Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • محبت بغاوت نہیں   تحریر:منہال زاہد سخی

    محبت بغاوت نہیں تحریر:منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    دل کو جستجو اور لبوں کو عادت نہیں تھی
    عشق کرکے نبھانے کی طاقت نہیں تھی

    اٹھے اس بازار میں کئی امیدوار محبت کے
    پر مجھ میں دل بانٹنے کی استطاعت نہیں تھی

    مجرم تو بن گئے پر نوبت یہاں تک آ پہنچی
    مجھے شریک جرم کی حاصل حمایت نہیں تھی

    یوں سامنے سے گزرے یوں اس نے منہ پھیرا
    مجھے تو گلی سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی

    وہ سامنے سے کچھ اور پیچھے سے کچھ
    جب کھلے ان کے بھید تو ندامت نہیں تھی

    تعلق نبھاتے ہوئے بھی وہ مفاد تولتے رہے
    جو کچھ بھی کہ لو یہ شرافت نہیں تھی

    نیت میں کھوٹ تھا اور سجدے بے فائیدہ
    یہ کیسی دعا تھی عبادت نہیں تھی

    ان کو ہوس تھی مال و دولت اور رتبہ کی
    سب کچھ مل گیا پر عزت نہیں تھی

    اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ
    جو ان کی ہوئی ہے وہ ذلالت نہیں تھی

    خودی سے نہ نکلے رہے وہ تن پروری میں
    نظر انداز کر گئے سب ذرہ سخاوت نہں تھی

    اب آزاد ہوگیا میں فکروں سے ہجر کی رات
    سکون میں سمائے ہوئے پر تھکاوٹ نہیں تھی

    پھر میں سب فکروں سے آزاد تنہائی میں آ بسا
    مجھ سے ملنے کو کسی کو فراغت نہیں تھی

    اب جو انہوں نے ماتم کیا ہے پر زور سخی
    تسلی دل تھی صدائے محبت بغاوت نہیں تھی

    میں نے اس کو حافظے کے سہارے نہیں چھوڑا سخی
    کہ بھول جائیں اور ساتھ یاداشت نہیں تھی

    #قلم_سخی

  • دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
    کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
    دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
    تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
    یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
    نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
    یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
    رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
    یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
    کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
    کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
    کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
    یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
    مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
    فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
    ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
    یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
    دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
    انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
    دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
    تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
    ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
    عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
    جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
    وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
    ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
    کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
    ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
    خرید کر بس رنج و ملال…
    بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
    اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
    کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
    تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
    اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
    جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
    منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
    تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
    تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
    کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
    نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
    یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
    واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
    اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
    ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
    یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
    جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
    =============================

  • دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
    کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
    دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
    تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
    یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
    نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
    یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
    رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
    یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
    کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
    کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
    کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
    یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
    مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
    فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
    ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
    یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
    دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
    انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
    دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
    تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
    ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
    عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
    جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
    وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
    ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
    کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
    ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
    خرید کر بس رنج و ملال…
    بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
    اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
    کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
    تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
    اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
    جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
    منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
    تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
    تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
    کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
    نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
    یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
    واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
    اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
    ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
    یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
    جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
    =============================

  • میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟  تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟ تحریر: جویریہ بتول

