Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور
    ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    یوم پیدائش : 3 جنوری 1836

    منشی نول صاحب کی پیدائش 03؍جنوری 1836ء کو متھرا اتر پردیش ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب میں فارسی اور اردو پڑھ کر کیا تھا۔ منشی نول کشور ایک کتاب پبلشر تھے۔ انہیں بھارت کا کیکسٹون کہا جاتا ہے۔ 1858ء میں، 22 سال کی عمر میں، انہوں نے ‘نول کشور پریس اور کتاب ڈپو’ لکھنؤ میں قائم کیا تھا۔ آج یہ ادارہ ایشیا میں سب سے پرانی پرنٹنگ اور اشاعت کا مرکز ہے۔ مرزا غالب منشی نول کشور کے وفادار دوست تھے۔ منشی نول کشور کے والد کا نام پنڈت جمونا پرساد بھگاوکا تھا، آپ کے والد علی گڑھ کے زمیندار تھے 1970ء میں ہندوستان کی حکومت نے ان پر اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

    منشی نول کشورکی نوجوانی کے زمانے میں لاہور سے اخبار ‘کوہِ نور’ نکلتا تھا جس میں آپ کے مضامین شائع ہونے لگے، جو اس قدر مقبول ہوئے کہ اس کے مدیر منشی ہرسُکھ رائے نے انھیں لاہور آ کر اخبار میں کام کرنے کی دعوت دی جو نول کشور نے قبول کر لی۔1857ء کے ملک گیر فسادات شروع ہو چکے تھے، جن میں دوران میں امرا و روسا کے صدیوں پرانے کتب خانوں میں موجود ہزاروں نادر مخطوطے تلف ہو گئے۔ 21 سالہ نول کشور نے تمام صورتِ حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا اور انھیں ہم وطنوں کی حالت سدھارنے کا ایک کارگر طریقہ سوجھ گیا۔ آپ نے چند مذہبی رسائل اور بچوں کے قاعدے چھاپے اور انھیں خود ہی بیچنا شروع کیا۔ وہ خود اپنے کندھوں پر طبع شدہ مواد کے گٹھڑ اٹھا کر بازار اور دفاتر تک لے جاتے تھے۔ انگریزوں کو ان کی لگن پسند آئی اور انھیں دفتری سٹیشنری کے ٹھیکے ملنے لگے۔ 26 نومبر 1858ء میں انھوں نے ’اودھ اخبار‘ کا اجرا کیا جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مبنی ہوتا تھا۔

    #داستانامیرحمزہ

    اس سلسلے میں غالباً ان کے پریس کا سب سے بڑا کارنامہ داستانِ امیر حمزہ کی 46 جلدوں کی اشاعت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی داستان کہا جاتا ہے۔

    دیگر کتب کی اشاعت
    ہندو ہونے کے باوجود منشی نول کشور نے کئی اہم اسلامی کتابیں، قرآن کی تفاسیر، احادیث کے مجموعے اور فقہ کی کتابیں شائع کیں۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے 1858ء سے 1950ء تک 6000 سے زیادہ کتابیں شائع ہوئی۔ 1950ء میں منشی نول کشور کا پریس خاندانی جھگروں کی بنا پر بند ہو گیا۔

    نول کشور پریس کی طبع شدہ کتابوں کے چند نام ۔

    فتاویٰ عالمگیری
    سنن ابی داؤد
    سنن ابن ماجہ
    مثنوی مولانا روم
    قصائدِ عرفی
    تاریخِ طبری
    تاریخِ فرشتہ
    دیوانِ امیر خسرو
    مراثی انیس
    فسانۂ آزاد
    داستانِ امیر حمزہ
    دیوانِ غالب
    کلیاتِ غالب فارسی
    الف لیلہ
    آثار الصنادید (سر سید احمد خان)
    قاطعِ ب رہان (غالب)،
    آرائشِ محفل
    دیوانِ بیدل
    گیتا کا اردو ترجمہ
    رامائن کا اردو ترجمہ
    بوستان
    اور دیگر کئی صد کتابیں ہیں۔

