Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    کبھی کوئی چائے والا اور کبھی پتی والا ۔۔۔اور کبھی کوئی پیپسی اور آج لاہور دا پاوا ۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس اس قوم کے رہنماؤں نے اس قوم کو کھیل تماشے اور بےکار امور کے نشے میں یوں مبتلاء کیا کہ ان کو اپنی منزل بھول گئی ۔۔۔

    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

    ہر طرف ایک مجہول اور نامعقول شخص کے منہ سے نکلے فضول الفاظ کی تکرار ہے ، اور اچھے خاصے سنجیدہ دوست بھی اس بربادی وقت اور فکر کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔

    کہنے کو ہم رہنما اسلامی ملک ہیں ، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم سے سب پوچھ کے منزل سفر طے کریں کہ ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پوری قوم کی زبان اور حواس پر ایک مجہول جملہ جاری وساری ہے ۔۔۔۔ایسا جملہ کہ جس کا معانی تلاش کیا جائے تو شائد لفظ ” نامعقولیت ” سے ہی ادا ہو پائے ۔۔۔۔

    تکلیف اس امر کی ہے کہ لہو و لعب کی رسیا اس جہالت کو ہر دوسرے ہفتے ایسی کسی جہالت کی تلاش ہوتی ہے۔ ۔۔اور جب ایسی کوئی جہالت مل جاتی ہے تو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سب اس جہالت کو ماتھے کا جھومر بنائے ناچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسا شخص کہ جس کی گفتگو کے سبب اسے کسی پڑھی لکھی مجلس میں جگہ نہ ملے اس کے انٹرویو چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    کیا ترقی چاہنے والی اقوام کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں ؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم قوم نہیں نرا ہجوم ہیں ، بےہنگم اور تالیاں پیٹنے والا غیر سنجیدہ ہجوم ۔۔۔۔۔

    اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے کہ جب ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ، کہ آج دیوالیہ ہوا کہ آج ، اور قوم کے بڑے چھوٹے سب ہاہا ہوہو کر رہے ہیں ۔۔یعنی جس وقت پوری قوم کو فکرمندی سے آنے والے دنوں کا سوچنا چاہیے اس وقت یہاں غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔۔۔۔

  • یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت حسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیدائش:09 دسمبر 1880ء
    پیرابوندھ گاؤں
    مِیٹھاپُکُر اُپ ضلع، رنگ پور
    بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بنگلہ دیش)
    وفات:09 دسمبر 1932ء
    کولکاتا، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بھارت)
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ ، مسلم نسوانیت پسند
    زبان:بنگلہ
    قومیت:بھارت
    نسل:بنگالی
    دور:برطانوی حکمرانی
    ادبی تحریک:حقوق نسواں
    نمایاں کام:سلطاناز ڈریم، پدما راگ
    والد ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر
    والدہ :. راحت النساء چودھری
    2 بھائی : محمد ابراہیم صابر، ابو زیغم خلیل اللہ صابر
    بڑی بہن : قمر النساء

    شریک حیات:خان بہادر سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون تھی۔

    مختصر حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیگم رقیہ کو پانچ سال کی عمر سے سخت پردے میں رکھا گیا۔ ان کی اسکولی تعلیم عملاً بعید از امکان تھی۔ رقیہ کے والد ان کے انگریزی یا بنگالی سیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اس وجہ سے بیگم رقیہ اور ان کی بہن کریم النساء اپنے ایک بھائی کو لے کر رات کے اندھیرے میں ان دو زبانوں کو پڑھتی تھیں ۔ بیگم رقیہ کی شادی 18 سال کی عمر میں کرائی گئی ۔ جلد شادی کی وجہ حصول تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ شادی کے بعد انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے متعدد اسکول قائم کیے ان کی اس کوشش میں ان کے شوہر کا بھرپور تعاون شامل تھا۔ کلکتہ میں آج بھی ان کا قائم کردہ ” سخاوت میموریل گرلز ہائی اسکول قائم ہے اور وہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ ہے۔

  • یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    پیدائش:09 دسمبر 1886ء
    مشہد
    وفات:21 اپریل 1951ء
    تہران
    وجۂ وفات:سل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:ایران
    عارضہ:سل
    زبان:فارسی

