Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مظفرگڑھ میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا

    مظفرگڑھ میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا

    تھانہ کراد قریشی کی حدودمیں
    محمد رجب قلندرانی , محمد حاکم قلندرانی بستی بکھے والا , یونین کونسل گل والا , قصبہ بصیرہ , تحصیل و ضلع مظفر گڑھ کے

    رہائشیوں نے سرعام رسیوں سے باندھ کر محمد سلیم گاذر ولد محمد کاظم موضع سدن والا یونین کونسل گل والا تحصیل و ضلع مظفر گڑھ کے رہائشی پر تشدد کر ڈالا
    جو انسانی حقوق کے تحفظ کی کھلی نا فرمانی ہے

  • فیض احمد فیض کا 110 واں یوم پیدائش

    فیض احمد فیض کا 110 واں یوم پیدائش

    معروف اور عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کا آج 110 واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے تعلیم آبائی شہراورلاہورمیں مکمل کی، اپنے خیالات کی بنیاد پر1936 میں ادبا کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔

    بعد ازاں درس و تدریس چھوڑ کردوسری جنگ عظیم میں انہوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی لیکن بعد میں ایک بار پھرعلم کی روشنی پھیلانے لگے جوزندگی کے آخری روزتک جاری رہی۔

    فیض احمد فیض کی شاعری کے انگریزی، جرمن، روسی، فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں ان کے مجموعہ کلام میں ’نسخہ ہائے وفا، نقش وفا، دست صبا، سر وادی سینا، زنداں نامہ‘ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔

    فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنہیں 1963 میں لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا -فیض کی شاعری مجازی مسائل پر ہی محیط نہیں بلکہ انہوں نے حقیقی مسائل کو بھی موضوع بنایا۔

    فیض کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، آشا بھوسلے اورجگجیت سنگھ جیسے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ انہوں نے درجنوں فلموں کے لئے غزلیں، گیت اورمکالمے بھی لکھے –

    تاہم انقلابی شاعر 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

  • پاکستان میں اخبار اور رسائل زوال پذیر کیوں ؟اس صنعت کو بچانے کیلئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟

    پاکستان میں اخبار اور رسائل زوال پذیر کیوں ؟اس صنعت کو بچانے کیلئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟

    ایک زمانہ تھا جب پرنٹنگ پریس کا آغاز ہوا تو دنیا بھر میں اخبارات لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے لگے اخبارات رسائل اور جرائد کے ذریعے عوام کو حالات حاضرہ سے آگاہ رکھا جاتا تھا دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوتے تھے-

    باغی ٹی وی : جب آہستہ آہستہ سوشل میڈیا نے اپنی جگہ بنائی تو اخبارات نے انٹرنیٹ پر پیپر کے نام پر جگہ بنالی جبکہ ابھی ای پیپر کا دور ختم ہونے کو جا رہا ہے اور سوشل میڈیا اپنی جگہ تیزی سے بنا رہا ہے لوگ سوشل میڈیا پر خبریں دینے کے علاوہ اپنے تجزیہ بیان کر رہے ہیں-

    اخبارات رسائل اور جرائد زوال پذیر ہو رہے ہیں ہزاروں سے سیکڑوں کی تعداد تک محدود ہو رہے ہیں پاکستان میں کچھ سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں مختلف ناموں سے فیشن میگزین سمیت مختلف میگزین شائع ہوتے تھے اورزیادہ پرانی بات نہیں جب گھر میں اخبار یا کوئی رسالہ آتا تھاتو اسے ذو ق و شوق سے پڑھا جا تھا اور انمیں چھپی خبروں اور مضامین پر سیر حاصل بحث ہوتی تھی۔

    اخبار اور جرائد میں شائع ہونے والے معلوماتی مضامین علم میں اضافے کا باعث بنتے تھے ۔ یہ اضافی معلومات اسکو ل میں بڑی کام آتی تھیں اور اسکول میں ہونے والے غیر نصابی ، ادبی اور معلوماتی پروگرام میں آپ کی کامیابیوں کا سبب بنتی تھیں حقیقت میں اخبارات اور رسائل نے ہمارے کیریئر اور شخصیت کو پروان چڑھانے میں بڑا کام کیا ہے اور آج بھی کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سےنئی نسل اخبارات و رسائل سے اتنی زیادہ بہرہ مند نظر نہیں آتی جتنا کہ اسے اس کی ضروت ہے-

