Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ‏توڑ دیتے ہیں لوگ کیوں چھوڑ دیتے ہیں  تحریر: ماہ رخ اعظم

    ‏توڑ دیتے ہیں لوگ کیوں چھوڑ دیتے ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    برے وقت کی ایک خاصیت ہے، کہ آپ کو وہ لوگ بھی صلاح دینے لگ جاتے ہیں جو خود کسی قابل نہیں ہوتے،زندگی میں بہت دور جانا پڑتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے نزدیک کون ہے ؟؟ جھوٹی باتوں پر جو لوگ واہ واہ کریں گے ،وہی ایک دن آپ کو تباہ کریں گے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :میں پسند تو ہو بہت لوگوں کی ،لیکن تب تک جب یہ میری ضرورت ہوتی ہے، پریشانی میں کسی کا مذاق مت اڑاو ،اور خوشی میں کسی کو طعنہ نہ دو، اس سے رشتوں میں موجود پیار کا ختم ہو جاتا ہے ،اپنی انگلیوں کا استعمال ہمیشہ اپنے گناہوں کو گننے کے لیے کرو ، دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے لئے نہیں یہ کڑوا سچ ہے، کہ جب تک خود پر نہ بیتے ،تب تک دوسروں کے درد کا احساس ہی نہیں ہوتا ، زندگی میں اگر کوئی کمی رہ جائے، تو اداس مت ہونا کیوں کہ ادھوری خواہشیں ہی جینے کا مزہ دیتی ہے، کچھ لوگ پگھل موم کی طرح رشتے نبھاتے ہیں ، اور کچھ لوگ آگ بن کر ایسے جلاتے ہی رہتے ہیں، تالے سے سیکھنا ساتھ نبھانے کا ہنر وہ ٹوٹ تو جاتا ہے، پر چابی نہیں بدلتا دل سے اترے ہوئے، لوگ اگر سامنے آ بھی جائیں تو نظر ہی نہیں آتے، ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں ،مگر بولنے سے پہلے بولنے کے بعد انسان اپنے الفاظ کا غلام بن جاتا ہے، کبھی کسی کہ ساتھ اتنی امیدیں نہ رکھنا ،کہ امید کے ساتھ تم بھی ٹوٹ جاؤ
    ٹوٹ جاتے ہیں وہ رشتے اکثر جن کو نبھانے کی کوشش اکیلے ہی کی جاتی ہے ،وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جن میں نبھانے کی چاہ دونوں طرف سے ہوں کامیاب رشتے کا یہ اصول ہے بھول جائے وہ بات جو فضول ہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ انسان کو دکھ نہیں توڑتا ،دکھوں میں اپنوں کا رویہ اسے توڑ دیتا ہے ،ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑنا اپنوں کا دامن زندگی بیت جاتی ہے اپنوں کو اپنا بنانے میں ۔جب انسان ہی نہیں رہے گا، تو اس کی غلطیوں کو کیا کریں گے، کسی سے روٹھو گے کسے مناؤ گے ؟کسے معاف کرو گے کسے سزا دو گے ؟اس لئے جو پاس ہے اس کی قدر کرنا، سیکھو کچھ ہنس کر بول دیا کرو، کچھ ہنس کر ٹال دیا کرو ، یوں تو بہت پریشانیاں ہیں تم کو بھی مجھ کو بھی پر کچھ فیصلے وقت پر ٹال دیا کرو!!

