حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی لڑائی بظاہر تو اک قتل پر ہی تھم گٸ تھی مگر درحقیقت وہ صرف شروعات تھی آدم کے بیٹوں کی تعداد بڑھی تو لڑاٸیاں جنگوں میں بدلتی چلی گٸیں اور وجوہات بھی بڑھتیں گٸیں۔
کہتے ہیں زر ۔زن اور زمین ہی انسانوں کے درمیان وجہ جنگ رہے ہیں تاریخ دیکھیں تو کسی حد تک وجہ درست معلوم ہوتی ہے۔ قدیم یونانی دیو مالائی داستانوں کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ۔۔جنگ ٹراۓ یا ٹراۓ کی جنگ ہے وجہ فساد زن یعنی شہزادی ہیلن تھی اس طرح زمین کی خاطر سکندراعظم مقدونیہ سے نکلا اور آدھی زمین تخت وتاراج کرگیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھا اور زر کیلیے لاکھوں میل دور آگۓ اور کٸ چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ہندوستان پر قبضہ کیا۔ مگر کیا جنگوں کی صرف یہ تین وجوہات ہی ہیں؟
نہیں اک پہلو مذہب بھی ہے ۔ اور تاریخ میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کو لے کر ہی ہوٸیں اور اب تک ہوتی چلی جارہیں ہیں ۔یہ جنگیں پہلے تو حقیقت میں کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے کی جاتیں تھیں ۔حق اور سچ کی فتح شیطانیت کا خاتمہ اور پوری دنیا پر اللہ کا حکم امن اوسلامتی کے راج کے نفاز کے لیے تھیں مگر رفتہ رفتہ ماضی کی جنگوں کی طرح یہ بھی بس اک وجہ بن کے رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ ممالک تو چھوڑ مذہب کے اندر بھی اپنا اپنا گروہ بنا کر فرقوں کے نام دے کر لڑتے ہیں گویا ہابیل اور قابیل کے محض نام ہی بدلے ہیں۔
درحقیقت اقتدار کی خواہش اور طاقت کا حصول ہی جنگ کی اصل وجہ ہوتا ہے اپنی بات اور اپنے آپ کو صحیح منوانا اور دوسرے کو مطیع کرنا یہی ہابیل قابیل کے درمیان لڑاٸ کی اصل وجہ تھی اور یہی آج تک کی ہر جنگ کی وجہ ہے۔
اسلحے اور ٹیکنالوجی کی نت نٸ خوفناک ایجادات کے بعد اب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کی اک نٸ قسم سامنے آٸ ہے ففتھ جنریشن وار ۔۔محض افواہیں اڑاٸیں اور جھوٹ اتنی شدت سے پھیلا دیں کہ سچ لگنے لگے اس کا مقصد کسی ملک کی عوام کو تقسیم کرنا اور اتنی نفرتیں پھیلا دینا ہے کہ جب اتحاد درکار ہو وہ اک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوں۔ فرقہ واریت لسانیت اور صوباٸیت کا فروغ اس کے اہم اہداف ہوتے ہیں اور اداروں کے مابین نفرت پھیلانا بھی اس جنگ کا مقصد گویا ملک کے جڑیں اتنی کھوکھلی کر دی جاٸیں کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ گرانے کے لیے اک ہلکا سا دھکا ہی کافی رہے شام لیبیا اور عراق اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔
جنگیں لڑنے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ملک دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور اگر زرا بھی دھیان دیں تو دفاعی بجٹ بذات خود بہت سی جنگوں اور بغاوتوں کو جنم دیتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کی حامل سوکالڈ سوپر پاورز کے سالانہ بجٹ کا اور خراجات کا تقابل کریں تو انسان ورط حیرت میں گم ہوجاتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔
امریکہ یا چاٸنہ کا دفاعی بجٹ ہی دیکھ لیجیے کیا اس میں لاکھوں کی آرمی کی تنخواہیں یونیفارمز کھانا پینا رہاٸش پینشنز دفاعی آلات کی خریداری مشینری کی مرمت پیٹرول اور ٹریننگ کے اخراجات ہی پورے ہوجاٸیں تو بہت ہے جبکہ اک جنگی بحری بیڑا مع الات خریدیں تو سالانہ بجٹ بہت کم پڑ جاۓ تو یہ سارے باقی اخراجات کیا پورا سال روکے رکھے جاتے ہیں؟ ابدوزیں لیزر گنز حساس سینسرز کے لیس جوتے ہیلمٹ اور لباس کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں ہوتی ہے پھر یہ اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں ؟
تو چلیے دیکھتے ہیں کچھ ہوشربا انکشافات جن سے اندازہ ہو کہ سپر پاورز اپنے اخراجات کیسے پورے کرتیں ہیں۔ دنیا میں منشیات کی چالیس فیصد پیداوار برما یعنی میانمر میں ہوتی ہے یہیں تیار ہوتی یہیں سے سپلاٸ کی جاتی ہے۔دوسرا پیداواری مقام افغانستان ہے تیسرا میکسیکو اور پھر ٹیکساس۔ ان علاقوں میں کبھی امن نہیں ہوا عوام کی حالت خستہ ہے غربت اور خانہ جنگی نے عوام سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کے قدرتی وساٸل رکھنے والے ممالک کا ہے۔ وہی شام عراق ہو یا تنزانیہ ان کے خزانے سے سپر پاورز خوشحال اور وہ خود تباہ حال ۔افریقی ممالک کا تو جرم بالکل ناقابل معافی ہے کیونکہ ان کی زمین سونا اور ہیرے اگلتی ہے لہذا خانہ جنگی اور بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہرا دٸیے گۓ۔ اب منشیات کی سمگلنگ ہو یا سونا ہیروں اور پیٹرول کی لوٹ مار ان سب کے پیچھے آپ کو سپر پاورز کی ایجنسیز کا ہاتھ ملے گا اور اس ملک کی عوام کے ہاتھوں میں انہی سپر پاورز کا بنایا اسلحہ نظر أۓ گا۔ کسی بھی ملک میں کوٸ بھی قیمتی معدنیات ہوں یا اس کی جغرافیاٸ اہمیت ہووہاں جنگ یا بغاوت ضرور ہوگی اور اسلحہ سپر پاورز کا دکھتا ہے۔ یعنی اک پنتھ دو کاج۔ آپس میں لڑوا کر اسلحہ بیچ کر پیسے بناٶ اور ساتھ وہاں کے وساٸل بھی لوٹو۔ تو جناب یوں بناۓ جاتے ہیں بحری بیڑے جدید سیٹلاٸٹ اور ابدوزوں کے ذخیرے۔
اب ایسے میں کسی ملک کی ارمی حلال طریقے سے بیکریز سیمنٹ اور ہاٶسنگ سوساٸیٹیز بنا کر بجٹ کی کمی پورا کرنا چاہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ پورے پورے ملک تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک کر انسانیت کے علمبردار بن جانا اور پھر سپر پاور کہلانا کیوں؟
مذہب کے لیے لڑنے والوں میں نوے فیصد لوگوں کی اپنی زندگی اسی مذہب کے أصولوں کے خلاف ہوتی ہے جس کی خاطر وہ دوسرے کی جان تک لے لیتا ہے۔ تو کیا وجہ مذہب ہے؟ یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا اپنی بات منوانا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا؟
آج یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے ہندو کالکی کے اوتار کے انتظار میں ہیں عیساٸ حضرت عیسی کے منتظر مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں مگر کیوں؟
کیا یہ سب اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے دین ومذہب کے عین مطابق گزار رہے ہیں ؟ یا گزارنے کو تیار ہیں؟ ہرگز نہیں یہ بس اس وعدے کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں کہ ان کا نجات دہندہ اۓ گا اور پھر اس کے ساتھ مل کر وہ باقی سب کا خاتمہ کرکے پوری دنیا پر راج کریں گے۔ مطلب خواہش وہی ہابیل وقابیل والی ہے اپنا آپ درست منوانا اور دوسرے کو زیر کرنا۔ مگر انسان اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے خالق کی زمین پر جتنا بھی کشت وخون بہا لے ہوگا وہی جو خالق چاہے گا رسی درزا ضرور ہو گی مگر کھینچی بھی اتنے زور سے جاتی ہے کہ سپر پاورز منہ کے بل آگرتیں ہیں۔ اپنی انا کی تسکین اور غرور کی خاطر چاہے ساری نسل انسانی کا خاتمہ کردے کوٸ الله أكبر کی گونج برقرار رہے گی۔ ان شاء اللہ
رہے نام اللہ کا۔
@AmanHarris
Category: ادب و مزاح

جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟ تحریر۔ آمنہ امان

وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس
20 سال قبل جب امریکہ طاقت میں بدمست نے افغانستان پر حملہ کیا تو مرد قلندر نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس کا فوجی حل نہیں اس بات پر ساری دنیا نے اس کا مذاق اڑایا اسکو مختلف ناموں سے پکارا طالبان خان وغیرہ وغیرہ !
اس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشرف کو خبردار کیا کہ اس جنگ میں حصہ مت لو یاد نہیں جب 1935 میں انگریزوں نے پورے ہندوستان سے قبائیلی اضلاع اور افغانستان سائیڈ میں ڈپلائے کی ۔۔ یہ بندوق کی لڑائی ہرگز نہیں۔تاہم پارلیمنٹ میں اس کا ٹھٹہ اڑا اور کوئی اس کے حق میں نہیں بولا !
اس نے زداری دور میں ڈرون اٹیکس کے خلاف لانگ مارچ کیا کہ اس کو بند کروا دو تو سب نے اسکا مذاق اڑایا کہ امریکہ کو کون منع کرسکتا ہیں یہ سب تو امریکہ کے ہاتھ میں ہیں (کیونکہ انہوں نے جو بوری بھر کر ڈالر لیے تھے اب اپنے آقا خوش کرنا تھا) معصوم لوگ مارے گئے قبائیلی علاقوں میں (وزیرستان) معصوم لوگوں کے گھر 🏠 اجڑ گئے لوگوں بے گھر کردیا تھا!
مشرف سے لیکر گیلانی تک زرداری سے لیکر نواز تک سب کو سمجھایا کہ ہم امریکہ کی غلامی نہیں بلکہ برابری چاہتے ہیں اس پر سب ہنسے کہ امریکہ کے ساتھ برابری کیسے ممکن ہیں کیونکہ یہ سب تو پیسوں کے پجاری تھے (چند ٹکڑوں پر بھیکنے والے لیڈرز ہیں) ان سب کو پیسے عزیز تھے !
پھر دنیا نے دیکھا اس نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سپر پاور کی نیٹو سپلائی روکر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اس نے قوم کو سبق دیا کہ زمینی خداؤں سے الجھنا اتنا مشکل نہیں جتنا غلامی کے زنجیروں سے جکڑا ہوا سوچ رہے ہیں اور اگست 2018 میں آخری ڈرون گرا کر آج تک اس کی حکومت میں سپر پاور نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی اس نے ایبسلیوٹلی ناٹ (Absolutely Not) کہا اور سپر پاور کو اس کی اوقات دکھا کر برابری کے باتوں کو سچ ثابت کردیا بیس سال بعد بھی افغانستان میں اس کی پیشنگوئی سچ ثابت ہورہی ہیں کل دنیا نے دیکھا افغانستان کا اعلی سطحی وفد سب سے پہلے اسے ملنے پہنچا کل تک پاکستان کو اپنے جوتے کے دھول سمجھنے والوں کو اپنے فیصلے سے قائل کرکے پاکستان کے برابر ہونے کا ثبوت دیا کل تک دنیا میں تنہاء ہونے والے پاکستان کے فیصلوں کا آج ساری دنیا منتظر رہتی ہیں !
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کی وزیراعظم عمران خان کو کال
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کی عمران خان کو کال
جرمن وزیراعظم اینگلا مرکل وزیراعظم خان کو کال کریں گی۔
ترک وزیر اعظم کی وزیر اعظم خان کو کالکیا یہ وہی پاکستان نہیں ہے جو پچھلی حکومتوں میں دنیا میں تنہا ہو گیا تھا۔۔۔
جی ہاں میں بات ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کا کررہا ہوں جنہوں نے دنیا کے سامنے پاکستان کا شان و شوکت بڑھایا!
ماضی میں پاگل /طالبان خان / کرکٹر / جزباتی خان / یہودی ایجنٹ کہلانے والے کی فیصلوں سے آج پوری دنیا اس کی دیوانی ہوچکی ہیںایک ملک میں ویسے تو لاکھوں کڑوروں لوگ رہتے ہیں اور سب ہی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔ بہت سے اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں ۔ لیکن کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسانیت ہی کے لیے جیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں پاکستان کی سرزمین پر عمران خان جیسے عظیم انسان نے جنم لیا جس نے زندگی کا آغاز ایک عام سے کرکت کھلاری سے کیا لیکن آخر پاکستان کو وہ دے گیا جو نا پہلے اور نا ہی اس کے بعد آج تک کوئی پاکستانی دے سکا ، وہ تھا کرکٹ ورلڈ کپ 1992. اس ورلڈ کپ کو جیتنا شائد عمران خان کے ایک خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم تھا ۔عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب دیکھا جب اس نے اپنی والدہ محترمہ کو کینسر کہ مرض میں مبتلا ہوتے دیکھا اور پھر اسی مرض کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارتے دیکھا ۔ جو درد عمران نے محسوس کیا اپنی ماں کے لیے جب وہ کینسر جیسے مرض سے لڑ رہی تھی اسی درد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں کینسر کا مکمل اور غریب کے لیے بغیر کسی پیسے کے علاج مہیا کر دیا ۔ آج لاکھوں اس ملک کے غریب اور بے سہارا لوگوں کا مسیحا ہے عمران خان ۔
یہی جب عمران نے دیکھا کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم کا حصول کتنا مشکل ہے تو میانوالی کے لوگوں کو بڑیدفورڈ کی ڈگری بغیر پیسوں کے اسکالرشپ پر مفت تعلیم مہیا کر دی . عمران کی زندگی انسانیت سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی انسانیت پر ہوتی ہے نہیں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو احساس پروگرام جیسے کام شروع کیے جس سے غریب آدمی کو 2 وقت کا کھانا مل رہا ہے رہنے کے لیے چھٹ مل رہی ہے ۔غریب لوگوں کو کاروبار کے مواقع مل رھے ہیں ۔ ہمیشہ سے عام آدمی کا درد عمران خان نے دل میں محسوس کیا ہے ۔ ایسے اللہ والے لوگ جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ اس عظیم انسان کی زندگی ایسی بہت سے مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ہمیشہ اسے یاد رکھا جاۓ گا ۔ داستانیں اور بھی ہیں اس عظیم وطن کے بیٹے کی جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ سب کو انسانوں کی خدمت ، مدد اور انکا احساس کرنے کی توفیق دے ۔ اللہ آمین
پاکستان ذندہ باد
عمران خان پائندہ باد
@ZaiNi_Khan_NAK
سیگریٹ نوشی روح کا کینسر تحریر : فرزانہ شریف
مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی خوشبو اچھی نہیں لگتی تھی عجیب سی دم گھٹتی سی سانس روکتی ہوئی سی ۔ناخوشگوار سی۔۔پھر جوں جوں بڑی ہوتی گی اس کے بارے میں جاننا شروع کیا تو خوفناک انکشاف ہوتا گیا کہ کس قدر یہ جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو سلو سلو انداز سے اندر سے کاٹنا نوچنا شروع کردیتا ہے اور سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا اپنی نسلوں میں بھی یہ زیر بانٹ رہا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کرنے والا سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس نقصان سے بچے ہوئے ہیں تو وہ بچے ہوئے نہیں ہوتے چھوٹے بچوں سے لیکر اس کی بیوی بہین بھائی ۔ والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر۔۔یہ نشے کی پہلی سیڑھی ہے یہاں سے ہی انسان کی تبائی کی بنیاد پڑتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے لا شعوری میں کہ نسوار گھٹکا سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کوئی منزل نہیں رہتی میں نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا گھر باربیچتے ہوئے دیکھا زلیل رسوا ہوتے دیکھا نہ صرف اس نشئی کو بلکہ اس کی فیملی کو نا حق زلیل ہوتے دیکھا صرف ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے میں سوچتی ہوں گورنمنٹ اس زہر سے اپنی عوام کو کیوں نہیں بچا رہی کیوں ایسے سخت اقدامات نہیں کررہی کہ اس زیر سے ہم کم سے کم اپنی آنے والی نسلوں کو بچا سکیں ۔۔
سگریٹ نوشی کرنے والا انسان اپنے پیسے کو اپنی صحت کو اس نشے میں جھونک رہا ہوتا ہے ایک سگریٹ پینے والا بندہ صرف اتنا حساب لگا لے ایک سال میں اس نے کتنے لاکھ روپے اس سگریٹ میں جھونک دیے اور بدلے میں کیا حاصل کیا اپنے پھیپڑے ختم کروا دیے جس کے بنا انسان سانس بھی نہیں لے سکتا اور آخر ایک دن اس کی ذندگی ختم ہوجاتی ہے اس نشے سے ۔۔
بقول شاعر کے ۔۔زندگی کے رستے کیسے ہیں یہاں .ہر جوان رُوح کو گھُن لگا ہوا ہے اور کچھ لوگ اپنی وقتی ٹینشن کو دور کرنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لےکر ایک ہی نشست میں آدھی ڈبی سگریٹ نوش کرجاتے ہیں یہ جانے بنا کہ یہ سگریٹ اپ کی ٹینشن دور نہیں کررہے بلکہ آپکو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے جارہے ہوتے ہیں آپ کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں اور یہ سگریٹ نوش انسان کی خود غرضی ہی تو ہے کہ اپنے پیاروں کو ازلی جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں موت کو گلے لگاجاتے ہیں۔۔!!
صرف پاکستان کی گورنمنٹ ہی نہیں بلکہ یورپین ممالک بھی سگریٹ کی ڈبی پر سگریٹ نوشی کےخوفناک انجام کی پیکچر لگا کر بس اپنا فرض پورا کردیتے ہیں عوام کو یہ آگاہی نہیں دیتے کہ معاشرے میں یہ کینسر پھیل رہا ہے لوگ اس سے نفسیاتی اور ذہنی طور پر بھی متاثر ہورہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے آج تک کوئی مہم نہیں چلائی گی کہ لوگوں کو اس کے نقصانات کی آگاہی ہو پہلی دفعہ باغی ٹی وی اور جناب ممتاز صاحب اور ان کے دیگر ساتھیوں نےاس پر آواز اٹھائی ہے اب ہر پاکستانی کو چاہئیےان کی آواز میں شامل ہوکر ان کی آواز کو اور مضبوط بنانا ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل اس زہر سے بچ سکے۔۔۔۔
وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے کھانے پینے کی عام چیزیں سستی کردیں اور اس کے بدلے میں سگریٹ اتنے مہنگے کر دے کہ عام آدمی کی پہنچ سے ایسے ہی دور ہوجائیں جیسے نون لیگ کی حکومت میں غریب مظلوم کو انصاف ملنا مشکل بلکہ ناممکن تھا ۔۔
اللہ باغی ٹی وی اور اس کے عملے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں حق سچ کی آواز مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر صاحب اور ان کا تمام سٹاف ۔۔۔
حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف
شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔
جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
"مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔
کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔
اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)
اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔
@SeharSulehri

اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ
میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔@Azizsiddiqui100
ہماری قومی زبان اردو ہماری پہچان ،صائمہ رحمان
زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نا صرف اس کی شناخت ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی قومی زبان پر منحصر ہے ہوتی ہے امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے وہ اس لئے انھوں نے اپنی اپنی زبانوں کو بہت فوقیت دی اور قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان زبان کے طور پر فروغ دیا۔ دوسری طرف ایک عظیم مثال ہمارے چینی بھائیوں نے قائم کی انھوں نے اپنی چینی زبان کو فروغ دیا۔
خود دار اور با وقار ملک ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کی قدر کرتی ہیںجو ان کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں قدر اور فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی زبان کی اہمپت اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بیرون ملک میں جا کر اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کو فوقیت دی جانا مجوری بن جاتی ہے اردو زبان واحد زبان ہے جس میں تازگی اپنا پن محسوس ہوتا ہے اردو زبان بول کر ہم باآسانی اپنی بات اپنے پیغام کو پہنچا سکتے ہیں جواثر بھی کرتی ہے دنیا میں جن قوموں نے ترقی کے مراحل تیزی سے طے کئے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی ثقافت اوراپنی قومی زبان کو اہمیت دی ہے زبان کسی بھی ملک شناخت ہوتی ہے۔
اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان اور دوسری زبانیں بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہےباقی زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔ انگریزی زبان کوبین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت اپنی ہی جگہ ہے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
قومی زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان پر برطانوی راج کے دور میں شمالی ہندوستان میں اردو رابطے کی سب سے موثر زبان کے طور پر تسلیم کی گئی تھی اور یوں سرکاری طور پر اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔
1837 میں اردو کو انگریزی کے ساتھ سرکاری درجہ حاصل ہوا۔ یہ زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی موثر ترین پل کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس موقع تک ہندوستانی زبان نستعلیق رسم الخط ہی میں لکھی جا رہی تھی اور اس وقت اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں آریا سمائی احتجاج شروع ہوا، ہندوستانی کے لیے مقامی دیوناگری رسم الخط پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ہندوستانی زبان کو دو الگ الگ رسم الخط میں لکھا جانے لگا اور یہیں سے اردو اور ہندی کی راہیں جدا ہوئیں۔
اس دور میں اردو بولنے والے معاشرے کے سامنے ایک بہت ہی اہم مسئلہ اپنی زبان ، اپنی ثفاقت اور تشخص کا تحفظ کا ہے زبان کا لکھنا پڑھنا اور اس کی نظم ونثر کا تعارف ، حساب، ماحول کی سمجھ اور مل جل کر رہنے کی صلاحیت شامل ہے پرائمری تعلیم کے بنیادی مقاصد میں زبان اور کلچر کا تحفظ اور آگے منتقلی ہے اردو زبان کے سکھنے کے لئے پانچ سال بہت ہوتے ہیں ۔ اسے اورمنظم مربوط اور موثر بنائیں اس کی جدید کاری پر توجہ دی جائےemail : saima.arynews@gmail.com
Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق
دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟
دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔@_aqsasiddique

پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط
۱۴ اگست ، اُس پاکستان کی آزادی کا دن جسے اسلام کے نام پہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا لیکن بد قسمتی سے اس وطن کی آزادی کے جشن کے نام پہ جو تماشہ ملک بھر میں ہر سال لگایا جاتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی.
کل بادشاہی مسجد کا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جس میں پاک سرزمین کی بیٹیاں مسجد کے احاطے میں کھلے سر اور تنگ لباس میں موجود فوٹوشوٹ میں مصروف دیکھائی دیں جبکہ دوسری طرف اسی بادشاہی مسجد میں غیر ملکی سیاحوں کا کافی بڑا گروہ ( جس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی) سر پہ دوپٹہ اوڑھے مسجد کے تقدس کا پورا پورا خیال رکھ رہا تھا۔ غیر مسلموں کا مسجد کیلئے احترام اور مسلمان عورتوں کی مسجد میں بےحیائی دیکھ کر شرم سے نظریں جھک گئیں۔پاکستان کی آزادی کا جشن منانے کا آخر یہ کون سا طریقہ ہے کہ سبز اور سفید لباس زیب تن کر کے فوٹوشوٹ کروا کے اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا اور غیر مردوں سے واہ واہ وصول کرنا ۔ ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں یاد رہتا کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیئے خاندان کے خاندان شہید ہوئے ہیں ان بچیوں کو ان کے بڑے کیوں نہیں بتاتے کہ عزّت اتنی قیمتی شۓ ہے کہ تقسیمِ ہند کے موقعے پہ جوان بیٹیوں نے اپنی آبرو بچانے کی خاطر کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی عزت کو پامال ہونے سے بچایا تھا اور آج ان قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے نام پہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے ہماری نظروں کے سامنے ہے۔
حال ہی میں ہوئے سانحہ مینار پاکستان کے بارے میں بات کی جائے تو اپنے اجداد سے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ جگہ جہاں اسلام کے نام پہ ایک علیحدہ ملک بنانے کی قرارداد پیش کی گئی وہ ملک جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش میں لاکھوں لوگوں نے خاندان کے خاندان گنوائے اس جگہ اتنی بےحیائی کا مظاہرہ کیا گیا ۔میں اس معاملے کی شدید مذمت کرتی ہوں جو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا وہ خاتون مکمل لباس میں تھیں تو پھر کیوں ۴۰۰ درندوں نے اس خاتون کا لباس تار تار کیا ؟ بہت غلط کیا ،نوچ کھسوٹ کی، گناہ کیا۔ اس خاتون کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں لیکن کچھ سوالات ذہن میں سر اُٹھا رہے ہیں ؛ خاتون کا پچھلا ٹریک ریکاڈ کہیں سے بھی مہذب نہیں دیکھائی دیتا ، لباس کے انتخاب سے لیکر ان کی ویڈیوز کے مواد ( کانٹینٹ) تک میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کے قابل ستائش ہو ، ہاں قابلِ شرم کافی زیادہ کچھ ہے ۔ میڈم کا کانٹینٹ جس نچلی سطح کا ہے اسی لحاظ سے پست ذہنیت والے اس کانٹینٹ کے شیدائی ان کے فالورز بھی ہیں جو ایسا مواد دیکھنا اورسراہنا پسند کرتے ہیں ۔ اب میڈم نے جب ان کو کھلے عام ملنے کیلئے دعوت عام دی تو کیسے انکے مداح اپنی اسٹار کو دیکھنے حاضر نہ ہوتے ؟
جب آپ خود اپنی فکر کیے بغیر ، ایک پبلک پلیس پہ دعوت دے کر غیر محرموں سے ملنے کیلئے ، غیر محرم کے ہی ساتھ تشریف لائیں گی تو آپکی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟ وہ گندی ذہنیت والے مداح جو آپکی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں یا پھروہ برائے نام دوست یا منگیتر جو بھرے مجمعے میں آپ کو ڈھکنے کے بجائے موقع پہ چوکہ لگاتا دیکھائی دیا گیا ہے ۔ اگر اس منگیتر صاحب کی جگہ آپ کسی محرم کے ساتھ ہوتیں تو میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں وہ آپ کی عزت پہ آنچ نہ آنے دیتا ۔اب تھوڑے حقائق جو منظر عام پہ آئے ہیں انکی بات کی جائے تو پارک کے گارڈ کا بیان سامنے ہے ، محترمہ کا اگلے دن کا انسٹاگرام پوسٹ جس میں وہ خوش باش دیکھائی دے رہی ہیں ، انکے بقول ان کے جسم پہ کہاں کہاں زخم ہیں وہ دیکھا بھی نہیں سکتیں لیکن چہرہ ، ہاتھ، پاؤں سب بےداغ ہیں ، محترمہ کا انٹرویو کسی اور کے گھر میں ہوا، جس کو اپنا گھر اور والدین کہا وہ پہجاننے سے انکاری ہیں ، انکے ٹک ٹاک پیغامات میں دیکھائی دیتا ان کا اطمینان اور اس سب سے بڑھ کے اب محترمہ کا پولیس سے تحقیقات روکنے کا مطالبہ مجھے آزردگی میں مبتلا کر گیا ہے۔
بہت اچھی بات ہے کہ حکومت نے نوٹس لیا ، تحقیقات کروائی جا رہی ہیں اور ان درندوں کو سزا بھی ضرور ملے گی لیکن مجھے اس بات کا جواب چاہئیے کہ اگر یہ سب پہلے سے طے شدہ پبلسٹی اسٹنٹ ہوا تو کیا اس خاتون بمع ان کے منگیتر اور وہ تمام حضرات (جو ملک پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ، ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں ) سے کوئی ہرجانہ مانگا جائے گا؟؟ ان ۴۰۰ لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہوگی ؟ کیونکہ ان کے ایک فالتو اور فضول کے میٹ اپ پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر جس درجے کا نقصان پہنچا ہے ان لوگوں کی سات نسلیں بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں ۔ سستی شہرت کی بھوکی خاتون اور اسکے حامی و مددگار افراد نے پاکستان میں آنے والے ٹورسٹ کے دلوں میں اس قدر خوف و ہراس بھر دیا ہے کہ غیر ملکی جو پاکستان کو محفوظ تصور کرکے یہاں سیاحت کی غرض سے آنے لگے تھے ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھے ان کی روزی روٹی پہ لات مارنے کے جرم کی کیا سزا ہوگی؟ ہزاروں خاندانوں کو بےروزگار کرنے پہ کیا یہ حکومت ان میڈیا ہاؤسز سے کوئی سوال کرے گی جن کے واویلے نے دنیا میں پاکستان کو ایک مشکوک ملک بنا دیا ہے ؟؟
میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کے اس واقعے کی تحقیقات مکمل کروائی جائیں ہر ایک کو جو ذمہ دار ہے ان ۴۰۰ لوگوں سمیت سزا دی جائے کہ کسی اور کی آئندہ پاکستان پہ کیچڑ اچھالنے کی ہمت نہ ہو ساتھ ہی میں یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ پاکستان کو مکمل ریاست مدینہ نہ بھی بنا سکیں تو کم از کم اس واہیات ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں مکمل طور پہ بین کیا جائے ساتھ ہی ان ٹک ٹاکرز کے اکاؤنٹ اگر کسی بھی ڈیوائس سے لاگ ان ہوں تو ان ڈیوائس کو بھی بلاک کیا جائے ۔ اسکرین پہ صرف مکمل سطر پوشی کے ساتھ آنے کی اجازت ہو کیونکہ اصل فساد کی جڑ بےحیائی ہے۔ اسلام نے عورت کو بہت تحفظ فراہم کیا ہے چاہے وہ معاشرے میں ہو یا جائیداد میں لیکن آج کی خواتین کو جائیدار میں حصہ والا اسلام تو یاد رہتا ہے لیکن پردے کے حکم پہ میرا جسم میری مرضی کا قانون لاگو کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں انہیں کوئی بتائے کے اللّٰہ جسے عزت بخشتا ہے اسی کو ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے خانہ کعبہ کے کسوہ کی تبدیلی کا طریقہ کار اس کی واضح مثال ہے ،قرآن مجید کا غلاف قرآن اس عزت کی واضح تعریف ہے تو جب اسی اللّٰہ نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت دی آپکو آخر یہ عزت کیوں راس نہیں آرہی ؟ جب آپ سلیو لیس ، ٹاپ لیس ، بیک لیس پہن کے عوام کو اپنا جسم دیکھانے کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہیں تو پھر ستائش بھری اٹھتی نظروں کے ساتھ بڑھتے ہاتھوں کے لیئے بھی تیار رہیے ۔
نہ بھولیں کہ آپ جس ملک میں رہتی ہیں اسکا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یہ کوئی سیکیولر ریاست نہیں اگر آپ میں اسلام کے خلاف زیادہ جراثیم پنپ رہے ہیں تو کسی ایسی ریاست تشریف لے جائیں جہاں آپکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پر برائے مہربانی جس تھالی میں کھائیں اسی میں چھید کرنے سے گریز کریں۔ شکریہ
Twitter handle : @HaayaSays

سیاحت اور پاکستان تحریر : نعمان سرور
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو خوبصورت ترین ہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو ہر طرح کے موسم اور علاقوں سے نوازا ہے،
اسی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کی کئی بڑی ویب سائٹس نے پاکستان کو سیاحت کے حوالے سے اگلا بڑا ملک قرار دیا ہے،پاکستان میں ہر طرح کے علاقے پائے جاتے ہیں صحرا ہوں، سمندر ہو،دنیا کی بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیاں ہوں اللہ تعالی نے ہمارے ملک کو سب کچھ عطا کیا۔
پاکستان مذہبی سیاحت کا بھی مرکز بن چکا ہے جس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے سکھ مذہب کے کئی اہم مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن میں سے ایک پر وزیراعظم عمران خان نے ایک سیاحتی اور مذہبی ہم آہنگی کا کاریڈور بنایا جسے کارتارپور کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی سے جانا گیا۔
ہندو مذہب کی بات کی جائے تو چکوال میں کٹاس راج ہندو مذہب کے ماننے والے لوگوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
بدھ مت کی بات کی جائے تو ٹیکسلہ کے آثار قدیمہ یہاں پر موجود ہیں،جو ڈھائی ہزار سال قبل کی تاریخ اپنے اندر سموئے بیٹھے ہیں کہا جاتا ہے کے مہابھارتہ کی نظم بھی سب سے پہلے اس علاقے میں پڑھی گئی تھی، یہ علاقہ ہندو اور بدھ مذہب دونوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔
دین اسلام کی بات کی جائے تو ہمارے ملک میں کئی صوفی بزرگوں کے مزارات ہیں جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سی ایسے مقامات ہیں جہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں۔
پاکستان میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن کو دنیا کے آثار قدیمہ کا درجہ حاصل ہے اور کئی ایسے مقامات ہیں جو جلد اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔
اگر پہاڑوں، قدرتی چشموں اور برف کے کھیلوں کی بات کی جائے تو دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کے پاکستان میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دنیا بھر کی سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے اور ہم اس شعبہ سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک کی معشیت سیاحت پر چل رہی ہے امریکہ سیاحت سے 177 بلین ڈالر سالانہ کماتا ہے سپین 65 بلین ڈالر کماتا ہے تھائی لینڈ ہم سے 55 گنا چھوٹا ملک ہے 55 ارب ڈالر سیاحت سے کماتا ہے ترکی 20 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ ہم صرف 796 ملین ڈالر کما رہے ہیں اب حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کے 2025 تک ہم اس شعبہ میں اتنی اصلاحات کریں گے اور انفراسٹرکچر پر کام کریں گے کہ اس کو 6 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے جو انتہائی ضروری ہے۔
سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہ راست لوگوں کا معیار زندگی بلند کر دیتا ہے اور اس سے کوئی بھی ملک باآسانی اپنے لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرسکتا ہے۔
ہمارے ملک پاکستان میں قدرتی حسن کی کوئی کمی نہیں ہے ضرورت اصلاحات کی اور اقدامات کی ہے جن کو کرنے سے ہم اس شعبے کو مزید ترقی دے سکتے ہیں، جن میں کافی چیزیں ہونے والی ہیں سب سے پہلی چیز ہمارے قدرتی اور اہمیت کے حامل مقامات جو سیاحوں کو پاکستان لا سکتے ہیں ان کی دنیا بھر میں پرموشن ہے وہ سوشل میڈیا ہو یا دیگر ذرائع ابلاغ ان سب کے استعمال سے یہ ہوسکتا ہے دنیا بھر کی ائر لائنز میں چلنے والی وڈیوز ان کے ممالک کی سیاحت کے حوالے سے ہوتی ہیں ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ویب سائٹس بنا سکتے ہیں جن پر مکمل گائیڈ لائینز بھی موجود ہوں اور تمام گائیڈ لائنز ہر زبان میں دستیاب ہوں، اس میں ہر سہولت آ جاتی ہے ہوٹل کی بوکنگ، ریٹ، نقشہ ہر چیز وہاں دستیاب ہو اور یہ سرکاری سطح پر ہو تو زیادہ بہتر ہے اور اس کے علاوہ سیاحت کے محکمے کو اتنا پروفیشنل کیا جائے کے وہ سیاحوں کو پیش آنے والے واقعات پر ان کی مدد کرے۔
دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے بڑی بڑی کانفرنسز ہوتی ہیں پاکستان میں اس طرز کی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے۔
سیاحتی مقامات پر سہولتوں کو بہتر کیا جائے اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔
نئے سیاحتی مقامات کو تلاش کیا جائے اور ان کو ترقی دی جائے تاکہ عوام کا رش ایک جگہ کے بجائے مختلف جگہوں پر تقسیم ہو جائے۔
سیاحوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے۔
دنیا بھر میں حکومتیں عوام کی چھٹیوں پر ان کو ہوٹلوں میں ڈسکاؤنٹ کی سہولیات دلواتی ہیں تاکہ سیاحت کا فروغ ہو۔
سیاحت کے فروغ سے سب سے زیادہ مقامی لوگوں کو ہوتا ہے ان کے ہر طرح کے کاروبار چل پڑتے ہیں جس سے معاشی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو فائدہ دیتی ہے۔
بہت سے سیاحتی مقامات پر اشیا بہت مہنگی دستیاب ہوتی ہیں اس طرح دیگر سہولیات جیسے کے ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بھی وہاں کے لوگ حد سے زیادہ لوٹ مار کرتے ہیں اس بات کو یقینی بنانا کے وہاں کسی سیاح سے زیادتی نہ ہو یہ حکومت کا کام ہے اس پر مزید کام ہونا چاہیے۔
اس طرح بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن پر کام کرنے سے ہم اس شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو: آمینٹویٹر اکاؤنٹ
@Nomysahir
غلط کو غلط کہیں گے اور متحد رہیں گے انشاء الله – تحرير حمیرا راجپوت
حالات وواقعات کی موجودہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پر لکھنے سے پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھ کر دھرانا ضروری سمجھتی ہوں کہ جیسا سب ہی جانتے کہ آجکل جنگوں کو طاقت کے زور پر لڑنے سے پہلے دنیا کو اپنا اچھا چہرہ دکھانا بھی ضروری ٹھہرتااور موجودہ دور ہی پروکسیز کی طاقت پر ملکوں کا معیار گرانا اور معیشت کو سنبھلنے نادیتے ہوئے چہره اتنا مسخ کردینا کہ دوسرے ممالک بھی بڑھ جڑھ کر حصہ لیں اور اسی ایماء 3طرح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے
1 دنیا کی نظر سافٹ کارنر ہوکر اپنی پاور دکھانےکااثر ملتا ہے
2 دوسر ے ممالک پر اپنی سپرویژن دکھا کر قدر بڑھانےکاموقع
3 دوسرے ممالک کی طاقت اور پیسہ استعمال ہوجانے سےاپنے ملک کا پیسہ بچالیاجاتا ہے اب سب ہی جانتے کہ اچھےحالات وترقی میں بہتری سے وہی روکتے ہیں جو دشمن ہوتے ہیں اور اسلام مخالف قوتیں پاکستان مخالف طاقتیں ہر کمزور پہلو سے فائده اسی طرح اٹھاناچاہتی ہیں جس طرح تاریخ کا حوالہ دوں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منافقین کا سامنا رہا یاصلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں یاورلڈ وار 2 ہمیشہ سے میر جعفر و میر صادق جیسے لوگوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ کی بنیاد بنا کر جب سے معرض وجود ھمارا ملک آیا ہے دشمنان نوجوان اسلام کو بھٹکانے اخلاقی دینی اور اصلاحی معیار گرانے کے پیچھے پڑے ہیں کبھی جذبات کے نام پر بھٹکا کر بے چینی اور نقصان کا سبب بنا دیا جاتا ہے کبھی ڈس انفاریشن کی جنگ سے اب جب دھشت گردی الحمد الله 2001 سے 2012 والا وه اثر نہیں رکھتی اور جو ازلی دشمنوں کو15اگست کے دن ضرب لگ چکی اس تکلیف کا اثر ہے کہ یہاں معاشرے کے ایک کمزور پہلو کو اٹھا کر اپنے مقاصد کا حصول شروع کردیا گیا اور مستقبل میں بھی کمزور پہلو پرہی وار کیا جائے گا کیونکہ براہ راست ون آن ون الجھنے کے باجود اتحادیوں کی طاقت مدد کا ہونا سود مندی اور قابل یقین جیت سمجھی جاتی ہے اور انہیں واقعات کا فائده اٹھاکر اب مردو خواتین سوشل میڈیا یا عام زندگی کے حصوں میں بٹے جارہے ہیں یا بانٹ دیا گیااور یہاں آپس کے الجھاؤ سے فائدہ وه اٹھانا چاہتے ہیں جو عوت کیلئے صرف8 مارچ کو نظر آتے ہیں معاشرے کے اس بگاڑ میں سب سے بڑی کمزروی میڈیا کی ہے جو اپنی ریٹنگ کے چکر اسلامی اور اصلاحی پروگرامز اور اچھے مقرررین ہر مسلک کے وه عالم جو تفرقہ کی بات نہیں کرتے انہیں موقع کیوں نہیں دیتے کہ آئیں اور پروگرامز کا حصہ بنیں معاشرے کی اصلاح کیلئے اصلاحی پروگرامز صرف رمضان ٹرانسمشن کا حصہ نہیں 24 گھنٹے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ایسے پروگرامز کو دینا ہی ہوگا یہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وه بچے یا بچی کی خوشی ٹکٹاک جی آفت سے اصلاح کے دائرے تک رکھیں وہیں حکومت وقت بھی اگر اس ٹکٹاک کو بند نہیں کرتی تو خصوصی اس کے قوانین اور بھاری جرمانے عائد کرے تاکہ کوئی بے حودگی اور بگاڑ کے چانسز کم سے کم تر کئے جاسکے اور جذباتی حضرات میں شامل ہونے سے بہتر کہ جہاں جس کی غلطی ہو وہاں اسی کو قصوروار ٹھہرائیں بجائے کسی ایک کی طرف داری پر اپنا موقف دیکر اس پر قائم ہوجائیں حقیقت کھلنے پر بجائے عزیمت اٹھانی پڑے اور قوم کو اصلاح بھرا کچھ کہہ کر صحافت کا معیار بلند کرنے کو اپنے موقف پر انا بنا کر کھڑے رہنا انتہائی افسوس کا مقام بنتا ہے اور یہی بگاڑ کی وجوہات بھی بنتی ہیں آخر میں ایسے جذباتی حضرات کو سانحہ موٹروے یاد کروادیتی ہوں جس پر اب تک کسی نے موازنہ نہیں کیا کہ وہ بھی ایک عورت ہی تھی لہذا مردو خواتین کو معاشرے کے چند حیوانوں کی وجہ سے ملک اور معاشرےسےمتنفر کرنے والے اپنی توانائی معاشرے کے سدھار کیلئے استعمال کریں الحمد الله نامم بے چین ہونگے نامتنفر نا کسی کے غم تکلیف میں استعمال ہوکر ملک کا چہرہ بگاڑیں گے اللّه پاک قوم کو اپنے اسلامی معاشرے پر فخر سے کیساتھ ھمیشہ متحد اور ملک کوکام یابیوں کی جانب گامزن رکھے🤲آمین
تحریر…
@humiraj1