    سائنس اور ٹیکنالوجی نے معاشرے کے نظام اقدار کو بدل کر رکھ دیا۔ نئے تعلیمی نظام اور زندگی میں در آنے والی ترغیبات اور نئی تفریحات نے اعلیٰ معیار کے ادب اور ادبی رسائل کو بے حیثیت کردیا ہے۔

    تعجب خیز بات یہ ہے کہ ادیب اور ادبی رسالوں کے مدیروں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جب معاشرہ اور اس کے تقاضے ہی بدل گئے تو ادبی رسالوں کو بھی ان کے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ہمارا پرانا معاشرہ “مواد” پر قانع تھا، نئے معاشرے میں “پیش کش” کی اہمیت بڑھ گئی۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت ابھی بھی ہے اور کچھ لوگ اخبارات یا میگزین کی صورت میں اس صنعت کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ادبی رسائل نے لائق اعتنا نہ سمجھا وہ “مارکیٹنگ” ہے اس سلسلے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اب پاکستان میں ہر ماہ بزنس کی دنیا کا منفرد اور سب سے مشہور فلیر میگزین کی ای پیپر کاپی جاری کی جاتی ہے-

    اردو اور انگلش زبان میں شائع ہونے والا میگزین گزشتہ 17 سال سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے میگزین میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیلی کام شعبے کی ترقی کے بارے میں بھی مضامین شائع کئے جاتے ہیں اور خاص طور موبائل فون کی دنیا کہ بارے میں بھی تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے-

    اس میں خصوصاً رسالے کی اشاعت کے بعد قارئین کو خریدار بنانے کی ترغیب دینا، اس کے لیے اشتہار دینا اور پھر رسالے کی قارئین تک ترسیل کے لیے تیز رفتار نظام کو حرکت میں لانا، مثلاً معقول کمیشن پر رسالے کی تقسیم و ترسیل کا انتظام ہاکروں کے سپرد کرنا وغیرہ-

  • اقبا ل سے منسوب ایک نظم اور صورت ِ احوالِ واقعی

    اقبا ل سے منسوب ایک نظم اور صورت ِ احوالِ واقعی

    آج کل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو ریکارڈنگ گردش کر رہی ہے جسے پوسٹ کر نے والے صاحب نے علامہ اقبال کی نایاب آڈیو ریکارڈنگ بتا یا ہے۔7دسمبر 2018 کو مجھے محترم بشارت علی سید نے یہ ریکارڈنگ وٹس ایپ کی تومجھے شبہ ہوا کہ یہ نظم اقبال کی نہیں۔سو میں نے تحقیق کی توپتا چلا کہ یہ ریکارڈنگ علامہ اقبال کی نہیں بلکہ بھارت میں مقیم شاعر عتیق احمد جاذب کی ہے جو اپنی نظم”ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے”پڑھ رہے ہیں.میں نے اس تحقیق کی روشنی میں اُسی دن یعنی 7دسمبر 2018 کوہی فیس بک پہ ایک پوسٹ لگا دی تاکہ شعر وادب بالخصوص اقبال کے شیدائی آگاہ ہوں اور اس جعلی ریکارڈنگ کو آ گے بڑھانے سے گریز کریں ۔میری پوسٹ کے کچھ دن بعد کسی دوست نے عتیق احمدجاذب کی وڈیو ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کردی مگر کیا کیا جائے کہ دنیا بغیر تتحقیق و تصدیق اس ریکارڈنگ کو آگے ہی آگے بڑھا ئے جاتی ہے۔ یہ معاملہ نیا نہیں ،ایسے کئی اشعار اور غزلیں موجود ہیں جن کے حقیقی شاعر کو کم لوگ جانتے ہیں۔کئی اشعار اقبال نہیں مگر اقبال کے نام سے منسوب کرکے آگے بڑھائے جا رہے ہیں ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ کئی اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اس کام میں مصروف ہیں۔یہاں وہ سارے اشعار درج کرنے کا تو مقام نہیں مگر صرف دو شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں،جو اقبال کے نہیں مگر ان سے منسوب کر دیے گئے ہیں

    تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    (صادق حسین صادق)

    اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
    اک ضربِ یداللہی اک سجدہء شبیری

    (وقارانبالوی)

    گزشتہ دنوں محترم ذہین احمد صاحب ،عزیزی ذیشان جنجوعہ اور کئی دیگر دوستوںنے یہ ریکارڈنگ مجھے مسینجر پر بھجوائی تو میں نے انھیں صورت حال سے آگاہ کر دیا۔پھر سوچا کیوں نہ اخبار کے قارئین کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کردیا جائے۔سو قارئین محترم!یہ ریکارڈنگ اقبال کی نہیں ،عتیق احمد جاذب کی ہے اور اب ان کی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ عتیق جاذب صاحب کی کتابیں "ریختہ ڈاٹ کام "پر موجود ہیں اور ان کی کتاب "پیامِ حیات” اور "گلستان ِحیات” میں یہ حمدیہ نظم اولین صفحات پر درج ہے۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ اقبال کی کوئی آڈیو یا وڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں۔گزشتہ 78 سال سے محقیقین اس حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں لیکن انھیں تاحال کامیابی نہیں ہوئی۔ عتیق جاذب صاحب کی نظم درج ذیل ہے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے

    چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے

    جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے

    پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے

    بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے

    مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے

    برسات سے، طوفان سے، پانی سے، ہوا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    گلشن کی بہاروں سے، تو کلیوں کی حیا سے

    معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے

    لہراتی ہوئی باد سحر، باد صبا سے

    ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے

    چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے

    موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جلا سے

    ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے، جفا سے

    رنج و غم و آلام سے، دردوں سے، دوا سے

    خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفا سے

    بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے

    نیکی سے، عبادات سے، لغزش سے، خطا سے

    خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے

    رحمت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے

    اوصافِ براہیم ؑ سے، یوسف ؑ کی حیا سے

    اور حضرت ایوبؑ کی تسلیم و رضا سے

    عیسٰی ؑکی مسیحائی سے، موسیٰ ؑکے عصا سے

    نمرود کے، فرعون کے انجام فنا سے

    کعبہ کے تقدس سے تو مرویٰ و صفا سے

    تورات سے، انجیل سے، قرآں کی صدا سے

    یٰسین سے، طٰہٰ سے، مزمل سے ، نبا سے

    اک نور جو نکلا تھا کبھی غار حرا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے.

  • سنہری یادیں   تحریر:اختر نعیم مانسہرہ

    سنہری یادیں تحریر:اختر نعیم مانسہرہ

    سنہری یادیں

    ادبی تقاریب میں اب وہ پہلے جیسی چاشنی نہیں رہی، وجوہات کیا ہیں اس پر ہم کبھی تفصیل سے لکھیں گے کہ قصور کس کا ہے ؟
    ہزارہ ڈویژن میں 1980 کی دہائی میں مینگل ادبی تقاریب کا عروج تھا، ہری پور، ایبٹ آباد، حویلیاں، بفہ، شنکیاری اور مانسہرہ کے مشاعروں میں شاعروں کے ساتھ ساتھ ادب نواز احباب بھی بھرپور شرکت کیا کرتے تھے۔ ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لالہ یعقوب اعوان ایک صحافی تھے شاعر تو نہ تھے لیکن شاعروں کو داد دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ان کے داد دینے کا انداز شاعر کو حوصلہ دیتا اور سامعین بھی ان کے داد دینے کے انداز سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے، میں اس پر بھی آئندہ تفصیلی بات کروں گا۔
    ہمارے بہت ہی مہربان اور مزاح نگار شاعر نیاز سواتی مرحوم جن کا نام برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کا محتاج نہ تھا یہاں بھی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے جب ان کا نام سٹیج سے پکارا جاتا تو سامعین ہمہ تن گوش ہوجایا کرتے تھے۔
    ایبٹ آباد میں ایک طرحی مشاعرہ تھا، مصرع یوں تھا۔
    شاعر ہوں میں شاعر کی نوا ڈھونڈ رہا ہوں۔
    اس نیاز سواتی مرحوم نے یوں گرہ لگائی۔
    ملتان میں مری کی ہوا ڈھونڈ رہا ہوں
    شاعر ہوں میں شاعر کی نوا ڈھونڈ رہا ہوں
    محفل تو بس ان کی پوری غزل سے جھوم اٹھی تھی۔
    ایبٹ آباد کے ہمارے بزرگ شاعر شعلہ بجنوری صاحب تھے جن کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔
    ایک مشاعرہ میں نیاز سواتی سٹیج پر آئے سامنے شعلہ بجنوری صاحب بھی بیٹھے تھے، نیاز سواتی نے شعلہ صاحب سے پہلے بہت ہی معذرت کی اور اپنی غزل کا آغاز کیا جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا
    مونچھوں کا کل مقابلہ ہے مال روڈ پر
    ساتھ اپنے ایک آدھ مچھندر بھی لے چلیں
    محفل تو لوٹ پوٹ ہوگئی اور نیاز سواتی مرحوم بار بار شعلہ بجنوری سے معذرت کرتے رہے۔