    محمد تقی بہار ایرانی شاعر تھے۔ بہار شاعر ہونے کے علاوہ محقق، ادیب، معلم، مدیر اخبار اور سیاسی شخص تھے۔ مشہد میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد ادیب نیشاپوری سے اصلاح لی۔ آصف الدولہ غلام رضا خاں کے توسط سے مظفر الدین شاہ نے ملک الشعراء کا خطاب عطا کیا۔ اور سالانہ وظیفہ بھی متعین ہوا۔ 1906ء میں ایران میں مشروطیت کا آغاز ہوا۔ تو انقلابیوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ اور آزادی پر مقالات اور نظمیں لکھیں۔ نوبہار اور دانشکدہ جاری کیے۔ پانچ بار مجلس شوری ملی کے نمائندے منتخب ہوئے۔ رضا شاہ پہلوی کے عہد میں سیاست سے کنارہ کش ہوکر تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ دارالمعلمین عالی اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے۔ کچھ عرصہ وزارت تعلیمات کا قلمدان بھی سنبھا لا۔ بہت سی علمی و ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف تھے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔
    مرزا محمد تقی نام، بہار تخلص، ملک الشعرا محمد کاظم صبوری کے صاحبزادے تھے۔ مشہد میں 9 0دسمبر 1886ء کو پیدا ہوئے اور عربی و فارسی کی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی۔ سترہ سال کے تھے کہ یتیم ہو گئے۔ تحصیل علم کے بعد غلام رضا خاں آصف الدولہ گورنر خراساں کے پاس پہنچے جنہوں نے مظفر الدین شاہ قاجار سے ملک الشعرا کا خطاب دلایا اور سالانہ وظیفہ مقرر کرا دیا۔
    سنہ 1906ء میں انقلاب ایران کے موقع پر ایک پرخلوص اور پرجوش انقلابی رکن رہے اور اپنی انقلابی نظموں سے مقبولیت حاصل کی۔ 1911ء میں "نوبہار” نامی روزنامہ جاری کیا۔ انقلابی ادب کی وجہ سے دوبار جلاوطنی ملی۔ حکومت نے اخبار بند کر دیا۔ حکومت کے دباؤ کیوجہ سے اکثر انقلابی اراکین تہران سے نکل گئے۔ بہار ان میں شریک تھے۔ جب واپس ہوئے تو دوبارہ اخبار جاری کیا۔ مجلس شعرا ملی کے رکن رہے اور پھر تصنیف و تالیف کو مشغلہ بنا لیا۔ اخباروں کے لیے کئی تحقیقی مقالات لکھے۔ ایک ناول "نیرنگ سیاہ پاکیزان سفید” کے نام سے لکھا۔
    تاریخ سیستان، مجمل التوائخ و القصص اور سبک شناسی ان کی اہم تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ عبارت میں سلاست، جوش اور روانی ہے۔ قصیدہ کی طرز کے استاد تسلیم کیے جاتے ہیں اور ادبی تاریخ پر حاوی ہیں۔ مرض سل میں مبتلا ہو کر تہران میں 22 اپریل 1951ء کو انتقال کیا۔ مقبرہ ظہیر الدولہ، شمران میں دفن کیے گئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    منظومۂ چہار خطابہ، 1926ء
    اندرزہای آذرباد ماراسپندان
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    یادگار زریران
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    زندگانی مانی، 1934ء
    گلشن صبا، فتح علی خان صبا (تصحیح)، 1934ء
    احوال فردوسی، 1934ء
    تاریخ سیستان (تصحیح)، 1935ء
    رسالۂ نفس ارسطو
    ترجمۂ باباافضل کاشانی (تصحیح)، 1937ء
    مجمل‌التواریخ والقصص
    (تصحیح)، 1939ء
    منتخب جوامع‌الحکایات
    سدیدالدین عوفی (تصحیح)، 1945ء
    سبک شناسی، (تین جلد)
    ۔۔۔ 1942ء-1947ء
    تاریخ مختصر احزاب سیاسی
    (دو جلد)، 1942-1983ء
    دستور زبان فارسی پنج استاد
    (بہ ہمراہی قریب، فروزانفر
    رشید یاسمی، ہمایی)، 1950ء
    شعر در ایران، 1954ء
    تاریخ تطّور در شعر فارسی، 1955ء
    دیوان اشعار، تہران، 1956ء
    تاریخ بلعمی، ابوعلی محمدبن محمد بلعمی
    (تصحیح) (بہ کوشش محمد پروین گنابادی)، 1962ء
    فردوسی نامہ بہار
    (بہ کوشش محمد گلبن)، 1966ء
    رسالہ در احوال محمدبن جریر طبری
    بہار و ادب فارسی

  • تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی
    9 دسمبر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوبل ادب کے انعام یافتہ بنگالی شاعر رابندرناتھ ٹیگور کی شادی 9 دسمبر 1883 عیسوی میں مرینالینی دیوی کے ساتھ ہوئی تھی.
    شادی کے وقت رابندر ناتھ ٹیگور کی عمر 22 سال تھی اور ان کی بیگم مرینالینی کی عمر صرف 9 یا 11 سال تھی.

    مرینالینی کے والد ٹیگور فارم ھاوس میں ملازم تھے.
    شادی سے پہلے مرینالینی دیوی کا نام بھباتارینی تھا شادی کے بعد ٹیگور فمیلی میں شامل ہونے کے بعد مرینالینی رکھا گیا اور مرینالینی کو جورا سانکو میں واقع مکان پر لایا گیا اور برہمو سماج کے رسم ورواج کے مطابق ان کی شادی رابندر ناتھ ٹیگور کے ساتھ کردی گئی.

  • یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشاں ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پورا نام: ابونصر غزالی
    ولدیت: مولانا عبدالجبار
    آبائی وطن: میرغیاث چک،
    ضلع نالندہ، بہار
    جائے ولادت: میر غیاث چک
    ضلع نالندہ، بہار
    تاریخ ولادت: 04 اکتوبر 1938ء
    تاریخ وفات: 08 دسمبر 2011ء
    تعلیم: ایم اے
    پیشہ: درس و تدریس
    استاد، ریڈر شعبۂ اردو
    مولانا آزاد کالج، کلکتہ
    آغازِ شاعری: 1958ء
    تلمیذ: کسی سے اصلاح نہیں لی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لہو کا درد-1982ء
    ۔ (نظموں اور غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (2)بنگالی شعراء-1982ء
    ۔ (تعارف و ترجمہ)
    ۔ (3)کوہِ فاراں سے آتی صدا
    ۔ (نظموں کا مجموعہ)
    ۔ (4)دور اک پیڑ
    ۔ (غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (5)میزانِ قدر
    ۔ ـ(تنقیدی مضامین کا مجموعہ)
    پتا: 37، امداد علی لین، فاراں ہاؤس
    کلکتہ-700016

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر
    مخالفت پہ تلا آسماں بھی کتنی دیر
    کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر
    ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر
    شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں
    یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر
    بندھا ہے عہد جو تیغ و گلو کے بیچ تو پھر
    لرزتی کانپتی ننھی سی جاں بھی کتنی دیر
    نکل چلو ہے ابھی سہل راستہ یارو
    کہ مہرباں ہے تو یہ مہرباں بھی کتنی دیر
    برائے شب بھی کشادہ ہے میرا دروازہ
    کہ صبح آئی تو یہ میہماں بھی کتنی دیر
    سخن وری نہ سہی معجزہ سہی لیکن
    یہ طرز فکر یہ حسن بیاں بھی کتنی دیر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    برف‌ زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے
    جو بھی قصہ ہے لہو کی شعلہ سامانی کا ہے
    آسماں سے روشنی اتری بھی دھندلا بھی چکی
    نام روشن ہے تو بس ظلمت کی تابانی کا ہے
    ریگزار لب کہ ہر سو اگ رہی ہے تشنگی
    آنکھ میں منظر اچھلتے کودتے پانی کا ہے
    بے سبب ہرگز نہیں دست کرم کم کم ادھر
    اس کو اندازہ ہماری تنگ دامانی کا ہے
    شہر ہو یا ہو بیاباں گھر ہو یا کوئی کھنڈر
    سلسلہ چاروں طرف غول بیابانی کا ہے
    موڑ پر پہنچے تو دیکھو گے کہ ہر منزل ہے سہل
    بس یہی اک راستہ ہے جو پریشانی کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا
    صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا
    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا
    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشانہ ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو
    لباس جاں تو کبھی اتنا پارہ پارہ نہ تھا
    خدا کرے کہ رہے مہرباں سدا تم پر
    عزیزو وقت کہ اک لمحہ بھی ہمارا نہ تھا
    اڑانیں بھرتے پرندوں کے پر کتر ڈالیں
    نظر کے سامنے ایسا کبھی نظارہ نہ تھا
    ہے دور حد نظر سے تو کیا قیامت ہے
    ہمارے پاس تھا جب تک وہ اتنا پیارا نہ تھا