    >

  • گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے  تحریر: یاسمین راشد

    گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے تحریر: یاسمین راشد

    • اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے پاکستانیو جس طرح ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کی جاتی ہے آج اس پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں میرے بھائیو اور بہنو سوشل میڈیا پر مجھے اگست میں ایک سال مکمل ہو جائے گا میں نے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھا بہت سے لوگوں سے میری دعا سلام ہوئی اس معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ویسے ہی سب انسان برابر نہیں ہوتے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اللہ پاک نے الحمدللہ ایمان جیسی نعمت سے ہم کو نوازا ہم اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ابھی میں بات کرتی ہوں ایسے لوگوں کی جس میں میل اور فیمیل بھی شامل ہیں اسلام میں گالیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اسلام بالکل اجازت نہیں دیتا کسی کو گالیاں دینے کی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات سوشل میڈیا پر بے ہودہ گالیاں بکتے ہیں ان میں مرد بھی شامل ہے اور عورتیں بھی شامل ہیں ایسی گالیاں دیتے ہیں کے پڑھنے والے کو بھی شرم آتی ہے ہم جن سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کی خاطر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایسی بیہودہ گالیاں ہوتی ہیں نہ کسی کی ماں کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بہن کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بیوی کا احترام ہوتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں میرے بھائیو میری بہنوں کچھ اللہ کا خوف کرو جن سیاستدانوں کے لئے آپ گالیاں دیتے ہو میں گرنٹی سے کہتی ہوں آج آپ لوگ ان کے پاس چلے جائیں آپ لوگوں کو سلام بھی نہیں کریں گے تو پھر ایک دوسرے کو گالیاں دے کے کیوں اپنے لئے بہت دردناک عذاب تیار کرتے ہو آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہوتا جس کو گالیاں دیتے ہو کیا پتا اس کی ماں زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بہن زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بیوی زندہ نہ ہو تو سوچو جو انسان اس دنیا میں نہیں ہے ان کو آپ گالیاں دے رہے ہو تو کتنا بڑا گناہ ہوگا قرآن مجید میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں کو اور ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں غستاخی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108) میرے بھائیو بہنوں سوچو جب اللہ پاک نے قرآن مجید میں نے منع کر دیا گالی دینے سے پھر اپنی جانوں کے ساتھ کیوں ظلم کرتے ہو ایک اور حدیث میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے یہی چار نشانیاں آج منافق لوگوں میں پائی جاتی ہے جب ان کے ساتھ دلیل سے بات کرو تو وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں گالی دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں کسی کی خاطر کسی کو گالی نہ دو آپ لوگ اپنے سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہو ان کو سپورٹ کریں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں دلیل کے ساتھ بات کریں اگر دوسرا دلیل کے ساتھ آپ سے بات نہیں کرتا تو سوشل میڈیا نے ہم کو بہت سی آسانیاں فراہم کی اگر آپ کو کوئی ہراسمنٹ کر رہا ہے تو سائبر کرائم کو رپورٹ کریں اگر سائبر کرائم کو رپورٹ بھی نہیں کرتے تو آپ کے پاس بلاک کرنے کا آپشن موجود ہے ایسے لوگوں کو سیدھا بلاک کردیں گالی کا جواب گالی دینا ایک مسلمان کا کام نہیں ہمیں تعلیمات محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئےاور گالی گلوچ سے بچنا چاہیئے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    • @IamYasminArshad

  • دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    ایک ناکام شخص نے کامیاب شخص سے پوچھا کہ کامیاب کیسے بنا جاتا ہے کامیاب شخص نے کیا ہی کمال کا جواب دیا اس نے کہا کہ کیا تمہاری زندگی میں پرابلمز ہے ناکام شخص نے کہا کہ بہت ہے تو کامیاب شخص نے کہا ان کو حل کرلو تم کامیاب بن جاؤ گے

    لوگوں کو زیادہ تر پرابلمز ہوتی ہے کہ پیسہ نہیں ہے اگر نہیں ہے تو یہ پرابلم ہے اور اس کا حل ہے کہ کمانا سیکھو ۔لوگوں کو پرابلم ہے کامیاب کیسے ہو اور سلوشن ہے کہ محنت کرکے ثابت قدم رہ کر پرابلم یہ ہے کہ ہم سولوشن سے زیادہ پروبلم پر فوکس بنا لیتے ہیں

    یاد رکھیں انسان کا فوکس جس چیز پر ہوگا اسے وہی ملے گا اگر پروبلم پر فوکس ہے تو پروبلم ہی ملے گی اگر سلیوشن پر فوکس ہے تو سلوشن ہی ملے گا میں پچھلے دنوں کالج اکیڈمی کا کام کر کر کے تھک گیا تھا میں نے فنی مووی دیکھنے کا پلان بنایا جس کا نام دھمال تھا بہت ہی اچھی مووی تھی اس مووی میں ایک سین آیا جس نے مجھے بہت بڑا سبق دیا سین یہ تھا کہ چار دوست جنگل میں پیدل جا رہے تھے کہیں سے شیر کی دھاڑ سنائی دی چاروں سہم گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے یار ڈراؤ مت مجھے پتا ہے تم میں سے ایک ایسی آوازیں نکال رہا ہے

