Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    کے پی ایل کا دوسرا میچ آج کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان کھیلا جا رہا ہے میچ میں کوٹلی لائنز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے افتتاحی میچ میں کرکٹر شاہد آفریدی کی قیادت میں راولا کوٹ ہاکس نے میرپور رائلز کو 43 رنز سے شکست دے دی تھی راولاکوٹ ہاکس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔

    احمد شہزاد 69، بسم اللہ خان 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ میرپور رائلز کے عماد بٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں راولا کوٹ ہاکس کے بسم اللہ خان کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔

    195 رنز کے ہدف کے تعاقب میں میرپور رائلز مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز ہی بنا سکی، میرپور رائلز کی جانب سے شعیب ملک 74 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے ایونٹ کی رنگارنگ تقریب میں پیراگلائیڈنگ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ ،افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل

  • کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ:  راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    مظفر آباد : کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے افتتاحی میچ میں مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی زیر قیادت راولا کوٹ ہاکس نے میرپور رائلز کو 43 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ ہاکس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔ احمد شہزاد 69، بسم اللہ خان 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ میرپور رائلز کے عماد بٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں راولا کوٹ ہاکس کے بسم اللہ خان کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔

    195 رنز کے ہدف میں میرپور رائلز نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز بنائے میرپور رائلز کی جانب سے شعیب ملک 74 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے ایونٹ کی رنگارنگ تقریب میں پیراگلائیڈنگ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    کشمیر پریمیئر لیگ ،افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل

    کشمیر پریمیئر لیگ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز تیمور خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس لیگ کے حوالے سے خواب 2018 میں دیکھا تھا اور 2019 میں اس حوالے سے حکومت سے بات کی۔

    جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز بھارت کی دھمکیوں کے باوجود مظفر آباد پہنچ گئے ہیں ہرشل گبز کے پی ایل میں اوور سیز واریئرز کی نمائندگی کریں گے۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں،ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے انعقاد سے قبل بھارت کی بوکھلاہٹ اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو دھمکیاں کام نہ آئیں-

    باغی ٹی وی : جنوبی افریقی کرکتر ہرشل گبز بھارت کی دھمکیوں کے باوجود مظفر آباد پہنچ گئے ہیں ہرشل گبز کے پی ایل میں اوور سیز واریئرز کی نمائندگی کریں گے۔

    رشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    اس سے قبل ہرشل گبز نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں بتایا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ مجھے دھمکی دے رہا ہے، بی سی سی آئی غیرضروری طور پر پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا بیچ میں لارہاہے اور مجھے کے پی ایل ٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    ہرشل گبز نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ بی سی سی آئی کی جانب سے مجھےدھمکی دی جارہی ہے کہ بھارت میں انٹری کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے بعد ازاں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے کہا کہ وہ کے پی ایل ٹورنامنٹ کو تسلیم نہ کرے۔

    کشمیر پریمئیرلیگ : پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ کی مداخلت پر برہم

    کشمیر پریمئیر لیگ: خوفزدہ بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھ دیا

