Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • کیا چیز ہے محبت  تحریر: مصباح ہاشمی

    کیا چیز ہے محبت تحریر: مصباح ہاشمی

    کیا چیز ہے محبت
    مصباح ہاشمی

    جب سوچ پہ کوئی حاوی ہو
    کوئی ذہن پہ ہر دم طاری ہو

    کوئی دل میں جب رچ بس جائے
    اور سانس کی صورت جاری ہو

    جو خون کی صورت دوڑتا ہو
    اور نس نس میں وہ جاری ہو

    جو خون سے گہرا لگے مگر
    نہ رشتہ کوئی خونی ہو

    جب سمجھو اب تو بس نہ چلے
    تم جان لو عشق کے قیدی ہو

  • حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    حُسن سے حُسنِ بیاں تک…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔

    چرچا بہت ہوتا ہے جہاں میں کُچھ حسینوں کا…
    حُسن کے تصور سے دل کے مکینوں کا…
    گر ظاہریت پہ ہوتی فدا سب ادائیں ہیں…
    مگر باطن کے زور پر سفر ہوتا ہے سفینوں کا…
    صرف حُسن کے زعم میں پھرنا اچھا نہیں لگتا…
    کہ زندگی کٹنے میں، ہاتھ ہوتا ہے کُچھ قرینوں کا…
    حُسن کی شوخی سے اکڑی گردن ہی نہیں اچھی…
    مقام بڑا ہی ہوتا ہے،عجز سے جھُکی جبینوں کا…
    حُسن صورت کے خالق کا شکر بھی ہے لازم سدا…
    اندازِ تشکر لبوں پہ،اظہار پلکوں پہ چمکتے نینوں کا…!!!
    یہ دیکھنا ناگزیر ہے، کہ کون پیکرِ جمیل ہے؟
    حُسن و خوبروئی سےلے،نہاں جو خیال ہے سینوں کا…!!!
    حُسن سے حُسنِ بیاں تک سفر ذرا دھیرے سے کٹتا ہے…!
    بہت سوچ کے کہنا ہے،یہ قول باریک بینوں کا…!!!!!
    ==============================(20 اپریل 2020)۔
    [جویریات ادبیات]

  • میری مرضی کیا ہے؟  احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟ احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟
    احمد علی ہاشمی

    مظاہرِ مرضی

    تجھ کو رب سے مانگ کے لوں گا
    نہ چلے گی تیری مرضی
    تم بھی اس کے میں بھی اس کا
    اور اسی کی چلے گی مرضی

    تجھ بن جیون سُونا سُونا
    سُونے ہی دن رات میرے
    تجھ کو پا کر ہی دم لوں گا
    یہ ہی ہے اب میری مرضی
    ——————————-
    حقیقتِ مرضی

    عشق بیماری جیسا یارو
    جس کو لگتا ہے وہ جانے
    مرض ہی بن جاتا ہے مرضی
    ہو گا وہی جو اسکی مرضی

    حسن مجازی، روپ مجازی
    ہوتا ہے یہ عشق مجازی
    روح سے جب تم پیار کرو تو
    جان لو گے تم حق کی مرضی

    مرضی، مرضی نہ تم کرنا
    اس کی مرضی پر تم رہنا
    مرضی سے کچھ کر نہیں سکتے
    لیکن برا ہے مرض یہ مرضی

  • امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    مایوس دل میں اب بھی کوئی امید چراغ ہے
    بجھے انگاروں سے کیا اب سلگتی کوئی آگ ہے

    کوئی خطا کوئی غلطی کوئی نادانی ہوجائے
    فسون عشق میں گناہگار دل بھی بے داغ ہے

    نیند سے کوسوں دور وسوسوں کی کروٹیں ہیں
    کیسے کٹے کی یادوں کی رات الجھا اب دماغ ہے

    اب سمجھ نہیں آرہی کیسے سمجھاؤں ہمسفر کو
    نہ کوئی راستہ نہ سوچ نہ خیالوں میں کوئی جاگ ہے

    پہلی ملاقات طے ہوجائے پھر زندگی سہل ہوجائے گی
    کس کی ہاں کس کی نہ دونوں کی دوڑ بھاگ ہے

