Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد   تحریر  : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد تحریر : راجہ ارشد

    اولاد ہمیشہ انسان کی کمزوری رہی ہے۔
    اولاد نہ ہو تو انسان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو اپنی قسمت کو کوسنے لگتا ہے۔ صرف بیٹے ہو تو بیٹی کے لیے آنکھیں ترسنے لگتی ہیں۔اگر اولاد نافرمان ہو تو انسان جیتے جی خود کو زندہ درگور محسوس کرتا ہے۔

    اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اولاد کو انسان کے لیے آزمائش سے تبعیر کیا ہے۔اولاد نالائق ونافرمان ہو تو انسان کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے۔اور اگر سرے سے اولاد ہی نہ ہو تو پھر بھی انسان پل بھر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔

    اللہ رب العالمین کی آخری کتاب قرآن مجید میں جابجا اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے۔ سورہ انعام میں فرمان الٰہی ہے کہ اس دنیا میں کسی درخت کا ایک پتا بھی اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہیں گرتا۔

    اللہ تعالٰی زمین و آسمان کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ ہر زی روح کے پیدا ہونے سے مرنے تک اس کے ہر معاملے کا اسے علم ہوتا ہے۔ حتی کہ پتھر کے اندر کیڑے کے حالات سے بھی باخبر ہوتا ہے اور اس کے رزق کا انتظام کرتا ہے۔جب اللہ تعالٰی کی ہمہ گیر حاکمیت کا یہ معاملہ ہو تو پھر انسان جسے قرآن مجید میں ناشکرا اور اس طرح کے دیگر لقابات سے نوازا گیا ہے۔ وہ کتنی ڈھڈئی کے ساتھ اپنے اور اس دنیا کی ہر چیز کے خالق ومالک کو چھوڑ کر اولاد جیسی نعمت کے حصول کے لیے اس کے در پر حاضر ہونے کے بجائے شیطان کے ورغلانے پر جگہ جگہ قبروں اور مزاروں پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ وہ جو خود بے بس و لاچار ہیں۔ جو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار ہے وہ اسے کیا دیں گے۔

    اللہ تعالٰی جسے اولاد نہ دینا چاہے تو ہزار جتن کر لے اسے اولاد نصیب نہیں ہوتی اور جسے اولاد دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر بانجھ اور عمر رسیدہ عورتوں کی گود بھی ہری کر دیتا ہے۔ یہ شان بے نیازی اللہ رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے۔ہمیں ہر حال میں ہر معاملے میں اپنے خالق ومالک ہی سے مانگنا چاہیے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • تھیلسیمیا نسل در نسل چلنے والا مرض   تحریر: سحر ملک

    تھیلسیمیا نسل در نسل چلنے والا مرض تحریر: سحر ملک

    میرا ریسرچ ورک حمزہ فاؤنڈیشن پشاور میں تھا میں جب بھی ڈیٹا کولیکٹ کرنے جاتی تو وہاں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی اسطرح ان سے دوستی ہو جاتی۔ ہر ہفتے یا تین دن بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہو پاتی تھی، ان میں ایک لڑکی طیبہ بھی شامل تھی جو لگ بھگ میری ہم عمر تھی لیکن دکھنے میں کافی کمزور دبلی پتلی سی تھی خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔
    وہ جب بھی مجھے دیکھ لیتی تھی میرے پاس دوڑ کے آ جاتی تھی۔ اسکا تعلق چارسدہ سے تھا مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب اس سے بات ہوتی اسکی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہوتے تھے۔

    ایک دن مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھ ہی ڈالا کہ تم رو کیوں رہی ہو اس نے کہا کہ یہ بھی کیسی زندگی ہے ہر ہفتے مجھے اپنے گھر والوں کو تکلیف دینی پڑتی ہے کہ مجھے پشاور لایا جائے اسکے والد ٹریفک پولیس تھے وہ اسے پشاور لانے کے لئے چھٹی نہیں لے سکتے تھے تو اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسکی خواہش تھی کہ وہ بھی ہماری طرح زندگی جئے۔