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا فیصلہ

  • کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    سردار عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہہ لوگ شیروانی اور واسکٹ سلاتے ہیں مجھے تو وزیز اعظم بننے کی خبر کاغزات نامزدگی والے دن صبح کو ہوئی اور مجھے فون آیا کہہ آپ وزیز اعظم کے لئے کاغزات جمع کروایں اگر بات کی جاۓ اپوزیشن کی تو اس نے تو تنقید کرنی ہی تھی جو بھی نام سامنے آتا اس پر تنقید اپوزیشن تو لازمی سی بات ہے کرے گی اگر تنویر الیاس صاحب کا نام آتا تو کہنا تھا اے ٹی ایم مشین کو وزیز اعظم بنا دیا اگر بیریسٹر سلطان کو بناتے تو کہنا تھا وہی پرانی بوتل میں نہی شراب اپوزیشن کا کام تو تنقید ہے اس نے تو کرنے ہی تھی اچنبے کی بات تو یہ ہے سردار عثمان بزادر کی طرح ہمارے میڈیا کے چند بڑے ناموں نے بھی حلف برادری کی تقریب کے فورا بعد سردار عبدالقیوم پر اپنی تنقید کے نشتر برسا دئیے کسی نے کہا کہہ یہ اولیاء اللہ اور درباروں عقیدت مند ہیں اس لئے ان کانام چنا گیا کسی نے کہا ان کانام ع سے شروع ہوتا ہے کسی نے ان کے حلقہ کے نمبر کا زکر کیا کسی نے پختون اور قبیلہ کا زکر کیا جس کو جو ملا اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے خیال میں جو بلکل ہی زیادتی پر مبنی تنقید ہے ہمارے میڈیا کو معلوم ہونا کہہ سردار عبدالقیوم نے کشمیر کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور وہ کامیاب ہوۓ اور پورے کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے ایم ایل اے کا کامیاب امیدوار ویز اعظم بننے کا مستحق ہوتا ہے بے جا تنقید سے اس حلقہ کی عوام اور پورے کشمیر کی عوام میں اختلاف پیدا نہیں کرنا چائیے تھا میڈیا کا جو سوال بنتا ہے وہ ہے اگر سردار عبدلقیوم پر کوئی کرپشن کیسز ہے تو اسکو ہائی لائیٹ کرے وگرنہ بے جا تنقید غیر مناسب ہے
    سردار عبدلقیوم صاحب کے لیے بہت سے چیلنج ہوں گے اپوزیشن میں سابقہ وزیز اعظم اور اپنی پارٹی کے اندر بھی سابقہ وزیز اعظم اور بھی بہت سے نامور نام ہیں اب سردار عبدالقیوم کس طرح اپنی پارٹی اور اپوزیشن کو لے کر چلتے ہیں یہ بھی ان کا امتحان ہوگا اگر تو سردار عبدلقیوم کشمیر کے مسائل کو حل کرنے جن میں بلدیاتی نظام نہیں ہے بے روزگاری ہے اور عوام کے صحت و انصاف بچوں کی پڑھائی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اپوزیشن اور میڈیا دونوں کے منہ ہی کشمیر کی عوام بند کر دے گی اگر سردار عبدالقیوم اپنے کپتان عمران خان کے ویثرن کو آگے لے کر چلتے ہیں تو پھر اپنے کپتان کی مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی اور وہ اپنی کرسی پر مضبوطی سے کام کر سکیں گے جو بات زبان ذدہ عام ہے ان کے بارے میں وہ تو بہت اچھی ہے کہہ سردار عبدالقیوم انتہائی نفیس اور سادہ طبعیت انسان ہیں وہ اپوزیشن اور پارٹی کو بہت اچھے سے ڈیل کریں گے اگر اس میں بھی کامیابھی ملتی ہے تو آئندہ آنے والے سالوں میں کشمیر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھے گا اور حقیقی تبدیلی جس کا تحریک انصاف کے چئیر مین ویز اعظم پاکستان جناب عمران خان نے دیکھا ہے وہ پورا ہوگا ان شاءاللہ
    ہماری دعا ہے سردار عبدالقیوم صاحب کو اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمارے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ اور ساتھ میں کشمیر کی عوام کے مسائل کو بھی حل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین۔ ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    کشمیر کا نام سنتے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں جنت کا نوشہ کھیچا چلا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں ہمیشہ بڑوں کو کہتے سنا تھا کہ اگر جنت دیکھنی ہے تو کشمیر دیکھ لو۔ کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے کے بعد بالکل ایسا لگتا ہے جیسے جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔

    اس میں پھیلا سبزہ، وہاں کے آبشار، یہاں تک کہ چرند پرند، درخت، پہاڑ نیز ہر چیز میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج بھی کشمیر ایسا ہی ہے؟

    آج تو اسی جنت میں آئے روز خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ بھارت کی گیدڑ فوج وہاں کی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کرتی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں ان کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ مائیں اپنے لخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتی ہیں۔

    یہاں تک بھارت کی ظالم فوج سے تو وہاں کے بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔ اگر بچے گھروں سے باہر نکلیں تو ان کی آنکھیں پیلٹ گن سے چھلنی کر دی جاتی ہیں۔