    غالب سے دوستی
    منشی صاحب کے ساتھ جن لوگوں نے اس اخبار میں کام کیا ان میں رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر، قدر بلگرامی، منشی امیر اللہ تسلیم اور دوسرے مشاہیرِ اردو شامل ہیں۔ اس اخبار میں جن لوگوں کے مضامین چھپتے تھے ان میں مرزا غالب اور سر سید احمد خان بھی شامل ہیں۔ سرشار کا شاہکار ’فسانۂ آزاد‘ اسی اخبار میں دسمبر 1878ء سے دسمبر 1879ی تک قسط وار چھپتا رہا۔ غالب منشی صاحب کے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ وہ نول کشور پریس کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں: ‘اس چھاپہ خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔’ غالب منشی صاحب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے سے دریغ نہیں کرتے، چنانچہ ایک اور خط میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘خالق نے اسے زہرہ کی صورت اور مشتری کی سیرت عطا کی ہے۔’ غالب کے دوست قدر بلگرامی جب مالی مشکلات کا شکار ہوئے تو غالب نے انھیں خط میں لکھا کہ جا کر لکھنؤ میں میرے دوست سے ملو، تمھارا کام ہو جائے گا۔
    منشی نول کشور 19؍فروری 1895ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

  • منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شادی سے دودن پہلے دُولہے کے دوست دُولہا کے ہمراہ محلے کے ہر گھر سے جا کر ایک ایک منجا اکٹھا کرتے۔ منجے کے پاوے پر اس گھر کے سربراہ کا نام لکھا جاتا۔ منجے کی صحت سے گھر کی معاشی حالت کا اندازہ ہوجاتا۔ کچھ بہتر حالات والے گھر سے منجے کے ساتھ ایک عدد سرہانہ یا چادر بھی مانگ لی جاتی ۔ ملک صاحب کے گھر سے سرخ پایوں والا منجا اور نئے سرہانے ملتے۔

    منجے شادی والے گھر کے مردان خانے کی چار دیواری کے اندر یا پھر کُھلے میں ایک ترتیب سے لگا دئے جاتے جہاں اگلے دودن شادی کی تقریبات جیسے سہرا بندی اور بارات کی روانگی وغیرہ کے لئے لوگ ان پر بیٹھتے۔ دور سے آئے ہوئے مہمان دو چار دن پہلے ہی چکے ہوتے اور وہ ان منجوں پر دن رات بیٹھک جماتے۔ کبھی کبھی کسی منجی کا شیرو ، بانہہ یا پاوا مہمانوں کے بوجھ ٹوٹ جاتا۔ ایک کڑاک کی آواز آتی اور مہمان چاروں شانےچِت۔اس زخمی منجی کو ایک طرف کھڑا کر دیا جاتا تاکہ شادی کا رولا ختم ہونے کے بعد اسے ٹھیک کروا کر مالک کے گھر بھیج دیا جائے۔ اکثر لوگ اپنی زخمی منجی اٹھا کر کے جاتے اور مرمت کروا لیتے۔

    یہ نہیں کہ اکٹھے کئے گئے سارے منجے مرد ہی استعمال کرتے، کوئی پانچ دس منجیاں زنان خانے میں بھی بجھوا دی جاتیں جن پر مہمان خواتین شادی والے دنوں میں اپنے چھوٹے بچے سلاتیں۔ ہ منجیاں ان کی ڈائننگ ٹیبل، صوفہ اور بچوں کا باتھ روم ہوتیں۔ صاف منجی دیتے ہوئے گھر والے کہتے “پتر اس نوں زنانے میں نہ دینا”

    موسم کی مناسبت سے ان منجوں کو لوگ سائے یا دھوپ میں خود ہی گھسیٹ لیتے اور وقت کی مناسبت سے ان پر لمے ہو جاتے یا بیٹھ جاتے۔فنکشن کے وقت ایک ایک منجے پر چھ سے دس دس لوگ بیٹھ جاتے۔

    وقت بدلا ، ٹینٹ سروس آئی، منجوں کی جگہ اسٹیل کی کرسیاں آئیں، پھر دریاں اور قالین بچھائے جانے لگے اور اب حالت یہ ہے کہ میرے چھوٹے سے قصبے کُندیاں میں دلہا دلہن تیار ہو کر پارلر سے سیدھے مارکی آتے ہیں۔ شادیوں میں منجوں پر بیٹھ کر لگنے والے مارکے (اکٹھ)ختم ہو چکے۔ تین گھنٹے میں ٹِک ٹاک شادی ختم۔

  • ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فون ہاتھ میں ہوتا ہے ہمیں نمبر ڈائل کرنا ہوتا ہے. ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ نمبر میرے پاس سیو ہے. ہمیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ فون کیوں کرنا ہے کیا کہنا ہے لیکن اسکا نام یاد نہیں رہتا جسے فون کرنا ہو. جن لوگوں کے فون نمبرز کی ڈائریکٹری بڑی ہوتی ہے جن کے کام کی نوعیت پھیلی ہوئی ہو ان کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے.