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ بھر آنسو تو دامن بھر لہو
    زندگی ہے بیسوا کا پیار کیا

    غزل کے شعروں میں رکھتا ہے وہ چھری کی دھار
    کہ تیکھے لہجے میں سچائیاں سناتا ہے

    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا

    پھول ، خوشبو ، ہوا ، روشنی ، جلترنگ اور تو
    خاک ، پتھر ، سیاہی ، سمندر ، بھنور اور میں

    باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ
    نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ

  • یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    نام:سید امراؤ علی
    قلمی نام:امراؤ طارق
    پیدائش:24 مارچ 1932ء
    فتح پور چوراسی،
    اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
    وفات:08 دسمبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    پیشہ:افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد
    زبان:اردو

    شہریت:پاکستانی
    اصناف:ناول، افسانہ تنقید

    امراؤ طارق (پیدائش: 24 مارچ 1932ء – وفات:8 دسمبر 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ انہیں ان کے افسانوں کے مجموعے بدن کا طواف پر آدم جی ادبی انعام ملا۔

    سوانحی خاکہ
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 24 مارچ، 1932ء میں فتح پور چوراسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر انہوں نے اپنا بچپن شاہ پور میں گزارا جہاں ان کے والد ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید امراؤ علی تھا۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے پہ امراؤ طارق حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے جو اس وقت ایک آزاد ریاست تھی۔ اسی زمانے میں مولوی عبدالحق، جو بعد میں بابائے اردو کہلائے، بھی حیدرآباد دکن میں موجود تھے۔ 1948ء میں ہندوستانی فوج کے حیدرآباد پہ حملے اور ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہونے کے بعد امراؤ طارق حیدرآباد چھوڑ کر ڈھاکہ چلے گئے جو اس وقت مشرقی پاکستان کا دار الحکومت تھا۔ 1952ء میں امراؤ طارق ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہو گئے جہاں ان کے وسیع خاندان کے اور لوگ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ اردو کے تین بڑے اکابرین مولوی عبدالحق، نیاز فتح پوری اور فرمان فتح پوری بھی کراچی میں موجود تھے۔ کراچی پہنچنے پہ امراؤ طارق نے مولوی عبد الحق اور فرمان فتحپوری کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔ امراؤ طارق نے شعبہ پولیس میں ملازمت کی اور 1992ء میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد امراؤ طارق نے کچھ عرصے وکالت بھی کی۔ امراؤ طارق بابائے اردو مولوی عبد الحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پہ کام کرتے رہے۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    گو کہ امراؤ طارق نے بچپن میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا مگر ان کی پہلی کہانی برگ گل نامی رسالے میں 1954ء میں شائع ہوئی
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)بدن کا طواف(افسانوں کا مجموعہ)
    ۔۔۔۔ 1979ء
    ۔۔۔۔ اس کتاب نے آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا
    (2)خشکی پہ جزیرے ( افسانوں کا مجموعہ)
    (3)تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
    افسانوں کا مجموعہ
    (4)معتوب، ناول
    (5)دھنک کے باقی ماندہ رنگ
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (6)تاروں پہ لکھے نام
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (7)فرمان فتح پوری، حیات و خدمات
    تین جلدوں پہ مشتمل
    امراؤ طارق کے فن پر تحقیق
    ۔۔۔۔۔۔
    سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کی ایک طالبہ نے امراؤ طارق پہ تحقیق کی اور اپنا مقالہ امراؤ طارق، فن و شخصیت کے عنوان سے 1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب امراؤ طارق کے ادبی سفر پہ سب سے مستند دستاویز ہے. بہاءالدین زکریا یو نیورسٹی ملتان کے ایم۔ اے اردو کے طالب علم آصف بلوچ نے 1998 میں امراؤ طارق پر تحقیقی مقالہ لکھا۔ جس کا عنوان”امراؤ طارق شخصیت اور فن“ ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 8 دسمبر 2011ء کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کر گئے۔ پس ماندگان میں انہوں نے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔

  • مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل  کا یوم وفات

    مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل کا یوم وفات

    محمد حسين ہيکل مصر کے ایک شاعر، ادیب اور سیاست داں تھے۔

    مصنف، صحافی، وزیر، سیاست داں محمد حسین ہیکل کی پیدائش20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر۔ میں پیدا ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909 میں گریجویشن مکمل کی 1912ءمیں فرانس میں سوربون یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا، صحافت میں بھی رہے احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیر تعلیم رہے جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے اس کے بعد 1940 سے 1942 تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945 میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔

    ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادی الاول 1376ھ بمطابق 8 دسمبر 1956ء میں ہوئی جب ان کی عمر68 سال تھی۔

    تالیفات

    ۔ (1)روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914ء
    ۔ (2)سير حياۃ شخصيات مصريۃ وغربيۃ
    ۔ – 1929ء
    ۔ (3)حياۃ محمد – 1933ء
    ۔ (4)فی منزل الوحی – 1939ء
    ۔ (5)مذکرات فی السياسۃ المصريہ
    ۔ – 1951 / 1953ء
    ۔ (6)الصديق ابو بکر
    ۔ (7)الفاروق عمر – 1944 / 1945ء
    ۔ (8)عثمان بن عفان – 1968ء
    ۔ (9)ولدی۔
    ۔ (10)يوميات باريس
    ۔ (11)الامبراطوريہ الإسلاميہ
    ۔ والأماکن المقدسہ – 1964ء
    ۔ (12)قصص سعوديہ قصيرہ – 1967ء
    ۔ (13)فی اوقات الفراغ
    ۔ (14)الشرق الجديد
    ۔ (15)روايۃ زينب

  • اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو زبان کے مایہ ناز شاعر، اردو غزل کو نیا پیرہن عطا کرنے والے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا.

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی 8 ، دسمبر، 1925ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے، 1945ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ناصر کاظمی غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہے۔

    ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا جن میں میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ناصر کاظمی نے پیروی میر کرتے ہوئے ذاتی غموں کو شعروں میں سمویا لیکن ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔ ناصر کے اظہار میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس دلوں میں ہلکورے لیتا ہے۔

    ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔ دائم آباد رہے گی۔

    ناصر کاظمی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطورِ خراج عقیدت.

    اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
    محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
    وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تیری مجبوریاں درست مگر
    تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
    جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
    خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
    آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
    یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
    پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
    ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا.

  • شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    علی جواد زیدی کرہان اعظم گڑھ میں 10 مارچ 1916 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی کچھ بڑے ہوئے تو ریاست محمود آباد کے کالون اسکول میں داخلہ لیا۔ 1935 میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1937 میں انٹر اور 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔

    یہ زمانہ وہ تھا جب آزادی کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی اور کمیونسٹ پارٹی نوجوانوں کے لئے خاص کشش رکھتی تھی۔ علی جواد زیدی بھی کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر بن گئے اور آزادی کی جد وجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جد وجہد میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور چھ مہینے کی سزا ہوئی۔

    ملک کی تقسیم اور آزادی کے بعد وہ سرکاری ملازمت میں آگئے اور مرکزی حکومت میں ذمے دار عہدوں پر فائز رہے۔ جب اندر کمار گجرال کی سربراہی میں اردو زبان کی ترقی کے لئے حکومت نے ایک کمیشن بنایا تو گجرال نے علی جواد زیدی کو کمیشن کے انتظامی امور کی ذمے داری سونپی۔