    طیبہ نے مجھے بتایا کہ اسکے ساتھ زیادہ تر چھوٹے بچے ہیں اور اسکا ایک ہی واحد دوست تھا جو اسکا ہم عمر تھا اسکا بھی چند دن پہلے انتقال ہو گیا ہے اسکے انتقال کے بعد طیبہ نے بھی جینے کی امید چھوڑ دی۔

    یہ کہانی صرف طیبہ کی ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس بچے کی ہے جو تھیلسیمیا جیسی خونی بیماری سے لڑ رہا ہے۔

    آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کس کو متاثر کرتی ہے؟

    8 مئی یومِ تھیلسیمیا کے طور پہ منایا جاتا ہے۔
    جس میں لوگوں کو تھیلسیمیا کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہے کہ کیسے اسے روکا جا سکتا ہے۔

    تھیلسیمیا مرض میں مریض کے جسم میں ہیموگلوبن (خون کے سرخ ذرات) کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

    تھیلسیمیا میں خون کی کمی، تلی کا بڑھ جانا اور ہڈیوں میں گودے کی کمی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سےتھیلسیمیا سے متاثر بچہ ساری زندگی انتقال خون کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہتا ہے، یا پھر بون میرو ٹرانسپلانٹ ( Bone Marrow Transplants ) کے لئے ڈونر ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 8 سے 12 ہزار بچے اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ خاندان میں شادی کرنا ہے۔

    تھیلیسیمیا کی تین اقسام ہیں تھیلیسیمیا مائنر، تھیلسیمیا انٹر میڈیا اور تھیلیسیمیا میجر۔

    تھیلسیمیا مائنر:
    جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ 

    تھیلسیمیا انٹر میڈیا:
    یہ تھیلسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔

    تھیلسیمیا میجر:
    یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ تھیلسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔
    اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلسیمیا میجر ہوگا۔ اس لئے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں اس میں کوئی قباحت نہیں، اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔

    آئیں تھیلسیمیا کے مریضوں کی مدد کریں۔
    آپ کے خون کا عطیہ کئی زندگیاں بچا سکتا ہے۔

  • بچوں پر سختی کے برے اثرات  تحریر: علی رضا بخاری

    بچوں پر سختی کے برے اثرات تحریر: علی رضا بخاری

    آج کل بچوں پر بہت سختی کی جاتی ہے اور اس سختی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔

    بچے پر سختی کرنے اسے وہ آپ سے دور ہو جائے گا، غصہ کرے گا اور ضدی بن جاۓ گا اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔

    سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جو کام بھی کر رہا ہے اچھا کر رہا ہے یا برا کر رہا ہے اگر برا کر رہا ہے تو آپ کا كام اسے سمجھنا ہے، مثلاً وہ گالی دے رہا ہے تو آپ اسے پیار سے سمجھائیں کہ گالی دینا بری بات ہوتی ہے اگر وہ پڑھ نہیں رہا تو آپ اس پر یہ زور نہ دیں کہ بس پڑھو پڑھو پڑھو اس سے اس کے دماغ پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، اگر وہ پڑھتا نہیں تو آپ اسے پیار سے پڑھائی کے فائدے بتائیں کہ آپ پڑھ لکھ کر کیا بن سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کہ ایک اچھا انسان بن سکتے ہیں۔

    اب اگر بچہ ضد کر رہا ہوتا ہے یا آپ کی بات نہیں مان رہا ہوتا تو آپ اسے آنکھیں دکھاتے ہیں اور اس کا بچہ پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب سکول میں کوئی بچہ اس کی بات نہیں مانتا تو وہ اسے آنکھیں دکھائے گا، چلائے گا، ہاتھ اٹھائے گا کیوں کے یہ سب اس نے آپ سے سیکھا ہے۔

    اسلام میں ہے کہ بچہ جب سات سال کا ہو اسے نماز کیلئے کہا جائے نماز کے فائدے بتائے جائیں اور اگر دس سال کی عمر تک نماز نہ پڑھے تو پھر سختی کرنی چاہئے، لیکن آپ تو ڈھائی، تین سال کے بچے پر سکتی کر رہے ہیں اس عمر میں سختی کے بچے کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے کبھی سوچا ہے؟ جب اسلام میں اتنی سختی نہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، کیا سکول نماز سے زیادہ اہم ہے؟ اور کچھ نہیں بس آپ اتنی کم عمر میں سختی کر کے بچے کو ذہنی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

    سختی کرنے سے بچہ غصہ کرے گا، آپ سے دور بھاگے گا اور سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا، پھر وہ آگے چل کر آپ کی طرح اپنی بات منوانے کیلئے آنکھیں دکھائے گا، غصہ کرے گا، چیخے گا، چلائے گا یعنی آگے چل کر وہ وہی کرے گا جو آپ سے سیکھے گا، لہٰذا بچپن میں بچوں سے پیار کریں کیونکہ وہی عمر ان کے سیکھنے کی ہوتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    انسان کی زندگی بہت خوبصورت ہے اور بچپن اسکا خوبصورت حصہ ہے.بچے پھول کےپتوں کیطرح نازک ہوتے ہیں   اور والدین کا بچوں کی پرورش میں اہم کردار ہے.والدین کا اولین فریضہ ہے کہ وہ بچوں میں خود کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کریں .بچوں کو دوسروں کے سامنے ،گوار،نالاٸق جیسے ناموں سے بلانے سے ان پہ ذہنی دباٶ پیدا ہوتا ہے.جس سے انکی شخصیت متاثر ہوتی ہے.والدین اپنی خامیوں کو چھپانے  کیلے بچوں کو ایک آلہ کی طرح استعمال کرتے ہیں اور   انکی   خواہشات کو پورا کرنے کیلے بچے اپنی جان لگا دیتے ہیں جسکی وجہ سےانہیں ذہنی اورنفسیاتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے.اگر بچے فیل ہوجاٸیں یا کوٸ غلطی کریں.تو والدین انکو ڈانٹنا شروع کردیتے ہیں جس وجہ سے بچے ناامید ہوجاتے ہیں ڈانٹنے کی بجاۓ اگر والدین بچے کو پیار سے سمجھاٸیں تو اس میں اعتماد پیدا ہوگا.گھر اور والدین بچے کی پہلی درسگاہ ہوتے ہیں گھر بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتاہے.اس لیے اگر بچوں کو انکی ذہانت اور صلاحیت کے مطابق ماحول نہ ملے تو انکی ترقی کی رفتار کم ہوجاتی ہے.جیسے کہ اگر کوٸ بچہ فیشن  ڈیزاٸننگ کرنا چاتا ہے اور اسے زبردستی میڈیکل پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے.والدین بچوں کی پسند پر اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں .والدین اپنے بچوں کا موازنہ کرتے ہیں اور انہیں نالاٸق ،بےوقوف ہونے یا پھر کہا جاتا ہے فلاں تم سے بہتر ہے جسکی وہ ذہنی کشمکش ،ڈپریشن،مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے انکے ذہن  میں خودکشی ،ناامیدی ،گھرچھوڑنے ، جیسے خیلات پیدا ہونے لگتے ہیں اور انکا دل بیزار ہوجاتا ہے اور وہ روزمرہ کے کام بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتے .اگر والدین بچوں کے دوست بن کر انکی بات سنیں تو بچوں اور خود کو اس طرح کی اذیت سا بچا سکتے ہیں .والدین کو بچوں سے پیار سے پیش آنا چاہیے اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انکی ناجائز خواہشات پوری کریں بلکہ وہ انکے ساتھ کچھ اچھا وقت گزاریں کچھ انکی سمجھیں اور کچھ اپنی سمجھاٸیں .مصروفیات میں سے تھوڑا وقت بچوں کیلے نکالیں .انکی سکول کی سرگرمیوں کا جاٸزہ لیں انکی ٹیچر سے پوچھتے رہیں کلاس میں کیسی کارکردگی ہے اور بچے کو پیار سے سمجھاٸیں بجاۓ اسکے کہ ڈانٹنے لگ جاٸیں .والدین کو بچوں کا دوست بن کے رہنا چاہٸے ناکے حکمران.اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کریں پوشیدہ محبت کی بجاۓ والدین کی محبت اور حوصلہ  بچوں میں جوش ولولہ پیدا کرتی ہےاور ان میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے.والدین اپنی خوہشات کو پورا کرنے کیلے بچوں کو ایسی ایکٹیویٹز کرواتے ہیں جس میں انکی کوٸ دلچسچی نہیں ہوتی جس سے بچوں پرپریشر پڑتا ہے اور وہ ذہنی دباٶ کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ظلم ہے محبت نہیں . اسکے بجاۓ  والدین کو چاہے  پیار خلوص سے حوصلہ افزاٸی کریں. والدین کی ہر وقت الزام تراشی اور حاکمانہ رویہ بچوں کیلے ناقابل برداشت ہےاس وجہ سے بچے بے چین رہتے ہیں.جب والدین ہر وقت ڈانٹتے رہیں گے اور بچوں کو انکی ناکامیوں اور کمیوں کا احساس دلاتے رہیں گے تو اس سے بچوں کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو جاتے ہیں .اب یہ والدین کہ ہاتھوں میں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مضبوط بنا کر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں یا کمزور بنا کہ انکی وہی الجھن میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں.
    اس لیے والدین کو چاہے بچوں کو وقت دیں انکی کامیابی پر انہیں شاباش دیں اور غلطیوں پر پیار سے سمجھاٸیں .بچے کس بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں .بچے کی اچھی تربیت نہ صرف خاندان سنوارتی ہے بلکہ ملک و قوم کی خوشخالی کیلے بھی مثبت ثابت ہوتی ہے. 
    @Samra_Mustafa_

  • محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    بچے سب کو اچھے لگتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے انہیں اچھی تعلیم دلاتے ہیں،اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکیں، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں بعض بچوں کو غریبی اور مجبوری کی وجہ سے تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے ۔۔ ۔۔
    یہ بچے سارا دن سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے معصوم اور پھول جیسے بچے گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے، بسکٹ اور ٹافیاں بیچتے ہوئے، اخبار اور پھولوں کے ہار فروخت کرتے نظر آتے ہیں، ان کی عمریں بھی عموماً کم ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔
    بعض والدین بھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو کام پہ لگا دیتے ہیں، غربت اور تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان سے محنت مشقت کروانے پہ مجبور ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی کچھ کما کر گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر سکیں، ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    یہ محنت کش معصوم بچے تعلیم سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور اور زندگی کے آرام و آسائش سے بے نیاز صبح سے رات تک اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، انہیں تو زندگی کی سہولتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا، یہ ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    بچوں کو مستقبل کے معمار کہا جاتا ہے، لیکن کیا تعلیم سے محروم یہ محنت کش بچے ہمارے ملک کا روشن مستقبل اور معمار بن سکتے ہیں ؟ محنت مزدوری کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معصوم بچوں سے مشقت لینا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 11 میں کہا گیا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ فیکٹری، دکان، ہوٹلز، میں ملازمت نہیں کر سکتا، لیکں اس کے باوجود چودہ سال سے کم عمر کے بچے مختلف ہوٹلوں، کارخانوں میں کام کرتے نظر آئیں گے، اکثر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ بھی رکھا جاتا ہے جہاں ان کی عمر سے بھی بڑے کام کروائے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔۔۔
    بطور معاشرہ ہم اتنے پستی میں گھر چکے ہیں کہ ان معصوم بچوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک دیکھنے میں آتا ہے،جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ شرم بات ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اور جہاں کہیں انہیں ظلم کا شکار ہوتا دیکھیں ہر ممکن طور پہ ان کی مدد اور داد رسی کریں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنے والے محنت کش بچوں کو روزانہ کی بنیاد پہ کم سے کم دو گھنٹے نکال کر پڑھانے کا اہتمام کریں، یقیناً یہ بچے پڑھ لکھ کر مستقبل کے معماروں میں شامل ہوں گے۔۔۔
    محنت کش بچے قابلِ تعریف اور قابلِ توجہ ہوتے ہیں، زیادہ نہیں تو اپنے گھر کے ملازم بچوں کو ہی تعلیم دینا شروع کریں، ہو سکتا ہے کہ کل کو یہ بچے اس قابل ہو جائیں کہ دوسرے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جائیں، اس طرح علم کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں گے۔۔۔
    آئیں بے سہاروں کا سہارا بنیں یہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور اللّٰہ کی خوشنودی کا باعث بھی، آئیے ہم اور آپ بھی اس کا حصہ بنیں
    ” وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں،
    جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

    ‎@Waji_12

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • بچوں کی تعلیم اور تربیت  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچوں کی تعلیم اور تربیت تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ چند باتیں قارئین کی نظر کرنا چاہوں گا
    جس معاشرے ہم رہتے ہیں اس میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کرتے ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ والدین ہی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام پائے۔

    یہ بات بہت غور طلب ہے کہ اکثر والدین بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں ایک غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ بچے مستقبل میں بھگتتے رہتے ہیں ۔ اگر کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے تو والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے میرے خیال میں یہ درست نہیں
    بے شک اللّہ تعالٰی نے دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے۔ یاد رکھیں بچے کا ذہن بننے میں آپ کی سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بچے کا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے جیسے وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔
    اگر ایک بچے کی دلچسپی اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے دوست کا بیٹا ہے جس نے چند دن پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھا اور وہ بہت محنت سے تیاری بھی رہا تھا۔
    کل اچانک میرے سامنے آ گیا ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا بیٹا سناو تمہاری پڑھی کسی چل رہی ہے ۔
    میرا سوال سن کر وہ پریشان سا ہو گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے ابو نے اسے کہا ہے کہ اب تم میڈیکل کالج میں اپنا داخلہ بجھو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے۔

    مجھے بچے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد بولا انکل میں نہ اب اس امتحان کی تیاری نہیں کرنی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس نہیں ہو گا۔نتیجہ کیا ہوا؟

    بچے کا سال برباد ہو جائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو گا ۔ اگر والدین پہلے اپنے بچے سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے۔

    تمام والدین سے گزارش ہے۔رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے سے ضرور مشورہ کریں کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے اور کون سی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @EngrMuddsairH

  • والدین اور بچوں کا بچپن   تحریر  : راجہ حشام صادق

    والدین اور بچوں کا بچپن تحریر : راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے بچپن سے ہی یہ الفاظ بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے تم سےنہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔

    اس کائنات میں کوٸی بھی ایسی چیز یا کام نہیں جو ایک انسان کے لیے ناممکن ہو۔پھر ہم بچوں کے دماغ میں ایسی چیزیں کیوں ڈالتے ہیں؟؟؟
    انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ایسا ممکن نہیں
    بچہ بھی جب اٹھ کر چلنا شروع کرتا ہے تو آپ سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتے ہو کیونکہ اس کے گرنے پر آپ اسے تھام لیتے ہو شروع شروع میں بچہ لڑکھڑا بھی جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ ماں اس بچے کو سہارا دے کر چلنا سکھا دیتی ہے آخر کار وہ صرف چلنا نہیں بلکہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔

    ایک رینگتے بچے کو آپ چلنا سکھا سکتے ہو تو زندگی کے طویل سفر کے لیے اسے مایوس کیوں کر رہے ہو
    میرے نزدیک والدین کا بہت آہم رول ہے اپنے بچے کی کامیابی میں۔

    انسانی دماغ میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ آپ اپنے بچے کے دماغ میں امید کی کرن کو کیسے روشن کرتے ہیں۔اگر آپ اپنے بچے کے دماغ میں ایک بات بٹھا دیں کہ تم یہ کر سکتے ہو تو یقین کریں وہ بچہ کر بھی جائے گا

    اللہ تعالٰی نے انسان کو قابلیت ،صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس ہمیں تھوڑا سا پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت انسان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود شکست تسلیم نہ کر لے۔

    @No1Hasham

  • Child training  Article written by Bobswiffey

    Child training Article written by Bobswiffey

    بچے کی تربیت کا آغاز اس کے گھر سے ہوتا ہے سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچے کی تربیت ک ے لیے سب سے پہلی جو ضروری چیز ہے وہ ہے والدین کا اپنا کردار۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود عمل میں کھوٹے ہیں اور بچوں کو با عمل ہونے کا درس دیتے ہیں۔
    ویسے تو ہم خود روایتی طرز کے مسلمان ہیں کبھی رزق کی کمی کا گلہ کرتے ہیں تو کبھی مستقبل کے اندیشوں کا ذکر۔ ہمارا اپنا توکل خدا کی زات پر نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی خود قران کو تفصیل سے پڑھا ہی نہیں سمجھا ہی نہیں۔ کبھی حدیث کا مطالعہ نہیں کیا، اگر خود کیا تو بچوں کو نہیں کروایا۔ ہمارے لائف ہیروز، یہ بس نام کے سوشل میڈیا کے ہیروز رہ گئے، کبھی کسی صحابہ کا ذکر ہمارے دستر خوان پر نہیں ہوا، ہماری اپنی ترجیحات میں اللہ نہیں رہا، آخرت نہیں رہی، تو ہم بچوں میں یہ چیزیں چاہ کر بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ سب سے پہلے والدین اپنا کردار ادا کریں۔ وہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلو پر غور و فکر کرتے ہوں، ان کی زندگی کا اپنا ایک واضح مقصد ہو۔
    اس کے بعد بچوں کو مکمل فہم و علم دیا جائے، انہیں دوست دشمن کا علم دیا جائے، ان کی زندگی کے بنیادی مقصد کے بارے میں بتایا جائے، ان کی زہن سازی کی جائے، ان کے لائف ہیروز میں صحابہ کا کردار ہو۔
    ویسے تو اسلامی ریاست ہونے کے ناطے یہ حکومت کی اولین ترجیح میں سے تھا، کہ وہ اسلام کا نفاذ کریں، لیکن اس فتنوں کے دور میں والدین پر ساری زمہ داری آن پڑی ہے۔ شروع کے دس سال کسی بھی بچے کے لیے بڑے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔بچوں کی دوستیاں ان کی محفلیں، ان کے ماحول کو مکمل اپنی نگاہ میں رکھا جائے۔ اللہ سے محبت اور خوف خدا ان کے دل میں پیدا کرنے کے لیے انہیں اللہ کے بارے میں علم دیا جائے، اللہ کے صفاتی ناموں کا ان کے سامنے تذکرہ کیا جائے، بچوں کو بتایا جائے۔ اللہ کی محبت شفقت رحمت کا احساس کروایا جائے۔ لیکن ان پر حقیقت بھی عیاں ہونی چاہیے۔ زندگی میں آنے والی آزمائشوں کا بھی انہیں علم ہو۔انہیں اپنے ماضی کی تاریخ کا بھی علم ہو، ان کے پاس مستقبل میں واضح ایک مقصد ہو۔
    بعض اوقات انہیں چھوٹی چھوٹی آزمائشوں سے بھی گزارا جائے، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے بجائے، انہیں صبر و شکر کرنا سکھایا جائے۔ انہیں بعض اوقات مشکل کاموں میں ڈالاجائے تاکہ زندگی کے سخت حالات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ ان میں معافی کا عمل کو اجاگر کیا جائے، ان کے ہاتھوں سے کسی غریب کی مدد کی جائے۔ان سے دعا منگوائی جائے، بعض اوقات ان کی خواہشوں کی تکمیل ان کی دعا کے ذریعے کی جائے۔

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • بچوں سے مزدوری کروانا    تحریر : علی حیدر

    بچوں سے مزدوری کروانا تحریر : علی حیدر

    ایک پسماندہ اور بے روزگاری کے شکار معاشرے میں کم سن بچے مزدوری کرتے ہوئے , ہوٹلوں پہ کام کرتے ہوئے یا اینٹیں ڈھوتے ہوئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد تعلیم کو خیر باد کہہ کر یا تو محنت مزدوری کرنے پہ لگ جاتی ہے یا کوئی ہنر سیکھتے ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
    اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں سے مزدوری کروانا , ان سے جسمانی مشقت کا کام لینا جرم ہے اور مختلف ادوار میں اس کے لئیے قانون سازی بھی ہوتی رہی ہے لیکن یہ قانون رفتہ رفتہ بے اثر ہوتا گیا۔ چناچہ گلیوں میں بھیک مانگتے , انڈے , قہوہ اور برگر بیچتے , فیکٹریوں , ہوٹلوں اور اینٹوں کے بٹھوں میں کام کرتے معصوم بچے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہماری پسماندہ سوسائٹی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