    اب امید سے یقین کی جانب سفر ہے سخی
    نجانے کیا سوچ کر یہ دل باغ باغ ہے

    #قلم_سخی

  • آثارِ سحر…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    ہم کیا تھے،کہاں ہیں،ٹُوٹ سے گئے اور بِکھر گئے…
    رستے ہمارے وہ کیا ہوئے،کہ سُراغِ منزل بچھڑ گئے؟

    ارفع روایات کے امین ہم، احساس کے مکین تھے…
    یہ کس ڈگر پہ چل بیٹھے کہ اُن باتوں سے بپھر گئے…؟

    حق،ناحق ہے چیز کیا،حلال و حرام سے بے پرواہ…
    یہ کس کے حق پہ ڈال کے ڈاکہ،ہم حق سے بھی مفر گئے…!!!

    راہوں میں اپنی بچھا کر کانٹے،بُجھا کر چراغِ شبِ آخر…
    اندھیروں میں ڈوب کر ہاں کیوں آثارِ سحر گئے…؟

    یقیں محکم،عملِ پیہم،یکجہتی و عَزم رہے…
    کہ یہی وہ اصول ہیں جن سے کاٹے ہر عَہد میں سَفر گئے…!!!!!
    =============================

  • انساں اور انسانیت…  بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت… بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    اکثر لوگ ملتے ہیں…
    چھاؤں سے دھوپ میں…
    چلتے چلتے جو ڈھلتے ہیں…
    وہ رفاقتوں کے فریب میں…
    محبتوں کے آسیب میں…
    منزلوں کے جنون میں…
    دعوؤں کے ستون میں…
    رنگِ منافقت بھرتے ہیں…
    جھوٹ کی ملمع کاری سے…
    لفظوں کی آبیاری سے…
    ہمارے گرد وہ اکثر…
    گہرا حصار کَستے ہیں…!!!
    ساتھ کا یقین دلا کر…
    لفظ وفا کا مشروب پلا کر…
    مگر قدم پیچھے ہٹاتے ہیں…
    زباں سے خوش وہ رکھتے ہیں…
    دلوں کو چیر دیتے ہیں…!!!
    یہ وقت جب پلٹا کھاتا ہے…
    شب اور سحر دکھاتا ہے…
    تو منزل کی دہلیز پہ بیٹھ کر…
    شفق کی گہری سُرخی میں کھو کر…
    اُفق سے نکلتے آفتاب کی…
    جگمگاتی کرنوں میں…
    سب چہرے یاد آتے ہیں…
    اصل اپنی دکھاتے ہیں…
    ذہن کے دریچوں پر منڈلا کر…
    شفق میں ڈوب جاتے ہیں…!!!
    تب ستاروں کی روشنی میں…
    ایسے رویوّں کا ڈسا ہوا…
    تھکا مسافر پھر راہ تلاشتا ہے…
    راہ کے سب پتھر…
    تنہا ہی وہ تراشتا ہے…!!!
    راہوں کی سب رکاوٹیں…
    عزم سے اپنے وہ ہٹا کر…
    منزلوں کو پا کر…
    آثارِ رہ بھی چھوڑتا ہے…
    منافقانہ رویوّں کی…
    سب کڑیاں وہ توڑتا ہے…!!!
    گہری شب میں ہچکولے کھا کر…
    راہ کے طوفاں و بگولے سہہ کر…
    راز اک گہرا پاتا ہے…
    آزمائش کا چکر اُسے…
    سبق بڑا سکھاتا ہے…
    تب دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے…
    گہرائی میں اک کرن…
    کوئی احساس کی چمکتی ہے…
    اپنی راہ میں آئے اندھیروں میں…
    اُس احساس کی شمع جَلا کر…
    وہ دوسروں کو راہ دکھاتا ہے…
    خود پہ لگے زخموں کی ٹیسوں سے…
    وہ اوروں کو بچاتا ہے…
    اک گہرے درد سے گزر کر ہی…
    انساں انسانیت کو پاتا ہے…!!!
    ==============================

  • عہدِ وفا احمد علی ہاشمی

    عہدِ وفا احمد علی ہاشمی

    عہدِ وفا
    احمد علی ہاشمی

    دل مضطرب ہے میرا مجھے پیار ہو گیا ہے
    تیری یاد میں یہ تڑپے اور تو مجھے ستائے

    تیری خبر ملے جو ، دل باغ باغ پاؤں
    جو نہ رابطہ ہو تجھ سے مجھے چین پھر نہ آئے

    اے میری جان جاناں اک التجا ہے میری
    مجھ سے خفا نہ ہونا سدا راضی مجھ سے رہنا

    تیری چاہتوں کاطالب، میں تیرا ساتھ چاہوں
    تیرا ہاتھ مانگتا ہوں رب سے یہی دعا ہے

    قندیل، میرا آنگن سدا چمکے تیری ضو سے
    میرے پیار سے تو جاناں، تبسم سدا کا پائے

    یہ فیصلہ ہے میرا تجھے پاؤں گا خدا سے
    پھر خار دار رستے نہ کوئی رسم ڈرائے

  • ڈیجیٹل عاشق  از ؛ نعیم ہاشمی

    ڈیجیٹل عاشق از ؛ نعیم ہاشمی

    ڈیجیٹل عاشق
    نعیم ہاشمی

    مجھے آن لائن پاکر کوئی ہیلو اور نہ ہائے
    میں یہ کیسے مان جاؤں میری یاد ہے ستائے

    جو پوچھنے لگی وہ تیری نیند کیوں اڑی ہے
    چھوڑیں نہ فیس بک کو خواہ فیس نکل آئے

    میں نے کہا کہ چھوڑو اس فیس بک میں کیا ہے
    مجنوں بنا ہوں تیرا، تو لیلیٰ نظر آئے

    میرے رتجگوں سے پوچھو میرا حال کیا ہوا ہے
    میرا دل چرا لیا ہے اور ستم آزمائے

    کہنے لگی کہ جاناں چاہت میری یہی ہے
    میں پاس تیرے بیٹھوں اور وقت ٹھہر جائے

    ہوا مضطرب بہت میں لاحول پڑھتے بولا
    یہ وقت میری جاناں ہم پر کبھی نہ آئے

    اکیسویں صدی کا، میں ماڈرن ہوں عاشق
    جب نیٹ میرا نہ آئے تیری یاد ہے ستائے

    لفظوں سے کھیلنے کا اک ہنر شاعری ہے
    لازم ہے دور رہیے گر سمجھ کچھ نہ آئے

  • میرا سائباں  از ؛عائش نعیم

    میرا سائباں از ؛عائش نعیم

    2سومیرا سائباں
    عائش نعیم
    (میرا جسم میری مرضی کے مقابل مشرقی روایات کی امین ایک خوبصورت نظم)

    قائم رہے سایہ تیرا
    خوشیوں کی تو ہی ہے وجہ

    یہ لالہ زار تجھ سے ہے
    اس گھر کا تو سائباں

    یہ زندگی تجھی سے ہے
    تو زندگی کی ہے بہار

    یہ رب نصیب نہ کرے
    کہ ہو زندگی تیرے بنا

    تیرے ہی دم سے ہر خوشی
    اونچا رہے یہ نام تیرا

    لاہوت ہو پرواز تیری
    میرے لبوں پہ ہے دعا

    قائم رہے میرا سائباں
    میری چھت، میرا مہرباں

  • ظاہر و باطن…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    وہ ہمیں پہ کڑکے…
    ہمیں پہ گرجے…
    اور ہمیں پہ برسے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…
    کر صفا گئے…!!!
    مگر جو دیکھا__
    پلٹ کر ہم نےاُنہیں…
    اپنی ادا کو…
    نہ وہ سنوار سکے…
    بے وقت صدا کو…
    نہ کردار سکے…!!!
    نہ گفتار سکے…
    وہ ہمیں پہ
    چاہتے تھے برسنا…
    سو ہم ہی کو نکھار گئے…!!!
    نہ گریباں میں…
    اپنے وہ جھانک سکے…
    نہ اداؤں کو اپنی…
    وہ تانک سکے…
    جو مقام تھا کھوکھلا…
    اُن کے دل میں ہمارا…
    صد شکر وہ اپنے ہی…
    لفظوں سے دل پہ ٹانک گئے…!!!
    جو ظاہری صناعی کا…
    تھا تعلق وقتوں سے…
    اپنے ظاہر کی جھلکی میں…
    باطن وہ اپنا دکھا گئے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…!!!!!!
    =============================