    ان تمام شعراء کے بارے میں بہت سی باتیں میری زیر ترتیب کتاب میں ہیں لیکن گاہے بگاہے کچھ باتیں یہاں بھی شئیر کرتا رہونگا۔
    اختر نعیم مانسہرہ

  • احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی  سینیٹر شبلی فراز

    احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی سینیٹر شبلی فراز

    اسلام آباد: احمد فراز قومی ادبی سیمینار میں سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ احمد فراز کو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ احمد فراز نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کا کام لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی،ا ن خیالات کااظہارسینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمد فراز ٹرسٹ کے اشتراک سے اردو کے عہد سازشاعر احمد فراز کی 90ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ”احمد فراز قومی ادبی سیمینار“ میں کیا۔

    شبلی فراز اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مجلس صدارت میں پروفیسر فتح محمد ملک اور محمد اظہار الحق شامل تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ محمد حمید شاہد، خواجہ نجم الحسن، اختر عثمان، عائشہ مسعود، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے اظہار خیال کیا۔

    حسن عباس رضانے منظوم خراج پیش کیا۔ عدنان رضا ، بانو رحمت اور زاہد علی خان کلامِ فراز ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔

    سینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ، نے کہاکہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی۔

    انھوں نے کہاکہ احمد فرازایک بااُصول انسان تھے، وہ کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ انھوں نے مظلوم کشمیریوں، فلسطینیوں اور افریقہ کے محکوم اقوام کے لیے شاعری کی صورت میں جدوجہدکی ۔ وہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے ۔ وہ پاکستان کی طرف سے محبت اور دوستی کے سفیر تھے۔

    شبلی فراز نے کہا کہ احمد فرازنے کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے نہ صرف شاعری کے ذریعے جدوجہد کی بلکہ عملی طور پر بھی شریک رہے۔دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے ،احمد فرازکانام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے نامور شعراءمیں شامل احمد فراز کی نظم اس فکر واحساس سے ترتیب پاتی ہے، جو ہمارے ماضی اور حال سے جُڑا ہوا ہے۔احمد فراز کی غزلیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کاکام لیا۔

    احمدفراز زمانے کی پیدا کردہ ناہمواریوں کے خلاف اورقیام امن کے لیے مستقل لکھتے رہے۔احمد فراز اپنی غزلوں میں خیالات اور الفاظ کو ایک دوسرے کی طاقت بنا کر سامعین و قارئین کے دلوں کے اندر اُترنے کا فن جانتے تھے۔ یہ اُن کی شاعری کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھی عوام اور خواص دونوں سطح کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بلاشبہ اُن کی شاعری رومان اور مزاحمت کا حسین امتزاج ہے ۔

    پروفیسر فتح محمد ملک نے صدارتی خطاب میں کہا کہ احمد فرازکو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی، اُنہوں نے بہت سے ملی ترانے لکھے، جو مٹی کی خوشبوں اور وطن کی محبت سے مملو ہیں۔ وہ جس شدت سے محبت کرتے، اُسی شدت سے لکھتے تھے۔ وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ ادب اور شاعری کو سچائی کا محور سمجھتے تھے۔

    لہٰذا اُنہوں نے ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کی، اور ظلم وجبر کے خلاف زبردست مزاحمت کی، رومان اور مزاحمت دونوں صورتوں کی شاعری میںاحمد فراز نے کمال مہارت سے ندرت اور انفرادیت قائم کی ۔ جواُنہی کا خاصا ہے ، احمد فراز اپنی مثالی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔

    محمد اظہار الحق نےا اپنے خطاب میں خصوصیت کے ساتھ فراز صاحب کے ابتدائی مجموعوں اور درد آشوب کا ذکر کیا، جب ملکی سیاست میں انخطاط کا زمانہ تھا، اور علمِ احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ تھا، فرازصاحب نے اُس زمانے میں اُردو کو ایسے کمال اشعار عطا کیے جو انہی کا حصہ ہیں۔

    محمد حمید شاہدنے کہا کہ احمد فراز نے اپنا مقام کسی بھی سیاسی یا عہدے کے سہارے کے بغیر اپنا مقام پیدا کیا –

    خواجہ نجم الحسن نے کہا کہ میڈم نور جہاں ، سلمی آغا اور دیگر فنکار احمد فراز سے دلی محبت و ان کا احترام کرتے تھے-

    اختر عثمان نے احمد فراز کو ہر دور کے شاعر قرار دیا –

    عائشہ مسعود نے کہا احمد فراز سچے شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان سے شفقت کا رویہ رکھتے تھے-

    ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ احمد فراز مشہور ہونے کے ساتھ مقبول شاعر بھی تھے-

    ڈاکٹر روش ندیم نے کہا احمد فراز اپنے ہمعصر کے ساتھ نوجوان شعرا کے لیے راہ نما شاعر ہیں اور رہیں گے اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے احمد فراز کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی شاعری اپنی خوبصورتی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی گیاحمد فراز اپنی لاجواب شاعری کیوجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    پروگرام کے آخر میں فراز کی شاعری کو گلوکاروں نے گا کر نشست کو گل رنگ کر دیا ۔

  • نامور شاعراور ماہر لسانیات نصیر ترابی انتقال کر گئے

    نامور شاعراور ماہر لسانیات نصیر ترابی انتقال کر گئے

    اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات، لغت نویس نصیر ترابی دل کا دورہ پڑنے سے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے-

    باغی ٹی وی : اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات، لغت نویس نصیر ترابی نامور ذاکر اور خطیب علامہ رشید ترابی کے فرزند تھے ۔ پاکستانی ڈراما سیریل ہمسفر کے ٹائٹل گیت وہ ہم سفر تھا ، انہیں کی مقبول عام غزل تھی ۔

    نصیر ترابی 15 جون 1945ء کو ریاست حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ 1968ء میں جامعہ کراچی سے تعلقات عامہ میں ایم اے کیا۔ 1962ء میں شاعری کا آغاز کیا۔

    ان کا اولین مجموعۂ کلام عکس فریادی 2000ء میں شائع ہوا۔ ایسٹرن فیڈرل یونین انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور افسر تعلقات عامہ مقرر ہوئے۔ عکسِ فریادی (غزلیات) ؛شعریات (شعر و شاعری پر مباحث اور املا پر مشتمل) ،لاریب (نعت، منقبت، سلام)،

    نصیر ترابی کو انک کی ادبی خدمات کی وجہ سے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے علامہ اقبال ایوارڈ ملا۔

    وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
    کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

    نہ اپنا رنج، نہ اوروں کا دکھ، نہ تیرا ملال
    شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی

    محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
    شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی

    عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
    بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

    بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
    غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

    کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
    صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی

    کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
    کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی

    عجیب ہوتی ہے راہِ سخن بھی دیکھ نصیر
    وہاں بھی آگئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

    (نصیر ترابی)

  • معروف شاعراور افسانہ نگار ایزد عزیزانتقال کرگئے

    معروف شاعراور افسانہ نگار ایزد عزیزانتقال کرگئے

    اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : ایزد عزیز صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں اگست 1954 میں پیدا ہوئے ان کے والد پولیس ملازم تھے جب کہ ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد بھی ادب سے وابستہ رہے ہیں۔

    ایزد عزیز کا پیدائشی نام عثمان عزیز تھا تاہم ادبی دنیا میں انہوں نے ایزد کے نام سے الگ پہچان بنائی ایزد عزیز نے محض 17 برس کی عمر میں شاعری شروع کی تھی جب کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ "غروب شب” 1989 میں شائع ہوا تھا۔

