Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    ✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
    قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
    ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
    اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
    اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
    علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
    مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
    شمسہ بتول
    @sbwords7

  • چھ ماہ کے مولود بچے کا فیصلہ تحریر: احسان الحق

    مدینے میں ایک عورت کے ہاں شادی کے محض 6 ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی حالانکہ عموماً شادی کے 9 ماہ بعد یا کم سے کم 7 ماہ بعد خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں. بچے کی پیدائش کا سن کر لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ 6 ماہ کے حمل کے بعد بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے. اسی وجہ سے لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورت حقوق زوجیت میں خیانت کی مرتکب ہوئی ہے. لوگوں نے الزامات لگانا شروع کر دئیے کہ یہ بچہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ یہ بچہ شادی سے پہلے کا ہے.

    امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس اس عورت کا مقدمہ پہنچا تو آپ نے ملزمہ کو طلب فرماتے ہوئے اس پر مقدمہ چلانے کے بعد رجم کرنے کی سزا کا حکم صادر فرمایا. دربار خلافت میں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی موجود تھے. آپ حضرت علیؓ خلیفہ ثانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے قاضی کے عہدے پر تھے. آپ نے امیرالمؤمنین کے عورت کو رجم کرنے کے فیصلے سے مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ

    "یہ عورت قابل سرزنش نہیں ہے. اس کے خلاف رجم کی سزا درست نہیں. اگر تم لوگ صرف اس لئے عورت کو گناہ گار سمجھ رہے ہو کہ بچہ شادی کے 6 ماہ بعد پیدا ہوا ہے تو اس وجہ سے عورت قابل سزا نہیں اور نہ ہی اس عورت پر یہ الزام عائد ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حق میں مخلص نہیں ہے. یہ بچہ عورت کے شوہر کا ہے”

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا جواب سن کر لوگ تعجب کا شکار ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیسے؟

    آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے  سورہ "احقاف” کی آیت نمبر 15 کی تلاوت کرتے ہوئے لوگوں بتایا کہ

    "عورت کے حمل کا اور بچے کو دودھ چھڑانے کا عمل 30 ماہ کا ہے” (الاحقاف15)

    مطلب حمل اور رضاعت کی پوری مدت 30 ماہ یعنی 2 سال اور 6 ماہ ہے.

    اسی طرح سے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    "مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں” (البقرہ 233)

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی 24 مہینے ہے اور حمل اور رضاعت کی کل مدت 30 ماہ ہے. ان 30 مہینوں میں سے 24 مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے ہیں. لہذٰا اگر کوئی عورت 6 ماہ میں بچے کو جنم دے تو یہ بچہ اس کے شوہر کا ہوگا اور وہ عورت قابل سرزنش نہیں ہوگی.

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے علم اور آپکی ذہانت کی وجہ سے ایک عورت رجم ہوتے ہوتے بچ گئی.

    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے مزکورہ دونوں آیات سے اور سورہ لقمان کی آیت 14 سے یہ استدلال کیا ہے کہ وضع حمل کی کم سے کم مدت 6 ماہ ہے. 6 ماہ کے حمل کے بعد بچے کی پیدائش پر عورت کی سرزنش نہیں کی جاسکتی. حضرت علیؓ کا استنباط صحیح اور قوی ہے. اس دلیل اور رائے سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور دیگر اصحابِ رسولﷺ نے اتفاق کیا ہے.

    سلف صالحین کا یہ دستور تھا کہ نوعیت مسئلہ سمجھنے کے بعد اجتہاد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے. اگر ان کے فیصلے کے خلاف قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث پیش کی جاتی تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلے کو ترجیح دینے میں بالکل پس و پیش نہیں کرتے تھے. مذکورہ بالا واقعہ اس حوالے سے بہترین مثال ہے.

    @mian_ihsaan

  • ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟  تحریر:آصف گوہر

    ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟ تحریر:آصف گوہر

    عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ°

    "جس (اللہ) نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا.”

    سورة علق 5

    ہر وہ معلومات جس سے انسان واقف نہ ہو وہ علم کے زمرے میں آتی ہے ۔

    تخلیق آدم علیہ السلام پر جب فرشتوں نے اللہ سبحان و تعالی سے سوال کیا تو آدم علیہ السلام نے اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے سیکھائے ہوئے چیزوں کےنام فرشتوں کے سامنے بتائے یوں انسان کی فضیلت قدر ومنزلت علم ہی کی بدولت ثابت ہوئی اور یہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق انسان کی سب سے بڑی وجہ علم کا حصول ہی ہے۔۔

    دینی دنیاوی علم و فنون کی لا تعداد اقسام اور جہتیں ہیں انسان اپنے میلان اور رجحان کے مطابق جیسا علم اور ہنر چاہے سیکھ سکتا ہے 

    ہمارے ہاں جب اللہ سبحان و تعالی کسی کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے تو ابھی بچہ ماں کی گود میں ہی ہوتا ہے کہ والدین اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی بڑی ہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔اس سے آگے دیگر پیشوں کا نا تو والدین نام لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے ۔بچے کے سکول جانے کے پہلے روز سے میٹرک تک ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا کی گردان جاری رہتی ہے ۔

    میٹرک امتحان کے نتائج آتے ہی کالج میں انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم کے لئے کالجز میں  داخلےکے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ میں سے والدین ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔اور اپنی بساط کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم پر خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کارفرما مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔

    انٹرمیڈیٹ کا لاکھوں طلباء امتحان دیتے اور لاکھوں کی تعداد میں اے گریڈ لے کر اعلی نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہر کسی کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے ۔امتحان میں نمایاں درجے کامیابی کے بعد بھی طلباء کا امتحان اور والدین کی آزمائش ختم نہیں ہوتی میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلے کے لئے پرائیویٹ اکیڈمیز میں بھاری فیسیں ادا کرکے انٹرمیڈیٹ میں پڑھے گئے سلیبس کو دوبارہ پڑھنا پڑھتا ہے ۔

    حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نتائج پر میرٹ بنتا اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میں داخلہ مہیا کیا جاتا لیکن والدین کی کثیر تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر 

     ۔بنانے کی خواہش نے وہ چن چڑھا دیا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہی نہیں جتنے طلباء ہر سال ان میں داخلے کی جدوجہد کرکے انٹرمیڈیٹ میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس صورتحال کا سابقہ پنجاب حکومت نے یہ حل نکالا کہ انٹری ٹیسٹ کا نظام وضع کیا جس سے لاکھوں طلباء کو میرٹ کے نام پر انٹری ٹیسٹ کی چھری سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    انٹری ٹیسٹ میں بہت سارے طلباء مطلوبہ نمبرز حاصل نہیں کرپاتے کیوں کہ نشستوں کی کمی کی وجہ سے مقابلہ اور میرٹ بہت سخت بنایا جاتا ہے ایک ایک آدھے آدھے نمبر بلکہ پوائنٹس پر فیصلہ ہوتا ہے۔

    خوش قسمت طلباء کو پنجاب کے بھر کی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جاتا ہے اور مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کر سکنے والے طلباء کو ذہنی طور پرشدید صدمہ اور جھٹکا لگتا ہے طلباء اور والدین سوچتے ہیں کہ ہمارے پچھلے تعلیم کے لئے لگائے گئے 12 سال اور مالی وسائل ضائع گئے ۔پھر کچھ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی خواہش جو کہ ضد کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے اس کو ملی جامہ پہنانے کے لئے   

     لاکھوں روپے سالانہ پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کو  ادا کرتے ہیں اور کچھ والدین دل پر پتھر رکھ کر بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لئے چائنہ ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھیج دیتے ہیں اس کے لئے چاہئے کوئی قیمتی اثاثہ بیچنا پڑے یا کسی سے قرض لینا پڑے ۔

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کا عرصہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے لیکن انہوں نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کا جھال بچھانے کی بجائے سیاسی فائدہ کے لئے لاہوراور دیگر چند بڑے شہروں میں سڑکیں اور پل بنائے اور مسلسل حکومتی امداد پر چلنےاور ملکی خزانے پر بوجھ بننے والے میٹرو بس سروس اور اورنج لائن ٹرین جیسے ناکام اور سفید ہاتھی کھڑے کرنے کے علاوہ صوبہ میں ایک بھی نیا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی۔

    اب اس گرداب سے نکلنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد والے فیصلے پہلے کر لیں اور ڈاکٹر انجینئر بننےوالی  محدود سوچ کو تبدیل کریں سکولنگ کی عمر میں نہ خود خواب دیکھیں اور نہ اپنے خوابوں کو بچوں پر مسلط کریں ۔بچے کی تعلیمی نتائج اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے اساتذہ سے مشاورت اور طلباء کی اپنی دلچسپی پوچھ کر ان کی اعلی تعلیم کے شعبے کا انتخاب کریں۔ 

     ٹیچنگ باییو انجینئرنگ سول ملٹری سروسز ای کامرس ویب ڈویلپینگ کونٹینٹ رائٹینگ فوٹو گرافی ایگری ٹیکنالوجسٹ بزنس ایڈمنسٹریشن الغرص ان گننت شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور

    صرف ڈاکٹر اور انجینئر کی رٹ لگانا چھوڑ کر مسلسل اذیت میں مبتلا ربنے سے خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے بچوں کو بھی نجات دلائیں ۔