    شیر نے پھر سے زور دار دھاڑ لگائی چاروں کو پتہ چل گیا کہ یہاں کوئی شیڑ ہے تبھی ان میں سے ایک اپنے جوتے کے تسمے باندھنے لگ پڑا ایک دوست بولا اس سے کیا ہوگا تم کیا شیر سے آگے نکل جاؤ گے پہلے دوست نے جواب دیا کہ شیڑ سے تو پتہ نہیں لیکن میں تم تینوں سے آگے ضرور نکل جاؤں گا

    زندگی میں مشکلات اور مصیبتیں بھی اچانک سے ہی شیر کی طرح ٹپک پڑتی ہے اگر ہم دوڑنے کے لیے تیار ہوں اور دوڑ پڑے تو ان لوگوں کو زندگی کے مسائل کا نوالہ بننے کے لیے پیچھے چھوڑ دیں گے جن کے دل میں کبھی دوڑنے تک کا خیال نہیں آتا

    اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اور دوسرے وہ جو کرتے ہیں مگر سوچتے کچھ نہیں

    ‎@k__Latif

  • مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت  تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت تحریر : محمد صابر مسعود

    مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم المرتبت قائد، جنگ آزادی کے سپہ سالار، ، صاحب طرز انشاء پرداز، مقرر بے باک، قلم و قرطاس کے بادشاہ اور ایک عہد آفریں انسان تھے ۸ ذی الحجہ ۱۳۰۵ ھ (17 اگست 1888ع ) کو مکۃ المکرمہ (زادہ اللہ شرفا و عظمۃ ) میں پیدا ہوئے، والد کا نام خیر الدین تھا جو ایک جید عالم اور صوفی باعمل تھے، کلکتہ میں نشو نما پائ اور تعلیم کا مکمل سفر گھر پر ہی طے کیا۔
    مولانا ابوالکلام آزاد مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے علوم و فنون پر گہری نظر تھی، اسی کے ساتھ ساتھ مقرر بے باک اور خطابت کے اعلی معیار پر فائز تھے۔
    آپ نے زبان و قلم کے جادو سے ہزاروں، لاکھوں سینوں میں آزادی وطن کی آگ لگادی تھی۔
    آپ کے اخبار ،،الہلال،، نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کا بگل بجادیا تھا ،1915 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا تھا اس کے بعد بھی لیلائے آزادی کے حصول میں بار بار قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، تقریباً سولہ سال جیل کی سلاخوں میں رہے۔
    ابتداہی سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے، اجلاس عام لاہور میں 1921ع اور اجلاس عام کراچی 1931ع کے صدر رہے ۔
    آزادی سے پہلے سات سال کانگریس کے صدر رہے ل، آزادی کی مشہور تحریک” کوئٹ انڈیا” 1942 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں چلائ گئ، آزادی کے بعد کانگریس وزارت میں وزیر تعلیم رہے ۔
    آپ کی علمی، ادبی، سیاسی و صفاحتی خدمات پر اس قدر لکھا گیا کہ صرف ان کا اشاریہ تیار کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے 22/فروری/1985 کو یہ آفتاب علم و سیاست غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ذرا سوچیے تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏پاکستان میں موبائل فون سوشل ایپلیکشن جہان عام ہوئی وہاں نئ نسل نے اپنے شوق کو زریعہ معاش بنایا ۔۔۔ یوٹیوب چینلز اور ٹک ٹاک سٹارز نے مختلف ویبز پر پیڈ پروموشن سے کمایا ۔۔۔ ان ایپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر ہر تیسرا بندہ اپنے اکاونٹ نہ صرف بنا رہا بلکہ الٹی سیدھی حرکتیں کر کے مشہور ہونے کی لالچ میں بھی مبتلا ہے شہرت کا نشا ایسا چڑھا کہ کہیں ٹک ٹاکر بیوی اپنے خاوند کے انتقال کی جھوٹی خبریں چلا رہی ہیں تو کہیں لڑکے لائکس اور فالوورز بڑھنے کے لئے اپنی بہنوں کو نچا رہے ہیں، کہیں لڑکے پبلک پليسز پر اس طرح سے ویڈیو بناتے ہیں کہ کوئی عزت دار گھرانے کی لڑکی کی بھی ساتھ میں ویڈیو بن جاتی ہے جس سی ان کو تو لائکس، ویوز اور فالوورز مل جاتے ہیں لیکن اُس شریف گھرانے کی لڑکی پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کی عزت اُس لڑکے کے لائکس،ویوز حاصل کرنے کی بیہودہ حرکت سے خاک میں مل جاتی ہے اور کہیں یوٹیوبر جھوٹی ویڈیوز بنا کر ، ایک دوسرے کو گلام گلوچ کر کے، ایک دوسرے کے خلاف بول کر ویوز اور لائک کی تمنا کر رہے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی صارفین آپ یہ ایپ استعمال ضرور کریں لیکن ایک ضروری بات جو توجہ طلب ہے کوئی بھی فلم گانا ڈرامہ چل رہا ہوتا آپ لوگ کمیٹ میں اللہ اور رسول کے واسطے دے رہے ہوتے حج عمرہ کی دعائیں مسلمان ہونے کے ثبوت مانگے جارہے ہوتے یا والدین کی لمبی عمر کی دعائیں دی جارہی ہوتی ۔۔۔۔
    زرا نہیں پورا سوچئے گا یہ آداب واحترام ہے آپ لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کا یہ دیکھا رہے دنیا کو آپ ۔۔۔ زبانی عشق رسول کے دعوے چھوڑیے ۔۔۔۔ کسی نے آپ سے ثبوت نہیں مانگا ۔۔۔۔ خدارا احترام لازم کیجئے ۔۔۔ لائک ویوز کیلئے کوئی یہ نام استعمال نہ کریں۔

    اور دوسری بات یہ کا لوگوں نے فیسبک پر پوسٹس کی ہوتی ہیں کہ جو بھی مسلمان ہیں وہ اسے شیئر کریں یہ پھر پوسٹس ہوتی ہیں کہ ایک بار ،تین بار یہ دس بار اللہ لکھیں جو نہیں لکھے گا وہ مسلمان نہیں اور وہ شخص اللہ سے پیار نہیں کرتا تو بھائی یہ غیر مسلم لوگ ہوتے ہیں جو ایسی پوسٹ کر کر کے ہماری ایمانی غیرت کو کم کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں اس سے وہ ہمارا ایمان کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ان کی ایسی باتوں میں آ جاتے ہیں تو بھائی ایسے نہ کیا کریں بلکہ اس پوسٹ کو جس میں ایسا کچھ لکھا ہے تو ایسی آئی ڈی کو رپورٹ کر دیں یہ پھر اس پوسٹ کو رپورٹ کر دیں تاکہ وہ پوسٹ آگے سے آگے نا جا سکے بلکہ یہ پروپیگنڈہ یہی ختم ہو جائے نا کہ اسی آگے سے آگے شیئر کریں اور ان کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے دیں لہٰذا ایسی پوسٹ دیکھیں تو اسی وقت رپورٹ کر دی جائے۔
    یہ پھر وٹس ایپ کے میسیجز بنائے ہوتے ہیں کہ اس پوسٹ کو پانچ گروپس میں سینڈ کرو یہ پھر اپنے بیس کانٹیکٹس کو سینڈ کریں جو سینڈ کرے گا اس کے گھر اس ہفتے میں خوشی آئے گی یہ آپ کی کوئی دعا قبول ہو جائے گی اور اگر آپ اسے آگے شیئر نہیں کریں گے تو آپ کی دعا قبول نہیں ہو گی یہ پھر اس ہفتے میں کوئی بری خبر آئے گی۔
    تو میرے پیارے بھائی بہنوں دینے اور لینے والی ذات صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لہذا اسی پوسٹ کو آگے شیئر نا کیا کریں بلکہ جس نے آپ کو سینڈ کی ہو اس سے بات کریں اُسے سمجھیں کا ایسی پوسٹ آگے شیئر نہ کیا کریں

    میری باتوں کے بارے میں ذرا سوچیے گا ضرور۔ شُکریہ

    @Its_MuBii

  • دوستی تحریر : علی ملک

    دوستی تحریر : علی ملک

    ایک اچھا دوست انسان کے ہزار مطلبی دوستوں اور منافق دوستوں سے بہتر ہوتا ہے ۔
    پر آج کل انسان کو اچھا دوست ملنا بہت ہی مشکل ہے خصوصاً سوشل میڈیا پر اگر آپ کا ایک بھی اچھا دوست ہے تو آپ بہت خوش نصیب ہیں جو آپ کا ہر جگہ ساتھ دے آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف بات برداشت نا کر سکے ۔
    جہاں آپ پر بات آۓ آپ سے پہلے آپ کو سپورٹ کرنے کےلیے کھڑا ہو آپ کو اس پر اعتماد ہو کہ کوئی میرا ساتھ ہو یا نا ہو میرا دوست میرا ساتھ ہے ۔
    لیکن آج کل کے دور میں مطلب پرست لوگ بہت ہیں جیسے ہی آپ سے مطلب پورا ہوگا ویسے ہی ان کا آپ سے رابطہ بھی کم ہونے لگتا ہے پھر وہ پتلی گلی سے نکلنے والی کرتے ہیں۔
    کہتے ہیں جو برے وقت میں آپ کو پانی کا ایک قطرہ بھی پِلا دے آپ کو اس کا بھی احسان کبھی نہیں بولنا چاہیے اور جو برے وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ جاۓ اس کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ صدا وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔
    دوست مظبوط ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کی دوستی کو ختم نہیں کر سکتی وہ مل کر بڑی سے بڑی مشکل کا بھی بآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں ۔
    اگر آپ کا بیسٹ فرینڈ کبھی آپ سے کسی وجہ سے ناراض بھی ہو جاۓ تو انا غرور اور تکبر کو سائیڈ پر رکھ کر پرانا تعلق دیکھنا چاہیے ۔
    دوستی جیسا عظیم رشتہ دنیا میں کوئی نہیں لیکن جہاں جھوٹ بولا جاۓ اعتبار میں کمی ہو دوست کو دوسروں پر تقویت دی جاۓ غلط فہمیاں ہوں تو وہاں یہ رشتہ ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے اور آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جہاں آپ کا دوست خوش وہیں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاۓ اور آگے بڑھا جاۓ ۔
    آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ اس دور میں دوست بہت ملتے ہیں نھبانے اور وقت پر کام آنے والے اور دیکھاوا کرنے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کبھی آپ لوگوں کی طرف یا لوگوں کی باتوں میں آکر ایسا قدم نا اٹھائیں جس سے آپ ایک اچھے اور مخلص دوست سے محروم ہو جائیں ۔

    دل سے خیالِ دوست مٹایا نا جاۓ گا
    سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نا جاۓ گا

    @malik_No27

  • اردوادب میں عیدالاضحی  تحریر: محمد فہیم خان

    اردوادب میں عیدالاضحی تحریر: محمد فہیم خان

    اردو کی غزالیہ شاعری میں عید؛عید کاچاند حلال وآبرو محبوب سے روز عید کی ملاقاتیں اور اس کے متعلق ہی اہم رہے لیکن 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب اردو شاعری کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی اور نظموں کی طرف توجہ تیز ہوگئی تو عید کے بعد موضوع میں بھی اشارتی اور علامات یا امکانات زیادہ اجاگر ہوئے اور اردو شاعری کو 1757 کے بعد ملی احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا گیا اور اس طرح مسلمانوں کی فکری زندگی کے خط و خال نے اردو ادب میں اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری کے عمل کو شدید سے شدید تر کر دیا۔عید الفطر پر نظموں کی کثرت کا سبب بھی یہی ہے اور شعرا و ادبانے جب تخلیقی جوہر کے حوالے سے ان افکار کی پیشکش کا سامان فراہم کیا تو یہ موضوع کئی جہتوں میں پھیل گیا ۔ عید کب محدث خوشیاں عید کے چاند کو محض سال میں ایک بار جھلک دکھا کر غائب ہونے کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے اسے مسلمانوں کی تہذیبی اور فکری زندگی کے وسیع تر جغرافیے سے ملا دیا گیا ؛ جسے عید کے موضوعات میں نئی نئی باریکیاں پیدا کرکے اسے ادبی خوشی کے ملے جلے جذبات تک لے گئے گلدستہء عید میں موضوعات ؛ صحن عیدگاہ میں ملاقات اور دوران خانہ عید ملن تک محدود نہیں رہے بلکہ جذبات کے وسیع تر رقبوں میں لاکر رکھ دکھایا گیا ہے۔”مسلمان فیشن ایبل خاتون کی ڈائری” سے چل کر”رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عید”؛”سہاگن کی عید” ؛ ” بچوں اور بڑوں کی عید” ؛ "دوگانی عید” ؛ ” ترکن ماما کی عید” ؛”عید اور قرض” ؛ "عیدی”گھر کی مالکہ کی عید” ؛ "یتیموں کی عید” تک عیدالاضحیٰ میں متوسط طبقے اور غریب طبقے کے مسائل و حالات سے منسلک نظر آتی ہے۔اس تمدنی وسعت پذیری سے موضوع کی جڑیں ہماری ادبی روایات میں پھیل گئی ہیں۔ خواجہ حسن نے دلی کی بربادی کے جو نوحے لکھے ہیں ؛ ان میں دولت و عزت سے محروم ہونے والے شہزادوں اور شہزادیوں کی کس مپرسی میں عید بسر کرنے کا زکر اہمیت رکھتا ہے اس روایت کا آغاز سر سید احمد خان سے ہوتا ہے ؛ جنھوں نے” مسلمانان ہند کی عید” کے عنوان سے مسلمان کی معاشرتی زندگی کی خامیوں کو بیان کرنے کے علاوہ ؛ ان کی غریبی کے نقشے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔حسن نظامی کے موضوعات میں "عظمت رقتہ کی یاد”عید کو علامتی حوالہ عطا کرتی ہے ” یتیم شہزادے کی عید” ؛ "عید گاہ ماغریباں کوئے تو” دینی جذبے کی شدد اور مزہبی امور سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے
    "اے مہ عید! بے حجاب ہے تو
    حسن خورشید کا جواب ہے تو
    تو کمند غزال شادی ہے
    لزت افزائے شور طفلی ہے”

    @FK5623

  • نسل نوجواں کو درپیش خطرات  تحریر : محمد شفیق

    نسل نوجواں کو درپیش خطرات تحریر : محمد شفیق

    نوجوان نسل کسی بھی ریاست کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتی ہے،نوجوان قوم کہ معمار ہوتے ہیں جن کے سر پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔
    انکی مثال ایک قیمتی اثاثے کی ہے جسے اگر نیکی ،ا چھائ اور ترقی کے کاموں میں بروئے کار لایا جائے تو یہ نعمت عظیم سے کم نہی ۔
    اور اگر یہی سرمایا شر اور فساد کے کاموں میں مشغول ہوجائے تو تباہی کا باعث بنتا ہے۔
    بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل تباہی کے کے دھانے پر ہے ۔نوجوانوں کی نوے فیصد آبادی بے راہ روی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کا شکار ہے جو کسی بھی ملک یا قوم کیلیے انتہائ سنگین مسلہ اور مقام فکر ہے کہ، ایسا کیوں ہے؟ ایسے کونسے اسباب ہیں؟
    جو ہمارے سنہرے مستقبل کو تاریکی میں تحلیل کر رہے ہیں ۔
    نسل نوجواں کو درپیش خطرات میں سے کچھ بنیادی مسائی درج زیل ہیں

    سوشل میڈیا نے زندگی کو بہت آسان بنادیا ہے ،میلوں کے فاصلے کو سیکنڈز میں بدل دیا ہے ۔ہر قسم کی معلومات صرف ایک ٹچ کی دوری پہ ہے لیکن وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
    کافی عرصے سے سوشل میڈیا کا استعال خطرناک حد تک تجاوز کر چکا ہے،
    اور بلخصوص نوجوان نسل کیلیے یہ نشے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جس طرح نشہ کرتے ہوئے دماغ انسانی کا مخصوص حصہ Nucleus accumblance فوران ایکٹو ہوتا ہے بلکل اسی طرح جب کوئ بھی صارف سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے تو دماغ کا یہ حصہ ایکٹو ہوجاتا ہے اور انسان سوشل میڈیا کہ نشے میں بری طرح جکڑا جاتا ہے ۔کسی بھی سکرین چاہے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ کا مسلسل اور دیرپا استعمال نا صرف انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ انسان کو حقیقی دنیا سے نکال کر خیالی دنیا میں پھینک دیتا ہے۔

    نوجوان نسل کی مثبت تعلیم و تربیت کا پہلا زریعہ والدین اور پھر مختلف درجات کی تعلیمیی درسگاہیں ہیں۔ جو ایک معمولی انسان کو ایک جوہر شناس جواھر کی طرح تراش کر ھیرے میں ڈھال دیتی ہیں
    لیکن انتہائ افسوسناک امر ہے کہ آجکل تعلیمی درس گاہیں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتی نظر آتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں فحاشی ،جنس پرستی اور سگریٹ سے لیکر ہر قسم کے نشہ کی نا صرف کھلی آزادی بلکہ تمام سہولیات موجود ہیں ۔ عریانیت اور بیہودہ ڈانس پارٹیوں کو ماڈرن ازم کا نام دیکر تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ استاد جسے روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے طلبہ کے ساتھ اس قدر شرمناک فعال میں ملوث پایا جاتا ہے کہ انسانیت شرما جاتی ہے ۔اگر اس نظام تعلیم کو تبدیل نہی کیا گیا اس کے خلاف کاروائ نہی کی گئی تو وہ وقت دور نہی جب ہماری تعلیمی درسگاہوں کو فحاشی اور نشے کے اڈو کا نام دیا جائے گا

    نوجوان نسل کو در پیش خطرات میں سے تیسرا بڑا اور اہم خطرہ فحش ویبسائٹس کا استعمال ہے
    نوجوان نسل اس گھٹیا نشے میں اسقدر غرق ہو چکی ہے کہ وہ فحش مواد دیکھتے دیکھتے خود اسکا حصہ بن چکی ہے ،
    اس کی سب سے بڑی وجہ اس قسم کے مواد کی آسانی سے دستیابی ہے۔لمحہ فکریہ ہے کے 8 سال کے بچے سے لیکر 16 سال کے نوجوان تک نوے فیصد لوگ فحش مواد دیکھنے والوں کا حصہ ہیں۔فحش مواد نا صرف اخلاقی طور پہ تباہ و برباد کرتا ہے صحت کو انتہائ بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ اس نے رشتوں کے تقدس کو بھی بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

    نوجوان نسل کی تباہی کی اور بے راہ روی کی ایک اہم وجہ بےروزگاری اور وسائل کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اعلی تعلیم کے باوجود جب نوکری نہی ملتی تو نوجوان چور راستے اختیار کرتے ہیں اور ہر قسم کا جرم چاہے وہ ڈاکہ زنی ہو یا عصمت زنی کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔
    روزگار کا نا ملنا ایسا عفریت ہے جو صرف پسماندہ ممالک ہی نہی بلکہ ترقی یافتہ مما لک کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان تمام عوامل اور خطرات سے نوجوان نسل کے متاثر ہونے میں والدین بھی برابر کے زمہ دار ہیں۔ نسل نوجواں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا ،اس کی ہر حرکت پہ نظر رکھنا والدین کی زمہ داری ہے ،پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، لیکن آج کل کے والدین ہر عمل کو معاشرے کے سر ڈال کر خود بری الزماں ہو جاتے ہیں جو کہ سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔

    نوجوان نسل کو ،اپنے ملک کے معماروں کو اور اپنے ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو مل کر ان سب عوامل کا حل سوچنا ہوگا
    @IK_fan01

  • پرانے وقتوں کی بکرا عید  اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پرانے وقتوں کی بکرا عید اور جدید وقت کی عید میں فرق تحریر: سید عمیر شیرازی

    پہلے وقتوں میں عید کے تہواروں کا الگ ہی مزہ ہوتا تھا چاہے بڑا ہو چھوٹا ہر ایک میں ایک دوسرے کیلئے بے پناہ محبت ہوا کرتی تھی اور تہواروں میں تو مزہ آجاتا تھا ایک دوسرے کے گھروں میں جانا آپس میں اپنے کام بانٹنا واہ کیا وقت تھا وہ بھی۔۔۔۔
    آج تو تہواروں پر واٹس اپ پر عید مبارک کا میسج لکھا اور سب کو فارورڈ کردیا جاتا ہے عید کی خوشی اب ایک فارورڈ میسج تک محدود رہ گئی ہے جسے جسے وقت گزرتا جارہا ہے آپسی محبت اور بھائی چارہ ختم ہوتا جارہا ہے،
    کاش کے وہ پرانا وقت واپس آجائے پہلے کی طرح ہم ان تہواروں کو خوشی خوشی منا سکیں اپنے بڑوں بزرگوں کو عید ملنے جائے اور ان سے دعاؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ کاش کے دوبارہ شروع ہو جائے۔۔
    آج کل تو ہم اتنے مصروف ہوگئے ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں کہ اپنے گھر کے بزرگوں سے دو منٹ بیٹھ کر بات تک نہیں کرتے پہلے تو عید پر حال احوال لیا کرتے تھے اب تو ایک فون کال پر ہی تہوار منائی جاتی ہے وقت کا پہیہ تیزی سے گزرتا چلے جا رہا ہے کہ ہمیں اپنے آس پاس کا پتہ تک نہیں چل رہا اس عید کو پہلے کی طرح سب ملکر کام کاج چھوڑ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ منائیں اس سے جو خوشی حاصل ہوگی وہ خوشی کہی اور نہیں مل سکے گی۔

    @SyedUmair95

  • آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    آئیے جانتے ہیں کہ ” تکبر ” کیا ہے ؟ تحریر: محمد اویس

    تکبر کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ خود کو افضل (یعنی بڑے مرتبے والا) اور دوسروں کو حقیر جاننا ۔
    تکبر ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی عقل کو زائل کر دیتا ہے اور انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے کہ آیا اُسے کس چیز سے پیدا کیا گیا تھا؟؟
    متکبر انسان اللہ کی بارگاہ میں تو مردود ہوتا ہی ہے،
    لیکن
    متکبر انسان دنیا داروں کی نظروں میں بھی مردود ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرے میں ایسا فرد نہیں ہوتا جو متکبر انسان کو پسند کرتا ہو ، بظاھر تو لوگ متکبر شخص کے شر سے بچنے کیلئے "سیٹھ صاحب ، چوہدری صاحب ، ملک صاحب اور فلاں صاحب ” کے القابات سے پکار رہے ہوتے ہیں لیکن جیسے یہ "فلاں صاحب” وہاں سے رخصت ہوتے ہیں تو معاشرے کے یہی لوگ اس بدنصیب شخص کی برائیاں کر رہے ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص پیٹھ پیچھے برائی نہیں بھی کرے تو دل میں بُرا تو ضرور جانتا ہے۔
    آئیے متکبر کے دنیاوی مقام کے بعد ہم جانتے ہیں کہ متکبر کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے ؟؟
    اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
    ترجمہ:
    "اب جہنّم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا۔”
    (سورہ النحل آیت نمبر 29)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
    ترجمہ :
    "بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔”
    (النحل آیت نمبر 23)
    ذکر کی گئی دونوں آیات میں اللہ نے متکبر انسان کی مذمت فرمائی ہے ایک آیت میں جہنم کی وعید سنائی اور دوسری آیت میں متکبر انسان کو ناپسند فرمایا ۔

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔” استغفراللہ العظیم !
    (ترمذی حدیث نمبر 2500)

    تکبر کے وہ اسباب جن کی وجہ سے انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے :

    1۔ تکبر کا پہلا سبب علم ہے کہ بعض اوقات انسان کثرت علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    2۔ تکبر کا دوسرا سبب مال و دولت ہے کہ جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسا اوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    3۔ تکبر کا تیسرا سبب حسب ونسب ہے کہ بندہ اپنے آباء و اجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔

    4۔ تکبر کا چوتھا سبب عہدہ و منصب ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ فانی دنیا پر فخر نادانی ہے کیونکہ عزت و منصب کب تک ساتھ دیں گے؟

    5۔ تکبر کا پانچواں سبب کامیابی و کامرانی ہے کہ جب کسی کو پے درپے کامیابیاں ملتی ہیں تو وہ ناکام ہونے والے لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ نہ بھولے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثر واپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے ۔

    6۔ تکبر کا چھٹا سبب حسن وجمال ہےکہ بندہ اپنے ظاہری حسن وجمال کے سبب تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتداء و انتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز ناپاک نطفہ اور انجام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا ۔

    7 ۔ تکبر کا ساتواں سبب طاقت و قوت ہے کہ جس کا قد کاٹھ اچھا ہو، کھاتا پیتا اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسا اوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا یوں محاسبہ کرے کہ طاقت وقوت اور پھرتی تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے بلکہ انسان سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اور جانوروں میں مشترکہ صفت پر تکبر کرنا کیسا؟
    تو درج ذیل آیات ، حدیث اور اسباب سے ثابت ہوا کہ متکبر انسان دنیا و آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس قبیح گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کے ساتھ ہر نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین یارب العالمین

    @Awsk75