    علی جواد زیدی نے شاعری اور نثر دونوں صورتوں میں اہم ترین کارنامے انجام دئے۔ ان کی شاعری اور خاص کر نظمیں حب الوطنی اور قوم پرستانہ جذبات کی حامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’تیشۂ آواز‘ اور ’رگ سنگ‘ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ علی جواد زیدی نے کئی اہم تنقیدی کتابیں بھی لکھیں۔ جنمیں ’ دو ادبی اسکول‘ ’قصیدہ نگاران اترپردیش‘ ’تاریخ اردو ادب کی تدوین‘ ’اردو میں قومی شاعری کے سو سال‘ اور دوسری کئی کتابیں شامل ہیں۔

    علی جواد زیدی کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے 1988 میں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 7 دسمبر 2004 کو انتقال ہوا۔

    اشعار

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی
    اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

    لذت درد ملی عشرت احساس ملی
    کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے

    ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
    ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

    ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے
    جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم

    اب درد میں وہ کیفیت درد نہیں ہے
    آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں
    یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

    نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی
    پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

    ایک تمہاری یاد نے لاکھ دیے جلائے ہیں
    آمد شب کے قبل بھی ختم سحر کے بعد بھی

    مونس شب رفیق تنہائی
    درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

    جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
    وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

    دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہا
    ہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

    غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئے
    نگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

    شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبر
    مجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

    دیار سجدہ میں تقلید کا رواج بھی ہے
    جہاں جھکی ہے جبیں ان کا نقش پا تو نہیں

    مدتوں سے خلش جو تھی جیسے وہ کم سی ہو چلی
    آج مرے سوال کا مل ہی گیا جواب کیا

    دکھا دی میں نے وہ منزل جو ان دونوں کے آگے ہے
    پریشاں ہیں کہ آخر اب کہیں کیا کفر و دیں مجھ سے

    ہار کے بھی نہیں مٹی دل سے خلش حیات کی
    کتنے نظام مٹ گئے جشن ظفر کے بعد بھی

    پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن
    دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو

    ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے
    یہاں کچھ نہیں دو روزہ کوئی شے نہیں ہے فانی

    جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے
    ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے

    آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا
    آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے

    اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں
    ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

  • دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    رفیعہ شبنم عابدی

    پیدائش:07دسمبر 1943ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف :. آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رفیعہ شبنم عابدی صاحبہ کا شمار بیسویں اور اکیسویں صدی کی بہترین اردو خواتین شاعرات میں ہوتا ہے وہ شاعرہ بنت شاعر ہیں۔ ان کا تعلق اہل سادات و علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ڈاکٹر شبنم عابدی صاحبہ 7 دسمبر 1943 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو کے ایک صاحب دیوان شاعر سید ساجد علی شاکر اور اعلی تعلیلم یافتہ خاتون سیدہ زینب کی صاحبزادی ہیں۔ سیدہ رفیعہ شبنم نے 1960 سے اپنا تخلیقی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا اس کے بعد شاعری شروع کی اس وقت وہ رفعیہ شبنم منچری کے نام سے لکھتی تھیں ۔ منچری وہ اپنے واکد صاحب کے پیدائشی قصبہ منچر کی نسبت سے کہلاتی تھیں مگر سید حسن عابدی سے شادی کے بعد رفیعہ شبنم عابدی کا قلمی نام اختیار کیا۔ رفیعہ شبنم نے تمام تر تعلیم ممبئی میں حاصل کی اور وہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئیں ۔ وہ لیچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر پہنچیں وہ کالج اور یونیورسٹی میں اردو اور فارسی پڑھاتی تھیں. ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی صدر کے عہدے پر فائز ہو کر 38 سال علمی خدمات سے 31 دسمبر 2003 میں سبکدوش ہوئیں۔ ان کی اولاد میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں اور سبھی بچے شادی شدہ ہیں۔ بڑی بیٹی سیدہ شاداب ممبئی میں مقیم ہیں دوسری بیٹی سیدہ سیماب دوبئی میں مقیم ہیں۔ دو بیٹے سید دانش رضا اور سید شارق رضا امریکہ میں مقیم ہیں اور سید کاشف رضا کینیڈا میں مقیم ہیں۔ رفیعہ شبنم عابدی نے شاعری کے علاوہ تنقید، تحقیق اور تراجم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم بمبئی میں حاصل کی اوربمبئی یونیورسٹی میں ’کرشن چندر چیر‘سے وابستہ پروفیسر اور شعبہ اردو اور فارسی کی صدر رہیں۔ رفعیہ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

