Baaghi TV

Category: کشمیر

  • آزاد کشمیر صمنی انتخابات، 2 حلقوں میں پولنگ جاری

    آزاد کشمیر صمنی انتخابات، 2 حلقوں میں پولنگ جاری

    آزاد کشمیر کے 2 حلقوں ایل اے 12 کوٹلی اور ایل اے 3 میر پور پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے-

    باغی ٹی وی : پولنگ کسی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک جاری رہے گی رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 3 میر پور میں 148 پولنگ اسٹیشنز قائم کیئے گئے ہیں، یہ سیٹ پی ٹی آئی کے بیرسٹر سلطان محمود کے آزاد کشمیر کے صدر بننے سے خالی ہوئی تھی۔

    ایل اے 3 کے 148 پولنگ اسٹیشنز کے لیے 147 پریزائڈنگ افسران اور 57 دیگر عملے کے افراد تعینات کیئے گئے ہیں حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 85 ہزار 917 ہے، یہ انتخابی حلقہ خان پور، کھاڑک، رٹھوعہ محمد علی، تھوتھال، سنگھوٹ، میونسپل کارپوریشن کے علاقوں اور نیو سٹی کے اے سے لے کر ایف تک سیکٹرز کے اعلاقوں پر مشتمل ہے۔

    تحریک آزادی کشمیرکےسرگرم رہنما:سابق صدر،وزیراعظم آزادکشمیرسردارسکندرحیات قضائے…

    حلقہ ایل اے 3 میں نمایاں امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد سعید، پی ٹی آئی کے یاسر سلطان چوہدری اور پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد اشرف شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایل اے12، کوٹلی 5 چڑھوئی میں 198 پولنگ اسٹیشنز قائم کیئے گئے ہیں، جن میں سے 101 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین اور 36 حساس قرار دیئے گئے ہیں حلقے کی حساس صورتِ حال کے باعث یہاں پاک فوج کے دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود ہوں گے۔

    اس حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 6 ہزار 428 ہے، یہ حلقہ دولیا جٹاں، کالا ڈب، چڑھوئی شہر، دھمال اور لائن آف کنٹرول تک پھیلا ہوا ہے۔

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

    پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری محمد یاسین 2 حلقوں ایل اے 10 اور 12 سے کامیاب ہوئے تھے جس کے بعد انہوں نے 1 نشست ایل اے 12 چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    ایل اے 12 کوٹلی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 14 امیدوار حصہ لے رہے ہیں یہاں پیپلز پارٹی کے عامر یاسین، پی ٹی آئی کے شوکت فرید ایڈووکیٹ اور راجہ ریاست خان کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    حالیہ عام انتخابات میں یہاں 2 افراد کے قتل کا افسوس ناک واقعہ بھی ہو چکا ہے جس کے الزام میں پی پی پی کے امیدوار جیل سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • مسلہ کشمیر تاریخ کے آئینے میں تحریر : نعیم الزمان