    میں کیسے مناؤں سالگرہ مبارک؟
    (جویریہ بتول)۔
    (ایک بہن کی فرمائش پر جو اس نے اپنی سالگرہ کے موقع پر لکھنے کے لیئے کی تھی)۔
    گزر گئیں دھیرے دھیرے گھڑیاں…
    ہوا زندگی کا ہے اک اور سال کم…
    دیوارِ حیات کی گری اک اور اینٹ…
    یہ میرے لیئے موقع خوشی ہے کہ غم؟
    گئے سال کے سب بیتے لمحوں میں…
    مسرت کی گھڑی اور غموں میں…
    کھو گیا سب،کہ کُچھ پا بھی سکی؟
    نئے رنگ بھرے کہ ہےتصویر بے رنگ ابھی؟
    میرے وقت کی قدر و اہداف آئے ہاتھ…
    کہ ساری صلاحیتیں وقت بہا لے گیا ساتھ؟
    میں غفلت کی ردا میں ہی سوئی رہی…
    کہ غمِ دنیا میں ہی کھوئی رہی؟؟
    اور وقت کا تو کام ہے ہی چلنا…
    اس کی لغت میں نہ کہیں ہے رُکنا…!!!
    کھو کر اک سال میں کیا خوشی مناؤں؟
    میری زندگی ہوئی ہے کم،دنیا کو بتاؤں؟
    کروں کیا میں سراسر تقلیدِ نصاریٰ؟
    اور دامن میں بھروں سودائے خسارہ؟؟
    جن کی آگ سے نہ روشنی لینے کا…
    جن کی تہذیب سے سدا دُور رہنے کا…
    فلاح کا رستہ محسنِ انسانیت دکھا گئے…
    حق و کامل ہے کیا؟ یہ عمل سے ہمیں بتا گئے…
    میرے ہاتھ میں ہے چراغ روشنئ کامل…
    پھر میں رہوں کیوں نہ اس پر ہی عامل…!!!
    یہی مری فلاح کا سامان ہے…
    یہی میری زندگی،مرا ایمان ہے…!!!
    میں جیئوں کہ مروں تو اس روشنی کے سنگ…
    جس سے ہومحبّت،ہو گا انسان اس آدمی کے سنگ…!!!
    یہی سوچ کر یہ سالگرہ میں مناتی نہیں…
    ہے ڈھونڈا بہت مگر، وجود اس کا نہیں پاتی کہیں…!!!
    ==============================

  • نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!! بقلم:جویریہ بتول

    نظر ہو عقابی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    گرفتح کی منزل تک پہنچنا ہو…
    دشمن کو قدموں میں روندنا ہو…
    وسائل پہ جرأتوں کو ہو فوقیت…
    کثرت پہ نازاں نہ ہونے کی تربیت…
    اپنے چمن کا حصار ہو مضبوط…
    کہیں بھی کہیں بھی ہو خلا نہ موجود…
    قلعے اور گھروندے سبھی رہیں مامون…
    تو صفوں کے غداروں پہ نظر ہو عقابی…
    جو موقع ملتے ہی نہ پلٹ سکیں جوابی…
    شجر کی جڑوں کو یہی کرتے ہیں کھوکھلا…
    جادہ و منزل میں یہی کرتے ہیں فاصلہ…
    عزائم کی راہوں میں دیوار بن کر…
    آستین میں پلتے سانپ پھن دار بن کر…
    وفاؤں کے دشمن وفا دار بن کر…
    جو رہتے ہیں ساتھ جی دار بن کر…
    جو گھٹن کی سخت آزمائش گھڑی میں…
    گھونپتے ہیں جو بس وہ ہوتا ہے خنجر…
    جو پیٹھ پیچھے سے کر کے وار کرتے ہیں بنجر…!!!
    عزم اور منزل کے رستے کے دشمن…
    یہ ہوتے ہیں ننگِ ملت اور ننگ وطن…!!!
    (4 مئی ٹیپو سلطان کے یومِ شہادت کی تاریخ کی مناسبت سے)۔

  • اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری   بقلم: منہال زاہد سخی

    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے ، شعراء پر کی گئی شاعری بقلم: منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    سب کچھ بھول بھلا کر پھر وہ شعر کہتا ہے
    سب کو چپ لگا کر پھر وہ شعر کہتا ہے

    بیزار نظر آتے تھے جو شعر و شاعری سے
    اب اس گروہ کا ہر فرد شعر سنتا ہے شعر کہتا ہے

    پریشان نظر آتے ہیں گھر کے سبھی افراد کہ
    سب کو ستاتا ہے اسے الہام ہوتا ہے پھر یہ شعر کہتا ہے

    وہ منظر کی خوبصورتی بڑھانے میں کوشاں ہے
    وہ منظر کو چار چاند لگانے میں شعر کہتا ہے

    یہ شاعری ہے کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے اس میں
    گھما پھرا کر کہتا ہے پھر وہ شعر کہتا ہے

    سب متاثر نظر آتے ہیں اب شعراء سے سخی
    اس دور میں ہر فارغ شخص شعر کہتا ہے

    #قلم_سخی

  • احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل احمد علی ہاشمی

    احوال دل
    احمد علی ہاشمی

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے
    تیری باتیں یاد کروں میں
    جان میری جب جاتی ہے