    @EducarePak

  • تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    آپ نے کس عمر میں (اب عمر کا سن کے بھاگ نہ جانا میرا مکمل آرٹیکل پڑھ کے جانا پلیز۔۔!!)
    سیانے کہتے ہیں اپنی عمر کا ہر دور انجوائے کرنا چاہئیے ہم اتنے ناشکرے ہوتے ہیں بچپن میں بڑے ہونے کا شوق اور بڑے ہوکر چھوٹے کہلانے کا جنون.اس خواہش میں عورت اور مرد دونوں ہی مبتلا ہیں.
    پاکستان میں تو عام رواج ہے مرد اپنے سے ایک سال بڑی خاتون کو آنٹی کہنے سے بھی ہچکچاتے نہیں اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کو انکل بول دے تو اس کی جان پر بن آتی ہے اور اگر اپ کی کوئی کزن عمر چور ہے آپ سے ڈیڑھ دو برس چھوٹی بھی ہے تو اس کا بس نہیں چلتا آپکو آنٹی انکل کہنا شروع کردے چاہے بچپن سے بڑے ہونے تک وہی کزن آپکو آپکے نام سے ہی کیوں نہ مخاطب کرتی رہی ہو یہ بھی عمومآ پاکستان میں ہی ہوتا ہے باہر ممالک میں یہ سب نہیں چلتا چاہے آپ 18 سال کے ہو 22 سال کے ہوں پچاس سال کے ہوں سو سال کے ہوں آپکو محترم اور محترمہ کرکے بلایا جائے گا اور بہین بھائی کزنز دوست وغیرہ نام سے بلائیں گے چاہے بہین بھائیوں میں دس سال کا ہی فرق کیوں نہ ہو ۔۔۔!!!
    عمومآ ایسا ہوتا ہے لڑکی 30 سال کی عمر کے بعد اگر اپنی ڈائٹ کا خیال نہ رکھے تو اس کا فگر خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔۔پھر تھوڑا تھوڑا مل کر دریا مطلب ڈبر” بننے والا جیسا معاملہ ہوجاتا ہے اگر احتیاط نہ کی جائے تو اور لڑکیاں تو اپنا فگر برقرار رکھنے کے لیے بھوکی پیاسی رہ کراپنے "مقصد” میں کامیاب ہوجاتی ہیں جو بےچاری نہیں ہوسکتی اس میں کامیاب ۔اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ گھر میں خوشحالی اور مرغن کھانے کھانا اور خاص طور پر باہر سے ذیادہ ہیوی کھانا لیکر کھانے سے ڈائٹ کاسارا پلان فیل ہوجاتا ہے پھر ان خواتین کواپنے سے ڈیڑھ دوسال چھوٹے لوگوں کی باجی آنٹی بننا پڑتا ہے یا تو اپنی ڈائٹ پر کنٹرول رکھیں یا پھر یہ سب برداشت کرنے کی اپنے اندر قوت پیدا کریں ۔۔
    بعض لوگ عمر چور ہوتے ہیں جو مرضی ہے کھائیں پئیں کسی ایکسرسائز کی ضرورت ہی نہیں سلم سمارٹ ایسے لوگ میری نظر میں خوش قسمت ترین انسان ہیں جو بنا محنت کے پھل کھا رہے ہوتے ہیں ان کو اپنے سے ایک دو سال بڑے لوگ باجی آنٹی کی شکل میں نظر آتے ہیں ۔کبھی کبھی تو لوگ آپکو اتنا سینئر قرار دینے کی کوشش کرنے لگتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے بس حضرت آدم علیہ السلام اور اماں ہوا کے بعد آپ ہی آئے تھے اس دنیا میں ۔۔
    بعض لوگ ڈائٹ پلان ایکسرسائز سب کرنے کے باوجود اپنی پسند کا فگر قائم نہیں رکھ سکتے اس کی بڑی وجہ موروثی بیماری بھی ہوتی ہے ان کے خاندان میں یہ شروع سے چلی آرہی ہوتی ہے اور بدقسمتی سے یہ ان لوگوں کو بھی تحفہ مل جاتا ہے ان چاہا تحفہ ۔۔!!!!
    لیکن اس میں اس انسان کا کوئی قصور نہیں ہوتا تو کرنا ایسا چاہئیے اسے کبھی اپنی کمزوری نہ بننے دیں اپنی شخصیت میں اعتماد پیدا کریں کوئی جو مرضی ہے آپ کے بارے میں سوچے ۔آپ نے اپنے آپکو مین ٹین کرکے رکھنا ہے اپنی شخصیت ایسی بنانی ہے کہ آپ ہر عمر میں ہر روپ میں "جازب نظر” آئیں سوچنے کا ٹھیکہ اپنے مخالفین کے پاس رہنے دیں ۔مخالفیں اس لیے کہ جو لوگ اپ کے اپنے ہیں وہ آپکو ہر روپ میں آپ سے پیار کریں گے اور انھیں آپ اچھے لگو گے جن کو آپ اچھے نہیں لگتے ان کو آپ چاہے دنیا کے خوبصورت ترین انسان بن کر بھی آجائیں اچھے نہیں لگیں گے ۔۔۔اس لیے ایسے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دیں دیکھنا آپ کی شخصیت کیسے سنور کر نکھر جائے گی ۔
    رہی بات شکل صورت کی اس پر ایک مکمل آرٹیکل پہلے بھی لکھ چکی بار بار یہ کہوں گی جب ہم کسی کی شکل صورت کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں دراصل ہم مصور کے بنائے شاہکار میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسانوں کی تو اتنی اوقات ہی نہیں ایک بال بھی بنا سکیں اللہ کے غضب سے ہر دم ڈرنا چاہئے اس کی پکڑ بہت سخت ہے ۔۔!!!
    ہمیشہ اپنی عاجزی میں رہیں یہ چار دن کی ذندگی ہے اسے ہنس کے گزار جائیں ۔ خوب صورت ترین ۔امیر ترین ۔ذہین ترین انسان بھی مٹی میں مل جائیں گے یہ ہی انسان کی حقیقت ہے ہماری ازلی "میں "کا خانہ پر کرنے کے لیے اور آجائیں گے ایسے ہی دنیا کا نظام چلتا رہے گا میری ماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ "آج مرگے کل دوسرا دن "تب بہت بچپن تھا اس کہاوت کہ سمجھ نہیں تھی پھر یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ بات کتنی سچ تھی ۔۔!!
    کوشش کریں دنیا میں ایسے کچھ عمل چھوڑ جائیں جو بعد میں ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں ہم انسان تھوڑے خود غرض ٹائپ کے ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے ہماری محفل نیک متقی پرہزگار لوگوں کے ساتھ رہے ان کی برکت سے ہمارے گناہ بھی اللہ معاف کردے اور اللہ انسان کے عمل سے بھی ذیادہ نیت دیکھتا ہے میں نے کبھی نیک نیت انسان کو زلیل ہوتے نہیں دیکھا بس اپنا دل صاف رکھیں پانچ وقت نماز پڑھیں اللہ آپ کے سب راستے آسان کردے گا جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہیں کرتا ان سے بھی عزت احترام محبت سے پیش آنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کی تربیت کتنی نیک ماں نے کی ہے

  •   بالی وڈ کے دو بڑے سوپر سٹارز کی کہانی تحریر علی اصغر

         

                    سوپر اسٹار بمقابلہ سوپر اسٹار               
    یہ بات ہے آج سے بارہ سال پہلے سن 2009 کی جب آئیفا ایوارڈ کی تقریب کے دوران راجیش کھنا اپنی ہی فلم کا ایک ایک شعر سنا رہے تھے تو اس میں چھپا درد سامنے نظر آ رہا تھا با لی وڈ کا پہلا سوپرسٹار  بالی ووڈ کی شہنشاہ کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پاکر اسٹیج پر کھڑا تھا
    ہندوستانی سینماؤں کی ان دو بڑی شخصیت کی کہانی اسٹیج پر بارہ سال پہلے 2009 میں پہنچی مگر ان کا رشتہ 40 سال پرانا ہے تب امیتابھ امیتابھ نہیں تھے اور راجیش کھناان دنوں سوپر اسٹار کاکا کہلائے  جاتے تھے تھے 1969 میں آئے امیتابھ بچن کو پہلی کامیابی کے لیے چار سال انتظار کرنا پڑا اور سال 1973 میں امیتابھ کو فلم زنجیر سے بڑی کامیابی ملی جبکہ امیتابھ بچن سے تین سال پہلے بالی وڈ میں آئے راجیش کھنا سال 1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار 15 سپر ہٹ موویز دے چکے تھے تب راجیش کھنا سوپراسٹار تھے اور امیتابھ بچن اپنی ایک ہٹ کے لیے ترس رہے تھے تب پہلی بار دونوں ایک فلم میں ملے فلم کا نام تھا آنند اس فلم میں راجیش کھنا کو ایک ایک ڈائیلاگ کے اوپر داد مل رہی تھی امیتابھ بچن اس فلم میں ایک سائیڈ رول کر رہے تھے اور راجیش کھنا فلم کی جان تھے لیکن پردے کے پیچھے کی کہانی کچھ اور تھی وہ سال تھا سال 1971 مشہور کہانی نگار علی پیٹر جون  لکھتے ہیں رشی کیش مکھرجی امیتابھ اور راجیش کھنا کو لے کر ایک فلم بنانا چاہتے تھے بتایا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے کہا کہ اس فلم سے امیتابھ بچن کو ہٹا لیجئے ایک سپر اسٹار کا ایک نئے ہیرو کے لیے ایسا کہنا کافی حیران کن تھا اس وقت لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ راجیش کھنا اپنے آپ کو بہت جلدی غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور  امیتابھ کو لے کر بھی ان کے من میں یہی خیال تھا اس کے دو سال کے بعد 1973 میں آئی نمک حرام نے ایک دفعہ پھر امیتابھ بچن اور راجیش کھنا کی جوڑی کو سپر ہٹ کر دیا
    ان دونوں کی جوڑی پردے پر کامیاب تو ہوئی مگر اس بار یہ کردار فلم آنند کی طرح کمزور نہیں تھا بلکہ اس بار راجیش کھنا کی ٹکر کا کردار تھا یہ وہ وقت تھا جب امیتابھ بچن کو کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنی تھی اور راجیش کھنا کو انہیں سیڑھیوں سے نیچے اترنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ان دونوں کے درمیان کچھ اور کھچڑی پک چکی تھی علی پیٹر جون راجیش کھنا کے بہت ہی قریب تھے وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں میں ایک فلم باورچی بن رہی تھی باورچی کے سیٹ کے پر جب امیتابھ بچن جیا بچن کو لینے آتے تھے تو راجیش کھنا ان سے کنارہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ وہ صرف جیا بچن سے ہی ہیلو ہائے کرتے تھے ایک دن جیا بچن نے راجیش کھنا کو جھاڑتے ہوئے  کہا کہ دیکھ لینا ایک دن وہ تم سے بڑا سٹار بنے گا یہ واقعہ علی پیٹر جون کے سامنے ہوا تھا وہ کہتے ہیں کہ جیا بچن نے کہا کہ وہ آدمی اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے وہ کوئی خدا نہیں ہے ایک آدمی کو دوسرے آدمی کو عزت دینے میں کیا جاتا ہے ایسا علی لکھتے ہیں ہیں کہ اس وقت جیابچن نے کھڑے ہو کر کہا کہ دیکھ لینا ایک وقت آئے گا یہ جو آدمی میرے ساتھ کھڑا ہے یہ کتنا بڑا اسٹار ہوگا وہ جو اپنے آپ کو خدا سمجھے بیٹھا ہے وہ کہیں کا نہیں رہے گا وہ سال تھا 1972 اس وقت باورچی فلم آئی تھی اس وقت تک راجیش کھنا کے نام ایک درجن سے زیادہ سوپر ہٹ موویز تھی تھی اور امیتابھ بچن کو انڈسٹری میں آئے ہوئے صرف تین سال ہوئے تھے  آگے چل کر امیتابھ نے اپنے نام درجنوں سپر ہٹ موویز کی اور راجیش کھنا سٹارڈم کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے امیتابچن کی کامیابی بی اور راجیش کھنا کی ناکامی ریل کی پٹڑیوں کی طرح آگے بڑھتی جا رہی تھی اگلے پندرہ سال تک امیتابھ نے ہر سال کامیاب فلمیں دیں 1973 میں آئی فلم زنجیر سے امیتابھ کو بڑی کامیابی ملی اس کے بعد ابھیمان, نمک حرام, ملی, دیوار, چپکے چپکے, شعلے, کبھی کبھی, ہیراپھیری, قسمیں وعدے, ڈون, ترشول, مقدر کا سکندر اور ان جیسی اور کامیاب فلموں نے اگلے چھ سال میں امیتابھ کو انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ بنا دیا جب کہ راجیش کی اگلی فلمیں باکس آفس پہ دم توڑتی گی1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار پندرہ سوپر ہٹ موویز دینے والے راجیش کھنا کی اگلی فلمیں جیسے کہ مہا چور, عاشقوں بہاروں کا, بنڈل باز, محبوبہ, راجہ رانی, پلکوں کی چھاؤں میں ایسی فلموں نے بالی ووڈ پر پانی بھی نہیں مانگا اور فلاپ ہوتی چلی گئی یہ وہ وقت تھا کہ جب راجیش کھنا کو بچن نام سے نفرت ہوگئی ہے کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے اپنے آپ کو سپر ہٹ ثابت کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں کی مگر امیتابھ بچن کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو
    واپس نہیں لا سکے وہ اپنے دوستوں کو کہا کرتے تھے تھے کہ کے اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں ایسے ایرے غیرے لوگوں سےڈر جاؤں گا جاؤنگا یا اگر آپ ایسا سوچتے بھی ہیں تو آپ کو ہمارا دربار چھوڑنا پڑے گا ہے شاید بچن نام سے یہ نفرت اس لیے بھی تھی تھی کہ راجیش کھنہ نے جو سٹار دم دیکھا آج وہ سٹار دم امیتابھ بچن جی رہے تھے اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد بعد امیتابھ بچن اور راجیش کھنا بمبئی کے ایک ہوٹل میں ایک پارٹی میں اکٹھے  ہوئے تو وہاں پر راجیش کھنہ سے زیادہ لوگ لوگ میتابچن سے آٹو گراف لینے پہنچے راجیش کھنا اس واقعہ کو لے کر اتنا دل برداشتہ ہوئے کے پارٹی ادھوری چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے کمرے میں جا کے خوب شراب پی  اور خدا سے کہنے لگے لگے کہ میرے ساتھ ہی کیوں کیوں اینگری ینگ مین کے کردار میں امیتابھ بچن کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھےجارہے تھے اور راجیش کھنا اپنے آپ کو دہرانے کے چکر میں فلاپ ہوتے جارہے تھے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ راجیش کھنا کے چاہنے والوں نے ایک اور سپر سٹار کو چن لیا تھا اور وہ تھا امیتابھ بچن
    اس کے بعد 80کی دہائی میں جب امیتابھ بچن کا ستارہ مدہم پڑنے لگا تو انہوں نے سیاست کا رخ کیا یا اس کے بعد 90 کی دہائی میں راجیش کھنہ نے بھی یہی کام کیا اور وہ بھی سیاست میں آگئے یہ کہا جاتا ہے ہے کہ راجیوگاندھی امیتابھ بچن کو جلانے کے لیے راجیش کھنا کو سیاست میں لے کر آئے تھے 1991 میں ایل کے ایڈوانی کے مد مقابل الیکشن لڑیں 1991 میں جب ایل کے ایڈوانی کے مدمقابل امریتا سونی کو کھڑا کرنا تھا مگر الیکشن سے کچھ دن پہلے اچانک راجیش کھنا کا نام اناؤنس کردیا گیا اور اس کے بعد جب الیکشن ہوا  تو راجیش کھنا وہ الیکشن ہار گئے گئے اور وہ بھی صرف پندرہ سو ووٹ کے فرق سے اس کے بعد جب ایل کے ایڈوانی نے نئی دلی والی سیٹ چھوڑی تو راجیش کھنا فلمی دنیا کے ایک اور ستارے شتروگھن سہنا کو ہرا کر اسمبلی میں پہنچ گئے اس طرح ان کا اسمبلی میں پہنچنے کا خواب پورا ہوگیا اس کے بعد اگلے الیکشن میں راجیش کھنا ہار گئے اور وہ بھی امیتابھ بچن کی طرح الٹے پاؤں سیاست سے واپس فلمی نگری کی جانب آ گئے  اکیسویں صدی کے شروع میں میں امیتابھ بچن کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام سے ایک دفعہ پھر کامیابیوں کی سیڑھی پر پہنچ گئے ہاں اب راجیش کھنا میں اتنی ہمت باقی نہیں تھی اور انہوں نے فلموں میں ہی اپنے آپ کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہو سکا اس کے بعد 2009 میں امیتابچن کی ملاقات ایک دفعہ پھر راجیش کھنا کے ساتھ ہوئی جہاں امیتابھ بچن نے راجیش کھنا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا اس کے تین سال کے بعد جب راجیش کھنا دنیا سے گئے تو امیتابچن وہاں پر اپنے بیٹے ابھیشیک بچن کے ساتھ پہنچے  آخری بار دیدار کرنے بالی ووڈ کا پہلا سوپر اسٹار اس دنیا سے جا رہا تھا اور عجیب اتفاق دیکھئے یے کہ امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ نے جو پہلی فلم اکٹھے کی تھی آنند اس میں بھی فلم کا کردار آنند یعنی راجیش کھنا جب دنیا سے جاتا ہے امیتابھ بچن اس کے بعد اس کے پاس آتے ہیں ہیں یہ تھی آج کی کہانی  اچھی لگی ہو ہو تو کمنٹس میں بتائیے گا 

    Thanks
    Ali Asgher khan 
    Twitter account @Ali_khan_AJK 
    Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    آج کل سب سے عام پریشانیوں میں سے ایک پریشانی جو ساری دنیا میں لوگوں کو مار رہی ہے وہ سگریٹ نوشی ہے۔ بہت سے لوگ ٹینشن، ذاتی مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں. کچھ لوگ نمائش کے طور پہ بھی شروع کرتے ہیں یا کچھ لوگ لطف اٹھانے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو نوشی ایک قسم کی تفریح اور تواضع کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

     ایک انسان سے دوسرے کو سگریٹ نوشی کی لت پڑ سکتی ہے جب کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے نہ صرف خود کو بلکہ اردگرد کے افراد کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کے جسم کو بہت خطرناک قسم کی بیماریاں دیتی ہے۔ تقریبا ہر کوئی جانتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کا استعمال کرنے سے انسان کی زندگی تقریبا دس سال کم ہوجاتی ہے جبکہ اس گندی عادت کی وجہ سے سال میں ہزاروں سگریٹ پھونک دئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ نوعمر افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں نکوٹین وقتی طور پہ انسان کو سکون پہنچاتی ہے جس سے انسان اس موذی عادت کی لت کا شکار ہوجاتا ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک سست موت کی مانند ہے۔ سگریٹ میں کیا ہے جو ہر روز لاکھوں افراد ہر دن اس کو پھونک رہے ہوتے ہیں سگریٹ میں 4000 سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے آس پاس لوگ خاص طور پہ بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یومیہ اٹھارہ ارب سگریٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ارب 60 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں منہ اور گلے کے کینسر کا بہت اضافہ ہوا ہے دنیا میں سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق روز کا ایک سگریٹ بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان 50 فیصد اور سٹروک کا 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک ارب افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 33 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین ہیں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    سگریٹ بنانے والی کمپنیاں نت نئی مصنوعات متعارف کرائی رہتی ہیں، ہر دور میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایسی مصنوعات تیار کرکے دعوی کیا جاتا رہا کہ اس سے نقصانات کم ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد لوگوں کو تمباکو کا عادی کرنا ہوتا ہے دوسری جانب e-cigarette وائپ بھی سالوں سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات ایک بڑی انڈسٹری بنتی جارہی ہیں لیکن پیکنگ چاہے جیسی بھی ہو لیکن یہ چھپانا آسان نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس سے لوگ چھوڑنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور تناو میں سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ تمباکو نوشی آپکو اندر سے مار ڈالتی ہے وہ تمباکو نوشی نہیں کررہے بلکہ اپنے لیے مضر بیماریاں خرید رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا جانتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے،حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ‘چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور سنجیدہ مہم نہیں چلاتیں اور نہ ہی حکومتوں کی جانب سے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

    tweets @KharnalZ

  • اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    تعلیم کے دائرہ کار میں اسکول کے طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ اسکول کی دنیا میں داخل ہونے سے قبل چھوٹے بچوں کو بھی اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے تعلیم کی دنیا میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور انہیں روزمرہ زندگی میں اس کا اضافہ اور نفاذ ضروری ہے۔ موجودہ دور میں طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ ساتھ طلبہ میں بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً ایلیمنٹری اسکول کے وہ بچے جنہوں نے تمباکو نوشی کی ہے، ڈیٹنگ کی ہے اور دیگر، طلبہ میں اسلام کو ابھارنے سے اور اچھی سمت کی طرف راغب کرنے سے پھر طلبہ جدید دور کے منفی اثرات سے بچ جائیں گے۔

     اسلام ایک طرز زندگی ہے، اگر ہم میں اور ہماری زندگی میں کوئی مذہب نہیں تو پھر زندگی غیر منظم ہو جائے گی، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی رہنما اصول نہیں ہیں، مذہب میں ہر چیز کا قرآن و احادیث میں اہتمام کیا گیا ہے، دل کی نیت سے شروع، عبادت، رویہ، تعلیم، خرید و فروخت یا معیشت، سماجی جیسا کہ آیت 255 میں بیان کیا گیا ہے، سورہ بقرہ۔

    طالب علموں کے لئے اسلامی تعلیم کے فوائد میں کئی چیزیں شامل ہیں:

     اول، بچوں کے روحانی معاملات میں اگر بچوں نے مدارس سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے، مثلاً باجماعت نماز ادا کرنا، والدین یا اساتذہ سے ہاتھ ملانا، یقیناً درخواست دینے میں طلبہ کو واقعی ماحول سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، خاندانی ماحول وہ اہم چیز ہے جو والدین کی زمہ داری ہوتی ہے، والدین کو روزمرہ زندگی میں نفاذ کے لئے بچوں کو ہدایت اور معاونت کرنا ضروری ہے، طلبہ کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے اس کے بعد والدین کو اپنے بچوں کے رشتوں کی نگرانی بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کیا جائے، جدید دور میں اس کی جتنی زیادہ روحانی گہرائی ہوگی وہ نقصان سے بچ سکے گا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا ہے۔

    دوسرا یہ کہ طرز عمل یا اخلاق کے اعتبار سے اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے، مثلاً والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار، ہر ایک کے ساتھ، شائستہ، ہر ایک کی مدد کرنے میں آگے، ایک دوسرے کی مدد کرنا، اس مقام پر طالب علموں کو والدین اور اساتذہ کے رویے یا اخلاق سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اسلامی مذہب کے علم اور اچھے اخلاقی رویے کے ساتھ طالب علموں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

     

     طلباء کو اسلامی تعلیم فراہم کرنے اور خاندانی ماحول، والدین، تعلقات، اساتذہ کے تعاون سے، جو اس کے بعد زندگی میں لگائے گئے ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو مدد ملے گی جو جدید دور میں طلباء کو دوچار کر چکے ہیں۔

     اسلامی تعلیم کا استعمال:

     1) مسلم طالب علموں کے لئے موجود صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لئے جو مخلوق کے طور پر تعلیم حاصل کر سکتی ہے

    2) آئندہ نسلوں یا لوگوں کے ممکنہ رہنماؤں کی حیثیت سے طلباء کو اسلامی مذہب کی ثقافتی اقدار کو ختم کرنا۔

     3) چوں کہ اسلامی تعلیم سائنس قرآن و حدیث پر مبنی ہے، جس میں سے دونوں عربی زبان استعمال کرتے ہیں، اس لیے مسلمان طلبہ زبان کی تربیت اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔

     4) طلباء کو یہ سمجھ بوجھ دینا کہ وہ صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ہے جو قرآن و حدیث کی رہنمائی کرتا ہے، بلکہ وہ انڈونیشیا کا شہری بھی ہے جس کے پاس قوم کا فلسفہ حیات یعنی پنکسیلا اور 1945 کا آئین ہے۔

     آئیے ایک اچھے پائلٹ کی شکل میں طلباء کو زمانے کے نقصان سے بچانے میں مدد کریں یا کسی عظیم مذہب (اسلام) کی شان و شوکت کے لئے، آنے والی نسلوں کے بچوں کو اسلامی تعلیم دیں۔

    Twitter Account: @Asma_smt

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟   تحریر زاہد کبدانی

    کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟ تحریر زاہد کبدانی

    کلاس روم کا ماحول آج کے بچوں سے واقف ہے اس ماحول سے بہت مختلف ہے جو ان کے والدین نے تجربہ کیا تھا جب وہ طالب علم تھے۔ ان میں سے بہت سی تبدیلیوں کا پتہ ٹیکنالوجی سے لگایا جا سکتا ہے ، جس کی آہستہ آہستہ گزشتہ کئی سالوں سے سکول اور اس کے کلاس روم میں بڑھتی ہوئی موجودگی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی نے نہ صرف بچوں کے لیے کلاس روم کے تجربے کو تبدیل کیا ہے ، بلکہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ شکریہ ، ٹیکنالوجی نے بچوں کے گھر میں اسکول کا کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ اگرچہ ایک ممکنہ طور پر قیمتی سیکھنے کا آلہ ہے ، انٹرنیٹ یہاں تک کہ آج کے طلباء کے لیے کئی مسائل پیدا کرتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے غیر شعوری استعمال کی بات کرتے ہیں تو بچے اور طالب علم سب سے پہلے سب کے ذہن میں آتے ہیں۔ اگر کوئی بالغ ٹیکنالوجی نقصان دہ طریقے سے استعمال کرتا ہے تو ہم اسے "بے ہوشی” کے بجائے "انتخاب” کہیں گے۔ لیکن یہ بچوں کے لیے مختلف ہے کیونکہ وہ عام طور پر ان ممکنہ مضر اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے جو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ، ہم والدین اور بڑوں کے لیے ٹیکنالوجی کے ممکنہ مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں کچھ یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ تحریر طلباء کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت ، اس کے مثبت اور منفی اثرات پر کچھ روشنی ڈالے گی۔

    پہلا سوال جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: ٹیکنالوجی کا بچوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ جواب سادہ ہے: کمپیوٹر ، اسمارٹ فون ، ٹیبلٹ ، ٹیلی ویژن ، جدید کھلونے اور اسی طرح کی تمام تکنیکی مصنوعات جو بچوں کے لیے دلچسپ ہوں گی۔ بچوں کے لیے ٹیکنالوجی یہ سب کچھ ہے۔

     1 انٹرنیٹ کی اہمیت۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک بہت ہی معروف رجحان ہے۔ کالج میں ہر طالب علم طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ تاہم ، ان میں سے بیشتر کو انٹرنیٹ مقامات کی گہرائی کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے ، جیسے کہ یہ کتنا مفید ہے اور جب آپ اسے استعمال کریں گے۔ انٹرنیٹ نے مواصلات ، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں بھی بہت سی تبدیلیاں اور پیش رفت کی ہے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک استاد کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ طلباء انٹرنیٹ کو فوری استعمال کے لیے معلومات اور معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن کی انہیں پراجیکٹس ، اسائنمنٹس یا اپنے مضامین کے لیے ضرورت ہے۔ طالب علموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کے خلاف تنقیدوں اور بحثوں کے باوجود ، یہ اب بھی ان کی زندگیوں اور مجموعی طور پر تعلیمی دنیا میں ترقی اور ترقی میں معاون ہے۔

    اسے کسی وقفے یا وقت کی ضرورت نہیں ہے:

    انٹرنیٹ کی دنیا ہمیشہ متحرک رہتی ہے اور یہ کبھی وقفہ یا وقت نہیں لیتی۔ یہ حقیقت طالب علموں کو اپنی اسائنمنٹس ، ریسرچ پروجیکٹس اور کسی بھی وقت کام کرنے کے قابل بناتی ہے جو ان کے مطابق ہو۔ اس سے قطع نظر کہ اگر آپ مدد یا پڑھنے کے لیے کوئی رپورٹ ڈھونڈ رہے ہیں ، آپ اسے گوگل کے ذریعے انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے تلاش کر سکتے ہیں۔۔

    2- ذہنی مہارت کی ترقی:

    طالب علموں کے لیے دماغی ورزشیں اس کے جسمانی مواد تک محدود ہیں۔ وہ بچہ جس کے گھر میں کئی مختلف انٹیلی جنس گیمز یا مشقیں ہوتی ہیں اسے ایک ہی ورزش بار بار کرنا پڑتی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اور بھی بہت سے مواقع ہیں۔ ان بچوں کے لیے میموری گیمز جو اپنی یادداشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے توجہ کھیل جو اپنی حراستی اور توجہ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے بصری کھیل جو اپنی بصری بینائی اور مہارت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور بہت کچھ آج تک آپ کی انگلی پر ہیں۔ لہذا ، ٹیکنالوجی ان بچوں کے لیے کارآمد ہے جو اپنے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ کو کار یا موٹر سائیکل کی دوڑ کھیلنے کے بجائے دماغی کھیل کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک اہم خلفشار بھی بن سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس آسانی سے اور جلدی سے بچوں کو ان کے سکول کے کام سے ہٹا سکتی ہیں ، ان کا قیمتی وقت ضائع کر کے انہیں اپنی پڑھائی کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ، انٹرنیٹ نے دنیا بھر کے طلباء کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ثابت کیا ہے۔ لیکن ان طالب علموں کو اس بات کی نشاندہی کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے فوائد اور نقصانات ہیں جب کہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت صرف مذکورہ بالا فوائد تک محدود نہیں ہے۔ تاہم ، والدین کو یہ یقینی بنانے کے لیے چوکس رہنا ہوگا کہ ان کے بچے انٹرنیٹ کا استعمال علم اور کیریئر کی ترقی کے لیے کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں ، طالب علم تفریحی مقاصد کے لیے اس کا غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ، سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا۔ انٹرنیٹ طلباء کے لیے تعلیم کے تمام پہلوؤں میں اہم ہے۔ یہ طالب علموں کے لیے ایک استاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیمی حرکیات اور اس کے انجام دینے اور کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اسائنمنٹس انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اداروں میں آن لائن لائبریریوں سے بھی ممکن ہے۔ لہذا ، بچوں کے نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے ، ہمیں صنعتی مشینوں ، طبی آلات یا جنگی مواد کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، 

    @Z_Kubdani

  • یوم دفاع: عزت وعزم کی داستان   تحریر: محمد اختر

    یوم دفاع: عزت وعزم کی داستان تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام! اکثر ہم ایک آزاد ملک کے شہری کے طور پر اپنی آزادی کو قبول کرتے ہیں اور ہمارے شہر اور پاکستان کے دیگر مقامات کے پرامن ماحول جہاں ہم جاتے ہیں،اس آزادی اور امن کا صحرا ان  فوجی اور سیکورٹی ایجنسیوں کے بہادر ثپوتوں کو جاتاہے جو ہمارے ملک کوغیر ملکی اور دیگر قسم کے ملکی خطرات سے بچانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ان کا کردار سویلین حکومت کی رہنمائی میں ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے کام کرناہوتا ہے۔ اور یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران اگر ضروری ہو تو بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔ہماری بہادر افواج کی طرف سے فراہم کردہ دفاعی خدمات کی شراکت کو ہمارے ملک میں قومی یوم دفاع کے سالانہ جشن کے طور پر نشان زد کیا جاتا ہے۔یوم دفاع، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، اس دن کی یاد مناتا ہے جب ہماری قومی مسلح افواج نے 1965 کی جنگ میں ہمارے ملک پر بھارتی افواج کے حملے کا کامیابی سے دفاع کیا۔ یہ دن ہماری مسلح افواج اور جنگ کے تمام شہداء کو خراج تحسین ہے۔ یہ ہر سال 6 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔1965جنگ میں پاکستانی مسلح افواج کی قربانیوں کی یاد میں ہر سال یوم دفاع منایا جاتا ہے۔دشمن نے 6 ستمبر 1965 کو ہماری سرحدوں پر حملہ کیا۔ یہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کا رد عمل تھا۔انہوں نے بنیادی طور پر لاہور، سیالکوٹ اور سندھ کے ریگستانی علاقوں پر حملہ کیا۔ یہ لڑائی 22 ستمبر 1965 تک جاری رہی، جب دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام جنگ بندی کو قبول کر لیا۔ہماری فوج نہ صرف ان علاقوں کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی بلکہ ہزاروں شہریوں کی جانوں اور ان کے گھروں کی حفاظت میں بھی کامیاب رہی۔اس طرح، ہم اپنے ملک کے تمام فوجی جوانوں کی عزت اور احترام کرنے کا فرض ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تاکہ ہم، ہمارے رشتہ دار اور ہم وطن پرامن رہ سکیں۔یہ احترام اور اعزاز ان تمام فوجی جوانوں کے لیے بھی ہونا چاہیے جوآج بھی حقیقی معنی میں سر زمین سے کئے گئے عہد کو وفا کر رہے ہیں۔ہمارے بہت سے شہید قومی ہیروز کو ان کی بہادری پر انعامات سے نوازا گیا۔ نشان حیدر کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز میجر راجہ عزیز بھٹی کو 1965 میں لاہور بیدیاں علاقے کے دفاع میں غیر معمولی کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔وہ مٹھی بھر دوسرے بہادر اور بہادر فوجی جوانوں میں شامل ہیں جو شہید ہوئے اور دوسری لڑائیوں اور جنگوں میں اسی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ انہوں نے پاکستان کے دفاع میں اپنی جانوں کی حتمی قربانی دی۔یوم دفاع بھی اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم ایک مضبوط، قابل فخر قوم ہیں، اور یہ کہ ہم کسی بھی غیر ملکی قوم سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ یہ پاکستان کی عظیم قوم کی لڑائی کے جذبے، بہادری اور حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اور یوم دفاع وہ دن منانے اور یاد رکھنے کا دن ہے تاکہ ہم مضبوط ہوں اور ملک کے نوجوانوں اور بچوں کو صحیح پیغام دیں۔ملک بھر میں یوم دفاع کے موقع پر فوجی پریڈ اور تقریبات کا ایک سلسلہ منعقد کیا جاتا ہے، مگر اس سال کرونا وبا کی وجہ سے روایتی تقریبات محدود کر دی گئی ہے۔ تازہ ترین ٹیکنالوجیز اور عسکری جنگ میں پیش رفت بھی فوجی پریڈ میں دکھائی جاتی ہے۔ بعض اوقات، نئے تیار شدہ ہتھیاروں کے ٹیسٹ لانچ بھی اس دن ہوتے ہیں۔ان تقریبات کا واضح مقصد اپنے ہیروز کو یاد رکھنا اور عسکری لحاظ سے اپنی طاقت کو ظاہر کرنا ہے۔ ہمارے ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا بھی اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ہم سب کو اپنی مضبوط افواج اور اپنے ملک کی سرحدوں اور سلامتی کی حفاظت میں ان کے آئینی کردار پر فخر ہونا چاہیے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ہمیں شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے، لیکن ہم غیر ملکی خطرات سے محفوظ ہیں جو دنیا بھر میں بہت سے لوگ ایشیا کی بہترین عسکری قوتوں میں شمار کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے ماضی کے جنگی ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں تو ہم ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں۔لیکن ہماری فوج نہ صرف جنگ کے دوران لڑائی میں مصروف ہوتی ہے، بلکہ امن کے وقت قوم کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہے۔ افواج اکثر آفات سے متاثرہ علاقوں میں انسانی سرگرمیاں بھی انجام دیتی ہیں اور سیلاب، زلزلے وغیرہ جیسے واقعات میں قومی امدادی خدمات فراہم کرتی ہیں۔مسلح افواج کے بہت سے ادارے جیسے ان کے سکول، کالج، ہسپتال وغیرہ جو فوج کے کنٹرول میں کام کرتے ہیں، عام شہریوں کو بھی قیمتی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ہمارے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا کوئی وقت نہیں۔ کسی بھی سکول یا کمیونٹی تقریب کا اہتمام کسی بھی وقت ان تمام مردوں اور عورتوں کے اعزاز کے لیے کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ہمارے ملک کے دفاع کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ان کی اہمیت اور کوششوں کے بارے میں بیداری سوشل میڈیا پر بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہماری بات چیت اور گفتگو میں فوج کی اہمیت اور آئینی کردار کا موضوع بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    @MAkhter_