    پر افسوس صد افسوس کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ اس دنیا میں اگر یہی سلوک چار پانچ جانوروں کے ساتھ ہو تو یقین جانے یہ جو لوگ آج اپنے منہ سی کے اور آنکھوں میں پٹیاں باندھ کے اندھے بنے بیٹھے ہیں یہی لوگ "جانوروں کے حقوق” کھول کے بیٹھ جائیں گے۔ ان کے لیے ریلیاں بھی نکلیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    پر ان کے منہ سے کشمیر کے جائز حق میں ایک لفظ بھی نہیں پاتا۔ کیا کشمیری ان کی نظر میں جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟ کہ یہ دنیا اور اقوام متحدہ صرف تماشا دیکھے چلے جارہے ہیں۔ آخر کو کوئی بھارت کو اس ظلم و بربریت پر روکتا کیوں نہیں؟ آخر کب تک کشمیری اس قدر ظلم و بربریت سہتے رہیں گے؟

    اب تو کم از کم اقوام متحدہ کو معاملے کی طرف جھنجھوڑنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد کشمیر کے حق میں فیصلہ ہو اور ہمارے کشمیری بہن بھائی ہندوستان کے چنگل سے نکل کر آزادی کا سورج دیکھیں اور ان کی آنے والے نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں۔

    @SeharSulehri

  • مقبوضہ کشمیر تحریر عتیق الرحمن

    مقبوضہ کشمیر تحریر عتیق الرحمن

    تقسیم کے وقت کی حکمت عملی نومبر 1947 میں ، مہاراجہ کی ریاست کے زیر اہتمام ڈوگرہ نیم فوجیوں اور آر ایس ایس سے متاثر ہجوموں نے جموں میں تقریبا 300،000 کشمیری مسلمانوں کو برباد کردیا۔ اس نسل کشی کے قتل عام کی وجہ سے جموں میں تقریبا ایک ملین جموں کے مسلمانوں کی نقل مکانی اور جبری نقل مکانی ہوئی۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جموں کے ڈیمو گرافک میک اپ کو جان بوجھ کر تبدیل کرنے کے لیے ریاست کے زیر اہتمام قتل عام تھا ، ایک ایسا علاقہ جہاں مسلمانوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کل آبادی کے 60 فیصد سے زیادہ تھی ، اور اسی وجہ سے اکثریت قتل عام اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے اور ڈیمو گرافکس آج تک مصنوعی طور پر بدلے ہوئے ہیں۔ آج ، مقبوضہ کشمیر میں بہت سے لوگ اس سانحے کے دوبارہ ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ ڈیموگرافک تبدیلی کے علاوہ ، ہندوستانی حکومت نے اردو زبان کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے – جو کہ علاقے میں گزشتہ 131 سالوں سے سرکاری زبان ہے۔ عوامی جگہوں کے مسلم نام بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں جبکہ اس سال 5 اگست کو مصنوعی طور پر کم کرنے کی کوشش کو دو سال ہو جائیں گے کیونکہ بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے چھین لیا ہے۔ یہ دو سال ایک تلخ یاد دہانی رہے ہیں کہ ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کا غیر معمولی وحشیانہ فوجی قبضہ باقی ہے۔ یہ ایک تاریخی ورثہ بھی ہے ، بلکہ علاقائی امن اور عالمی نظم و ضبط کے لیے بھی خطرہ ہے جو کہ انتخاب اور آزادی کے بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہے۔ بھارت ، بی جے پی کے ماتحت ، تیزی سے نظر ثانی اور بالادستی اختیار کرتا جا رہا ہے ، طاقت کے استعمال اور فوجی مہم جوئی کے ذریعے کشمیر کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انسانی ہمدردی سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ یاد دہانی کہ آزادی کا بہادر جذبہ ، جو کشمیری عوام میں ان کے آباؤ اجداد نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف ان کی مہاکاوی جدوجہد کے ذریعے ابھارا تھا ، اب بھی باقی ہے۔ سات دہائیوں کے قبضے اور حق خودارادیت سے انکار کے باوجود کشمیری اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کے لیے مسلسل مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کے ظالمانہ جبر اور مظالم نے ان کے عزم کو متاثر نہیں کیا۔ پاکستان اور اس کے عوام اپنے دلوں اور ذہنوں میں ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہیں۔ ہم ہمیشہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اصولوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کھڑے ہیں۔ جبری حد بندی اور عالمی سیاست کے بہاؤ کے ذریعے مسلمانوں کی غیر جانبدارانہ نمائندگی کے باوجود ، پاکستان نے آئی آئی او جے کے میں ہمیشہ اس مقصد کے لیے پرعزم رہا ہے ، اور جاری رکھے گا ، بھارت نے پرامن پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے ، جیسا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے زیر اہتمام دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف غلط معلومات کے ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ EŬ DisinfoLab نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے جعلی NGOS اور جعلی نیوز ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے نظام اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی ہیرا پھیری اور شرارتی کوششوں کا انکشاف کیا ہے۔ حال ہی میں ، ایک اعلی ہندوستانی عہدیدار نے ایف اے ٹی ایف پر سیاست کھیلنے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب پاکستان اور خطے کے لیے اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا موجودہ ہندوستانی حکومت ایک عقلی اداکار ہے یا نظریاتی طور پر حوصلہ افزائی والی حکومت جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟ کشمیر میں جدوجہد مقامی ہے اور اسے ہمیشہ بھارتی کے خلاف عوامی حمایت حاصل رہی ہے یہاں تک کہ کشمیریوں کو یہ حق خود ارادیت دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی آزادی ہے۔ حکومت کشمیر کاز کو اجاگر کرنے اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہے ، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث ہے۔ دنیا بھر میں کئی رہنما اور کشمیریوں کی منفرد شناخت کو کم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ اگرچہ پاکستان نے کبھی بھی ہندوستانی آئین کے کسی بھی آرٹیکل کو آئی آئی او جے کے پر لاگو کرنے کو تسلیم نہیں کیا ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے نتیجے میں حالات میں مادی تبدیلی آئی ہے۔ کشمیریوں نے ہمیشہ ناانصافی اور ریاستی بربریت کے مقابلہ میں بہادری ، لچک اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ بھارتی قبضے کی مزاحمت کریں گے جب تک کہ وہ اپنے سیاسی حقوق حاصل نہ کر لیں ، جس کی انہیں بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ضمانت دے۔ پاکستان عالمی سطح پر دنیا کو بیدار کرتا رہے گا۔ بین الاقوامی صحافیوں نے پہلی بار بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پکارا ہے۔ وزیر اعظم ، ان کی کابینہ اور ہماری پارلیمنٹ نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر کے میں سفاکانہ بھارتی اقدامات کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زمینی صورتحال اور قابض بھارتی افواج کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری تشخص کو مٹانے کا منصوبہ جاری ہے۔ اس میں ایک صدی پرانے ڈومیسائل قانون میں ارباب تبدیلی کے ذریعے جبری آبادیاتی تبدیلی شامل ہے۔ کشمیری لیڈر کمزور صحت میں ہیں اور ان کے اہل خانہ مقامی آبادی میں قابض کی سرگرمیوں اور ارادوں کے خلاف خوف محسوس کرتے ہیں۔ کشمیری اپنے قابضین کے آبادیاتی ڈیزائن کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ بھارت نے سب سے پہلے اس مقصد اور بین الاقوامی قراردادوں کو استعمال کیا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کشمیریوں کی طرف سے ان سخت کارروائیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمت کو کنٹرول کیا جائے ، بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی کسی جیل کی طرح تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہر آٹھ کشمیریوں کے لیے ایک بھارتی فوجی ہے۔ ہزاروں سیاسی رہنما ، اساتذہ ، کارکنان ، صحافی اور طلباء ڈراکوین قوانین کے تحت بھارت بھر کی جیلوں میں قید ہیں اور الزامات کو ختم کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی حالت زار کے لیے دنیا کی اقوام سے گزارش کرتا ہوں اور انہیں یاد دلاتا ہوں کہ وہ کشمیریوں اور انسانیت کے اصولوں کے مقروض ہیں تاکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں جیسا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں درج ہے۔ کشمیر عالمی ضمیر پر ایک ادھورا وعدہ ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر کے لوگ بھارتی قبضے کی زردی سے آزاد ہوں گے انشاء اللہ۔

