Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت  تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت سے جیت لیا الحمداللہ؟ کشمیر کے الیکشن میں انڈین بیانے کی ہار ہوئی ہے انڈین میڈیا چیخ رہا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور نون لیگ کے ایک امیدوار اسماعیل گجر نے بیان دیا ہم انڈیا سے مدد مانگے اس انڈیا سے جو ہمارے مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے اس انڈیا سے جو بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے اس انڈیا سے مدد مانگیں گے جو دنیا میں ہمارے پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یہ لوگ کیوں ہمدرد ہے انڈیا کے نون لیگ انڈیا سے کیا مدد مانگے گی کیا ان سے کہے گی اپنی فوج آزاد کشمیر میں بھیج دیں چیف الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے اس کو نااہل کر دیں ان لوگوں نے قومی سلامتی کا مذاق بنایا ہوا ہے اسماعیل گجر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ سچ کہا وہاں ایک لاکھ کشمیری ہمارے بہن بھائیوں کو شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کشمیر ی انڈیا کی قید میں ہے جموں کشمیر میں ہماری کشمیری بہنوں کی عزت کو پامال کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی لیکن نون لیگ انڈیا سے مدد مانگے گی افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ہم نے چالیس سال تک ووٹ دیے اپنے ملک کا حکمران سمجھا لیکن یہ ہمارے دشمن ملک انڈیا سے مدد مانگے گے اور نون لیگ کا لیڈر نواز شریف ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے جن لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا افغان سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی لندن میں جس کو حمداللہ نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ایکسپوز کر دیا یہ ملاقات انڈیا کی خواہش پر سی آئی اے نے ایک عرب ممالک کی مدد سے یہ ملاقات کروائی حمداللہ محب اجیت ڈاوول کا قریبی دوست ہے اور اجیت ڈاوول سے کشمیری سخت نفرت کرتے ہیں اب نون لیگ کو سمجھ نہیں آرہی جو حمد اللہ محب سے ملاقات ہوئی اس کی کیا توجیج پیش کریں نون لیگ نے پہلے کہا باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی ان دونوں کی باہمی دلچسپی کا امر ایک ہی ہے وہ ہے افواج پاکستان جس ٹائم اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تو پاکستانیوں کا ردعمل دیکھ کے مریم نواز نے دو تصویریں شیئر کی وہ بھی دو سال پرانی حمد اللہ محب پاکستان دورے پر آئے ہوئے تھے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی جنرنل قمر جاوید باجوا کی تصویر شیئر کرکے مریم نواز نے پاکستانی عوام کو بیوقوف بنا رہی تھی میڈم مریم صاحبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری حیثیت سے ملاقات کی تھی وہ بھی تب حمداللہ محب نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور پاکستان نے بھی اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا دوسری تصویر عمران خان کی شیر کی جب وہ افغانستان گئے اور قطار میں کھڑے لوگوں کا اشرف غنی تعارف کروا رہا تھا اس قطار میں حمداللہ بھی کھڑا تھا توعمران خان کیا کہتا؟ کہ اس بندے کو قطار سے نکال دو تب بھی حمداللہ نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور نہ ہی بائکاٹ ہوا تھا ورنہ عمران خان انڈین وزیر خارجہ کی طرح شائد ہاتھ بھی نہ ملاتا اس سے؟ اور مریم نواز نے ایک اور تصویر شئیر کی پرائیویٹ گاڑی میں جوان ڈیوٹی پر جا رہے تھے اس گاڑی پر پی ٹی آئی کا جھنڈا بڑا لگا ہوا تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو مینشن کر کے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہے دوسرے دن پاک فوج کے جوان ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور 4 جوان شہید ہوگئے تین زخمی ہوئے پاک فوج سے ن لیگ کی نفرت اور اس حادثے نے بھی کشمریوں کے دلوں میں آگ لگائی۔ پاک فوج ستر سال سے ایل او سی پر کھڑی آزاد کشمیر کا دفاع کر رہی ہے اور ایل او سی کی دوسری جانب کھڑی 10 لاکھ انڈین فوج کو روکے ہوئے ہے اور روزانہ ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں پاک فوج کے خلاف کشمیری کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈیا اور مودی پر زبردست تنقید کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ کسانوں کو سود کے بغیر قرضہ دیں گے بے روزگاروں کو بھی سود کے بغیر قرضے دیں گے اور کشمیریوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے کشمیری دس لاکھ تک اپنا علاج مفت کرا سکیں گے اور عمران خان نے اپنے تقریر میں یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے موقعہ دیں گے کہ وہ خود مختیار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا عمران خان کا آخری جلسہ اتنا بڑا تھا شاید کشمیر میں کبھی ایسا جلسہ نہیں ہوا بیرون ملک دشمنوں اور نون لیگیوں کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود کشمیری انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے الحمد اللہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے کشمیر کا الیکشن عمران خان نے جیتا کشمیریوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور آخر میں اپنے سب کشمیری بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں پاکستان زندہ باد. پاک فوج زندہ باد

