Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یو م حق خود ارادیت اس تجدید عہدکے ساتھ منارہے ہیں کہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد آزادی کو جاری رکھا جائے گا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1949 ء میں آج ہی کے دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظورکی تھی جس میں عالمی ادارے کے زیر اہتمام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے حق کی حمایت کی گئی تھی۔

    آج دنیا بھر میں ریلیوں ، سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کو یاد دلایا جائے کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچائے۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قراردارتنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی ادارہ اپنی منظورکردہ قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کراسکاہے جس کی وجہ سے کشمیری مسلسل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    سرینگر:کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مزیدآزادی پسند کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی غرض سے بھارتی پولیس کو مہلک امریکی سگِ اسالٹ رائفلوں اور پستولوں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیرمیں جدید ترین رائفلوں سے لیس کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس جدید ترین امریکی سگِ اسالٹ رائفل حاصل کرنے والی پہلی فورس ہو گی ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی فورس 500 سگ سوئر 716 رائفلیں اور 100سگ سوئر ایم پی ایکس نائن ایم ایم پستول خریدے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حال ہی میں ان مہلک ہتھیاروں کی خریداری کیلئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سگ سوئراسالٹ 716رائفلزکشمیرمیں پولیس کے زیر استعمال انساس رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور جدید ہے ۔ حکام کے مطابق رائفل جس کا وزن میگزین کے بغیر 3.82کلو ہے، ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ سو رائونڈ فی منٹ فائر کرتی ہے اور 500میٹر تک کے فاصلے تک نشانہ بنا سکتی ہے ۔ یہ جدید ترین رائفل اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام ، گرفتاریوں اور انہیں عمر بھر کیلئے معذور کرنے کیلئے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں ۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں95ہزار950سے زائد کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار246خواتین کی بے حرمتی کی ہے ۔

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    سرینگر: چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے گزشتہ ایک برس سے سرینگرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر قابض حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ حکام کی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کل جامع مسجد کی طرف مارچ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ جنہوں نے ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں کی مزاحمت کی ہے جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کی زمین اور قدرتی وسائل کو غیر مقامی لوگوں کو فروخت کر کے علاقے کی آبادی پر حالیہ حملے کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب اور آئمہ خضرات مساجد میں خطاب کے دوران لوگوں کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ نے پیر کو بھارت کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ علاقے میں ہاو¿سنگ اور تجارتی منصوبوں کی ترقی کے نام پر 18ہزار 3سو کروڑ روپے کے 39 مفا ہمت کی یاداشتوں پردستخط کیے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ نوآبادیاتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی زمین پر قبضہ بھارتی شہریوں کو علاقے میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکیں۔

  • ریاست کے عوام خود پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    یہ دعویٰ اپنی موجودہ شکل میں غلط نہیں قرار دیا جاسکتا یا اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔کیوں کہ ریاست میں واقع ہی ایسے بہت سے افراد ہے جو چاہتے ہیں کے کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے ۔لیکن اس دعوے کے جواب میں کچھ سوال ضرور ذہن میں ابھرتے ہیں جن میں سے سب سے پہلا سوال یہ کہ جو عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ان کا تناسب کیا ہے ؟؟؟یعنی کتنے فیصد عوام ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کے عوام کے سامنے آزادی کا راستہ بھی ہو تو اکثریت کس طرف جائے گی ؟؟؟
    دراصل جب تک ریاست کے باشندوں کے سامنے صرف دو ہی راستے موجود تھے ایک ہندوستان سے الحاق اور دوسرا پاکستان سے تو ایسے افراد کی کمی نہیں تھی جو ہندوستان کی نسبت پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن یہ وہ عہد تھا جب ریاست میں "قومی آزادی ” کی جدوجہد موجود نہیں تھی بلکہ ریاست کے عوام کے حقوق کے لیے برسر پیکار لیڈر اور جماعتیں ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں سے بہتری کی امید لگائے بیٹھی تھیں مگر آج ریاست کے اندر بنیادی حقیقت بدل چکی ہے اور یہ حقیقت الحاق کی قوتوں کی جدوجہد سے نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی کے علمبردار قوتوں کی جدوجہد سے بدلی ہے جس کا آغاز ساٹھ کے عشرے میں ایک طرف جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ اور دوسری طرف قومی محاذ آزادی کے قیام سے ہوا تھا اور باد ازاں اس حقیقت کو نوشتہء دیوار بنانے میں مقبول بٹ شہید سے لے کر آج کے کشمیر کے لاکھوں افراد کی بے پناہ قربانیوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے لہذا مذکورہ بالا دعوے کے جواب میں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب چونکہ اصل مقابلہ الحاق کے ہندوستان اور الحاق پاکستان میں نہیں اس لئے آج کی حقیقت کی روشنی میں جوابی دعوی یہ ہیں "ریاست کے عوام کے اکثریت الحاق کے مقابلے میں آزادی کو ترجحیی دیتی ہے "۔

    لیکن ان دونوں دعووں کی اس وقت تک کوئی حثیت نہیں جب تک کہ کشمیر کے عوام سے براہ راست یہ پوچھ نہ لیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں یہ ہیں یعنی جب تک عوام کو غیر مشروط حق خود احتیاری نہ دیا جائے یہ دعوے بے معنی ہے ۔
    فی الحال اپنے اس دعوے کے حق میں الحاق والوں کے پاس یہ دلیل ہے کہ جی اگر کشمیر پاکستان سے الحاق کے حق میں نہیں ہیں تو آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس یا الحاق کی حامی دیگر جماعتوں کی حکومت کیوں بنتی ہے ؟اس کے جواب میں ایک تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کسوٹی ہے تو پھر کشمیری بھارت کے حق میں ہیں کیونکہ 1987 تک کشمیر کی اکثریتی آبادی والے حصہ میں بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کی حکومت چلی آ رہی ہے ۔
    دوسری بات یہ کہ آزاد کشمیر میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے لازمی ہے کہ آپ "الحاق پاکستان” کے حلف نامے پر دستخط کریں لہذا خودمختار کشمیر والے اس کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتے یوں وہ یہاں کے انتخابی دھارے سے ہیں ہی باہر۔
    موجودہ تحریک حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کشمیری بھارت مقبوضہ علاقے میں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں اور گاڑیوں میں پاکستانی وقت ملا رکھا ہے اس کے علاوہ پاکستان کا دن مناتے ہیں ۔عمران خان کے پرستار ہیں ۔اور پاکستان کے حکمرانوں پر بن آئے جیسے بھٹو کی پھانسی اور ضیاء کی موت تو کشمیری سوگ مناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

    اس سلسلہ میں کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوام کا مقصد بھارت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا ہوتا ہے اس کے لئے وہ سینکڑوں طریقے اختیار کرتے ہیں اپنی پہاڑیاں یا پوٹھوہاڑی میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ غاصب کے خلاف اظہار نفرت کے لئے "جیڑیاں تواڑیاں چیڑاں او ماڑیاں کھیڑاں "والا رویہ اپنایا جاتا ہے ۔اگر کشمیری وہاں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں تو وہ آزاد کشمیر اور جے کے ایف کے علم بھی بلند کرتے ہیں۔

    اس کے علاوہ اگر اس دلیل کو آزاد کشمیر کے حوالے سے دیکھا جائے تو بارہا یہاں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارت کے حق میں نعرے لگائے اور ڈڈیال میں جب بارات ڈوبنے کا واقعہ ہوا تھا تو باز شہادتوں کے مطابق لوگوں نے تھانے پر قبضہ کر کہ بھارت کے جھنڈے لہرا دیے تھے اور پھر جب 1953 میں پونچھ کے عوام پر پاکستان کے حکمرانوں نے ستم ڈھائے تھے تو وہاں بھی لوگوں نے اس ہی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا تھا جب کے آپ نے آزاد کشمیر کے گمشاتہ حکمران بھی کئی بار جب اپنے بے اختیار و اقتدار کو جاتا ہوا دیتے ہیں تو بھارت کے ساتھ مل جانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں تو کیا وہ بھارت سے الحاق کرنا چاہتے ہوتے ہیں ؟؟؟
    اور پھر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پورے کشمیر میں اکثریت الحاق پاکستان کے حق میں ہے تو پھر پاکستانی حکمران طبقے اور ان کے ماتحت کشمیری حکمران خودمختاری کے آپشن سے بدکتے کیوں ہے ؟؟؟ وہ یہ تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ کشمیری قوم کے سامنے تینوں راستے رکھے جائیں اور جس طرف اکثریت رائے دے اس کے مطابق کشمیر کے مسئلے کو حل کر لیا جائے ؟؟؟

    یہ طبقے غیر مشروط حق خوداختیاری کی بجائے صرف دو راستوں پر ہی کیوں بضد ہیں ؟؟؟
    کہا جاتا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ میں صرف دو ہی متبادل ہیں "الحاق پاکستان ” اور "الحاق ہندوستان ” لہذا تیسرے آپشن یعنی خودمختاری کی بات کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اس مسئلہ کو اقوام متحدہ سے باہر نکال رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو بھارت اقوام متحدہ کی جھکڑ سے نکل جائے گا (زیڈ اے سلہری ” ایک خطرناک چال” اور کشمیر کو آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا ” روزنامہ جنگ لنڈن)
    اس دلیل کی بنیاد کشمیریوں کو جاہل اور اپنا ابدی غلام سمجھنے کی بنیاد پر ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں اس حوالے سے کم از کم دو بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرائی جا چکی ہے ۔پہلی تبدیلی کا تعلق اقوام متحدہ کے اس کمیشن کے نام کے بارے میں ہے جو 1948 میں ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کا ابتدائی یا اصلی نام "کمیشن برائے جموں و کشمیر” رکھا گیا تھا لیکن پاکستانی حکام کی سفارش پر (باحوالہ امان اللہ خان جنگ انٹرویو ) اس کا نام تبدیل کر کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان رکھ دیا گیا تھا ۔اس کے بعد جب اس کمیشن نے جب اپنی پہلی قرارداد آگست 1948 میں پیش کی تو اس میں کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے
    کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ رائے شماری کے ذریعے مستقبل کا فیصلہ کرے یہ قرارداد قوموں کی حقیقی حق خود ارادیت کے ہم معنی تھی اور اس میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے سلسلہ میں کشمیریوں کو تینوں راستوں کی ضمانت دی گئی تھی اس میں تینوں آپشن تھے یعنی اس میں کشمیر کی آزادی کی برابر گنجائش تھی ۔لیکن بات اگر ایک بار پھر پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے مطالبے پر اس قرار داد میں تبدیلی لا کر اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کر کے کشمیریوں کی آزادی کے راستے کو بند کر دیا گیا اور اس میں کشمیر کے مستقبل کی بجائے کشمیر کے الحاق کے الفاظ لکھ دئیے گئے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کے امکانات کو ختم کردیا گیا۔
    ان تاریخی اور آن دی ریکارڈ حقائق کی بنیاد پر آج بجا طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سے نکال بغیر کشمیریوں کی آزادی کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ کھلولا کیوں نہیں جا سکتا؟؟

    آزادی کا دروازہ بند کرانے اور کھولنے کے عمل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟؟؟
    یہی ناکہ اقوام متحدہ کے موجودہ قراردادوں کی بنیاد پر پاکستانی حکمرانوں کو پورا یقین ہے کہ کشمیری بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے لیکن اگر آزادی کا راستہ کھل گیا تو دنیا کی دیگر اقوام باشمول بھارت و پاکستان کی عوام کی طرح کشمیری بھی آزاد رہنے کو ترجیح دیں گے ۔اس کے علاوہ کوئی اور فرق مجھے تو نظر نہیں آتا اور اگر بنیادی فرق یہ ہے تو پھر یہ دعوی کس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟

    کشمیریوں کی قومی امنگوں کا پتہ لگانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کشمیریوں کو غیر مشروط اور غیر محدود حق خود اختیاری دیا جائے یہ خود ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں پاکستان یا بھارت سے الحاق یا آزادی ۔اس کے علاوہ جس طریقے سے کشمیر کے لوگوں کی رائے کے بارے میں دعوی کیا جائے گا وہ جھوٹ یا آدھا سچ ہو گا ۔اور آدھے سچ کی بنیاد پر کیے گئے قومی فیصلے کبھی دیرپا نہیں ہوتے اور اکثر آگے چل کر ملک کی ٹوٹ پھوٹ اور بے تحاشہ خون خرابے کا باعث بنتے ہیں ۔
    نوٹ:
    اگست١٩۴٨ء کی قرارداد کے حوالے سے قاضی حسین احمد صاحب نے جو مضمون 13 اگست 1992 کہ جنگ لندن میں لکھا ہے اس میں شاید سہوا انہوں نے 13 اگست کی قرارداد کے الفاظ بدل کر لکھے ہیں اور مستقبل کے فیصلے کے حق کی بجائے الحاق کا حق لکھا ہے پاکستانی سفارتخانے نے جو کتابچہ KASHMIR IN SECURITY COUNCIL چھاپہ ہے اس میں قرارداد کے الفاظ وہی لکھے ہیں ۔جن کا حوالا میں نے اوپر دیا ہے۔

