Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    قصور ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی افواج کے مقبوضہ جموں کشمیر پر ناجائز قبضے کی مذمت کیلئے بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ضلع بھر میں ریلیوں کا اہتمام کیاگیا جس میں ضلعی افسران‘طلباء اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی فورسز کے مقبوضہ جمو ں وکشمیر پر ناجائز قبضے کے خلاف پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ 27اکتوبر برصغیر کے مسلمانوں کے تاریخی تناظر میں ایک سیاہ دن ہے اس روز بھارتی افواج نے کشمیری بھائیوں کے بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا۔ کشمیری عوام 74سال سے اس ظلم و بربریت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ آج کے دن ہم کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور بھارتی افواج کے ناجائز قبضے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ریلیوں کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور کشمیرکی آزادی کیلئے خصوصی دعا ئیں بھی کی گئیں
    مہر بشارت صدیقی باغی ٹی وی قصور

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

    کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے صدر عارف علوی نے یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کہا ہےکہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غیرقانونی طور پر قبضہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ 7 دہائیوں میں بھارت نے کشمیری عوام کو بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا مگر اس کے باوجود کشمیریوں کا عزم متزلزل نہیں ہوا۔

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    دوسری جانب کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور کشمیر یوم سیاہ کے موقع پر پاکستان کی یوتھ پارلیمنٹ کے تعاون سے وزارت خارجہ کی طرف سے "ہاں میں کشمیر ہوں” کے عنوان سے ایک آج گانا جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے کشمیریوں کےلیے 27 اکتوبر 1947 کا دن کسی ڈروانے خواب سے کم نہ تھا کیونکہ تب پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے اپنے قدم جنت نظیر میں رکھے تھے اور اس وقت سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے یہ دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    یوم سیاہ کشمیر: وزارت خارجہ کی طرف سے تیار کئے گئے گانے کا ٹیزر جاری

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے کا قطعی کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی جواز نہیں ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی بھارت کشمیر میں ظلم کرنے سے باز نہیں رہا بلکہ اُس کے ظلم کر نے کےطر یقے بدلتے رہے۔

    ایسا ہی ایک عمل بھارت نے 5 اگست 2019 کے دن آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کیا جب اُس نے کشمیریوں سے اُن کی شناخت ہی چھیننے کی کوشش کی۔ بھارت نے یہ گھناؤنا عمل کرکے کہ اپنے لیڈر جواہر لال نہرو کے اُس وعدے کو بھی توڑا جو اُس نے اقوام متحدہ اور اپنے ملک میں مختلف مقامات پر کیا تھا۔ اس وعدے میں اُس نے کہا تھا کہ بھارت کشمیر میں رائے شماری کروائے گا رائے شماری تو کبھی نہیں کروائی گئی البتہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش ضرور کی گئی۔ بھارتی عمل سے جہاں ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا تو دوسری طرف کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں بھی سنا گیا۔

    تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

    پاکستان ہمیشہ سے ہی کشمیریوں کے حق خودِرادیت کےلیے دنیا میں آواز بلند کرتا آرہا ہے مگر 5 اگست کے بعد سے تو پاکستان نے کوئی ایسا فورم نہیں چھوڑا جہاں کشمیریوں کی آواز دنیا بھر تک نہ پہنچائی ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر ایسی سحر انگیز تقریر کی جس میں اُنھوں نے کشمیریوں کے اوپر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے بیان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے بعد پاکستان نے انٹر پارلیمانی یونین میں بھی کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا اور عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کا حق خودِرادیت یقینی بنائیں۔ پاکستان نے دنیا کو باور کروایا کہ کشمیریوں کے ساتھ یہ بدسلوکی ختم کروانے کےلیے بھارت پر زور دینا چاہیے۔

    اب دنیا بھی بھارت کے ظلم سے آگاہ ہوچکی ہے اس لیے تو امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے بیشتر قانون سازوں نے بھی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات پر سوالات اُٹھائے اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس وقت بھی بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مشغول ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ظلم میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ نہتے معصوم کشمیریوں پر ایسے مظالم ڈھا رہا ہے کہ جس کو دیکھ کر انسانیت کا سَر بھی شرم سے جھک گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر:کشمیری مجاہدین کے بھارتی فوج پرتابڑتوڑحملے،تازہ حملے میں‌ بڑا جانی…