    ایزد عزیز کا شمار ملک کے ممتازشعرا اور افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا، ان کی تصانیف میں پنجابی شعری مجموعہ ’کلے رُکھ دا وین‘، سلام و منقبت پر مشتمل مجموعہ ’تسلیم‘ اور افسانوں پرمشتمل مجموعہ ’عالم ارواح کے مال روڈ پر‘ شامل ہیں۔

    ایزد عزیز کی شادی ان کی تایا زاد کے ساتھ 1985 میں ہوئی ان کے دو بیٹے ابوذر عزیز، حمزہ عزیز اور ایک بیٹی زینب عزیز ہے۔

    انہوں نے بینک میں ملازمت کرنے سمیت ریڈیو پاکستان میں بھی ملازمت کی اور بیرون ملک بھی گئےایزد عزیز زندگی کے آخری ایام تک ادب سے وابستہ رہے اور چند ماہ قبل تک وہ ادبی سرگرمیوں میں فعال دکھائی دیے جبکہ ان کا ایک شعری مجموعہ ان دنوں اشاعت کے مرحلوں میں تھا

    ایزد عزیز کے انتتقال پر وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی افسوس کا اظہار کیا جب کہ ادب سے وابستہ شخصیات نے ان کی موت کو ادبی دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔

    ایزد عزیز کو ان کے آبائی ضلع ساہیوال کےماہی شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    سارہ خان کا مرحوم والد کے لئے جذباتی پیغام

    سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

  • مداح آج جون ایلیا کی 18 ویں برسی منا رہے ہیں

    مداح آج جون ایلیا کی 18 ویں برسی منا رہے ہیں

    مداح آج ہر دلعزیز اور معروف شاعر جون ایلیا کی 18 ویں برسی منا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : سید حسین جون اصغر نقوی جون ایلیا کے نام سے مشہور ہیں جو 14دسمبر سن 1931کو بھارت کے شہر امروہہ میں پید ا ہوئے جون ایلیا کو انگریزی،عربی اور فارسی پر مکمل عبور حاصل تھا ان کا پہلا شعری مجموعہ ’شاید‘کے نام سے شائع ہوا جس کو اردو ادب کادیباچہ قراردیا گیا اردو ادب میں جون ایلیا کے نثر اور اداریے کو باکمال تصور کیا جاتاہے۔

    جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ’یعنی گمان ،لیکن ،گویا اور امور‘ شامل ہیں، بیشتر تصانیف کو پذیرائی ملی الگ تھلگ نقطہ نظر اور غیر معمولی، عملی قابلیت کی بنا پر جون ایلیا ادبی حلقوں میں ایک علیحدہ مقام رکھتے تھے-

    جو ن ایلیا اپنی نوعیت کے منفرد شاعرتھے انہوں نے انگاروں پر چل کر شاعری کی ادب سے جڑے شعرا کا ماننا ہے کہ جون اپنی منفرد شاعری میں اکیلا تھا ان جیسے کی اب دوبارہ توقع نہیں کی جاسکتی۔

    ان کی شاعری نہ ختم ہونے والے درد کی وجہ سے مشہور ہے۔ انہوں نے درد اور دکھ کا اظہار اس طرح سے کیا کہ کوئی بھی ان کی شاعری سے متاثر ہوسکتا ہے۔

    ان کی شاعری میں درد کا بہاؤ ملتا ہے جس کی ہم منصبوں کی شاعری میں کمی ہے۔ جون ایلیا نحل پسند اور انتشار پسند تھے اسی طرح ان کی شاعری میں محبت کا ایک ممتاز فلسفہ تھا۔ ان کے مطابق ، محبت کی اعلی سطح در حقیقت عاشق سے علیحدگی کا آغاز ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں: بہت نزدیک آتی جا رہی ہو ۔۔بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا؟ اور یہ بھی: کیا کہا محبت جاودانی ہے؟آخری بار مل رہی ہو کیا؟

    انہوں نے محبت ، فلسفہ محبت زندگی کے بارے میں بھی شاعری لکھی ، لیکن وہ درد کے شاعر کے طور پر مشہور ہیں-

    علاوہ ازیں جون ایلیا ان نمایاں افراد میں شامل ہیں جنھوں نے قیام پاکستان کے بعد جدید غزل کو فروغ دیا وہ جون ایلیا کو میر اور مصفی کے قبیل کا انسان قراردیتے ہیں۔

    جون ایلیا کی شاعری کو معاشرے اور روایات سے کھلی بغاوت سے عبارت کیا جاتا ہے اسی وجہ سے ان کی شاعری دیگر شعراسے مختلف دکھائی دیتی ہے انھیں معاشرے سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ شاعر کو وہ عزت وتوقیر نہیں دی جاتی جس کا وہ حقدار ہے زمانے میں الگ شناخت رکھنے والے جون ایلیا 8نومبر 2002کو انتقال کرگئے تھے۔

  • اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ  پر تنقید

    اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ پر تنقید

    پاکستان کے معروف و مقبول موٹیویشنل اسپیکر اور لکھاری قاسم علی شاہ پرگزشتہ چند روز سے ان کے ایک ویڈیو کلپ پر تنقید کی جارہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا کہ خاتون کو اچھی بیوی کیسے بننا ہے۔

    باغی ٹی وی :36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد سے قاسم علی شاہ کا بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے جس میں قاسم علی شاہ نے ایک اچھی بیوی اور ماں سے متعلق بات کی ہے۔

    مذکورہ سوال پر مشتمل 36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ قاسم علی شاہ کی تقریباً 15 منٹ کے دورانیے پر مشتمل اس ویڈیو کا ہے جسے انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر رواں برس مئی میں اپلوڈ کیا تھا یہ قاسم علی شاہ کے سوال و جواب کے اس سیشن کا ایک حصہ ہے جس میں انہوں نے حور فاطمہ نامی خاتون کے سوال کا جواب کا دیا تھا۔

    حور فاطمہ نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ کیا ملازمت کرنے والی خواتین بچوں کی اچھی مائیں ثابت نہیں ہوپاتیں؟

    تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں قاسم علی شاہ نے خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی اسکول میں چلے جائیں جہاں بیٹیاں ہماری پڑھتی ہیں10 سال میٹرک کی ڈگری تک،اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    ویڈیو میں قاسم علی شاہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حالانکہ عورت کی زندگی میں دو کرداروں کی بہت اہمیت ہے جن میں سے ایک کردار ہے اچھی بیوی کا اور دوسرا اچھی ماں کا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسکول میں کہیں نہیں پڑھایا جاتا کالج میں نہیں پڑھایا جاتا اور یونیورسٹی میں بھی بالکل بھی نہیں پڑھایا جاتا اور جو ذریعہ باقی رہ گیا کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیا ہوتی ہے تربیت کا وہ ذریعہ گھر ہےیعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے۔

    یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قاسم علی شاہ پر کئی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔

    اسی حوالے سے پاکستانی کامیڈین اور تھیٹر ایکٹر شہزاد غیاث شیخ نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے تنقیدی انداز میں لکھا کہ گرلز اسکولز کیوں ہیں اگر وہ انہیں شوہروں کی غلامی کیسی کرنی ہے نہیں سکھا سکتے؟’
    https://twitter.com/Shehzad89/status/1323299001177878530?s=20
    انہوں نے مزید کہا کہ’لاہور گرامر اسکول (ایل جی ایس) کو اپنا نام لاہور گروم سلیوز رکھ لینا چاہیے، سائنس کی ساری کتابوں کو آگ لگائیں اور لڑکیوں کو بتائیں کہ بہتر وِگس کیسے بناتے ہیں، تاکہ قاسم علی شاہ دوبارہ کبھی بھی کیمرا پر ایسے دکھائی نہ دیں۔


    ایک اور صارف نے کہا کہ دیکھیں یہ کس نے کہا ہے انہیں بہت سراہا جاتا ہے۔

    اس صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ میری قبر میں بچھو اس کی وجہ سے آئیں ہم سب کو سکھیا جائے کہ ایک اچھی بیوی میسے بننا ہے وہ بھی دسویں گریڈ تک ؟پیدا ہوتے ہی شادی کر دیا کریں بس نہیں چلتا نا جاہلوں کا –

