کچھ شخصیات دنیا میں آتے ہیں ان کا مقصد ان کے کارناموں میں صاف واضح ہوتا ھے۔ان کی محنت،مقصد کے حصول کے جدوجہد دنیا کے سامنے عیاں ہوتی ہیں۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قائد کہلاتے ہیں۔
انھی قائدین میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے قائدین حریت میں سے موجودہ صدی کا عظیم ترین قائد اور حریت کے لیے جدوجہد کرنے والی عظیم ہستی کا نام سید علی گیلانی ھے۔
یہ کیسی عظیم شخصیت کا مالک شخص تھا کہ بچپن سے لے کر اب تک ایک ہی نعرہ بلند کر رہا تھا
"ہم پاکستانی ہیں
پاکستان ہمارا ھے”
یہ وہی شخص تھا جس نے ہندو بنیے کو کشمیر جنت نظیر وادی پر قابض ہوتے دیکھا تھا۔جس نے پھر اس قوم کشمیر کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان سنا پڑھا تھا
"کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”
سید علی گیلانی وہی شخص تھا کہ جس نے ہمیشہ دن رات گرمی سردی،بہار،خزاں میں کشمیری قوم کو پاکستان سے محبت کا درس اور سبق گھول کر پلا دیا تھا۔یہ وہی شخص تھا کہ جس کا نام کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر ھے۔ہر وہ شخص جو تحریک آزادی کشمیر کے نام سے آشنا ہے وہ سید علی گیلانی کے نام سے واقف ہو گا۔
یہ وہی شخصیت تھی کہ 91 سال عمر پائی ان 91 سال میں ایک بار بھی ہندو بنیا اور اس کی فوج،پھر فوج کا تارچر کرنا،کبھی عقوبت خانوں میں بند ہونا،کبھی نظر بندیوں کی مشکلات سے گزرنا ان کی زبان سے یہ نہ ہٹا سکا کہ
"ہم پاکستانی ہیں
پاکستان ہمارا ھے”
میں نے اس عظیم شخصیت کے بارے میں اس وقت سننا شروع کیا جب سے میں نے ہوش سنبھالا کبھی ٹیلی ویژن پر کبھی ریڈیو پر کہ سید علی گیلانی نے ہڑتال کی کال دی ھے۔
کبھی یہ سنا کہ سید علی گیلانی نے انڈین الیکشن کا بائیکاٹ کیا ھے۔جب ان ہڑتالوں،ان جلوسوں،ان جلسوں،ان بائیکاٹ کی اصل وجہ ایک ہی تھی
"جیے گے بھی پاکستان کے ساتھ
مرے گے بھی پاکستان کے ساتھ”
معزز قارئین! سید علی گیلانی وہی شخصیت تھی کہ جب دنیا پاک فوج کو گالیاں دے رہی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عروج پر تھا تب سید علی گیلانی نے
"پاک فوج زندہ باد
پاکستان زندہ باد ”
کا نعرہ لگایا تھا بلکہ نہ صرف خود لگایا بلکہ ہر زبان زدعام کروایا۔اس شخصیت کہ محنت اور روعب و دبدبے کی تو کیا بات ھے۔کہ سید علی گیلانی جب زندہ تھے تو ان کو نظربند کر دیا جاتا تھا کیوں کہ انڈین میڈیا کو بھی پتہ تھا کہ سید علی گیلانی کی ایک کال پر کشمیریوں نے سر تسلیم خم کر دینا ھے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ گے کہ جب سید علی گیلانی کا آج انتقال ہوا ھے ان کے انتقال کے فورا بعد کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ھے کیوں کر دیا گیا ھے کیونکہ دشمن انڈیا کو بھی پتہ ھے کہ یہ اکیلا ایک علی گیلانی نہیں ھے اس عظیم قائد نے پوری کشمیری قوم کو سید علی گیلانی بنا دیا ھے۔
سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی زندگی پوری کی پوری آزادی کشمیر کی جدوجہد میں گزری۔اس جدوجہد کے دوران تحریک آزادی کشمیر میں عروج و زوال بھی آیا لیکن اس شخصیت نے اپنی قوم کو درس تھا
"اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں”
بلکہ کرنے کا کام ایک ہی ھے "لھم یوقنون” اسی ذات باری تعالی پر یقین رکھنا ھے۔
سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی جدوجہد کے ثمرات دشمنان نے برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی صورت میں دیکھ لیے ہیں۔سید علی گیلانی نے پوری قوم کو ہی برہان وانی کا جانشین بنا دیا تھا۔اسی وجہ سے ان کی جدوجہد سے گھبرا کو ان کو سینکڑوں بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا
لیکن مجھے یہاں حسرت موہانی کا ایک شعر یاد آ رہا ھے
ہے مشق سخن بھی جاری اور چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشا ھے حسرت کی طبیعت بھی
لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے ان صعوبتوں کو آڑے نہیں آنے دیا بلکہ نوجوانوں کو تیار کیا امت کی ماؤں بہنوں کو کشمیر کے لیے کھڑا کر دیا۔اسی کیفیت کو اگر میں شاعر کے الفاظ میں قلم بند کروں تو
ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا
منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی
سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے 91 برس کی عمر میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان رب تعالی پر یقین رکھنے والی قوم ھے۔دیٹھ سیل میں رکھے جانے کے باوجود اور خراب طبیعت میں مناسب طبی سہولیات بھی نہ دی گئی جو کہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے کبھی بھی اپنے لیے کال نہیں دی بلکہ کشمیریوں کے اور پاکستانیوں کے لیے جدوجہد کی
"جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی”
آج امت مسلمہ کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے پشت پناہی کی ضرورت ھے جیسا کہ اقبال کا شعر ھے
کافر ھے تو شمشیر پر کرتا ھے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ھے سپاہی
سید علی گیلانی نے بے تیغ ہو کر اپنی سیاسی فکر کے ذریعے کشمیر جدوجہد آزادی کی حمایت کی بلکہ بچوں کی زبان پر بھی یہ جاری کروا دیا
پاکستان ہمارا ھے
پاکستان زندہ باد
ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب کشمیر کو آزادی نصیب ہو گی جب سید علی گیلانی کی محنت رنگ لائے گی۔وہ وقت آنے والا ھے جب کاروان حریت کو کامیابی ملے گی۔میرے نزدیک قائد حریت سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے پورے کفر کا مقابلہ کیا ھے۔سید علی۔گیلانی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے بچوں سے لے کر ڈگری ہولڈر تک کو بھارت کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔اسی وجہ سے دشمن کو ان کے نام سے خوف تھا۔اس عظیم شخصیت کو تا قیامت آزادی کے متوالوں میں یاد رکھا جائے۔اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
Category: کشمیر
-

سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل
-

آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان
مظفر آباد:وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ سید علی گیلانی کی رحلت کا سن کر دل رنجیدہ ہے،سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں تھےسید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی-
بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سید علی گیلانی نے بھارتی ظلم و جبر کا دلیری کیساتھ مقابلہ کیا ،سید علی گیلانی کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گے کشمیری قوم سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گی-
وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ سید علی گیلانی کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے-
حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا
وزیراعظم عمران خان کا سید علی گیلانی کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار،آج پاکستانی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان
ترجمان وزیراعظم آزادکشمیرنے کہا کہ آزادکشمیر میں سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ منایا جائے گا آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج سید علی گیلانی کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی-
قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی رات کے اندھیرے میں تدفین پر دباؤ ، تیاری جاری
کشمیری آج یتیم ہو گئے، علی گیلانی کی وفات پر مشعال ملک کا جذباتی پیغام
-

سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس
پاکستانی سیاسی و معروف شخصیات نے سید علی گیلانی کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےحریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنماء سے محروم ہو گیاسید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت کے خلاف ڈٹے رہے وہ ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے-
سید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت کے خلاف ڈٹے رہے، صدر مملکت
سید علی گیلانی ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے، صدر مملکت
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، صدر مملکت
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 1, 2021
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار افسوس
صدر مملکت کا سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنماء سے محروم ہو گیا، صدر مملکت
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 1, 2021
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اورآزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی مرحوم کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا-عثمان بزدار نے کہا کہ سید علی گیلانی مرحوم جرات مند اور بہادر کشمیری رہنما تھے سید علی گیلانی مرحوم نے آزادی کشمیر کے لئے بےپناہ قربانیاں دیں بھارتی ظلم و ستم اور پابند سلاسل کے باوجود سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔
انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کے انتقال سے جدوجہد آزادی کشمیر کا سنہری باب کا خاتمہ ہوا ہے آزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی کی عظیم خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔
کون کہتا ہے موت آئ تو مر جاؤں گا۔۔میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا۔۔۔۔ RIPSyedAliGillani #Kashmir pic.twitter.com/V1iqbQ6gHC
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 1, 2021
وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ کون کہتا ہے موت آئ تو مر جاؤں گا۔۔میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا-سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کےعظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی#SyedAliGillani
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
سراج الحق نے سید علی گیلانی کی وفات پر افسوس کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کےعظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی-سید علی گیلانی نے اپنے پیچھے لاکھوں آزادی کے متوالوں کو چھوڑا ہے جو ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے جس خواب کو سید علی گیلانی نے پوری زندگی سینے سے لگائے رکھا، وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان شاء اللہ#SyedAliGillani
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنے پیچھے لاکھوں آزادی کے متوالوں کو چھوڑا ہے جو ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے جس خواب کو سید علی گیلانی نے پوری زندگی سینے سے لگائے رکھا، وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان شاء اللہپوری قوم سے اپیل ہے
کل ہر شہر اور قصبے میں قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے#SyedAliGillani— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
سراج الحق نے پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ آج ہر شہر اور قصبے میں قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے-پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر اظہار افسوس
سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری@BBhuttoZardari
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے-سید علی گیلانی کی زندگی جہدِ مسلسل کا ایک استعارہ تھی-سید علی گیلانی کی زندگی جہدِ مسلسل کا ایک استعارہ تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا بھر میں مقیم بالخصوص آزاد و مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہار
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا بھر میں مقیم بالخصوص آزاد و مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہارکیا اور کہا کہ سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے-واضح رہے کہ زیراعظم عمران خان نے بھی سید علی کی وفات پر گہرے دکھ کا اطہار کیا اور پاکستانی پرچم آج سرنگوں رہےگا اور سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا-
سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔
-

حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا
سری نگر: حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سید علی گیلانی کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور سیکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے۔شہریوں کے گھر وں سے نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور بھارتی فوج نے علاقے میں گشت شروع کردیا ہے نیشنل ہائی وے روڈ بیمینہ ، سرینگر پر آنسو گیس کی شدید گولہ باری جاری ہے –
Heavy tear gas shelling going on, national higway road Bemina, Srinagar after the demise of Great Kashmiri Leader #SyedAliGilani
— Taha طٰہٰ (@taahaa_) September 1, 2021
سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-
بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
-

بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
سری نگر: بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون-
باغی ٹی وی : حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 92 سالہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا انتقال سری نگر میں ہوا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کی رحلت کی تصدیق خاندان کے ایک فرد نے کی ہے۔
سید علی شاہ گیلانی ،مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما ، کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے ہے 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے جبکہ انہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک الگ جماعت "تحریک حریت” بھی بنارکھی ہے جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔
بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم "رابطہ عالم اسلامی” کے رکن ہیں۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما تھے ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔
مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کی جس کا نام "روداد قفس” ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔
پاکستان کے 73یوم آزادی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماؤں نے وصول کیا۔
-

عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ پنجم ) تحریر چوہدری عطا محمد
جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ اور یہی سے اگر کہا جاۓ تو نواز شریف کے اختتام کا آغاز ہوگیا تھا
اس کے سے لے کر سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،پاکستان عوامی تحریک ،اور عوامی مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف کئی پٹیشنز دائر کی گئیں
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک بار پھر کرپشن کے خلاف اپنے ساتھیوں کو بھر پور احتجاج جاری رکھنے کا کہا اور پھرعمران خان نے کرپشن کے خلاف ایک اور طویل دھرنے کا تصور پیش کیا جسے ‘اسلام آباد لاک ڈاؤن’ کا نام دیا گیا۔
مگر یہ دھرنا دینے کی نوبت اس لئے نہ آئی کیوں کہہ اس دھرنا سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے پاناما گیٹ پر پٹیشنز کی سماعت کی اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز طلب کیے۔
اس کے بعد باقاعدہ طور پر اس کیس کی سماعت ہونی شروع ہوگئ پاناما کی کہانی آخر کار 6 جولائی 2018 کو اس وقت اختتام پزیر ہوئی جب احتساب عدالت نے نواز شریف، اور ان کی بیٹی مریم نواز، اور داماد کیپٹن صفدر کو کرپشن کرنے پر نااہل کر دیا اور جیل بھیج دیا۔پانامہ لیکس کے مقدمہ اور فیصلے کے درمیان کئ سیاستدان مقدمات کی زد میں آۓ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر بھی ن لیگ کے حنیف عباسی کی طرف سے نااہلی کے لئے پیٹیشن دائر کی گئ جس کی لمبی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کے خلاف دسمبر 2017 میں کیس خارج کر دیا جبکہ ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین نااہل قرار پائے۔
عمران خان نے 2018 میں اپنی تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کر لی۔ بشریٰ بی بی پاک پتن سے تعلق رکھتی ہیں اور عمران خان دو سال سے ان کے پاس باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ یہ شادی لاہور میں سادگی سے ہوئی۔
پھر الیکشن قریب آگیا اور آخر کار کپتان عمران خان کی مخنت رنگ لے آئی اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں پاکستان کو بے مثال انداز میں قومی اسمبلی کی 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔ عمران خان نی پانچ سیٹوں پر الیکشن لڑا اور پانچوں نشستوں سے کامیاب ہوئے کپتان کی اس کامیابھی کے بعد دیگر جماعتیں بوکھلا گئ اور انتخابات کو بغیر کسی ثبوت کے پورے کے پورے الیکشن کو ہی دھاندلی زدہ قرار دے دیا
قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے اور مخصوص نشستوں پر اپنے امیدواروں کو نامزد کرنے، اور عمران خان اور دو دیگر ارکانِ قومی اسمبلی کی جیتی گئی اضافی نشستیں خالی کرنے کے بعد ان کا نمبر 152 تک پہنچ گیا۔
پارٹی کے اس وقت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے پارٹی کو 180 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
اگر مقبولیت کی بات کی جاۓ تو جیسے ہی انتخابات کے نتائج آنے شروع ہوئے تھے اور پی ٹی آئی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی تو عمران خان کو ‘اگلا وزیرِ اعظم’ کہا جانے لگا تھا جبکہ پارٹی سربراہ عمران خان نے انتخابات کے اگلے دن ہی ایک فاتحانہ تقریر بھی بنی گالہ سی کی تھی
اور اگر اس تقریر کی بات کی جاۓ تو وہ عمران خان کی یادگار تقریروں میں سے ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہہ وہ ایک حقیقی رہنماء ہیں اپنی تقریر میں انہوں نے بہت ساری تاریخی باتیں کی جس میں سے ایک عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا، "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا۔ میں سیاست سے کچھ لینے نہیں آیا اور نہ سیاست مجھے کچھ دے سکتی ہی ۔ میں صرف پاکستان کو وہ ملک بنانا چاہتا تھا جس کا خواب میرے رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔”اللہ پاک ارض پاک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنماء اصولوں پر چلنے کی توفیق دے
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین
@ChAttaMuhNatt
-

پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کشمیری بچوں کا منہ توڑ جواب
لاہور:سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں کشمیری بچوں نے پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کرار جواب دے کر خاموش کرا دیا-
باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی اس ویڈیو کوجرنلسٹ عمر جاوید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کیا ویڈیو میں کشمیری بچے پاکستان اور چین کی تعریف جبکہ بھارت سے نفر ت کا اظہار کر رہے ہیں۔
"اگر بھارتی فوج ہٹ جائے تو پھر پاکستان آئے گا، وہ آپ لوگوں کو بم بنا کر دے گا،آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ایسے بیٹھنا بھی مشکل ہے"بھارتی صحافی
"چین بھی ہمارے ساتھ ہےپاکستان ہمارے ساتھ ہےوہ ہمیں مار بھی دیں توبھی منظور ہے" کشمیری بچوں کا جواب
"Congratulations India" pic.twitter.com/vDKme78ow0— Umar Jutt (Student of Arshad Sharif) (@UmarJavaidJutt) August 17, 2021
بھارتی صحافی بچوں کے ساتھ پاکستان کے بارے میں جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر بھارتی فوج ہٹ جائے تو پھر پاکستان آئے گا، وہ آپ لوگوں کو بم بنا کر دے گا،آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ایسے بیٹھنا بھی مشکل ہے تو بچے کسی بھی سمجھدار سے زیادہ ذہین ثابت ہوتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ
” پاکستان ہمارے ساتھ ہے ، چین پاکستان کا ساتھ دیتاہے اور وہ ہمارا ساتھ دیتا ہےوہ ہمیں مار بھی دیں توبھی منظور ہے ۔“بچے یہ بات کرنے کے بعد نعر ہ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ” لے کر رہیں گے آزادی “ بھارتی صحافی بچوں کی باتیں سننے کے بعد تو اپنا سامنہ لے کر رہ جاتاہے اور اس کے پاس کوئی مزید جواب نہیں بچتا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج 70 سالوں سے بندوق سے لیکر ٹینک تک ہر طاقت استعمال کر رہی ہے'95ہزارکشمیر ی شہید '1لاکھ 7ہزار بچے یتیم ہوچکے.مگر کشمیری بچوں کی #Pakistan سے محبت اوربھارتی صحافی سے گفتگو ثابت کر رہی ہے کشمیر بنے گا پاکستان. کشمیری #India سے نفرت کرتے ہیں
#Kashmir pic.twitter.com/07dStpIACO— Mohammad Sarwar (@ChMSarwar) August 19, 2021
دوسری جانب پنجاب کےگورنر چوہدری محمد سرور نے بھی اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر اس ویڈیو کوشئیرکیاویڈیو شیئر کرتے ہوئے گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیاں اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے ، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتی انشاء اللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ95ہزار سے زائد کشمیری بھارتی افواج کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں بندوق سے لیکر ٹینک تک استعمال کر کے بھی بھارت کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا قتل اور دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کر رہا ہے۔
-

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری شہید
سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس نے فائرنگ کر کے مزید 3 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے-
باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے-
قابض بھارتی فوج کی جانب سے پلوامہ میں ترال کے مقابل ناگہ بیرن میں نام نہاد آپریشن کیا گیاقابض بھارتی فوج کے نام نہاد آپریشن کے دوران نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا اس دوران بھارتی فوج کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 3 نوجوان شہید ہو گئے جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز سوپور قصبے کے مختلف علاقوں میں بھی تلاشی اور محاصرے کی ایک بڑی کارروائی شروع کی دریں اثنا فوجیوں نے ضلع راجوڑی کے تھانہ منڈی علاقے میں بھی آپریشن جاری رکھا۔
-

کشمیر میں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کا قیام اور اس کی جدوجہد تحریر : اسامہ ذوالفقار
۱۸۹۲ میں کشمیر میں ینگ مینز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ ایک ایسا دور تھا جس میں کشمیر کے اندر کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا۔ صرف اورصرف مدرسوں کے اندر فارسی اور عربی کی تعلیم دی جاتی تھی جو کہ کشمیر کے اندر کسی بھی سرکاری نوکری کے لیے فٹ نہیں تھی۔ سکھوں کا مہاراجہ اس وقت کا بہت ہی سخت اور ظالم حکمران تھا جو کہ مسلمانوں کو کسی بھی صورت ترقی نہیں کرنے دیتا تھا اور اس ایسوسی ایشن کا قیام بھی اس سے چھپ کے لایا گیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے مسلمان نوجوان اس کا حصہ بنے اور اس انجمن کا بھرپور قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد اس کا نام "ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن” رکھ دیا گیا۔
چند نوجوانوں نے اس انجمن کا قیام جموں میں بھی لایا ۵-۶ نوجوانوں نے مل اس کی چوری چھپے مہم چلائی مہاراجہ کو جیسے ہی پتا چلا اس نے فورن اس پر پابندی لگا دی ابھی اس کی بنیاد ہی ڈلی تھی کہ اس پر پابندی لگ گئی۔ اس کے بعد ۱۹۰۹ تک کوئی خاص کام تو ہوا نہیں اور اس کا صرف نام ہی رہ گیا۔
اب بات کرتے ہیں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کے مقاصد پر ان کا سب سے پہلا اور اہمیت کے حامل جو مقصد تھا وہ یہ کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی تعلیم دینا اور انہیں اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو حصول تعلیم کے لیے متوجہ کرنا اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے ریاست میں دفاعی کام کرنا۔
۱۹۲۲ تک تو اس کی نہ ہونے والی صورت حال چلتی رہی۔ اور اسی عرصے میں چند اور لوگ بھی جمع ہوۓ اور انھوں نے مشورہ کیا اور سوچا کہ اس پر اب تک پہلے جو لوگ تھے انہوں نے کچھ خاص کام نہیں کیا اب اس پر مزید کام کرنا ہے۔
ادیب قیس (شاعر تھے) ان کے گھر اجلاس ہوا چودھری غلام عباس اپنی کتاب "کشمکش” میں لکھتے ہیں "آٹھ نوجوانوں نے قران مجید پر حلف لیا اور کہا ہم ثابت قدم رہیں گئے”۔ اور پھر ان لوگوں نے خفیہ طور پر کام شروع کیا۔ انھوں نے اپنے مضامین اخبارات میں پیش کیے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس تنظیم میں شامل ہونے لگے اور کام تیزی سے ہونے لگا۔
۱۹۲۲ کے بعد منشی غلام علی جو کہ "اٹھمکام” کے رہنے والے تھے جو اس تنظیم میں شامل ہوۓ اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔انھوں نے کشمیر کے اندر بہت سی خدمات انجام دی۔ اگر کوئی مسائل آ جاتے یہ نوجوان وہاں پہنچ کر ان مسائل کو حل کرتے تھے۔
اس تنظیم نے ریاست میں فرقہ واریت کو ختم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ مسلمان ہوے۔ اس تنظیم نے مسافروں کے لیے جموں میں پناہ گاہ بھی تعمیر کروائی۔ اور ان نوجوانوں نے بہت سی لاوارس لاشوں کی تدفین بھی کی۔
وقت کے ساتھ اس ایسوسیشن میں نئی روح سی آنے لگی۔ ڈیڈھ سال کے بعد ۱۹۲۴ میں پہلا جلسہ کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں جوش و جذبہ پیدا ہونے لگا۔ اس جلسے میں مولانا عبدالحق نے خطاب کیا اور ہندوستان سے بھی عالم آے۔ اور اسی دوران چودھری غلام عباس نے اپنی کتاب "کشمکش” لکھی اور جلسے میں اس کے بارے میں زکر کیا۔
جلسہ ختم ہوا مسلمانوں کے دل میں نیا جذبہ پیدا ہونے لگا۔ ان کی رگوں میں خون ڈورنے لگا۔ جموں کے اندر مسلمانون کے اندر پہلی بار اپنے حقوق کے لیے بیداری پیدا ہوئی۔
سردار فتح محمد فتح خان کریلوی نے اس تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب مسلمانوں کے اندر ایک شعور پیدا ہونے لگا جو اس ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نوجوان کشمیر کی تحریک کا اہم حصہ بن گئے بہت سے نئے لوگ بھی آنے لگے اور اپنی اس آزادی کی جدوجہد کو مزید جاری رکھا۔ جو کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اب تک جا ری ہے اور جاری رہے گی۔Twitter id : @RaisaniUZ_
-

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر منتخب
مظفر آباد: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوگئے اس طرح وہ آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر بن گئے-
باغی ٹی وی :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو بطور صدر آزاد کشمیر نامزد کیا تھا اور اب وہ آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے 34 ووٹ حاصل کیےمتحدہ اپوزیشن کے امیدوار میاں عبدالوحید نے 16 ووٹ حاصل کیے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا تعلق جاٹ قبیلے سے ہے اور ان کے والد چوہدری نور حسین مرحوم سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آزاد کشمیر کے مشیر تعلیم رہے ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود آزاد مسلم کانفرنس، آزاد جموں و کشمیر لبریشن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، پیپلز مسلم لیگ کے صدر رہ چکے ہیں اور اس وقت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1983 میں برطانیہ کو خیرباد کہہ کر آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، انہوں نے 1985 میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے پہلے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو گئے۔
بیرسٹر سلطان محمود نے مجموعی طور پر 11 مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے وہ 9 میں کامیاب قرار پائے اور 2 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بیرسٹر سلطان محمود کو پہلی شکست 1991 میں مسلم کانفرنس کے سابق وزیر ارشد محمود غازی مرحوم کے مقابلے میں ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ وہ 2016 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اور سابق وزیر چوہدری محمد سعید کے مقابلے میں ناکام ہوئے تھے۔
بیرسٹر سلطان محمود 1996ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی حکومت میں وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے جبکہ وہ آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ پارٹیاں بدلنے کا اعزاز رکھنے کیساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں واحد سیاستدان ہیں جو 9 مرتبہ میرپور کے حلقہ ایل اے 3 سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔
خیال رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے بھی تحریک انصاف کے امیدواروں میں شامل تھے تاہم وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کیلئے سردار عبدالقیوم نیازی کو نامزد کیا اور وہ 33 ووٹ لے کر وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے۔