Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا    مشعال ملک

    ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    جموں و کشمیر کی رہنما مشعال ملک کا کہنا ہے کہ ہرشل گبز کے کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں نے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام منانا بنا جاتا ہے کیونکہ کشمیر پریمیئر لیگ کے ساتھ لفظ کشمیر جڑا ہے بھارت لفظ کشمیر کو دنیا کو مٹانا چاہتا ہے-

    مشعال ملک کاکہنا ہے کہ بھارتی انتہا پسند حکومت کھیل سے بھی خوفزدہ ہے عالمی پلئیرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں بھرپور رول ادا کرنا چاہیےآئی سی سی کو بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ  کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    کولمبو:کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، بھارتی دھمکیوں کے باوجود سری لنکن آل راؤنڈر تلکا رتنے دلشان نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کردیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • آزاد کشمیر کی صحافت  تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی صحافت تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    میری اپنی سمجھ کے مطابق صحافت قوموں کی آزادی و خودمختاری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور آزادی کے خیالات کو پھیلانے اور ان کی نشونما کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مجھے اس کی تازہ ترین مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے کردار سے دی جاسکتی ہے کے وہاں سے صحافیوں نے اندرونی اور عالمی سطح پر اس تحریک کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر وہاں سے جو ایک اخبار کا غالبًا سیری نگر فلیش نکلتا ہے بقول ایک انگریز "ٹورسٹ” اس کو نکالنے والے کشمیری صحافی جن خطرناک حالات میں اسے نکالتے ہیں اس سے ان کی اپنی پیشہ اور قوم کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کا پتا چلتا ہے یوں دیکھا جائے تو باقی مقبوضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کی قوتیں اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ وہاں سے موجود مسلح تحریک کے شروع ہونے سے پہلے 22 روزنامہ اور بیسیوں ہفت روزے اور ماہنامے نکلتے تھے لیکن آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کی قوتوں نے اپنا کردار اس بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے کہ یہاں صحافت بیچاری کا جنم ہی نہیں ہوسکا بالکل معیست کی طرح خدا خدا کرکے ایک روزنامہ آزادی نکلا تھا سنا ہے کے وہ بھی نہ نکلنے کا پابند ہوگیا ہے۔جس طرح باقی میدانوں میں آزاد کشمیر پاکستان کے سرمایا کاروں کی منڈی ہے اس طرح صحافت کی منڈی پر بھی پاکستان کے سرمایہ کاروں کی آجارہ داری ہیں اور آزاد کشمیر کا کوئی اخبار "جنگ” اور "نوائے وقت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ دونوں اخبار الحاق کی تحریک کو پاکستان کے حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی آج تک اس میں کامیاب رہی ہیں کے یہاں سے کوئی اخبار نہ نکلے جس کی وجہ سے اس خطے میں افراد میں صحافتی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں وہ پاکستان کے ان اخباروں کے علاقائ رپورٹروں اور تقسیم کاروں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یوں کشمیر کے اس خطے کے اخبار بینوں کا سیاسی اور سماجی شعور براہ راست پاکستانی اخبارات اور ان کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہتا ہے اور ان کے مفادات کے مطابق "پروان "چڑھتا ہے۔
    نام : ذیشان وحید بھٹی
    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43

  • کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں،ہرشل گبز کشمیر پریمیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں پر پھٹ پڑے –

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سائوتھ افریقن کرکٹر ہرشل گبز نے اپنے ٹوئٹ میں بھارتی سازشیں مضحکہ خیز قرار دے دیں انہوں نے کہا کہ بھارتی دبائو غیر ضروری ہے-

    ہرشل گبز نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے کرکٹر نے انکشاف کیا کہ بھارتی بورڈ نے دبائو ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی –

    ہرشل گبز نے بتایا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

  • آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    تعارف
    میرا نام سکندر ذوالقرنین ہے میرا تعلق ضلع سرگودھا پنجاب سے ہے میں اوورسیز پاکستانی بھی ہوں
    باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا اپنی رائے دینے کا
    تحریر!
    ‏25 July 2018 سے
    ‏25 July 2021 تک

    25 جولائی 2018 ایک امید کا دن تھا ایک 22 سالہ پارٹی کا تیس سالہ حکمران پارٹی سے مقابلہ تھا ایک طرف نظریہ تو دوسری طرف ووٹ کو عزت دو۔ ہوا یہ کہ نظریہ جیت گیا 2018 کے بعد تین سالوں میں بہت کچھ ہوا اور کچھ لوگ ہر روز رات کو حکومت کو گھر بھیج چکے ہوتے تھے کرو نا اور مہنگائی کے جھروکوں سے ہوتی ہوئی تین سال مکمل ہوئے اب معاشی حالات کافی بہتر ہورہے ہیں
    اور وزیراعظم خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہ آ سکا۔تین سال اپوزیشن اسی کا انتظار کرتی رہی ہیں کہ کوئی نہ کوئی کرپشن کا سکینڈل ضرور آئے گا
    25 جولائی 2021 کادن امتحان کا دن تھا ضمنی انتخابات نے حکومت کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی حکمران جماعت کو فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں کوئی ہوا ہی نہ چل پڑے اور کشمیر میں وہی ہوا جو روایت تھی اور عمران خان جیت گئے حکومت کو کافی حوصلہ ملا اور اپوزیشن کا وہی رونا شروع پریس کانفرنس اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے کشمیر میں حکمران جماعت کی حالت بہت ہی زیادہ پتلی رہی پیپلز پارٹی سے شکست کھائی حکمران جماعت یعنی نون لیگ کی مریم نواز نے کیمپین تو خوب کی لیکن ووٹ نہ لے سکی اب وہاں کسی لوکل لڑائی کو خوب مرچ مصالحے لگا کر حالات خراب ہونے کے دعوے کر رہی ہیں یہ تک احساس نہیں کہ اس وجہ سے ملک کی بدنامی ہوگی آزاد کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیری ابھی بھی غلامی میں ہی ہیں غلام تو آپ میاں نواز شریف کے بھی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے شاہد خاقان صاحب فرمایا رہے ہیں کہ الیکشن پر ریاست کا قضبہ ہے الیکشن وہی ہیں جو آپ جیت جاؤ اللہ صبر عطا کرے پیپلز پارٹی سے بھی مار کھائی اور اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کی ہے
    دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے
    تحریک انصاف میں علی امین صاحب اور مراد سعید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بھرپور کمپین کی اور الیکشن جیت لیا حالانکہ دوسری طرف پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت تھی پیپلزپارٹی کی جیت حیران کن تھی بلاول کو چھوڑ کر امریکہ بھی چلے گئے تھے پھر بھی گیارہ سیٹوں پر جیت جانا بہت اچھی کار کردگی ہے وہ خود بھی حیران ہوگئے

    انڈین اخبار میں آیا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا

    انڈیا سے مدد مانگنے والو ں کو سبق مل چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے اس کو تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی
    چاہیے
    تحریک انصاف کے 2 کارکن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت اور پاکستانی فوج کے 4 نوجوان
    شہید ہوئی اللہ پاک ان کی یہ قربانی قبول کرے اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے آمین
    عمران خان نے تقریروں میں بہت سارے وعدے کیے ہیں اب وہ وعدے پورے کرنے کا وقت آ چکا ہے اور امید ہے کہ ایک مضبوط وزیراعظم بنایا جائے گا جو کہ کرپشن سے پاک ہوگا
    وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت کریں اس کامیابی کو ثابت کریں کہ وہ لوگوں نے ان کو صحیح الیکٹرک کیا ہے اللہّ حکومت کو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے لیے آپ کچھ کرنے کی توفیق دے
    @sikander037 #sikander037

  • آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
    25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
    متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
    کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
    پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
    ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
    ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
    غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
    خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
    سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
    صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
    بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔

    ٹویٹر: @iHUSB

  • آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تاہم اب آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی ان پولنگ اسٹیشنز پر 25 جولائی کو ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوسکی تھی، جس کی وجہ سے اس حلقے کے نتائج روک لئے گئے تھے باغ میں دیگر 2 پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ پیپر جلانے کے بعد پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاروں پولنگ اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 2 ہزار 300 ووٹ رجسٹرڈ ہیں پی ٹی آئی کے امیدوار سردار میر اکبر اور پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے-

  • کشمیر- انسانی المیہ  تحریر: سید غازی علی زیدی

    کشمیر- انسانی المیہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    جلتی بستیاں
    خون کی ندیاں
    عصمت دریاں
    لاشوں کے انبار
    لہورنگ وادی چنار

    انسانیت کی پامالی کے تمام ریکارڈ توڑتی، جبر و استبداد کی المناک تاریخ!

    خون منجمند کرتی کہانیاں اور سفاکیت کا منظر پیش کرتے قصے، لیکن وائے افسوس یہ قصے کہانیاں جھوٹ نہیں بلکہ حرف بہ حرف، ورق بہ ورق سچائی کی وہ دلخراش داستانیں ہیں جن کی گونج برسوں سے کشمیر کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ظلم وستم کا عریاں رقص جو پوری شدومد اور تال میل کے ساتھ جاری وساری ہے۔ عصمت دری کا شکار عورتوں کے زندہ لاشے، سبز پرچم میں لپٹے کڑیل جوانوں کے جنازے، آزادی کی راہ تکتے موت کی دہلیز پر کھڑے بوڑھوں کے نوحے، غرض کشمیر ایک خطہ نہیں بلکہ چلتی پھرتی لاشوں کا مسکن ہے۔ خواتین ہو یا نوجوان، شیرخوار اطفال ہوں یا بزرگوار، کون ہے جو بھارتی فوج کے ظلم و بربریت سے محفوظ ہے؟
    سیکولرازم کا راگ الاپتے بھارتی انتہا پسندوں کا مکروہ چہرہ کشمیری مسلمانوں کی جرات کی بدولت تمام دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش میں بھارت نے وادی میں خون کی ندیاں بہا دی لیکن آج تک کشمیری عوام کے جذبہ جہاد کو دبانے کی کوششوں میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

    انگریز کی انصاف پسندی و امانتداری کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملانے والوں کیلئے مسئلہ کشمیر کا قضیہ بدعہدی اور بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم کے زریعے برطانوی راج نے شرپسندی کا جو بیج بویا تھا وہ اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کی جڑوں میں ہزاروں انسانوں کا خون شامل ہے۔ لہو سے سینچا گیا یہ خون آشام پیڑ کاٹنے کیلئے دو ایٹمی طاقتیں سات دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ لیکن بھارتی عہد شکنی اور ڈھٹائی کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔
    جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھارت کی نو لاکھ فوج کشمیریوں کے جدوجہد آزادی کے سامنے بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جھنجھلاہٹ کا شکار مودی سرکار کشمیری عوام کو حق خودارادیت کیا دیتی الٹا آرٹیکل 370 کو کالعدم کر کےان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ اٹوٹ انگ کا دعویٰ کرنے والوں نے کشمیر کا انگ انگ زخمی کردیا ہے۔ بیگناہ کشمیری عوام پر کیا گیا بھارت کا غاصبانہ قبضہ، بھارتی جمہوریت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے۔ بھارتی فوج کی چیرہ دستیاں خود بھارت کیلئے ناسور بن چکی ہیں۔ کشمیری مسلمان تمامتر بربریت کے باوجود، جذبہ شہادت سے سرشار، بھارتی تسلط کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ بھارتی جنگی جرائم کے باوجود اپنی آزادی کیلئے صف پیرا، سر بہ کف مجاہدین بغیر ہتھیاروں کے قابض فوج کیلئے دہشت کی علامت ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری پوری قوت سے بھارت پر زور ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرے۔ بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ تسلط نہ تو کسی کشمیری اور نہ ہی پاکستان کیلئے قابل قبول ہے۔ بھارتی فوج ظلم و ستم کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی کو روکنے میں ہمیشہ سے ناکام رہی جو کشمیریوں کی بھارت سے نفرت کا مظہر ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر میں عالمی امن فوج تعینات کی جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق استصواب رائے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

    چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو
    ہیں ان گنت شہادتیں، پکار ہے لہو لہو

    @once_says

  • کشمیر عمران خان کا مگر   تحریر:محمد شہباز سرکانی

    کشمیر عمران خان کا مگر تحریر:محمد شہباز سرکانی

    آذاد کشمیر میں حالیہ الیکشن ہوۓ جس میں پاکستان تحریک انصاف کا سادہ اکثریت سے 25 کے قریب سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگٸ ہے ۔ اب وفاقی کی ایک اور حکومت آذاد کشمیر میں بھی بن گٸ ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں فرق نظر آۓ گا یا ان کی طرح یہ بھی ویسے چلیں گے ۔
    وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں بہت سے وعدے تو کیے مگر یہ تو ویسے ہی ہے جس طرح عمومی الیکشن کمپین میں ہوتا ہے ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کو اور حکومتوں کے درمیان فرق تو دکھانا پڑے گا تاکہ ایک واضع صورتحال نظر آۓ اور عمران خان کا نعرہ کرپشن سے پاک اور ترقی پسند کشمیر کی تقدیر بدلے
    حالیہ الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جس سے ان کو عوامی مساٸل پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کرپٹ کہتی رہی ہے اب تو ان کی اپنی حکومت بنے گی اب یہ کرپشن سے پاک حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی معنوں میں مساٸل حل کرے تاکہ تھوڑے بہت عوام کے مساٸل حل ہوں ۔
    آذاد کشمیر میں عمران خان پہلی بار حکومت بنانے جارہے ہیں اور اس حکومت کو بہت سے مساٸل کا سامنا بھی ہوگا اور یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ کشمیر میں حکومت کو ایک چیز کا ہمیشہ سے فاٸدہ رہا ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے اس کی حکومت آذاد کشمیر میں بنتی ہے اور اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ایسا ہوا ہے اور اب عمران خان کی وفاق میں حکومت ہونے کے ناطے وہ اپنا بجٹ عوام کے مساٸل حل کرنے پر صرف کریں اور نا صرف مساٸل حل کریں بلکہ سیاحت کےلیے بہت سے اور نۓ راستے کھولیں اور سیاحتی مقامات کو پر رونق بنانے کےلیے حقیقی معنوں میں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت سا ریونیو حاصل کرکے ہم دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کریں ۔
    کشمیر جنت نظیر وادی ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقامات قابل ذکر ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی قابل رشک ہے ۔ حکومت کا چاہیے کہ وہ بہت سے نۓ مواقع پیدا کرے جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو اور اس کا براہ راست فاٸدہ حکومت اور عوام کو پہنچے اس سے روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہونگے اور مقامی افراد کو ترقی کا موقع حاصل ہوگا اور بہت سے مساٸل حل ہونگے. تحریر : https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار  نام: محمد عمران خان

    ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار نام: محمد عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔
    مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بیان دیا کہ "کشمیری غلامانہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔”
    کشمیریوں کو دی گئی اس شرمناک گالی سے قطع نظر اس نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی ‏نہیں ہوئی ہے اور عمران خان کشمیریوں کے ووٹ سے ہی یہ الیکشن جیتے ہیں ۔”
    پورے پانچ سال میں کشمیر کا وزیراعظم رہتے ہوئے جس بندے نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالا، ان کے فنڈز ہڑپ کر گیا، کشمیر میں پانچ سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، کشمیری عوام کو ہمیشہ مایوس کیا، جب کشمیریوں نے اس مایوسی کا بدلہ لیا تو راجا فاروق حیدر نے نہایت ہی شرمناک شکست کھانے کے بعد کشمیریوں کو ہی الٹا گالیاں دینا شروع کر دیں جو کہ نا صرف کشمیریوں بلکہ پورے پاکستان کیلئے انہتائی افسوسناک بات ہے۔ تم کس قسم کے وزیراعظم ہو کہ اپنے ہی عوام کو غلام ذہن سوچ رکھنے والا کہہ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی قربانیاں یاد نہیں آئیں؟ کیا کئ سالوں سے کشمیریوں کا حق کھانے کے بعد تمہیں الٹا وہی کشمیری غلام لگنے لگے؟ قابل مذمت بیان دیا ہے راجا فاروق حیدر نے، جس پر کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ، کوئی بھی نہیں کیونکہ قوم سب سمجھتی ہے ۔
    کشمیر انتخاب میں اینٹی انڈیا اور پرو انڈیا بیانیہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جب بھی جلسہ کیا تو اپنی ذاتی گاڑیاں بھر بھر کے جلسہ گاہ کو سجایا گیا، یا وہاں کے لوگ جلسے میں آئے بھی تو مریم نواز صاحبہ کا تماشا دیکھنے آئے، ووٹ دینے کا انکا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا،
    اور ووٹ دیتے بھی کیسے؟ جب بھی مریم نواز نے تقریر کی تو ہمیشہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بات کی، ہمیشہ ہر جلسے میں پاک فوج کے خلاف بولتی رہیں ۔ اپنے ہر جلسے میں عمران خان نے یہ کر دیا عمران خان نے وہ کر دیا، بس صرف عمران خان عمران خان کرتی رہیں،
    کشمیر پہ مظالم انڈیا نے ڈھائے ہوئے ہیں، اور ڈھا رہا ہے ۔
    کشمیری عوام کو ہر طرح کی تکلیف نریندر مودی دے رہا ہے اور مریم نواز صاحبہ نے وہاں جا کے مودی کا نام تک نہیں لیا، کیا کشمیری اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ آپ کی مکاری نہیں سمجھ سکے؟
    عمران خان جب اپنی ہر تقریر میں انڈیا اور نریندر مودی کو جھاڑ رہا تھا تو مریم نواز اور بلاؤل مودی کا نام تک لینے سے کترا رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ
    ‏عمران خان مقبوضہ کشمیر میں مودی کو مظالم کا ذمہ دار ٹہرا رہا تھا تو مریم نواز عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذمہ دار ٹہراتی رہی۔

    کشمیری گھاس نہیں کھاتے۔ نا ہی کشمیری ابھی دودھ پیتے بچے ہیں، مریم نواز صاحبہ کی تقریریں سن سن کر کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ "اگر مریم نواز کی تقریروں سے "عمران خان” کا نام
    ‏نکال لیا جائے تو وعدہ کرو، آو گے، دو گے اور لوگے وغیرہ ہی رہ جاتا ہے۔”

    عین مہم کے دوران نواز شریف کی جعلی تصویر فوٹو شاپ کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ "کشمیر سے رشتہ پرانا ہے ”
    پکڑی گئی تو ڈیلیٹ کردی ۔ مگر ڈلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا، آج کل تیز زمانہ ہے لوگوں نے سکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کیے تو مریم صفدر کا جھوٹ فریب نا صرف کشمیر والوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا میں بہت رسوائی ہوئی اور اس جعل سازی پر معذرت بھی نہیں کی۔ جس کا صلہ اسے کشمیر میں بد ترین شکست کی صورت میں مل چکا ہے۔
    لہذا عرض ہے نانی یہ اپنا چورن لاہور میں بیچے ،یا پھر سندھ کا رخ کرے۔ کیونکہ یہ جہاں بھی جائے گی رسوائی اس کا مقدر ہو گی، امید ہے کہ اب پاکستان کا ہر ذی شعور یہ بات سمجھ چکا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کے اصل محب وطن لیڈر ہیں جو پاکستان کو اپنے وطن کو سپر پاور بنا کر ہی دم لیں گے ان شاء اللہ!
    پاکستان زندہ باد عمران خان پائندہ باد!!

    @Imran1Khaan