    سن 1989 سے لے کر اب تک بھارت کی مسلط فورسز نے کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جس میں سے 7 ہزار 130 لوگ وہ تھے جو دوران حراست دم توڑ گئے۔

    بھارت ہر کوشش کر رہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جائے تاکہ باہر کی دنیا کو علم نہ ہو سکے کہ وہ وادی میں کیا ظلم ڈھا رہا ہے۔ جیسے ہی پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے تو دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت شروع کر دیتا ہے جس میں وہ نہتے شہر یوں کو نشانہ بنا تا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کےلیے پاکستان کےخلاف جھوٹا پروپیگنڈا بھی کر تا ہے۔

    ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ اس دن پوری دنیا کو یہی پیغام دیا جائے گا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں، ریلیوں کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے بہت اچھی طرح واقف ہے اور وہ جتنا بھی ظلم کر ے وہ کشمیریوں سے اُنکی شناخت نہیں چھین سکتا۔

    پاکستان ہمیشہ سے کشمیر کے پر امن حل کےلیے کوشاں رہا ہے کیونکہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنو بی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کےلیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان نیک نیتی کے ساتھ کشمیر کا کیس لڑ کر اس کو اسی کی آزادی دلوا کر رہے گا۔

    ابھی حال ہی میں اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان سعودی عرب انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ ہے کشمیر، اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے تو ہمارے درمیان اور کوئی مسئلہ نہیں اس وقت پاکستان کی اکثریتی آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے کل رات پاکستان نے بھارت کو میچ میں بری طرح پچھاڑ دیا تاہم ابھی میچ پر بات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے-

  • یوم سیاہ کشمیر: وزارت خارجہ کی طرف سے تیار کئے گئے گانے کا ٹیزر جاری

    یوم سیاہ کشمیر: وزارت خارجہ کی طرف سے تیار کئے گئے گانے کا ٹیزر جاری

    کشمیر یوم سیاہ کے موقع پر پاکستان کی یوتھ پارلیمنٹ کے تعاون سے وزارت خارجہ کی طرف سے "ہاں میں کشمیر ہوں” کے عنوان سے ایک گانا جاری کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر جاری کی جانے والی ویڈیو کا ایک مختصر کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے ویڈیو کا آغاز مرحوم حریت رہنما سید علی گیلانی کی تصویر سے کیا گیا ہے ویڈیو میں کشمیریوں پر بھارتی قابض افواج کا تشدد دکھایا گیا ہے اس ویڈیو کے ذریعے کشمیر کے حالات اوت بھارتی قابض فوج کی درندگی کو دنیا بھر میں اجاگر کیا گیا ہے اور عالمی فورم پر کشمیر کے حق کے لئے آواز اٹھائی گئی ہے-


    واضح رہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے کشمیریوں کےلیے 27 اکتوبر 1947 کا دن کسی ڈروانے خواب سے کم نہ تھا کیونکہ تب پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے اپنے قدم جنت نظیر میں رکھے تھے اور اس وقت سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے یہ دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے کا قطعی کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی جواز نہیں ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی بھارت کشمیر میں ظلم کرنے سے باز نہیں رہا بلکہ اُس کے ظلم کر نے کےطر یقے بدلتے رہے۔

    ایسا ہی ایک عمل بھارت نے 5 اگست 2019 کے دن آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کیا جب اُس نے کشمیریوں سے اُن کی شناخت ہی چھیننے کی کوشش کی۔ بھارت نے یہ گھناؤنا عمل کرکے کہ اپنے لیڈر جواہر لال نہرو کے اُس وعدے کو بھی توڑا جو اُس نے اقوام متحدہ اور اپنے ملک میں مختلف مقامات پر کیا تھا۔ اس وعدے میں اُس نے کہا تھا کہ بھارت کشمیر میں رائے شماری کروائے گا رائے شماری تو کبھی نہیں کروائی گئی البتہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش ضرور کی گئی۔ بھارتی عمل سے جہاں ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا تو دوسری طرف کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں بھی سنا گیا۔

    تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ 

    پاکستان ہمیشہ سے ہی کشمیریوں کے حق خودِرادیت کےلیے دنیا میں آواز بلند کرتا آرہا ہے مگر 5 اگست کے بعد سے تو پاکستان نے کوئی ایسا فورم نہیں چھوڑا جہاں کشمیریوں کی آواز دنیا بھر تک نہ پہنچائی ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر ایسی سحر انگیز تقریر کی جس میں اُنھوں نے کشمیریوں کے اوپر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے بیان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے بعد پاکستان نے انٹر پارلیمانی یونین میں بھی کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا اور عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کا حق خودِرادیت یقینی بنائیں۔ پاکستان نے دنیا کو باور کروایا کہ کشمیریوں کے ساتھ یہ بدسلوکی ختم کروانے کےلیے بھارت پر زور دینا چاہیے۔

    اب دنیا بھی بھارت کے ظلم سے آگاہ ہوچکی ہے اس لیے تو امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے بیشتر قانون سازوں نے بھی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات پر سوالات اُٹھائے اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورت حال پر  تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس وقت بھی بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مشغول ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ظلم میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ نہتے معصوم کشمیریوں پر ایسے مظالم ڈھا رہا ہے کہ جس کو دیکھ کر انسانیت کا سَر بھی شرم سے جھک گیا ہے۔

    سن 1989 سے لے کر اب تک بھارت کی مسلط فورسز نے کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جس میں سے 7 ہزار 130 لوگ وہ تھے جو دوران حراست دم توڑ گئے۔

    بھارت ہر کوشش کر رہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جائے تاکہ باہر کی دنیا کو علم نہ ہو سکے کہ وہ وادی میں کیا  ظلم ڈھا رہا ہے۔ جیسے ہی پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے تو دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت شروع کر دیتا ہے جس میں وہ نہتے شہر یوں کو نشانہ بنا تا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کےلیے  پاکستان کےخلاف جھوٹا پروپیگنڈا بھی کر تا ہے۔

    ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ اس دن پوری دنیا کو یہی پیغام دیا جائے گا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں، ریلیوں کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے بہت اچھی طرح واقف ہے اور وہ جتنا بھی ظلم کر ے وہ کشمیریوں سے اُنکی شناخت نہیں چھین سکتا۔

    پاکستان ہمیشہ سے کشمیر کے پر امن حل کےلیے  کوشاں رہا ہے کیونکہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنو بی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کےلیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان نیک نیتی کے ساتھ کشمیر کا کیس لڑ کر اس کو اسی کی آزادی دلوا کر رہے گا۔

    ابھی حال ہی میں اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان سعودی عرب انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ ہے کشمیر، اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے تو ہمارے درمیان اور کوئی مسئلہ نہیں اس وقت پاکستان کی اکثریتی آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے کل رات پاکستان نے بھارت کو میچ میں بری طرح پچھاڑ دیا تاہم ابھی میچ پر بات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے-

  • پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیریوں کے قتل کے نعروں پر محبوبہ مفتی کی مذمت

    پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیریوں کے قتل کے نعروں پر محبوبہ مفتی کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیری عوام کو قتل کرنے پر مبنی نعرے لگانے کی مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ پاکستان کی کامیابی پر کشمیریوں کی جانب سے خوشیاں منانے پر اتنا غصہ کیوں ہے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی پر کتنے لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں بانٹی تھیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے خوش ہونے پر بعض افراد نعرے لگارہے تھے کہ دیش کے غداروں کو گولی مارو، تو پھر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہت سے لوگوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے توڑنے پر مٹھائیاں بانٹی تھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں اس بات پر مزید بحث میں نہیں پڑنا چاہیے اور اسے تسلیم کرلینا چاہیے، اسی جذبے کے تحت جیسا کہ ویرات کوہلی کا تھا جنھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو کامیابی پر سب سے پہلے مبارکباد دی۔

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    واضح رہے کہ ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست پر مقبوضہ کشمیرسمیت بھارت بھر میں جشن منائے گئے لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان سے محبت کرنے والوں پرتشدد کیا جارہاہے-

    پاکستان کےہاتھوں انڈیا کو عبرتناک شکست پر کشمیر میں جشن کا غصہ آگیا ہے اور مسلمانوں پرحملے جاری ہیں انڈیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے شروع ہوچکے ہیں‌

    پاکستان نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 10 وکٹوں سے شکست دیکر تاریخ رقم کی۔ ایسے میں پاکستان میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھی شہریوں نے جشن منایا۔

    مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے ایسے وقت میں پاکستان کی فتح کا جشن منایا جب مقبوضہ وادی کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی موجودگی میں فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی تاریخی فتح پر وادی بھر میں شہری چوک چوراہوں پر نکل آئے اور پاکستانی پرچم لہرائے۔کشمیریوں نے وادی بھر میں آتشبازی کی اور ساتھ ہی فضا ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اٹھی کشمیریوں نے ‘جیوے جیوے پاکستان‘، ’تیری جان میری جان پاکستان پاکستان‘ کے نعرے لگائے-

  • 27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری!   تحریر: محمد اختر

    27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری! تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!   27اکتوبر 1947، حالیہ صدی میں انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،اس دن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کر دی یہ وہ دن ہے جب بھارت نے سری نگر میں اپنی افواج اتاری تھیں۔ایک طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیری آزادی کے جنگجوؤں سے لڑ کر انہیں دریائے جہلم کے دوسری طرف دھکیل دیا اور دوسری طرف اس نے مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے۔اسی دوران، جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں گئے تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد انکے پاس شکایت لے کر آیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہی ہے۔ مہاراجہ نے شکایتوں کو دور کرنے کے بجائے مسلم وفد کو ہی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے، اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے ملحق ہندوستان کی سکھ ریاستوں سے بڑی تعداد میں سکھ فوجیوں کو کشمیر بلایا گیا تھا، جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے سلسلے میں، 1947 میں پاکستان کے الحاق کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کے دوران، پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔تاہم، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے، جدید دور میں بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر ظلم کا ایک خوفناک منظر بن گیا ہے، جہاں بھارتی افواج کی 14، 15، 16 بٹالین تعینات ہیں جن کی کل تعداد 9.5 لاکھ سے زائد ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔اس تعداد کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں کے لیے اوسطا ایک فوجی تعینات ہے۔ قار ئین کرام،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض افواج ظلم اور بربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہیں کہ وادی میں مٹی کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں  شہیدوں کا خون شامل نہ ہو۔کوئی دریا ایسا نہیں جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جسے قابض افواج نے تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ان مظالم کے علاوہ بھارت نے کئی کالے قانون نافذِعمل کئے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی آزادی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے، جیساکہ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، 1958 کے تحت، سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اپنے اختیار میں کسی بھی طریقے کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، چاہے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کتنی ہی وسیع ہو۔ یہ قانون 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، جب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی حکومت کے پاس ان کو کچلنے کا کوئی حربہ نہیں تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایکٹ کے نفاذ پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ وغیرہ کی جانب سے حسبِ معمول رسمی طور پر شدید تنقید کی گئی، کیونکہ اس نے فوجی افسران کو اپنے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی سرگرمیاں کرنے کا براہ راست اختیار دیا تاکہ مرکزی حکومتی احکامات اور حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور  وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔اس قانون کا انتہائی خطرناک استعمال 23 فروری 1991 کو کیا گیا، جب بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں ایک رات کے سرچ آپریشن کے دوران مختلف عمر کی 100 سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔قارئین کرام، جب میں کنان اور پوش پورہ کے واقعے کے بارے میں مطالعہ کر رہا تھا تومجھے معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150 کے قریب تھی۔اس ضمن میں، ان تنظیموں کے دباؤ کے تحت، دہلی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی، لیکن ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اس پر آنکھ بند رکھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور ملوث  فوجیوں کو بری کر دیا تھا۔در حقیقت، پچھلے 74 سالوں سے، بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے، لیکن بھارت ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتا رہا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اس کا جواب یہ رہا ہے کہ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے یا پروپیگنڈا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کو بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت کا یہ رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی بہت سی داستان ہیں، بھارت کسی مبصر کو  مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ کہیں وہ واقعات سے پردہ نا اٹھا دے اور اس کے جھوٹے دعوں کی کلی کھل نہ جائے۔ لیکن پھر بھی کشمیری نوجوان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کو ان حالات اور واقعات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قارئین کرام! میری رائے میں، بھارت کی جانب سے کرفیو، لاک ڈاؤن، جبر اور تشدد جیسی حکمت عملی ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ میں سمجھتا  ہوں کہ اِس طرح کے اقدامات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اپنے مطالبات اور مشن کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کرفیو لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ واضح رہے، اکتوبر 1947 میں ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا اور کھلے عام اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی اور رائے نہیں۔لیکن، اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ، یہ محض ایک کھوکھلا بیان تھا۔ اس کے علاوہ، جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیاتو بھارت نے عالمی برادری سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ایک منٹ لگے گا۔ لیکن، ہندوستان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔اب ایک طرف بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور دوسری طرف وہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑڈھا رہی ہے۔قارئین کرام! اقوامِ عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آزادی ِ جدوجہد کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی لہرکاآغاز کر دیا ہے۔ ہندوستانی قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، سرچ آپریشن کی آڑ میں، زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ صرف اکتوبر، 2021 کے مہینے میں اب تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ قا رئین کرام! یہ بات ہر ایک پرآشنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد منہ چھپانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی فاشسٹ حکمران حکومت، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ”فالس فلیگ آپریشن” کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ آخر میں، بطور ڈویژنل صدر کشمیر یوتھ الائنس میں اقوامِ عالم سے پُر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرے۔چونکہ، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔ ورنہ،مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرنا اور کھوکھلے بیانات خطے میں سب سے بڑی تباہی کا باعث بنیں گے۔ 

    @MAkhter_

  • کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    آج کی تحریر ارض وطن ، کشمیر کے اس بیٹے کے نام جس کو دنیا سردار سکندر حیات خان کے نام سے جانتی تھی – جس کا نام ہی ” حیات ” ہو اس کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے وقت ہاتھ اور بولتے وقت زبان ساتھ چھوڑ جاتی ہے-

    سردار سکندر حیات احمد خان یکم جون 1934 کو کشمیر کی ایک مشہور سیاسی گھرانے ، سردار فتح محمد کریلوی کے گھر پیدا ہوئے -آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال سے تھا ۔

    سردار سکندر حیات خان صاحب نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کریلہ اور کوٹلی سے ہی حاصل کی – آپ نے 1956 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن مکمل کی اور 1958 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا انتخاب کیا –

    وکالت کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد واپس کوٹلی تشریف لائے اور بار کونسل کے صدر بھی منتخب ہوئے -1972 میں پہلی مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوئے اور وزیر مال بنے –

    1970 سے لے کر 2001 تک سردار سکندر حیات خان صاحب ہمیشہ الیکشن جیت کر اپنے حلقے سے ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوتے رہے – ایک دو مواقع پر آپ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب نہ ہوئے کیونکہ آپ آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پر فائز تھے- اس دوران آپ کے بھائی سردار محمد نعیم انتخابی سیاست میں حصہ لے کر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوتے رہے -1985-90 اور 06-2001 کے دو ادوار میں وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر منتخب ہوئے-

    آپ پوری عمر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی منسلک رہے پر 2011 میں جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن (آزاد کشمیر) بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا- مگر ایک بات ، جس کا گلہ سردار سکندر حیات خان صاحب کے اکثریتی کارکنوں کو تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ، سردار سکندر حیات خان صاحب کو وہ عزت ، وہ مقام ، وہ رتبہ نہ دے سکی جو سردار صاحب کے شایان شان تھا ۔فروری 2021، میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و قاہد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ کے ایک جلسہ میں دعویٰ کیا کہ ” انشاء اللہ ، اپنی زندگی میں مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب والی مسلم کانفرنس کو بحال کروں گا ” – اس دعویٰ میں پہلا قدم ، سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی صورت میں تھا – سردار سکندر حیات خان صاحب نے جماعت میں واپسی کا کریڈٹ چیئرمین یوتھ ونگ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی خان کو دیا اور عثمان علی خان کی سیاسی تربیت کی کھل کر تعریف بھی کی -سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کے اعلان کے بعد ، سردار سکندر صاحب کے صاحبزادے سردار فاروق سکندر ( جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت میں وزیر مال تھے) نے والد کے فیصلے کی تائید کی اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اپنی رکنیت سازی کی تجدید کی –

    سردار سکندر حیات خان صاحب کے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جن کی مثال آج بھی کہیں کہیں ہی ملتی ہے – آزاد کشمیر میں سڑکوں کا جال بچھایا ، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا اور سب سے بڑھ کر مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب کے دست و بازو بن کر "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے خوب جدوجہد کی-

    نہ صرف آزاد کشمیر ، بلکہ پاکستان کے سیاستدان بھی سردار سکندر حیات خان کی سیاسی بصیرت کے مداح تھے – بھٹو دور ہو یا ڈکٹیٹرشپ ، میاں صاحب ہوں یا بی بی شہید ، پرویز مشرف ہو یا کوئی بھی سیاسی حریف و حلیف ، سردار سکندر حیات خان صاحب سب کے ساتھ ان کے انداز سے چلنا جانتے تھے – پر جہاں مزاحمت کی ضرورت پڑی ، وہاں تاریخ نے دیکھا کہ سردار سکندر حیات خان ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے-

    9 اکتوبر 2021 ،کو سردار سکندر حیات خان صاحب کی جب کوٹلی میں وفات ہوئی تو پورے دنیا میں پسنے والے کشمیری بالخصوص جبکہ ان کے سیاسی پیروکار بالعموم افسردہ تھے – کشمیری قوم تو ابھی سید علی گیلانی صاحب و شیخ تجمل صاحب کا دکھ نہ بھولی تھی کہ سردار سکندر حیات خان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے – شاید اسی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ

    کوئی روکے کہیں دست اجل کو

    ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

    سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو آنسو بہاتے اور غمگین دیکھا- سردار سکندر حیات خان صاحب کی تدفین ان کے والد محترم سردار فتح محمد کریلوی کے پہلو میں کریلہ کے مقام پر کی گئی -اللہ تعالیٰ سردار سکندر حیات خان صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائیں اور تحریک کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد و محنت قبول فرمائیں – بیشک ، سکندر صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی سیاسی لیڈر ، کم ازکم آزاد کشمیر میں تو موجود نہیں جو کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کا متبادل ہو سکے – یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات ، ایک سیاسی کارکن یا لیڈر کی نہیں بلکہ سیاست کی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی وفات ہے-

  • آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم  زخمی

    آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم زخمی

    آزاد کشمیر: میرپور کے اسپتال میں آتشزدگی کی وجہ سے ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میر پور کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں آکسیجن سلنڈر کی تبدیلی کے دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کے باعث ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا، زخمی ملازم کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

    ٹرانسفارمر پھٹنے کا کیس: حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ سے دیگر عملہ، مریض اور ان کے لواحقین محفوظ رہے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ تحصیل شجاع آباد میں موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے ایک خاتون کرنٹ لگنے سے جھلس گئی تھی سعدیہ بی بی نامی خاتون اپنے گھر میں موبائل چارجنگ پر لگانے لگی تو اسے کرنٹ لگا جس کے فوری بعد اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی تھی-

    لبنان:آئل فیکٹری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی

    آگ لگنے کے باعث خاتون بری طرح جھلس گئی متاثرہ خاتون کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شجاع آباد منتقل کیا گیا تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا گیا تھا-

    ساس بہو کے جھگڑے نے ایک شخص کی جان لے لی

    موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے خاتون کے کپڑوں کو آگ لگ گئی،حالت تشویشناک

  • دیوسائی ،غذر ، کشمیر، گلگت بلتستان میں موسم سرما کی پہلی برف باری

    دیوسائی ،غذر ، کشمیر، گلگت بلتستان میں موسم سرما کی پہلی برف باری

    دنیا کے دوسرے بلند ترین میدان دیوسائی میں موسم سرما کی پہلی برف باری ہوئی پہاڑوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دنیا کی چھت کہلائے جانے والے بلند ترین مقام دیوسائی، ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں پر برف کی سفید موتی بکھر گئے، بلند میدان دیوسائی میں برفباری کے بعد ٹورسٹ پولیس نے سیاحوں کے لئے گائیڈ لائن جاری کر دی-

    برف باری سے دیوسائی کی رونقیں بڑھ گئیں، قدرتی نظارے اور بھی حسین ہوگئےسیاحتی مقام دیوسائی میں برفباری کے باعث 4 انچ برف جم گئی، برفباری کے بعد دیوسائی روڈ کو آمدورفت کے لئے عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ برف باری کے باعث سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ڈی پی سی تقریب حلف برداری،ملک کی نامور شخصیات کی شرکت

    دیوسائی کے علاوہ استور، غذر اور کشمیر کے پہاڑوں پر بھی برف باری ہوئی ہے۔

    گزشتہ روز گلگت بلتستان کے ضلع دیا مر کے بالائی علاقوں میں موسم سرما کی ہونے والی پہلی برفباری کے باعث نیشنل ہائی وے بند ہو گیا ہے جب کہ سیاح اور مسافر پھنس کر رہ گئے۔

    دیا مر کے سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پہ ہونے والی برفباری کے باعث ناران نیشنل ہائی وے بھی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا جس کی وجہ سے سیاحوں اور مسافروں کی بڑی تعداد پھنس کر رہ گئی۔

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1 فیصد

    اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر دیا مر نے کہا تھا کہ مسافر بابو سر ناران نیشنل ہائی وے پہ سفر کرنے سے اجتناب برتیں۔ اس ضمن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی وجہ سے لینڈ سلایڈنگ کا خطرہ ہے۔

    ڈپٹی کمشنر دیا مر نے کہا تھا کہ ضلعی انتظامیہ بابوسر ٹاپ پر پھنسے ہوئے مسافروں اور سیاحوں کو قریبی ہوٹلوں میں منتقل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسافروں اور سیاحوں کی برف میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے شاہراہ بابوسر کو عارضی طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے لہذا مسافر اور سیاح متبادل شاہراہ کا استعمال کریں۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

  • بھارتی فوج کی جارحیت جاری ،مزید 3 کشمیری شہید

    بھارتی فوج کی جارحیت جاری ،مزید 3 کشمیری شہید

    سری نگر: بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی :کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیروادی میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اور آج ایک بار پھر قابض فوج کی بربریت کے نتیجے میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد گزشتہ 2 روز کے دوران شہید نوجوانوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

    بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا، آپریشن کے دوران قابض فوج نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور گھروں میں گھس گئے جب کہ علاقے میں آپریشن اب بھی جاری ہے۔

    شمالی وزیرستان:پاک فوج کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ی باندی پورہ اور اننت ناگ میں سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے دو نوجوانوں کو شہید کردیا تھا اس طرح دس دنوں میں شہید ہونے والے نوجوانوں تعداد 8 ہوگئی۔

    دوسری جانب قبوضہ کشمیر میں ساتھیوں کی بازیابی کے لیے گئی بھارتی فوج کی ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    مقبوضہ کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں قابض بھارتی فوج نے اپنے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی۔

    مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    اس دوران مسلح افراد نے قابض بھارتی فوج کی ٹیم پر حملہ کردیا غیر متوقع اور اچانک کئے گئے اس حملے سے بھارتی فوجی بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔

    حملے میں بھارتی فوج کے 5 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تا ہم دوران علاج پانچوں اہلکاروں نے دم توڑ دیا۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد آبائی گاؤں روانہ کردیا گیا۔

    اشرف غنی لاکھوں ڈالرز کے ساتھ فرار ہوئے، ثبوت دے سکتا ہوں سابق چیف سیکورٹی گارڈ کا دعویٰ

  • مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    سری نگر: مقبوضہ وادی کشمیر میں ایک حملے کے باعث ایک افسر سمیت پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ وادی چنار کے ضلع پونچھ میں سرچ آپریشن کے دوران پیش آیا ہے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ حسب معمول سرن کوٹ کے علاقے میں گھر گھر تلاشی لے رہی تھی اس دوران پورے علاقے کا محاصرہ تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج پر ہونے والے حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 5 فوجی اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں۔

    علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج پر کیے جانے والے حملے میں ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے بھارتی فوج نے تاحال علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوج اور پولیس کی مزید کمک بھیجی گئی ہے جب کہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ کرسکتا ہے اور نہ ہی دینا کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جھوٹے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن میں جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارتی قابض افواج کی جانب سے صوابدیدی گرفتاریاں اور حراست بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے کی بدترین مثالیں ہیں، ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں حالیہ اضافہ، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور مقبوضہ کشمیر میں صوابدیدی گرفتاریاں بین الاقوامی برادری کے لیے چیلنج کا باعث ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید شواہد پر مبنی ایک جامع ڈوزیئر عالمی برادری کو پیش کیا تھا، بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا کوئی بھی حربہ انھیں حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کی تحریک کو دبا نہیں سکتا ہے۔