    @AtiqPTI_1

  • وزیراعظم آذاد کشمیر کی مقبولیت میں کیسے اضافہ ہوا  تحریر: فرزانہ شریف

    وزیراعظم آذاد کشمیر کی مقبولیت میں کیسے اضافہ ہوا تحریر: فرزانہ شریف

    یہ سچ ہے کہ کافی سے زیادہ لوگوں نے سردار عبدالقیوم کا نام بھی پہلی دفعہ سنا ۔۔اور لوگوں کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں لفافوں کو جلن سے برا حال رہا ان کا بس نہیں چل رہا تھا سردار عبدالقیوم کی جگہ خود وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیں۔۔اور انصافین بے بسی سے عبدلقیوم کا دفاع کرتے رہے صرف اس وجہ سے کہ ان کا انتخاب ہمارے لیڈر عمران خان نے کیا تھاعوام بھروسہ رکھے اپنے رب پر اور اس مرد قلندر پر جس کے ہاتھ میں اللہ نےاس ملک کی باگ دوڑ تھمائی ہوئی ہے جو لوگ سمجھ رہے ہیں یہ بزدار پارٹ ٹو ہے جیسے بزدار نے اپنی اچھی کارکردگی سے مخالفین کے منہ بند کردیے ان شاءاللہ سردار عبدالقیوم بھی کشمیر کے لوگوں کے مسائل حل کرکے کشمیری عوام کی آنکھوں کا تارا بن جائیں گےکیونکہ خان صاحب میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں ۔۔اچھا بتاتی چلوں کہ
    سردار عبدلقیوم خان نیازی پی ٹی آئی میں کب اور کیسے مقبول ہوۓ
    سردار عبدلقیوم خان نیازی بیرسٹر سلطان محمود اور سردار امتیاز خان کی ذاتی کوششوں اور ذاتی خواہش پر پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں شامل ہوۓ تھے
    مسلم کانفرنس کے مرحوم قائد سردار عبدلقیوم خان کی سر پرستی میں سیاسی تربیت حاصل کی ۔
    نیازی صاحب کی پی ٹی آئی میں سخت مخالفت تھی ۔انکو شکست دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی
    ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نیازی صاحب کا ٹکٹ بھی خطرے میں چلا گیا ۔۔اور پی ٹی آئی کے ایک دھڑے کی طرف سے نیازی صاحب کی دوبارہ مسلم کانفرنس میں شمولیت کی خبریں ہیڈ لائن بن چکی تھی ۔
    نیازی صاحب جب سے پی ٹی آئی میں بیرسٹر سلطان کی قیادت میں شامل ہوۓ ان کو پہلے سے موجود پی ٹی آئی راهنما سردار مرتضی علی خان نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مرتضی علی خان بیرسٹر سلطان محمود کو خیر باد بول کر تنویر الیاس صاحب کی کشتی میں سفر کرنا شروع ہو گئے ۔
    سردار عبدل قیوم خان نیازی کی مقبولیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب نیازی صاحب نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا سب سے بڑا جلسہ ڈیويزن پونچھ کی قيادت کے ہمراہ راولاکوٹ کے مقام پر کروایا ۔
    اس جلسے کو ركوانے کے لیے بڑی سے بڑی آفر بھی نیازی صاحب کو اپنے قدموں سے لڑکھڑا نہ سکی اور آج پاکستان آزادکشمیر بلکہ پورے پاکستان کی نیوز چینلز کی ہیڈ لائن پر ان کا ذکر چلتا رہا
    بےشک اللہ جیسے چاہے عزت دے
    ۔

    Farzana99587398@

  • کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ارض زمین میں جنت کا ٹکڑا اُتر آیا ہو ۔ اللہﷻ کی بیش بہا خوبصورتیوں کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادیِ کشمیر جس کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور جنت میں پہچنے کا احساس محسوس کرنے کی آرزو شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو دل میں نہ رکھتا ہو۔ مگر قدرت کی بیش بہا خوبصورت وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو نازی عقوبت خانہ بنے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں۔

    8 لاکھ کشمیری باشندے ایک بہت بڑی جیل میں قید ہیں جس میں نہ کشمیری بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی مریض اور بزرگ اپنی طبی معائنے کے لیے ہسپتال کا رخ کرسکتے ہیں، نہ ہی کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو اپنے اوپر ڈھائے جانے والے بھارت کےمظالم کی
    داستان سنانے کے لیے انٹرنیٹ میسر ہے۔ کورونا واٸرس کو جواز بناتے ہوئے بچی کھچی رعایتوں کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔۔اور کشمیر بھارتی فوجوں کے شکنجہ میں گھراہوا ہے۔

    وہ کون سا ظلم وستم ہے جو اہل کشمیر پر نہیں کیا جاتا ستر برس سے زاٸد کا عرصہ گزر چکا ہے اس بات کو سنتے سنتے کہ اہل کشمیر کا مسئلہ ابھی اقوام متحدہ میں حل طلب ہے مگر آئے روز یہ خبریں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بھارتی کی فوج نے وادی کشمیر کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے وادی کشمیر میں ہہیمانہ تشدد اور بے قصور کشميریوں کا خون سر عام بہانا ، بچوں کو بوڑھوں کو پلیٹ گنز کے ساتھ اذیت دینے کے بعد شہید کردیا جاتا اور یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرنا بھی بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وادی کشمیر میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ آج تک کشمیر کی بے گناہ عوام برداشت کر رہے ہیں ہر دن کئی کئی گھرانے اُجاڑ دینا اور یہ ہی نہیں بلکہ ایسی روح کانپ جانے والی سزاوں سے کشمیریوں بہن بھاٸیوں کے دن کا شروعات ہوتی ہے کہ رات تک کئی کشمیری بچے یتیم ،کئی کشمیری عورتیں بیوہ اور کئی گھرانے بے آسرا ہوجاتے ہیں اور پھر اس طرح ظلم و ستم کی حالت میں غم سے نڈھال ،چور چور یہ کشمیری جلد ہی موت کو گلے لگا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔

    حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری بہن اور بھاٸیوں کو جیلوں قید کیا گیا ہے جہاں انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے

    قارٸین! پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ ۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارد ادیں اہل کشمیر سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ اہل کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔

    موت کے سائے میں زندگی گزارنے والے کشمیری آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے ان شاء اللہ۔

    میری اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ آپ نے اہل کشمیر سے حق خود ارادیت کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جاٸیگا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی شخص چین سے نہیں بیٹھے گا

    اللہ پاک اہل کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو تباہ برباد کر دے، آمین.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • 5 اگست یوم استحصال کشمیر   تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست یوم استحصال کشمیر تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا اور کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا دور شروع کیا۔ آئین ہند میں کشمیر پر دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے۔ آرٹیکل 370 جو مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا
    اور آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
    اسکے ختم ہونے کے بعد سے تب سے وہاں بدترین مظالم شروع ہو گئے۔ کشمیری عوام بیرونی دنیا سے کٹ گئے اور وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے منسوخ ہونے کے بعد سے صورتحال خراب ہو گئی ہے۔
    کشمیری عوام کے لیے صدیوں سے ہر لمحہ بھاری ہے۔
    ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور علاقے میں کسی احتجاج یا اجتماع کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہیں۔

    یہ عمل کیا ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے ، حوا زادیوں کی معصومیت کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے ، کشمیروں کو قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر آتش فشاں کی بارش کی جاتی ہے۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں جانداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے ہتھوڑے ہتھوڑوں سے توڑے جاتے ہیں ، ناخن نکالے جاتے ہیں ، اور ان کے سر اور داڑھی کے بال نوچ لیے جاتے ہیں۔

    آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

    جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان ، آج کشمیر کا ہر گھر محاز جنگ کی کیفیت میں، ہر گلی میدان جنگ ہے ۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں کے خون سے روشن ہو رہا ہے۔ کشمیری عوام بغیر کسی بیرونی مدد کے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اپنے ہی خون میں ڈوب رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ بھارتی قاتل طاقتیں کشمیر پر اپنے خونی پنجے بچھا رہی ہیں ، لیکن آزادی کشمیر کے ہر سانس سے "کشمیر بنے گا پاکستان” کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟
    ایک پرندہ بھی پنجرے سے آزادی چاہتا ہے تو پھر ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو آزادی کیوں نہیں؟
    تقسیم ہند کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور آج تک وہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔

    1948 کی جنگ آزادی میں جب ہندو سامراج نے کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔ 1948 اور پھر 1949 کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری عوام سے آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارت کتنا بھی تندہی سے کام کرے ، وہ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو نے خود اپنی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ "اگر کشمیری آزادانہ حق رائے دہی کے معاملے میں ہمارے خلاف فیصلہ کریں گے تو ہم اسے قبول کریں گے۔” لیکن وہ دن اور آج ہندوستان ہے بے شرمی سے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی ریاست اور یہاں کا ہر شہری کشمیری عوام کے درد کو سمجھتا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر کو ہر محاذ اور ہر سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل اپنے دورہ امریکہ کے دوران ، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کا موقف صدر ٹرمپ کو بغیر کسی غیر یقینی شرائط کے پہنچایا۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ہمارے وزیر خارجہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات بھی کر رہے ہیں ، جو مختلف معاملات میں مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔ پچاس سال بعد ، اگست 2019 میں ، پاکستان کی درخواست پر ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ نومبر 2019 میں جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم ممالک بشمول یورپ اور امریکہ نے کم از کم مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں۔

    ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الٰہی کا طواف کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا ہے ، لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ آزادی کے طلوع ہونے کا پہلا پیش خیمہ ہے۔
    Twitter Handle
    ‎@Patriot_Mani

  • کشمیر میں تبدیلی آگئ   تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی آگئ تحریر چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات کے بعد منگل کو نئے منتخب ایم ایل اے نے حلفہ اٹھایا اور منگل کو ہی کشمیر اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی الیکشن کا انعقاد ہوا اور پاکستان تحریک انصاف نے جیسا کے سب کو پہلےتھا کیونکہ اسمبلی میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی تھی تو پاکستان تحریک انصاف نے اپنا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر آرام سے منتخب کرا لیا آج بروز منگل چار اگست کو بڑا اہم مرحلہ تھا لیڈر آف ہاؤس یعنی وزیز اعظم کا چناؤ ہونا تھا سب کی نظریں وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین جناب عمران خان کی طرف لگی ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتہ سے ہمارے ٹی وی چینلز پر مختلف ناموں کا زکر ہو رہا تھا مختلف ایم ایل اے کا انٹرویو ہوا اس کا زکر بڑے شور سے ہو رہا تھا کوئی بیریسٹر سلطان اور کوئی تنویر الیاس کے بارے میں کہہ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ سب ایک خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہہ جناب عمران خان صاحب کوئی نیا چہرہ یکدم سامنے نہ لی آئیں اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا تمام وزیز اعظم کی دوڑ میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہہ اچانک بریکنگ نیوز چلی کہہ سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کو جناب عمران خان صاحب نے کشمیر میں وزیز اعظم کے نام پر مہر ثبت کر دی۔ اگر صیح معنوں میں دیکھا جاۓ تو یہ اختیار پارٹی قیادت کے پاس ہی ہوتا ہے سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق ضلع پونچھ حلقہ عباسپور ایل۔اے 18پونچھ ون کے گاؤں درہ شیر خان سے ہے ۔ سردار عبدالقیوم نیازی 1969 میں عباسپور کے گاؤں درہ شیر خان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق مغل خاندان سے ہے سردار عبدالقیوم خان "نیازی "تخلص لکھتے ہیں ‏سردار عبدالقیوم خان نیازی نے22 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جو جیت گئے ۔2006 میں ممبر اسمبلی کے لئے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور امیدوار اسمبلی نامزد ہوئے ، 2006 سے 2011 تک وزیر خوراک سمیت دیگر وزارتوں پر بطور وزیر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 2018 میں مسلم کانفرنس کی رکنیت کو خیر آباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور عام انتحابات 2021 پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تقریباً دس ہزار کی لیڈ سے جیت ان کا مقدر بنی اور آج وہ کشمیر کے 13وزیز اعظم منتخب ہوگے ہماری تمام نیک خواہشات سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کے ساتھ ہیں اپوزیشن اس پر کیا کہہ رہی اس پر پھر بات ہوگی ان شاءاللہ

    اللہ پاک سردار عبدالقیوم نیازی کو کشمیری عوام کی بھر پور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt