Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ڈالر اور حکومتی چورن  تحریر : سیف الرحمان

    ڈالر اور حکومتی چورن تحریر : سیف الرحمان

    دوستوپاکستان حاصل کرنے کا مقصد اگر دیکھا جائے تو اس حساب سے اس وقت ہم تقریبا الٹ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوں  بظاہر آذادی حاصل  تو  کرلی لیکن ہمارے حکمرانوں آج بھی  ہمیں ان کے تابع کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں باند کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے آگے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے تمام ٹیکس اور قیمتوں کا تعین امریکی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس سیارے میں سب سے کم تر مخلوق ہیں۔ ہندوں آج بھی ہمیں ویسے  ہی دیکھ رہا ہے جیسے ستر سال پہلے دیکھا کرتا تھا۔ انگریز آج بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھارہا ہے جیسا آذادی سے پہلے لیا کرتا تھا۔

    ایک طرف ہمیں ڈالر نے دبا کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج جو اپوزیشن ملی وہ بھی انتہائی احمق , نابالغ , غیر سیاسی اور مفاد پرستوں کا ٹولا ہے۔  جب یہ لوگ حکومت میں تھے تب بھی انہوں نے ملک کو تباہ کیا اور آج جب یہ اپوزیشن میں ہیں تو بھی مال بچاؤ کھال بچاؤ سے آگے کا کچھ سوچتے ہی نہیں۔دوسری طرف  حکومت کے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے اور اندازے اس وقت غلط نظر آ رہے ہیں۔ اشیاء خردو نوش کی تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا ۔چینی۔گھی اور دالیں جو ہر گھر کی بنیادی ضروریات ہیں پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت تمام  صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔

    ابھی غریب آٹے چینی اور گھی کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا کہ ڈالر نے اڑان بھر لی۔ ڈالر اس وقت تاریخ کی سب سے مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اگر معیشت اچھی سمت چل رہی تھی تو ڈالر کیوں مہنگا ہو ا؟  

    ڈالر کی اڑان نے حکومت کے ان تمام دعوں کا پول کھول کر رکھ دیا جس میں برآمدات کے اضافے کی باتیں کی جا رہی تھی۔  کرنٹ خسارے میں کمی جیسے دعوے بھی کئے گئے۔ صحافی جب شوکت ترین صاحب سے مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے پہ سوال کرتے ہیں تو ترین صاحب یا تو بات گول کر دیتے ہیں یا جواب ہی نہیں دیتے۔لگ رہا ہے کہ  شاہد ترین صاحب اگلے دو سال پورے نا کر پائیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص بچا بھی نہیں۔ خان صاحب کھلاڑی بدلنے سے وقت تو گزر جائے گا لیکن شاہد حالات نہ بدل سکیں۔ اس لئے بہتر ہے کوئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

    بحثیت پاکستانی قوم ہم اس رویہ کے مستحق نہیں جیسے ہمارے حکمران ہمارے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔ پیٹرول ڈبل ٹیکس لگا کر دیا جاتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود  ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے گندم اور چینی باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر ہمیں ہی  مہنگےداموں  فروخت  بھی کی جاتی ہے۔جب وزیروں سے مہنگی چینی اور آٹے پہ  سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کسان کو اسکی پوری   قیمت دی جا رہی ہے اس لئے آٹا چینی مہنگی ہیں۔ چلو مان لیا آپ کسان کو پوری قیمت دے رہے ہو  تو پھر باہر سے گندم چینی اور دالیں کیوں منگوا رہے ہو؟ زرعی ملک ہونے کے ناطے عوام کو وافر چینی آٹا دالیں اور سبزیاں بھی تو ملنی چاہیں۔ اگر نہیں مل رہی تو کسان سے کون پوچھے گا کہ بھائی اتنی سبسڈی اور ریٹ لینے کے باوجود تم زرعات میں ہمیں کیا دے رہے ہو؟ کھانے پینے کی اشیاء کا ایک زرعی ملک میں مہنگا ہونا حکمرانوں کی نالااہلی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔

    جب بات کی جائے مہنگائی کی تو کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سابقہ  حکمرانوں  نے بہت کرپشن کی   وہ نااہل اور نکمے تھے لیکن  خان صاحب آپ کو آئے بھی اب تین سال ہو چکے ہیں۔ آپ نے مہنگائی کنٹرول کرنے   کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر اقدام کئے تو کیا آپ کے اقدامات سے مہنگائی کنٹرول ہوئی ؟ آئندہ عام انتخابات میں جیتنا ہے تو مہنگائی کو شکست دینی پڑے گی ورنہ عوام نے مہنگائی سے تنگ آ کر  بقول آپ کے ان ہی چوروں ڈاکوں کو پھر ووٹ دے دینا ۔ اس بار نہ تو آپ کا دھرنا کام آئے گا اور نا ہی عوام آپ کی باتوں میں آئے گی۔

    اس وقت ڈالر نے تمام ملکی ریکارڈ توڑ دیئے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکا ہے۔  مئی 2021سے ستمبر 2021کے درمیان صرف چار ماہ کے  کم عرصہ میں ڈالر 16روپے مہنگا ہوا ہے۔ اگر بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو  پاؤنڈ اس وقت دوسو پینتیس,  یورو اس وقت دوسو تیس,   اماراتی درہم سنتالیس,  سعودی ریال پنتالیس,  دینار چارسوچوراسی ,ین تیس روپے پچاسی پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب آپ کو اپوزیشن سے ذیادہ  اپنی معاشی ٹیم سے خطرہ ہے۔ اگلا الیکشن اگر جیتنا ہے تو مہنگائی کو ان دو سالوں میں  ہر صورت شکست دینی پڑے گی۔  اگر آپ کی حکومت مہنگائی سے ہار گئی تو الیکٹرانک ووٹنگ بھی آپ کوشکست سے نہیں بچا پا گئی۔خان صاحب آپ کے اردگرد موجود سیاسی بیٹروں کی ٹیم نکمی اور نااہل ہے۔  آپ ایجنسیوں کی مدد لیں اور سٹاک ایکسچنج کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ مہنگائی پہ کنٹرول کیلئے بھی ایجنسیوں کو متحرک کریں۔ اپنے نااہل وزیروں اور مشیروں کی فوج کو گھر بھجوائیں۔ آپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پہ  نوجوانوں کی ایک لمبی چوڑی بیروگار فوج موجود ہے۔ آپ صرف  عوام کی جان  مہنگائی سے چھڑا دیں ورنہ عوام نے آپ سے جان چھڑا لینی۔

    @saif__says

  • صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی کسی بھی شخص کے کے کھانے پینے، کام کرنے، سونے جاگنے اور دیگر تمام امور سے متعلق ہے ۔ یہ انسان کی عادات و خصائل اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف رحجان کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی اللّلہُ تعالی کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے۔ آج کل صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے۔  لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت تباہ اور صحت مندانہ طرز زندگی کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے، پر آسائش زندگی کے حصول کے لیے  دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں لیکن دراصل وہ صحت مندانہ طرز زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    موبائل فون، اور دیگر آلات کے استعمال، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ وغیرہ نے لوگوں کو قدرت اور صحت مندانہ طرز زندگی سے دور کر دیا ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں کمی، تنہائی ڈپریشن وغیرہ کی وجہ ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں، جن کے انسانی جسم پر مضر اثرات ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے دن کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے، ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا، وہی کھانا پینا، جس سے جسمانی سرگرمیاں تو بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا یا اس کے انداز اپنانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔  اگر لوگ چاہیں تو اپنے لئے صحت مندانہ طرز زندگی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کے تعین، کوشش، اور توجہ سے صحت مندانہ طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیں، اچھی روٹین سیٹ کریں اور اسے فالو کریں۔ صاف ستھرے رہیں۔ نفاست پسندی کی زندگی بسر کریں۔ دوست بنائیں، باتیں کریں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی میں یہ شامل ہے کہ آپ خوراک کے معیار پر توجہ دیں۔ ناقص خوراک استعمال نہ کریں۔ غذائیت بخش خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔ جو غذا کھائیں، وہ متوازن ہو اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ چینی، تیز مرچ مصالوں، چکنائیوں اور  مرغن کھانوں سے دور رہیں۔  فاسٹ فوڈز سے اجتناب کریں، یہ مضر صحت ہیں ان کا استعمال کسی بھی صورت صحت مندانہ نہیں ہے۔ پھل، سبزیاں اور دالیں وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ وقت پر کھانا کھانے کا معمول بنائیں۔ بغیر وقت کے کھانا کھانا بھی جسم پر منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ محنت کریں اور حلال کی کمائی کھائیں، محنت سے حاصل کیے گئے حلال رزق کے نوالے آپ کے جسم پر مثبت اثرات رکھتے ہیں۔
    پانی کا استعمال زیادہ سے کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کا استعمال ہمارے لئے کتنا مفید ہے لیکن ہم پانی کے بجائے دیگر مشروبات، کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ مضر صحت ہیں۔ کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال نہ کریں، بلکہ تازہ پھلوں سے کشیدہ رس کے استعمال کو ترجیح دیں۔
    کام کرنے کے اوقات متعین کریں۔ اتنا کام  کریں جو آسانی کے ساتھ کر سکیں، اور آپ کی صحت اجازت دے۔ دن رات کام نہ لگے رہیں اور نہ ہی جرآت سے بڑھ کر کام کریں بلکہ اتنا ہی کام کریں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ یاد رکھیں آپ کام کے لیے نہیں بنیں۔ آپ کا خود پر سب سے زیادہ حق ہے۔
    اچھی اور مناسب نیند لیں۔ بھرپور نیند آپ کو فریش اور تروتازہ رکھتی ہے۔  چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے کی مکمل نیند لیں نیند بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے اور نیند مکمل نہ ہونے کی صورت میں آپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا جیسی خراب عادتوں کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں وقت پر سوئیں، وقت پر اٹھیں۔ اگر آپ وقت پر نہ سوئیں، اٹھیں، یا ناکافی نیند لیں تو چڑچڑا پن،  تھکاوٹ اور سستی مستقبل آپ کی ساتھی بن جاتی ہیں اور آپ کی صحت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلا وجہ کی پریشانیوں اور ٹینشنوں کو زندگی میں جگہ نہ دیں۔ پریشانیاں اور ذہنی دباؤ آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سٹریس کو مینیج کرنا سیکھیں۔ اور مثبت رویہ اپنائیں۔
    مشینوں کے استعمال نے ہمیں بہت سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ آرام طلبی کی زندگی کو چھوڑ دیں، یہی صحت مندانہ طرز زندگی کی قاتل اور دشمن یے۔  ہر وقت پڑے رہنا اور جسمانی طور پر کوئی ہل جل نہ کرنا بہت سی بیماریاں لاتی ہے۔ یہ کاہلی، سستی اور موٹاپا کا سبب بنتا ہے۔ مشینوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہل جل کریں، اور اپنی قوت باہر اعتماد کریں۔ اپنے کام خود کریں۔ کام کاج اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
    روزانہ  مستقل بنیاد پر ورزش کریں۔ اگر آپ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو آپ جسمانی طور پر ہمیشہ فٹ، تندرست اور چاق و چوبند رہیں گے۔ ورزش دل کے لیے بہت مفید ہے اور دوران خون کو رگوں میں رواں رکھتی ہے۔ ورزش کرتے ہوئے ایسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جن سے منفی جذبات اور ذہنی دباؤ دور ہوتا ہے۔ جس کے سبب جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
    اس کے علاوہ چہل قدمی اور ہوا خوری کی عادات اپنائیں۔ ان کے بھی صحت پر خوشگوار اثرات ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
    صحت مندانہ طرز زندگی ایک کلچر ہے، اس میں آپ کے روزمرہ کے طور طریقے شامل ہیں اگر آپ کے انداز و اطوار صحت مندانہ نہیں ہیں، صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینے والے نہیں ہیں تو یقینا آپ برے کلچر کا حصہ ہیں۔ اپنے لیئے صحت منتخب کریں، اور زندگی گزارنے کا بہترین اور صحت بخش طریقہ اپناءیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لیےصحت مندانہ طرز زندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

    @FarooqZPTI

  • دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تحریر علی اصغر خان                      

    دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تحریر علی اصغر خان                      

        
                          
    دنیا میں اب تک ٹوٹل 212 سلطنتیں گزر چکی ہیں ان میں سب سے بڑی اور طویل ترین سلطنت سلطنت برطانیہ ہے اور سلطنت برطانیہ ہی وہ ایسی سلطنت ہے جو لمبے عرصے تک عالمی طاقت رہی ایک اندازے کے مطابق 1921 میں یہ عروج کے دور میں 33 ملین مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی یاد رہے پاکستان کا رقبہ 796096 مربع میل ہے سلطنت برطانیہ میں اس وقت 45 کروڑ اسی لاکھ لوگ آباد تھے یہ اس وقت کی عالمی آبادی کا چالیس فیصد بنتے تھے یہ اتنی وسیع و عریض تھی کہ ایک اندازے کے مطابق سو سال یا اس سے بھی زیادہ وقت سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ اس وقت دنیا کے پانچوں آباد براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی سلطنت برطانیہ کا آغاز 1591 میں آئرلینڈ سے ہوا اس سلطنت برطانیہ کے تیزی سے پھیلنے کی ایک وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ابتدا 16 ویں صدی میں ملکہ ایلزبتھ  ون کے دور میں باحیثیت تجارتی کمپنی ہوئی اس کا مقصد بر صغیر کے ساتھ تجارت کرنا تھی  مغل سلطنت کے بعد برصغیر میں میں جو خلا پیدا ہوا اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا اور اس کے بعد 1857 میں برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا اس کے بعد اٹھارہ سو اٹھاون میں میں ملکہ وکٹوریہ نے  ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک سو بیس سال بعد ختم کر دیا اور ہندوستان کو باضابطہ طور پر پر سلطنت برطانیہ کی کالونی بنا دیا  اور ملکہ وکٹوریہ قیصر ہند بن گئی ملکہ وکٹوریہ نےبرطانیہ پر 64 سال حکومت کی اور ان کے دور حکومت میں  سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی سلطنت برطانیہ کے اثرورسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ آسٹریلیا امریکہ وغیرہ میں ان کے مقامی لوگوں سے گورو کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جبکہ اس سلطنت سے پہلے ان جگہوں پر گوروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901 کو انتقال کر گئیں اس کے بعد ایڈورڈ ہفتم  تخت نشین ہوگیا ملکہ وکٹوریا 22 جنوری 1901 سے نو ستمبر 2015 تک سلطنت برطانیہ کی طویل ترین عہد حکومت وقت کے لحاظ سے سرفہرست رہی بعد ازاں 9 ستمبر 2015 کو یہ ریکارڈ ملکہ ایلزبتھ دوم کو حاصل ہوگیا ابتدا کی طرح سلطنت برطانیہ کا زوال بھی آئرلینڈ سے ہی 1922 میں شروع ہوا اس کے بعد 1947 میں برصغیر کا علاقہ پاک و ہند بھی علیحدہ ہو گیا کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں بہت زیادہ دہ ظلم و ستم شروع ہوگئے تھے یو آہستہ آہستہ کر کے سلطنت برطانیہ کم ہوتی گئی اس کے بعد ذکر کرتے ہیں مسلمانوں کی مشہور ترین سلطنت سلطنت عثمانیہ جس کو خلافت عثمانیہ بھی کہتے ہیں اس فہرست میں اس کا 24 وا نمبر ہے یہ سلطنت بھی تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ان کے علاوہ عظیم سلطنتوں میں خلافت عباسیہ خلافت راشدہ مغلیہ سلطنت سلجوقی سلطنت بیزنٹائن سلطنت ایوبی امیر تیمور کی تیموری سلطنت جس نے پندرہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کو  جب وہ اپنے عروج پر تھی شکست دی اور سلطنت عثمانیہ  کے سلطان کو اپنے قید میں کردیا بعد ازاں ا میر تیمور نے نے عثمانی سلطان کو قتل کر دیا  لیکن اس کے  بعد امیر تیمور سلطنت عثمانیہ کے اوپر حکمرانی نہیں کرنا چاہتا تھا اور وہ واپس اپنی تیموری سلطنت میں لوٹ گیا اس کے تین سال بعد امیر تیمور کا بھی انتقال ہو گیا اس کے علاوہ لاطینی اور قرطبہ خاندان مشہور سلطنتیں شمار ہوتی ہیں جو کہ اپنے رقبے اور حکمرانی کی وجہ سے دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی تھی
    Twitter: Ali_AJKPTI

  • آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں تحریر فاروق زمان

    آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں تحریر فاروق زمان

    آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں؟ ہیں یا نہیں؟ رکیں، سوچیں، اپنی زندگی کو اپنی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلائیں۔ اب اس فلم میں خود کو دیکھیں کہ آپ کون سا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے ساتھ ایک ہیرو کی طرح ہیں یا زیرو ہیں۔ آپ کا کردار کیا ہے، مثبت یا منفی آپ کی شخصیت و حیثیت کیا ہے۔ آپ کی زندگی کیسی ہے۔ آپ کا کردار آپ کی زندگی میں قابل ذکر یا طاقتور ہے یا نہیں۔ آپ واقعی ہیرو ہیں یا اپنی زندگی کے ولن ہیں۔ آپ فالتو کردار یا منفی کردار تو نہیں جو ہر چیز ہر بات کا منفی پہلو دیکھتا ہے۔ نا خود خوش رہتا ہے، نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔ خود پریشان رہتا ہے یا دوسروں کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ بالکل ناکام ہے۔ جو اپنی زندگی کے مقصد کو یکسر بھلا ضائع کر رہا ہے۔ بس کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہے۔ جس میں کوئی قابل ذکر خصوصیت نہیں ہے۔ ایک کمزور انسان، جو زندگی میں آنے والی مشکلات کے سامنے ہار مان لیتا ہے اور مشکلات سے لڑنے اور ان کو حل کرنے کی بجائے ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ گھبرا جاتا ہے۔ آپ سوچیں آپ کو نظر آنے والی اپنی زندگی کی فلم وہی ہے، جیسا آپ اپنی زندگی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کی زندگی آپ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ہے۔ آپ کی زندگی میں آپ کا کردار وہی ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔؟
    اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد بہت سے جوابات میں آپ کو ناکامی کا اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ میں آپ، اپنی زندگی کی فلم اپنی آنکھوں کے سامنے چلا کر دیکھیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہیرو بالکل نہیں ہیں ، بلکہ ہمارا کردار کوئی قابل ذکر نہیں ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہم اپنے سے منسلک دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی ولن کے کردار کے طور پر شامل ہیں۔ اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، یا کو سکتا ہے آپ کو لگ رہا ہو کہ آپ تو بلکل بھی ہیرو نہیں ہیں۔ ہیرو نہیں ہیں تو ہیرو بننا ہوگا۔ خود کو بدلنا ہو گا۔ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، آپ کو ثابت کرنا ہو گا۔ آپ کو ہیرو بننے کے لیے تگ و دو کرنی ہوگی۔ اپنی زندگی کی فلم   میں خود کو ہیرو کی طرح فٹ کرنا ہو گا۔ آپ کے یقیناً اپنی زندگی سے متعلقہ بہت سے خواب ہوں گے۔ زندگی سے وابستہ امیدیں ہوں گی۔ بہت کچھ بننا چاہتے ہوں گے۔ اس سب کے لیے، ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنا کردار از سر نو تعمیر کرنا ہو گا۔ کمر کس کر میدان میں اترنا ہو گا۔ محنت، عزم اور ہمت سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے جدو جہد کرنی ہوگی۔بلند مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بلند شخصیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔
    ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنے ساتھ اپنا سلوک بدلنا ہوگا۔ اپنے اندر سے بہتر انسان تلاش کرنا اور اپنے اندر سے ہیرو کو باہر نکالنا ہو گا۔ دنیا داری کے منفی جال سے نکلنا ہو گا۔ اپنی شخصیت کو اچھائی کے سراپے میں ڈھالنا ہو گا۔ اپنی تعمیر بہتر اور مثبت خطوط پر کرنا ہوگی۔ اس شخصیت کی تعمیر اچھی عادات اور اچھے کاموں کی بنیاد پر کرنا ہو گی۔ بری عادتوں سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ ولن یا منفی کردار کو مقابلہ کر کے پچھاڑنا ہوگا۔ ہیرو دراصل ایک ایسا لفظ ہے، جو اچھائی کا ہر رخ ہے۔ ایک طاقت کا نام ہے، وہ طاقت جو جو برائی کا مقابلہ کرکے اس کو پٹخ کے رکھ دیتی ہے۔ آپ کو بھی ایسے ہی ہر منفی چیز کا نام مٹانا ہو گا۔
    خود کو بیکار کی باتوں اور بے مقصد کاموں میں ضائع مت کریں۔ آپ کی عادات و اطوار، اعلیٰ شخصیت، عمدہ انسان اور بہتر کردار کے حامل انسان کی ہونی چاہیے۔ زندگی کے ہیرو بن کر زبردست طریقے سے گزاریں۔ اپنی طاقت خود بنیں، بلاشبہ آپ ہی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔

    @FarooqZPTI

  • 12 ربیع الاول   تحریر : فرح بیگم

    12 ربیع الاول تحریر : فرح بیگم

    حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات میں مختلف راۓ ہیں ۔ کوئی 8 ربیع الاول کا قول راجح کرتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول کا ۔ لیکن زیادہ مشہور 12 ربیع الاول ہے ۔ اسی طرح حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ میں بھی تضاد ہے بعض علمائے کرام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز وفات پائے اور مہینہ بھی ربیع الاول کا تھا ۔البتہ تاریخ کی رائے پھر مختلف ہے ،پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن تھا ۔

    زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی 12 ربیع الاول کا چاند دیکھائی دیتا ہے دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کی لہر دوڑتی ہے ۔ ہمارا ایمان پر جوش اور یک دم تازہ ہو جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد وفا سنت کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اس مہینے کا مطلب ہے کہ کوئی سنت کے خلاف کام نہ ہو ۔ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے روشنی کا سر چشمہ ہیں ۔وہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔اور ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملت لے کر اے جو دن میں نور اور رات میں امن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دیکھائی جس پر چل کر ہم نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی فلاح پا سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب کی باتیں بھی بتائی پر کھبی بخل سے کام نا لیا ۔

    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آپنے آمد کے مقصد کو پورا کر بیٹھے اور اسلام کو لوگوں تک پہنچا دیا تو اپنے خالق سے جا ملے۔ اور اس دین کو قیامت تک مکمل قرار دیا ۔ اب اس دین کے بعد کوئی دین نہیں اے گا اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اے گا ۔ نہ ہی اس دین میں کسی زیادتی ، مکاری کی گنجائش ہے اور نہ کسی نقصان کی ۔ لوگ 12 ربیع الاول کو عبادت سمجھ کر مناتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں ،لوگ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گھروں میں محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ سب ایک عادت ہے دین سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن برصغیر پاک و ہند میں اسکو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو محفل میلاد کا سما شروع ہو جاتا ہے اور کیوں نا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات کا دن ہے اور اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہے ۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

    12 ربیع الاول کی خوشی میں پورے ملک کے تمام شہروں کو ،گلیوں کو سجایا جاتا ہے ۔سارا منظر روح پرور ہوتا ہے ۔اس دن کو مولود نبی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ملک بھر میں قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کے لیے بڑے اجتامت منعقد کیے جاتے ہیں ۔ لوگ ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔ غریبوں میں کپڑے اور کھلونے بانٹے جاتے ہیں ۔ باہر ملکوں میں مسلمان 12 ربیع الاول کو مسجد میں جمع ہوتے ہیں ، عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ محفل میلاد منائی جاتی ہے ۔

    اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دن کو نہایت پر جوش ،احترام ، عقیدت اور ولولے کے ساتھ منائیں۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • : والدین کے حقوق  تحریر: تیمور خان

    : والدین کے حقوق تحریر: تیمور خان

    انسان کے دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں اور جن جن رشتوں کے ساتھ انسان دنیا میں جڑا ہوا ہے ان تمام رشتوں اور ان تمام تعلقات میں  ہر ایک انسان کا جو بنیادی رشتہ اور بنیادی تعلق ہے بلکہ جس رشتے اور تعلق کی وجہ سے ایک انسان دنیا میں آیا ہے وہ  بنیادی رشتہ اور تعلق وہ انسان کے والدین کا رشتہ اور تعلق ہے ماں باپ دونوں ایک انسان کے لئے اس دنیا میں آنے کا وسیلہ ہیں اور انسان کا وہ زمانہ جس میں وہ سو فیصد مختاج ہوا کرتا ہے وہ زمانا جس میں وہ نہ کھا سکتا ہے نہ پی سکتا نہ چل سکتا ہے نہ پھر سکتا ہے نہ ہی اپنی مرضی سے گرمی اور سردی سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے یہ تمام نازک ترین اور حساس مراحل ایک انسان کے ساتھ اگر بخوبی عافیت کے ساتھ  طے ہوتے ہیں تو وہ ایک انسان کے والدین اور ماں باپ کی برکت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

    قرآن کریم فرقان حمید میں اکثر مقامات پر جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا تذکرہ اور حکم فرمایا وہاں اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق کا حکم کیا بیسیوں مقامات پر قرآن کریم میں والدین کے حقوق کی بات کی گئی مفسرین فرماتے ہیں کہ والدین کے حقوق کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے اور ان کے حثیت کو اہمیت دینے کے لئے اللہ نے اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق ادا کرنے کے بات کی ہے اور ویسے بھی ایک انسان پر جتنے بھی حقوق العباد لازم کیے گئے ہیں یاد رکھیں آن تمام میں بنیادی حق والدین کے حقوق ہیں انسان پر اپنے بہن بھائیوں اور رشتےداروں کے کچھ نہ کچھ حقوق ہیں لیکن ان تمام میں بنیادی حق وہ والدین کا حق ہے 

    اسی لئے  جگہ جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حقوق کو یاد دلاتے ہوئے جو ان کے اپنے بچوں پہ احسانات ہیں اللہ نے قرآن میں ان کی بھی نشاہدہی فرمائیں اور پھر والدین کے حقوق کی مکمل تشریح اور مکمل بیان اور  تفصیل سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ہمیں سکھائیں۔

    سورت آسرا پندرہ پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ٫٫ تمہارے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرو اگر تمہاری زندگی میں سے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے یا کمزور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے انہیں آف تک ہی نہیں کہنا اور ان کو جھڑکنا بھی نہیں ہے ان کے سات خندہ پیشانی کے ساتھ بات کرنی ہے اور جب بھی اپنے والدین کے سامنے بات کیا کرو تو ان کے ساتھ نرمی اور احسن طریقے سے بات کیا کرو اور ہمیشہ جو تمہارے رحمت اور شفقت اور رحم کے جو تمہارے پر ہیں وہ اپنے والدین پہ ڈالے رکھنا اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہا اپنے عمال اور قردار کے زریعے جہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کروگے نہ زبانی اپنے باتوں کے زریعے ان کو تکلیف پہنچاؤ گے نہ عمال کے زریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ سے یہ دعا بھی کرو گے ک اے اللہ میرے والدین پہ اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالہ تھا جس طرح میرے والدین نے میری تربیت کی تھی میری ضروریات کو پورا کیا تھا، اے میرے رب تو میرے والدین پہ رحم فرما،  اس کا مطلب یہ ہے٫٫ اے اللہ جس وقت میں کمزور تھا اے اللہ میری کمزوری کا انہوں نے خیال رکھا تھا، اے اللہ اب میرے والدین کمزور ہیں اب مجھے توفیق دے کہ میں ان کا خیال رکھوں،، اور اللہ سے دعا کرنے کا معنیٰ بھی یہ ٫٫ اے اللہ تو میرے والدین پر رحم فرما؛؛ اے اللہ تو انہیں مختاج ہونے سے دور فرما۔

    اسی لئے یاد رکھیں والدین کے حقوق کو حقوق العباد میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، سرکارِ دوعالم ﷺ کے بارگاہ میں ایک صحابی آئے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے والدین کا مجھ پر کیا حق ہے تو آپ نے فرمایا تمہارے والدین تمہارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ہیں ، صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ ہمارے والدین ہمارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی اس بات کی ہمیں سمجھ نہیں آئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا٫ اگر تمہارے والدین تم سے خوش ہونگے ان کو راضی رکھو گے ان کے حقوق ادا کروگے تو یہ تمہارے لئے جنت میں جانے کا سبب ہو گا، اور اگر تم اپنے والدین کو ناراض رکھوگے اور آپ کے والدین ناراضگی کی حالت میں تم سے جدا ہو گئے تو یہی ان کی ناراضگی تمہارے لئے جہنم کا سبب ہوگا،، اسی لئے یاد رکھیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے والدین کی رضامندی کو جنت کا سبب اور والدین کی ناراضگی کو جہنم کا سبب فرمایا، اگر والدین تم سے راضی ہیں تو اللہ تم سے راضی ہے اور اللہ کی رضا یہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر یہاں تک کہ جنت سے بھی بڑھ کے نعمت ہے۔

    مفسرین کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص سے  والدین راضی ہیں اور اس کو سو فیصد پتہ ہو کہ ہاں میرے والدین مجھ سے راضی ہیں اور والدین بھی یہ اقرار کرے کہ ہاں ہم اپنے بیٹے سے بہت خوش ہیں اور راضی ہیں، تو مفسرین فرماتے ہیں یہ شخص قسم سے کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب بھی مجھ سے راضی ہیں، اگر ایک شخص جو روزے، حج حقوق العباد، میدان جہاد کا غازی بھی ہے لیکن والدین اس سے راضی نہیں تو پھر یاد رکھیں اس کا رب بھی اس سے راضی نہیں ہے، لیکن ایک شخص جو تہجد بھی نہیں پڑتا حقوق العباد بھی نہیں کرتا میدان جنگ کا غازی بھی نہیں کچھہ بھی نہیں کرتا لیکن اس کا باپ اس سے راضی ہے باپ اس نے راضی رکھا ہوا ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب مجھ سے راضی ہے والدین ایک انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے، والدین کو راضث رکھنا بہت ہی آسان ہے اگر ایک انسان نے ساری عمر والدین کی نافرمانی کی ہو اور شرمندہ ہو کر وہ والدین کے سامنے ہو جائے تو والدین کے دل میں اللہ نے اولاد کے لئے جو محبت رکھی ہے تو وہ آخر کار اپنے اولاد کو معاف کر دیتے ہیں، اس لئے اپنے یہ یاد رکھیں اللہ نے جن کو والدین عطاء کیے ہیں اور وہ زندہ ہیں تو انکو راضی رکھیں ان کے حقوق کو پورا کریں، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں جنت کا سبب قریب تر اس لئے ہے باپ سے کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے ایک صحابی آئے یارسول اللہ ﷺ میں جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو صحابی نے فرمایا باب نہیں البتہ والدہ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا جا، جا کر اپنے والدہ کی خدمت کر یہ تیرے لئے سب سے افضل جہاد ہے یادِ رکھیں جہاد کرنا ایک نیکی ہے لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو اپنے والدین کی خدمت کریں یہ تمہارے لئے سب سے افضل نیکی ہے، جو انسان اپنے والدین کا فرمانبردار ہے اس کی اولاد کل اس کی فرمانبردار ہو گی۔ تو والدین یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اپنے والدین کو وقت دیں ان کو راضی کیجئے ان کی راضا تلاش کیجئے کہ ان کی راضا کس چیز میں ہے اور ان کی حقوق ادا کرنے کی کوشش کیجئے اپنے بچوں کو بھی سکھائے تاک اللہ ہم سے راضی ہو، اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق ادا فرمائے اور اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan

  • جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات  تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ء۱۹۴۳ میں دیوبند کی اس سرزمین میں پیدا ہوئے جس سے پھوٹنے والے علم کے فواروں نے ایک دنیا کو سیراب کیا ،دس سال کی عمر میں اپ نے درسی نظامی کا آغاز کیا اور سترہ سال کی عمر میں اس کی تکمیل کرکے فارغ ہوئے ،تاہم انہوں نے درسی نظامی کی چند کلیوں پر قناعت نہیں کی ،بلکہ اس نصاب کےپڑھنے سے حاصل ہونے والی صلاحیت واستعداد کو علم کے مقفل دروازوں کی چابی سمجھ کر اسلام کے وسیع کتب خانے کی طرف بڑھے اور علوم کے بند دروازے وا کرتے رہے۰۰۰۰۰تاریخ کا مطالعہ کیا ،فقہ کو تعمق سے دیکھا ،تفسیر واصول تفسیر پر بار بار نظر ڈالی ،حدیث سے متعلقہ علوم کو محنت سے پڑھا اور ادب کی چاشنیاں چکھنے کیلئے راتوں جاگے۰۰۰۰۰۰۰ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف توجہ دی ،۱۹۵۸ میں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا ،۱۹۶۴ میں کراچی یونیورسٹی سے بی،اے کا امتحان دیا ،۱۹۶۷ میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان دوسری پوزیشن اور ۱۹۷۰ میں ایم اے عربی کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا ،جدید معاشیات کا مطالعہ کیا اور اس میں مہارت ہی نہیں مجتہدانہ بصیرت حاصل کی اور پاکستان کیطرح ہر مغرب زدہ ملک پر چھائی ہوئی انگریزوں کی وہ زبان سیکھی جس سے واقفیت ایک عالم دین کیلئے اس دور میں اسلام کےموثر تبلیغ کے نقطہ نظر سے ہن صرف استحسان بلکہ ضرورت کی حدود میں داخل ہے اور جس کو جنٹلمین طبقہ کسی انسان کی سعادت وقابلیت کی علامت ومعیار سمجھتا ہے اور یوں وہ قدیم وجدید ،دینی،دنیوی علوم کے ایسے سنگم بن گئے جس میں مختلف علوم کی حسین لہریں جمع ہیں.اردو ان کے اپنے گھر کی لونڈی ہے،عربی ان کے جیب کی گھڑی ہےاور انگریزی وہ ضرورت کے تحت لکھتے اور بولتے ہیں ،اللہ تعالی نے ان کے قلم کی غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے،شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی لکھی ہوئی مسلم شریف کی شہرہ افاق لیکن نامکمل شرخ "فتح المہلم” کا”تکملہ”لکھا اور ایسا لکھا کہ اگراور کچھ بھی نہ لکھتے تو یہ ان کی زندگی کی قیمت وصول کرنے کیلئے کافی تھا،اگر کسے مصنف کے حصے میں صرف یہی کتاب آجائے تو اس کو زندہ وجاوید بنادے۰

    ان کے علم ومطالعہ میں انہماک کو دیکھ کر کچھ ولمی حوصلہ ہونے لگتا ہے کہ کتابوں میں اہل علم کا جو وصف پڑھا ہے اس سے متصف کچھ لوگ ہماری اس فضا میں موجود ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،وہ خود فرماتے ہیں:”روئے زمین پر لکھنا پڑھنا مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب وعزیز ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی مسلہ میں میرا ذہن مشغول رہتا ہے۰”انہوں نے طلبہ سے اپنے ایک حالیہ خطاب میں فرمایا:

    "طلب علم نام ہے ایک نامٹنے والی پیاس کا ،میرے والد ماجد رح فرماتے تھے کہ طالب علم کی تعریف یہ ہے کہ جس کے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی مسلہ چکر کاٹ رہا ہو ،علم بڑی محنت اورطلب چاہتا ہے اور بڑی بے نیاز چیز ہے،محنت اور طلب کے بغیر ادمی کو وہ اپنا کوئی ذرہ بھی نہیں دیتا ،العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک طلب علم کا ذوق جب پیدا ہوجائے گا تو یقین رکھو اگر میں قسم کھاؤں تو حانث نہ ہوں گا کہ اس کائنات میں طلب علم سے زیادہ لذیذ چیز کوئی نہیں ،بشرطیکہ طلب علم کی حقیقت حاصل ہو،تمھہیں اپنا حال بتاتا ہوں ،عرصہ دراز سے ایسے حالات میں گرفتار ہوں کہ اس بات کو ترستا ہوں کہ مجھے مطالعہ کا وقت ملے ،پانچ منٹ بھی اگر نصیب ہوجاتے ہیں تو بڑی ہی حوشی ہوتی ہے۰۰۰۰جب میں نے دورہ پڑھا تھا تو پندرہ سال کی عمر تھی سولویں سال میں فراغت ہوئی تھی ،سبق کے علاوہ میرے اوقات کتب خانے میں گزرتے تھے،پڑھنے کے زمانے میں صحیح بخاری کیلئے عمدۃ القاری ،فتح الباری ،اور فیض الباری کا مطالعہ کیا کرتاتھا,مسلم شریف کیلئے فتح المہلم ،سنن ابی داؤد کیلئے بذل المجہود اور ترمذی شریف کیلئے کوکب الدری کامطالعہ کرتاتھا چونکہ اس کیلئے وقت چاہئے تھا اس لئے میں نے کسی طرح ناظم کتب خانہ کو اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ دوپہر کے وقفہ میں وہ گھرچلے جایا کریں "اور باہر سے کنڈی لگا کر مجھے اندر بند کردیا کریں،چناچہ وہ باہر سے تالا لگا کر چلے جایا کرتے تھے اور میں اندر مطالعہ کرتا رہتا تھا ،دوران مطالعہ مذکورہ کتابیں تو پڑھتا ہی تھا،ساتھ ساتھ کتب خانہ کی ساری کتابوں کے متعلق یہ معلومات بھی ہوگئ تھیں کہ کونسی کتاب کس موضوع پر ہے اور کہاں ہے ،ناظم کتب خانہ کو جب کتاب نہیں ملتی تھی تو مجھے بلاتے اور میں انہیں بتادیتا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰مطالعہ کی وہ لذت مجھے آج بھی نہیں بھولتی۰۰۰۰۰۰۰تیس پینتیس سال سے ترمذی شریف پڑھارہا تھا اس لئے مطالعہ میں کوئی نہیں بات نہیں آتی تھی جب سے بخاری شریف کا سبق میرے پاس آیا تو مطالعہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کے لئے اپنے اپ کو دوسرے کاموں سے فارغ کیا،اب دوبارہ وہ لذت لوٹ آئی ،ایسا لگتا ہے کہ وہ لذت مطالعہ گمشدہ متاع تھی،اب مل گئی،مطالعہ میں سبق پڑھانے کیلئے نہیں کرتا،مطالعہ کا شروع سے میرا حساب کتاب یہ ہے کہ بیچ میں جب کوئی بات اگئی،کوئی بھی سوال پیدا ہوگیاتو پھر مجھ سے ممکن نہیں ہےکہ میں آگے بڑھوں،جب تک مختلف مراجع میں اس کی تحقیق نہ کرلوں،چاہے وہ بات سبق میں بیان کرنے کی کی ہو،یا نہ ہو،میں اپ سے سچ کہت ہوں کہ اس سے زیادہ لذیذ چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے،اللہ نے بہت لذتوں سے نوازا،دنیا کی لذتوں سے بھی بہت نوازا،اتنی کہ شاہد ہی کسی کو نصیب ہوئی ہوں لیکن جو لذت اس میں پائی وہ کسی میں نہیں ہے۰”

    وقت قدر اور راہ علم میں محنت کا جذبہ ان کو اپنے عظیم والد سے ورثہءمیں ملا ہے،جب کسی محفل ومجلس میں جاتے ہیں اور ابھی ان کے خطاب میں کچھ وقت باقی ہو،اس عرصے میں وہ تسبیح لے کر ذکر شروع کردیتے ہیں تاکہ یہ مختصر سا وقت بھی رائیگاں نہ جائے،سفر کے دوران بھی لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں اور کوئی لمحہ ضائع جانے نہیں دیتے ،خود انہوں نے فرمایا______

    آسی پہ غنیمت ہیں تیری عمر کے لمحے 

    وہ کام کر اب،تجھ کو جو کرنا ہے یہاں آج

    اللہ تعالی حضرت کی عمر میں برکت دے اور ہم سب کو عمر کے لمحوں کن غنیمت جاننے اور آج کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۰امین۰

    ‎@Tareef1234

  • رحم دل بھیڑئیے اور معصوم بکریاں تحریر زوہیب خٹک

    فیمنزم کی اصطلاح کا ہمارے معاشرے میں جنم نیا نیا ہوا ہے اس لیے زیادہ تر لوگ اس سے نا آشنا ہیں۔ اس تحریک کی تاریخ اٹھارویں صدی سے ملتی ہے جبکہ اس کا باقائدہ آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا جس میں خواتین کے لیے صحت تعلیم اور مردوں کے برابر تنخواہیں جیسے حقوق کے مطالبات سرِِفہرست تھے۔ انیسویں صدی کے آخر تک اس تحریک میں "اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستی اور زنا بِل رضا” جیسے دیگر کئی قانونی حقوق کی مانگ بھی شامل ہوگئی۔ جس کی وجہ سے یہ تحریک اپنے اصل مقاصد سے بہت پیچھے رہ گئی اب اس تحریک کو یورپ جیسے آزاد معاشرے ہوں یا ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے دونوں میں ایک غیر سنجیدہ تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    جہاں اس تحریک سے خواتین کو چند فائدے بھی ہوئے جیسا کہ جنسی درندگی کے خلاف سخت سزائوں کے قوانین بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام خواتین کا اعلیٰ سرکاری و نجی اداروں میں شمولیت اختیار کرنا۔ وہیں ساتھ ہی ساتھ مردوں سے نفرت پر مبنی نعرے ہم جنس پرستی اسقاطِ حمل اور زنا بِل رضا جیسے مطالبات نے اس تحریک کا بیڑا غرق کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

    پاکستان میں اس تحریک کا روحِ رواں عورت مارچ والا لبرل طبقہ ہے جس کا مشہور نعرہ "میرا جسم میری مرضی” مغربی معاشرے میں "اسقاطِ حمل کے قانونی حقوق کی مانگ” سے درآمد کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ایک مغربی مصنف "رابن سٹیونسن” کی کتاب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔ ہمارے ہاں اس تحریک میں اکثریت اُسی مغرب زدہ سوچ رکھنے والے مزہب بیزار لوگوں کی ہے۔ یہ طبقہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی مغربی طرز پر سیکولرزم کو فروغ دے کر ننگ دھڑنگ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا یہ سوشل میڈیا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

    ہمارا معاشرہ جو مظبوط خاندانی نظام پر کھڑا ہے جہاں ماں بہن بیٹی بیوی بہو جیسے باوقار رشتے ہیں اس خاندانی نظام پر ضرب لگا کر ہمارے معاشرے میں بھی یہ عورت کو بے توقیر اور بے وقعت کرنا چاہتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز "ایک رحم دل بھیڑئیے کا روپ دھارے ہوئے ہیں جو عورتوں کو چادر چار دیواری کے حفاظتی حصار سے باہر نکال کر جنگل کی رونقیں دکھا رہے ہیں تاکہ یہ جب چاہیں جیسے چاہئیں عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنا سکیں۔

    جیسے تحریک طالبان پاکستان کا نعرہ شریعت کا نفاذ تھا لیکن اصل میں وہ کم عمر بچوں کی زہن سازی کر کہ انہیں جنت کے خواب دکھا کر بے قصور پاکستانیوں کا قتلِ عام کروا رہے تھے۔ ایسے ہی یہ دیسی فیمنسٹ طبقہ نعرے عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لگاتا ہے لیکن اصل میں یہ نوجوان نسل کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی تباہی کر رہے ہیں۔

    جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئیے مل کر مظلوم عورتوں کے شرعی حقوق اور مجرموں کی شرعی سزاؤں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ تو یہ مذہب بیزار طبقہ اپنی اصلیت دکھا دیتا ہے۔اور ان کی اسلام سے نفرت اور بیزاری کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آج مجھ جیسے چند لوگ اگر بابانگِ دہل ان کے مذموم مقاصد اور اس تحریک کے پسِ پردہ حقائق عوام پر آشکار کر رہے ہیں تو ہمیں شدت پسند دقیانوسی اور نا جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

    جان لیجیے کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جس کا شروع میں ہی جڑ سے خاتمہ نا کیا جائے تو وہ پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور پھر لا علاج ہو جاتا ہے اس سے پہلے کہ فیمنزم کا یہ مرض ہمارے معاشرے میں پھیل جائے اور پورے معاشرے کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی موت واقع ہو جائے۔ ہم سب کو اس مرض کا موثر علاج کرنا ہوگا تاکہ ہمارا ملک جو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر بنا تھا وہ اپنی اسلامی اقدار کے ساتھ قائم و دائم رہ سکے۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    ‏(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

    تابعین کرام میں اپ کی کیا حیثیت تھی؟اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں  کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رض پر زبان درازی کی تھی،اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں۰

    (ابن عبدالبر:الاستیعاب تحت الاصابہ ج:۳ ص:۱۳۵)

    حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جہ مشہور تابعین میں سے ہیں ،ان سے کسی نے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے:بھلا میں اس شخص کے بارےمیں کیا کہوں؟جس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں ربنا لک الحمد کہا ہو۰

    (ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج۸ ص:۱۳۹)

    انہی عبداللہ ابن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ :یہ بتلائے کہ حضرت معاویہ اور حضرت عمربن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟سوال کرنے والے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پرطرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے ،اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا  اتفاق ہے،یہ سوال سن کرعبداللہ ابن مبارک غصے میں اگئے اور فرمایا”تم ان دونوں کی اپس میں نسبت.  پوچھتےہو،خدا کی قسم! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  ہمراہ جہاد کرتے ہوئےحضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی،وہ حضرت عمر بن عبدالوزیز سے افضل ہے ”

    (حوالامذکورہ بالا)۰

    اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران رض سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک  ہوگئے اور فرمایا :بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں،انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی،بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟

    اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ حضورﷺ  نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو۰

    (ابن کثیر:البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۳۹)

    مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں ،ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ:بردبار کون ہے ؟اپ یا معاویہ ؟اپ نے فرمایا :بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا ،حضرت معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے بردباری کرتا ہوں ،لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتاہوں ؟یا ان کے  برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

    چنانچہ ایک شیعہ مورخ امیر علی لکھتے ہیں:-

    مجموعی طور پر حضرت معاویہ کی حکومت اندرون ملک بڑی خوشحال اور پرامن تھی اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سےبڑی کامیاب تھی۰

    (بحوالہ "حضرت معاویہ "مولفہ:حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی۰)

    یہاں پر اسکی ایک حوش طبوعی کی واقعہ لکھتا ہوں ،ایک بار ایک شخص اپ رض کے پاس ایا اور کہنے لگا میں ایک مکان بنا رہا ہوں ،اپ میری مدد کردیجئے اور بارہ ہزار درخت عطا کردیجئے۰

    اپ رض نےپوچھا:کہاں گھر ہے؟

    کہنے لگا:بصرہ میں !

    اپ رض نے پوچھا "لمبائی چوڑائی کتنی ہے؟”

    کہنے لگا :دو فرسخ لمبائی ہے اور دو فرسخ چوڑائی ۰:

    اپ رض نے مزاخا فرمایا :-

    :-یہ مت کہو کہ میرا گھر بصرہ میں ہے،بلکہ یوں کہو کہ بصرہ میرے گھر میں ہے۰

    (حافظ ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۴۱۰)۰

    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بہت بڑے مقام والے ہیں ۰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریفات احادیث میں ائی صحابہ کرام اجمین نے ان کی تعریفات کئے ہیں اور بڑے بڑے اکابرین امت نے ان کی تعریفات کئے ہیں انشاء اللہ ابھی علمائے حق ان کی تعریفات کرتے اور قیامت کی صبح تک کریگی 

    صحابہ تو وہ لوگ ہے جس اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہے اللہ تعالی ہم کو صحابہ کرام اجمعین کی محبت عوطا فرمائے اور ان کی گستاخی سے اللہ تعالیہم سب کو محفوظ فرمائے۰امین ثم امین۰

    ‎@Tareef1234

  • گرمیوں کی چھٹیاں(افسانہ)   تحریر:محمد وقاص شریف

    گرمیوں کی چھٹیاں(افسانہ)  تحریر:محمد وقاص شریف

    جون 1994 گرمیوں کی چھٹیاں یکم جون کو کر دی گئی اور ہمیں آٹھویں کلاس کا ہوم ورک بہت زیادہ ملا، جسے دیکھ کر سر ہی چکرا گیا، گھر سے پیسے لئے اور سندھیلیانوالی میں اس وقت دو مشہور جنرل سٹور تھے، سرور کتاب گھر اور نسیم کتاب گھر وہاں سے ہوم ورک لکھنے کے لئے دستے خریدے، ونگ سینگ پین، مارکر اور دیگر سامان خرید کر گھر کی راہ لی، دوسرے دن صبح ہوم ورک لکھنے کے لئے ناشتے کے فوراً بعد ہی گھر میں موجود پیپل کے درخت کے نیچے زبردست پانی کا چھڑکاؤ کیا، میز کرسی لگا کر ہوم ورک لکھنا شروع کر دیا، اور دو ہفتوں کے اندر سارا ہوم ورک لکھ کر سائیڈ پر مارا، اسی دوران ایک دوست جسنے آفر دی میرا کام بھی لکھ دو اور معقول پیسوں کی آفر دی، جسکو آدھا کام لکھ دیا، دیکھا دیکھی میں دو دوست اور بھی آ پہنچے، انکو بھی تھوڑا بہت لکھ دیا، 

    اس دن جون کی پچیس تاریخ گرم دوپہر تھی، پیپل کے نیچے بیٹھ کر دوست کا ہوم ورک لکھ رہا تھا، اس دن لو کافی زیادہ تھی، پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بہت سکون تھا، میرا ہاتھ ہوم ورک لکھنے کے لئے بجلی کی تیزی سے چل رہا تھا، اور اپنے آپ کو کوس رہا تھا، اپنا کام لکھ کر کیوں کسی دوسرے کی حامی بھری، یہی خیالات آتے ٹیوب ویل پر نہانا نمک مرچ لگا کر کچے آم کھانا، شام کو کرکٹ کھیلنا لیکن دوستوں کی پھٹیک نکال رہا تھا، 

    اسی دوران ایک چھوٹا بچہ معصوم سا چہرہ لئے میرے پاس آیا، میری طرف دیکھا اور کاغذ کا ٹکرا پھنک کر بھاگ کھڑا ہوا، رول کئے ہوئے کاغذ کو کھول کر پڑھا تو آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا سمجھا شاید کسی دوست نے مذاق کروایا ہے، لکھا تھا دوپہر دو بجے لمبے کھالے پر انتظار کروں گی لازمی آنا، دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کیساتھ ہم نے جانے کا فیصلہ کیا، لیکن ابھی دو گھنٹے رہتے تھے، اور ایک ایک لمحہ گِن کر گزار رہا تھا، لش پش بھی کر لی، دو تین بار آئینہ دیکھا مسکرا دیا، پہلی دفعہ کسی کو ملنے جانا تھا، اور وہ بھی خط بھیج کر بلایا گیا، جسکے بارے میں سوچ کر ہی من میں خوشی کے نگارے بج رہے تھے، سیکو فائیو کی ٹو ٹو والی گھڑی ہاتھ میں باندھ کر وقت دیکھ رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے آج وقت کی نبض ہی روک گئی ہو، 

    جون کی تپتی دوپہر اور جھلسا دینے والی لُو میں ہم گھر سے نکلے باہر گرمی کی وجہ سے ہو کا عالم تھا، گلی میں دو دوست ملے جنکو دور جانے کا بہانہ بنا کر چلتا کیا، گاؤں سے باہر نکل کر کھیتوں میں آ چکا تھا، کسانوں نے کھیتوں میں دھان کی پنیری کاشت کر لی تھی، اور ابھی سارے کھیت خالی تھے جن میں مہینہ بعد دھان کی پنیری کاشت ہونی تھی، کھیتوں کے کنارے لگے درختوں کے نیچے چرند پرند گرمی کی وجہ سے منہ کھولے سستا رہے تھے، دور دیکھنے سے ایسے لگتا تھا جیسے زمین سے بھاپ نکل رہی ہو، 

    لمبے کھالے پر ہم پہنچنے والے ہی تھے، ایسے لگتا تھا جیسے دل بیٹھ رہا ہو، لیکن خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی، 

    لیکن کسی اور کے آ جانے کا ڈر بھی ستائے جا رہا تھا، ہم لمبے کھالے کی پگڈنڈی پر چڑھ چکے تھے، مطلوبہ جگہ پہنچنے کا سفر شروع ہو چکا تھا، طائرانہ نگاہ ہر طرف دیکھ رہا تھا، اور اپنی خوش قسمتی پر شاداں بھی تھا، مگر مجھے حیرانگی یہ ہوئی ماہ جیبیں میرے سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی، اور مجھے آتا دیکھ رہی تھی، اسکی تیز نگاہوں سے ایسا لگا جیسے ہم پگڈنڈی سے گرنے لگے ہوں، اپنا سفر جاری رکھا اسکے پاس پہنچ گئے، ماہ جبیں جو سر تا پا حسن کا شاہکار تھی ہمیں دیکھ کر مسکرا دی، ہم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو بولی آپکو زحمت دی مجھے افسوس ہے، لیکن کیا کروں آپکی شہریت سنی کہ آپ گرمیوں کی چھٹیوں کا کام لکھ کر دے رہے ہو، تو پلیز میرا کام بھی لکھ دیں بھائی، ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا بُت بنا اسے دیکھ رہا تھا، کوئی چار کلو وزنی کاغذات کا پلندہ میرے ہاتھوں میں رکھ کر بولی میرا کام خوش خط لکھنا آپکو شکریہ کا خط بھی لکھوں گی اور چلتی بنی

    پھر کیا ہم تھے چار کلو وزن تھا، تیز لُو اور گرم دوپہر میں واپسی کا سفر، اور گرمیوں کی چھٹیوں کا کام.

    @joinwharif