Baaghi TV

Category: کشمیر

  • 5 اگست یوم استحصال کشمیر   تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست یوم استحصال کشمیر تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا اور کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا دور شروع کیا۔ آئین ہند میں کشمیر پر دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے۔ آرٹیکل 370 جو مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا
    اور آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
    اسکے ختم ہونے کے بعد سے تب سے وہاں بدترین مظالم شروع ہو گئے۔ کشمیری عوام بیرونی دنیا سے کٹ گئے اور وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے منسوخ ہونے کے بعد سے صورتحال خراب ہو گئی ہے۔
    کشمیری عوام کے لیے صدیوں سے ہر لمحہ بھاری ہے۔
    ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور علاقے میں کسی احتجاج یا اجتماع کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہیں۔

    یہ عمل کیا ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے ، حوا زادیوں کی معصومیت کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے ، کشمیروں کو قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر آتش فشاں کی بارش کی جاتی ہے۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں جانداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے ہتھوڑے ہتھوڑوں سے توڑے جاتے ہیں ، ناخن نکالے جاتے ہیں ، اور ان کے سر اور داڑھی کے بال نوچ لیے جاتے ہیں۔

    آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

    جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان ، آج کشمیر کا ہر گھر محاز جنگ کی کیفیت میں، ہر گلی میدان جنگ ہے ۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں کے خون سے روشن ہو رہا ہے۔ کشمیری عوام بغیر کسی بیرونی مدد کے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اپنے ہی خون میں ڈوب رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ بھارتی قاتل طاقتیں کشمیر پر اپنے خونی پنجے بچھا رہی ہیں ، لیکن آزادی کشمیر کے ہر سانس سے "کشمیر بنے گا پاکستان” کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟
    ایک پرندہ بھی پنجرے سے آزادی چاہتا ہے تو پھر ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو آزادی کیوں نہیں؟
    تقسیم ہند کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور آج تک وہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔

    1948 کی جنگ آزادی میں جب ہندو سامراج نے کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔ 1948 اور پھر 1949 کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری عوام سے آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارت کتنا بھی تندہی سے کام کرے ، وہ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو نے خود اپنی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ "اگر کشمیری آزادانہ حق رائے دہی کے معاملے میں ہمارے خلاف فیصلہ کریں گے تو ہم اسے قبول کریں گے۔” لیکن وہ دن اور آج ہندوستان ہے بے شرمی سے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی ریاست اور یہاں کا ہر شہری کشمیری عوام کے درد کو سمجھتا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر کو ہر محاذ اور ہر سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل اپنے دورہ امریکہ کے دوران ، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کا موقف صدر ٹرمپ کو بغیر کسی غیر یقینی شرائط کے پہنچایا۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ہمارے وزیر خارجہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات بھی کر رہے ہیں ، جو مختلف معاملات میں مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔ پچاس سال بعد ، اگست 2019 میں ، پاکستان کی درخواست پر ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ نومبر 2019 میں جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم ممالک بشمول یورپ اور امریکہ نے کم از کم مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں۔

    ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الٰہی کا طواف کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا ہے ، لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ آزادی کے طلوع ہونے کا پہلا پیش خیمہ ہے۔
    Twitter Handle
    ‎@Patriot_Mani