    اس نے مزید لکھا کہ تو اس شخص نے یہ کہا ہے کہ خواتین کو میٹرک تک آخر کار اچھی بیوی کیسے بناتے نہیں سکھایا جاتا جو اُن کا آگے ایک سب سے ضروری کردار ہے ایک وائف کیسے بننا ہے اور اچھا کیسے کرنا یہ نہیں سکھایا جاتا-

    صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا کہ کیا عمران خان ‘پرفیکٹ وائف 101‘ کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کروا سکتے ہیں اور جب ہم لڑکیاں یہ مضمون پڑھیں گی تو اس وقت لڑکے کھیلوں کی کلاس میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پرفیکٹ ہیں۔

    ساتھ ہی لکھا کہ میں نے بھی اس کے بعد اس ویڈ یو کو سننا چھوڑ دیا ، اس لئے اس نے نتیجہ اخذ کیا لیکن قاسم علی شاہ ہم آپ کی کتابیں باہر پھینک رہے ہیں

    https://twitter.com/SundusSaleemi/status/1323321553875017730?s=20
    ایک اور ٹوئٹر صارف نے اسی صارف کی ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر اچھی بیوی بننے کا مطلب ہے کہ بیوی، شوہر کی فرمانبردار ہو، اس کی ضروریات، خواہشات، پسند اور ناپسند کی تابع ہو، شوہر کے گرد گھومتی زندگی بنائے تو تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


    قاسم علی شاہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے ایک اور صارف نے سوال کیا کہ مردوں کو بہتر انسان بننا کیوں نہیں پڑھاتے جبکہ پاکستان کو ریپ، غیرت کے نام پر قتل، ایسڈ حملے، گھریلو تشدد، جبری شادیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے تو کیوں نہ مردوں کو بہتر شوہر، باپ، انسان اور شہری بننا سکھایا جائے؟


    صحافی عافیہ سلام نے طنزیہ اندا میں لکھا کہ اچھا باپ اور شوہر بننے کی تعلیم تو کنڈرگارٹن میں شروع ہوتی ہے نا؟


    علی خان ترین نے لکھا کہ اگر معاشرے میں خواتین کے حصول کارنامے ’’ اچھی بیوی ‘‘ (جس کے ذریعہ میں مانتا ہوں کہ اس کا مطلب ایک نافرمان ہے) معاشرے کی ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔واقعتا اس کا قصور بھی نہیں ہے۔ یہ جس معاشرے میں ہم بڑے ہو رہے ہیں۔جناب، اپنا دماغ کھولیں ، دوسری ثقافتوں کے بارے میں جانیں۔ کچھ مارگریٹ میڈ پڑھیں۔

    جہاں صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ صارفین نے قاسم علی شاہ کے مذکورہ بیان کی تائید بھی کی۔

    رانا عمران جاوید نے کہا کہ قاسم علی شاہ بالکل ٹھیک ہیں خاندان ایک بنیادی اکائی ہے جو ایک معاشرہ تشکیل دیتی ہےاگر لڑکیوں اور لڑکوں کو خاندان میں ان کے کردار سے متعلق تعلیم نہیں دی جاتی تو کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔


    رانا عمران جاوید نے کہا کہ یہ خواتین کی محرومی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق معاشرتی ترقی سے ہے۔

    ایک اور صارف نے کہا کہ 36 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ پر ہم سوالات اور اعتراضات اٹھارہے ہیں ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی کہ سوال کیا تھا؟ قاسم علی شاہ نے اس سے پہلے یا بعد میں کیا کہا؟


    علی بیگ نامی صارف نے لکھا کہ کیا آپ بھی جانتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ 30 سیکنڈ کا یہ کلپ آپ کو تصویر کا مکل رُخ نہیں دکھا سکتا-


    محمد عمار راشد نے لکھا کہ اگر لڑکی نے اچھی بیوی نہیں بننا تو آپ اُسے کیا بنانا چاہتے ہیں قسم صاھب نے کیا غلط کہا ہے بلکہ قاسم صاحب نے ایسی بات کہی ہے آج سے پہلے کسی نے نہیں کہی-


    محمد شہزاد افضل نامی صارف نے لکھا کہ قاسم علی شاہ صاحب ہمارے athecs پہ بات کر کے سوسائٹی کے استحکام کی بات کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اسے گھسیٹ گھساٹ کے یورپی کلچر کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں