Baaghi TV

Category: کشمیر

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    سری نگر:جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ۔راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔

    کشمیری قوم کا کہنا تھا کہ جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دو بھارتی فوجی فائرنگ کے پراسرارواقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کنٹرول لائن کے ساتھ راجوری کے علاقے Hanjanwaliمیں پیش آیا جس میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے بعدازاں و ہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں اس واقعے کو فوجیوں کی آپس میں فائرنگ کا نتیجہ قراردیاگیا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    5 جنوری ایوان صدر اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے 29 سال سے انڈیا میں قید حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی تقریب رونمائی کی گئی ۔جس میں صدر پاکستان ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار خان آفریدی، علی محمد خان ، دیگر ایم این ایز، ایم پی ایز، صحافی حضرات اور مجھ سمیت سینکڑوں کشمیری و پاکستانی نوجوانوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں ڈاکٹر قاسم فکتو کے صاحبزادہ احمد بن قاسم نے مسلئہ کشمیر کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور پورا ایوان تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور احمد بن قاسم کا پورے ایوان نے کھڑے ہوکراستقبال کیا۔ احمد بن قاسم کا کہنا تھا کہ ” ہمارا مسلئہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بھارتی جارحانہ قبضہ ہے ۔اگربھارت جارحانہ قبضہ ختم کر دے تو نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی ۔ ”

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ ” میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر پر کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو گی اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انڈیا میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرائے گا ۔” چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھی ایوان سے پر جوش خطاب کیا ۔ شہریار خان آفریدی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ” قانونی حربہ استعمال کر کے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آواز بلند کریں گے اگر قانون واقعی اندھا ہے اور مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنے گا تو پھر غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے باہر نکلنا ہوگا، آزادی کیلئے معصوم ہاتھوں میں پتھر اٹھانے ہوں گے ، آزادی لینے کیلئے بندوق اٹھانی پڑےگی ، آزادی کے حصول کیلئے برہان وانی بننا پڑےگا اور آزادی لینے کیلئے کلمہ حق پڑھ کر جہاد کی راہ اختیار کرنی پڑےگی ۔” سینئر صحافی عمران ریاض خان نے بھی کشمیری ہونے کے ناطے اپنے آبائی وطن بانڈی پورہ جانے کا اظہار کیا اور ایوان میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگوائے اور پورا ایوان کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو جو کہ گزشتہ 29 سال سے انڈیا کی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے پست نہ کر سکے ، ان کی امید کو توڑ نہ سکے اور آزادی کی آواز کو بند نہ کر سکے ۔ بھارت نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن آواز بند کرنے کی بجائے ڈاکٹر قاسم فکتو کی کئی آوازیں اب کشمیر کی آزادی کیلئے بلند ہو رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر یوتھ الائنس ہے ۔کشمیر یوتھ الائنس کا ہر نوجوان کشمیر کی آزادی کی آواز ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو کی طرح کئی حریت رہنما انڈین جیلو ں میں قید ہیں جو گمنامی کی زندگی بسر کر ہے ہیں ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو نے جیل میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب ” بانگ” ہے ۔ جس میں سادہ اور آسان لفظوں میں مسلئہ کشمیر کو بیان کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو نے کشمیر سے متعلق بھارتی خفیہ منصوبوں کی نشاندہی کچھ اس طرح سے کی کہ : کشمیر کی ملت اسلامیہ کے خلاف سامراجی سازش کے تین بنیادی کردار ہیں۔موہن داس گاندھی اور پنڈت نہروجنہوں نے کشمیر پرقبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور ریڈکلف جس نے جغرافیائی راستہ فراہم کیا اور ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے اس کے لئے سیاسی ماحول فراہم کیا۔ لکھتے ہیں کہ "بھارتی سرکار کے پاس مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ،اب اسی آپشن کے تحت بھارتی سرکار سرعت کے ساتھ کام کررہی ہے۔” بھارت سرکار کروڑوں بھارتی ہندوﺅں کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال کرکے ان کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کشمیرہندﺅں کی اہم مذہبی جگہ ہے، اسطرح بھارتی سرکار کشمیر کو ہندﺅں کا مذہبی مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر شہہ رگ ہے اور دوسری طرف اٹوٹ انگ لیکن کشمیریوں کی کسی کو پراہ نہیں ۔