  • کشمیر میں تبدیلی آگئ   تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی آگئ تحریر چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات کے بعد منگل کو نئے منتخب ایم ایل اے نے حلفہ اٹھایا اور منگل کو ہی کشمیر اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی الیکشن کا انعقاد ہوا اور پاکستان تحریک انصاف نے جیسا کے سب کو پہلےتھا کیونکہ اسمبلی میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی تھی تو پاکستان تحریک انصاف نے اپنا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر آرام سے منتخب کرا لیا آج بروز منگل چار اگست کو بڑا اہم مرحلہ تھا لیڈر آف ہاؤس یعنی وزیز اعظم کا چناؤ ہونا تھا سب کی نظریں وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین جناب عمران خان کی طرف لگی ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتہ سے ہمارے ٹی وی چینلز پر مختلف ناموں کا زکر ہو رہا تھا مختلف ایم ایل اے کا انٹرویو ہوا اس کا زکر بڑے شور سے ہو رہا تھا کوئی بیریسٹر سلطان اور کوئی تنویر الیاس کے بارے میں کہہ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ سب ایک خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہہ جناب عمران خان صاحب کوئی نیا چہرہ یکدم سامنے نہ لی آئیں اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا تمام وزیز اعظم کی دوڑ میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہہ اچانک بریکنگ نیوز چلی کہہ سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کو جناب عمران خان صاحب نے کشمیر میں وزیز اعظم کے نام پر مہر ثبت کر دی۔ اگر صیح معنوں میں دیکھا جاۓ تو یہ اختیار پارٹی قیادت کے پاس ہی ہوتا ہے سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق ضلع پونچھ حلقہ عباسپور ایل۔اے 18پونچھ ون کے گاؤں درہ شیر خان سے ہے ۔ سردار عبدالقیوم نیازی 1969 میں عباسپور کے گاؤں درہ شیر خان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق مغل خاندان سے ہے سردار عبدالقیوم خان "نیازی "تخلص لکھتے ہیں ‏سردار عبدالقیوم خان نیازی نے22 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جو جیت گئے ۔2006 میں ممبر اسمبلی کے لئے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور امیدوار اسمبلی نامزد ہوئے ، 2006 سے 2011 تک وزیر خوراک سمیت دیگر وزارتوں پر بطور وزیر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 2018 میں مسلم کانفرنس کی رکنیت کو خیر آباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور عام انتحابات 2021 پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تقریباً دس ہزار کی لیڈ سے جیت ان کا مقدر بنی اور آج وہ کشمیر کے 13وزیز اعظم منتخب ہوگے ہماری تمام نیک خواہشات سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کے ساتھ ہیں اپوزیشن اس پر کیا کہہ رہی اس پر پھر بات ہوگی ان شاءاللہ

    اللہ پاک سردار عبدالقیوم نیازی کو کشمیری عوام کی بھر پور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے     وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر

    آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    باغی ٹی وی : مظفرآباد میں میڈیا سے یوم استحصال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم وستم کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے وزیراعظم عمران خان پوری امت مسلمہ کی نمائندگی کررہا ہے۔ کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کا رہنے والا ہوں اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران…

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ وادی چنار کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہونے پر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں وفاقی ادارے کی جانب سے پاکستانی جھنڈوں کی بےحرمتی

    یوم استحصال کشمیر پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور سڑکوں پر ٹریفک رک گئی۔ ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن چینلز پر ایک منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اسلام آباد میں واک کی قیادت کی ریلی میں وزیر داخلہ شیخ رشید بے بھی شرکت کی واک کے شرکا نے سیاہ پٹیاں باندھی تھیں اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے تھے۔

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم…

    علاوہ ازیں وزیر خارجہ دفتر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر قیادت ریلی نکالی گئی جس میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی شرکت کی –

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

  • مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں      آرمی چیف

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں-

    باغی ٹی وی : ڈی جی آئی ایس پی آر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یوم استحصال کے حوالے سے سلسلہ وار ٹوئٹس کی گئیں ٹوئٹر پیغام میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیرانسانی فوجی محاصرہ جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلی کی جا رہی ہے۔


    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال نے علاقائی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔


    آرمی چیف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی جبر جاری ہے کشمیر کے تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

  • تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے      عارف علوی

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں آج کے روز تبدیلی کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈوگرا راج کی زیادتی آج تک جاری رکھی لیکن کشمیر کی آزادی تک پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا وزیر اعظم عمران خان نے دنیا بھر میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی انسانی زندگیوں میں فرق ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں ہر شخص آزاد ہے اور میڈیا بھی آزاد ی سے کام کر رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی عوام پر مظالم جاری ہیں اور ہزاروں کشمیری شہید کیے گئے کشمیریوں کے منہ پیلٹ گن سے چھلنی کیے گئے۔

