Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    علامہ اقبال نہ یہ شعربہت پہلے اس قوم کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لیے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہرکسی کی نظر کے سامنے ہیں۔ دنیا کے خیالات بھی ہم سب کے سامنے ہیں۔ کس طرح اسلاموفوبیا کے نام پرمسلمانوں کو کچلا جارہا ہے، مارا جارہا ہے انڈیا میں نفرت انتہا پرہے۔ مسلمانوں کو زلیل کیا جاتا ہے اورمسجدوں کوشہید کیا جاتا ہے غرض کے کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    دنیا کے حالات ہمارے سامنے ہیں مگر ہم مسلمانوں کے حالات پرغورکریں تو وہ مسلمان جوکہ تعلیم کے میدان میں سب سے آگے تھے اور آج مسلمان کہاں پرموجود ہیں سوچنے کی بات ہے لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے علامہ اقبال کا یہ شعرموجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے مسلمان اگرمل جائے توایک مضبوط عمارت کی مانند ہے۔

    بے شک مسلمان غفلت میں سو رہے ہیں یہ دنیا بھی جانتی ہے کہ جب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعرذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کی اس بات کی تشریخ کرتا ہے کہ اس مٹی کو نم کی ضرورت ہے اس قوم کو بیداری کی ضرورت ہے اور جب یہ قوم بیدار ہوگئی تو یہ مسلم امت مضبوط ترین قوم بن جائے گی۔

    1947ء میں پاکستان کا تصور قبول کیے جانے کے بعد قائداعظم سے کہا گیا: "Do you really believe it will become a nation. It will take fifty years.” جواب میں ارشاد کیا:”No a hundred years” قوموں کی تشکیل و تعمیرکا عمل یہی ہے۔ فروغِ علم سے اس عمل کو متواتر اورمہمیز کیا جاسکتا ہے۔ اللہ مہربان ہو تو قائد اعظم ایسے لیڈروں کی نمود سے، اپنی مثال سے جو ہجوم کی تربیت کریں۔ آخری بات یہ ہے کہ مایوسی زہرہے۔ نظراٹھا کردیکھو تو اس قوم میں ایثاراورحسنِ عمل کی مثالیں بھی بہت ملیں گی۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔ دل توڑگئی ان کا دو صدیوں کی غلامی دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا شاعرکی باقی پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو یہ بھی ہو کررہے گی۔ کریں گے اہلِ نظرتازہ بستیاں آباد مری نظر نہیں سوئے کوفہ و بغداد۔

    @Its_MuBii

  • سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    گو سگ دنیا ہوں پر تنہا خوری مجھ میں نہیں
    ٹکڑا ٹکڑا بانٹ کھایا جو میسر ہو گیا
    امان علی سحر لکھنوی کے اس شعر میں مجھے دل چسپی لفظ "سگ” سے ہے ۔ سگ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب کتا ہے ۔ لفظ سگ اردو میں بھی مستعمل ہے اور مجازی طور پر رزیل آدمی ، بدکردار و بداطوار کو سگ بولتے ہیں ۔ روسی زبان کا لفظ سباکا (Sabaka) بھی یہی معنی دیتا ہے ۔ اردو زبان کے لفظ "کتا” کو پراکرتی زبان سے لیا گیا ہے ۔ اب اگر اسی روسی لفظ کو لے کر چلیں تو کچھ کتابیں بتاتی ہیں کہ کتے کو سپاک (Spak) کہا جاتا تھا اسی سے سپاکا ہوا جس کا مفہوم "کتے جیسا” ہوتا ہے ۔ یہ آذربائیجان کے قریبی علاقے میں بولی جانے فارسی کی پیش رو زبان تھی ۔ قدیمی اوستا میں آکر یہ لفظ سپان (Span) بن گیا ۔ سنسکرت میں آیا تو ہلکی سی تبدیلی نے شوان (Shvan) کردیا ۔ پشتو زبان الفاظ میں صوتی تبدیلیوں کی وجہ سے اچھی خاصی مشہور ہے ۔ اسی لیے پشتو والوں نے درمیانی راستہ نکالا اور آخری حرف صحیح گرا کر اسے سپے( Spe) کردیا ۔ پشتو کی بہن فارسی نے "سپاک” لے تو لیا لیکن اس میں تبدیلی کرکے حرف "پ” کو گرا کر "سک” یا "سگ” کردیا ۔ بعض ماہرین کے مطابق وسط ایشیا سے ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے ساکا قبائل کی اجتماعی شناخت کتا تھی ۔ اب اگر لفظ ساکا اور سباکا کو دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دونوں ایک ہی تھے بس گزرتے وقت نے اسے سباکا کردیا ۔