    بچپن بچے کے جسمانی خدوخال کی نشوونما اور ذہنی و نفسیاتی ارتقاء کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے جس کے لئیے سکول بہترین جگہ ہے۔ سکول بچوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے بہترین ہم عمروں کے ساتھ رہ کر آنے والے ذندگی کے لئیے خود کو تیار کر پاتے ہیں اور ان کی شعوری سطح بھی بلند ہوتی ہے۔لیکن سکول میں موجود بچوں کے مقابلے میں بچوں کی ذیادہ تعداد کا سکول کی بجائے مزدوری کرنے کے لئیے سکول سے باہر موجود ہونا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ جن بنیادوں پہ استوار کھڑا ہے ان میں ضرور کوئی خامی ہے۔
    بظاہر اس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور آبادی میں اضافہ ہیں لیکن حقائق کا بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان گنت مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان مسائل میں مہنگائی , شعور کی کمی , پرانی روایات , غربت , بے روزگاری , منشیات اور صحت کی عدم سہولیات وہ مسائل ہیں جن میں ایک مسئلہ کی وجہ بن رہا ہے۔
    آبادی میں اضافہ بہت سے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو پیدا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافے سے ضروریات ذندگی بڑھ جاتی ہیں جن کو پورا کرنا خاندان کے اکیلے کمانے والے شخص کے بس میں نہیں رہتا۔
    ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد اپنی عورتوں کو ملازمت کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ جب اکیلا مرد گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ معصوم بچوں کی تعلیم چھڑوا کر ان کو کام پر لگا دیتا ہے۔
    معاشرے میں بچوں کے مشقت اور مزدوری کرنے کے کلچر کو ختم کرنے کے لئیے پہلا اقدام عورت کے لئیے ملازمت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے اس کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ خاوند کے ساتھ مل کر حصول معاش میں اس کا ہاتھ بٹا سکے اور وہ دونوں مل کر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذیور سے آراستہ کر کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل کی بنیاد رکھیں۔
    بنیادی تعلیم حاصل کئیے بغیر ایک بچہ جب ایک خاندان کا سربراہ بنے گا تو وہ تب بھی مزدوری کر کے روزی کمائے گا ۔ یوں نہ صرف اس کی ساری ذندگی مزدوری میں گزر جائے گی بلکہ وہ خود بھی مستقبل میں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو مزدوری پہ لگا دے گا ۔ اس طرح ایک خاندان ایک ایسی نسل کو جنم دے گا جس کا کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور معاشی طور پہ خوشحال نہیں ہو گا۔
    معاشرے میں پھیلتے ہوئے جرائم , منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور محرومی و احساس کمتری کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کسی حد تک اسی وجہ سے ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو بچپن سے ہی جسمانی مشقت پہ لگا دیا جاتا ہے جہاں سے وہ متششدد بن کر جرائم کی راہ اپناتے ہیں یا منشیات کے عادی ہو کر ذندگی کی ذمے داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    بچے کی جسمانی مشقت کے ساتھ گھر کی معشیت کو وقتی طور پہ ذرا سا کاندھا تو میسر آ جاتا ہے لیکن اس کے نتائج دیر پا ہوتے ہیں جو نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

    بچوں سے مزدوری کروانے کے کلچر کا بنیادی اور مؤثر حل یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لئیے اقدامات اٹھائے جائیں

    بچوں کی جسمانی مشقت اور مزدوری کرنے کے خلاف قانون سازی عمل میں آنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے لئیے وہ فیکٹری , ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان جو بچوں کو ملازمت کرنے کے لئیے اپنے پاس جگہ دیتے ہیں ان کے خلاف کاروئی عمل میں لائی جائے۔
    مرد کے ساتھ ساتھ نہ صرف عورت کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے بلکہ عورت کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر گھر کی معشیت کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
    معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو چاہئیے کہ وہ غریب خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں کیونکہ اکثر لوگ اپنے بچوں کو اس لئیے سکول نہیں بھیجتے کیونکہ وہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

    @alihaiderrr5