Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    تاریخ ولادت:07 دسمبر 1932ء
    آسام
    تاریخ وفات:12 مئی 2021ء
    گواہاٹی، آسام
    پیشہ:سماجی خدمات گار، صحافی
    شاعر اور مدیر
    قومیت:ہندستانی
    اصناف:آسامی ادب
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Saudor Puteke
    ۔ Nu Meli Jay
    ۔ (2)Halodhiya Soraye
    ۔ Baudhan Khai
    ۔ (3)Astarag
    ۔ (4)Pita Putra
    ۔ (5)Timir Tirtha
    ۔ (6)Kushilab
    ۔ (7)Edinar Diary
    ۔ (8)Bisannata
    ۔ (9)Nisongota
    ۔ (10)Subala
    ۔ (11)Matshyagandhaa
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Sahitya Akademi Award
    ۔ (2)Assam Valley Literary Award
    ۔ (3)Nilamoni Phukan Award from
    Asom Sahitya Sabha
    ۔ (4)Srimanta Sankardev Award
    ۔ (5)Matshendra Nath Award

    معروف اسمیا مصنف، قدآور صحافی اور روزنامہ اسمیا کے سابق ڈپٹی ایڈیٹر مسٹر بورگوہن نیومیا بارٹا کے سابق چیف ایڈیٹر تھے۔ ”باپ بیٹے“ کے لیے انھیں اسمیا زبان کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1978ء سے نوازا گیا تھا۔

  • یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    پیدائش:19 فروری 1833ء
    جنیوا
    وفات:07 دسمبر 1906ء
    برن
    شہریت: سویٹزرلینڈ
    زبان:فرانسیسی
    شعبۂ عمل:نظریاتی صحافت
    اعزازات:
    نوبل امن انعام (1902)

    الی ڈوکمن(1833ء-1906ء) کو امن کے حوالے سے کام کرنے پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے 1902ء میں نوبل امن انعام کا اعزاز حاصل کیا۔ انھوں نے امن کے اس نوبل انعام کو ایلبرٹالبرٹ گوباٹ (1843ء -1914ء)،سوئس وکیل، تعلیمی منتظم،اور سیاست داں کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ الی ڈوکمن جنیوا میں پیدا ہوئے تھے اورانھوں نے بطور استاد اور صحافی کے بھی کام کیا۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

  • یوم ولادت،  نارائن وامن تِلک

    یوم ولادت، نارائن وامن تِلک

    پیدائش:06 دسمبر 1861ء
    تاریخ وفات:09 مئی 1919ء
    شہریت:برطانوی ہند
    زوجہ:لکشمی بائی تلک
    زبان:مراٹھی

    نارائن وامن تِلک (06 دسمبر 1861 – 09 مئی 1919) برطانوی ہندوستان میں بمبئی پریزیڈنسی کے علاقے کوکن کے ایک مراٹھی شاعر تھے۔ وہ ہندو مت چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مسیحیت قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
    ناراین وامن تلک کی پیدائش بمبئی پریزیڈینسی کے رتناگری ضلع کے کرج گاؤں میں سنہ 1861ء کو ہوئی۔
    1869ء-1873ء کے دوران میں انھوں نے ممبئی کے قریب کے قصبے کلیان سے تعلیم حاصل کی اور ناسک کے قصبے میں اگلے چار برسوںکے دوران میں سنسکرت ادب کا علم حاصل کیا۔ 1877 – 1889ء کے دوران میں انگریزی اور دوسرے مضامین سیکھنے کے بعد انھوں اپنا تعلیمی سلسلہ ختم کر دیا اور ایک ٹیچر کی نوکری کرنا شروع کر دی تاکہ خود اور اپنی بیوی منکرنیکا گھوکلے کو سہارا دے سکے۔ منکرنیکا گھوکلے سے انھوں نے سنہ 1880ء میں شادی کی تھی، شاید خاندان اور اس وقت کی سماجی رسم کے مطابق ہوئی تھی۔ شادی کے بعد منکرنیا کو لکشمی بائی کا نام دیا گیا۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئی تھی؛ تاہم، ناراین وامن تلک کے زور دینے پر وہ مراٹھی پڑھنا اور لکھنا سیکھ گئی، منکرنیکا نے زبان پر مہارت حاصل کر لی اور بعد میں خود کی آپ بیتی ”سمرتی چترے“ بھی تحریر کی جو مراٹھی میں ایک شاہکار آپ بیتی ثابت ہوئی۔
    ناراین وامن تلک نے اپنی زندگی میں کئی اتار چڑاؤ دیکھے اور انھوں نے اپنی زندگی میں مہاراشٹر کے مختلف قصبات میں مختلف اقسام کی نوکریاں کیں جن میں ٹیچر، پنڈت اور پرنٹنگ پریس کمپوزیٹر کی نوکری شامل ہے۔
    سنہ 1891ء میں ان کو ناگپور میں سنسکرت ادب کے مترجم کے طور پر نوکری ملی (اسی سال انھوں نے سنسکرت میں خود ہی کچھ نظمیں لکھیں)۔ اپا صاحب بھوتی کی سرپرستی میں انھوں نے مراٹھی زبان کے جریدہ ”رشی“ (ऋषि) میں ایڈیٹنگ کی، اس جریدے میں ہندو مذہبی معاملات پر بات کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