    لب پہ ہنسی سی آ جاتی ہے
    تجھ سے جب میں بات کروں
    آنکھیں یہ نم ہو جاتی ہیں
    نظر نہ جب تو آتی ہے

    تیرے ملن کے سپنے دیکھوں
    رم جھم رت جب آتی ہے
    تیری ہی راہ تکتا ہوں میں
    گھنگھور گھٹا جب چھاتی ہے

    تیرا ہجر میں کب تک جھیلوں
    وصل کی خاطر کب تک بہلوں
    تم ہی کہو اے میرے ساجن
    کتنی مدت باقی ہے

    اداس سا ہو جاؤں اکثر
    یاد تیری جب آتی ہے

  • دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دلِ بے خبر کو یقیں ہو…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کوئی مشکل کی جو آئے گھڑی…
    کبھی چھا جائے کوئی حالت کڑی…
    دلِ بے خبر جو مایوس ہو…
    تو دھیرے سے اُسے حوصلہ دو…
    یہ بدلتے رنگ سب ہیں عارضی…
    نہیں ان میں کہیں مستقل مزاجی…
    یہ نشیب و فراز ہیں یہاں کا دستور…
    رہا ان سے کوئی بھی نہ مفرور…
    یہ ہر اک زندگی کی ہے کہانی…
    کہیں غم کی گہرائی،کہیں خوشی کی جولانی…
    کہیں شر میں سے نکلتی ہیں خیر کی کرنیں…
    کہیں یاس کے سائے میں ملتی ہیں آس کی خبریں…
    یہ "لیبلوکم” کی ہے تفسیر…
    مقصد حیات ہے اس کا اسیر…
    فقط ہمارے کرنے کا ہے یہ کام…
    ساتھ نہ چھوٹے بندگی سے دوام…
    یہ اضطراب کے ہیں جو سائے…
    دل کی دنیا پہ شب نما سے چھائے…
    انہیں یقیں کے رنگ میں ہے ڈھالنا…
    دلِ بے خبر کو ہے سنبھالنا…
    تجھے کیا خبر کہ کیا غیب ہے؟
    ہر کام ہی لگتا کیوں عیب ہے…؟
    عرش تا فرش ہیں جو ہوتے…
    جو پاتے ہیں ہم اور جو کھوتے…
    وہی ہوتے فیصلے ہیں زریں…
    ہمارے لیئے سدا کے بہترین…!!!
    کبھی مایوسی کے اسیر ہو کر…
    ہر طرف بے یقینی کے بیج بو کر…
    خرید کر بس رنج و ملال…
    بدقسمتی کے ہی آتے خیال…!!!
    اس زندگی کو نہ کرنا ارزاں…
    کبھی رہ جائے جو دل میں ارماں…
    تو رکھنا تم بھی بس اتنا ایمان…
    اس زندگی کا مقصد ہے بہت گراں…!!!
    جو بس میں ہو وہ کرتے ہے چلنا…
    منزلوں کی رہ میں ہو، بس جینا ہے یا مرنا…
    تو پھر ابھی اک اور حیات ہے باقی…
    تجھےوہاں وہ وہ بھی ملے گا خاکی…؟
    کہ جو ہے نہ ترے زاویۂ خیال میں…
    نہ تری بزمِ حسن و جمال میں…
    یہ ابتلاء کے ہیں جو سارے سلسلے…
    واں لگیں گے یہ کُچھ بھی نہ مسئلے…!!!
    اس اضطراب کو صبر سے مات کر…
    ہر لمحہ شکر کی ادا سے بات کر…
    یہی رہِ بندگی کا ہے تقاضا …
    جس کا حُسن ہے ادائے شکر و تواضع…!!!
    =============================

  • ڈھال…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    ڈھال…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ڈھال…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    روزہ ہے ڈھال گناہوں سے…
    اسے بنانا بھی ہے ڈھال لازم…
    زباں کی بھی کرنی ہے حفاظت…
    غیبت،چغلی کا سمیٹنا ہےجال لازم…
    کانوں کی ممنوعہ آوازوں سے…
    رکھنی ہے دوری بہر حال لازم…
    دل کی گہرائیوں میں اُتار کر…
    چلنی ہے تقویٰ کی چال لازم…
    صدقہ و خیرات بھی ہاتھ سے ہےکرنا…
    کُچھ غریب کے واسطے بھی حصۂ مال لازم…
    رات کے پچھلے پہر کے اوقات میں…
    کُچھ کرنے ہیں رب سے سوال لازم…
    ملی رحمت کی ان ساعتوں میں اب…
    کرنی ہے اب تبدیلئ احوال لازم…
    گناہوں کی پونجی جو ہیں ہم اٹھائے…
    توبہ کے آنسوؤں سے تر ہوں یہ گال لازم…
    ہر آفت و بلا ہو دور پھر ہم سے…
    اور ہر مشکل کو رب دے ٹال لازم…!!!
    پھر روزہ کا مفہوم ہو یوں پورا…
    کہ ہو ہر دم دل میں اچھائی کا خیال لازم…!!!
    ہر برائی سے نفرت ہو،ہر نیکی کی چاہت…
    اونچی اُڑان کے لیئے نکلیں کُچھ نئےپَر و بال لازم…!!!
    تندرست ہو کر محوِ سفر ہو یہ بیمار نفس…
    ہر زاویے سے درست ہوں اب سارے خدوخال لازم…!!!
    ==============================

  • مزدور…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مزدور…!!! بقلم:جویریہ بتول

    مزدور…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اینٹیں بھی ڈھوتا ہے…
    جو گارا بھی اُٹھاتا ہے…
    ناتواں سے وجود کو اپنے…
    جو دھوپ میں جلاتا ہے…
    میلے پلو سے پونچھ کر پسینہ…
    جو سر اٹھا کر مسکراتا ہے…!!!
    سخت ہاتھوں میں چھالے دیکھتے
    جو پیڑ تلے سستاتا ہے…!!!
    نیند کی گہری وادی میں جا کر…
    سکون کی کہانی جو سناتا ہے…
    جس کے ماتھے پر چمکتی ہیں…
    پسینے کی جو دلکش کرنیں…!!!
    ان کرنوں کی روشنی میں…
    وہ حق کمانا سکھاتا ہے…!!!
    اس مزدوری کی برکت سے…
    جو ذہنی سکون وہ پاتا ہے…
    حرام کی ڈھیروں کمائی پر…
    جو کوئی نظر نہ پھراتا ہے…
    جاگنا اور کہیں جانا ہے…
    بچوں کے لیئے کُچھ لانا ہے…
    دن بھر تھک ہار کر پھر…
    سرِ شام لوٹ آنا ہے…!!!
    کھیتوں،کھلیانوں میں…
    اور ملوں،مکانوں میں…
    روانی کا جس نے پہیہ چلانا ہے…!!!
    ============================
    مزدور کا محافظ ہے اسلام…
    جو کہے نہ کھائے کوئی نا حق…
    مزدور کی مزدوری کا اک دام…
    حد سے زیادہ اسے کام نہ دو…
    اور نہ ڈالو اس پہ بوجھ تمام…
    جو کھاتے ہو خود اسے کھلاؤ…
    پہنتے ہو جیسا،ویسا پہناؤ…
    جو کھانا لائے تو ساتھ بٹھاؤ…
    تھکن سے چُور کو تم ہنساؤ…
    رب اس پہ سخت ناراض ہے…
    جو اجیر کی محنت مار گیا…
    کام تو لیا جس نے پورا…
    اجرت دینے سے ہاتھ جھاڑ گیا…!!
    اس مزدور کو کُچھ اضافی بھی ہو…
    جو بال بچوں کے لیئے کافی بھی ہو…
    فاقوں کے ڈر سے جیئے نہ مزدور…
    غم کی ردا میں پیوند سیئے نہ مزدور…
    مزدور کے دم قدم سے جواں ہے…
    ترقی کا یہ پہیہ جو رواں ہے…!!!
    مزدور سے بھی حُسنِ سلوک لازم ہے…
    کہ یہ مزدور بھی تو ابنِ آدم ہے…
    خاکی بدن کی ہر ضرورت و تاب بھی وہی ہے…
    اُس کی آنکھوں میں چمکتا خواب بھی وہی ہے…!!!
    ==============================