    مسلہ کشمیر تاریخ کے آئینے میں تحریر : نعیم الزمان

    پاکستان اور بھارت کے شمال مغرب میں واقع ریاست جموں و کشمیر۔ 1846 ٫ میں انگریزوں نے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ پر ریاست جموں و کشمیر کو 75 لاکھ روپوں کے عوض فروحت کیا۔ ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ 69547 مربع میل ہے۔1947 ٫ میں پاک بھارت تقسیم کے بعد اس وقت کے ریاستی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26 اکتوبر 1947 ٫ کو بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔ جس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان نے اپنی افواج کو ریاست جموں و کشمیر میں داخل کر دیا۔ ریاست کے زیادہ تر حصہ پر بھارت نے قبضہ کرلیا۔ اور 1948 ٫ میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ جس کے بعد اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں منظور قرادادں پر پاکستان اور بھارت کو کشمیر سے اپنی افواج نکالنے اور ریاست میں رائے شماری کروانے پر زور دیا۔ اور یکم جنوری 1949 ٫ کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رائے شماری کروانے کا وعدہ کیا۔جو بعد ازاں اس وعدے سے منحرف ہوگئے۔ تب سے ریاست جموں و کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے۔اور 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے۔ریاست جموں و کشمیر کے زیادہ تر حصے پر بھارت قابض ہے جو رقبے کے لحاظ سے 39102 مربع میل ہے ۔ اس کا دارالحکومت سرینگر ہے۔ اس کو مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 80 لاکھ ہے جو زیادہ تر مسلمان ہیں ۔ اور بقیہ حصہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے ۔جس کی اپنی ریاستی حکومت ہے ۔اور یہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس کا رقبہ 25 ہزار مربع میل ہے اور اس کی آبادی تقریباً 27 لاکھ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا مسلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس مسلے کو کہیں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا گیا۔ اور کہیں بار دونوں ممالک کے درمیان حالات انتہائی شدت اختیار کرتے رہے۔ اسی مسلہ کے باعث 1999 ٫ میں دونوں ممالک کے درمیان گارگل کے محاذ پر جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں ممالک کا کافی نقصان ہوا ۔ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کا اعلان ہو۔ دونوں ممالک نے اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اور تجارت بحال ہوئی۔اور دونوں ممالک کے درمیان ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس چلائی گئی۔ مگر 2008 میں ممبئی حملوں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں آتشزدگی کے بعد ایک مرتبہ پھر حالات انتہائی شدت اختیار کر گے۔ خاص کر امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد دنیا میں ایک نئی جنگ چھڑ چکی تھی جسے اسلامی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔جس کے بعد کشمیر یوں کی جدو جہد آزادی کو اسلامی دہشت گردی کا لیبل لگا دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کثیر تعداد میں مستقل طور پر فورسز کو داخل کیا۔جنہوں نے انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے ہوئے سیکڑوں بے بس اور معصوم کشمیریوں کا قتل عام کیا۔عورتوں کی عصمت دری کی۔ بچوں کو اغواہ کیا۔ جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں ۔آزادی کے لیے مظاہرے کرنے نکلنے والے نوجوانوں کو شہید کر دیا جاتا اور باقیوں پر دہشت گردی کا الزام اور غداری کا الزام لگاکر جیلوں میں بند کردیا جاتا۔ بھارتی فوج کے اس مظالم پر کہیں بار انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز بلند کی مگر کوئی مثبت حل نکالنے میں ناکام رہی۔ آزادی کی اس تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے پر کشمیر کاز کو عا لمی سطح پر بہت نقصان پہنچا ۔ کشمیری عوام آزادی کے متوالے اپنی ہمت اور جذبہ آزادی کی بدولت بھارتی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔اور بھرپور مزاحمت کرتے رہے۔ اور اپنے عزیز واقارب کی جانوں کو قربان ہوتے دیکھ کر بھی ہمت نہ ہارے۔ مکار بھارت نے ریاست جموں وکشمیر پر 5اگست 2019 ٫ کو ایک نیا قانون نافذ کر دیا۔آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا گیا۔ جس قانون کے بعد ریاست کو اس کی بنیادی حیثیت سے محروم کرنے کا کھیل کھیلاگیا۔ آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کی ایک ریاست کی حیثیت تھی۔جس کا اپنا پرچم تھا مواصلات دفاع اور خارجہ امور کے علاوہ کسی بھی معاملات میں انڈین حکومت مداخلت نہیں کر سکتی تھی۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست کے باشندوں کی مستقل ریاست باشندہ پہچان ہوتی تھی ان کو مستقل ریاستی باشندہ حقوق ملتے تھے ریاست سے باہر کے لوگوں کو وہاں پر جائیداد خریدنا ناممکن تھا۔ ریاست سے باہر کے لوگوں وہاں جاکر سرمایہ کاری نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی سرکاری ملازمت کر سکتے تھے۔ آرٹیکل 370 کے ساتھ ہی 35 اے کو بھی ختم کر دیا گیا ۔اور کشمیریوں پر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تا کہ وہ اس کے خلاف مظاہرے نہ کر سکیں۔ اس سارے معاملے پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ پاکستان نے بھارت کے اس بچگانہ اقدام کو پوری دنیا میں اجاگر کیا ۔اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس مسلے کے حل پر زور دیا۔ گزشتہ دو برس سے کشمیر ی لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں مگر ان کے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں۔ ان کے جذبات کم نہیں ہو رہے بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان امن ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نصیب ہو اور بھارت کو اس کے مکار ارادوں میں ناکامی ہو ۔ اے اللہ اپنے پیارے حبیب کے صدقے کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرما اور انھیں آزادی جیسی نعمت عطاء فرما۔ پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کی حفاظت فرما۔ امین 

    تحریر : نعیم الزمان  

    @786Rajanaeem

  • کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کوئی مانے یا نہ مانے لیکن میں کہتی ہوں اگر دنیا میں کوئی جنت ہے تو وہ کشمیر ہے۔ اور جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی ان شاء اللّٰہ۔ دنیا کی سر زمین پر بنی ہوئی یہ حسن کی وادی اپنے آپ میں بے مثال ہے۔ کشمیر جنت نظیر ہے۔ وہ کشمیر جس میں سر سبز و شاداب میدان ہوا کرتے تھے وہ کشمیر جس میں سکون کی وادیاں ہوا کرتی تھیں وہ کشمیر آج جل رہا ہے۔ آج وہاں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ آج وہاں آگ اور خون کا طوفان ہے۔ پھولوں کی خوشبو کی بجائے بارود کا دھواں اپنے پھن پھیلائے کھڑا ہے۔

    آگ اور خون کا یہ کھیل ابھی تک جاری ہے۔ اور یہ کھیل کوئی آج کا کھیل نہیں ہے بلکہ بھارت پچھلے ستر سالوں سے کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں پر گولیوں کی برسات کر رہی ہے۔ ان کے مکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ اس وقت کشمیر میں گرفتاری، قتل و غارت، خون خرابہ جلسوں اور ریلیوں پر اندھا دھند فائرنگ عام ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے گھر میں گھس کر ان کے مکانوں کو توڑ رہی ہے دکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارکر سازوسامان لوٹ رہی ہے۔ کشمیریوں کے گھر میں کوئی شہید ہو جائے تو بھارتی فوج انھیں اٹھا کر لے جاتی ہے۔ باپ کو بیٹے کی میت کو سہارا دینے پر اپنی بربریت کے مظاہرے شروع کر دیتی ہے۔ 

    اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک اور سات لاکھ سے زائد زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں۔ سارے کشمیری بھارت کی بربریت اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ کیا بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟ کیا کوئی بھارت کو اس ظلم و ستم سے روکنے والا نہیں ہے؟ کوئی کشمیر کے لیے کچھ بولتا کیوں نہیں؟ پورے عالمِ دنیا میں کوئی کشمیر کے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔ کیا بھارت کو روکنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا؟ روز ٹی وی پر اور سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کی کشمیر پر ظلم و ستم کی داستان دکھائی جاتی ہے ہر لوکل اور انٹرنیشنل چینل اس کی بربریت کے مظاہرے دکھاتا ہے جسے دیکھ کر ہر عام آدمی کا دل پسیج جاتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ دیکھ کر دل پھٹ جاتا ہے لیکن اگر کسی کو فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے بھارتی فوج۔ اگر کسی کو ان مظالم سے فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی۔ پوری دنیا کے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ مسئلہ کشمیر پر نہ تو برطانیہ کچھ بولتا ہے نہ دنیا کی سپر پاور امریکہ۔ عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی اس وقت آنکھیں بند کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتے دیکھ رہا ہے۔ اس بار موجودہ حکومت نے اقوامِ متحدہ میں عالمی فورم پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے جو ہمیشہ کی طرح بھارت کی بربریت میں دب کے رہ گئی ہے۔ 

    مسئلہ کشمیر صرف دو چار لوگوں کی زندگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دو کروڑ کشمیریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ یہ پاکستانیوں کی آزادی کا مسئلہ ہے اس کی سلامتی اور استحکام کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہا جاتا ہے اور شہ رگ کے کٹ جانے سے سارا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے جس طرح اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا موضوع اٹھایا ہے اب سارے کشمیریوں کی توقعات عمران خان سے جڑی ہیں۔ عمران خان مودی سرکار کے لیے ایک برا وقت بن کر ابھر رہا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم کے پہاڑ توڑ دے لیکن پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لیکن میرا اقوام متحدہ سے یہ سوال ہے کہ کیا کبھی کشمیر آزاد ہوگا؟ کیا کبھی کشمیر پر ظلم و ستم کے بادل کم ہوں گے؟ کیا کشمیری بارود اور بمباری کے دھواں کی بجائے پھولوں کی مہک میں سانس لے سکیں گے؟ اور کیا کشمیر عالمی دنیا میں اپنا ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے جگہ بنا پائے گا؟

    @alifsheen_5

  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم   تحریر: محمد اختر

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!  5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کی ضمانت دی گئی تاکہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کو استعمال کر سکیں۔لیکن، تاحال اس کے برعکس گزشتہ ساتھ دہائیوں سےمقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اب بھی اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کشمیریوں کو ہندوتوا نظریے کے زیر اثر بھارتی قابض افواج کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بابت ہر شخص آشنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ بن چُکا ہے، جہاں بھارتی قابض افواج انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔جبکہ، ان خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں دو رپورٹوں میں بھی درج کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے ایک بار پھر ایک جامع ڈوزیئر جاری کیاہے۔ جو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جموں و کشمیر کا وہ حصہ جو غیر قانونی طور پر بھارت کے قبضے میں ہے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے کئی دہائیوں سے کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں۔بھارت کی قابض افواج نے ان پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں کہ ایک بار جب ان کی مکمل چھان بین کی جائے اور حقائق سامنے آجائیں تو مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں، جس پر عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں نےمحض رسمی بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کئی دہائیاں پرانی قراردادیں بھی ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ورنہ بھارت اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پوری دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہو سکے۔دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے ثبوت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے بڑے پیمانے پر جنگی جرائم، کشمیریوں کی نسل کشی، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،داعشکے پانچ تربیتی کیمپوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے جعلی مقابلے کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کئے ہیں۔ڈوزیئر میں جعلی پرچم آپریشن اور خواتین کی بے حرمتی کے جامع ثبوت موجود ہیں۔131 صفحات پر مشتمل دستاویز تین باب پر مشتمل ہیں۔ پہلا باب جنگی جرائم سے متعلق ہے۔ دوسرا باب جعلی مقابلوں سے متعلق ہے، جبکہ تیسرا باب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کی ہندوستان کی کوششوں سے متعلق ہے۔ڈوزیئر میں 113 حوالہ جات ہیں، جن میں سے 26 بین الاقوامی میڈیا سے اور 41 بھارتی تھنک ٹینک سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف 14 حوالہ جات پاکستان کے ہیں۔ یہ سب سے مستند دستاویز ہے جس میں 3432 مقدمات جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب میں ڈوزیئر میں معلومات کا جائزہ لے رہا تھا تو یہ جان کر خوفزدہ ہوا کہ 8،652 اجتماعی قبریں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 دیہاتوں میں دریافت ہوئیں جن میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں ہیں۔بھارتی فورسز نے 239 ٹارگٹ سیل بنائے ہیں۔ 2014 سے اب تک مقبوضہ وادی کے 30 ہزار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 231 افراد کرنٹ لگا کر شہید کئے گئے ۔ جب سے بھارت میں ہندوتوا کی حکومت آئی ہے، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کو پیش کیے گئے ڈوزیئر میں 1،128 افراد کی نشاندہی کی گئی جو ماورائے عدالت قتل ہوئے یا پیلٹ گنیں ان کے خلاف استعمال کی گئیں۔ڈوزیئر میں خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ سے زائد املاک کو جلایا گیا ہے جو کہ آتش زنی کے جرم میں آتی ہیں۔ اس میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیے گئے جعلی آپریشنز کا بھی ذکر ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے اور تحقیقات کرنی چاہیے۔ چونکہ،کشمیری عالمی انصاف اورانسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ وحشیانہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ عصمت دری کو بھارت نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، لیکن اس کی سرزنش نہیں کی گئی۔یورپی ممالک اس پر دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت دی گئی جب وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حسبِ معمول مرتکب ہو تا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آج حالات بدل چکے ہیں، بھارت کے جرائم پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔ خیال رہے، مقبوضہ وادی اور اس کے مظلوم عوام پر بھارت کی قابض افواج کے مظالم کے ٹھوس شواہد اور ثبوت پر مبنی یہ پہلا ڈوزیئر نہیں ہے، بلکہ پاکستان نے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں کہ بھارت مسلسل ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو گزشتہ 777 دنوں سے محصور کر دیا گیا ہے اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے لیکن دنیا اس پر اس طرح توجہ نہیں دے رہی جس طرح اسے دینی چاہیے۔عالمی برادری کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں  جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں اور بھارت کی پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت خطے میں جو ماحولپیدا کر رہارہا ہے اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ یہ صرف بدتر ہوگا اور اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو نقصان ہوگا۔

    @MAkhter_

  • کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار

    کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار


    مسلمانوں کے عروج اور حکمرانی کا دور ختم ہوئے عرصہ بیت چلا. کبھی مسلم حکمران کی اک نگاہ سے عالمِ باطل کے دل دہل جاتے تھے. شاعرِ مشرق کے مطابق ہمارے اسلاف کے عروج کی داستان ایسی حیرت انگیز اور شاندار ہے کہ آجکی نوجوان نسل کے لیے محض اسکا تصور بھی محال ہے. مسلمانوں کی غلامی ومحکمومی اور زوال کی 100 سالہ تاریک رات کی اک نہایت روشن صبح 27 رمضان المبارک کو طلوع ہوئ. لاکھوں شہداء کے خون اور انکی لازاول قربانیاں اس مبارک سرزمین کی صورت رنگ لائیں.اسکے ساتھ ہی وادیِ کشمیر میں بھارتی ظلم و بریریت اور خونی کھیل کی ایسی داستان کا آغاز 74 برس قبل ہوا جو آج تک جاری ہے. کئی نسلیں آزادی کی خوش کن امیدیں آنکھوں میں سجائے بند ہوئیں.کئ نسلیں پاکستان میں رسمی مذمت اور سال بعد ایک دن احتجاج کی عادی ہوئیں.انہیں بھی لگتا تھا ایک دن اقوامِ متحدہ سے پاکستان کے نمائندے کشمیر کا کیس جیتنے میں کامیاب ہوں گے.ہزاروں,لاکھوں کشمیری شہداء نے اس مبارک سرزمین کی خاک کو پانے کے لیے اپنی جوانیاں قربان کیں جن میں برہان وانی کا نام سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے. جب بھی وفا کی بات ہو گی اس خوبرو, بلند ہمت اور آخری سانس تک کفر سے برسرِ پیکار رہنے والے نوجوان کے بغیر مکمل نہ ہو گی. سید علی گیلانی کی سر براہی میں شروع ہونے والی مزاحمت کی ایک لازوال تحریک بھی اس جدوجہد میں نہایت اہمیت کی حامل ہے. مردِحُر سید علی گیلانی نے مایوس ہو چکی کشمیری قوم کو اک نیا جوش و ولولہ دیا. انکے اند آزادی کی اس امید کو دوبارہ زندہ کیا. تا عمر کشمیر کے لیے سر بکف مجاہد علی گیلانی بھی کروڑوں دلوں کو سوگوار چھوڑے آزادی کی اس صبح جسکے لیے انہوں انہوں زندگی کا ہر ہر لمحہ جدوجہد کی دیکھے بناء کی ہی پچھلے دنوں خاموشی سے  اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور یقیناً بارگاہِ الہی میں سر خرو ٹھہرے ہوں گے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کر کے گئے. ہمارے پاکستانی رہنماؤوں کی طرح نہیں جو 74 سال سے شمع جلانے کی بجائے صرف ظلمتِ شب کا شکوہ کری جارہے ہیں. اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی بہترین فوج سے نوازا ہے.74 سال سے ہم ہاتھ ہاتھ دھرے بیٹھے اپنے مظلوم بہن بھائیوں کا بہتا خون دیکھ کر بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں. قوم کے اندر جہاد کا جزبہ اور سوچ بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے انہیں بھی اقوامِ متحدہ میں اپنے منتخب نمائندوں کی تقاریر مطمئن کرتی ہیں اور انہیں مظلوم کشمیریوں کے مدد کے لیے چند خوبصورت جملوں پر مشتمل تقریر ہی کافی لگتی ہے لیکن قرآن میں جگہ جگہ جہاد کے واضح احکام, جن میں ساتھ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ بھی کیا گیا ہے ان فرامین پر یقین ہی نہیں رہا شاید. پاکستان کی طرف سے ہر طرح کا ہاتھ اٹھالینے کے باوجود آج بھی کشمیری عوام محض اپنے غیر متزلزل عزم کے بل بوتے پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیمعصوم اور نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کے ذریعے ان کی بینائی ضایع کی جا رہی جو سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے. جبر کی اس داستان میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار بڑے پیمانے پر کیا گیا جس سے درجنوں کشمیری آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے. اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے یوں خاموش اور گم صم رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی بے حسی اور منافقت نے بھارتی حکومت کو مزید شہ دی اور اس نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا. کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیری آزادی کی اس تحریک میں کسی نہ کسی نوجوان کا جنازہ نہ اٹھاتے ہوں’ شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے مگر ہر شہادت کشمیریوں کے جذبہ حریت کی شمع کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں. 2019 میں مودی کے کشمیر میں بدترین غیر انسانی کرفیو کے بعد شاید انہیں امید ہوگی کہ اب پاکستان کی طرف سے کوئ عملی قدم اٹھایا جائے گا.مگر یہ آخری امید دم توڑے بھی دو سال بیت گئے.کشمیریوں کی آزمائش کی رات نہایت کٹھن اور لمبی ہے. نہ جانے کب اس رات کی صبح ہو مگر ہم پر فرض ہے اپنے حصے کی شمع جلاتے چلیں. اپنی ووٹ اور سپورٹ سے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لائیں جو کشمیر کے لیے عملی جہاد کی بات کریں تا کہ ظلم و بریریت کی اس داستان کا اختتام ہو. کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں کشمیر کی آزادی کا  صرف اور صرف حل جہاد ہے. 

    "کہتے ہیں اہلِ نظر کشمیر کو جنت

    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا  ملے گی”

    @just_S32

  • پاکستان کا  سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    پاکستان کا سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مسئلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔

    مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

    سعودی وزیر خارجہ نے یہ انٹرویو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دیا ہے کہا کہ مذاکرات کے لیے درست وقت کا تعین پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے۔

    مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسی دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کے لیے انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

    یہ ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہےجو ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی جوبائیڈن

    افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔

    انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں زندگی گزارنے والے سید علی گیلانی 92 سال کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اگر انہیں شہید سید علی گیلانی کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ جدوجہد میں تھے، وہ کشمیر کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے نظر بندیوں، جیلوں اور قیدوں میں گزارا۔ ان کی آواز بوڑھی ہو گئی تھی، کمزور ہو گئی تھی لیکن اب بھی ان کے الفاظ میں گرج موجود تھی۔ ان کی آنکھوں میں جو آزادی کا خواب تھا وہ انشاءاللہ ضرور پورا ہو گا۔

    ان کی ایک ویڈیو نظر کے سامنے سے گزری جس میں وہ ایک دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔ پورے کشمیر میں لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا، کشمیریوں پر ظلم کیا جا رہا تھا، ان کا حق چھینا جا رہا تھا، شہید کیا جا رہا تھا، گھر گھر تلاشی ہو رہی تھی، بھارتی فورسز کشمیریوں سے بدتمیزی کر رہی تھیں، اُس وقت انہوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا کہ "دروازہ کھولو، دیکھو تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے۔” یہ آواز ہمیشہ بھارت کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ اس عمر میں ان کی آواز بوڑھی ہو چکی تھی لیکن ان کے الفاظ میں جو طاقت تھی وہ آج بھی پوری وادی میں گونج رہی ہے۔

    سید علی گیلانی بڑے عرصے سے علیل تھے، نظر بند بھی تھے اور سمجھوتہ بھی نہیں کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین سب سے بڑا سوال تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں کی جائے۔ لیکن بھارتیوں نے ان کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہونے دی۔ بھارتی ڈر گئے تھے کہ اگر سید علی گیلانی کی میت کو اُٹھا کر وہاں تک لے جایا گیا تو پورا کشمیر میت کے ساتھ باہر نکل آئے گا، لوگوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور یہ تحریک دوبارہ زور پکڑ لے گی۔ 

    اس لیے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جگہ جگہ خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان کی رہائش گاہ پر بہت بڑی تعداد میں نفری پہنچ گئی۔ ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جھگڑا کیا گیا، اور اُن کی تدفین زبردستی اُن کے گھر کے قریب ہی قبرستان میں کروائی گئی۔ ایک جسدِ خاکی سے بھارت اتنا زیادہ ڈر گیا کہ انہوں نے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا، انہوں نے پورے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا کہ لوگ کہیں باہر نہ آ جائیں۔ لیکن یہ تو ہو گا، اور یہ انشاءاللہ آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

    کشمیر کے لوگ آج نہ صرف سراپائے احتجاج ہیں بلکہ سوگ میں ہیں۔ پاکستان نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم اور صدرِ پاکستان نے فوری طور پر ردِ عمل دیا۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کو جوڑنے کے حوالے سے ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تمام وہ راستے اختیار کیے جس سے کشمیریوں کو ان کا حق دلوایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سیاست کر کے دیکھی اور وہ کئی دفعہ جیتے، لیکن ان کی پارٹی کو کبھی بھی اکثریت میں نہیں آنے دیا گیا۔ کیوں کے بھارتی حکومتیں ان سے کہتی تھیں کہ ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں ہم آپ کی کشمیر میں حکومت بنوا دیں گے، لیکن سید علی گیلانی نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کشمیریوں کو کبھی دھوکہ نہیں دیا۔ پھر سیاست چھوڑی اور حُریت میں آ گئے۔ آزادی کی تحریک میں کام کرتے رہے۔ بلآخر ان کا نعرہ پورے کشمیر میں گونجنے لگا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” ۔

    ایک اور ویڈیو ان کی مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ بہت زوردار آواز میں کہتے ہیں کہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ ان کے یہ الفاظ وادی میں گونج رہے ہیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک بہت اہم سٹیٹمنٹ جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے پوری دنیا کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب مار دیے گئے تو اللہ کے حضور آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا، کیوں کے بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی شروع کرنے جا رہا ہے، اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے”۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے، کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور کبھی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے کشمیریوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا، یعنی شیخ عبداللہ کو سر پہ اُٹھایا، اتنی عزت دی لیکن اس نے انڈیا گورنمنٹ سے معاہدہ کر لیا اور کشمیر کا حکمران بن کے موجیں کیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک دوسرا قول جس پر وہ ساری زندگی کھرے اُترے، انہوں نے کہا کہ "بھارت اپنی ساری دولت ہمارے قدموں میں ڈال دے اور ہماری سڑکوں پر تارکول کی بجائے سونا بچھا دے تو تب بھی ایک شہید کے خون کی قیمت نہیں چکا سکتا۔

    یہ ایک عظیم مجاہد کی داستان ہے، جو ساری زندگی اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب لے کر جیتے رہے، نعرے لگاتے رہے کہ ” کشمیر بنےگا پاکستان”، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ انہوں نے جو خواب دیکھے وہ خواب انشاءاللہ ضرور پورے ہوں گے۔

    ان کے جانے کا غم کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سید علی گیلانی کے درجات بلند کریں اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ (آمین)

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کشمیر کاز کے علمبردار ، بزرگ صحافی اور دانشور شیخ تجمل الاسلام اسلام آباد میں مختصر علالت کے بعد 67برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیخ تجمل الاسلام گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آبادکے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے شیخ تجمل الاسلام کا تعلق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر سے تھا،اُنہوں نے 1975ء میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے ایل ایل بی اور 1980ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا وہ طالب علمی کے دوران 1979ء سے 1984ء تک مقبوضہ علاقے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔

    وکی پیڈیا سے لی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے1973ءتا 1980ء تک سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار اذان کے چیف ایڈیٹر اور کئی روزناموں اورہفتہ وار اخبارات اور جرائدبطور مدیر کام کیا۔وہ 1975ء تا1984ء تک سرینگر میں وکالت کرتے رہے،شیخ تجمل الاسلام نے غیر قانونی بھارتی تسلط سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی آزادی کے ایک پرجوش حامی ہونے کی پاداش میں شدید سختیاں برداشت کیں اور 1974ء اور 1984ء کے درمیان کئی بار گرفتار کیے گئے-

    70کی دہائی میں دو اہم واقعات یعنی1971ءمیں سقوط ڈھاکہ اور 1975ءمیں اندرا عبداللہ معاہدے کے بعد بھارت نے یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ اب پاکستان کشمیریوں کی بھر پور حمایت کے قابل نہیں رہا ۔ بھارت کے اس پروپیگنڈے نے کشمیریوںکے حوصلوں پر قدرے منفی اثرات مرتب کیے اور اس سے مقبوضہ علاقے میں جمود کی کیفیت طاری ہو گئی جسے توڑنے کیلئے شیخ تجمل الاسلام نے 1982ءمیں سرینگرمیں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ، اگرچہ بھارت نے بعد میں یہ کانفرنس نہ ہونے دی مگر اس کی تیاریوں نے اہل کشمیر خاص طور پر نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ بیدار کر دی ۔

    جس کے بعد شیخ تجمل الاسلام بھارت کی نظرو ں میں کھٹکنے لگے ، جب ان کے گرد شکنجہ کسا جانے لگا تو و ہ نیپال منتقل ہو گئے ، نیپال میں انہوں نے کشمیرکاز کیلئے بھر پور کام کیا،کھٹمنڈو میں قیام کے دوران اسلامک سیوک سنگھ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جو اس وقت نیپال کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے،نیپال میں قیام کے دوران انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز (آئی آئی ایف ایس او) کے تحت جنوبی ایشیا میں مسلم سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

    شیخ تجمل الاسلام پاکستان ہجرت کے بعد 1998ء سے 1999ء تک پاکستان ٹیلی ویژن کے نیوز سیکشن کے وابستہ رہے۔ انہوں نے 1992ء سے 2000ء تک انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر افیرئرز کی سربراہی کی ۔بعد ازاں وہ 1999ءمیں ” کشمیر میڈیا سروس “ کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانس تک اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے، وہ ’ کشمیر انسائیٹ ‘ کے نام سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

    شیخ تجمل الاسلام نے بین الاقوامی سطح پر اور پاکستان میں کشمیر پر مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی اور اپنی تقاریر میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریشہ دوانیوں ، مذموم منصوبوں ، شاطرانہ چالوں کاپردہ چاک کرتے رہے ، انہوں نے کشمیر پر انگریزی اور اردو میں مضامین اور تجزیے تحریر کیے۔ وہ ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے انصاف پر مبنی حل کی حمایت کرتے رہے۔ان کی دیانتداری اور دانشورانہ مہارت کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں ان کی بہت عزت وتوقیر کی جاتی تھی۔

  • وزیراعظم آزاد کشمیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    وزیراعظم آزاد کشمیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    سردار عبدالقیوم نیازی ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر (اے جے اینڈ کے) نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی صورتحال بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی یکطرفہ اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے سید علی گیلانی کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے ان کی تاریخی اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا آرمی چیف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو فوج کی مکمل حمایت اور کشمیر کاز اور کشمیری عوام کے ساتھ وابستگی کا یقین دلایا۔

    پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 79 اموات

    ملاقات میں آرمی چیف نے وزیراعظم (اے جے اینڈ کے) کو ان کی نئی تقرری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کشمیر کے خطے کی خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی نےآزاد کشمیر میں سلامتی اور ترقی کے لیے فوج کی شراکت کو سراہا۔

  • سید علی گیلانی صاحب پاکستان حقیقی کے بیٹے کشمیر کے سربراہ تحریر   فرزانہ نیازی

    سید علی گیلانی صاحب پاکستان حقیقی کے بیٹے کشمیر کے سربراہ تحریر فرزانہ نیازی

    ۔

    ‏اسلام کی نسبت سے اسلام کے تعلق سے اسلام کی محبت سے
    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ہوا کو چلنے سے کوئی روک سکا ہے اور نہ ہی خوشبو کو مہکنے سے
    ٹھیک اسی طرح سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور آزادی کشمیر کے جذبے کو بھی کوئی طاقت نہیں روک سکی
    ‏جبر جیل اور تشدد کا کوئی مرحلہ ان کے عزم آزادی کو کبھی کمزور نہ کر پایاانکی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی سید علی گیلانی صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گےوہ تحریک آزادی کے سرخیل اور مزاحمت کااستعارہ تھےان کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے ‏انہوں نے کشمیرکی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی
    انہوں نے قید وبند کی صوبتیں برداشت کیں لیکن کبھی بھی بھارت کے غاضبانہ قبضے کے سامنے سر نہیں جھکایا
    وہ کشمیریوں کے ایسے ہیرو ہیں جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی
    کشمیر کی تحریکِ آزادی کا ہر رہنما قابلِ قدر اور قابلِ احترام ہےمگر سید علی گیلانی صاحب کی کوئی نظیر ہی نہیں لیکن سید علی گیلانی کی اصل قوت ان کا اسلام ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کی امت اور امت کے شہداء سے ان کی محبت ہے سید علی گیلانی صاحب کے لیے پاکستان کے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کی طرح پاکستان کوئی جغرافیہ کوئی دکان کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں کوئی جائیداد نہی اُن کے لیے پاکستان ایک نظریہ ہے اُن کے لیے پاکستان کا مطلب لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ کے سوا کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ سید علی گیلانی مدتوں سے روئے زمین پر موجود سب سے بڑے پاکستانی ہیں پاکستان کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کے لیے پاکستانیت کا مظاہرہ سراسر فائدے کا سودا ہے اس سے پاکستان میں ان کی حب الوطنی کو چار چاند لگتے ہیں ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہےان کے عہدے اور مناصب بڑھتے ہیں یہاں تک کہ ان کی پاکستانیت سے انہیں مالی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانیت کے مظاہرے کا مطلب یقینی موت ہے مگر سید علی گیلانی عرصے سے یقینی موت کو للکار رہے اس کا تعاقب کررہے ہیں ان کی پاکستانیت کا ہر دن خون آلود رہا غمزدہ کردینے والا اعصاب شکن مایوس کردینے والا مگر سید علی گیلانی پر غزوۂ بدر کی روایت کا سایہ تھا انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت سے محبت کی انہیں ہر وقت یہ خیال دامن گیر رہتا ہے کہ اگر انہوں نے کشمیر کے شہداء کے خون کا سودا کیا تو وہ میدانِ حشر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں گے ہمارے پاس ایک مصدقہ اطلاع ایسی ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر سید علی گیلانی صاحب نہ ہوتے تو برسوں پہلے کشمیر پر سودے بازی ہوچکی ہوتی اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف بھارت ہی نہیں پاکستان کے حکمران طبقے میں سے بھی کئی لوگ اس بات کے انتظار میں ہوں گے کہ سید علی گیلانی صاحب کب منظر سے ہٹتے ہی لیکن اب اس بات کی کیا اہمیت ہے کہ سید علی گیلانی صاحب کب تک ہمارے سامنے رہیں گے ہم کیا ہزاروں لاکھوں لوگ میدانِ حشر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دیں گے کہ سید علی گیلانی صاحب نے اسلام کی سربلندی جہاد شہدا کے خون کی پاسداری کی
    ‏عظیم مجاہدآزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی توانا ترین آوازحریت اور جہد مسلسل کا استعارہ تمام ظلم اور جبر کے سامنے بے خوف کلمہ حق کہنے والے سید علی گیلانی صاحب کو ہم سب کا سلام
    آپ کا نام رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف برسرپیکار مظلوموں کے لیے ہمت اور صبر و استقلال کا استعار اور امید کی کرن کا کام کرتا رہے گا پاکستان کا سب سے وفادار بیٹا چل بسا دل اداس ہے آنکھیں نم تعزیت کس سے کریں ، پرسہ کون کسے دےآج کشمیر میں ہماری طاقتور ترین آواز نہیں رہی آہ سید علی گیلانی آہ اللہ آپ سے بہترین معاملہ کرےآپ کو نبی مہربان کی ہمسائیگی عطا کرے آمین یارب العالمین ۔۔!!
    تحریر

    @miss__niazi