Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    پت جھڑ کی رت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامان تار تار سیے جا رہی ہوں میں

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کلکتہ میں 22 نومبر 1969ء کو ،سید غلام محی الدین وارثی (مرحوم) اور گہر جان (مرحومہ) کے ہاں پیدا ہوئیں انہوں نے ایم اے، پی ایچ ڈی کی اور خدمتِ خلق میں لگ گئیں ان کی تصانیف میں جاگتی آنکھوں کا سپنا (شعری مجموعہ) زیرِ ترتیب ہیں جس نے ان کو شناخت دی-

    ان کی خدمات کی بدولت انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی انعامات و اعزازات سے نواز اگیا جن میں (1)جھانسی کی رانی لکشمی بائی استری شکتی ایوارڈ (حکومت ہند) ، (2) ویمنس آف دی ایئر انٹرنیشنل ایوارڈ (حکومت ہند)، (3)رول ماڈل (حکومت ہند)، (4)فخرِ ہندوستان (حکومت ہند)، (5)مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت ہند)، (6)ملینیم مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (7)ٹیلنٹیڈ لیڈیز ایوارڈ (8)ٹیلنٹیڈ لیڈیز نیشنل ایوارڈ، ویمنس آف دی ایئر (امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا)، (10)دی ٹیلی گراف ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (11)بیگم رقیہ ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال) مکمل پتا:پریم آشا، 41/C، جان نگر روڈ کلکتہ-700017 شامل ہیں-

    غزل

    دادِ جفا وفا ہے دیے جارہی ہوں میں
    اُن سے مگر نباہ کیے جارہی ہوں میں
    خونِ دل و جگر ہو کہ ہوں میرے اشکِ غم
    اُن کا ہی نام لے کے پیے جارہی ہوں میں
    پت جھڑ کی رُت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامانِ تارتار سیے جارہی ہوں میں
    وارفتگی کہوں اِسے یا بے خودی کہوں
    بس آپ ہی کا نام لیے جارہی ہوں میں
    شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں
    یہ سوچتی ہوں اور جیے جارہی ہوں میں
    کیا رنگ لائے خدمتِ مخلوق دیکھیے
    خدمت کا حوصلہ ہے ، کیے جارہی ہوں میں
    مہنازؔ وہ بھی یاد کریں گے مری وفا
    دل دے کے اُن سے درد لیے جارہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حسرتوں کا مزار ہے سینہ
    دفن ہیں دل میں دل کے افسانے
    اس تبسم فروش دنیا میں
    غم کے ماروں کو کون پہچانے
    تم حقیقت کو کیسے سمجھو گے
    جب سمجھتے نہیں ہو افسانے
    میں تو پیاسی ہی لوٹ آئی ہوں
    پوچھ مت کیا کہا ہے دریا نے
    مجھ کو مہنازؔ یہ پتا بھی نہیں
    ڈھونڈتے ہیں کسے یہ پروانے

    اشعار

    زندگی بھر بلندی نہ ملتی ہمیں
    ہار جاتے اگر حوصلے آپ ہم
    کچھ نہ کچھ ہاتھ اس میں پڑوسی کا ہے
    ورنہ کل تک تھے اچھے بھلے آپ ہم
    دوستی کے ہیں انجام سے آشنا
    چونکہ مہنازؔ ہیں دل جلے آپ ہم

    آغا نیازمگسی

  • امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    جیک لندن (انگریزی: Jack London) (پیدائش: 12 جنوری 1876ء – وفات: 22 نومبر 1916ء) امریکی ادیب، اپنے دور کے مقبول ترین ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار تھے۔

    حالات زندگی

    جیک لندن 12 جنوری 1876ء کو سان فرانسسکو، کیلیفورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکا میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن سے ہی بڑے مہم جو تھے۔ 17 سال کی عمر می جہازوں کے عملے میں بھرتی ہو گئے اور جاپان چلے گئے۔ سمندر سے چوری چھپے موتی نکالتے رہے۔ ملک میں سونے کی دوڑ مچی تو اس میں بھی شریک ہو گئے۔ روس اور جاپان کی جنگ کے دوران اخباری نمائندہ بن کر پہنچ گئے اور 1914ء میں جنگی خبر رساں بن کر میکسیکو گئے۔

    جنک لندن کی کہانیوں میں ان ہی مہموں اور تجربات کی عکاسی ہے۔ 1900ء سےاس کی کہانیاں چھپنی شروع ہوئیں۔ پہلے یہ رسالوں میں چھپیں۔ شروع کی کہانیوں میں سن آف وی وولف (Son of the Wolf) اور ٹیلس آف دی فار نارتھ (Tales of the Far North) کافی مشہور ہوئیں۔ کال آف دی وائلڈ (Call of the Wild) ان کی کتوں کے بارے میں کہانیاں ہیں۔ کتوں پر اتنی عمدہ کہانیاں اور کہیں نہیں ملتی ہیں۔ ان کی بعض کہانیان اس کی اپنی زندگی کے واقعات پر مبنی ہیں، ان میں اسموک بلو (Smoke Bellew)، مارٹن ایڈن (Martin Eden) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

    جیک لندن کو کہانیوں کے لیے اس زمانے میں سب سے زیادہ ماوضہ ملتا تھا لیکن وہ ادیب کےعلاوہ سوشلسٹ بھی تھےاور اس کے نزدیک اپنے لکھے ہوئے رسالوں کی افسانوں اور ناولوں کے مقابلہ میں زیادہ قدر تھی۔ جیک لندن نے ایک پچاس فٹ لمبی کشتی پر پورے کرہ ارض کا چکر بھی لگایا تھا۔

    دی کروز آف دی اسمارک (The Cruise of the Smark) میں انہوں نےاس سفر کی تفصیل بڑےدلچسپ انداز میں لکھی ہے ان کی تصنیفات کے علاوہ اس کی سوانح عمری بھی شائع ہوئی ہے۔ جیک لندن 22 نومبر 1916ء کو گلین ایلن، کیلیفورنیا میں انتقال کر گئے۔

    آغا نیاز مگسی

  • مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی (22 نومبر 1884ء — 22 نومبر 1953ء) اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم: مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم سید ابو الحسن ایک صوفی منش انسان تھے۔ تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربھنگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔ 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔ 1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔

    علمی خدمات:

    عالمِ اسلام کو جن علما پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر، 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ، معارف جاری کیا۔

    تصانیف:

    سیرت النبی
    عرب و ہند کے تعلقات
    حیات شبلی
    رحمت عالم
    نقوش سلیمان
    حیات امام مالک
    اہل السنہ والجماعہ
    یاد رفتگاں
    سیر افغانستان
    مقالات سلیمان
    خیام
    دروس الادب
    خطبات مدراس
    ارض القرآن
    ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
    بہائیت اور اسلام

    ہجرت و وفات:

    تقسیم ہند کے بعد جون 1950ء میں ساری املاک ہندوستان میں چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں مذہبی و علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ 69 سال کی عمر میں کراچی میں ہی 22 نومبر 1953ء کو انتقال کیا۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹاگرام اب دنیا بھر کے بےکاروں کے لئے نیا نہیں ہے۔ ہر روز لوگ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لئے لاکھوں لال گلابی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ثابت ہوا جب کہ فیس بک لوگوں کو اس پر گاگا بنا رہا تھا۔

    جس چیز نے انسٹاگرام کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے "رومانوی” بنایا وہ اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی انوکھی خصوصیت ہے ۔ یہ ایک براہ راست فارورڈ میڈیا شیئرنگ کی جگہ ہے جہاں صارفین کو پیغام رسانی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    مزاحیہ چیزیں :
    یہ سیکشن نہ صرف آپ کو انسٹاگرام پوسٹس کے حوالے سے حالیہ ٹرینڈز کے بارے میں بتانے جا رہا ہے بلکہ انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کرنے کے لیے کچھ مضحکہ خیز چیزوں کے بارے میں بتانے جا رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نیچے دی گئی چیزوں کو پسند کریں گے اور یہ آپ کے اکاؤنٹ پر انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں پر لائکس بڑھانے میں مدد کرے گا۔

    فننی اقتباسات:
    اگر آپ انسٹاگرام پر نیا اکاؤنٹ یا نیا صفحہ ترتیب دے رہے ہیں تو میرے خیال میں آپ کو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں سے شروع کرنا چاہیے اور وہ بھی مضحکہ خیز حوالوں سے۔ آپ انہیں پورے انٹرنیٹ پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اتنا مشکل ہے اور آپ ایسی تصویروں کے ذریعے کچھ کمال کریں گے۔
    یہ مضحکہ خیز اقتباسات کسی کے بارے میں یا صرف عام معنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کچھ ٹیکسٹ ایڈیٹنگ اور پھر امیج کی فارمیٹنگ کی مدد سے اپنے مضحکہ خیز اقتباسات بھی بنا سکتے ہیں۔

    ٹراول:
    سوشل میڈیا کے دیوانے لوگوں میں ٹرول ایک نیا مضحکہ خیز فن ہے۔ یہ صرف انسٹاگرام کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ دوسرے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوتا ہے جیسے ٹویٹر، فیس بک، اور سنیپ چیٹ وغیرہ۔ آپ دیکھیں گے کہ آج کی دنیا میں، اگر آپ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہیں، تو بس حالیہ ایونٹ کو ٹرول کریں۔

    میں کسی اچھی چیز کے لیے کسی مخصوص شخص کو ٹرول کرنے کی کھلے عام حمایت نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن اگر یہ کرنا قابل ہے تو کیوں نہیں؟ یہ کسی کے لباس، ظاہری شکل، فلموں، سیاست یا کسی اور چیز کے بارے میں ہوسکتا ہے۔

    طنزیہ تصاویر:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے اس قسم کی Funny چیزیں صرف مخصوص وقت کے لیے ہیں۔ جب بھی آپ کو لگتا ہے کہ کوئی واقعہ تمام تر قیاس کے قابل ہے تو آپ اس کے لیے کچھ طنزیہ تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے نہ صرف آپ کی سوشل میڈیا پر موجودگی بڑھے گی بلکہ آپ بڑے پیمانے پر سامعین پر ڈورے ڈال سکتے ہیں۔

    شارٹ کامکس امیجز:
    یہ آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوری مزاحیہ پوسٹ کرنا ناممکن کی طرح ہے جب تک کہ آپ اس کے لئے "مادر پدر” آزاد نہ ہوں یا آپ کے پاس بہترین ڈیٹا کنکشن ہو۔ ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے کہ آپ کے مداحوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ایک درمیانی راستہ درکار ہے اور یہ ایسی مثالوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    گفز:
    گرافکس انٹرفیس فارمیٹ یا GIFs شہر میں نئی ​​ٹرینڈنگ چیز ہیں۔ آپ انہیں "صاف” تصاویر یا مختصر ویڈیوز بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر "محو رقص” ہیں اور یہ موشن پکچرز آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کرنا واقعی حیرت انگیز ہیں۔

    مزاحیہ ویڈیوز:
    انسٹاگرام نے ویڈیو کی "قد وقامت” کی حد کو بھی 60 سیکنڈ تک بڑھا دیا ہے۔ لہذا، یہ آپ کے لیے کچھ حیرت انگیز طور پر مضحکہ خیز اور مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کا بہترین موقع بناتا ہے جیسا کہ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ویڈیوز کی طرح کچھ بھی مضحکہ خیز ہوسکتا ہے۔

    ظاہر ہے، تصاویر بھی مضحکہ خیز ہیں لیکن سامعین اور پیروکاروں تک جو چیز زیادہ پہنچتی ہے وہ یقینی طور پر ویڈیوز ہیں۔

    قصہ کوتاہ:
    ایک سے زیادہ تصاویر میں مختصر کہانی کافی عرصے سے انسٹاگرام نے صارفین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد تصاویر شیئر کرنے کی سہولت حاصل کی۔ اب، آپ اپنی گیلری سے 10 تک ایک سے زیادہ تصاویر اڑا سکتے ہیں اور اسے اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کر سکتے ہیں یہاں تک کہ فلٹر لگانے کے ساتھ بھی۔

    حرف "تاخیر”:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے واقعی مزاحیہ فننی چیزوں کا انتخاب کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے پیروکاروں میں اضافہ کرے گا بلکہ آپ کو مختلف لوگوں سے "جُڑنے” میں بھی مدد ملے گی۔ تفریح ​​​​ایک ایسی تفریق ہے جو کبھی بھی رجحانات سے باہر نہیں جاتی ہے۔ اور یہ وقت لوگوں کو اچھی طرح سے پلیجر دینے کا ہے۔

  • خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ثمینہ رحمت منال کی کتاب” اور کیا چاہیئے ”
    تعارف اور تبصرہ : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خوب صورت افسانہ نگار اور شاعرہ ثمینہ رحمت منال کا شائع ہونے والا دوسرا شعری مجموعہ ” اور کیا چاہیئے” میرے ہاتھوں میں ہے۔ جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون و شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنا خوب صورت شعری مجموعہ مجھ ناچیز کے لیے بطور تحفہ ارسال فرمایا ہے۔ یہ کتاب مارچ 2022 میں انحراف پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوئی ہے جو کہ 144صفحات پر مشتمل ہے جس کی ابتداء نعت رسول مقبول ﷺ سے کی گئی ہے جس کے بعد پہلا حصہ غزلوں اور دوسرا حصہ نظموں پر مشتمل ہے ۔ کتاب کے پس ورق پر اردو کے ممتاز ادیب ، شاعر اور ڈرامہ سیریل رائٹر امجد اسلام امجد اور اندرون صفحات میں ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اعتبار ساجد ، نامور شاعرہ نیلما ناہید درانی اور قمر صدیقی نیروی کے ثمینہ منال صاحبہ کی شاعری پر بہترین تبصرے شامل ہیں ۔ اس سے قبل ان کا پہلا شعری مجموعہ” گل بلوئی” 2012 میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی پہلی کتاب کی طرح سال رواں میں شائع ہونے والی دوسری کتاب” اور کیا چاہیئے ” بھی بہترین اور دل میں اترنے والی خوب صورت شاعری پر مشتمل ہے۔

    ثمینہ صاحبہ کی ولادت 9 جنوری 1976 کو کمالیہ پاکستان میں محترم رحمت علی کے گھر میں ہوئی ان کی والدہ صاحبہ کا نام خدیجہ بی بی اور بچوں کے نام یشم منال اور راحم بلال ہے ۔ ثمینہ نے میٹرک کمالیہ گرلز ہائی اسکول سے کنیئرڈ کالج لاہور سے اکنامکس میں بی ایس سی اور ایل ایل بی لندن انگلینڈ سے کیا ہے۔ وہ 1998 میں اپنے خاندان سمیت برطانیہ منتقل ہو چکی ہیں ۔

    ثمینہ صاحبہ کی شاعری سے چند منتخب اشعار قارئین کی نذر ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور ہو تو اس کو پل پل ڈھونڈتی رہتی ہوں میں
    سامنے آ جائے تو کچھ ڈھونڈنے لگتی ہوں میں

    پاس رہ کر تو سبھی لیتے ہیں لذت لمس کی
    دور رہ کر قربتوں کا لطف لے سکتی ہوں میں

    گر بھروسہ ہو کہ ہے اس پار کوئی منتظر
    چاہے کچا ہو گھڑا، دریا سے لڑ سکتی ہوں میں

    میں نے سوچی ہیں جو باتیں وصل کی شب کے لیے
    ڈائری میں ہجر کی وہ روز لکھ لیتی ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی تو معجزہ ہے محبت کا دوستو
    اس نے وہ سن لیا ہے جو میں نے کہا نہیں

    تھی میرے آنسوئوں کو بھی میری انا عزیز
    سو اس کے آگے ایک بھی قطرہ بہا نہیں

    ورثہ سمجھ کے جو وطن تقسیم کر چکے
    وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں انہیں کچھ ملا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک ، انسٹا، وٹس ایپ اور ٹویٹ
    اب کہیں بھی وہ ملتے نہیں کیا کریں

    خاک ہو جائوں گی میں خاک وطن کی خاطر
    اپنی ماں پر میں کوئی تہمت لگائوں کیسے

    اک گلی میں ہی ہیں بھائیوں کے مکاں
    پھر بھی آپس میں ملتے نہیں کیا کریں

    ہمارے تیر دکھاوے کو رہ گئے ہیں منال
    ہدف ہے سامنے اور ہاتھ میں کمان نہیں

    جب ماں بچھڑ گئی تو مجھے یوں لگا منال
    میرے لیے دعا کا خزانہ نہیں رہا

    خوب صورت سی کنیزوں پہ ہے راجہ کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے

    اس کے ہاتھوں میں مرے آنچل کا پلو آ گیا
    اور مجھے شرما کے اپنا بھاگنا اچھا لگا

    باہر ہم آ گئے ہیں حدود شباب سے
    شکوے شکایتوں کا زمانہ نہیں رہا
    دو چار پنچھیوں کو ہی لے آئوں زیر دام
    اب میرے پاس اتنا بھی دانہ نہیں رہا

    اب تو آنسوں بھی کرائے پے ملا کرت کرتے ہیں
    لوگ ملتے ہیں جنازوں پے رلانے کے لیے

  • کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    علامہ شبلی نعمانی

    3 جون 1857 یوم پیدائش

    18 نومبر 1914 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔
    علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    شبلی نعمانی صاحب کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
    جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

    قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
    تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
    ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
    صورت آئینہ حیراں رہ گیا

    یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
    آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

    ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
    میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
    حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

    عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
    کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے

    فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
    بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا

    جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
    بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

    میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
    ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

    تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
    تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

    یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
    کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا

  • ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967  یوم پیدائش

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش

    حوروں کے پستان ناپتے مولوی ۔۔۔۔!

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ادیبہ، مصنفہ، ماہر تعلیم اور نظم گو شاعرہ پروفیسر ڈاکٹر شہناز شورو صاحبہ 17 نومبر. 1967 میں میر پور خاص سندھ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم میر پور خاص میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے انگلش میں ایم اے کیا جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک کا سفر اختیار کیا ۔ انہوں ناٹنگھم یونیورسٹی برطانیہ سے انگریزی پڑھانے کی تعلیم حاصل کی جبکہ نیو یارک یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرار ان کی تعیناتی ہوئی۔ وہ آجکل پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔ سندھ کے معروف ادیب اور بیورو کریٹ اکبر لغاری صاحب سے ان کی شادی ہوئی ہے۔ پروفیسر شہناز شورو تین زبانوں سندھی ،اردو اور انگریزی میں افسانے، مضامین ، مقالے اور آزاد نظم لکھتی ہیں اور ترجمے بھی کرتی ہیں ان کی نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں "نظر نظر کی بات” زوال دکھ” ” درد جو معراج” اور ترجمے شامل ہیں ۔

    آزاد نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عورت کی کوکھ سے نکلے
    حوروں کے پستان ناپتے مولوی
    بد کردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹنے والے مولوی
    ہمارے لباس ہمارے کردار جانچتے مولوی
    درباری مولوی، پیشہ ور مولوی
    بھوک سے بلکتے انسان دیکھ کر
    جن کی سوچ جاگتی نہیں
    زندانوں میں بے گناہ جسم دیکھ کر
    جن کو نظر آتے نہیں
    ننھی بچیوں کے جسموں کو نوچتے بھیڑیے
    جن کی زبان چپ ہے دیکھ کر
    معصوم بچوں کے جسموں کو چیرتے درندے
    مگر ہم بے پردہ عورتیں
    خدا کا عذاب ہیں
    ہم جینز پہن کر کام کرتی مزدور عورتیں
    وبا کا سبب ہیں
    پروردگار اپنے خلیفے کو رسی ڈال

  • شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش
    ایک منفرد تاریخی ناول نگار و صحافی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے منفرد تاریخی ناول نگار ،ادیب،صحافی، جنگی وقائع نگار، افسانہ نویس اور مدیر عنایت اللہ التمش یکم نومبر 1920 میں پوٹھوہار کے نواحی گاوں گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکے جس کے بعد وہ انڈین آرمی میں بطور کلرک بھرتی ہو گئے مگر دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے باعث انہیں جنگی محاذوں پر برما بھیج دیا گیا جہاں وہ جنگ لڑتے ہوئے جاپانی فوج کے ہتھے چڑھ گئے انہیں جنگی قیدی بنا لیا گیا جہاں انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1944 میں جاپانی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ ڈیڑھ سال تک جنگلوں ، جزائر اور بیابانوں میں بھٹکتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنے محاذ پر واپس پہنچے وہاں پہنچنے پر انہیں ملیشیا بھیجا گیا اسی دوران ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ وہ 9 سال بعد 1948 میں اپنی سرزمین پوٹھوہار پاکستان آ گیا یہاں آنے کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے لیکن کچھ عرصہ بعد سرکاری ملازمت چھوڑ کر صحافت میں آ گئے ۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ سے کیا کچھ عرصہ بعد انہوں نے لاہور سے اپنا ماہنامہ حکایت کا اجراء کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ میں انہوں نے ” خاص نمبر” نکالنے کی طرح ڈال دی جس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں خاص نمبرز نکالنے کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے 1965 اور 1971 میں پاک بھارت جنگوں کے دوران محاذ پر جا کر جنگی صورت حال کا جائزہ لے کر آنکھوں دیکھا احوال ” بی آر بی بہتی رہے گی” لاہور کی دہلیز پر” اور ” بدر سے باٹاپور تک” کتابیں لکھ کر لازوال شہرت حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے * داستان ایمان فروشوں کی” اور شمشیر بے نیام” جیسے شہرہ آفاق ناول تحریر کیے۔ عنایت اللہ التمش نے مختلف موضوعات پر 100 سے کے لگ بھگ کتابیں لکھ کر خود کو ادب اور صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ ایک منفرد قسم کے لکھاری تھے جنہوں نے مختلف موضوعات پر مختلف اور فرضی ناموں سے لکھا۔ انہوں نے میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم ، صابر حسین راجپوت اور گمنام خاتون کے ناموں سے بھی کئی کتابیں اور کہانیاں لکھیں۔ اردو ادب اور صحافت کے یہ منفرد کردار 16 نومبر 1999 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

    عنایت اللہ التمش کی تصانیف

    تاریخی ناول/داستانیں

    حجاز کی آندھی
    شمشیرِ بے نیام (دو حصے)
    اور نیل بہتا رہا (دو حصے)
    دمشق کے قید خانے میں
    اور ایک بت شکن پیدا ہوا (پانچ حصے)
    داستان ایمان فروشوں کی (پانچ حصے)
    ستارہ جو ٹوٹ گیا
    فردوس ابلیس (دو حصے)
    اندلس کی ناگن
    امیر تیمور (ترجمہ)
    مجرم یا جنگ آزادی کے ہیرو
    شکاریات ترميم
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
    سانپ، سادھو اور نوجے کی کہانی
    پگلی کا پنجہ
    ایک لڑکی دو منگیتر
    بیٹا پاکستان کا بیٹی ساہو کار کی
    بھیڑیا، بدروح اور بیوی
    جذبات کا سیلاب
    لاش، لڑکی اور گف کے گناہگار
    قبر کا بھید

    نفسیات

    زندہ رہو جوان رہو
    جوانی کا روگ

    معاشرتی ناول/کہانیاں/چادر چاردیواری
    پاکستان ایک پیاز دو روٹیاں
    چھوٹی بہن کا پگلا بھائی
    چاردیواری کے دریچوں سے
    طاہرہ
    مردتو میں ہوں / میرا تیسرا خاوند
    میں بزدل تو نہیں/وہ مر گیا تم زندہ رہو
    پتن پتن کے پاپی
    الجھے راستے
    ہیرے کا جگر
    منزل اور مسافر(دو حصے)
    استانی اور ٹیکسی ڈرائیور
    پانچویں لڑکی
    کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟
    ایک کہانی (دو حصے)
    اکھیاں میٹ کے سپنا تکیا
    چاردیواری کی دنیا
    رات کا راہی (دو حصے)
    واجدہ، وینا اور وطن (دو حصے)
    ڈوب ڈوب کر ابھری نائو
    جرم، جنگ اور جذبات
    میں گناہگار تو نہیں
    پرچم اڑتا رہا
    پیاسی روحیں
    پیاسے
    سزا اس گناہ کی
    ایک آنکھ اور پاکستان
    دھندلی راہیں (دو حصے)
    تاریک اجالے
    جوانی کے جنگل میں

    جرم و سزا/سراغرسانی کی کہانیاں

    جب بہن کی چوڑیاں ٹوٹیں
    کالا برقع جل رہا تھا
    حوالات میں طلاق
    لائن پر لاش
    دوسری بیوی
    داستان ایک داماد کی
    روح کے رشتے اور مقتول کی بدروح
    دام میں صیاد آ گیا
    جب مجھے اغواء کیا گیا
    پیارکا پل صراط
    چور دروازہ
    ایک رات کی شادی
    رات کا راز
    تعویذ، انگلیاں اور انگوٹھی
    بھائی اور بھیڑیا
    سنگیتا، شراب اور سگریٹ
    بیٹی کی قربانی
    واردات اس رات کی
    چڑیا پھنس گئی
    جب پیار نے کروٹ لی
    جائداد کا وارث
    رتن کمار کی روپا
    آشرم سے اس بازار تک
    دلیر یا بیوقوف
    سندری کا سودا
    جھمکوں کی جوڑی
    کار، شلوار اور دوپٹہ
    بال ایک چڑیل کے
    جنّات کے دربار میں
    قاضی کی کوٹھڑی اور کنواری بیٹی
    بن بیاہی ماں
    سہاگ کا خون
    زلیخا کا جن
    عشق ایک چڑیل کا
    رات، ریل اور برقعے
    پیار کا پاپی

    جنگی کہانیاں/وقائع نگاری/ناول

    بی آر بی بہتی رہے گی
    بدر سے باٹا پور تک
    دو پلوں کی کہانی
    خاکی وردی لال لہو (دو حصے)
    فتح گڑھ سے فرار
    لاہور کی دہلیز پر
    پاک فضائیہ کی داستانِ شجاعت
    لہو جو ہم بہا کر آئے
    ہماری شکست کی کہانی

    طنز و مزاح

    ایوبی، غزنوی اور محمد بن قاسم پاکستان میں
    پھوپھی گام

  • مولانا غلام رسول مہر  صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    تشنہ لب بر ساحل دریا ز غیرت جاں دہم
    گربہ موج افتد گمان چین پیشانی مرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کے نامور ادیب، صحافی، مورخ اور مترجم مولانا غلام رسول مہر 15 اپریل 1895ء کو جالندھر کے ایک گائوں پھول پور میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر چند برس حیدرآباد (دکن) میں ملازمت کے بعد لاہور واپس چلے آئے اور تمام عمر اسی شہر میں بسر کی۔ مولانا غلام رسول مہر نے صحافت کا آغاز روزنامہ ” زمیندار” سے کیا پھر انہوں نے عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر روزنامہ انقلاب نکالا۔ اس اخبار سے وہ اس کی بندش 1949ء تک وابستہ رہے۔” انقلاب” کے بند ہوجانے کے بعد مولانا غلام رسول مہر نے پوری زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ انہوں نے مذہب‘ سیاست‘ تہذیب‘ تمدن‘ ادب اور سیرت نگاری پر 100 سے زیادہ کتب یادگار چھوڑیں۔

    16 نومبر 1971ء کو اردو کے یہ بلند پایہ ادیب‘ صاحب طرز انشا پرداز‘ عظیم صحافی‘ صاحب فکر ، مورخ اور صاحب نظر نقاد مولانا غلام رسول مہر لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ مسلم ٹاؤن قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہیں ۔

  • 16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر وقار یونس 16 نومبر 1971 میں بورے والا ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 15 نومبر 1989ء کو بھارت کے خلاف ہوا۔اس کے 6 ماہ کے اندر اندر وہ سب سے زیادہ خوف اور دہشت پھیلانے والے فاسٹ بائولر بن گئے۔

    وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کرکٹ کی دنیا کی سب سے خوفناک جوڑی سمجھی جاتی تھی۔وقار یونس نے مجموعی طور پر87 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 8788 رنز کے عوض 373 وکٹیں حاصل کیں ،۔ انہوں نے 262 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 2117 رنز کے عوض 416 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

    حکومت پاکستان نے وقار یونس کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا ہے۔