    لیکن ہمیں اچانک وہ نام بھول کیوں جاتا ہے.؟ اسکا جواب اس تعلق میں ہے جو ڈائریکٹری میں نام ہوتے بھی یاد نہیں آتا. جو روزانہ کے تعلقات ہوں گے وہ آپ نہیں بھولیں گے. جو کبھی کبھار کا تعلق ہوگا وہ سیو کرتے ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہیں بھولیں گے لیکن بھول جاتے ہیں.

    بلکل ایسے ہی زندگی کے بہت سے چیلنج ہوتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں ہم کر سکتے ہیں ہم کرنا چاہتے ہیں. لیکن پھر جب ہم کرنے جاتے ہیں تو کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا. ہم کلیو لیس ہو جاتے ہیں. ایک جھنجھلاہٹ ایک شرمندگی خود سے ہوتی ہے. یار ہم سے اتنا بھی نہیں ہو پایا.؟ اسکا حل بھی روزانہ کے رابطے میں ہے. اسے پریکٹس کہتے ہیں تربیت کہتے ہیں مشق کہتے ہیں.

    ہم وہی کر سکتے ہیں جس کی ہمیں پریکٹس ہو. پریکٹس وہ روزانہ کی کوشش ہے جو آپ کو کل کیلئے تیار کرتی ہے. جیسے دوڑ ہو آپ بیشک دوڑ سکتے ہیں لیکن پریکٹس نہ ہو تو تھوڑا سا دوڑ کر ہی ہانپ رہے ہوں گے سانس لینا دوبھر ہو جائے گا. اور آپ خود سے شرمندہ ہو جائیں گے.

  • صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    صفی کا نام سید علی نقی زیدی (پیدائش 03جنوری 1862ء،وفات:25 جون 1950ء) تھا، صفی تخلص کرتے تھے والد کا نام سید فضل حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد نجم الدین کاکوروی سے فارسی اور مولوی احمد علی سے عربی زبان سیکھی۔ کیننگ کالج میں انٹرنس کی تعلیم حاصل کی اور کیننگ کالج سے متعلقہ اسکول میں انگریزی زبان کے استاد کی حیثیت سے معلمی کے فرائض انجام دیئے۔ 1883 میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور محکمہ دیوانی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    صفی نے لکھنؤ کے عام شعری مزاج سے الگ ہٹ کر شاعری کی ، ان کا یہی انفراد ان کی شناخت بنا۔ مولانا حسرت موہانی انھیں ’ مصلح طرز لکھنؤ ‘ کہا کرتے تھے۔ صفی نے غزل کی عام روایت سے ہٹ کر نظم کی صنف میں خاص دلچسپی لی۔ انھوں نے سلسلہ وار قومی نظمیں بھی کہیں جو خاص طور سے ان کے عہد کے سماجی ، سیاسی اور تہذیبی مسائل کی عکاس ہیں۔ اس کے علاوہ قصیدہ، رباعی اور مثنوی جیسی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی۔ صفی کی نظمیں اور غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر لکھنو کی خاص روایتی طرز کو بدلنے کی طرف مائل تھے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
    ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

    مری نعش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
    اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا

    کل ہم آئینے میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے
    کاروان عمر رفتہ کا نشاں دیکھا کیے

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
    زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے

    دیکھے بغیر حال یہ ہے اضطراب کا
    کیا جانے کیا ہو پردہ جو اٹھے نقاب کا

    پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
    مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

    دیں بھی جواب خط کہ نہ دیں کیا خبر مجھے
    کیوں اپنے ساتھ لے نہ گیا نامہ بر مجھے

    ختم ہو جاتے جو حسن و عشق کے ناز و ادا
    شاعری بھی ختم ہو جاتی نبوت کی طرح

  • زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    ثاقب لکھنوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوم پیدائش : 2 جنوری 1869
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے ایک اہم ترین شاعر ثاقب لکھنوی جن کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش ہے وہ 2 جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 24 نومبر 1949 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکے ہیں ۔

    کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
    جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

    نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
    ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
    زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

    مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقب
    کنارے پہ آہی گئی بہتے بہتے
    …..
    باغ باں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
    جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
    ……
    مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
    زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
    ……
    کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی،
    مگر خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