    @IamYasminArshad

  • آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ     تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست فاش کے بعد ن لیگ ایک بار پھردھاندلی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ یہ تو مقابلہ ہی یک طرفہ تھا۔باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں 45میں سے 26نشستیں حاصل کر کے دو تہائ اکثریت حاصل کر لی ہے۔جبکہ پی ٹی آئ کی اتحادی مسلم کانفرنس کی ایک سیٹ ملا کر اس کے پاس کُل 27سیٹیں ہو جاتی ہیں۔
    ان انتخابات میں پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ نواز لیگ جو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی،وہ تیسرے درجے کی پارٹی بن کے رہ گئی۔
    ن لیگ کی طرف سے یہاں انتخابی مہم مریم صفدر کی نگرانی میں چلائ گئی،جو مخالفین پر زاتی حملوں اور کیچڑ اُچھالے جانے کی وجہ سے مکمل طور پر بیک فائر کر گئی۔خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ اور اسکے بچوں کو یہودی کے نواسے کہنے والی بات کو اکثر لوگوں نے پسند نہیں کیا۔مریم کی بدتمیزیوں کا جواب بھی اسی طرح آیا۔پی ٹی آئ کے علی امین گنڈا پور کی زبان بھی قدرے سخت تھی مگر اُس نے جو کچھ کہا وہ مفہوم کے لحاظ سے قطعا” غلط نہ تھا۔
    مریم صفدر جسے کراوڈ پُلر کہا جا رہا تھا،اُس کے اکا دُکا جلسوں میں لوگ شائد تماشہ دیکھنے تو آۓ مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔
    دوسری طرف عمران خان کے چند جلسوں نے ہی بازی پلٹ دی۔
    آزاد کشمیر میں کئے جانے والوں سرویز میں یہ بات پہلے ہی دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی کہ تحریک انصاف کشمیر کا میدان مارنے جا رہی ہے۔
    عمران خان اس وقت نہ صرف بلا شرکت غیرے آزاد کشمیر کا مقبول ترین لیڈر ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگ اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں،نہتے مظلوم کشمیریوں کی تمام تر اُمیدیں اب عمران خان سے بندھی ہیں۔اب عمران خان اور اُس کی حکومت کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھارت کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے آزاد کروانے کے لئے کوئ دقیقہ فرگزاشت نہ کرے۔
    گلگت بلتستان میں عبرت ناک شکست کے بعد آزاد کشمیر میں بھی شرمناک شکست ملنے کے بعد نواز لیگ کے پاس دھاندلی کے شور شرابے کے پیچھے چھپنے کے سوا کوئ دوسرا راستہ نہیں۔
    اس انتخاب میں نواز لیگ کوجہاں مریم کی سطحی قسم کی تقریروں نے نقصان پہچایا،وہیں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب سے پاکستان دشمن شخص سے ملاقات ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئ جبکہ آزاد کشمیر میں فاروق حیدر کی کارکردگی بھی صفر تھی۔
    اسکے باوجود نواز لیگ کا دھاندلی کا راگ جاری ہے،مگر دھاندلی کا یہ چورن بکنے والا نہیں ہے۔پڑھے لکھے کشمیریوں نے اپنے مسقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کیا ہے۔
    روایتی طور پر بھی آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان میں برسر اقتدار جماعت ہی جیتتی ہے،جیسا کہ ماضی میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیتتی رہی ہیں تو اس بار پاکستان تحریک انصاف کا جیتنا کیوں اچنبھے کی بات ہے؟
    کیوں مریم صفدر کہہ رہی ہے کہ میں ان انتخابات کے نتائج بلکل ایسے ہی تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ 2018کے عام انتخابات کو نہیں کیا تھا؟
    کیوں مریم اورنگ زیب آزاد کشمیر کے انتخابات کو 2018کے انتخابات کا ری پلے کہہ رہی ہے؟
    یہ صرف شرمندگی چھپانے کی کوشش ہے۔
    اگر شکست تسلیم کر لی جاتی تو شائد ان کی کچھ عزت رہ جاتی۔لوگ اب جان چکے ہیں کہ نواز لیگ صرف ان انتخابات کو شفاف تسلیم کرتی ہے،جن میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں ہر انتخاب کے بعد دھاندلی دھاندلی کا واویلہ تو کرتی ہیں مگر حکومت اور عمران خان کی بارہا کی جانے والی درخواست پر الیکشن اصلاحات کے لئے راضی نہیں ہوتیں،
    جو واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ جماعتیں کسی ایجنڈے پر چل رہی ہیں۔
    اس ایجنڈے کے زریعے تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں،جو ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان کے حامل ہیں۔
    اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ارض پاک کو ہر قسم کے فتنوں اور
    شر انگیزیوں سے محفوظ رکھے۔آمین
    @lalbukhari

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے پی پی اور ن لیگ کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی اور کم ٹرن آؤٹ کے تمام الزامات مسترد کردیئے ہیں-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں نہ ہی کوئی ثبوت ملا ،چند حلقوں کو چھوڑ کرمجموعی طور ووٹنگ پرامن رہی، کسی حلقے سے ووٹنگ بند ہونے یا نامکمل ہونے کی رپورٹ نہیں ملی تاہم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے،ذمہ داروں کو سخت سزا ملے گی ۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ کا عمل مقررہ وقت صبح8بجے سے بغیر کسی تعطل کے پرامن انداز سے جاری رہا،مجموعی طورپرامن و امان کی صورتحال اطمینان بخش رہی-