    سنہ 1893ء میں ملازمت کی تلاش کے لیے ناراین وامن تلک نے ٹرین کے ذریعے راج نان گاؤں کا سفر طے کیا۔ راج نان گاؤں پر اس زمانے میں ایک نوابی ریاست تھی جس کا حکمران ایک ہندو پنڈت تھا اور جو ہندوستان کے وسطی اضلاع میں واقع تھا۔ سفر کے دوران میں ان کی ملاقات ایک پروٹسٹنٹ مبلع فری میتھوڈسٹ چرچ کے ارنسٹ ورڈ سے ہوئی، جو جوش سے مسیحیت کی بات کرتا تھا۔ اس مبلغ نے بائبل کی ایک نقل انھیں پیش کی اور ان مشورہ دیا کہ ان کو دو برسوں میں مسیحی بن جانا چاہیے۔ ان کا ہندومت ترک کر کے مسیحیت قبول کرنے تک کا سفر درد ناک تھا۔ انھوں نے ایک مسیحی تبلیغی جریدے میں نامعلوم مصنف کے طور پر کام کیا اور اس بیچ انھوں نے کئی دفعہ سوتے ہوئے خواب دیکھے جس میں کوئی غیبی قوت ان کو مسیحیت قبول کرنے کا کہہ رہی تھی جس کے بعد انھوں نے بپتسمہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 10 فروری 1895ء کو ممبئی میں ان کو بپتسمہ دیا جس سے علم ان کے رشتے دار اور بیوی لاعلم تھے۔ اس کی بیوی لکشمی بائی کی آزمائش ایک قابل ذکر کہانی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے الگ ہو گئی تھی اور چار سالوں تک طویل کشمکش رہنے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر سے مل گئی اور مسیحیت بھی قبول کر لی۔

    اس کے فوری بعد سنہ 1094ء میں ناراین وامن تلک نے احمد نگر کی سیمینری (تربیت گاہ) میں پڑھانا شروع کیا اور کانگریگشنل چرچ میں ایک خادم دین کے طور پر ان کا نفاذ فرمان ہوا۔ وہ 1912ء میں مسیحی تبلیغی جریدے ”گیان ادے“ کے ایڈیٹر اور معاون بنے اور اپنی وفات تک اسی منصب فائز رہے۔ مسیحی ہونے کے تقریباً دس سالوں بعد انھوں نے مراٹھی زبان کے مہاوروں، خاص کر مہاراشٹر کے وارکری ہندو سمپردائے کے شاعرانہ انداز میں اپنے عقیدے کو بیان کرنا شروع کیا۔ ان کے بنائے کئی گانے مراٹھی بولنے والے مسیحیوں میں اب تک انتہائی مقبول ہیں۔ وہ روایتی مسیحیت کے نقاد تھے اور اپنی وفات سے دو سال قبل وہ چرچ کے قریب ہوگئے تاکہ یسوع کے بپتسمہ یافتہ اور غیر بپتسمہ یافتہ شاگردوں کو اکھٹا کر کے ایک جماعت بنا سکیں۔ ان کا یہ مقصد کامیاب نہ ہو سکا اور وہ 09 مئی 1919ء کو ممبئی میں وفات پا گئے۔
    ناراین وامن تلک کے بیٹے دیو دت ناراین تلک رزمی نظم ”کرست یان“ کے مدیر اور ناشر تھے۔ ان کے پوتے اشوک دیو دت تلک ایک مؤرخ تھے جنھوں نے ”سمرتی چترے“ کی ایڈیٹنگ کی اور ناراین وامن تلک کے بارے میں ایک سوانحی ناول ”چلتا بولتا چمتکار“ لکھا۔

  • سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ بھی دوسری امریکی "لذیذ” نعمتوں کی طرح امریکی ملٹی میڈیا انسٹنٹ میسجنگ ایپ اور سروس ہے۔ جس کو اصل میں سنیپ چیٹ انکارپوریٹڈ نے "جلا بخشی” ہے۔

    اصل میں سنیپ چیٹ کی بنیادی ہنوز غیر محفوظ خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ "صاف و شفاف” تصاویر اور "ملائم” پیغامات عام طور پر صرف مختصر وقت کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے وصول کرنے والوں کے لئے ناقابل رسائی (Inaccessible) ہوجائیں۔

    ایپ اصل میں فرد سے فرد اور بقول مرزا "مرد سے خاتون تک” فوٹو شیئرنگ پر توجہ مرکوز کرنے سے تیار ہوئی ہے، جس میں فی الحال صارفین کی 24 گھنٹوں کے تاریخی مواد کی "پریم کہانیاں” شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ "ڈسکوور” آپشن بھی شامل ہے، جس سے برانڈز کو اشتہار کی حمایت یافتہ مختصر شکل کا مواد دکھانے کی اجازت ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ایپ کو فوٹو جرنلسٹ بھی ایک دوسرے کو چوری چھپے حالات حاضرہ کی "عکسی کہانیاں” بھیجتے ہیں۔

    یہ صارفین کو پاس ورڈ سے محفوظ علاقے یا (ممنوعہ علاقے) میں تصاویر کو اسٹور کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے، جسے "محض چشمانِ من” کہا جاتا ہے۔ اس نے (ٹھیک صحافتی عینک کے اعتبار سے) #مبینہ_طور پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے محدود استعمال کو بھی شامل کیا ہے، جس میں آنے والے طوفانی زمانے میں اس کے استعمال کو وسیع کرنے کے منصوبے ہیں۔

    سنیپ چیٹ کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے من چلے نوجوان طلبہ اِیوان سپیگل، بوبی مرفی، اور ریگی براؤن نے تیار کیا تھا۔ کن "ارفع” مقاصد کے لیے بنایا تھا، ان کا اندازہ ہمارے قارئین خود لگا سکتے ہیں۔

    سنیپ چیٹ سوشل میڈیا کے لئے ایک نئی، اولین موبائل سمت کی نمائندگی کرنے کے لئے خوب جانا جاتا ہے، اور مجازی اسٹیکرز اور بڑھتی ہوئی حقیقت کی آشنائی کے ساتھ بات چیت کرنے والے صارفین پر نمایاں زور دیتا ہے۔

    جولائی 2021 تک، "خدا جھوٹ نہ بھلائے” سنیپ چیٹ کے 293 ملین والی طویل ترین روزانہ فعال صارفین کی تعداد تھی، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک سال کے دوران صارفین کی لانبی قطار میں 23 فیصد اضافہ ہے۔

    اوسطا” ہر دن 4 ارب سے زیادہ سنیپ کبوتر ایپ کے ممبران کے پاس سنیپ لے کر آتے جاتے ہیں۔ سنیپ چیٹ نئی رومان پرور نوجوان نسلوں میں بے حد مقبول ہے۔ خاص طور پر 16 سال سے کم عمر کے شریف زادوں کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لئے رازداری و پردہ داری کی بہت ساری تحفظات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

  • یوم وفات،  میر گل خان نصیر

    یوم وفات، میر گل خان نصیر

    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند
    میر گل خان نصیر

    پیدائش:14 مئی 1914ء
    کراچی
    وفات:06 دسمبر 1983ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان

    نسل:بلوچ
    مذہب:Sunni Muslim
    زبان: براہوی / بلوچی

    ۔۔۔ 1st Education Minister
    ۔۔۔ of Balochistan
    ۔۔۔ 1972 – 1973

    میر گل خان نصیر بلوچستان کی ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ آپ کو ملک الشعرا کا خطا ب دیا گیا تھا۔ آپ1914ء کو نوشکی، بلوچستان میں پیداہوئے۔ آپ ایک مقبول سیاستداں، ایک قوم پرست شاعر، ایک تاریخ داں اور صحافی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ نے فارسی،اردو اور بلوچی زبانوں میں شاعری کی۔ 06 دسمبر1983ء کو یہ مڈ ایسٹ ہسپتال کراچی میں کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں چل بسے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر گل خان نصیر 14 مئی 1914ء کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں مینگل قبیلے کی ایک شاخ پائیند خیل کے میر حبیب خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ درجہ چہارم تک اپنے گاؤں میں تعلیم حاصل کی پھر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول کوئٹہ چلے گئے میٹرک کے بعدآپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا، بارہویں جماعت میں انگیٹھی سے ایک کوئلہ کا ذرہ آپ کی آنکھ میں چلا گیا جس کے باعث آپ واپس گھر آ گئے۔ اسلامیہ کالج لاہور ادبی و سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا اس دور میں بلوچستان مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصہ چیف کمشنر کے ماتحت تھا ،باقی صوبہ ریاستوں میں تقسیم تھا جنہیں انگریز مقامی قبائلی رہنماؤں کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے۔

    سیاسی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے واپس آکر آپ نے ”انجمن اتحاد بلوچستان“ کی تنظیم میں شرکت اختیار کی یہ تنظیم1921ءمیں قائم ہوئی تھی 1936ء میں یہ تنظیم جب غیر فعال ہو گئی تو بلوچستان کے نوجوانوں نے ”انجمن اسلامیہ ریاست قلات ” کے نام سے تنظیم بنائی۔ میر گل خان نصیر صدر اور عبد الرحیم خواجہ خیل اس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد میر عطا اللہ مینگل کی وزارت عظمیٰ کے دوران آپ صوبائی وزیر تعلیم، صحت اور انفارمیشن کے صوبائی وزیر تھے آپ کے دور میں بولان میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس دوران بلوچستان حکومت کے اکبر بگٹی سے اختلافات بہت بڑھ گئے۔ پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹونیشنل عوامی پارٹی ( عدالتی حکم پر غدار قرار دئے جانے کے بعد موجودہ عوامی نیشنل پارٹی) سے جان چھڑانا چاہتے تھے انھوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبر پختونخوا(اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا ) اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت ختم کر دی اور ان کے رہنماؤں کو جیل میں ڈا ل دیا اور دونوں صوبوں میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں ملٹر ی آپریشن شروع کر دیا۔ جب پاک آرمی میر گل خان نصیر کے 72 سالہ بھائی میر لونگ خان کو گرفتار کرنے دشت گوران میں داخل ہوئی تو میر لونگ خان نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا پاک آرمی کے ساتھ مقابلہ ہوا پاک آرمی جدید ترین اسلحہ سے لیس تھی جبکہ میر لونگ خان کے ساتھ مینگل بیرل بندوقوں سے مسلح چند افراد تھے اس لڑائی میں میر لونگ خان جان بحق ہوئے جبکہ پاک آرمی کے 29 جوان اللہ کو پیارے ہوئے۔ میر گل خان نصیر، ان کے چھوٹے بھائی کرنل (ر) سلطان محمود خان، غوث بخش بزنجو اورخیر بخش مری کو گرفتار کر لیا گیا۔ میر گل خان نصیر نے ایام اسیری میں بہت کلام لکھا۔ یہ سب کچھ اکبر بگٹی مرحوم کے دور حکومت میں ہوا عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں خان عبدالولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، سید قصور گردیزی، حبیب جالب، غوث بخش بزنجو پر ٹریبونل کے سامنے غدار ی کا مقدمہ چلا ضیا الحق کے دور حکومت میں ان رہنماؤں کو رہائی ملی جس کے بعد غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، گل خان نصیر، نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان میں پناہ لی جبکہ خیر بخش مری اور شیرو مری مستقل طور پر افغانستان منتقل ہوگئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تاریخ بلوچستان
    ۔ (2)کوچ و بلوچ
    ۔ (3)گرند (شاعری)
    ۔ (4)بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار (ترجمہ)
    ۔ (5)گل بانگ(1951/بلوچی شاعری)
    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند

  • یوم ولادت، سعود عثمانی

    یوم ولادت، سعود عثمانی

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نام:سعود عثمانی
    اصل نام:سعود اشرف عثمانی
    تاریخ پیدائش:06دسمبر 1958ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری، تحقیق
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارش-2007
    ۔ (2)قوس-1997
    ۔ (3)جل پری
    مستقل پتا:14۔دیناناتھ مینشن مال روڈ،لاہور

    ۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعود عثمانی کا تعلق ایک ایسے ادبی و علمی گھرانے سے ہے جس میں بہت عمدہ شاعر جناب ذکی کیفی (والد) اور مولانا جسٹس (ریٹائرڈ) تقی عثمانی (چچا) جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔
    سعود عثمانی، 6 دسمبر 1961ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی مستقل سکونت ہے۔ بی ایس سی (فزکس) اسلامیہ کالج سول لائینز اور ایم بی اے (پنجاب یونیورسٹی) سے مکمل کیے اور اس وقت سے پبلشنگ اینڈ ایکسپورٹ کو سنبھال رہے ہیں ۔
    سعود عثمانی کی شاعری کی 2 کتب بالترتیب ”قوس“ 1997 میں اور ”بارش“ 2007 میں منظر عام پر آئیں اور اپنی فکری جہتوں، اسلوب، جدید لہجے اور عمدہ پیرایۂ اظہار کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول ہوئیں۔
    سعود عثمانی کی ان کتب کے اعلی و عمدہ معیار کی وجہ سے ”قوس“ کو ”وزیر اعظم ادبی ایوارڈ“ اور ”بارش“ کو ”احمد ندیم قاسمی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ان 2 کتب کے علاوہ سعود عثمانی نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کیے، جس پر انہیں "میاں محمد بخش ایوارڈ” اور "حسن قلم ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    سعود عثمانی پاکستان اور بیرون ملک میں متعدد اقوامی و بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    سفر سے پہلے پرکھ لینا ہم سفر کا خلوص
    پھر آگے اپنا مقدر ہے، جو مقدر ہو

    یہ زہر خون کے ہمراہ رقص کرتا ہے
    بہت چکھا ہے محبت کا ذائقہ میں نے

    اے عشق ِ سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
    اور یوں کہ بس کلام ہو اور گفتگو نہ ہو

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
    مرے لیے تو کوئی اور راستہ بھی نہیں

    یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
    دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

    یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
    خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

    تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
    تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

    ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا
    میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا

    وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
    سو اس کا جشن بصدِ اہتمام میں نے کیا

    مزاجِ درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
    کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

    نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
    کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

    اتنی سیاہ رات میں اتنی سی روشنی
    یہ چاند وہ نہیں مرا مہتاب اور ہے

    تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے
    تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

    بچھڑ کے جاتے ہوئے عشق ! فی امان اللہ
    تو میرے ساتھ رہے گا ‘مگر خدا حافظ

    عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
    اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
    تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا

    نمو پذیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں
    ظہور کرنے کو ہے شہرِ آرزو مجھ میں

    نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم
    بھیگی ہوئی پلکوں کے کنارے کی طرح ہم

    عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
    کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا

  • یوم وفات،داؤد کمال

    یوم وفات،داؤد کمال

    پیدائش:04 جنوری 1935ء
    پشاور
    وفات:05 دسمبر 1987 ء
    مدفن:جامعۂ پشاور
    مادر علمی:جامعہ کیمبرج
    اسلامیہ کالج یونیورسٹی
    جامعۂ پشاور
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعۂ پشاور
    اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

    پروفیسر داؤد کمال پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور ماہر تعلیم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 04 جنوری، 1935ء میں ایبٹ آباد، شمال مغربی سرحدی صوبہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے برن ہال کیمبرج اسکول سری نگر، اسلامیہ کالج پشاور، پشاور یونیورسٹی اور جامعہ کیمبرج سے تعلیمی مراحل مکمل کیے۔ انہوں نے 1976ء، 1977ء اور 1980ء میں انگریزی شاعری کے عالمی مقابلے میں حصہ لیا اور ہر مرتبہ سونے کا تمغا جیتا۔ ان تصانیف میں Ghalib: Reverberations, Compass of Love and Other Poems, Faiz in English, Remote Beginning اور Unicorn and the Dancing Girl The کے نام شامل ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Compass of Love
    ۔ and Other Poems
    ۔ (2)Ghalib:Reverberations
    ۔ (3)The Unicorn and
    ۔ the Dancing Girl
    ۔ (4)Faiz in English
    ۔ (5)Remote Beginning
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 05 دسمبر، 1987ء کو نیویارک، ریاستہائے متحدہ امریکا میں وفات پاگئے۔ وہ پشاور یونیورسٹی کے نوگزا قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    5 دسمبر 1973 یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کا شمار پاکستان کی مقبول ترین خواتین شاعرات میں ہوتا ہے ان کی شہرت ملک سے باہر ہندوستان، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کئی دیگر ممالک تک پھیل چکی ہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر عطا شاد نے کہا تھا کہ

    ہم غریبوں کو یوں حسرت سے نہ تکیو
    ہم بڑے کرب سے گزرے ہیں کرامات سے پہلے

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کے بارے میں بھی نہ صرف یہی شعر کہا جا سکتا ہے بلکہ اس شعر میں یہ ترمیم بھی کی جا سکتی ہے کہ
    ” بڑے کرب سے گزر رہے ہیں ”

    اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو شعر و ادب کی دنیا میں جو بلند مقام ملا ہے وہ ایسے ہی نہیں شعر و ادب کی دنیا میں قدم رکھنے پر انہیں جن مشکلات و مسائل اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ تاحال جاری ہے لیکن آفرین ہے ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب اور خاوند محترم کا جو کہ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ اپنے خاندان اور برادری میں نہ صرف پہلی خاتون شاعرہ ہیں بلکہ پہلی ڈاکٹر بھی ہیں یہاں تک کہ ان کے خاندان اور برادری میں ابھی تک کوئی مرد شاعر بھی پیدا نہیں ہوا ہے ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کی خوب صورت شاعری کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ ان کو یہ قابل فخر اعزاز حاصل ہے کہ مصر کی بین الاقوامی اہمیت کی حامل الازہر یونیورسٹی قاہرہ میں ان کے ایک شعری مجموعے کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے اور ان کی شاعری اور شخصیت پر تھیسز بھی ہو رہے ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کے کئی معروف گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے ان کی شاعری کو بڑے شوق اور خوبصورتی سے گایا ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو اس بات کا شدید دکھ اور شکوہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین شاعرات کو زیادہ تر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ شاید ان کی شاعری اپنی نہیں ہے وہ کسی مرد کی شاعری کو اپنے نام کر رہی ہیں اور پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تاثر پیدا کرنے میں خود ان کی صنف کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ اپنی شاعری کی کتاب چھپوانا نہیں چاہتی تھیں ان کے علاقہ ایک بزرگ سرائیکی شاعر چاچا رمضان طالب نے ان کی اجازت سے ان کی پہلی کتاب ” پھول سے بچھڑی خوشبو ” شائع کروائی تھی ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ ” ڈائری سے شاعری ” تک پہنچی ہیں ۔ وہ طالب علمی کے دوران اپنی ڈائری لکھا کرتی تھیں ڈائری میں خوب صورت الفاظ کے استعمال سے ان کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے 12 دسمبر 1996 کو اپنی زندگی کی پہلی نظم ” ملاقات آخری ” لکھی جس کے بعد شاعری ان کی زندگی کا لازمی جز بن گئی ۔ ان کی زندگی میں ڈاکٹری اور شاعری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے وہ ڈاکٹری کو اپنا عشق اور شاعری کو تحلیل نفسی اور زندگی کی علامت قرار دیتی ہیں ان کے خیال ڈاکٹری اور شاعری کے بغیر ان کے ہاں زندگی کا تصور ہی نہیں ہے ۔ شاعری کے لیے وہ محبت کو لازمی قرار دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ محبت کے بغیر شاعری ، شاعری نہیں بلکہ لفظوں کی ہیرا پھیری ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ شاعری کو اپنی ذات کا اظہار اور شکست و ریخت کا شکار معاشرے کا نوحہ قرار دیتی ہیں ۔ وہ شاعری کو سانس کی طرح لازمی قرار دیتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس طرح زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے ٹھیک اسی طرح میری زندگی کے لیے شاعری ضروری ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ 5 دسمبر 1973 کو ڈیرہ غازی خان کے ایک نواحی گاؤں ” جندلانی والا ” میں پیدا ہوئیں ۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں 2 بھائی اور 2 بہن شامل ہیں ان کے والد صاحب کا نام جان محمد ہے جو کہ بلوچ قوم کے کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جان محمد صاحب پیشے کے لحاظ سے زمیندار اور کاروباری شخصیت ہیں ۔ جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی اور اعلی تعلیم دلوائی جس کے باعث ان کے بیٹے اور بیٹیاں اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ کی شادی ان کے والدین کی مرضی پر ان کے کزن سے ہوئی ہے جس سے ان کو بیٹے محمد عمر اور محمد حمزہ پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب ” جان سرجیکل ہسپتال ” قائم کیا ہے جس کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے ۔ جبکہ ڈاکٹر صاحبہ محکمہ صحت پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں ۔اس کے علاوہ وہ بہت سی ادبی تنظیموں اور علمی و طبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں اور سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہیں ۔ان کی شاعری کے اب تک 5 مجموعے شائع ہو چکے ہیں انہیں کئی اعزازات اور ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا مختصر علمی اور ادبی تعارف درج ذیل ہے ۔

    تاریخ پیدائش۔۔5 دسمبر 1973
    ایف ایس سی۔گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان
    ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان
    1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔
    2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان….
    3۔۔صدر ادبی تنظیم ۔۔آنچل
    4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم
    5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد
    6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان
    7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان
    8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان
    10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    11.شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے

    12.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے
    کا تھیسسز ہو چکا ہے
    13.زکریا یونیورسٹی ملتان
    نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے
    غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان
    فیصل آباد یونیورسٹی
    سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں..
    14 .مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ” اور شام ٹھہر گئی” کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے
    15.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ "پھول خوشبو اور تارہ” پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے

    16 ..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان
    اور
    ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے.
    جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا..
    اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں ان کے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا

    5 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
    1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔
    2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔
    3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013
    4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا
    ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری

    غیر مطبوعہ تصنیفات
    ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول
    2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین
    3..یہ جہاں اور میں… مضامین
    4..یہ جہان، رنگ وبو…. مختلف انٹرویوز
    ایوارڈز۔۔
    1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ
    2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ
    3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے

    افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں
    جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

    ہجر میں بھی یہ میری سانس اگر باقی ہے
    اس کا مطلب ہے محبت میں اثر باقی ہے

    وہ آواز وہ لہجہ اس کے خال و خد
    کس کی یاد میں من مہکائے ہوئی ہوں

    بات جو نہیں سنتا اس سے بات کرتی ہوں
    اس پہ ہے یقیں مجھ کو جو گمان جیسا ہے

    دن تو اپنے غم دوراں گزر جاتے ہیں
    شام ہوتے ہی ترے غم میں بکھر جاتے ہیں

    ہر اک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے
    وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے

    رکھا ہوا ہے حفاظت کے ساتھ اسے دل میں
    میں بے امان ہوں وہ تو اماں میں رہتا ہے

    گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی
    میں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی

    اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا
    بے روح ہوئی ہوں یہاں بے جان کھڑی ہوں

  • یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام :شمیم فاطمہ اسریٰ
    قلمی نام:اسریٰ رضوی
    تاریخ ولادت:05 دسمبر 1993ء
    آبائی وطن:علی نگر، بھیک پور، سیوان، بہار
    تعلیم:ایم اے (اردو)، لکھنؤ یونیورسٹی
    تصنیفات:اجتبیٰ حسین رضوی:شخصیت اور جہات
    رہائش:بڑا باغ، مفتی گنج، لکھنؤ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ شمیم فاطمہ اسریٰ کی 5 دسمبر 1993 میں سیوان ضلع کے گاؤں علی نگر بھیک پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر میں اور پاس کے سرکاری مڈل اسکول میں ہوئی اور پھر قریبی ایس ٹی ڈی کالج سے انٹر کے بعد 2010 میں لکھنوں میں سکونت اختیار کی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا مگر ایم کے دوسرے سمسٹر میں شدت اختیار کر گیا اور نانی کے انتقال پر پہلی غزل 2013 کے اواخر میں لکھی۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اداس آنکھیں غزال آنکھیں
    جواب آنکھیں سوال آنکھیں
    ہزار راتوں کا بوجھ اٹھئے
    وہ بھیگی پلکیں وہ لال آنکھیں
    وہ صبح کا وقت نیند کچی
    خمار سے بے مثال آنکھیں
    بس اک جھلک کو تڑپ رہی ہیں
    رہین شوق وصال آنکھیں
    جھکی جھکی سی مندی مندی سی
    امین ناز جمال آنکھیں
    وہ ہجر کے موسموں سے الجھی
    تھکی تھکی سی نڈھال آنکھیں
    نہ جانے کیوں کھوئی کھوئی سی ہیں
    بجھی بجھی پر خیال آنکھیں
    ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی
    محبتوں سے نہال آنکھیں
    اگر نگاہوں سے مل گئیں تو
    کریں گی جینا محال آنکھیں
    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے
    بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے
    ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا
    سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے
    خوابوں کا محل یوں ہی بنایا نہ کرو تم
    تعمیر جو ہو جائے گرائے نہ گرے ہے
    دہلیز پہ دل کی جو قدم رکھے ہے کوئی
    ٹک جائے ہے ایسے کے ہلائے نہ ہلے ہے
    ہے باغ محبت میں وفا کا جو حسیں گل
    مرجھا جو گیا پھر تو کھلائے نہ کھلے ہے
    دل چیز ہے ایسی کہ اجڑ جائے جو ایک بار
    پھر لاکھ بساؤ تو بسائے نہ بسے ہے
    کیوں نقش لیے چشم تصور میں پھرو ہو
    ہو جائے یہ گہرا تو مٹائے نہ مٹے ہے
    کوشش تو بہت کی ہے کہ دھل جائے ہر اک عکس
    اک شکل ہے ایسی کہ بہائے نہ بہے ہے
    دیکھ آئی ہیں شاید کہیں محبوب کو اپنے
    آنکھوں کی چمک آج چھپائے نہ چھپے ہے
    باتوں من جو کر جائے ہے اقرار محبت
    پھر بات کوئی اس سے بنائے نہ بنے ہے
    ہر گام قدم اپنا سنبھالے رکھو اسریٰؔ
    دامن پہ لگا داغ چھڑائے نہ چھٹے ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن
    اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن
    بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا
    تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن
    پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے
    تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن
    با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ
    جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا محسن
    اس کی الفت میں تم ہستی کو مٹا کر دیکھو
    ایک دن ہوگا خدا خود ہی تمہارا محسن
    کشتیاں پار لگانا ہے بھنور سے تم کو
    ڈوبتے لوگوں کو دینا ہے سہارا محسن
    اونچی اٹھتی ہوئی لہروں میں صدا دو اس کو
    ابھی مل جائے گا کشتی کو کنارا محسن
    صبح اس شوخ کے چہرے سے اٹھاتی ہے نقاب
    گیسوئے حسن کو راتوں نے سنوارا محسن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پیدائش:02 مارچ 1917ء
    اندور
    وفات:04 دسمبر 2007ء
    پونے
    قومیت:بھارتی
    زبان:مراٹھی، ہندی
    وجہ شہرت:تاریخ میں ترمیم

    پرشوتم ناگیش اوک جو پی۔ این۔ اوک کے نام سے معروف ہے، ایک ہندستانی مصنف ہے جو اپنے ہندو مرکزائی نشانات کی تاریخی ترمیم پسندی کے لیے مشہور ہے۔ اوک نے 1980ء کی دہائی میں ”ادارہ برائے نظرثانی تاریخ بھارت“ سے سہ ماہی جریدہ ”اتہاس پترکا“ جاری کیا۔ اوک نے کئی دعوے کیے، مثلاً اسلام اور مسیحیت دونوں ہندو مت سے ماخوذ ہیں نیز ویٹیکن سٹی، خانہ کعبہ، ویسٹ منسٹر ایبے اور تاج محل سب شیو کے مندر تھے۔

    ترمیم شدہ نظریات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اوک نے اپنے دعوؤں سے متعلق لکھا کہ میں سمجھ سکتا ہوں اگر آپ اس کتاب کو پڑھنے کے موڈ میں نہیں ہیں لیکن یہ اور اسی قسم کی کہانیاں ہیں جو ہندوستان میں مذہبی احیا کا سبب بن رہی ہیں جو مودی کا سا نقطہ نظررکھنے والے ان پڑھ اور بھولے بھالے عوام کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔
    کعبہ کی تعمیر – ویدی اصل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی کتاب (Some Blunders of Indian Historical Research) میں اوک نے دعویٰ کیا کہ: کسی زمانے میں ہندو مہاراجا بکرما جیت کی سلطنت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجا نے 58 ق۔م میں شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا جسے بعد میں مسلمانوں کے پیغمبر نے خانہ کعبہ میں تبدیل کر دیا۔ ہندوئوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مکہ ان کا شہر ہے جس میں ان کے دیوتا کا مندر تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہندو اس مندر کو دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    لکھنؤ کا امام بارگاہ – ہندو محل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے اپنی کتاب لکھنؤ کی امام بارگاہیں ہندووں کے محلات تھے میں لکھنؤ کی امام بارگاہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ ایک قدیم ہندو محل تھا۔
    کرسچینیٹی – کرشن-نیتی نظریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے مسیحیت یعنی کرسچینیٹی سے متعلق دعویٰ کیا کہ کرسچینیٹی دراصل ہندو، سنسکرت کی اصطلاح کرسن نیتی سے ماخوذ ہے یعنی وہ طرز زندگی جس کا پرچار ہندو اوتار لارڈ کرسن نے کیا اور اس کا نمونہ بن کر دکھایا تھا۔ انہیں کرشن، کرسن، کریسن، کرسنا اور کرشنا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