    دل کے قصے کہاں نہیں ہوتے ہاں،
    وہ سب سے بیاں نہیں ہوتے

  • چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    مگر اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    خادم رزمی

    اصل نام:خادم حسین

    تاریخ ولادت:2 فروری 1932ء
    کبیر والا خانیوال، پاکستان
    تاریخ وفات:2 جنوری 2006ء
    خانیوال، پاکستان
    مذہب:اسلام

    خادم رزمی ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا جنوبی پنجاب کے ایک مشہور شاعر ہیں۔ خادم رزمی کا اصل نام خادم حسین ہے۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی کبیر والا کے ایک چھوٹے سے گاؤں محمود والا میں 02 فروری 1932ء کو پیدا ہوئے۔
    معلم
    ۔۔۔۔۔
    خادم رزمی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کبیروالا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔ سروس ریکارڈکے مطابق خادم رزمی 63 سال 8 ماہ ملازمت کرنے کے بعد 1991ء میں گورنمنٹ ماڈل مڈل اسکول دار العلوم کبیروالا میں ریٹائر ہوئے ۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی سے خادم رزمی کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گزرا۔ جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تلمبہ جیسے قدیم تاریخی حیثیت والے شہر میں بزمِ ادب تلمبہ کے زیرِاہتمام ایک ماہانہ مشاعرہ ہوتا تھا ،جس میں خادم رزمی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غنضنفر روہتکی، صادق سرحدی ،جعفر علی خان، اسلام صابر دہلوی ،دلگیر جالندھری ،ڈاکٹر مہر عبدالحق، کیفی جامپوری ،وفا حجازی ،اسماعیل نور، بیدل حیدری، ساغر مشہدی، عاصی کرنالی ،جعفر طاہر، شیر افضل جعفری ،اور ضیغم شمیروی جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی جنھوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔
    مجموعہ کلام

    ان کا اردو شعری مجموعہ ”زرِخواب“ یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ ”من ورتی“1994ء میں شائع ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ ” اساں آپے اُڈن ہارے ہو“ کے نام سے چھپا۔ ان کا کافی غیر مطبوعہ کلام ہے جس میں آشوبِ سفر اور جزائے نعت شامل ہیں۔ طباعت کے مراحل میں ہے خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق، فنون ،سیپ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رہا ہے۔ انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ ”من ورتی“ پر ”وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ 1994ء “اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے ”خادم رزمی۔ بحیثیت شاعر“” ایم۔ اے کے لیے مقالہ لکھا ۔2006ء میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِنگرانی ”خادم رزمی۔ شخصیت و فن“ کے نام سے ایم۔ فل کے لیے مقالہ لکھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی 02 جنوری 2006ء کو وفات پا گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ
    اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ

    کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں
    اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ

    کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں
    ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    کب میسر کوئی کنارہ ہو
    کب سمیٹیں گے بادباں ہم لوگ

    بن گئے راکھ اب نجانے کیوں
    تھے کبھی شعلۂ تپاں ہم لوگ

    ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
    اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہاتھ کٹتے ہیں جہاں سینہ و سر کھلتے ہیں
    ایسے ماحول میں ہم اہل ہنر کھلتے ہیں

    دن نکلتا ہو جہاں خوف کا نیزہ بن کر
    ایسی بستی میں کہاں رات کو در کھلتے ہیں

    کیسے آسیب کا سایہ ہے مرے رستے پر
    گرد چھٹتی ہے نہ اسرار سفر کھلتے ہیں

    ہم نے اک عمر گزاری ہے انہی خوابوں میں
    اب قفس ٹوٹتا ہے اور ابھی پر کھلتے ہیں

    رخ پہ گلشن کے کھلیں جس کے دریچے اکثر
    سوئے صحرا بھی اسی شہر کے در کھلتے ہیں

    جن زمینوں پہ کھرے لوگ بسا لیں خود کو
    راستے سیل بلا کے بھی ادھر کھلتے ہیں

    اہل ساحل سے کہو کشف کی صورت رزمیؔ
    موج کھلتی ہے کبھی ہم پہ بھنور کھلتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • جاوید چوہدری  صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری
    صحافی و کالم نگار
    یوم پیدائش : یکم جنوری 1968
    ۔……………………………………
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاوید چوہدری کا شمار پاکستان کی صف اول کے مقبول ترین صحافی اور کالم نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریروں کے قارئین اور ان کے ٹی وی پروگرامز کے ناظرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جاوید چوہدری یکم جنوری 1968 کو لالہ موسیٰ ضلع گجرات پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے لیکن وہ اردو میں لکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لالہ موسیٰ سے انٹر گجرات سے اور اعلیٰ تعلیم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے حاصل کی ۔

    جاوید چوہدری نے صحافت کا آغاز 1990 کی دہائی سے کیا۔ تاریخ ، تحقیق اور سیاحت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جنگ سے کیا ۔ وہ زیرو پوائنٹ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں ۔ وہ 2008 سے روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھ رہے ہیں اور ” کل تک” کے نام سے ایکسپریس نیوز ٹی وی پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں ۔ وہ اب تک 50 سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور بہت سے انتہائی اہمیت کے حامل تاریخی اور مذہبی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں ۔ جاوید چوہدری کالموں پر مشتمل کتاب ” زیرو پوائنٹ ” کی 6 جلدیں شائع ہو چکی ہیں ۔ مختلف شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب ” گئے دنوں کے سورج” اور سیاسی تبصروں پر مشتمل کتاب ” آج کل” بھی شائع ہو چکی ہے ۔

  • محمودہ غازیہ پاکستان کی  ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    محمودہ غازیہ

    تاریخ پیدائش: 01 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:راولپنڈی
    سکونت : اسلام آباد
    زبان:اردو، پنجابی
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خیابان
    ۔ (2)اعتبار کیوں نہیں کرتے
    ۔ (3)ورق ورق غزل
    ۔ (4)اکائی کی موت
    ۔ (5)اندھے شیشے
    مستقل پتا:بلاک ڈی، مکان نمبر653 ،سٹیلائٹ ٹائون، راولپنڈی

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ پاکستان آرٹس کونسل کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں اور فاطمہ جناح کالج برائے خواتین میں پڑھاتی تھیں۔ ان کے چار شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں:’’اکائی کی موت‘‘، ’’ورق ورق غزل‘‘ ، ’’اعتبار کیوں نہیں کرتے‘‘، ’’نیندکی ڈور ٹوٹ گئی‘‘ اور ’’بے سر کا گوتم‘‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تم اس سے دوری بھی مت خواہ مخواہ میں رکھنا
    بس احتیاط سی اک رسم و راہ میں رکھنا

    تم اپنے رنگ نہاؤ تم اپنی موج اڑاو
    مگر ہماری وفا بھی نگاہ میں رکھنا

    قبول گر نہ کرے وہ تو کیا ہمیں سر شام
    گلاب محفل ظل الہٰ میں رکھنا

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    بڑا عذاب ہے محمودہ غازیہؔ ہجرت
    مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    بے طلب
    ۔۔۔۔۔۔
    میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی
    جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں
    یہ کافی ہے اور میرے لیے سب
    میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو
    یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو
    یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے
    میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ
    ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ہے
    میری روح میرے ہونٹوں پر ہے
    اڑنے کے لیے بے تاب
    کیا اس کے ہونٹ مجھے امن کا سبق دیں گے؟
    اور یہ بھی میرے لیے بہت ہے

  • ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    جو وقت تمھارے ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جو لمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    ڈاکٹر شاہدہ سردار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :شاہدہ شاہین خٹک
    تاریخ پیدائش:01 جنوری 1971ء
    جائے پیدائش:پشاور
    زبان:پشتو، اردو
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں (وطن سے محبت کے حوالے سے نظموں پر مشتمل)

    ۔ (2)حقیقی زندگی (خواتین کے سماجی مسائل پر مبنی)

    ۔ (3)ہوا کی سرگوشی (غزلیات پر مشتمل شععی مجموعہ)
    (4) کرب زیست (افسانوی مجموعہ)
    (5) چراغ آگہی ( شعری مجموعہ
    (6) دیوار کے اس پار ( ہندوستان کا سفرنامہ)

    مستقل سکونت: چارسدہ روڈ پشاور
    خیبر پختون خواہ کے علاقہ کرک سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ یکم جنوری 1978 میں پشاور میں ڈاکٹر زر بادشاہ خٹک کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم پشاور شہر میں حاصل کی اور میڈیکل کے شعبے میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرنے کے بعد اسپیشل کورس کر کے ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر بن گئیں ۔

    وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود شعر و ادب اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ سماجی خدمات کی غرض سے 2011 سے MAPC کے نام سے ایک این جی او بھی چلا رہی ہیں جبکہ وہ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے وطن میں ادبی تقریبات و مشاعروں میں بھرپور شرکت کے ساتھ بیرونی ممالک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں انہوں نے ہندوستان اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھی شرکت کی ہے ۔ ہندوستان کے سفر کے حوالے سے انہوں نے ” دیوار کے اس پار ” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہیں کہ تم کو سہارے فریب دے کے گئے
    ہمیں بھی دوست ہمارے فریب دے کے گئے

    پھر اس کے بعد سرابوں کا ایک صحرا تھا
    چمکتی رات کے تارے فریب دے کے گئے

    جو وقت ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جولمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    کوئی ستارا نہ ابھرا وفا کے ساحل پر
    سمندروں کے نظارے فریب دے کے گئے

    وہیں پہ راکھ تھے پھر خواب میری پلکوں کے
    کبھی جو اپنے سہارے فریب دے کے گئے

    نگہہ نے شوق سے دیکھا صبا کی آمد کو
    ہوا کے سارے اشارے فریب دے کے گئے

    پڑی نظر جو کتابوں میں خشک پھولوں پر
    وہیں پہ ضبط ہمارے فریب دے کے گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے حسین سرسبز موسم میں
    تمھاری یاد اشکوں میں روانی چھوڑ جاتی ہے
    اترتی ہے تری تصویر آنکھوں کے دریچے پر
    تو دل میں پھر سے اک وحشت پرانی چھوڑ جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان پہ موسم کی ادائوں کا اثر کیسے ہو
    جن کی آنکھوں کا کوئی رنگ سہانا ہی نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صرف یہ سوچ کے آئینے کو پھر جوڑ دیا
    وقت جتنا ہو محبت کے لیے تھوڑا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرا وطن کبھی آلودہ غبار نہ ہو
    خدایا اس پہ کبھی مشکلوں کا بار نہ ہو

  • اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    انڈیز پہاڑوں میں بسے پیرو کے شامان اپنے علاج کیلئے بہت مشہور تھے. مسئلہ یہ تھا کہ وہ شامان کہتے علاج کیلئے تمہیں اوپر پہاڑوں پر آنا ہوگا. مریض کو خچروں پر یا کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہاڑوں پر جب لے جایا جاتا تو وہ کہتے اسے اب چھوڑ جاو. وہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے اسکا علاج کرتے. اکثریت کو شفا ملتی اور ان شا مانوں کا دور دور تک شہرہ تھا. آج بھی ان کی نسل دستیاب ہے.

    آج جب تحقیق ہوتی ہے تو کئی باتیں سمجھ آتی ہیں. مریض کا ماحول بدل جاتا قدرتی پرفضا ماحول میں فطرت کے ساتھ رہتا فطرتی چیزیں استعمال کرتا اپنے شامان کی تسلی سنتا یہ مریض اصل میں اپنی ایک زندگی سے کٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوجاتا تھا. مایوسی کی جگہ اُمید دنیا کی بھاگ دوڑ کی بجائے فطرت کا سکون اس کے آس پاس ہوتا. اور زندگی پھر انگڑائی لے کر جینے کیلئے بیدار ہو جاتی.

    ہمارے ہاں یہ شامان نہیں ہوتے. لیکن مریض بہت ہیں. ان کے دل و دماغ پر اندیشے خوف مایوسیاں بے بسی اور بے اعتمادی کے اندھیرے وہ پہاڑ بن چکے ہیں جن کے نیچے اکثریت پس چکی ہے. یہ دوسروں سے ڈرتے ہیں. کیونکہ ہماری اکثریت بہت ججمنٹل ہوگئی ہے. یہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کو الزام دیا جاتا ہے. اس ڈر سے کوئی مظلوم بولتا بھی نہیں کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا مجرم کون بننا چاہے گا.؟

    ایک ایسا انسان جو دوسرے کو صرف سن سکتا ہو. بنا کوئی فیصلہ سنائے بنا کوئی عدالت سجائے یہ سننے والا آج کا وہی شامان بن سکتا ہے جو دوسروں کی شفا کا سبب بن جاتے تھے. کیونکہ ایک مریض کو اچھا سامع مل جائے تو اُمید اسے خود ہی اس اندھیرے سے کھینچ کر روشنی کے پہاڑوں کی طرف لے آتی ہے.