    میں بالکل مایوس نہیں ہوں ،ن لیگ نے بہت اچھا الیکشن لڑا ہے ،مریم نواز کی ووٹرز اور ورکرز کو شاباش

    انہوں نے کہا کہ کل5118پولنگ سٹیشنز میں سے صرف 16 پولنگ سٹیشنز پر معمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں،پونچھ ڈویژن کے9،میرپور ڈویژن کے5اور مظفرآباد ڈویژن کے 2پولنگ سٹیشنز پرمعمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے، مجموعی طور پر 99فیصدپولنگ پرامن رہی ہے ۔

    واضح رہے کہ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں نے نتائج تسلیم نہیں کیے ہیں اور نا کروں گی، میں نے تو 2018ء کے نتائج بھی تسلیم نہیں کیے نا اس جعلی حکومت کو مانا ہے، اس بے شرم دھاندلی پر کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جماعت جلد فیصلہ کرے گی-

    آزاد کشمیر الیکشن :میں نے نتائج تسلیم نہیں کئے نہ کروں گی مریم نواز

  • کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    :

    جتنی پرانی تاریخ پاکستان کی ہے اس سے زیادہ پرانی تاریخ کشمیر کی ہے۔
    موجودہ آزاد کشمیر 1948 کی جنگ آزادی میں آزاد ہوا۔
    اس جنگ کی ابتداء ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے نواح نیلا بٹ کے مقام سے ہوئی۔
    سردار عبدالقیوم خان نے دشمن کے خلاف پہلا فائر کیا اور مجاھد اول کا لقب پایا۔
    اس مجاھد اول نے آزاد کشمیر میں 60سال سے زیادہ حکومت کی
    مجاھد اول کی سیرت کے پہلو پہ تحریر ایک الگ موضوع ہے۔
    جنگ آزادی بھی الگ موضوع ہے
    میں یہاں صرف مختصراً
    کشمیر کی موجودہ صورتحال پہ چند باتیں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔
    جیسا کہ لکھا جا چکا ہیکہ سردار عبد القیوم خان مجاھد اول کی جماعت "مسلم کانفرنس” نے 60 سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی
    لیکن جب یہ حکومت مجاھد اول کے بیٹے سردار عتیق خان کے سپرد ہوئی تو آہستہ آہستہ مخالفت بھی دم بھرنے لگی
    اور بالآخر مسلم کانفرنس کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا
    اسکی ایک اہم وجہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کے الیکشن میں حصہ لینا ہے۔
    اسی آزاد کشمیر میں پاکستان کی دو سیاسی پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں اور آج کے الیکشن میں تیسری پاکستان کی سیاسی پارٹی کی حکومت بننے کا چانس 60فیصد سے زیادہ ہیں۔
    تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ کشمیر کے الیکشن میں ایک چوتھی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی تحریک۔ لبیک۔ پاکستان نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
    تحریک۔ لبیک۔ پاکستان
    پاکستان میں 2018کے الیکشن میں بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرچکی ہے۔
    پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پہ سامنے آئی
    لیکن شروع دن سے اس پارٹی کے ساتھ جو سلوک ہوتا آیا ہے وہ انتہائی زیادہ قابل مذمت ہے۔
    آج کے الیکشن میں کئی جگہوں پہ ٹی ایل پی کے کیمپس اکھاڑ کے کیمپ میں موجود کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    ہم اسے ریاستی دہشت گردی سمجھیں یا موجودہ حکومت کی غنڈہ گردی
    یا پھر جمہوریت کے نام پہ ایک زوردار تھپڑ۔
    ان واقعات کے پیش نظر یہ کہنا کہ کشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ مکمل طورپہ سیلکشن ہورہی ہے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔
    اس کے علاوہ کشمیر کا یہ پہلا الیکشن ہے جس میں علی وزیر گنڈا پور پہ پابندی کے باوجود اسلحہ کے زور پہ علی وزیر نے الیکشن کمپین کی
    کیا یہ بھی حکومتی غنڈہ گردی نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

    @KHT_786

  • مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 3 روز کے دوران قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید ہوئے۔

    باغی ٹی وی :کشمیر میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد 3 روز میں شہید نوجوانوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

    بھارتی فوج نے ضلع کلگام میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کر کے مزید 2 نوجوانوں کو شہید کردیا جب کہ اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے گزشتہ 3 روز کے دوران قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 6 نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل ضلع سوپور اور بانڈی پورہ میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے متعدد نوجوانوں کو شہید کیا تھا۔

  • آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ  جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    مظفر آباد: آزاد کشمیر میں انتخابات کے لیے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز اور باکس پولنگ اسٹیشن پہنچا دیئے گئے، پولنگ شام 5 تک کسی وقفے کے بغیر جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ایل اے 27 مظفرآباد 1 کے 166 میں سے 15 پولنگ اسٹیشن حساس ترین اور24حساس قرار دیئے گئے ہیں-

    ایل اے 28 مظفرآباد 2 کے 156 میں سے 21 حساس ترین، 22 حساس قرار ، ایل اے25وادی نیلم1کے 38 حساس قرار دیئے گئے ہیں جبکہ حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد 3 کے 114 میں سے 7 حساس ترین، 15 حساس ہیں-

    الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابی عمل کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ 40 ہزار پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی انجام دیں گے۔

    آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے 32 لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    پاکستان بھر میں رہنے والے 4 لاکھ 5 ہزار 253 کشمیری ووٹر بھی آزاد کشمیر اسمبلی کے لیے اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ ڈالیں گے۔

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے جاری مہم آج اختتام پزیر، انتخابات…

  • آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    کل آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اس باریہ الیکشن بڑے سپیشل ہیں۔ کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے خوب زور لگایا ہے مریم تو مسلسل وہاں الیکشن کمپین چلاتی رہیں ۔ بلاول نے بھی خوب بڑے بڑے جلسے کیے ۔ پی ٹی آئی کے وزیر بھی وہاں خوب نوٹ بانٹتے، گولیاں چلاتے، انڈے اور جوتے کھاتے دیکھائی دے ۔

    کشمیر میں الیکشن کے دوران خرید و فروخت کا کام بھی جاری رہا ۔ ایک ایک امیدوار نے بیس بیس کروڑ روپے دیئے ۔ اور ایسا لگا کہ سیٹ کے لیے سب سمجھتے ہیں کہ ہم نے سری نگر نہیں مظفر آباد کو فتح کرنا ہے۔ اب کل ہوگا کیا اس حوالے سے گیلپ نے سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر میں آسانی کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک مقبول ترین لیڈر مانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے کے لئے بظاہر تیار ہے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف کے جیتنے کا امکان 44 فیصد ہے، جب کہ ن لیگ کے پاس 12 فیصد عوامی حمایت ہے۔ پیپلزپارٹی تیسرے نمبرپرصرف 9 فیصد عوامی پسندیدگی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اب اس سروے کو یقینی بات ہے پی ٹی آئی تو خوب پروموٹ کر رہی ہے ۔ بلکہ الیکشن سے پہلے ہی اس سروے کی بنیاد پر وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ جیت چکے ہیں ۔

    سروے اپنی جگہ مگر جو کچھ دیکھائی دیا ہے اورجو خبریں وہاں سے آئی ہیں۔ مریم اوربلاول نے بھی بھرپورکمپین چلائی ہے۔ سیاست میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب پانسہ پلٹ جائے ۔ یہ بھی ممکن ہےکہ حکومت تو تحریک انصاف کی ہی بنے مگر اسکو coliation government
    بنانی پڑے ۔ جیسا گلگت بلتستان میں ہوا یہ بھی ممکن ہے ۔

    دوسری جانب نواز شریف کی لندن افغان سیکورٹی ایڈوائزرسے ملاقات کوبھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ کئی وزیروں نے اس پر پریس کانفرنسیں بھی کردی ہیں۔ تو دوسری جانب ن لیگ بھی پیچھے نہیں ہے۔ مریم مسلسل ٹویٹس پرٹویٹس کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ establishment کو انڈرپریشرکرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن سے پہلے ہی ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ شاید کل دھاندلی ہوگی ۔

    جبکہ بلاول بھی کہہ رہے ہیں کہ کل ایسا نہ ہو کہ تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن ہوں۔ ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور وزرا سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق اورکئی دیگر رہنما بھی پہلے سے خبردار کرچکے ہیں کہ آزادکشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہورہی ہے۔ تو شیخ رشید بھی خوب تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں کہ اپوزیشن نے آزاد کشمیرالیکشن سے پہلے رونا دھونا شروع کردیا ہے۔ اب وہ تو دعوی کر رہے ہیں کہ کل لال حویلی سے پی ٹی آئی کی جیت کا اعلان کروں گا۔

    اس سارے معاملے پرگنڈا پورکی زبان بھی خوب چل رہی ہے اورایسے چل رہی ہے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ کل تو انھوں نے بہت ہی گری ہوئی باتیں بھی کیں۔ جس پر پی ٹی آئی تو ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلکہ ٹاپ ٹرینڈزبن گئے ہیں کہ standwithgandapur تواس سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ سیاست میں تلخی کس عروج پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ روز عمران خان نے کشمیر پر ریفرنڈم کا بیان دیا جو شہباز شریف نے مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ گزشتہ دوجلسے عمران خان نے بھی کافی بڑے اورتگڑے کیے ہیں۔ پرسوشل میڈیا پرایک الگ طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے آسان الفاظ میں جوجو کچھ پاکستان کے الیکشنز میں ہوتا ہے وہ تمام رنگ آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھائی دیے ۔ کامن سینس تو یہی ہے کہ ووٹ تو انہی لوگوں کو ملنے چاہئیں جوعوام میں مقبول ہیں۔

    آخر کار ووٹ تو عوام ہی دیتے ہیں۔ لیکن یہ کامن سینس اتنی کامن نہیں ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہمیشہ وہ پارٹی ہی کیوں جیتتی ہے، جو پاکستان میں حکومت وقت کی آزاد کشمیر شاخ ہوتی ہے۔ اب یہ جو مفروضہ ہے کہ جو پارٹی اسلام آباد میں برسرِاقتدار ہوتی ہے، اس کا مظفر آباد میں برسرِ اقتدار آنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آزاد کشمیر کے لوگ ایک خاص قسم کی پہاڑی دانش رکھتے ہیں۔ ان کا یہ احساس بہت گہرا ہے کہ ان کولامحدود مسائل کا سامنا ہے۔ اس مسائل کے حل کے لیے وہی لوگ کچھ کر سکتے ہیں، جن کی پاکستان میں حکومت ہو۔ چونکہ کسی بھی بڑے اورقابل ذکر منصوبے کے لیے وسائل اورمنظوری تو بہرحال اسلام آباد سے ہی آئے گی۔ کچھ لوگ اس کیفیت کو دیکھ کر ان پر موقع پرستی کا الزام بھی دھر دیتے ہیں۔

    پراسکا counter narrative لوگ یہ دیتے ہیں کہ پھر پاکستان کے صوبوں میں بھی وہی ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا کہ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت قائم ہے، مگر صوبے میں دوسری پارٹی حکومت بنا لیتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں بھی اکثرایسا ہوتا رہا ہے کہ عوام نے مرکزی حکومت کے خلاف ووٹ دئیے۔ حال ہی میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ لیکن ان معاملات سے تھوڑا آگے جا کر یہ سنجیدہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں برسر اقتدار حکومت اس کے وزرا اور سرکاری اہل کار حکمران پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، جس سے ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا راگ اس قدر شد ومد سے الاپ رہی ہیں جیسے کہ دھاندلی کا سارا منصوبہ ان کی نگرانی میں مرتب ہوا ہو۔ الیکشن میں کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی ان دونوں جماعتوں نے آزادکشمیر پر پانچ پانچ برس حکومت کی ۔ گزشتہ عام الیکشن میں پی پی پی اسمبلی کی محض تین نشستیں حاصل کرسکی تھی۔ اب کی بار نون لیگ کی الیکشن میں کامیابی کے امکانات مخدوش ہوچکے ہیں۔ اس کے بڑے بڑے برج الٹنے کا خطرہ حقیقت بنتا نظر آرہاہے۔ آزادکشمیر کے لوگ زیادہ دیر تک ایک جماعت سے وابستہ نہیں رہتے۔ اکثریت ان کی تعلیم یافتہ اور عملیت پسند ہے۔ وہ آزمائے ہوں کو باربار آزمانے کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتے۔ ووٹروں اور رائے عامہ کو پی ٹی آئی کے حق میں ہموار کرنے میں اورسیز کشمیریوں کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے لیے 370 ارب روپے کا معاشی پیکیج دیا ہے۔ کشمیریوں کو توقع ہے کہ جیت کے بعد اسی طرح وہ آزادکشمیر کے لیے بھی بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں پر یہ بھی برتری حاصل ہے کہ وہ پہلے حکومت میں نہیں رہی۔ اس کے برعکس نون لیگ، پی پی پی اور مسلم کانفرنس طویل عرصے تک اقتدار سے لطف اندوز ہوتی رہی ہیں۔

    پی ٹی آئی میں ایسے سیاستدانوں کی ایک معقول تعداد شامل ہوچکی ہے جو اپنے اپنے علاقوں میں موثر ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے ابھی تک دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اچھی پوزیشن میں ہے صاف جیتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ مگرمیری sixth sense کہتی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے ووٹر کو باہر نکالنے اور بقول مریم اور بلاول ان کے لوگ ووٹ پر پہرہ دینے میں کامیاب ہوگئے تو یہ سرپرائز ضروردے سکتے ہیں حکومت چاہے ان کی بنے یا نہ بنے۔

    @naveedsheikh123

  • کشمیرکے الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری؟ . تحریر : چوہدری عطا محمد

    کشمیرکے الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری؟ . تحریر : چوہدری عطا محمد

    پاکستان کے زیرِانتظام کشمیرمیں 25 جولائی کو تمام جماعتیں جن میں پاکستان کی تین بڑی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اورپاکستان پیپلزپارٹی اورکچھ چھوٹی جماعتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ مبصرین کے مطابق کل کانٹے کا مقابلہ ہوگا اگر ہم پچھلے دو سے تین ادوارکی بات کریں تو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسی پارٹی کو لوگ ووٹ زیادہ دیتے ہیں جس پارٹی کی السلام آباد میں گورنمنٹ ہو یہ عام طور پر کشمیر کے ووٹر کی روایت رہی ہے اس دفع الیکشن کمپین میں نئے چہرے سامنے آۓ ن لوگ کی طرف سے الیکشن کمپین میں مریم نوازکو اتارا گیا بقول ن لیگ پارٹی لیڈرنواز شریف جو کے لندن میں بیٹھے ہوۓ ہیں انہوں نے مریم نواز کو کشمیرالیکشن کا ٹاسک دیا الیکشن کمپین میں تیزی اورجوش اس وقت آیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے باقاعدہ اس الیکشن کمپین میں عملی طور پر حصہ لیا لیکن چند مقامات پر عوامی اجتماع اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کا خون گرمانے اور اپنے امیدواران کا جوش بڑھا کر وہ خود نجی دورہ پر امریکہ چلے گے اور پیپلز پارٹی کی الیکشن کمپین کی زمہ داری نئی نوجوان قیادت آصفہ بھٹو کو بنا دیا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمپین کی زمہ داری علی امین گنڈا پور اور ان کا ساتھ دینے کے لئے موجود تھے مراد سعید وفاقی وزیز بھی ہیں جو۔ یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہہ علی امین گنڈا پور کو آخری ہفتہ کو الیکشن کمپین سے روک دیا گیا کچھ ناخوشگوار واقعات جو بقول پی ٹی آئی مسلم لیگ نواز کی طرف سے کئے گے۔ اور الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور کو کشمیر میں عوامی اجتماعات سے خطاب سے روک دیا.

