Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    مظفر آباد:کشمیر پریمئیر لیگ (کے پی ایل )کا فائنل آج شام 7 بجے راولاکوٹ ہاکس اور مظفر آباد ٹائیگرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : مظفر آباد ميں کھیلے جارہے کشمیر پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں شاہد آفريدی اور شعيب ملک کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ تھا، راولا کوٹ ہاکس نے میر پور رائلز کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے اپنی جگہ بنائی۔

    پہلی بیٹنگ میں میرپور رائلز کی جانب سے شرجيل خان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 12 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 141 رنز کی اننگز کھیلی، ٹیم نے مد مقابل ٹیم کومقررہ اوورز میں 4 وکٹوں پر 236 رنز کا ہدف دیا-

    راولا کوٹ کو جیت کے لیے 239 رنز کا ہدف ملا، ناک آؤٹ ميچ ميں کاشف علی نے صرف 51 گيندوں پر 114 رنز بنا ئے آخری اوور کی چوتھی گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی کاشف علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے      مشعال ملک

    اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا ہے کہ ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا کہ جتنی چاہیں پرچم کشائی کی تقریبات کرلیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے –

    انہوں نے کہا میں ہندوستان کے عوام سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ کو آزادی کا مطلب پتہ ہے ؟ خون سے تحریکیں لکھی جاتی ہیں تب آزادی کی نعمت ملتی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ آپ اندھے اور بہرے ہو گئے ہیں کیا ؟ کیا ان 70 سالوں میں آپ کو آواز نہیں آئی کہ ایک قوم پر 70 سال سے ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو آزادی منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں اور پوری دنیا کے لیے بلیک ڈے ہے۔

    واضح رہے کہ لا ئن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-

    کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

    کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

  • دنیا بھرکے کشمیری بھارت کا یوم آزادی ، یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

    دنیا بھرکے کشمیری بھارت کا یوم آزادی ، یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

    سرینگر : لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 15 اگست کو بھارت اپنا یوم آزادی مناتا ہے مگر مظلوم کشمیری اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس دن لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) کے اطراف سمیت دنیا بھر میں کشمیری احتجاج کرتے ہیں ، ریلیاں نکالتے ہیں اور بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں ۔

    مقبوضہ کشمیر میں آج کے روز احتجاج اور ریلیاں اس لیےنکالی جاتی ہیں تاکہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور ظلم وستم کی مذمت کی جا سکے یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-

    کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

    کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

    بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے جو 5 اگست سے 15 اگست 2021ء تک کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر منائے جانے والے 10 روزہ مزاحمت کا حصہ ہے ہر جگہ سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے جبکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان

    آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان


    جب 14 اور 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے آزادی حاصل کردی اور دو نئے خود مختار ریاستیں وجود میں آئیں تو برصغیر میں موجود ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں کسی بھی ملک کے ساتھ اپنی خواہش سے شامل ہو جائے۔ تو کشمیر ایک مسلمانوں کا اکثریتی آبادی والا ریاست تھا مگر اس کے مہا راجہ ہندو تھے اس راجہ نے وقت پر فیصلہ نہیں کیا اور 26 اکتوبر 1947ء کو مہا راجہ نے کشمیر کے لوگوں سے رائے لئے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دئے جس پر کشمیر کے مسلمانوں نے مہا راجہ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس بغاوت کو کچلنے کیلئے بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی وادی میں فوج اتار دی۔ کشمیر میں موجود بھارت سے آزادی کے حامیوں کے ساتھ پاکستان نے بھی اظہار یکجہتی کی اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نوجوانوں نے کشمیر میں بھارت کی فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ تھی۔

    پاک بھارت جنگ کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ نے 5 فروری 1948 کو ایک قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ اس رائے شماری پر کیا جائے۔ یکم جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور کشمیر میں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا جو 1947ء سے لے کر آج تک وہ رائے شماری نہیں ہوئی۔ بھارت نے 26 جنوری 1950ء کو بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ کیا اور کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت کا درجہ دیا جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو دفاع، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہوا یہ آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے جس کے تحت ریاست کا اپنا آئین تھا اور اسے خصوصی نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی۔

    1954ء کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 ‘اے’ بھارتی آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا تھا۔ آرٹیکل 35 ‘اے’ کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔

    بھارت نے 5 اگست 2019ء کو ایوان بالا میں کشمیر کے خصوصی اختیارات والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی۔ مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے یہ ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر صدر نے دستخط کرکے منظور کردیا۔ اس ترمیمی بل کے مطابق بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا اور ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دے دیا۔ مودی حکومت نے اس یکطرفہ اقدام سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا قانون آرٹیکل 370 اور ریاستی درجہ ختم کر دیا۔

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مذمت کی ہے۔ بھارت کے اس فیصلے کی مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی مخالفت کی ہے اور اکثر کشمیر کے سیاسی رہنما بھارتی حکومت سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اپنے اصلی حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی برپور مذمت کی۔ حریت کانفرنس کے اعلان پر آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر مقبوضہ وادی میں 5 اگست 2021ء سے 15 اگست 2021ء تک عشرہ مزاحمت منایا جا رہا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو پاکستان بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا، اس سلسلے میں آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں بھارت کے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر اور آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئی۔

    Twitter: ‎@RealYasir__khan

  • کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں اوورسیز واریئرز نے باغ اسٹالینز کو 5 وکٹ سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: مظفر آباد میں کھیلے گئے اس میچ میں باغ اسٹالینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اوورسیز واریئرز کو جیت کے لیے 187 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    اوور سیز واریئرز نے 187 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر 19.2 اوورز میں حاصل کرلیا اوور سیز واریئرزکے حیدر علی نے 57 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔کامران غلام 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ناصر نواز نے 31 رنز بنائے۔

    باغ اسٹالینز کی جانب سے عامر یامین نے اوورسیز واریئرز کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    باغ اسٹالینز کھلاڑی: شان مسعود ، ذیشان ملک ، روحیل نذیر ، اسد شفیع ، افتخار احمد ، عامر یامین ، عمید آصف ، محمد الیاس ، فرقان شفیق ، عامر سہیل ، ایم عمران جے آر ہیں:

    اوورسیز وارئیرز:ناصر نواز ، عثمان علی خان ، حیدر علی ، اعظم خان ، عماد وسیم ، کامران غلام ، آغا سلمان ، سہیل خان ، محمد موسیٰ ، ایم عباس آفریدی ، فیضان سلیم-

    واضح رہے کہ مظفرآباد ٹائیگرز کے اوپنر ذیشان اشرف نے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ایونٹ کی پہلی سنچری بنا ئی تھی ذیشان اشرف نے اپنی ٹیم مظفرآباد ٹائیگرز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

    انھوں نے 196 رنز کے ہدف کے تعاقب میں عمدہ و تاریخی باری کھیلتے ہوئے 58 گیندوں پر ایک چھکے اور 17 شاندار چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی یہ کشمیر پریمیئر لیگ میں کسی بھی بیٹسمین کی پہلی سنچری ہے۔

  • کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ:مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی ذیشان اشرف کو بہترین بیٹنگ پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق مظفر آباد ٹائیگرز نے 196رنز کا ہدف 19 ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ مظفر آباد ٹائیگرز نے 196 رنز کے تعاقب میں اننگز کا جارحانہ آغاز کیا مگر اوپننگ بلے باز تیمور سلطان چار رنز بناکر آؤٹ ہوگئے-

    تاہم ان کے ساتھ اوپننگ کے لیے آئے ذیشان اشرف نے ٹورنارمنٹ کی پہلی سینچری سکور کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ذیشان اشرف نے 62 گیندوں پر 107 رنز بنائے جس میں 18 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا کوٹلی لائنز کی جانب سے عاکف جاوید 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ خرم شہزاد اور عرفان اللہ شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔

    دوسری جانب کوٹلی لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز بنائے تھے کوٹلی لائنز کے آصف علی 67، سید عبداللہ رافع 35، سیف بدر 28 اور کپتان کامران اکمل 27 رنز بنا کر نمایاں رہے مظفرآباد کی جانب سے سہیل تنویر، ارشد اقبال، محمد حفیظ اور عثمان یوسف نے ایک، ایک وکٹ لی۔

  • کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہےحکومت ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے       عبدالقیوم نیازی

    کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہےحکومت ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے عبدالقیوم نیازی

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم نیازی سے ملاقات کی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عثمان ڈار نے وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم نیازی سے نوجوانوں کیلئے روزگار اور وسائل کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا-

    وزیراعظم آزاد کشمیر قیوم نیازی کا کہنا تھا کہ کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے کشمیری نوجوانوں کی سرپرستی اور ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کی درخواست کی۔

    معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو وفاقی حکومت کی بھرپور معاونت فراہم کی جارہی ہے اور کشمیر میں کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے رقم کی تقسیم کا عمل تیز کیا گیا ہے وفاقی حکومت مکمل مدد اور تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔

    دوسری جانب ایڈمنسٹریٹر کراچی، سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ علماء کرام ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، اب وسائل کی نہیں بلکہ مسائل کو حل کرنے کی بات کی جائے گی، ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے، صرف محرم الحرام یا ربیع الاول کے لئے ہی نہیں بلکہ ایسے کام کئے جائیں گے جو پورا سال چلیں، آئندہ دس روز کراچی میں محرم الحرام کے جلوسوں کی گزرگاہوں اور مجالس کے مقامات پر خود جا کر مسائل دیکھوں گا اور انہیں حل کرایا جائے گا-

    بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سازشوں کے باوجود ماضی میں کسی انتظامیہ نے انہی علماء کرام کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کئے ہیں میرے ساتھ کراچی کی پوری انتظامیہ موجود ہے، ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اب ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے جو اتحاد محرم الحرام اور ربیع الاول میں نظر آتا ہے وہ پورے بارہ مہینے نظر آنا چاہئے-

  • کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کشمیر پریمئر لیگ (کے پی ایل) کے تیسرے روز باغ اسٹالینز نے میرپور رائلز کو 15 رنز سے شکست دے دی ہے جبکہ آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا-

    باغی ٹی وی : مظفر آباد اسٹیڈیم میں کے پی ایل کے چوتھے میچ میں باغ اسٹالینز نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹ پر 211 رنز بنائے شان مسعود نے 78 رنز کی کیپٹن اننگز کھیلی، کپتان شان مسعود کی بہترین فارمنس پر انہیں مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔

    کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا…

    اسد شفیق نے ٹوٹل میں 54 رنز کا اضافہ کیا، جواب میں شعیب ملک کی ٹیم میرپور مقررہ 20 اوور میں 8 وکٹ پر 196 رنز بنا سکی سلو اوور ریٹ پر میرپور رائلز کے کھلاڑیوں کو میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا-

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    جبکہ ایونٹ کے تیسرے روز دوسرا میچ بارش کی نذر ہو گیا، ٹاس بھی نہ ہو سکا بارش کے باعث راولا کوٹ ہاکس اور کوٹلی لائنز کا میچ بغیر کھیلے ختم کر دیا گیا۔

    کشمیر پریمئر لیگ میں آج بھی دو میچ شیڈول ہیں اوور سیز وارئرز بمقابلہ میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار  تحریر: محمد بلال

    کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار تحریر: محمد بلال

    5 اگست 2021، بھارت کے ذیرِ تسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی لاک ڈاؤن کو دو سال مکمل ہوۓ۔ پاکستان کشمیری عوام پر ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش ہمیشہ کرتا رہا ہے ، نہ صرف مخصوص دنوں پر بلکہ سالوں سے کر رہا ہے ۔ایک طرف ، کرونا 19 اور لاک ڈاؤن نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر دیا اور لوگوں کے کاروبار کا صفایا کر دیا۔ وہیں، دوسری طرف کشمیر میں ، لاک ڈاؤن اور جبری محاصرہ پہلے ہی جاری ہے ،اور اب وبا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ وبائی امراض کے باوجود بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا بلکہ غیر قانونی قابض افواج نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔ 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے اس استحصال کے خلاف ایک آواز سے بولی ہے اور یہ آواز پوری دنیا میں سنائ گی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔ جب بھی بھارت نے کشمیر میں ظلم کی نئی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ، پاکستانی عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا گیا۔اس کے باوجود پاکستان ایک قدم آگے سوچ رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ پاکستان علاقائی سلامتی کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا آر ایس ایس اور بھارتی وزیراعظم مودی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ سے واقف ہے۔بین الاقوامی اداروں کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے آج بھارت کو بے نقاب کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ یہ سوچ نہ صرف ہندوستانی یا کشمیری مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔بھارتی ناجائز قابض افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ نوجوان اس کا بنیادی ہدف ہیں اور انہیں بھارت کے خفیہ ٹارچر سیلز میں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان نڈر نوجوانوں کے مقروض ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں لیکن اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھارتی قابض افواج کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام رہی۔ بھارت نے سوچا کہ ایسا کرنے سے وہ کشمیریوں کو نفسیاتی اور قانونی طور پر محکوم کر دے گا ، لیکن وادی کے کسی مسلمان نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔بھارت ، مسلمانوں کا دشمن ، 1947 سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ نہ صرف غیر انسانی سلوک کر رہا ہے ، بلکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ "کشمیر تنازعہ” بھارت اور پاکستان کے درمیان ازلی دشمنی کا مرکزی نقطہ ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل ایک اس کی تشکیل کا مقصد بتاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی حقیقی روح کے مطابق ، "بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اس مقصد کے لیے: امن کے لیے خطرات کی روک تھام اور ان کے خاتمے کے لیے موثر اجتماعی اقدامات کرنا”۔اس کے برعکس مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی میز پر سب سے پرانا معاملہ ہے جو حتمی حل کا منتظر ہے۔ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ بھارتی حکومت کو مظالم کے خاتمے کے لیے پابند کرے اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرہ ، مواصلات اور پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے ارادے سے متعارف کرائے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کے بھارتی ایکٹ کو منسوخ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کو 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ آئی آئی او جے کے میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔کیونکہ تنازعات کا پرامن حل اور انسانی حقوق اور وقار کا تحفظ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    @Bilal_1947

  • مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    یوں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہندو تسلط اور جبر کا آغاز 1925 سے ہی ہوگیا تھا جب 77 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے پر ہندو راجہ کو بطور حکمران مسلط کر دیا گیا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی سراپا احتجاج کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا جس کو دبانے کے لئے 1930 سے لیکر آج تک ہندوئوں کی طرف سے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کا ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرادادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے ساتھ گذشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری مسلمانوں کے لئے ہر دن مشکل ترین ثابت ہوا۔ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے عورتوں کے ساتھ ذیادتی، کشمیری نوجوانوں کا قتل عام، پیلٹ گن کے ظالمانہ استعمال سے بچوں کو نابینا کیا جانا اور بوڑھوں کی بے حرمتی تو معمول کی بات تھی ہی تاہم گذشتہ دو سالوں کے دوران جس طرح مودی سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو اذیت اور دکھ درد میں مبتلا کررکھا ہے اسکی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ دنیا کے مہذب معاشرے تو اپنی حکومتوں کی طرف سے کورونا وائرس کے پیش نظر 2020 کے اوائل میں لاک ڈائون کا شکار ہوئے تاہم کشمیری مسلمان جہاں ایک طرف اگست 2019 سے مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش، ہسپتالوں کی بندش، انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں سمیت لاک ڈائون کا شکار تھے تو وہیں کورونا وبا کے پیش نظر لگائے جانیوالے لاک ڈائون کی وجہ سے مظلوم کشمیری دوہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی کمی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 ہزار 8 سو 66 شہریوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر تعینات تھا جبکہ دوسری طرف مودی سرکار کی طرف سے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنانے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لئے 14 لوگوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 18 مارچ 2020 کو سامنے آیا جب ایک خاتون میں مہلک وائرس کی موجودگی پائی گئی جس کے بعد سے اب تک کورونا وائرس کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ 43 سو سے زائد اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ذرائع آمدورفت اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث جہاں عام شہریوں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کورونا وبا سے بچائو کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کورونا وبا کے دوران جہاں دنیا کے باقی ممالک میں صحت کے حوالے سے جدید ترین سہولیات کی فراہمی پر کام کی رفتار کو تیز تر کر دیا گیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات ہی نہ ہونے کے برابر تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 ہزار مریضوں کے لئے اوسطا ایک انتہائی نگہداشت کا بیڈ فراہم تھا جبکہ مقبوضہ وادی کے صرف ایک ضلع میں چار لاکھ مریضوں کے لئے 6 وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے تاہم طبی عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ وینٹی لیٹرز بھی استعمال میں نہ لائے جا سکے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر جب بھارت میں صورتحال تشویش ناک ہوئی تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو آکسیجن گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی جس کا خمیازہ مظلوم کشمیریوں کو ہی بھگتنا پڑا۔ کورونا وائرس نے پہلے سے تباہ حال مقبوضہ وادی کی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا،

    لاک ڈائون، کرفیو، ذرائع آمدو رفت کی بندش کے باعث مقبوضہ وادی میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہی جس کا براہ راست منفی اثر عام کشمیریوں کی معاشی حالت پر پڑا۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2020 صرف 525 سیاحوں نے مقبوضہ وادی کا رخ کیا جبکہ اگست اور ستمبر 2019 میں 14 ہزار 6 سو سیاح جنت نظیر وادی پہنچے یاد رہے کہ یہ تعداد سال 2018 کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔ کورونا وبا کے دوران جہاں باقی دنیا میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آنلائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اور مخصوص علاقوں میں صرف 2G انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے باعث جہاں آنلائن کلاسز کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکیں وہیں "ورک فرام ہوم” کی سہولت سے بھی عام کشمیری محروم رہے۔ مظلوم کشمیریوں کے لئے کورونا لاک ڈائون کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ آزادی کے متوالے کشمیری مسلمان گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر سہہ رہے ہیں تاہم ہر کشمیری نوجوان، بوڑھے، بچے اور خاتون کا حوصلہ ماند نہیں پڑا۔ کشمیری مسلمان آج بھی پر امید ہیں کہ کل کا سورج آزادی کی نوید لیکر طلوع ہو گا اور انہیں بھارتی تسلط سے جلد نجات ملے گی۔

    @MustansarPK