    شعری مجموعے : ’موسم بھیگی آنکھوں کا‘۔’اگلی رت کے آنے تک‘ ۔’آنگن آنگن پروائی‘۔’نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں‘۔
    فکشن: افسانوی مجموعہ ’سپنے جاگے‘ اور دو ناول ’میں پاگل میرا منوا پاگل‘ ا ور ’دل ٹوٹے نا‘۔
    تنقید: ’نظر نظر کے چراغ‘۔ ’نظر و نقطۂ نظر‘۔
    تراجم: ’شاخ ِ بنات‘ حافظ کی غزلوں کا ترجمہ اور ’دھنک‘ مراٹھی نظموں کا ترجمہ۔
    اس کے علاوہ ان کے بہت سے تحقیقی مقالے مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں
    ان کے فن و شخصیت پر کتابی سلسلہ ’تریاق‘بمبئی نے ایک خصوصی شمارہ ”رفیعہ شبنم عابدی نمبر‘‘، جون،2017 میں شائع کیا ہے۔ رفیعہ شبنم عابدی کی خوب صورت شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا
    گھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا
    بجا کہ تجھ سا رفوگر نہ مل سکا لیکن
    یہ تار تار وجود ایک دن تو سینا تھا
    اسے یہ ضد تھی کہ ہر سانس اس کی خاطر ہو
    مگر مجھے تو زمانے کے ساتھ جینا تھا
    یہ ہم ہی تھے جو بچا لائے اپنی جاں دے کر
    ہوا کی زد پہ تری یاد کا سفینہ تھا
    ندی خجل تھی کہ بھیگی ہوئی تھی پانی میں
    مگر پہاڑ کے ماتھے پہ کیوں پسینا تھا
    تم ان سلگتے ہوئے آنسوؤں کا غم نہ کرو
    ہمیں تو روز ہی یہ زہر ہنس کے پینا تھا
    تمام عمر کسی کا نہ بن سکا شبنمؔ
    وہ جس کو بات بنانے کا بھی قرینا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنا
    میرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھنا
    سروں کو کاٹنے کی فصل پھر سے آ گئی ہے
    ان افشاں سے بھری مانگوں کو تو محفوظ رکھنا
    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا
    فضاؤں میں ہزاروں باز منڈلانے لگے ہیں
    ہر آنگن کی سبھی چڑیوں کو تو محفوظ رکھنا
    ابھی خیمے بھی ہیں کوزے بھی ہیں پانی نہیں ہے
    قسم عباس کی بچوں کو تو محفوظ رکھنا
    بزرگوں کی دعائیں آج کتنی لازمی ہیں
    جوانوں کے لئے بوڑھوں کو تو محفوظ رکھنا
    سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے آ نہ جائے
    ہواؤں کے خنک جھونکوں کو تو محفوظ رکھنا
    سلگتی رت میں شبنمؔ یہ ترا ہی فرض ٹھہرا
    چمن میں اب کے سب کلیوں کو تو محفوظ رکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا
    میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا
    تو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ
    میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا
    کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر
    مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا
    میں وہ سیتا کہ جو لچھمن کے حصاروں میں رہی
    ہم وہ جوگی کہ الکھ پھر بھی جگائے رکھا
    شاید آ جائے کسی روز وہ سجدہ کرنے
    اسی امید پہ آنچل کو بچھائے رکھا
    چوڑیاں رکھ نہ سکیں میری نمازوں کا بھرم
    پھر بھی ہاتھوں کو دعاؤں میں اٹھائے رکھا
    جانے کیوں آ گئی پھر یاد اسی موسم کی
    جس نے شبنمؔ کو ہواؤں سے بچائے رکھا