    @zeeshanwaheed43

  • بھارت نے جیلوں میں بند قیدیوں کو زہردے کرمارنا شروع کردیا

    بھارت نے جیلوں میں بند قیدیوں کو زہردے کرمارنا شروع کردیا

    نئی دہلی :بھارت میں نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پانچ قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جیل میں گزشتہ آٹھ روز کے دوران پانچ قیدی پراسرار حالات میں انتقال کرگئے ۔

    دہلی پولیس کے ایک افسرنے بتایا کہ تمام اموات کی مجسٹریل انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔جمعہ کو تہاڑ جیل میں وکرم عرف وکی کے نام سے ایک قیدی کی موت ہوئی جبکہ حکام نے دعویٰ کیا کہ قیدی اپنے سیل میں بے ہوش پایا گیا تھا اور اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیری رہنما جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، انجینئر رشید، ظہور وٹالی، سید شاہد شاہ، شکیل یوسف شاہ اور غلام محمد بٹ بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظر بند ہیں۔

    دوسری طرف غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں وکشمیر ماس موومنٹ نے کہاہے کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی رکنے کا نام نہیں لے رہی اوربھارتی فورسز کسی بھی وقت کسی بھی شخص کا حق زندگی چھین کر اس سے شہید کرسکتی ہیں یا سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ماس موومنٹ کے سیکرٹری انفارمیشن شبیر احمد نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شوپیان ، پلوامہ اور بجبہاڑہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ قابض بھارتی فورسز نے گھر گھر تلاشی کے نام پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ،خواتین سے بدتمیزی کی اور بزرگوں اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور انہیں شدید سردی میں گھروں سے باہر کھڑا رہنے پر مجبورکیا۔انہوں نے کہا کشمیر میں اس وقت قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔

    انہوں نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کو جبرواستبداد کی ان پالسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور حریت پسند کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کی تحریک سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں نہتے اور معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اور بھارت کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کا احترام کرنے پر مجبورکری

  • بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی

    بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی

    نئی دہلی :بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ایک دلت خاندان میں پیدا ہونا گناہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ بھارت میں اعلیٰ ذات کے ہندووں کی طرف سے دلتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں دلتوں کو ان کنووں سے پانی پینے یا ان مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے جنہیں اونچی ذات کے ہندو استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلتوں کو، جنہیں اچھوت بھی کہا جاتا ہے، بھارت میں سب سے کم ترملازمتوں پر رکھا جاتا ہے اور وہ صدیوں سے ہندو ﺅں کے ذات پات کے نظام کا شکار ہیں اور انہیں ذات پات کے نام پر امتیازی سلوک اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں دلت اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں عوامی سطح پرتذلیل کا نشانہ بننے کے مسلسل خوف میں زندگی گزارہے ہیں اور انہیں ناپاک اور کم ذات سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں دلتوں کے لیے محض اونچی ذات کے محلے سے گزرنا جان لیوا جرم ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اونچی ذات کے ہندو دلت خواتین کو اکثر برہنہ کر کے مارتے پیٹتے ہیں اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہرروز اوسطاً تین دلت خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور دو کو قتل کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ فسطائی مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مودی کے دور حکومت میں انہیں منظم طور پر پسماندگی کی طرف دھکیلا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو دلتوں کو اونچی ذات کے ہندووں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔

  • برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی

    برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی

    لندن: برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی ,اطلاعات کے مطابق برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارتی ہائی کمیشن لندن کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی، خط میں کہا گیا کہ 2 سال میں ڈھائی ہزار بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا پردہ چاک کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن لندن کو خط لکھ دیا۔ خط برطانوی درالعوام کے 28 ارکین کی جانب سے لکھا گیا ہے۔

    برطانوی درالعوام نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی کارکن خرم پرویز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ خرم پرویز کی گرفتاری کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا گیا ہے، خرم پرویز کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں اور معاملے کی شفاف انداز میں تحقیقات کی جائیں۔

    برطانوی درالعوام کا کہنا تھا کہ خرم پرویز دہشت گرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ 2 سال میں ڈھائی ہزار بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی تشویش ناک اطلاعات ہیں۔ بے گناہ کشمیریوں کو مبینہ دہشت گرد بنا کر مار دیا جاتا ہے جبکہ مرنے والے تمام عام شہری ہوتے ہیں۔

    برطانوی درالعوام نے اپنے خط میں مذکورہ تمام واقعات پر بھارتی ہائی کمیشن سے وضاحت بھی طلب کرلی۔

  • مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت بول اٹھی ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلامک پولیٹیکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کی مشق، نصاب تعلیم میں تبدیلی، نئے ڈومیسائل قوانین، سرکاری عمارتوں کو ہندوئوں کے ناموں سے منسوب کرنے اوراس طرح کے دیگر اقدامات کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی قانونی اور ثقافتی دہشت گردی قراردیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور اسے ہندو اکثریتی علاقہ قرار دینا ہے۔

    انہوں نے بھارتی اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے کہاکہ ان سے مستقبل میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے ۔یوسف نقاش نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری بھارت سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کی سنگینی کاادراک کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی بند کرانے اور جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔

    انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اورمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    ادھر تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کے مسودے کو وادی کشمیر اور جموں خطے کے عوام کو فرقہ وارانہ اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ایک مذموم منصوبہ قراردیا۔

    انہوں نے کہاکہ اس مسودے سے بھارتی حکمرانوں کے مذموم عزائم اورکشمیری عوام کے بارے میں پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کا مقصد جموں اور وادی کشمیر کے عوام کے درمیان خلاف پیدا کرنا ہے۔ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کے درمیان مثالی بھائی چارے کی فضا ء کو خراب کرنے اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے درپے تاکہ وہ آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ اور فسطائی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے ۔

  • وزیراعظم صاحب : ہمیں آپ پراعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے:کشمیریوں‌ کا عمران خان پربھرپوراعتماد کا اعلان

    وزیراعظم صاحب : ہمیں آپ پراعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے:کشمیریوں‌ کا عمران خان پربھرپوراعتماد کا اعلان

    لندن :عمران خان ہمیں آپ پراعتبار ہے:کشمیریوں کا عمران خان کی قیادت پربھرپوراعتماد،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی طرح بیرون ممالک موجود لاکھوں کشمیریوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھرپوراعتماد کا اعلان کیا ہے ،

    اس حوالے سے کشمیریوں نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی کشمیریوں کےلیے جدوجہد کو پسند کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پرکشمیریوں کو اعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے،

    بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں کشمیریوں کے نصب العین کی حمایت کا اعادہ کرنے کاخیرمقدم کرتے ہوئے اسے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ سے ملاقات میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جس سے کشمیریوں کی منصفانہ اور حق پر مبنی جدوجہد آزادی کی حمایت کے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے ۔

    انہوں نے دنیا بھر میں اور برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے وزیر اعظم پاکستان کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے ۔فہیم کیانی نے کہاکہ عمران خان نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں کشمیر اور فلسطین کے عوام کیلئے آواز بلند کی ۔انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پاکستان کی اپیل پر توجہ دیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کی گئی ہے ۔

    وزیر اعظم خان نے او آئی سی کے اجلاس کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے عوام اپنی منصفانہ جدوجہد میں مدد کیلئے عالم اسلام کی توجہ کے منتظر ہیں ۔تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر نے کہا کہ 41سال بعد او آئی سی کی خصوصی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اب بھی ضمیر اور انسانیت ابھی زندہ ہے۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام بھی چاہتے ان کی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اس طرح کا سربراہ اجلاس مددگارثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ او آئی سی ہی مقبوضہ علاقے میں کشمیریوںکی نسل کشی اور جنگی جرائم بند کرانے اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے سے روکنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھانا کیلئے اہم فورم ہے ۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے ذرائع کے مطابق کشمیری قوم نے بیرون ممالک کشمیریوں کے اس موقف کی حمایت اور اسے درست قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ ہمیں امید ہے کہ عمران خان کشمیری قوم کے حقیقی سفیر کے طور کشمیریوں کا کیس ہرفورم پرلڑیں‌ گے