    الیکشن کمپین میں اس وقت جوش بڑھ گیا جب وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان نے کشمیر میں عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اس خطاب کے بعد تمام پارٹیاں خود کے جلسے کو عوامی سمندر اور دوسروں کے جلسوں کو جلسی کہتے رہے اپوزیشن نے وفاقی حکومت پر بہت سے الزامات لگاۓ جن میں مہنگائی کی زمہ داری بروز گاری اور باقی کشمیر بیچنے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے الزامات لگاۓ گے ان سب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائیب صدر مریم نواز سب سے آگے آگے تھیں جلسوں کی حد تک تو تینوں پارٹیوں نے کافی بڑے بڑے عوامی اجتماعات کیے کچھ ٹی وی چینلز کی اینکر ز نے بھی اپنی طرف سے ہلکے پھلکے انداز میں عوام کے تاثرات جاننے کی کوشش کی کہہ کون سی پارٹی کی مقبولیت زیادہ ہے تو اس میں پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری نظرآیا.

    گزشتہ روز گیلپ پاکستان نے بھی اپنا سروے مکمل کیا جس میں بھی وزیز اعظم پاکستان جناب عمران کو سب سے مقبول شخصیت قرار دیا دوسرے اور تیسرے پر بلاول بھٹو اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف تھے جبکہ چوتھے نمبر پر مریم نواز تھیں
    اسی طرح پارٹی پوزیشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف سب سے مقبول اور دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ن اور تیسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی ہے.

    یاد رہے کہہ مسلم لیگ ن دھاندلی کی بات پہلے ہی سے کر رہی ہے کہہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن میں دھاندلی کرے گی جس کا جواب چئیرمین تحریک انصاف جناب عمران خان صاحب نے دیتے ہوۓ کہا کشمیر میں گورنمنٹ آپ کی الیکشن کمیشن اور عملہ آپ کا لگایا ہوا تو پھر تحریک انصاف کیسے دھاندلی کرے گی ابھی تک کا رزلٹ اگر دیکھا جاۓ تو عوام کا رحجان وفاق کی جماعت کی طرف ہی ہے گیلپ سروے اور مختلف ٹی وی اینکر ز کا تجزیہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے کہہ پاکستان تحریک انصاف کے ہی وزیز اعظم ہوں گے اس کی ایک وجہ یہ روایت بھی ہے کہ جو سیاسی جماعت وفاق میں حکومت بناتی ہے وہ ہی کشمیر میں بھی حکومت بناتی ہے کیونکہ خود مختار خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے۔

    جو بھی جیتے جس پارٹی سے بھی اس کا تعلق ہو بس الیکشن پر امن اور شفاف ہو اس بات کی دعا ہے اور یہ بھی دعا کرتے ہیں کہہ اللہ کرے ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیوں میں بھی ہار کھلے دل سے تسلیم کرنے کی ہمت ہو اس قسم کی روایت بھی ہو کہہ ہارنے والا جیتنے والے کو مبارک باد گلے لگاۓ بجاۓ دھاندلی کا رونا رونے کے اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو.