    پشتون بھائی حیران ہوں گے کہ ان کے سپے کو کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا ہے ۔ اب ذرا سنسکرت کے لفظ شوان پر نظر ماریں اور فرانسیسی زبان کے لفظ شی این (Chien) کو پرکھیں تو عقدہ کھلتا ہے کہ یہ دونوں کس قدر مشابہت رکھتے ہیں لیکن یہ مشابہت اتفاقیہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ لاطینی لفظ Canis سے نکلا ہے جو آگے چل کر Kuon سے نکلا ہے ۔انگریزی کے لفظ Cynic کا مطلب ہے کتے کی مانند ۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "سَگ اَصْحابِ کَہْف روزے چَنْد پئے نیکاں گِرِفْت و مُرْدَم شُد” اصحابِ کہف کا کُتّا چند دن نیکوں کے پیچھے چلا اور وہ آدمی ہوگیا یعنی نیکوں کی صحبت میں برا آدمی بھی نیک ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح سگ آستاں ہے جس کا مطلب در کا کتا ہے ، سگ بازاری آوارہ کتے کو کہتے ہیں اور فارسی کا ہی ایک فقرہ ہے سگ باش برادر خرد مباش یعنی بڑے بھائی کے مقابلے میں چھوٹی بھائی کی توقیر نہیں ہوتی ۔ ہم کتے کے پلے کو کتورا کہتے ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ یہ لفظ کتے سے نکلا ہے ۔ ویسے ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ لاطینی میں پلے کو Catulus کہتے ہیں ۔جسے Canis سے لیا گیا ہے ۔ یہاں انگریزی زبان کا ایک اور معمہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ صاحب بصیرت شخص کے لیے لفظ Sagacious مستعمل ہے اور یہ لفظ یونانی مادے Sagax سے ہے اور اس کا مطلب ہے کتے کی قوت شامہ ۔ اس کی صوتی کیفیت فارسی کے لفظ سگ کے کس قدر قریب ہے ۔ اب پھر بات جہاں سے چلی تھی وہی آگئی ہے یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کتے کی دم بارہ برس زمین میں گاڑی ٹیڑھی ہی نکلی۔
    آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج کون سا لفظ شروع کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ اس موضوع کو اس لیے چنا کہ رحیم یار خان میں ایک ہی روز میں آوارہ کتوں نے 18 افراد کو کاٹ لیا ۔ یوں 4 دنوں میں سگ گزیدہ 70 کے قریب افراد کو شیخ زائد ہسپتال میں لایا گیا ۔کتوں کو کنٹرول کرنا علاقائی انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے میں تجربہ کار بھی ہے اور وسائل میں خودمختار بھی ۔ ضلعی انتظامیہ کا کام ان پر چھوڑئیے کہ وہ خود ہی تنگ آکر ان کو پکڑ لے گی ۔ حضرت غالب کہتے ہیں کہ

    پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسؔد
    ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس لفظ گزیدہ سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا مطلب ہوگا کہ ڈسا ہوا عموماً مرکبات کے جزوِ دوم کے طور پر مستعمل ہوتا ہے ۔

  • چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    رکئے مت چلتے رہیں ماہرین کیمطابق چلنا صحت کیلئے بے حد مفید ہے یہ جو دل ہے اسمیں جسکو مرضی بسائیں لیکن اسکو چلنے کی ورزش سے چاک وچوبند رکھیں تاکے کسی پر مٹنے سے پہلے خود ہی نہ مٹ جاۓ_ کاہلی چاہے جتنی بھی ہو جم جانے کا وقت نہ ہو تو بھی چلنے کی زحمت کرتے رہئے اس سے بڑھتی ہوئی توند کو افاقہ ہوگا بڑھتے ہوۓ وزن میں لاپرواہ رہنے کی بجاۓ دن میں چند گھنٹے چل لینا آپکے بڑھتے ہوۓ وزن کو تھوڑا بریک لگا لے گا_ اگر اماں بازار سے دہی لانے کو کہہ دیں تو اس پر موٹر سائیکل پر فراٹے بھرنے سے بہتر ہے تھوڑا سا پیدل چل لیاجاۓ اور فضا کو موٹر بائیک کے دھوئیں سے بچا لیا جاۓ

    چلنے سے وزن کم کرنے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں کے ہوسکتا ہے رشتوں والی مائی کو آپکا رشتہ تلاش کرنے میں آسانی ہو ورنہ موٹاپے کے شکار خواتین اور حضرات کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں

    صحتمند خوراک اور روزانہ کا پیدل چلنا آپکے بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے بیچارابلڈ پریشر جو آجکل کے میڈیا کے ڈراموں ، آلو پیاز مرغی کے گوشت کے بھاؤ کو دیکھ کر بہت بلند ہو جاتا ہے چلنے سے اسکے قابو میں رہنے کا امکان ہے البتہ جتنا مرضی چل لیں آلو پیاز اور مرغی کا بھاؤ قابو میں نہیں آنے والا

    جو کیلوریز موبائل فون اور کمپیوٹر پر جانو مانو کو میسج کرکر کے وزن میں کاہلی سے بڑھتی ہیں اسطرح کی فضول کی کیلوریز چلنے سے جلنا شروں ہوتی ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھتی ہیں

    ماہرین کہتے ہیں کم از کم چلنے کی ورزش ضرور کریں کیوں کے چلنے سے آپکا موڈ بہتر ہوگا اور بسورتی شکل کو افاقہ ہوگا کیوں کے آپکا مزاج بھی خوشگوار ہوگا جس سے آپکا حلقہ احباب بھی وسعت اختیار کریگا ہوسکتا ہے اس خوشگواری میں کچھ خوش اخلاقی بھی سرایت کرجاۓ اور آپ ہر وقت کی چڑچڑاہٹ سے نجات پائیں

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کے اس سے آپکی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے _ ایسے میں آپکو گھر کے بل اور محلے کی خالہ کو کمیٹی کے پیسے وقت پر دیتے میں مدد ملے گی

    یادداشت کی بہتری سے سبق بھی یاد رہے گا اور امتحان میں نقل کرنے کی محتاجی نہیں ہوگی _ اور امتحان کا نتیجہ آنے کے دنوں میں جو پریشانی کے دورے پڑتے ہیں ان سے نجات ملے گی _

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کے اس سے آپکے اعصاب مضبوط ہونگے _ جو آپکو اماں اور ابا جی سے پڑنے والی جھڑکیوں پر مضبوط بناتے ہوۓ صبر عطا کریگی.
    اسلئے چلتے رہئے اس کو اپنا معمول بنا کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند رکھئے کیوں کے چلتی کا نام گاڑی ہے

  • محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    ہر "کامیاب محبت ” کے پیچهے ایک فرد کی انا کا خون ہوتا ہے…!!
    محبت میں قربانی دینی پڑتی ہے…
    اپنی "انا” کی…
    اپنی "میں” کی…
    بعض اوقات شدید محبت بهی ناکام ہوجاتی ہے…!
    بیشک اس میں آپ اس محبت نامی دیوتا کو ہر چیز کی بلی چڑهاو دو…
    یہ حقیقت ہے کہ محبت کرنے والے بے شمار غلطیوں کو دہراتے ہیں، بالآخر یہ غلطیاں اس محبت کے تاج محل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہیں، اسی لئے لارڈ بائرن کہتا ہے کہ
    ’’جلد یا بدیر محبت اپنا انتقام خود بن جاتی ہے‘‘،یہ محبت کرنے والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں، انہیں محبوب کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، محبوب کا ہر غم اپنا غم لگتا ہے اور ہر داستان محبت کو کم و بیش اپنی ہی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں،

    محبت یک طرفہ ہوتی ہے…
    دو طرفہ نہیں…
    اور دو طرفہ تو معاہدے ہوتے ہیں…
    محبت نہیں…

    کسی شاعر نے محبت کی تعریف یوں بھی کی ہے کہ
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ سا فسانہ ہے
    سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

    اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
    یقین محکم، عمل پیہم اور محبت فاتح عالم کے ساتھ زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے اور یہی تینوں چیزیں اسلحے کا کام دیتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یقین اور محبت کے ساتھ کشمیر فتح ہو سکتا ہے، اس کے لیے عمل اور جدوجہد شرط ہے۔

    کہتے ہیں بے آب و گیا تپتی دهوپ کے صحرا میں محبت ایک سرسبز و شادب بند قلعہ ہے…. جس کے دروازے….!!
    سوچنے والوں پہ نہیں کهولتے….!!!!!!

    تحریر۔۔۔ محمد احمد
    @EyeMKhokhar

  • دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    "یہ کون ہنس رہا ہے پھولوں میں چھپا ہوا
    بہار کس کی دھن پر بے چین ہے۔

    یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی، ایک خوش شکل خوبصورت  چہرہ  ذہن میں آتا ہے وہ دلیپ کمار صاحب کا چہرہ ہے۔  دلیپ صاحب ہندی سنیما میں ‘ٹریجڈی کنگ’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی سنیما کو اپنی اداکاری سے اس طرح نوازا کہ ان کی فلمیں آج تک تقریبا  تمام عمر کے لوگوں کو خوش کرتی ہیں۔  دلیپ کمار صاحب جن کے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی ، 11 دسمبر 1922 کو اِس وقت  کے پاکستانی شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔  ان کا اصل نام محمد یوسف خان تھا اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1944 میں فلم جوار بھاٹا سے کیا تھا۔  انہیں اس فلم سے زیادہ شناخت نہیں ملی ، لیکن ایسا ہوا کہ بطور اداکار ان کا سفر شروع ہوا۔  تاہم ، "جواربھاٹا” کے تقریبا  تین سال بعد ، فلم ‘جگنو’ ایک کامیاب فلم تھی ، جس میں وہ اور نور جہاں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔  اس کے بعد ، ‘شہید’ ، ‘میلہ’ ، اور ‘اداز’ جیسی فلموں کے بعد ، وہ ایک کامیاب اداکار کے طور پر مشہور ہوئے۔  بہت سارے فلمی نقادوں کا خیال ہے کہ دلیپ صاحب  کی اداکاری حقیقت پر مبنی اداکاری تھی، جس کے ذریعے انہوں نے ہندوستانی سنیما کی اداکاری میں ‘حقیقت پسندی’ قائم کی۔

    ایک انٹرویو میں دلیپ کمار کہتے ہیں کہ ان کے والد فلموں کے سخت خلاف تھے۔ ان کے دوست ‘لالہ بیسشور ناتھ جن کو دنیا  ‘پرتھویراج کپور’ کے نام سے جانتی ہے سے دلیپ صاحب کے والد اکثر  شکایت کرتے تھے کہ ان کے صاحب زادے کیا کام کررہے ہیں؟  یعنی یہ کوئی کام کیوں نہیں کرتا فارغ رہتا ہے ۔
    کام نا کرنے کا لیکچر سن سن کر دلیپ صاحب  نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا ، لہذا اس دوران انہوں نے اپنے والد کے غصے سے بچنے کے لئے اپنے نام "یوسف خان” کو اسکرین پر استعمال نہ کرنے کی بات کی تھی۔  تقریبا تین مہینوں کے بعد انھے ایک  کمرشل سے معلوم ہوا کہ ان کا نام اسکرین پر دلیپ کمار کے نام سے ڈالا گیا ہے۔
    دلیپ صاحب  کو اردو سے بہت گہرا پیار تھا۔ انہے  شعر و شاعری میں بہت دلچسپی تھی۔
    ٹام الٹر کہتا ہیں کہ جب وہ دلیپ صاحب سے  سے اپنی اداکاری کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملا تو انہوں نے دلیپ صاحب سے پوچھا ، "دلیپ صاحب اچھی اداکاری کا راز کیا ہے؟”  دلیپ صاحب نے انہیں بہت آسان جواب دیا ، شعر و شاعری”۔  ٹام الٹر کے بقول ، اس نے اس جواب کے پس پردہ راز کی تلاش کی ، ایک لمبے عرصے تک کھوج لگائ جس سے ایک بات سمجھ میں آگئی کہ ہر مذاق والا اپنے مذاق کے ذریعہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔  وہ جو کہنا چاہتا ہے وہ ایک چیز ہے اور وہ کس طرح کہنا چاہتا ہے وہ ایک بات ہے۔  شعر و شاعری ہمارے دماغ کو مستحکم کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ہے۔  ایک شاعر چار مختلف حالتوں میں چار مختلف طریقوں سے ایک ہی بات کہہ سکتا ہے۔  تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک اداکار بھی چار مختلف ‘اظہار’ کے ساتھ اپنے آپ کو بیان کر سکے؟  ادیب اور شاعری ہماری سوچنے کے انداز میں ایک مختلف قسم کی گہرائی کا اضافہ کرتے ہیں ۔
    دلیپ صاحب کے گھرانےمیں اداکاری سیکھنے کی بات بھی نہیں ہوسکتی تھی  ایسی صورتحال میں ، انہوں نے ادب اور شاعری سے اپنا رشتہ قائم کیا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔  فلموں میں کامیاب اداکار بننے کے بعد بھی وہ مشاعرے میں حصہ لیا کرتے تھے۔  جب انہیں مشاعرہ میں اسٹیج پر بلایا جاتا تھا ، اور وہ شعر بولنا شروع کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے اس کی زبان سے پھول گر رہے ہوں۔  ایک مشاعرہ میں دلیپ صاحب  نے علامہ اقبال کی نظم "طلوع اسلام” کا ایک شعر پڑھا ،

    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
    ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

    اور کہا ، "وہ کیفیت جو اہل ایمان کی ہے وہ بھی اسی (اردو) زبان کی ہے۔”  ایسی بہت ساری کہانیاں ہوں گی جو اردو کے لئے دلیپ صاحب  کی محبت کو بیان کرتی ہیں۔
    وہ ہم میں نہیں لیکن اپنی اداکاری اور خوبصورت زبان کی وجہ سے وہ تاریخ کے لیجنڈ تھے اور لیجنڈ رہے گے

  • ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔ میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کالم لکھو چلو لکھ لکھ کہ تمھاری سوچ وسیع ہو گی لکھنا ائے گا غلطیاں درست ہوتی جائیں گی ۔۔۔ میں نے سوچا مشورہ اچھا ہے لوگوں کا فورا رسپونس بھی ا جائے گا۔۔۔
    خیر پچھلے 4 مہینے سے لکھ رہا ہوں مگر مجھے بے حد حیرت ہوتی ہے جب میں نے وہاں موجود دوسرے رائٹرز کو تھوڑا بہت پڑھنا شروع کیا ۔۔۔ان کہ لائکس دیکھ کہ کمنٹس دیکھ کہ مجھے لگا کچھ تو بات ہے کہ لوگ ادھر جا رہے مجھے دیکھنا چاہیے ۔۔۔
    مگر مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہمارے ادب کا معیار کس کدھر گرنے لگا ہے جس مار پیٹ کو ہم ڈومیسٹک وائلنس کا نام دیتے ہیں وہاں وہ رومانس کہ پانی میں بھگو کہ لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے لوگ بڑی رغبت سے کھا رہے ہیں ۔۔ہیرو شادی کی پہلی رات سے لے کر کوئی آدھے ناول تک ظلم کرتا ہے مار پیٹ ۔۔۔ بے اعتباری ۔۔۔نظر زبردستی سب کچھ پھر جانے اسے کیسے محبت ہو جاتی ہے اور ہیروئین ۔۔۔واہ اللہ ہی حافظ ان کا جو اتنی مار کھا کہ بھی ڈھیٹ بن کہ ہیرو کو چاہتی ہیں ۔۔واہ

    یہی لڑکیاں جب شادی کر کہ جاتی ہیں تو وہی تھپڑ انکو جسم پہ نہی روح پہ لگتے ہیں محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے انکا شوہر ہیرو نہی ولن لگتا ہے ۔۔
    بے شک فلم ڈرامہ یا ناول larger then life کہ معاولے پہ بنتے ہیں مگر کچھ تو ادب کا لحاظ کیجیئے ۔۔۔ چلو ایک آدھ ناول سہی مگر ہر ناول ہر ناول سستے چھیچھورے رومانس کہ سوا کچھ نہی ۔۔۔

    ہمارا لکھا ہر لفظ پڑھنے والوں کہ دلوں پہ اثر کرتا ہے اگر آپ رومانس کہ نام پہ ولگیرٹی لکھیں گے تو آپ کو اسکا حساب دینا ہو گا اگلے جہاں میں ۔۔۔ کیونکہ آپ چاہیں تو کرداروں کو کپڑے پہنا سکتے ہیں سب آپ کہ ہاتھ میں ہے ۔۔وہ سب لکھنے بے مقصد ہے جو جذبات کو مشتعل کر دے وہ لکھنے کی ضرورت ہے جو جذبات کو قابو رکھنا سکیکھائے ۔۔۔اگر اپ کا لکھا کوئی پڑھ کہ غلط قدم اٹھائے تو آپ اس کہ ذمے دار ہیں لیکن آپ کا لکھا کوئی پڑھ کر غلطی سے رک جائے تو بھی اپ کو اجر ملے گا ۔۔اپ وہ لکھیں جو اپ باپ بھائی ماں بہن بیٹی کہ سامنے رکھ سکیں کہ پڑھو ۔۔
    ادب لکھنے کی کوشش کریں ۔۔میں بھی کوشش کرتا ہوں اور ایک دن کامیاب ہو جاوں گا ادب لکھنے میں

    محمّد اسحاق بیگ

  • سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !!

    منٹو ادبی تاریخ کا وہ نام تھا جس نے اپنی قلم کے ذریعے ہمیں اور ہمارے معاشرے کو آئینہ دکھایا۔

    ایک کہاوت ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکو میرے خیال میں منٹو صاحب نے صحیح معنوں میں اس کہاوت کو اپنی قلم کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اس معاشرے کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔

    منٹو جیسا نہ کبھی پھر آیا اور نہ کبھی آئے گا۔
    جتنا میں نے سعادت حسن منٹو صاحب کو جانا ہے، تو ایک چیز واضح نظر آئی کہ جب جب اس معاشرے اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کو انہوں نے اصل چہرہ دکھایا تو وہ نظر چراتے، بے ضمیر شرفاء اس معاشرے کے ٹھیکیدار منٹو سے ناراض ہوجاتے اور اپنی اس گستاخی کے لیے ان کو عدالت کے چکر لگانے پڑتے
    اس معاشرے میں کچھ عناصر منٹو صاحب کے خلاف نہیں بلکہ انکی سوچ اور انکے قلم کے خلاف تھے، کیونکے سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔

    جون ایلیاء کا یہ شعر منٹو صاحب کی بھرپور عکاسی کرتا ہے :
    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    سعادت حسن منٹو نے بہت سے ناول لکھے اور ان میں اس معاشرے کے متعلق تلخ حقائق بیان کئے۔ بعد میں جن پہ ڈرامے اور فلم بندی بھی کی گئیں۔

    انکے مشہور ناولز میں : کالی شلوار، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نوکر، بدنام اور ٹھنڈا گوشت وغیرہ شامل ہیں۔

    منٹو صاحب کی کچھ کہی ہوئی باتیں جو سدا بہار ہیں اور آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے چند ایک :

    ” جس نیت سے طواف برقع پہنتی ہے کچھ مرد بلکل اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں ”

    ” جس ملک میں ہم رہتے ہیں، سر ننگا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ بندہ پورا ننگا ہو تو کہتے ہیں کہ بابا پہنچی ہوئی چیز ہے۔ ”

    ” مسجد میں شیعہ، سنی، وہابی سینما میں ایک ذات سالے مادر ذات ”

    آخر میں ایک سوال …..
    کیا آپ میں بھی منٹو ہے ؟

    کالم نگار : حسن ریاض آہیر
    Twitter Handel : @HRA_07

  • ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    نعت گوئی ایسی صنف ادب ہے جس میں طبع آزمائی کرتے ہوے شعرا حضرات بہت احتیاط کرتے ہیں.عربی میں ”مدح“ کا لفظ استمال ہوتا ہے جبکہ اردومیں نعت ایسے اشعار کو کہتے ہیں جو صرف آپﷺ کی شان ممدوحہ میں کہے گیۓ ہوں اس کا اطلاق نظم و نثر دونوں پر ہوتا ہے.انبیا ،اولیا، یا عام انسان ‏ہر ایک کی تعریف وستاٸش اس ضمن میں شامل ہوتی ہیں اگر کسی زندہ انسان کی خوبیاں بیان کی جاٸیں تو مدح کہلاتی ہے جبکہ مرنے کے بعد خوبیاں بیان ہوں تو مرثیہ کہلاتا ہے،مگر آپ ﷺ کی ذات گرامی اس قاعدے سے مستثنٰی ہے .آپﷺانسانِ کامل ہیں اور بشری صفات کا اعلٰی و ارفع نمونہ ہیں،قرآن مجید میں ‏خود آپ ﷺ کی سیرت و مکارم اخلاق کا آٸینہ دار ہے اسی وجہ سے نعت کے فن میں مبالغہ اور غلو کی کوٸ گنجاٸش نہیں ہے،اسی لیۓمولانا جامی فرماتے ہیں
    ہزار بار بشویم دہین بہ مشک وگلاب
    ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

    حضرت ابو طالب نے سب سے پہلے نعت گوئی کی ابتدا کی،سیرت النبی میں ابن ہشام ‏نے ایک قصیدہ کے سات ایسے اشعار نقل کیۓ ہیں جو حضرت ابو طالب نے آپﷺکی مدح اور اپنے خاندان کی خصوصیات میں کہے .بعد میں اصحاب رسولﷺ کے ہاں بھی نعت گوئی کا سلسلہ چلتا رہا جس کی توثیق آپ ﷺ نے خود فرمائی حضرت حسان بن ثابت نے نذرانہ عقیدت پیش کر کے بارگاہ رسالتﷺسے ”شاعر رسول“ کا خطاب ‏پایاایک اور جلیل القدر صحابی حضرت کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کے طویل قصیدے”قصیدہ بردہ“کے صرف ایک شعر پر ہزاروں شعری مجموعہ و بیاضیں قربان کہ اس پر آپﷺ نے اپنا پیراہین مبارک عطا فرما کر شاعر اور شعر دونوں کو حیات جاوداں عطا کی. یہ قصیدہ”قصیدہ بردہ بانت سعاد “ کے نام سے بھی جانا ‏جاتا ہے اس کو چادر والا قصیدہ بھی کہتے ہیں . قصیدہ بردہ کے نام سے امام بوصیری کا بھی ہے جنیہں آپﷺنے عالم رویا میں چادر سے نوازایہ برس ہابرس سے زبان زد خاص وعام چلا آرہا ہے،
    مولای صل وسلم داٸماً ابدًا
    علی حبیبک خیر الخلق کلھمہ

    اردو نعت کا باقاعدہ آغاز سلطان محمد قلی قطب شاہ سے ‏ہواجو سولہویں اور سترہویں صدی کے صاحب دیوان شاعر تھے جدید نعت گوئی کا آغاز مولانا الطاف حسین حالی سے ہوا
    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
    مردیں غریبوں کی بر لانے والا
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پراۓ کا غم کھانے والا

    مولانا حالی کا نعتیہ کلام کم مگر اعلیٰ معیار کا ہے.‏اردو کےتقریباً تمام شعرا نے نعت گوٸ میں حصہ ڈالنے کی سعی کی ہے اس صنف میں کبیر داس بھی شامل ہیں جن کے دوہے کا ایک مصرعہ مشہور ہے
    کہت کبیر سنو بھٸ سادھو نام محمدﷺآۓ
    علامہ اقبال کہتے ہیں
    لوح بھی تو قلم بھی تو ترا وجود الکتاب
    گنبد آبگینہ رنگ ترے محیط میں حباب ‏عالم آب و خاک میں ترے ظہور سے
    فروغ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
    امیر مینائی کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں
    مدینے جاٶں پھر آٶں مدینے پھرجاٶں
    تمام عمر اسی میں تمام ہوجائے
    حفیظ تاٸب لکھتے ہیں
    میرے غم خانے کو ہے ان کی توجہ درکار
    جن کو آتا ہے تبسم سے اجالا کرنا
    فراق کہتے ہیں ‏مدینے میں اگر پیدا ہوا ہوتا تو کیا ہوتا
    محمد کی گلی بھیتر فنا ہوتا تو کیا ہوتا

    محسن کاکوری،جگر مرادآبادی،ماہرالقادری،جلیل مانک پوری ،تسنیم فاروقی،امیر مینائی،ابرار کرنپوری،ماجد دیو بندی اوربہت سے دوسرے حضرات نے اس صنف میں قابل قدر اضافہ کیاموجودہ نعتیہ شاعری عہد نبوی سے شروع ہونے ‏والی روایات کا جان دار اور شان دار تسلسل ہےاور حالی و اقبال کے وسیلے سے عصر حاضر کے شعرا تک پہنچی پھر ریڈیو ،ٹی وی،پرنٹ میڈیا،فلم،نعتیہ مشاعروں ،مجالس،میلاد اور دینی محافل کے ذریعے فروغ پا کر آج ہمارے سامنے بے بہا خزانہ بن کر ابھری ہے
    ماخذات
    تاریخ گوئی نور کی ندیاں
    ڈاکڑ عزیز احمد

  • مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : مشتاق احمد یوسفی 4 سمتبر 1923ء کو جے پور بھارت میں پیدا ہوئے، انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی، بعدازاں اپنی اہل خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد وہ مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے، آپ بیتی سب کچھ شامل ہے اور ان سب میں طنز و مزاح کی وہ پرلطف روانی موجود رہی جسے پڑھ کر اردو زبان اور مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کا گرویدہ نظر آتا ہے۔

    ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کے کل پانچ مجموعے شائع ہوئے، جن میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اورشام شعر یاراں شامل ہیں۔

    ادب میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999ء میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002ء میں ہلال امتیاز سے نوازا۔ اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں شمار ہونے والے ہر دلعزیز مصنف علالت کے باعث 20 جون 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے-

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