Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔

    بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔

    سلام عرض ہے۔

    ایک ہماری جنریشن ہے۔

    رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔

    اور

    پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔

    افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔

  • پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.

    پہلا واقعہ؛

    یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.

    ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
    پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.

    دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.

    صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.

    دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.

    ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.

    پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.

    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    ہر خاص و عام کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ کبھی وہ بھی شمع محفل بنے اور حاضرین محفل اس کے گرد پروانوں کی طرح پھریں. لیکن

    ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے ارمان میرے مگر پھر بھی کم نکلے

    مشہور ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو پاک فوج میں آفیسر بھرتی ہو جائیں لیکن یہ بھی کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے.قربان جاؤں میں اس رب پر جس نے دنیا میں ہی بندے کے شمع محفل بننے اور جنت کی خواہش پوری کر دی اور اس کے لئے مملکت خداداد سسرائیل تخلیق کی.

    اس مملکت میں تمام اختیارات آئینی طور پر صدر (سسر) کے پاس ہوتے ہیں. لیکن اختیارات کا منبع وزیراعظم (ساس) ہوتی ہے.. وزارت خزانہ (صرف کمانے کی حد تک) اور دفاع (خاندانی لڑائیاں) بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے.

    وزرات اطلاعات و نشریات (غیبت) بیٹیوں کے سپرد ہوتی ہے. وزارت محنت وافرادی قوت (گھر کے کام کاج اور خاندان میں اضافہ) بہوؤں کے سپرد ہوتی ہے.اس کے علاوہ تمام وزارتوں کا ایڈیشنل چارج بھی وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے. جن کو چلانے میں بیٹیاں، بہنیں،سہیلیاں اور دیگر لامحدود عورتیں ان کی معاونت کرتیں ہیں.

    اس مملکت میں دوہرا معیار ہوتا ہے.. دامادوں کی زن مریدی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور بیٹوں کو زن مریدی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا اور شریعت میں والدین کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے.

    اس مملکت کی دشمن مملکت کا نام بھی سسرائیل (بیٹوں کا سسرال اور داماد کے علاوہ بیٹی کا تمام سسرال) ہوتا ہے. اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان شدید لفظی گولہ باری اور کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے.

    اس مملکت کی نیشنیلٹی آپ کو کڑی جانچ پڑتال (سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک)،لامحدود سوالوں، کام (نوکری یا بزنس) اور خفیہ کیریکٹر رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے. اور نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لئے آپ کو وہ لڈو کھانا پڑتا ہے جو کھائیں تب بھی پچھتائیں اور نہ کھائیں تب بھی پچھتائیں.

    کیونکہ یہ ارضی جنت عارضی ہوتی ہے تو اس میں سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں اس میں مثل حور صرف بیگم اور انواع اقسام کے کھانوں کی جگہ دستیاب بجٹ میں بہترین کھانا ہوتا ہے اور مشروب کے طور پر مشروب مشرق دستیاب ہوتا ہے.

    اور کام کاج کے لئے وزیر اعظم (ساس) افراد خانہ میں سے منتخب افراد کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے..الغرض مملکت خداداد سسرائیل کے مقیم اپنے مہمان (داماد) کو اس ارضی جنت میں ہر ممکن راحت اور سکون فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    اس جنت سے بے دخلی بھی کسی شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ (اپنی بیگم کے علاوہ تمام عورتیں) کے حصول کی کوششوں یا حصول کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے.

    جب آپ اس ارضی جنت میں داخل ہوتے ہیں تو واپس آنے کے بعد بھی کئی دن اس جنت کے خمار میں مبتلا رہتے ہیں..ویسے سالیاں ہونے کی صورت میں اس جنت میں آپ کے کئی شریک(دوسرے داماد) بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں جنت میں سے اپنے حصے کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے اس وقت جائیں جب کوئی شریک وہاں نہ ہو.

    اس جنت میں آپ کو ایکسٹرا پروٹوکول بھی مل سکتا ہے. پر اس کے لئے آپ کو اپنی بیگم کی ساس اور نندوں کی وہ برائیاں انتہائی دلجوئی سے سننا پڑیں گی جن سے آپ اپنی پوری زندگی ناواقف رہے. البتہ یہ خیال رہے کہ کوئی آپ کی ماں بہنوں کو برا نہ کہے. بیوی کے رشتہ داروں (ساس، نندوں ) سے آپ کو کیا لگے.

    اس جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس میں عارضی (کم سے کم دن کا ) قیام کریں. مستقل قیام کی صورت میں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے اور وہ محاورہ سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ

    بہن کے گھر میں بھائی. اور ساس کے گھر میں جوائی…..

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    آئینہ از عادل عباس چیمہ

    (بیوروکریسی اور حالات حاضرہ)
    کافی کچھ ریسرچ کرنے اور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیورو کا مطلب محکمہ یا ڈیپارٹمنٹ، کریسی کا مطب ہے راج،یعنی سرکاری محکموں کا راج، محکمے جیسا کہ محکمہ پولیس، محکمہ ریونیو، محکمہ واپڈا، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم وغیرہ، محکمہ کوئی بھی ہو یہ کوئی طلسماتی چیز نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعہ ہوتا ہے ان لوگوں کا جنہیں ہم افسر کہتے ہیں اور انکی افسرشاہی کے تمام تر اخراجات ہمارے دئیے ہوئے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں ، ان افسروں کوعوام نے چنا تو نہیں ہوتا مگر سرکاری کاغذوں میں انہیں عوام کا خادم ہی بتایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں یہ عوام کو نہیں بلکہ اپنے سے اوپر والے افسر کو جوابدہ ہوتے ہیں اسی طرح اوپر جاتے جاتے صرف ایک افسر رہ جاتا ہے جسے سیکرٹری کہتے ہیں ہر محکمہ کا سربراہ ایک سیکرٹری ہوتا ہے پھر تمام سیکرٹری مل کر ایک چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوتے ہیں یہاں تک یہ سول بیورو کریسی کہلاتی ہے۔

    بیوروکریسی ریاست کے تین بنیادی ستون میں سے ایک ہے۔ عام تصوراور تاثریہ ہے کہ بیوروکریسی آئین اوردستور میںطے کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے پالیسی اور قوانین کے دیانت دارانہ نفاذ کے بجائے حکمرانوں کا دست و بازو بن کر رہ گئی ہے۔
    کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بیوروکریسی میں ایسی کوئی اصلاحات ہوں جن سے انکی ‘چودھراہٹ’کو خطرہ لاحق ہوجائے۔
    ملک کی ترقی اور جمہوری استحکام کیلئے بیوروکریسی کے طرز عمل کی جامع اصلاح اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ افسران کے انتخاب اور تربیت سے لے کر اس کے تمام مراحل اور پورے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے سیاسی گٹھ جوڑ کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ تب ہی جا کر بیوروکریسی کے ’ استحصال کا ایجنٹ ‘ والا کردار ختم ہوگا۔

    اس وقت میں اپنی لاڈلی بیورو کریسی کے شکوے نہیں کرنا چاہتا عرض یہ کرنی ہے کہ ریاست کے اس نہایت اہم ستون کو مضبوط کرنے کی کوشش بہت ضروری ہے کہ اسے ہی عملاً ملک چلانا ہے اور نئی حکومت کی پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہے۔ مگر اب تو اس شعبے میں خرابیاں اتنی بڑھ گئی ہیںاور حالات نے بڑھا دی ہیں کہ اس کو درست کون کرے، کیا اس کو خراب کرنے والے اس کو درست کریں گے مگرکسی نہ کسی کو آغاز تو کرنا ہو گا۔

    یقینا اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں مگروہ اجتماعی سوچ اور رویے میں تحلیل ہو کر رہ جا تے ہیں۔ کام نہ کرنے کیلئے قانون، نظام، سیاسی مداخلت، عدالتی رکاوٹوں اور اختیار نہ ہونے جیسے بہانے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی افسر دیانتداری اور لگن سے کام کرنا چاہتے تو اُس کے لیے 24 گھنٹے بھی کم ہیں اور آج کے دور میں بھی چند افسروں نے دیانت، اخلاص اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کیا ہے۔ اگر کسی ضلع کا DCO یا DPO کام کر نا چاہے تو حاصل اختیارات اور موجودہ سیاسی ماحول کے اندر رہ کر بھی وہ اپنے ضلع کو ایک مثالی ضلع بنا سکتا ہے۔ کوئی پالیسی یا اقدام اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک افسر شاہی اُس میں اخلاص کے ساتھ شامل نہ ہو۔ خود احتسابی کا نظام عملاً ختم ہو چُکا ہے۔ قوانین اور ضابطوں کو کام نہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ آسانیاں پیدا کرنے کیلئے۔ ہماری افسرشاہی کی مجموعی سوچ آج بھی نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے۔

  • اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    کسی رشتے میں جذبات، محبت اور ہم آہنگی کو ایک ایسی اھم چیز سمجھا جاتا ہے، تو غصہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جوڑے اس سوال کے جواب کی تلاش میں رہتے ہیں کہ رشتے میں غصے کو کیسے قابو کیا جائے۔

    غصہ کسی بھی رومانوی شراکت داری کا ایک فطری اور ناگزیر حصہ ہے۔ جب دو لوگ اپنی زندگیوں کو اس قدر گہرے طریقے سے بانٹتے ہیں تو ان میں تصادم اور اختلاف ضرور ہوتا ہے۔ جب اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو ‘غصہ میرے رشتے کو خراب کر رہا ہے’ کے خوف سے اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کے ساتھ صحیح طریقے سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔
    شادی یا رشتے میں حل نہ ہونے والا غصہ باہر جانے سے کہیں زیادہ نقصان دہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جب آپ کسی رشتے میں غصے پر قابو پانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے اور اسے ختم نہ ہونے دیا جائے۔ ماہر نفسیات کی ماہرانہ معلومات کے ساتھ، آئیے یہ معلوم کریں کہ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔
    اس سے پہلے کہ ہم رشتے میں غصے کی جگہ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آئیے اس بات پر غور کریں کہ غصہ دراصل کیا ہے۔ اس جذبات کو بڑی حد تک ایک منفی احساس کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے جو رومانوی شراکت داری کو تباہ کر سکتا ہے۔ غصے کو بھی اکثر محبت کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ کہ غصہ رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے عام طور پر اس عقیدے میں جڑا ہوا ہے کہ جب آپ کسی سے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو آپ ان سے محبت نہیں کر سکتے۔
    حقیقت میں، غصے کے جذبات سے منسلک یہ تمام تصورات غلط ہیں۔ غصہ صرف ایک اور انسانی جذبہ ہے جسے مکمل طور پر ختم یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ آپ کے رشتے کے لیے تباہی کا باعث بنے، اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کوئی بھی جوڑا زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو چیز واقعی اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی رشتے میں حسد یا غصے کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ اس سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کریں۔
    ‘کیا رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے’ کے سوال پر واپس گھومتے ہوئے، نکی بینجمن کہتی ہیں، "جی ہاں، رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے لیکن یہ کس حد تک مختلف عوامل پر منحصر ہے۔ غصہ، اعتماد میں کمی، واضح مواصلات کی کمی، تفریق یا غیر متوازن طاقت کی حرکیات جیسی وجوہات غصے کے جذبات کی جائز وجوہات ہو سکتی ہیں۔
    اگرچہ یہ عام بات ہے، وجوہات بڑی حد تک آپ کے غصے/جواب کی صداقت کا تعین کرتی ہیں۔ اگر آپ اپنے رشتے میں جلدی ناراض ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اپنا غصہ کھو دیتے ہیں، تو اس میں شامل کسی کے لیے بھی ہموار سفر نہیں ہوگا۔ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نقصان نہ پہنچانے کے لیے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رشتے میں مختصر مزاج پر کیسے قابو پایا جائ

  • محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ محبت کا مل جانا ہے – لفظی! جب ایک دیوانہ جوڑا، جو ایک لمحے کے لیے بھی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں روک سکتا، جب شادی کا فیصلہ کر لیتا ہے، تو محبت سے زیادہ دلکش کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
    ہاں، یہ سچ ہے کہ محبت کی شادی میں بھی محبت مالی تحفظ، حیثیت، طبقے اور ذات کے حساب سے آتی ہے۔ سماجی جوڑے بہترین انتخاب کرنے کے لیے کافی محتاط ہیں۔ کچھ اور ہیں جو اپنی زندگی کی محبت سے شادی کرنے کے لیے ذات کے خلاف، معاشرے کے خلاف، خاندان کے خلاف جاتے ہیں۔ محبت کی شادی کا تصور یہ ہے کہ آپ اس شخص سے پیار کرتے ہیں اور اس سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ آپ پوری زندگی اس کے ساتھ گزارتے ہیں۔ رومانس ہے، مطابقت ہے اور خالص محبت ہے – ایک ایسی محبت جس کے ساتھ آپ ہاتھ پکڑ کر اپنی پوری زندگی سفر کرنا چاہتے ہیں۔ شادی تک سب کچھ پیارا ہوتا ہے اور پھر جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جدوجہد زرا مشکل ہے کیونکہ آپ کی شادی میں دو پورے خاندان شامل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ الگ رہ رہے ہیں اور اپنا گھر بنالیا ہے تو یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ شوہر کے والد اپنے مالی معاملات پر نظر رکھتے ہیں اور اکثر ان کے مشترکہ اکاؤنٹ سے رقم نکالتے ہیں۔
    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دونوں طرف کے والدین اس جوڑے کو اپنی آزاد زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، مداخلت جوڑے کے درمیان جھڑپوں اور جھگڑوں کا باعث بنتی ہے جو پیار کو کم کرنا شروع کر دیتی ہے اور آخر کار حقیقت محبت سے متاثرہ جوڑے کو دھکیل دیتی ہے۔
    محبت کی شادیوں میں توقعات خاندانی طے شدہ شادیوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں کیونکہ جوڑے طویل عرصے تک ملتے رہتے ہیں اور پھر اپنی خواہشات اور خواہشات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے جیسے ہی وہ گرہ مین باندھتے ہیں وہ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اتر جاتے ہیں لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اسی وقت محبت کو نقصان ہوتا ہے۔ جو کہ آگے جا کر محبت کے خاتمے یا رشتے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں.

  • آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اگر آپ کی گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ BF ​​سے پیار کرتی ہے۔

    آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اگر آپ کی گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ BF ​​سے پیار کرتی ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آپ کی گرل فرینڈ اس کے بارے میں مسلسل بات کرتی رہے یا جب بھی آپ اس علاقے میں ہوں اسے اس کے گھر سے گاڑی چلانے کی وجوہات ملیں۔ جب آپ کسی بحث کے بیچ میں ہوتے ہیں یا ان خطوط پر گندے تبصرے کرتے ہیں تو شاید وہ آگے بڑھ کر آپ کا موازنہ اس سے کرتی ہے۔ بدترین صورت حال، آپ کی گرل فرینڈ دراصل ایک رات نشے میں اسے ڈائل کرتی ہے جب وہ آنسوؤں کے تالاب میں ہوتی ہے اور اسے یاد کرتی ہے۔ واضح طور پر، یہ نشانیاں ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابق سے پیار کرتی ہے۔
    ہم بحیثیت انسان محسوس کرتے ہیں کہ وفاداری ایک لازوال رشتے کے لیے ضروری ہے۔ اور ہونا بھی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شراکت دار ہمیں اپنی تمام ضروریات – جذباتی، ذہنی اور جسمانی کی تکمیل کے طور پر دیکھیں۔ یہ وہی ہے جو واقعی ایک عظیم بانڈ کو یقینی بناتا ہے۔
    لیکن کیا ہوتا ہے جب آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کی گرل فرینڈ کو اپنے آخری رشتے کے حوالے سے ابھی تک بندش نہیں ملی ہے؟ کیا ہوتا ہے جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی ایک پرانے شعلے پر لٹک رہی ہے؟
    جب آپ کو اس قسم کا احساس ہوتا ہے تو آپ کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ غیر محفوظ محسوس کرنا یا غصے سے کام لینا آپ کے تعلقات کو پتھریلی زمین پر ڈالنے کا ایک یقینی طریقہ ہے۔ لہذا، اگر آپ اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں، "کیا وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​​​سے پیار کرتی ہے؟” اس سے پہلے کہ ہم اس سے نمٹیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے، آئیے واضح کریں کہ وہ کون سی یقینی نشانیاں ہیں جو وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہیں۔
    آئیے ان بنیادی باتوں کے ساتھ شروع کریں۔ جو نشانیاں وہ اپنے سابقہ ​​پر نہیں ہیں وہ ہمیشہ موجود رہیں گی اگر یہ واقعی سچ ہے۔ اگر وہ اسے یاد کرتی ہے، تو شاید ہی کوئی ایسا طریقہ ہو کہ وہ اسے آپ سے چھپا سکے۔ اگر آپ ان علامات کو یاد کرتے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ آپ اس کے رویے کو غور سے نہیں دیکھ رہے ہوں۔ تو سب سے پہلے اپنی آنکھیں کھولو اور سچائی کے قریب جاؤ۔
    کیا وہ اب بھی اپنے سابق کے لیے جذبات رکھتی ہے؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔ ہم آپ کو دس نشانیاں دکھاتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔
    1. کیا وہ اب بھی اس سے بات کرتی ہے؟
    اب، بات ہو رہی ہے، اور ہے… بات ہو رہی ہے۔ ہم سب فرق جانتے ہیں۔ کچھ موضوعات رشتے میں مقدس ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں جانوں گا کہ وہ آپ کے رشتے میں کیا ہیں، لیکن اگر میں نے اپنے ساتھی کو ان موضوعات کے بارے میں کسی سابق سے بات کرتے ہوئے پایا، یہاں تک کہ مذاق میں یا یہاں تک کہ صرف اس پر بات کرنا مجھے ناراض کرے گا۔ مشورہ طلب کرنا یا کچھ اور..ہاں… یہ بہت بڑی بات ہے۔
    اگر آپ اپنے آپ سے اکثر پوچھتے ہیں – کیا اتنا اہم ہے کہ وہ اگلے دن تک انتظار نہیں کر سکتا اور آدھی رات کو اس پر تفصیل سے بات کرنی پڑتی ہے یا کون سی بات اتنی نجی ہے کہ اسے بات کرنے کے لیے اگلے کمرے میں جانا پڑتا ہے؟ وہ یا صرف اپنے آپ سے یہ آسان سوال پوچھیں۔ ایک لڑکی اپنے سابقہ ​​کے ساتھ کیوں رابطے میں رہے گی جو اس وقت اس کی زندگی سے باہر ہونے والا ہے؟
    2. وہ سوشل میڈیا پر کتنی بات چیت کرتے ہیں؟
    سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس سے بچنا ہے۔ لہٰذا کسی کے بہت سے تعاملات اور طرز عمل کو آن لائن ان کے نقش قدم کا پتہ لگا کر سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی تصویروں، پوسٹس کو پسند کرنا، تبصرہ کرنا یا قابل تعریف کام کا اشتراک کرنا شاید صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں لیکن خوش ہیں کہ دوسرا اچھا کر رہا ہے۔ یہاں غیرت مند بوائے فرینڈ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ہوسکتا ہے کہ آپ کا ساتھی سابقہ ​​خاندان کے ممبران کے ساتھ دوست ہو اور ان کے تعلقات ٹوٹنے کے باوجود ان کے ساتھ فروغ پزیر تعلق قائم رکھے۔ مجھے وہاں کوئی نقصان نظر نہیں آتا، اور نہ ہی آپ کو۔ یہ صرف شائستگی بھی ہو سکتی ہے۔
    لیکن اگر آپ کی گرل فرینڈ اپنی زندگی کو اپنے سابق کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہی ہے، سابقہ ​​ساتھی کی تصاویر پر مسلسل تنقید کر رہی ہے، اس کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہی چھٹیاں منانا چاہتی ہے جو اس کا سابقہ ​​لے رہی ہے، اپنے خاندان کا آپ سے موازنہ کر رہی ہے، آپ مصیبت میں ہو سکتے ہیں. اور یہ گہری مصیبت ہو سکتی ہے۔
    یہ بھی نوٹ کریں کہ وہ سوشل میڈیا پر کتنی بات کرتے ہیں۔ متن جو فطرت میں خطرناک ہو سکتے ہیں یا محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا تبادلہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے سابقہ ​​یا دوستوں کے درمیان تب بھی جب وہ نشے میں ہوں۔
    3. کیا وہ اب بھی اپنے سابق کے لیے جذبات رکھتی ہے؟ دیکھیں کہ کیا وہ نرمی سے اس کا پیچھا کر رہی ہے۔
    مجازی دنیا میں پیچھا کرنا آسان ہے، اور ہم بحیثیت انسان، اسے چھوڑنے کی اپنی صلاحیت میں بگڑ رہے ہیں۔ لہذا، اگر آپ اپنی گرل فرینڈ کو اپنے سابقہ ​​پروفائل یا اس کے کنبہ کے افراد کے پروفائلز کے ذریعے مسلسل اسکرول کرتے ہوئے پاتے ہیں کہ اس کے بارے میں خبریں، اس نے اس دن کیا کیا، وہ کہاں تھا، وہ کس کے ساتھ تھا اور اس دن اس نے کیا کھایا… ہوشیار.
    آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے؟ مشترکہ دوست بھی اس بارے میں معلومات کے رازدار ہیں کہ دوسرا کہاں ہے۔ تو کیا آپ اسے پاتے ہیں کہ وہ مسلسل ان سے پوچھتی ہے کہ وہ کہاں ہے اور وہ کیا کر رہا ہے، جب بھی وہ ملتے ہیں تو ان کے ساتھ اس کے اور اس کے ماضی کے تعلقات پر تفصیل سے بات کرتے ہیں؟
    کیا آپ یہ پوچھ کر اپنے آپ سے سوال کر رہے ہیں، "کیا وہ مجھے ریباؤنڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے؟” یہ بذات خود کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا رشتہ پریشانی کی طرف بڑھ رہا ہو۔
    4. اپنے سابقہ ​​کے ساتھ قربت پیش کرنا
    یہ کہنا کہ ‘میری گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے لیکن مجھ سے بھی پیار کرتی ہے’ آپ کے لیے اسے آپ کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا عذر نہیں ہے۔ اگر آپ کو نشانیاں نظر آتی ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے، تو آپ کو اس کے بارے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
    کیا آپ کی گرل فرینڈ اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کی پوسٹس پر تبصرے کے دوران جب وہ ایک ساتھ تھیں تو کتنی خوش کن چیزیں تھیں؟ اگر آپ سب ملتے ہیں، تو کیا وہ آپ کو ان باتوں اور باتوں سے خارج کر دیتی ہے جن کے بارے میں آپ کو علم نہیں ہے اور اس کے ساتھ بات چیت میں ملوث ہے؟ کیا وہ کبھی کبھی بھول جاتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کیوں الگ ہوئی؟
    آپ اس وقت پوری طرح سے الجھن میں پڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ اب بھی آپ سے پیار کرتی ہے اور اس دوران آپ کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ لیکن یہ رجحان اب بھی ظاہر کرتا ہے کہ سابق کے ساتھ قربت آپ کے تعلقات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ صحت مندی لوٹنے والے تعلقات کی صرف کلاسک علامات ہیں، لہذا ہوشیار رہیں۔
    5. کیا آپ اسے اس کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے پکڑتے ہیں؟
    کیا آپ نے کبھی اسے اس کی تصویروں یا تصویروں پر کلک کرتے ہوئے دیکھا ہے جب وہ ایک ساتھ تھے جس سے آپ کو بے چینی محسوس ہوئی اور پوچھا، ‘کیا میری گرل فرینڈ اب بھی اپنی سابقہ ​​پر ہے؟’
    اگر وہ اس کی تصویروں کے بارے میں جنون رکھتی ہے، انہیں بار بار دیکھتی ہے، اس کے بارے میں بات کرتی ہے اور افسوس کے ساتھ اس کے ساتھ وقت ضائع کرتی ہے، تو یہ جواب اثبات میں ہے۔
    6. کیسے جانیں کہ وہ اپنے سابقہ ​​سے زیادہ نہیں ہے؟ جسمانی رابطے کا اندازہ لگائیں۔
    آپ کے ساتھ، اگر وہ بے حد پیار کرنے والی ہے، بستر پر آپ کے ساتھ لطف اندوز ہوتی ہے اور آپ حقیقی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ آپ اچھی جنسی تعلقات رکھتے ہیں، تو شاید فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہے جب مسئلہ شروع ہوسکتا ہے۔ اگر وہ اپنے سابقہ ​​کے بارے میں بات کرتی ہے جب وہ آپ کے ساتھ رومانوی یا بدتر جنسی ماحول میں ہوتی ہے۔ وہ ذہنی طور پر آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ جنسی تعلقات کے دوران اپنے سابقہ ​​​​کا نام صاف کرنا ایک مکمل تحفہ ہے کہ وہ اب بھی اپنے سابق کے لئے جذبات رکھتی ہے۔
    7. کیا آپ کی گرل فرینڈ اپنے سابق سے تحائف قبول کر رہی ہے؟
    سالگرہ یا مواقع پر دیے گئے تحائف جنہیں سابقہ ​​کو مدعو کیا گیا ہے اسے قبول کرنا ہوگا، یہ کہے بغیر ہی جاتا ہے۔ لیکن مہنگے تحائف یا تحفے وصول کرنا اور قبول کرنا جو رومانس کا جادو کرتے ہیں آپ کے تعلقات میں آپ کی جگہ کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہیے۔
    سالگرہ پر چھوٹا گفٹ کارڈ یا کرسمس کے لیے اسکارف کوئی بڑی بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن سرخ لباس یا اس سے بھی بدتر، ہار کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو الارم بجانے کی ضرورت ہے۔
    8. کیا وہ اپنے پرانے رشتے کا آپ سے موازنہ کرتی ہے؟
    ہر رشتہ، ہر شخص کی طرح، مختلف ہوتا ہے اور اپنے جذباتی سامان کے ساتھ آتا ہے۔ کیا وہ آپ کو مسلسل بتاتی ہے کہ آپ کا رشتہ پرانے سے کیسا ہے یا آپ کو اس کا نام لیے بغیر اس کے سابق کی طرح کیسے بدلنے کی ضرورت ہے یا آپ کو یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ اس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں؟ کیونکہ نہ صرف یہ زہریلا سلوک ہے، بلکہ یہ بھی ایک نشانی ہے کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔
    9. کیا اس کے دوست جانتے ہیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہی ہے؟
    جیسا کہ یہ ظاہر کرنے کے طریقے موجود ہیں کہ ایک نیا رشتہ شروع ہوا ہے یا رشتے کی حیثیت بدل گئی ہے، یہ ظاہر کرنے کے برابر طریقے ہیں کہ یہ ختم ہو گیا ہے۔ تو یہ سوچو۔ کیا اس کے قریبی دوست جن کے ساتھ وہ عام طور پر گھومتی ہے، جانتے ہیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہی ہے یا آپ ابھی تک راز میں ہیں؟
    ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے دوست اپنے شراکت داروں کے ساتھ ملیں۔ ہمارے شراکت داروں کے بارے میں دوست اور ان کا اندازہ اہم ہے، اس لیے اس بات کا دھیان رکھیں کہ آیا وہ اپنے دوستوں سے آپ کا ذکر کرتی ہے یا نہیں۔ اگر آپ کو ان سے چھپایا جا رہا ہے، تو اس کی ایک وجہ ہونی چاہیے، اور آپ کو یہ پوچھنا ہوگا کہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔
    آپ اس کا گندا راز نہیں بننا چاہتے بلکہ اس کی زندگی کی محبت بننا چاہتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس نے آپ کا اپنے دوستوں سے تعارف نہ کروایا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اسے مکمل رشتہ نہیں سمجھتی۔ یہ سطح پر ایک احمقانہ وجہ کی طرح لگتا ہے، لیکن یہ واقعی ان علامات میں سے ایک ہے جو وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