    کشمیر میں ہزراوں بہنیں بیٹیاں مائیں بیوہ ہوئیں ہیں اور یہ زیادتی آج بھی جاری ہے ہے اقوام متحدہ نے میری کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے وعدہ کیا تھا حق رائے دہی کا حق ہے آپ کے پاس وہ استعمال ہو گا مگر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا خاموش ہونے لگی مگر میرا کشمیر خاموش نہیں ہو سکتا-

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ آزادای کا سپاہی بن جاتا ہے پیدا ہوتے ہی ظلم کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے آزادی کی بات کرتا ہے یندوستانی کتنی تعداد میں وہاں ہیں وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ ظلم و ستم اور زیادتی کی وجہ سے وہاں ہیں اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ وہ وہاں ہو-

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی طرف جو آزاد کشمیر کا حصہ ہیں وہ پر امن آپ نے ہمیشہ دیکھا میڈیا آزاد ہے وہاں جانے کے لئے لوگ آزادی سے رہتے ہیں وہاں پر لیکن مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے بہانے بہانے سے کرفیو لگتا ہے مقبوضہ کشمیر میں لیکن کشمیری آزادی کی آواز اور آزادی کا جھنڈا پھر بھی اٹھاتے ہیں-

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری اکثریت ختم کرنا چاہتا ہے اور 40 ہزار بیرونی افراد کو ڈومیسائل جاری کر دیئے ہیں۔ بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے اور بھارت سے 5 اگست کے اقدامات واپس لینے تک مذاکرات نہیں ہوں گے شہدائے کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

  • یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال  تحریر:  عمر ہمدانی

    یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال تحریر: عمر ہمدانی

    آج وادی کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 732 دن یعنی دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں،آج پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے مکار مودی گورنمنٹ نے کشمیریوں کو ایک زندہ لاش کی مانند سمجھ رکھا ہے، مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیاآخر کیوں؟کس بنیاد پر مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیا کیا کسی قوم سے اس کے حق چھین لینا ان کو قیدو بند کر دینا اتنا آسان کام ہے؟ہم کب تک خاموش ہاتھ پہ ہاتھ دھرے آنکھوں پر پٹیاں باندھے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے غیرت مند اور بہادر کشمیری قوم نے اپنے حق خودرادیت کیلئے کیا کچھ نہیں کیا؟ لاکھوں ماؤں نے اپنے لال اس آزادی کی تحریک پر قربان کر دیئے،بچوں نے اپنی آنکھوں کی بینائی تک کھو دی،کئی بیویوں نے اپنے سرتاج اس تحریک پر قربان کر دیئے اور آج بھی غیور کشمیری قوم بھارت کے ظلم و بربریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی پر انسانیت کانپ اٹھی لیکن سلام کشمیر کے ان نوجوانوں پر جنہوں نے پیلٹ گنز اور بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ پتھروں سے کیا تاجروں نے اپنی تجارت اس تحریک آزادی پر قربان کر دی،طالب علموں نے اپنی ڈگریاں اس تحریک آزادی پر قربان کر دی اور سلام کشمیر کی ان ماؤں بہنوں پر جنہوں نے حجاب میں رہ کر بھارت کے ظلم و بربریت کا مقابلہ پتھروں سے کیامسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا پاکستان بھی تسلسل سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا آرہا ہے سال 2019 میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھامودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر کے ان کی خصوصی حیثیت کو ختم کیابھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کشمیر میں بسانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا جس پر پوری دنیا سے کشمیریوں کے حق خودرادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں،بھارت کے ان ناپاک عزائم سے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت میں اضافہ ہواہے میری گزارش ہے گورنمنٹ آف پاکستان سے کہ یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں اور اس دن کو قومی سطح پر یوم استحصال کشمیر کے طوپر منایا جائے، سرکاری و نجی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے عوام گھروں سے باہر نکلیں اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں نوجوانان پاکستان اس تحریک کا حصہ بنیں سوشل میڈیا صارفین بھی بھارت کے وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے     فواد چوہدری

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کی پانچویں بڑی طاقت ہیں اور ہم نے کشمیر کے لیے 4 جنگیں لڑی ہیں مقبوضہ کشمیر کے لیے ہر وقت جنگ کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی ملک نے کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ مودی آر ایس ایس کی سوچ کے مطابق چل رہے ہیں۔ آج سلامتی کونسل، یورپی یونین اور برطانوی پارلیمان میں کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے اجاگر کیا کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے پاکستان کےعوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

  • بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے       وزیراعظم عمران خان

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال ہو چکے ہیں بھارت کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوم استحصال پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نےغیرقانونی تسلط برقراررکھنے کے لیے فوجی محاصرہ کیا اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر پابندیاں بھی عائد کردیں لیکن وہ کشمیریوں کے پختہ ارادوں کو متزلزل نہیں کرسکا۔

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

    عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کومسلسل انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے بھارتی اقدامات کویکسرمسترد کیا ہے عالمی فورمزپربھارتی اقدامات پرکڑی تنقید کی گئی ہے پاکستان کشمیریوں کی قربانیوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پرعزم جدوجہد کررہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا کہ کشمیرکاز سے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں۔

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

  • مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم  استحصال منا رہی ہے

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    اسلام آباد: مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت کے غیر قانونی قبضے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ وادی چنار کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں بھارت کی مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور کشمیری عوام کے خلاف بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کی مذمت کے لیے متعدد تقاریب منعقد کی جائیں گی۔

    باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں یکجہتی واکس کا انعقاد کیا جائے گا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اسلام آباد میں واک کی قیادت کریں گے واک کے شرکا سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائیں گے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ایک منٹ کی خاموشی کے دوران ٹریفک رک جائے گا اور سائرن بھی بجائے جائیں گے اور ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن چینلز ایک منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے بجائیں گے۔

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

    رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں کی مرکزی شاہراہوں پر پوسٹرز اور بل بورڈز آویزاں کئے گئے ہیں جن پر کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کیا گیا ہے اور مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے مظالم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یو م استحصا ل پر اپنے پیغام میں صدر مملکت کا کہنا ہے کہ ہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔

    وزیر اعظم کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو جبری حراست اور انسانی حقوق کی دیگر بدترین پامالیوں کا سامنا ہے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کا محاسبہ کریں۔

    جب تک کوئی قانون نہیں ہوگا، خواتین زیادتی کا شکار رہیں گی، ماہرہ خان

  • بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے        صدر مملکت ، وزیراعظم

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

    صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے-

    باغی ٹی وی : یوم استحصال پروزیراعظم عمران خان نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو جبری حراست اور انسانی حقوق کی دیگر بدترین پامالیوں کا سامنا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کا محاسبہ کریں۔

    کشمیرپرOICنےاصولی موقف اپنایا،خیرمقدم کرتےہیں: پاکستان

    ادھرعارف علوی نے پیغام میں کہا کہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔

    اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بیان میں کہا تھا کہ سیکرٹری جنرل کا مقبوضہ کشمیر سے ‏متعلق بیان اوآئی سی کے اصولی مؤقف کی تجدید ہے اوآئی سی او نے پھربھارتی غیرقانونی اقدامات پر اصولی مؤقف اپنایا بیان ‏کشمیری عوام کی جدوجہدپراوآئی سی کی حمایت کااعادہ ہے۔

    بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے…

    انہوں نے کہا تھا کہ کشمیرکاز پر اوآئی سی کی مسلسل حمایت کو سراہتےہیں اوآئی سی کشمیرکاز پر ‏مختلف پلیٹ فارمز پر حمایت کااعادہ کررہی ہے اور اس موضوع پر متعدد قراردادیں منظور کی ہیں ‏تازہ ترین قراردادنومبر2020میں نیامے میں منظور کی گئی۔

    زاہدحفیظ کا کہنا تھا کہ اوآئی سی اقوام متحدہ کےبعددوسری بڑی تنظیم ہے جس کے4براعظموں ‏سے 57 رکن ممالک اور 5 مبصر ریاستیں رکن ہیں اسلامی سربراہ تنظیم مسلم امہ کی مشترکہ آواز ‏ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس میں اب پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ فیشن اور ثقافت کی تقریبات ہوں گی