——-
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
    ——-
    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
    ——-
    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
    ——-
    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا
    ——-
    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
    ——-
    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو
    ——-
    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
    ——-
    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
    ——-
    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
    ——-
    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
    ——-
    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
    ——-
    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
    ——-
    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں

    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں

    منو بھائی

    19 جنوری یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز ترقی پسند و مزدور دوست ادیب، شاعر ، صحافی اور کالم نگار منو بھائی 6 فروری 1933 کو وزیر آباد پنجاب میں محکمہ ریلوے کے ملازم محمد عظیم قریشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی اردو، پنجابی اور فارسی جبکہ ان کے ماموں شریف کنجاہی پنجابی کے معروف شاعر تھے۔ منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد اور قریشی قبیلے سے تعلق تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وزیر آباد جبکہ گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹر میڈییٹ تک تعلیم حاصل کی لیکن دوران تعلیم سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں کالج سے فارغ کر دیا گیا جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے ۔ والد محمد عظیم قریشی کی سفارش پر انہیں محکمہ ریلوے میں ملازمت مل گئی مگر منیر احمد کو سرکار کی پابندی گوارا نہیں تھی اس لیے سرکار کی نوکری چھوڑ کر راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ ” تعمیر” سے اپنی صحافتی زندگی کے کیریئر کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں وہ روزنامہ امروز میں چلے گئے وہاں سے پھر پی پی پی کے بانی چیئرمین اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ” مساوات” میں لے گئے۔ منیر احمد نے روزنامہ تعمیر میں ” اوٹ پٹانگ ” کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی مگر احمد ندیم قاسمی نے انہیں ” منو بھائی ” کا نام دے دیا جس کے بعد ان کی پہچان منو بھائی کے نام سے ہو گئی اور وہ شاعری و کالم نگاری منو بھائی کے نام سے ہی کرتے رہے ۔ وہ اپنا کالم ” گریبان” کے عنوان سے لکھتے رہے ۔ روزنامہ تعمیر، امروز اور مساوات کے بعد وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے ۔ منو بھائی ایک ترقی پسند اور مزدور و غریب دوست شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنی تحریروں ، ڈراموں اور شاعری میں گلی، کوچوں اور محلوں کی حقیقی زندگی کی منظر نگاری کرتے تھے۔

    منو بھائی کے پی ٹی وی پر پیش کیے گئے ڈرامے بہت زیادہ مشہور و مقبول ہوئے جن میں ” سونا چاندی ” سب سے زیادہ مشہور ہوا مگر اس کے علاوہ ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز بھی بہت پسند کیے گئے جن میں ” جھوک سیال، خوب صورت، گمشدہ ، کی جانے میں کون؟، عجائب اور دشت شامل تھے ۔ دشت میں انہوں نے بلوچستان کی صحرائی زندگی اور ثقافت کی منظر کشی کی ۔ منو بھائی کی تصانیف میں ، جنگل اداس ہے ، فلسطین فلسطین ، محبت کی ایک سو ایک نظمیں ، انسانی منظر نامہ (ترجمہ) اور ان کا پنجابی شعری مجموعہ ” اجے قیامت نئیں آئی” شامل ہیں ۔ منو بھائی طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک لاکھ 45 ہزار کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا وہ خون عطیہ کرنے والے ادارے ” سندس فائونڈیشن” کے تاحیات چیئرمین رہے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز گیا۔

    نمونہ کلام

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
    روندے روندے سوں رہندے ساں ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
    بھک لگدی اے منگ نیں سکدے ملدا اے تے کھا نیں سکدے
    نیں ملدا تے رو نیں سکدے نہ رویے تے سوں نہیں سکدے

  • ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    17 جنوری۔۔یومِ پیدائش۔
    ہاجرہ مسرور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور ادبی خانوادہ کی رکن، برانٹی سسٹر کے نام سے شہرت پانے والی معروف ادیبہ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ہاجرہ مسرور کے بچپن میں ہی، ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جب کہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کر چکی تھیں ۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی ۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔
    ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ڈراموں کا مجموعہ ‘وہ لوگ’ شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘ سب افسانے میرے’ کے عنوان سے شائع کیا۔ افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کیں۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ 2005ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی۔ یہ فلم سرور بارہ بنکوی نے بنائی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔

  • یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوںیوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 20 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔

    گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

  • روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    پیدائش:05 مارچ 1871ء
    زاموسک
    وفات:15 جنوری 1919ء
    برلن
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:قتل
    شہریت:جرمنی
    سلطنت روس
    مادر علمی:جامعہ زیورخ
    زبان:جرمن

    روزا لکسمبرگ، جن کا مکمل نام روزالہ لکسمبرگ تھا، 5 مارچ 1871ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ مارکس کے نظریہ سے متاثر تھیں اور ایک فلسفی، ماہر معاشیات اور پولینڈ کی یہودی تحریکوں کی کارکن تھیں، جو بعد میں ایک جرمن شہری بھی رہیں۔ روزا لکسمبرگ پولینڈ اور لیتھویانا کی سماجی جمہوریت، جرمن سماجی و جمہوری پارٹی، جرمنی کی سماج و جمہور پارٹی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کی کارکن رہیں۔

    1915ء میں جب جمہور پارٹی نے جرمنی کی جنگ عظیم دوم میں شرکت کی حمایت کی تو روزا لکسمبرگ نے جنگ کے خلاف ایک اتحاد سپارتیس لیگ کے نام سے تشکیل دیا۔ یکم جنوری 1919ء کو یہ لیگ جرمنی کے کمیونسٹ پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ نومبر 1918ء میں جب جرمنی میں انقلاب برپا ہوا تو روزا لکسمبرگ نے سرخ جھنڈا کے نام سے ایک تحریک شروع کی جو سارتیس لیگ کی جدوجہد کا ہی حصہ تھی۔
    15 جنوری 1919ء کو ان کی وفات ہوئی۔

  • مارٹن لوتھر کنگ: یکساں  شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ: یکساں شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ

    15 جنوری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی پادری مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالے امریکیوں کیلئے یکساں شہری حقوق کی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ وہ اٹلانٹا، جارجیا میں 15 جنوری 1929ء کو پیدا ہوئے اور دوسرے سیاہ فاموں کی طرح تعصب کا نشانہ بنتے رہے۔

    انہوں نے 1955ء کے منٹگمری بس بائیکاٹ کی قیادت کی ۔۔۔ بس بائیکاٹ کی یہ تحریک یکم دسمبر 1955ء کو منٹگمری، الاباما میں روزا پارکس کے بس ڈرائیور کے اس حکم کو ماننے سے انکار پر چلائی گئی تھی کہ وہ سیاہ فاموں کے لیے مختص بس کے حصے میں اپنی سیٹ سفید فام مسافر کیلئے چھوڑ دیں۔امریکی کانگریس نے بعد میں روزا پارکس کو ” شہری حقوق کی خاتون اول” اور ” تحریک آزادی کی ماں” قرار دیا تھا۔
    کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ء میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرۂ آفاق تقریر "میرا ایک خواب ہے” کی اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کہلائے۔۔ ملاحظہ ہو اقتباس :
    I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed “We hold these truths to be self-evident, that all men are created equal.”

    I have a dream that one day on the red hills of Georgia , the sons of former slaves and the sons of former slave owners will be able to sit down together at the table of brotherhood.

    I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

    I have a dream that one day right there in Alabama little black boys and black girls will be able to join hands with little white boys and white girls as sisters and brothers.

    شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے اور 1964 میں نسلی تفریق اور امتیاز کےخلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے غربت کے خاتمے اور جنگ ویت نام کی مخالفت کے لیے کوششیں کیں۔ 4 اپریل 1968ء کو میمفس، ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کردیا گیا۔
    ان کے کچھہ اقوال:

    ۔۔ ستارے صرف تاریکی میں نظر آتے ہیں۔

    ۔۔۔ میں نے محبت کا ساتھہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت کا بوجھہ اتنا زیادہ ہے کہ نہیں اٹھا سکتا۔

    ۔۔۔ جو فرد کسی مقصد کے لیے مر نہیں سکتا وہ زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں۔

    ۔۔۔ ہماری زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہوتی ہے جب ہم ، اہم معاملات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

    ۔۔۔ معاف کرنا وقتی عمل نہیں، ایک مستقل رویہ ہے۔

    ۔۔۔ ہم تاریخ بناتے ہیں، مگر تاریخ بھی ہمیں بناتی ہے۔

    ۔۔۔ محبت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے۔

    ۔۔۔ جو معاف کرنے کے قابل نہیں وہ محبت کرنے کے بھی قابل نہیں۔

  • ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    بلوچستان کی بیٹی

    ڈاکٹر اسماء بلوچ

    پاکستان بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے سر گرم بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا پہلا نیشنل ایوارڈ ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ نے اپنے نام کر کے نہ صرف مستونگ بلکہ بلوچستان کا نام روشن کر دیااور یہ ثابت کیا کہ بلوچ بچیاں اور خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 11 جنوری 2023 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام اباد میں ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ کو بلوچستان سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ پیش کیا ۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں نہ صرف کمیونیکیشن آفیسر کے طور پر کام کیا بلکہ ایک رضاکار کے طور پر سیلاب متاثرین کی دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر خدمت کی

    بہترین کمیونیکیشن اور لوگوں کے گھر گھر جا کر رابطہ کاری کرنا اور اپنے لوگوں کی مدد کرنے کی وجہ سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ اپنے نام کردیا

    ڈاکٹر اسماء بلوچ نے اپنی اس کامیابی کو اپنے شہید والد چئیرمین منظور بلوچ اور اپنے سپروائزر ڈی ایچ سی ایس او مستونگ سید افتخار شاہ کے نام کردیا انھوں نے کہا کہ میرے والد شہید نے ہمیشہ مجھے ہمت دی اور حالات سے لڑنا سکھایا اور ہمیشہ اپنی سرزمین کے عوام کی خدمت کرنے کی تلقین کی انہوں نے اپنے سپر وائزر سید افتخار شاہ ڈی ایچ سی ایس او مستونگ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیلڈ میں وہ ہمیشہ ان کی مدد اور رہنمائی کرتے رہے۔

  • علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    نصیر ہنزائی

    روحانی سائنسدان، صوفی شاعر ، ماہر لسانیات
    "بروشسکی” زبان کے پہلے صاحب دیوان شاعر

    پیدائش:15 مئی 1917ء
    وفات:15 جنوری 2017ء
    آسٹن، ٹیکساس
    شہریت:پاکستان
    برطانوی ہند

    علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی روحانی سائنس کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل ایک معروف دینی اسکالر، صوفی شاعر اور ماہرِ لسانیات تھے۔ اسماعیلیوں کی دانشگاہ خانہ حکمت گروپ کے سربراہ نصیر الدین نصیر ہنزائی 1335ھ/15 مئی 1917ء میں ریاست ہنزہ کے گاؤں حیدرآباد میں پیدا ہوئے، نصیر الدین نصیر ہنزائی کسی اسکول سے باضابطہ تعلیم حاصل کیے بغیر علم و حکمت کے بارے میں 100 سے بھی زیادہ ایسی نادر کتابیں اپنی زبان بروشسکی اور اردو زبان میں تحریر کیں جن کا مرکزی موضوع قرآن کے باطنی علوم اور روحانی سائنس رہا، بعد ازاں ان کتابوں میں سے کئی کتابوں کو ہنزہ کے معروف اسکالر ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جبکہ دیگر اسکالروں نے ان میں سے متعدد کا عربی، فارسی، فرانسیسی، سویڈنی، اطالوی اور ترکی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ روحانی سائنس کے موضوع پر یہ کتابیں اوکسفرڈ سمیت مغرب کی یونورسٹیوں تک پہنچ گئیں تو محققین نے ان تخلیقات کو روحانیت اور تصوف کی دنیا میں عجیب انکشافات سے تعبیر کیا اور ان کتابوں پر ریسرچ شروع کی ہے۔” کلیات نصیری ” ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں روحانیت، تصوف، تطہیرِ نفس اور عشقِ حقیقی کی تجلّیات ہیں جو ہر تہذیب و ثقافت کے لوگوں کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ یہ شاعری اردو، فارسی، ترکی اور بروشسکی چار زبانوں پر مشتمل ہے۔ علامہ نصیر الدین کی منفرد کتابوں میں وحدتِ اسلامی، وحدتِ انسانی، محبت، امن و آشتی اور اسلام کے ہر مکتبِ فکر کے لیے محبت اور خیر خواہی کی تعلیمات ملتی ہیں۔ ان کا خاص موضوع اسماعیلیت سے متعلق تھا۔ ان میں اسماعیلیوں کے لیے اسماعیلی امام شناسی کی کتاب بھی بہت منفرد ہے۔ اس کے علاوہ بھی خاصی مذہبی معلومات ان کی کتابوں سے ملتے ہیں

    علاقائی زبان کے لیے خدمت
    نصیر الدین ہنزائی نے پہلی بار 1940ء میں دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ایک ”بروشسکی” کے حروفِ تہجی ترتیب دیے۔ وہ اس زبان کے پہلے صاحبِ دیوان صوفی شاعر ہیں۔ یہ ان کا بروشسکی زبان اور بروشو قوم پر احسان ہے کہ اس قدیم خطرہ زدہ زبان کی پہلی لغت تشکیل دی، جس میں تقریباََ چالیس ہزار الفاظ محفوظ ہیں۔ کراچی یونورسٹی نے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے اس لغت کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ نصیر ہنزائی نے پہلی بروشسکی جرمن لغت کے لیے حقیقی الفاط مہیّا کیے اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے شائع شدہ لغت کے شریک مصنف قرار پائے۔ نیز وہ ہنزہ پرورب کتاب کے بھی شریک مصنف ہیں جسے کینیڈا کے اسکالر پروفیسر ٹیفو نے شائع کیا ہے۔ رموز روحانی ان کی تصنیف ہے.

    اعزازات
    نصیر الدین الدین نصیر ہنزائی کو بروشسکی زبان کی بہترین خدمت کی وجہ سے گلگت بلتستان کی حکومت نے 1993ء میں حکیم القلم اور سماجی اداروں نے لسان القوم اور بابائے بروشسکی کے اعزازات سے نوازا۔علاوہ ازیں ہنزائی کی حکمتِ قرآن کے میدان میں چشم کشا تحقیقات اور علم کی لازوال خدمت کے اعتراف میں 2001ء میں صدر مملکت پرویز مشرف کے زمانے میں وفاقی حکومت نے انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا۔

    بیرونی ممالک کا سفر
    ََََََََََنصیر الدین نصیر ہنزائی نے پہلی بار 1943ء میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ جس کا مقصد اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ سے ملاقات تھی جو 1946ء میں ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو اپنی روحانیت کی چابی یعنی کلید بابِ روحانیت کی عطائی قرار دیا ہے۔ پھر 1949ء کے اوائل میں علامہ نصیر کو چین جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کئی روحانی معجزے ان کے ساتھ ہوئے اور علامہ نے ایک دفعہ انٹرویو میں یوں بھی کہا تھا کہ جب وہ چین گئے تو ان کے پاس نورانی مظہر عجائب بھی آ گیا تھا۔ اور یہ روحانیت میں زمان خصر علیہ السلام کی صورت میں ممکن بھی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مغرب کے تین بڑے ملکوں کینیڈا، انگلستان اور امریکا کا سفر کیا۔ ایک دفعہ وہ روس کے جہاز میں لندن جا رہے تھے کہ جہاز معمول کے مطابق ماسکو میں اتر گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک مسافروں کو بس پر سیر کرائی گئی۔
    وفات
    نصیر الدین نصیر ہنزائی نے 15 جنوری 2017ء کو امریکا کے شہر آسٹن میں ایک سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے جسد خاکی کو ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق آبائی علاقہ ہنزہ میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    پیدائش:27 جنوری 1832ء
    دریسبوری
    وفات:14 جنوری 1898ء
    گیلڈفورڈ
    وجۂ وفات:نمونیا
    مدفن:سرے
    طرز وفات:طبعی موت
    رہائش:انگلستان
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ، مملکت متحدہ
    عارضہ:مرگی
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب اطفال، روزنامچہ نگار، ناول نگار، مصنف، آپ بیتی نگار، فلسفی
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:مصنف
    ملازمت:جامعہ اوکس فورڈ
    کارہائے نمایاں:ایلس ان ونڈر لینڈ

    چارلز لٹویج ڈوجسن (انگریزی: Charles Lutwidge Dodgson) زیادہ تر اپنے قلمی نام اور تخلص لوئس کیرل (انگریزی: Lewis Carroll) سے پہچانے جاتے ہیں۔ ڈوجسن ایک انگریزی مصنف، ریاضی دان، منطق دان، انگریزی کلیسیا کے پادری اور عکاس تھے۔ اِن کی مشہور ترین تحریروں میں ایلس ان ونڈرلینڈ اور اس کا تسلسل، تھرو دی لوکنگ-گلاس شامل ہیں؛ ان کے علاوہ ان کی لکھی کئی نظمیں جیسے کہ دی ہنٹنگ آف دی سنارک اور جیبرواکی بھی کافی مقبول ہوئیں۔ برطانیہ، جاپان، امریکا اور نیوزی لینڈ میں دیگر ایسی سوسائٹیاں ہیں جو ڈوجسن کی تحریروں اور اِن کے کرداروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں، اِن کا پرچار کرتی ہیں اور اِن کی زندگی کے ہر پہلو کا تحقیقی مطالعہ کرتی ہیں۔

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام