Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    عمر خیام

    4 دسمبر 1131 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم مسلمان سائنسدان’ فلسفی اور شاعر عمر خیام
    10؍مئی 1048ء مطابق ٤٣٩ ہجری میں صوبے خراسان رضوی کے شہر نیشاپور، حکومت آل بویہ، فارس، خلافت عباسیہ، موجودہ خراسان، ایران میں پیدا ہوئے۔عمرخیام، طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی ان کا پایا بہت بلند ہے ان کےعلم وفضل کا اعتراف اہل ایران سےبڑھ کراہل یورپ نے کیا۔ سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژوکو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کیا۔ پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم پیش کر کے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ انہیں زندہ جاوید بنادیا۔

    عمر خیام جب نجوم، ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتے تو شعر کی طرف مائل ہوتے۔ مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ ان کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادہ، سہل اور رواں ہے۔ لیکن ان میں فلسفیانہ رموز ہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے 8 سال کی عمر میں ریاضی اور فلسفہ کا مطالعہ کرنا شروع کیا. 12 سال کی عمر میں وہ نیشابور کی درسگاہ کے ایک طالب علم بن گئے۔ بعد میں انہوں نے بلخ، سمرقند اور بخارا کے درسگاہوں میں اپنی تعلیم مکمل کی.
    ان کی قابل قدر تصانیف میں سے ‘میزان الحکمہ، لوازم الامکنہ، رسالہ فی براہین علی مسائل الجبر و المقابلہ، القول علی اجناس التی بالاربعا، رسالہ کون و تکلیف، رسالہ ای در بیان زیج ماکشاہی، رسالہ فی شرح ما اشکل من مصادرات کتاب اقلیدس’ اور رباعیات’ کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں جن کی رباعیات 200 اشعار پر مشتمل ہے۔ 04؍دسمبر 1131ء مطابق ٥٢٦ ہجری کو نیشاپور، خراسان، ایران میں انتقال کر گئے۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    (عمر خیام کی فارسی رباعی کا اردو میں ترجمہ)

    پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا
    چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا
    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری
    یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری
    اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے
    بے یادِ خدا کے زندگانی گزری

    ہے جام سے وابستہ جوانی میری
    یہ مے ہے کلیدِ کامرانی میری
    تم تلخ بتاتے ہو تو کچھ عیب نہیں
    تلخ تو ہے عین زندگانی میری

    پلا تو دے میرے ساقی نئی بہار کے ساتھ
    عبث الجھتا ہے اس زہد کے سہار کے ساتھ
    اجل ہے گھات میں دن زیست کے گزرتے ہیں
    شرابِ ناب ہے موجوں میں بزمِ یار کے ساتھ

    ہے مدتِ عمر بس دو روزہ گویا
    ندی کا سا پانی ہے کہ صحرا کی ہوا
    دو دن کا کبھی غم نہیں ہوتا ہے مجھے
    اک دن جو نہیں آیا ہے، اک دن جو گیا

    وہ جام جو تازہ جوانی دے دے
    اس جام کو بھر کے یارِ جانی دے دے
    لا جلد کہ ہے شعبدہ دنیا ساری
    ہو جائے گی ختم یہ کہانی، دے دے

    خورشید نے کمند سی پھینکی ہے سوئےبام
    فرماں روائے روز نے مے سے بھرا ہے جام
    مے پی کہ اٹھنے والوں نے ہنگامِ صبح کے
    بھیدوں کو تیرے کھول دیا سب پہ لا کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

    نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

    ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

    اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

    انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

    محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

    اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

    روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

    جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
    ۔ (1)فکرو خیال
    ۔ (2)اختلافات
    ۔ (3)کھردرے مضامین
    ۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
    ۔ (5)موضوعات
    ۔ (6)بر سبیل تنقید
    ۔ (7)شمع اردو کا سفر
    ۔ (8)نئے ادبی جائزے
    ۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
    ۔ (10)محترم چہرے
    ۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
    ۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
    ۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
    ۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
    ۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
    ۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
    ۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
    ۔ (18)؟
    ۔ (19)غالب کے نئے خطوط
    ۔ (20)دلاور فگاریاں
    ۔ (21)قلم کے لوگ
    ۔ (22)ادیبان رفتہ
    ۔ (23)آسمان میں پتنگیں
    ۔ (24)دلی دور نہیں
    ۔ (25)ادب کہانی 1996ء
    ۔ (26)ادب کہانی 1997ء
    ۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
    ۔ (28)میر انیس کی قلمرو
    ۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
    ۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
    ۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
    ۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
    ۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
    ۔ (34)مزید ادبی جائزے
    ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

    وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

    چند منتخب اشعار

    شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
    جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

    بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
    انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
    کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

  • دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    میرا ایک دسمبری شاعر دوست ہے جو باقی گیارہ مہینے انسان رہتا ہے لیکن دسمبر کے مہینے میں شاعر بن جاتا ہے۔ دسمبر کے مہینے میں خود پر سوگ کی کیفیت طاری کر لیتا ہے اور دسمبری دکھی شاعری سنا سنا کر سارے دوستوں کا جینا حرام کر دیتا ہے۔

    کل جمعہ کے بعد نازل ہو گیا۔ آتے ہی تین چار غزلیں میرے متھے ماریں جن میں ان فقروں کی تکرار تھی کہ

    اسے کہنا دسمبر آگیا ہے.

    اسے کہنا دسمبر کی سرد شامیں اسے بلاتی ہیں.

    وغیرہ وغیرہ

    پہلے تو میں نے سوچا کہ صاف کہہ دوں کہ مجھے اسکا وٹس ایپ نمبر دو میں کہہ دیتا ہوں لیکن پھر خاموش رہا کہ شاعر نازک دل والے ہوتے ہیں کہیں پھڑک ہی نہ جائے۔

    لیکن مزید شاعری سننے کی ہمت نہیں تھی اس لیے کہا کہ صرف شاعری ہی کرتے ہو یا اس کے واپس آنے کی تمنا بھی ہے؟
    کہتا بالکل یہ تو دلی خواہش ہے۔

    میں نے کہا کہ صرف تمنا ہے یا امید اور یقین بھی ہے؟

    کہتا تمنا بھی ہے اور امید اور یقین بھی ہے۔

    میں کہا کہ اس کے آنے کی کیا تیاری کی؟

    کہتا تیاری؟ کیسی تیاری؟

    میں نے کہا کہ بھائی وہ واقعہ تو سنا ہی ہوگا کہ قحط کی ماری کسی بستی کے لوگ کھلے میدان میں بارش کے لیے نمازِ استسقاء ادا کرنے گئے تو صرف ایک بچہ تھا جو چھتری بھی ساتھ لے کر گیا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اللہ دعا سنے گا اور بارش آئے گی۔ اور پھر اس کی ہی دعا قبول ہوئی اور بارش بھی ہوئی۔

    کہتا ہاں ہاں سنا ہے۔

    میں کہا کہ پھر اس کے لوٹ آنے کی امید صدقِ دل سے رکھو اور تیاری کرو۔

    کہتا کہ تیاری کیسے کروں۔

    میں نے کہا کہ بھائی گھر کو سجاؤ، خود کو تیار کرو۔

    کہتا ہاں یار۔ پھر شہد بھی دے دو۔ کل میں نے خاص چھوٹی مکھی کے جنگلی بیری والے شہد والی پوسٹ آپ کی وال پر دیکھی تھی، جس کا ذائقہ بھی کمال اور جس کی خوشبو بھی کمال ہے مگر دل اداس تھا تو ایسے ہی گزر گیا۔ اب وہی خاص شہد مجھے بھی دے دو۔
    میں نے اسے دیا اور ساتھ کہا کہ صرف اپنے لیے لو گے؟ اس کے آنے پر اسے شہد گفٹ نہیں کرو گے؟

    کہتا ہاں یار یہ بھی خوب یاد دلایا۔یہ شہد تو خوب ہے جیسے کل آپ نے پوسٹ میں کہا تھا لیکن اس کی پیکنگ کالے رنگ میں ہے۔ مجھے تو کالا رنگ بہت پسند ہے اور یہ شہد بھی لیکن اسے سبز رنگ پسند ہے تو اس کے لیے سبز رنگ کی پیکنگ والا (ایکسپورٹ کوالٹی بیری والا) دے دیں۔ ویسے بھی وہ تھوڑا مہنگا ہے اور اسے مہنگی چیزیں پسند ہیں۔

    دونوں کا ایک ایک کلو دیا۔ یہ ملاقات اسے پانچ ہزار چار سو پچاس میں پڑی ہے۔

    اب امید ہے کہ دسمبر اس کا سکون میں گزر جائے گا اور میرا بھی کیونکہ اتنی جلدی وہ پھر میرے پاس نہیں آنے والا۔

    ہور کوئی ساڈے لائق؟

  • ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ,,کون سی کل سیدھی،، — مجیب الرحمن

    ایک بات بتائیے بلکہ یہ بات تو محترم خواتین کے بتانے والی ہے کہ یہ جو آجکل دلہنوں کو مہنگے ترین پارلر پر تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دلہن پہچانی بھی نہیں جاتی اس میں کیا راز پنہاں ہے ؟

    غازہ بہت ضروری ہے ایک دلہن کے لیے لیکن دلہے پر کس قدر ظلم عظیم ہے کہ پہلے دن گھونگھٹ اٹھانے پر دلہن کے نین نقش تک واضح نہ ہوں اور دوسرے دن چہرہ دھلنے پر پتا چلے کہ یہ تو بارات والی خاتون ہی نہیں.

    اچھا دوسری نفسیات یہ بھی ہے کہ اگر کسی پارلر کی تعریف کرنی ہو تو خواتین کہتی ہیں فلاں پارلر بڑا اچھا ہے اس نے دلہن کو ایسے تیار کیا کہ پہچانی ہی نہیں جارہی تھی ۔۔۔۔ ارے بھئی یہی تو سب سے بڑا ظلم ہے کہ پہچانی نہ جاوے ، وہ ماہر مشاطہ اتنا غازہ کیوں تھوپے کہ اصل نین نقش ہی چھپ جاویں اور ولیمے کے اگلے روز منکوحہ اجنبی اجنبی سی لگے۔

    اب دلہے بھلےمانس کو دیکھ لیجیے ، مجال ہے کہ نین نقش میں رتی برابر فرق آیا ہو ۔ بال کٹوائے ، قلمیں تراشیں ، شیو کی ، ذرا سا جیل لگا کر تیار ۔۔۔ اگر پارلر گئے بھی تو ذرا سا لوشن یا پف کا پوچا لگ گیا ۔ اللہ اللہ خیر صلا .

    کسی شادی میں جانا ہوا ، اب چونکہ دلہن کو ہم نے پہلے فیملی میں دیکھ رکھا تھا تو اس کی شکل یاد تھی ۔ لیکن جیسے ہی دلہنیا کو اسٹیج پر لایا گیا ہمیں گمان گزرا یہ کسی اور لڑکی کا نکاح ہے ۔۔۔ پارلر والی نے آنکھیں ، ناک ، ہونٹ اور خال و خد تک بدل دیے ۔۔ یا خدا.

    کسی دن ایسا ہو کہ دلہا نہ پہچانا جاوے ۔۔ پھر ؟

    ادھر تو تصویر کی بجائے اصل میں لڑکے کا رنگ ذرا دبتا نظر آئے تو دلہن کی بہنیں سر پہ بازو رکھ لیتی ہیں کہ لڑکا سانولا ہے.

    اب آپ ہی بتائیے اس کا کیا حل ہو کہ دلہن صحیح سالم ویسی ہی رخصت کی جاوے جیسی لڑکے والوں کو تصویر دکھائی گئی تھی ، بس میک اپ اتنا ہو کہ قدرتی نین نقش نہ بدلیں ۔ یہاں تو ایکسٹینشن لگا کر زلفیں تک بڑھا لی جاتی ہیں ۔۔

    آئے ہائے کتنا ظلم ہے دلہوں پر…

  • معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    8حکمرانوں کے بخیے ادھیڑنے والا درزی شاعر

    استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ یکم جنوری 1910 کوچوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزی تھے۔ گھریلو حالات کے پیش نظر دامن نے بھی بچپن ہی میں تعلیم کےساتھ ٹیلرنگ کا کام بھی شروع کر دیا( بعد میں انہوں نےجرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے ٹیلرنگ کا باقاعدہ ڈپلوما بھی حاصل کیا ) انہوں نے ساندہ کے دیو سماج سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

    عمر تیرہ سال ہوئی تو خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا شعر گوئی کی ابتدا بڑے بھائی کی وفات پر مرثیے سے کی لیکن باقاعدہ شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا۔ پہلے ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک کرکے دامن اختیار کیا ۔ پنجابی شاعری میں استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو باعث فخر سمجھتے تھے۔

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہونے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقیدی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی ۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا ۔ وہ سید عطا اللہ شاہ بخاری، میاں افتخار الدین اور مزدوروں کےجلسوں کی رونق ہوتے تھےحصولِ آزادی کی جدوجہد میں وہ نیشنل کانگریس کے فعال کارکن تھے۔ لاہور کے ایک جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کر رہے تھے، دامن نے نظم پڑھی جو نہرو نے بہت پسند کی اور 100 روپے انعام دیا ( آج کے ایک لاکھ روپے سمجھ لیں ) اس کا بہت چرچا ہوا-

    1947 کے فسادات میں ان کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبانپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب
    ٹکسالی گیٹ میں واقع مسجد کےاس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین بھی مقیم رہے تھے ۔ پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن ٹھہرا۔ کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں ۔ 1949 میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔

    دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔استاد دامن مزدوروں ، کسانوں،غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے ۔انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقوں کی مذمت کرتے رہے ۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں. پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور اس کے سکیرٹری بھی رہے ۔

    استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکار اوم پرکاش، پران اور شیام بھی شامل تھے۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم "چن وے” کے اس گیت کا مکھڑا لکھا۔

    چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤنا تے آپے مٹاؤنا

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے ۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقدہ مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی :

    جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے ۔ مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیراعظم بھارت) بھی موجود تھے ، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے، میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی افلاس میں گزاری مگر مرتے دم تک وطن سے محبت کے گیت گائے ۔ اس دھرتی کو نفرتوں ، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کیلئے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشاندہی اور مذمت کر تا رہا ۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد سیاست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا ۔ ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں :

    بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں

    استاد دامن عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کوچھو لیتےاستاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لئے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں ۔

    استاد دامن کی یادداشت بہت اچھی تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسندوں نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ، ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام کاغذ پر محفوظ کر نا چھوڑ دیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کرنے لگے ۔ ان کا کافی کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہونے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہدیداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے’’دامن دے موتی‘‘ کے نام سے ایک کتاب پیش کی۔

    استاد دامن نے فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ان کا فلم’’ غیرت دا نشان ‘‘ میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہوا۔

    منیوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات

    استاد دامن ، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکرت ، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی پنجابی ہی کو بنایا ۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کےسرپرست، مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈیو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے ۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ۔

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لےاستاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب انکے منہ بولے بیٹے فلم سٹار علاؤالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔

    استاد سے محبت کرنے والوں نےلاکھ روکا، وہ نہ مانے اور اپنےیاردیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئےلوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنےوالی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہےفیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن بعد 3 دسمبر 1984 کو فیض صاحب کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ آج ان کی برسی ہے.

    انہیں ان کی وصیت کے مطابق شاہ حسین کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا ۔

    منقول

  • یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    پیدائش: 02 دسمبر 1884ء
    وفات:01 نومبر 1958ء

    یحییٰ کمال بیاتلی ترکی زبان کے معروف شاعر، مصنف اور سیاست داں تھے۔ آپ 2 دسمبر 1884ء کو اسکوپے، سلطنت عثمانیہ (موجودہ مقدونیہ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام احمد آغا تھا لیکن آپ اس کے علاوہ آغا کمال، اسرار، محمد آغا اور سلیمان سعدی کے قلمی ناموں سے بھی لکھتے رہے ہیں۔
    آپ کا تعلق عثمانی دربار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ دوران تعلیم آپ نے کچھ عرصہ فرانس کے دار الحکومت پیرس میں بھی گزارا جہاں کئی معروف ترک دانشوروں، سیاست دانوں اور مصنفین سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے یورپ بھر میں سیاحت کی اور متعدد ثقافتوں کا جائزہ لیا۔ آپ فرانس کی رومانوی تحریک سے متاثر تھے۔ بعد ازاں آپ نے شاعری کرنے کا فیصلہ کیا۔
    1912ء میں استنبول واپسی تک آپ ایک شاعر کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے اور حکومت کی تبدیلی نے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک آپ کی رسائی کو ممکن بنا دیا۔ آپ تکیر داغ اور استنبول کے صوبوں سے مجلس (پارلیمان) کے رکن بنے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد آپ کو نئی ریاست پاکستان کے لیے جمہوریہ ترکی کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا لیکن اس عہدے پر مقرر ہونے کے بعد آپ کی طبیعت روز بروز ناساز ہوتی چلی گئی اور 1949ء میں آپ کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور آپ کو ترکی واپس آنا پڑا۔ آپ کے مرض کی درست شناخت نہ ہو سکی اور یوں آپ کی صحت دوبارہ کبھی درست طور پر بحال نہ ہو سکی اور بالآخر یکم نومبر 1958ء کو آپ استنبول میں انتقال کر گئے۔
    یحییٰ کمال بیاتلی کے کلام میں جدید و قدیم کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ کو 20 ویں صدی میں ترکی کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض نقاد کو آپ کو فضولی کے بعد ترکی زبان کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔
    ادبی کام
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری:
    ۔۔۔۔۔۔
    کندی گوک قبہ مز (Kendi Gök Kubbemiz) (ہمارا اپنا آسمان – 1961ء)
    اس کی شعرِن رُزگاریلہ (Eski Şiirin Rüzgârıyle) (قدیم شاعری کی ہواؤں کے ساتھ، 1962ء)
    رباعی لر و خیام رباعی لرنی ترکچہ سوئلیش (Rubailer ve Hayyam Rubailerini Türkçe Söyleyiş) (رباعیاں اور ترک زبان میں عمر خیال کی رباعیاں، 1963ء)
    بتمیشش شعرلر (Bitmemiş Şiirler) (نامکمل نظمیں، 1976ء)
    مضامین-مقالے-یادداشتیں:
    عزیز استنبول (Aziz İstanbul) (پیارا استنبول، 1964ء)
    ایغل داغلر (Eğil Dağlar) (سجدہ کرو اے پہاڑو، قومی جنگ آزادی پر مضامین، 1966ء)
    سیاسی حکایلر (Siyasî Hikâyeler) (سیاسی کہانیاں، 1968ء)
    سیاسی و ادبی پورٹلر (Siyasî ve Edebî Portreler) (سیاسی و ادبی نمونے، 1968ء)
    ادبیاتہ دایر (Edebiyata Dair) (ادب پر، مضامین، 1971ء)
    چوجک لوغم گنج لغم، سیاسی و ادبی خاطر لرم (Çocukluğum, Gençliğim, Siyasî ve Edebî Hatıralarım) (میری بچپن، جوانی اور سیاسی و ادبی یادداشتیں، 1973ء)
    تاریخ محاسبہ لری (Tarih Muhasebeleri) (تاریخ کا محاسبہ، 1975ء)
    مکتوب لر- مقالہ لر (Mektuplar-Makaleler) (مکتوبات و مقالہ جات، 1977ء)

  • یوم وفات، نامق کمال

    یوم وفات، نامق کمال

    پیدائش:21 دسمبر 1840ء
    تکیرداغ
    وفات:02 دسمبر 1888ء
    خیوس

    نامق کمال (پیدائشی نام: محمد کمال) (21 دسمبر 1840ء – 2 دسمبر 1888ء) ترکی کے ایک قوم پرست شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی، مترجم اور سماجی مصلح تھے۔ نامق کمال کے افکار نے نوجوانان ترک اور ترک قوم پرست تحاریک پر زبردست اثرات ڈالے اور ترک زبان کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ وہ ترکی زبان کے غیر ملکی طلبہ کے لیے لسانی مواد تیار کرنے والے بہترین مصنفین میں سے ایک تھے۔
    ترکی کی مشہور ادبی شخصیت خالدہ ادیب خانم کے مطابق
    آپ کی ذات جدید ترکی کی محبوب ترین شخصیت تھی اور ترکی کے افکار و سیاست کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی۔

    سوانح حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ سلطنت عثمانیہ کے دار الحکومت استنبول کے مغرب میں واقع علاقے تکیر داغ میں 21 دسمبر 1840ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے فارسی، عربی اور فرانسیسی تعلیم نجی حیثیت میں حاصل کی۔
    آپ نے صوفیہ (موجودہ بلغاریہ، جو اس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا) کے قیام کے دوران شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اور نامق تخلص اختیار کیا۔ عربی اور فارسی کی تکمیل بھی اسی شہر میں کی اور باقاعدہ فرانسیسی زبان سیکھنے کا آغاز بھی یہیں کیا۔ آپ کی شادی بھی اسی شہر میں ہوئی۔
    1857ء میں آپ استنبول آ گئے اور باب عالی کے دفتر ترجمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ 5 سالہ دور ملازمت میں آپ کا استنبول کے ممتاز شعرائے کرام سے تعارف ہوا۔
    ابتدا میں وہ غالب لسکوفچالی سے انتہائی متاثر تھے جو علما کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی اقدار و نظریات کے علمبردار تھے۔ بعد ازاں وہ مصنف اور اخبار ‘تصویرِ افکار’ کے مدیر ابراہیم شناسی سے متاثر ہوئے جنہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ میں گزارا تھا اور مغربی طرز فکر کے حامل تھے۔ شناسی نے نامق کو مغربی انداز اختیار کرنے کامشورہ دیا۔ 1865ء میں نامق اُس وقت تصویر افکار کے مدیر بنے جب شناسی فرانس چلے گئے تھے۔ تاہم 1867ء تک اس اخبار کی پیدا کردہ سیاسی ہلچل نے سلطنت عثمانیہ کے لیے مسائل کھڑے کر دیے۔ کریٹ (اقریطش) کے مسئلے پر ایک اداریہ لکھنے پر اخبار پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی گئی۔ سیاسی مضامین کے باعث تصویر افکار سلطنت عثمانیہ کاسب سے با اثر اخبار بن گیا۔ “نوجوانان ترک” کی اصطلاح سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہوئی۔
    1865ء میں ہی اصلاحات کے حامی چھ نوجوانوں نے اتفاق جمعیت (جسے اردو میں نوجوانان عثمان کہا جاتا ہے) کے نام سے خفیہ تنظیم قائم کی جس میں معروف ادیب و شاعر ضیاء گوک الپ اور نامق کمال کے نام نمایاں تھے۔ اس تنظیم کو ژون ترک لر، ارباب شباب ترکستان، گنج عثمانلی لر اور ینی عثمانلی کے مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔
    حکومت کی جانب سے زیر عتاب آنے کے بعد مارچ 1867ء میں نامق کمال، ضیاء پاشا اور ان کے تیسرے ساتھی علی سعاوی پیرس روانہ ہو گئے۔
    نامق کمال نے پیرس میں اپنا وقت مطالعے اور وکٹر ہوگو، روسو اور مونٹیسکیو جیسے فرانسیسی مصنفین کے ادبی کاموں کے ترکی میں تراجم کرنے میں گزارا۔ آپ نے یہاں ایک اخبار ‘حریت’ بھی نکالا جو مالی امداد بند ہونے کے باعث 1869ء تک ہی چل سکا حالانکہ یہ اخبار بعد ازاں مالی امداد ملنے کے باعث دوبارہ شروع ہوا لیکن نامق نے پھر اس سے کوئی تعلق نہ رکھا۔
    لندن، ویانا اور برسلز میں کچھ عرصہ قیام کے بعد 1871ء میں نوجوانان عثمان استنبول واپس آئے تو نامق کمال نے اخبار ‘عبرت’ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی انقلابی تحاریر جاری رکھیں۔
    اسی زمانے میں آپ نے ایک متنازع ڈراما ‘وطن’ تحریر کیا جو یکم اپریل 1873ء کو استنبول میں پیش کیا گیا جسے عثمانی حکومت نے قوم پرستانہ اور آزاد خیال افکار کے باعث خطرناک قرار دیا اور 9 اپریل کو نامق کمال کو قبرص میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ کی یہ نظر بندی 3 سال دو ماہ جاری رہی۔ اس عرصے میں آپ نے کئی ڈرامے، ناول اور تنقیدیں لکھیں۔
    سلطان عبد العزیز اول کی جگہ مراد پنجم کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے 3 جون 1876ء کو آپ کی معافی کا اعلان کیا اور یوں 29 جون 1876ء کو آپ استنبول واپس آئے۔

    نومبر میں آپ شورائے دولت (کونس آف اسٹیٹ) اور آئین سازی کے لیے ذیلی مجلس کے رکن مقرر ہوئے۔ آپ اور ضیاء پاشا کی کوششوں ہی سے سلطنت عثمانیہ کا پہلا دستور (قانون اساسی)تیار ہوا۔ صرف 93 دن کی خلافت کے بعد سلطان عبد العزیز کو معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ عبد الحمید نے عنان اقتدار سنبھالی۔ ابتدا میں انہوں نے دستور کی پابندی کا وعدہ کیا لیکن جلد ہی آئین منسوخ کر دیا گیا۔
    فروری 1877ء میں نامق کمال کو سلطان کو معزول کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ الزام سے بری ہونے کے باوجود آپ کو رہا نہ کیا گیا اور ساڑھے پانچ ماہ استنبول میں قید رہنے کے بعد آپ کو مدللی (Midilli) جلا وطن کر دیا گیا۔
    اپریل 1879ء میں آپ کو اسی جزیرے کا حاکم بنا دیا گیا۔ پانچ سال تک اس جزیرے کے حاکم رہے۔ اکتوبر 1884ء میں آپ کو جزیرہ رہوڈس کا حاکم بنا دیا گیا جہاں آپ تین سال حاکم رہے۔ انہوں نے رہوڈس کے کتب خانے کی توسیع میں ذاتی دلچسپی لی اور ہندوستان، ایران، مصر اور یورپ بھر میں گماشتے بھیج کر ذاتی خرچ پر کتب منگوائیں۔
    بعد ازاں آپ کو ساکز (Chios) کا گورنر بنائے گئے، جہاں 2 دسمبر 1888ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر محض 48 سال تھی۔
    عارضی طور پر ساکز میں دفنائے گئے بعد ازاں صاحبزادے علی اکرم نے جزیرہ نما گیلی پولی کے قصبے بولیر میں ایک بزرگ سلیمان پاشا کے پہلو میں دفن کرایا۔ سلطان عبد الحمید نے قبر پر مقبرہ تعمیر کرایا۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کے معروف ادبی کاموں میں
    رویہ
    زوالی چوجک
    کربلا
    عاکف بے
    گل نہال
    انتباہ
    امیر نوروز
    شامل ہیں۔ آپ کی چند تحاریر قلمی ناموں سے جبکہ متعدد بغیر نام کے شائع ہوئیں۔
    افکار و خیالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک سماجی مصلح کی حیثیت سے نامق کمال کو دو بنیادی خیالات کے باعث شہرت حاصل ہے: ایک وطن دوسرا حریت (آزادی)۔ ایک آزاد خیال مفکر ہونے کے باوجود نامق کمال نے اسلام کو کبھی مسترد نہیں کیا۔ آپ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک آئینی حکومت کی حامل جدید ترکی ریاست سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ آپ کے سب سے زیادہ مشہور ناول ” علی بین سرگزشتی“ (علی بے کی سرگزشت، 1874ء) اور 16 ویں صدی کے کریمیائی تاتاری خان عادل گیرائے کے حالات زندگی پر مبنی ناول ”جزمی“ (1887-88ء) ہیں۔
    آپ نے تصویر افکار، حریت اور عبرت کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی مضامین لکھے جن میں مراۃ، مخبر، بصیرت، حدیقہ، اتحاد، صداقت، وقت اور محرر شامل تھے۔
    نامق کمال کی حب الوطنی پر لکھی گئی تحاریر نے ترک قوم پرست تحریک اور جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کو بے حد متاثر کیا تھا۔
    متعلقہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ضیاء گوک الپ
    خالدہ ادیب خانم
    یحیی کمال بیاتلی

  • یوم ولادت،  منور بدایونی

    یوم ولادت، منور بدایونی

    جسے چاہا در پے بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    منور بدایونی

    یدائش:02 دسمبر 1908ء
    بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہند
    وفات:06 اپریل 1984ء
    کراچی، سندھ، پاکستان

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منور غزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    انشا اللہ خان انشاء
    یکم دسمبر 1257 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور انشا نے نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ بھی لکھی.جس میں عربی فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوا
    وہ کہتے تھے’’ہرلفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی ازروئے اصل غلط ہو یا صحیح وہ لفظ اردوکا لفظ ہے۔ اگراصل کے مطابق مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے اور خلاف اصل مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے ۔‘‘

    محمد حسین آزاد نے انشا کو اردو کا امیر خسرو کہا ۔ انکا سب سے بڑا کارنامہ کسی ہندوستانی کی لکھی ہوئی اردو گرامر کی اولین کتاب "دریائے لطافت” ہے جو قواعد کی عام کتابوں کی طرح خشک اور بے مزا نہیں کسی ناول کی طرح پر لطف ہے جس میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیاں بولتے سنائی دیتے ہیں۔

    انھوں نے اردو میں "سلک گوہر” لکھی جس میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا قصیدہ لکھا جس میں پورے کے پورے مصرعے عربی، فارسی، ترکی، پشتو، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، پوربی اور اس زمانہ کی تمام قابل ذکر زبانوں میں ہیں۔ ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں لکھیں کہ حریف منہ چھپاتے پھرے۔ ایسے شعر کہے جن کو معنی کے اختلاف کے بغیر، اردو کے علاوہ، محض نقطوں کی تبدیلی کے بعد عربی فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے یا ایسے شعر جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں۔ اپنے اشعار میں صنعتوں کے انبار لگا دینا انشاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

    انشاء یکم دسمبر 1752ء کو مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ خاندان نجف اشرف سے اور بعض دوسری روایات کے مطابق سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہوا تھا اور طبابت میں اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی بنا پر دربار شاہی سے منسلک تھا۔ انشاء کے والد سید ماشاءللہ دہلی کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوے مرشدآباد چلے گئے تھے. بنگال کے حالات بھی خراب ہوئے تو انشا فیض آباد جاکر کم عمری کے باوجود شجاع الدولہ کے مصاحب ہوگئے۔ شجاع الدولہ کی وفات کےبعد وہ نجف خان کے لشکر میں شامل ہوکر بندیل کھنڈ میں جاٹوں کے خلاف لڑے بھی۔ اس کے بعد وہ نجف خان کے ساتھ دہلی آ گئے۔

    انشاء کو دربار تک رسائی ملی اور وہ اپنی طراری، اور بھانڈ پن کی حد تک پہنچی ہوئی مسخرگی کی بدولت شاہ عالم کی آنکھ کا تارہ بن گئے ۔ ان کو اپنی بقاء کے لئے ایک مسخرے مصاحب کا کردار ادا کرنا پڑا جس نے بعد میں، ضرورت کی جگہ، عادت کی شکل اختیار کرلی۔ جب انشاء دہلی پہنچے، بڑے بڑے شاعر، سودا، میر، جرات، سوز وغیرہ دہلی کو چھوڑ کر عیش و نشاط کے نو دریافت جزیرے لکھنؤ کا رخ کر چکے تھے اور چھٹ بھیّے بزعم خود خاتم الشعراء بنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ انشاء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ایسے میں لازم تھا کہ انشاء ان کو ان کی اوقات بتائیں۔ اور یہیں سے انشاء کی ادبی معرکہ آرائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ انشاء کو اپنے سامنے سر اٹھانے والے کسی بھی شخص کو دو چار زور دار پٹخنیاں دئیے بغیر چین نہیں آیا۔

    دہلی میں انشاء کا پہلا معرکہ مرزا عظیم بیگ سے ہوا۔ ان کی علمی لیاقت بہت معمولی تھی سودا کے شاگرد ہونے کے مدعی اور خود کو صائب کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے۔ انشاء کی روش عام سے ہٹی ہوئی شاعری کے نکتہ چینوں میں یہ پیش پیش تھے اور اپنے مقطعوں میں سودا پر چوٹیں کرتے تھے۔ ایک دن وہ انشاء سے ملنے آئے اور اپنی ایک غزل سنائی جو بحر رجز میں تھی لیکن کم علمی کے سبب اس کے کچھ شعر بحر رمل میں چلے گئے تھے۔ انشاء بھی موجود تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ حضرت کو مزا چکھانا چاہئے۔ غزل کی بہت تعریف کی مکرر پڑھوایا اور اصرار کیا کہ اس غزل کو وہ مشاعرہ میں ضرور پڑھیں۔ عظیم بیگ ان کے پھندے میں آ گئے۔ اور جب انھوں نے مشاعرہ میں غزل پڑھی تو انشاء نے بھرے مشاعرہ میں ان سے غزل کی تقطیع کی فرمائش کر دی۔ مشاعرہ میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔ انشاء یہیں نہیں رکے بلکہ دوسروں کی عبرت کے لئے اک مخمس بھی سنا دیا۔

    گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
    پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
    بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

    عظیم بیگ اپنے زخم چاٹتے ہوئے مشاعرہ سے رخصت ہوئے اور اپنی جھینپ مٹانے کے لئے جوابی مخمس لکھا جس میں انشاء کو جی بھر کے برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ بحر کی تبدیلی نادانستہ نہیں تھی بلکہ شعوری تھی جس کا رمز ان کے مطابق کل کے چھوکرے نہیں سمجھ سکتے۔
    موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    ( آخری مصرع ماقبل کے مصرع میں تحریف کے ساتھ شعر "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے” کی شکل میں مشہور ہو گیا)

    اگلی بار جو مشاعرہ ہوا وہ ایک خطرناک معرکہ تھا ۔ انشاء اپنی فخریہ غزل
    اک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
    کیا منہ ہے ارسطوجو کرے چوں مرے آگے
    لے کر گئے۔ اس معرکہ میں جیت انشاء کی ضرور ہوئی لیکن ان کی مخالفت بہت بڑھ گئی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے ۔ دربار سے بھی ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ قسمت آزمائی کےلئے لکھنؤ کی راہ لی۔ آتے ہی وہاں کے مشاعروں میں دھوم مچائی. کچھ دن میں شاہ عالم کے بیٹے سلیمان شکوہ کے ملازم ہو گئے۔ سلیمان شکوہ، انشاء سے اصلاح لینے لگے۔ ان دنوں لکھنؤ میں شاعری کی اک نئی بساط بچھ رہی تھی جسے بعد میں دبستان لکھنؤ کا نام دیا گیا۔ انشاءکے علاوہ، جرات، رنگین، راغب وغیرہ ایک سےبڑھ کر ایک تماشے دکھا رہے تھے۔ سنگلاخ زمینوں میں استادی دکھانے اور چوما چاٹی کے مضامین کو ابتذال کے دہانے تک لے جانے کی اک ہوڑ لگی تھی۔

    آصف الدولہ کے بعد جب سعادت علی خان نے حکومت سنبھالی تو انشاء للہ بہت دنوں بعد کسی طرح ان کے دربار میں پہنچ تو گئے لیکن ان کا رول بس دل بہلانے والے اک مسخرے کا سا تھا۔ نواب کو جب کسی کی پگڑی اچھالنی ہوتی انشاء کو اس کے پیچھے لگا دیتے۔ انشاء کی آخری عمر بڑی بیکسی میں گزری ہنسی ہنسی میں کہی گئی انشاء کی کچھ باتوں سے نواب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور وہ معتوب ہو گئے۔ اور زندگی کے باقی دن مفلسی کسمپرسی اور بیچارگی میں گزارے۔
    انشاء کی تمام شاعری میں جو صفت مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کلام متوجہ اور محظوظ کرتا ہے۔

    منتخب اشعار :

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
    کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
    تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
    یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
    اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعل بد تو ان سے ہولعنت کریں شیطان پر
    لے کے میں اوڑوں، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں
    روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

    تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
    جب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے
    یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک
    جیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے
    گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ
    کس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے
    میاں چشمِ جادو پہ اتنا گھمنڈ
    خدوخال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ
    دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
    جب دھم سے آکہوں گاصاحب سلام میرا
    ( ریختہ سے استفادہ)

  • یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    تاریخ ولادت:24 دسمبر 1896
    حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی
    تاریخ وفات:01 دسمبر 1980
    ممبئی، بھارت
    شہریت:بھارت (26 جنوری 1950–)
    ڈومنین بھارت
    مادر علمی:ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج
    تعلیمی اسناد:بی اے (آنرز)
    پیشہ:ادبی مؤرخ، ڈراما نگار، پروفیسر، ادبی نقاد
    پیشہ ورانہ زبان:سندھی
    کارہائے نمایاں:سندھی نثر جی تاریخ
    اعزازات:ساہتیہ اکادمی ایوارڈ
    ۔ (برائے:سندھی نثر جی تاریخ)
    ۔ (1969)

    پروفیسر منگھارام ادھارام ملکانی، ایم یو ملکانی (انگریزی: Mangharam Udharam Malkani) بھارت سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور ادبی مورخ، نقاد، معلم اور ڈراما نویس تھے۔ ڈی جے کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرار اور پھرجے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔وہ جدید سندھی نثری ادب کے معماروں میں شامل تھے۔ ان کی شاہکار تصنیف سندھی نثر جی تاریخ (سندھی نثر کی تاریخ) پر ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے 1969ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب دیا گیا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی 24 دسمبر 1896ء کو حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق حیدرآباد کے مشہور عامل خاندان سے تھا۔ ان خاندان سے تعلق رکھنے والے منشی آوترائے ٹالپر حکمران خاندان کے فرد میر صوبدار خان ٹالپر کے وزیر تھے۔ منگھا رام نے ڈی جے کالج کراچی سے بی اے (آنرز) کی سند حاصل کی۔ ملازمت کا آغاز ڈی جے کالج سے انگریزی کے لیکچرار کے طور پر کیا، پھر اسی کالج میں فیلو مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے شہر بمبئی منتقل ہو گئے اور وہاں جے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ انہوں نے ادبی زندگی کا آغاز ڈراما نگاری سے کیا۔انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں سے متعدد ڈرامے سندھی میں منتقل کیے۔ اس کے علاوہ کئی طبع زاد ڈرامے بھی لکھے۔ وہ سندھی میں ایک ایکٹ (یک بابی) ڈراموں کے موجد بھی ہیں۔ ڈرامے لکھنا اور ڈرامے پیش کرنا ان کی عملی دلچسپی تھی، ان کا معروف ڈراما قسمت انگریزی ڈرامے کا ترجمہ تھا۔ جب کہ ان ناول ایکتا جو الاپ مشہور یونانی ناول نگار اسرائیل زنگول کے شہرہ آفاق ناول Melting Pot کا سندھی ترجمہ ہے۔ منگھا رام ملکانی کے ڈرانوں میں حقیقت نگاری کے ساتھ وطن پرستی کے جوہر بھی کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ معروف ڈراموں میں بی زال (دوسری بیوی)، اکیلی دل (اکیلا دل)، بہ باھیوں (دو آگیں)، ٹی پارٹی، پریت جی پریت، لیڈیز کلب، کمزور انسان، سمندر جی گجگار (سمندر کی گرج)، کوڑو کلنک (جھوٹا کلنک)، دل ائین دماغ (دل اور دماغ)، کنھ جی خطا؟ (کس کی خطا؟)، نا خلف، ‘قسمت، انارکلی وغیرہ شامل ہیں۔ منگھارا نے طویل اورباقاعدہ ڈرامے بھی لکھے اور ناول بھی تحریر کیے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ تحقیق و تنقید کی جانب راغب ہوتے چلے گئے۔ 1941ء میں ان کا تحقیقی مضمون سندھی بولی جو تعمیر و ترقی پہلے سندھو نامی جریدے میں شائع ہوا اور بعد میں بمبئی سے چھپنے والی کتاب ادبی اصول میں شامل کیا گیا۔منگھارام کوخیال پیدا ہوا کہ سندھی نثر نگاروں کے بابت کوئی ایسی مستند کتاب موجود نہ تھی جو سندھی ادب کے طالب علموں کی رہنمائی کرتی۔ اس اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پروفیسر منگھارام نے سندھی نثر کی تاریخ پر کام کرنا شروع کیا۔ بالآخر سندھی نثر کی ایک ایسی جامع، مبسوط اور مستند تاریخی جائزہ سندھی نثر جی تاریخ کے نام سے کتابی صورت میں سامنے آیا جس نے سندھی نثر کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کو روشن کر کے رکھ دیا۔ سندھی نثر جی تاریخ ایک ایسی معرکۃ الآرا کتاب ہے جو منگھارام ملکانی کو سندھی ادب کی تاریخ میں زندہ جاوید کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر منگھارام نے سندھی افسانے، ناول، ڈرامے اور مضمون نویسی کے علاحدہ شعبوں میں شروع سے لے کر تقسیم ہند تک ہونے والی ترقی کو قلم بند کیا ہے اور ہر صنف کی ترقی کے ساتھ ان کی جداگانہ خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی یکم دسمبر 1980ء کو بمبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