    @ChAttaMuhNatt

  • کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری ،تحریر:سردار امیر حمزہ (ترجمان جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ)
    پانچ اگست انتفاضہ کشمیر کے بعد اِس پار کشمیر کی صورتحال بھی بدل چکی تھی۔سب جماعتیں اپنے اپنے منشور کو لے کر مفادات کی سیاست کررہی تھیں۔ایسے میں بے چین تھا اور کشمیر کا ہر نوجوان کسی خبر کے انتظار میں تھا۔میں نے عزم کیا کہ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھیں جو حقیقی طور پر کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں کی عکاسی کرے۔سردار بابر حسین ہمارے دوست تھے۔پاکستان تحریک انصاف سے منسلک تھے۔میں ان سے ملاقات کی ان کے سامنے ساری صورتحال کو رکھا۔انہوں نے حامی بھری اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر طے پایا کہ نئی جماعت کا نام جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہوگا۔دوسری طرف سردار بابر حسین نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔یہ اسی سال پانچ فروری کا دن تھا۔ہمارے لیے یہ نہایت تاریخ ساز دن تھا۔ایوان صحافت مظفرآباد میں ہم نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا اور سردار بابر حسین کو صدر منتخب کردیا۔ساتھ ہی تنظیم کی تنظیم سازی کا بھی اعلان کردیا۔ہم نے جو اغراض ومقاصد طے کیے ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ ہم حقیقی طور پر کشمیر کی تحریک کی پشتیبانی کریں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آواز بلند کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر میں انقلاب کی ایک نئی روح بیدار ہو۔حالیہ تحریک آزادی کشمیر میں ہونے والے زخمی اور شہدا کے گھروں کی دیکھ بھال،دل جوئی اور عزت افزائی کرنا،نوجوانوں کو اپنے کشمیری ہیروز اور تاریخ کشمیر سے آشنا کرنا،تحریک آزادی کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال۔کرپشن کیخلاف جہاد،قانون کی حکمرانی،میرٹ کی پامالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرنا،آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا۔ فائرسیفٹی، سول ڈیفنس کی تربیت دینا، اپنے علاقے کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے سے کام اورفیصلہ جات کرنا۔لوکل کونسل اوریونین کونسل کی تعمیر و ترقی کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پلان بنانا۔طلباء کے لیے تعلیمی وظائف اورکیریئر کونسلنگ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد۔جوانوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کے ساتھ ساتھ سمال بزنس کی انٹرنشپ کا انعقاد کرنا۔کھیلوں کے فروغ اورمنشیات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا۔ ماحولیات کی بہتری کے لیے جنگلات کا تحفظ و آگاہی۔لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور یوتھ پارلیمنٹ کا قیام۔ختمِ نبوت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی۔خوشحالیِ کشمیر کے لیے نوجوان اور ایماندار قیادت کو آگے لا کر آزاد کشمیر کو قابض، کرپٹ سیاسی مافیا سے آزاد کروانا۔خواتین کے تحفظ کے لیے مکمل قانون سازی کرنا۔

    اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل قانون سازی کرنا۔عوام کے فری علاج معالجے کو یقینی بنانا۔یہ ہمارے اغراض ومقاصد تھے۔نوجوان ہم سے متفق ہوئے۔جس کے پاس بھی جاتے وہ ہمارے مشن کو سراہتا اور ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرواتا۔لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔وہ دن بھی آیا جب پورے کشمیر میں ہم نے اپنا بہت کم وقت میں منظم نیٹ ورک قائم کرلیا۔ہم نے بہت سے خدمت کے کام کیے۔بالخصوص کورونا کی حالیہ لہر میں ہم نے عوام کی خدمت میں اپنا کردار نبھایا۔ہم نے جہاں موقع ملا بلدیاتی انتخابات کے لیے آواز اٹھائی۔سردار بابر حسین نے پورے کشمیر کے دورے کیے۔ہم نے عملی سیاست میں بھی اترنے کا فیصلہ کیا اور الیکشن کمیشنکیطرف سے اعلان ہوتے ہی ہم نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار نامزد کیے۔یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس کو قبول کیا اور ہمیں کامیابی ملی۔ہم نے دین دار و دیانتدار اور کشمیر کاز سے مخلص امیدواروں کا چناؤ کیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں کرسی کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ہم نے آزاد کشمیر الیکشن میں بھر پور مہم چلائی۔بڑی بڑی جماعتیں ہماری مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوئیں۔ہم پرامید ہیں کہ مجموعی اعتبار سے انتخابات میں اچھا ووٹ بنک حاصل کرکے کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں ایک الگ مقام بنالیں گے۔گذشتہ روز قبل ضلع باغ،نارووال،سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں بڑے ہمارے پاور شو ہوئے عوام نے ہمیں اپنی حمایت کا بھر پور یقین دلایا۔ہم حکومت میں آئیں یا نہ آئیں اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرائیں گے۔رو ز گارکے مواقع فراہم کرینگے۔اوورسیز کشمیری اس میں ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔ ہم مہاجرین مقیم پاکستان‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بیرو ن ممالک مقیم کشمیریوں کیساتھ مل کر سب کو متحد کرینگے۔ خواتین کی اسمبلی میں نمائندگی کو بڑھایا جائیگا۔ہم ایم ایل ایز کو نہیں یونین کونسل سطح سے نوجوان کونسلر ز کو آگے لائیں گے۔ تمام مسائل کا حل بلدیاتی انتخابات میں ہے۔ جب یہ نظام بحال ہو گا تو فنڈز براہ راست عوام تک جائیں گے۔ غریب آدمی آگے آئے گا۔ انصاف ملے گا۔ گزشتہ 30سا ل سے ایوانوں میں ایک مافیا مسلط ہے۔ یہ سب اپنے فائدے کیلئے الیکشن لڑتے ہیں کامیاب ہو کر لوٹ مار کرتے ہیں۔ یہ سب لوٹ مار روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانا چاہتے ہیں۔نوجوان ہمارے ساتھ ہیں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لوکل لیڈرشپ کو اوپر لائینگے۔ موجود ہ سیاسی نظام میں ہر جماعت میں باپ کے بعد بیٹا اور اسکے بعد پوتا آگے لایاجارہاہے۔یہ لوگ خاندانوں کی سیاست کرتے ہیں۔اس نظام کو ختم کرینگے۔کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ان شاء اللہ امید کے ساتھ کہتا ہوں پچیس جولائی کا دن ہمارے لیے نوید کا باعث بنے گا آپ بھی آج باہر نکلیں اور کرسی پر مہر لگا کر ہمارے کارواں کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

    @SpokesmanJKUM

  • کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    کشمیر الیکشن اور ہمارے ساستدانوں کی بڑی بڑی باتیں . تحریر :‌ محمد وسیم

    2013 کا الیکشن جب ہو رہا تھا تب سے مجھے سیاست کا شوق چڑھ گیا تھا اس وقت جب میں اپنے سیاستدانوں کے تقریریں اور وعدے سنتا تھا تو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ واقعی میں ہمارے سیاستدان بہت مخلص ہے اپنے قوم کے ساتھ کچھ وقت جب گزرا نئ پارٹی کو حکمرانی کرنے میں۔ تو تب مجھے پتہ چلا کہ جو باتیں اور نعرے جلسوں میں لگائ گئ تھی وہ سب تو ایک دھوکہ تھا وہ باتیں وہ نعرے سب کچھ بھول گۓ تھے ہمارے حکمران اسکی کچھ مثالیں یہ ہے کہ ہمارے تھر چھوٹے چھوٹے اور پیارے بچے بھوک سے مر رہے تھے جب کہ ہمارے سیاستدانوں کو کھانے سرکاری ہیلی کاپٹر میں جاتے تھے ہرطرف مہنگائ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور یہاں تک کے میرے پاکستانیوں کو پانی بھی صاف نہیں ملتی تھی۔ پاکستان میں غربت تیزی سے بڑھنے لگی ہر دوسرا بندہ بے گھر ہے ہر دوسرا بندہ قرضہ دار اور بےروزگار ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے ملک کی کوئ فکر نہیں ہے ان کے دور کے رشتہ دار بھی سرکاری املاک کا استعمال کلھم کھلا کررہے ہے۔ ہمارے سیاست دان الیکشن ہوتے ہی اپنے وعدے بھول جاتے ہے اور پانچ سالوں کیلۓ بادشاہ بن کر محل میں بیٹھ جاتے ہے عوام کے مسائل کے حل کیلۓ اسمبلیاں موجود ہے لیکن ہمارے سیاست دان وہاں بھی جاکر لڑائیاں کرکے آتے ہے اور وہاں پر عوام کے مسائل بتانے کے بجاۓ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہے اور ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہے۔ قائدءاعظم جب پہلے کابینہ کی اجلاس کی صدارت کر رہا تھا تو ان سے ای ڈی سی نے پوچھا کہ سر اجلاس میں قافی پیش کی جاۓ یا چاۓ؟ قائداعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور فرمایا یہ لوگ گھروں سے چاۓ قافی پی کر نہیں آۓ؟ پھر قائداعظم نے فرمایا کے جس کو چاۓ یا قافی پینی ہے وہ اپنے گھروں سے پی کر آۓ اور کہا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے قوم کیلۓ ہے وزیروں کیلۓ نہیں۔ ایسے بھی ہمارے لیڈرز ہوا کرتے تھے۔

    ہمارے ملک کو اس وقت باتوں والے لیڈرز کی نہیں بلکہ کام والے لیڈرز کی ضرورت ہے۔ اگر ایک حکمران پارٹی کام نہیں کریگی تو وہ خود کو بدنام کریگی۔ قائدءاعظم نےکوئٹہ میں 15جون،1948 ء کو میونسپلٹی سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ بلاشبہ نمائندہ حکومت اور نمائندہ ادارں کا ہونا بہت خوب اور بہت ضروری ہے ۔ لیکن اگر چند اشخاص انہیں محض ذاتی اقتدار اور املاک میں اضافے کا ذریعہ بنالیں اور انہیں ایسی پست سطح تک گسھیٹ لائیں تو ایسی حکومت اور ادارے نہ صرف اپنی قدر اور منزلت سے محروم ہوجاتے ہے بلکہ بدنامی بھی کمالیتے ہےاصل میں میرے ا س کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں اب باشعور عوام بننا چاہیئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں جتنے مسلۓ مسائل اسے کونسا وہ بندہ یا وہ پارٹی اچھی طریقے سے حل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنا شعور الیکشن کے وقت بھول جاتے ہے اور اپنا ووٹ بیجھ دیتے ہے جس سے ہمارا ملک تباہی کی طرف جاتا ہے۔
    اب چونکہ کشمیر کا الیکشن نزدیک ہے تو میں اپنے کشمیریوں سے کہونگہ کہ آپ بہت ہی سمجھدار لوگ ہو۔اپنے ووٹ کو بیچنے کے بجاۓ اسے ایسے بندے کو دے جو آپ لوگوں کیلۓ سوچتا ہو نا کے وہ کل منتخب ہو کر آپ لوگوں کو بھول جاۓ اور آپ لوگوں کے پیسوں پر اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ عیاشیاں کرتے رہے. یہ وطن ہمارا ہے اور ہمیں خوو اس کا خیال رکھنا ہوگا نا کہ ہم اسے کسی کرپٹ کے حوالے کرکے اپنے ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا دے.

    Twitter id : Waseemk370