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہیں‌، اس حوالے سے بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک فسطائی ریاست اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک بن گیا ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندوتوا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی بھارت کو اقلیتوں سے صاف کرنے کے مشن کے سلسلے میں ان کے خلاف آر ایس ایس کے نظریے کو مسلسل نافذ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملے معمول بن چکے ہیں اور ملک میں مسلمان، عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو خوف و دہشت کی حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ جب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے ان کے ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے ہندو انتہا پسندوں کو اس قدر شہ ملی ہے کہ وہ کھلے عام اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے تحت ملک میں مذہبی عدم رواداری بڑھ رہی ہے جس کی پالیسیاں ہندوتوا نظریے کی عکاس ہیں اور وہ سب پر ہندو برہمن ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

    بھارت میں اقلیتوں‌کے خلاف مودی ڈاکٹرائن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا فسطائی نظریہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس خطرناک ذہنیت سے نمٹنے اور بھارت میں اقلیتوں کو بچانے کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو سالار حریت جو اپنی زندگی کی انتیس بہاریں بھارتی جیلوں میں کاٹ چکے ہیں ، جہاں ان پر بھارتی ظلم و ستم کے توڑے گئے پہاڑ بھی انہیں توڑ نا سکے بلکہ ہر گزرتا دن ہفتہ ماہ و سال انکے عزم و استقلال کو اور بڑھاتے رہے ، کتابیں اور خطوط انکا اپنی اولاد اور فیملی سے رابطہ کا واحد زریعہ تھا،

    احمد بن قاسم جو والد کی دوبارہ گرفتاری کے وقت محظ دو ماہ کے تھے انکے بقول والد صاحب ڈاکٹر قاسم فکتو جو ہمیں پیغام دینا یا ہماری تربیت کرنا چاہتے کتب میں کچھ لائنوں کو ہائی لائٹ کر دیتے، ڈاکٹر قاسم فکتو جو نیلسن منڈیلا سے زیادہ قید کاٹ چکے اور آگے بھی بھارتی حکومت انہیں کسی قسم کا ریلیف دئے بغیر متعدد پابندیاں لگا رہی ہے تاکہ انہیں جھکا سکے،

    ان پابندیوں میں ان تک کتب اور مزید تعلیم کے دروازے بند کرنے کے ساتھ ساتھ قید تنہائی اور جبر و ستم کے سلسلے وسیع کرنا شامل ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے پاکستان اور دنیا بھر انکا تعارف انکے شایان شان نا تھا۔ انہوں نے جیل سے ہی متعدد کتب لکھنے کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہیں کتب میں سے "بانگ” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی گئی جس میں بھارتی اکھنڈ بھارت نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کتاب کی تقریب رونمائی کی پروقار تقریب کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ڈاکٹر مجاہد گیلانی کی کاوشوں سے گزشتہ روز ممکن ہو پائی۔ جہاں ملک بھر سے کشمیر یوتھ الائنس کی درجنوں ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان ڈاکٹر قاسم فکتو کے پیغام حریت کو سننے ایوان صدر تشریف لائے۔

    جہاں ڈاکٹر قاسم فکتو کے فرزند احمد بن قاسم نے مسئلہ کی اساس کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بلکہ بھارتی جارحانہ قبضہ ہے، جبکہ انہوں اپنے بچپن کی یادیں شئر کیں تو ہال میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر قاسم فکتو سمیت تمام جانثاران حریت کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ہر طرح سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور انکا مقدمہ اقوام عالم تک پہنچانے میں کوئی کثر اٹھا نا رکھیں گے، تقریب کے مہمان چئیرمین کشمیر کمیٹی نے مسئلہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور ہر طرح کے وسائل بروئے کار لانے کا عزم کیا۔

    پروگرام کے ایک اور مقرر ملک کے نامور اینکر عمران ریاض خان تھے، جنکی فیملی مقبوضہ کشمیر و پاکستان میں منقسم ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آبائی گھر کے خواب آنکھوں میں سجائے کشمیر کی آزادی کے منتظر ہیں اور اپنی بساط میں میڈیا کے محاذ کو بھرپور استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور یہی پیغام اپنی میڈیا برادری کو بھی دیا۔

    استقبالیہ پروگرام کے روح رواں صدر کشمیر یوتھ الائنس جناب ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے دیا، اس قدر خوبصورت پروگرام یقیناً ڈاکٹر مجاہد کی انتھک کوششوں کے بعد ہی ممکن ہو پایا ہے، پروگرام میں نقابت کے فرائض سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر اور وائس پریزیڈنٹ کشمیر یوتھ الائنس پلوشہ سعید نے بخوبی سرانجام دئے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اسلام آباد اور راولپنڈی کی ٹیم کی مسلسل محنت کا اس پروگرام کی کامیابی میں بنیادی کردار تھا جبکہ کشمیر یوتھ الائنس کی نوے سے زائد ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان و قیادت کی ملک کے طول و عرض سے شرکت نے پروگرام کو چار چاند لگا دئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس معمولی کاوش کو شرف قبولیت بخش کر آزادی کی منزلوں کے پانے تک استقامت کی توفیق دے۔ آمین

  • مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی ,اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے” سٹریٹجک ایریاز‘ ‘کے نام پر گلمرگ میں مزید 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی قابض فوج کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی کہ حکومت نے فوج کو تربیتی مقاصد کے لیے زمین کے استعمال کی اجازت دینے کی منظوری دی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ دونوں مقامات (گلمرگ اور سونمرگ) پرفوج کوتربیت دی جاتی ہے جس کے لیے فوج نے پہلے ہی وہاں زمین حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج کو تربیتی ہال وغیرہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے اور یہ ضروری انفراسٹرکچر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اہم تھا اور انتظامیہ نے اس کی منظوری دی ہے۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے فوج کے لئے سیاحتی علاقوں میں زمین مختص کرکے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے گلمرگ میں 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی بھارتی فوج کے لیے مختص کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پرکہاکہ سیاحتی علاقوں میں ہزاروں کنال اراضی فوج کے لیے مختص کرنے سے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرنے کے بھارتی حکومت کے عزائم کی کی تصدیق ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ”ریاستی زمین“ کے بہانے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور زخموں پرنمک چھڑکنے کے لئے مقامی لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی ہے کہ قابض حکومت نے بھارتی فوج کومذکورہ علاقوں میںزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

  • اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    بیلجیم :اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ،اطلاعات کے مطابق بیلجیم میں پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے اقوام متحدہ اورعالمی برادری پرزور دیا ہے کہ اقوام عالم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے،ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج پھر5 جنوری کا دن ہے جب جموں و کشمیر تنازعہ کے جمہوری عمل کے ذریعے اس کی سرپرستی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کی 73 ویں سالگرہ ہے۔

    ظہیر احمد جنجوعہ نے اپنے بیان میں‌کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کی بھارت اور پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن کی قرارداد کشمیر کے عوام کو ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہے، جسے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح نظر اندازی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ، بھارت نے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل اور سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر من مانی حراستوں، عصمت دری اور تشدد، حراستی قتل، جبری گمشدگیوں اور اسٹیجڈ مقابلوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ظلم و ستم میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں 5 اگست 2019 سے اب تک 500 سے زائد کشمیریوں کی شہادت ہوئی ہے۔ یہ بھارتی ریاست کے مکروہ رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح مظہر ہے۔

    ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے، ہندوستان اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول زمینوں پر قبضے، غیر کشمیریوں کی آمد اور متنازعہ علاقے میں اجنبی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ یو این ایس سی کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیریوں نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس کا اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ بھارتی مظالم کی جتنی بھی مقدار کشمیری عوام کو دبا یا جا سکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قربانیاں بہت جلد رنگ لائیں گی۔

    بیلجیم میں‌ پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ ہم عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ادراک کرے اور بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے لیے وضاحت طلب کرے

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر پرعزم ہے اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ان کی ہر طرح کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

    آخر میں ظہیر احمد جنجوعہ نے کہا میں آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں کشمیریوں کی آواز بنیں اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا اظہار کریں۔تاکہ کشمیریوں کو جلد آزادی مل سکے