Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر الیکشن،  یونائیٹڈ موومنٹ  کی باغ میں ریلی

    کشمیر الیکشن، یونائیٹڈ موومنٹ کی باغ میں ریلی

    کشمیر الیکشن یونائیٹڈ موومنٹ کی باغ میں ریلی

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر الیکشن مہم کے سلسلے میں ضلع باغ میں بائی پاس سے ریلی شروع ہوئی جوالیکشن دفتر میں آ کے ریلی اختتام پذیر ہوئی حلقہLA 15 وسطی باغ کے یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوار راجہ عبد الناصر کشمیری نے ریلی کی قیادت کی

    ریلی حلقہLA 15 وسطی باغ کے یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوار راجہ عبد الناصر کشمیری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں مرکزی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھ سمیت پورے آزاد کشمیر میں پڑھے لکھے ،باکردار اور باصلاحیت امیدواروں کا انتخاب کیا اور آج حلقہ وسطی باغ کے نوجوانوں نے میر ساتھ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی جماعت جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہی ہے 25 جولائی کو یہ نوجوان کرسی پہ مہر لگا کہ موروثی سیاست کا خاتمہ کریں گے۔

    حلقہ وسطی باغ کے نسل درنسل لوگوں کے حقوق غصب کرنے والے سیاستدانوں کی نوجوانوں کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں بچے گی جس طرح باغ کا لٹریسی پوائنٹ آزاد کشمیر و پاکستان میں نمایاں ہے اسی طرح یونائیٹڈ موومنٹ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے مختلف فورمز پہ اٹھانے کے لیے نمایاں اور پڑھی لکھی قیادت فراہم کرے گی. جس میں قاضی داؤد صاحب اور اختر عالم صاحب نے تقریر کی

  • "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    "آزاد کشمیر الیکشن کون کہاں پر کھڑا ہے” از قلم محمد عبداللہ

    پچھلے کچھ دن سیاحت کی غرض سے جنت ارضی کے آزاد ٹکڑے آزادجموںو کشمیر میں گزرے، جہاں اس جنت ارضی میں خوبصورت وادیاں، شوریدہ سر نالے، تند و تیز دریا اور برفون سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ مووجود ہیں وہیں محرومیاں، شکوے شکایات اور بعض جگہوں پر تو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے. سالہا سال سے جموں و کشمیر کے ان حلقوں سے منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے والے مراعات سے تو لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جموں کشمیر کے شہریوں کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے.
    ہمارا سیاحتی ٹور کا ہدف ویسے تو نیلم کو خوبصورت وادی اور اس میں موجود آبشاریں، جھیلیں وغیرہ تھیں لیکن جیسے ہی ہم کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے تو ہمیں ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی نظر آئی، ہر طرف انتخابی تصاویر اور نعروں سے مزین پوسٹرز اور بینرز لہراتے پھر رہے تھے تو ہم نے سوچا چلو سیاحت کے ساتھ ساتھ کشمیر کے انتخابات اور انتخابی مہم کو ہی تنقیدی و تعریفی نگاہوں سے دیکھتے جاتے ہیں. اس غرض سے نارووال سے کے انتخابی حلقوں سے لے کر نیلم تک سفر کیا اور دیکھا اس کے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.
    بنیادی طور پر یہ انتخابات ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہورہے ہیں جن میں جموں اور مقبوضہ وادی کے مہاجرین کی نشستیں بھی شامل ہیں. کچھ انتخابی حلقہ جات نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور دیگر ان علاقوں پر بھی مشتمل ہیں جہاں جہاں مہاجرین کشمیر مقیم ہیں. اس سفر کے دوران تقریباً سبھی ہی حلقہ جات میں چکر لگا تو حالات ماڑے ہی نظر آئے. مہاجرین کے حلقوں میں ریاستی مہاجرین کے مسائل کا کسی کو ادراک نہیں، آزاد جموں کشمیر کے حلقوں میں بھی اب تک منتخب ہونے والوں نے الا ماشاءاللہ اپنی جائدادیں ہی بنائی ہیں.
    ریاست آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بےشمار سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں. ان میں سے بڑی جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو باری باری حکومت بناچکی ہیں لیکن ان کے پلے سوائے بیانات اور بڑھکوں کے کچھ بھی نہیں ہے. ابھی بھی مریم نواز اور اس کے ہمنواء انتخابی جلسوں میں یہی بیان بازیاں کررہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو تو دودھ اور شہر کی نہریں بہائیں گے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ بی بی ابھی آپ کا ہی دور حکومت گزرا ہے اس میں آپ لوگوں نے کیا کرلیا راولا کوٹ جیسے علاقے میں بچوں کو پینے کے لیے 150 روپے کلو میں بھی دودھ میسر نہیں ہے.
    اسی طرح پیپلز پارٹی کے حالات ہیں کہ بلاول بھی اپنے آپ کو کشمیر کا بیٹا کہلوانے کی کوشش میں خاصی بانسریاں بجاکر کر گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو حال پیپلز پارٹی نے سندھ کا کیا ہوا ہے اپنے دور حکومت میں وہی حال آزاد ریاست جموں و کشمیر کا بھی رہا ہے لیکن ابھی بھی وہ حکومت بنانے کے دعوے دار ہیں لیکن اس بار ریاستی عوام سیاسی طور پر قدرے باشعور ہے ہم نے دوران سفر صاف آواز سنیں کہ” نہ تو بلاول کشمیر کا بیٹا ہے اور نہ ہی مریم کشمیر کی بیٹی ہے دونوں مفاداتی پنچھی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں”.
    ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات بارے ایک بات زبان ذد عام ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہوتی ہے کشمیر میں بھی وہی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو اس لیے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اڑنے والے پنچھی اڑ کر تحریک انصاف کی ڈالیوں پر آ بیٹھے تھے. قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف بنائے گی لیکن جس طرح پاکستان میں تانگہ پارٹی بن کر حکومت میں آئی کچھ ایسا ہی حال کشمیر میں ہونے جارہا ہے. تحریک انصاف کی انتخابی کمپین انتشار کا شکار ہے حتیٰ کہ ابھی سے وزیراعظم کے لیے لڑائی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ کشمیر و کی تعمیر و ترقی پر خاک توجہ دیں گے.
    ریاستی انتخابات میں مسلم کانفرنس، تحریک لبیک و دیگر سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک ایسا نہیں کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے سکیں. مقبوضہ کشمیر میں پچھلے سال ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر بھی عوام میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے. ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور آزاد کشمیر کو اس کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے.
    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت نے آزاد جموں کشمیر اور ریاستی مہاجرین کی اکثر نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی مہم خاصی دکھائی دے رہی ہے. اس جماعت نے کئی ایک علاقوں میں کامیاب امتخابی جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی ہیں جس کی وجہ سے یہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے ہیں.
    انتخابی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہوئے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران کی مصروفیات دیکھیں وہاں جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کے امیدواران اور پارٹی قیادت سے بھی ملاقات رہی. ان کا ماننا تھا کہ گوکہ وہ ان انتخابات میں بہت زیادہ ووٹ تو نہیں لے سکیں گے لیکن ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کو آزاد کروانا ہمارا بنیادی منشور ہے. ہم الیکشن جیت کر اسمبلی میں بیٹھیں یا الیکشن میں کم ووٹ لے سکیں ہم عوام سے رشتہ نہیں توڑیں گے.
    آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے منجھے ہوئے سیاستدان سردار بابر حسین اس جماعت کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجربہ کار اور مخلص لوگ ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں یقین میں رکھتے ہیں. موجودہ انتخابات میں اپنی سرگرمیوں کے ساتھ وہ ریاستی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کا سورج اپنے غروب کے ساتھ مظفرآباد کے تحت پر کس کو طلوع کرکے جاتا ہے.

    محمد عبداللہ
    محمد عبداللہ

  • ارطغرل غازی ریسٹورنٹ تیار،عوام کیلئے کب اور کہاں کھولا جائے گا؟

    ارطغرل غازی ریسٹورنٹ تیار،عوام کیلئے کب اور کہاں کھولا جائے گا؟

    مقبوضہ کشمیر میں ترک تاریخ پر مبنی ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی سے متاثر مداحوں نے ارطغرل غازی کے نام سے ریسٹورنٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترکی اردو کی خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر میں تعمیر کئے جانے والے ہوٹل کی دیواروں اور چھت پر ارطغرل ڈرامہ کے مشہور کرداروں کی تصاویر آویزاں ہیں ،غالباً یہ پہلا ریسٹورنٹ ہے جو ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی تھیم پر تیار کیا گیا ہے ۔


    ہوٹل کے مالک شاداب خان کے مطابق ڈرامہ جن اخلاقی اقدار پر بنایا گیا ہے وہ کشمیری روایات سے بہت قریب ہیں جس کے باعث اس ڈرامے کی کشمیر میں مقبولیت بہت زیادہ ہے –

    شاداب خان کا مزید کہنا تھا کہ اس ہوٹل میں مشرق وسطی، بھارتی اور ترک کھانے پیش کیے جائیں گے۔

  • عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    اسیر کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ آج کشمیر میں مسلمانوں کو اپنا مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں اور کشمیری نماز عید بعد ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے،نریندر مودی حکومت نےکشمیریوں پر عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے،عید کے موقع پر کشمیر قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اپنے ویڈیو پیغام میں تمام اُمتِ مسلمہ کو عیدالاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کو مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں، کشمیری عید الاضحی کی نماز بھی ادا نہیں کر سکتے عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی لگا رکھی ہے-

    مشعال حسین ملک کا عیدالاضحی پر پیغام دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید الاضحی مبارک میری دعا ہے کہ آپ سب اپنے پیاروں اپنے دوستوں کے ساتھ محفوظ اور خوش رہیں اور یہ عید کا خوبصوت تہوار ہنستے مسکراتے منائیں یکن بد قسمتی سے مودی اور مودی حکومت نے انڈیا کے مسلمانوں اور جموں کشمیر کے کے ہر کشمیری کی ایک بار پھر زندگی جہنم بنا دی ہے-

    انہوں نے کہا یہ میری میرے شوہر کے بغیر 14ویں عید ہے ہماری فیملی بہت ہی مشکل حالات سے گزر رہی ہے کیونکہ میرے شہور میری بیٹی کے والد تہار جیل کے ڈیڈسیل میں قید ہے ہماری عید بہت ہی درد بھری ہے کیونکہ ہماری فیملیاں ساتھ نہیں ہیں ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے، اونٹوں، بچھڑوں اور ایسے دوسرے جانوروں کے ذبح پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ انیمل و شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز کے ڈائریکٹر پلاننگ نے اس ضمن میں جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں اور پولیس کے انسپکٹر جنرلوں کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا حکم نامے میں انیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کی طرف سے 25 جون کو ارسال کر دہ ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ‘جموں وکشمیر میں عیدالاضحیٰ، جو 21 سے 23 جولائی تک منائی جائے گی، کے دوران ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں قربانی کے جانور ذبح کئے جائیں گے –

    حکم نامے میں متذکرہ افسران سے کہا گیا کہ اس کے پیش نظر مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ میں آپ سے انیمل ویلفیئر قوانین کی پاسداری اور جانوروں کے غیر قانونی ذبح کرنے کی روک تھام کو یقینی بنانے نیز انیمل ویلفیئر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی درخواست کروں۔

  • آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر کا الیکشن اور ضمیر کی آواز . تحریر : محمد عبداللہ گِل

    آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ھے تمام تر سیاسی پارٹیاں جدوجہد کر رہی ہیں۔اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں کیا اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ان پارٹیوں میں کہیں نام تو آتا ھے تحریک انصاف کا جن کی وفاق میں حکومت ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز،پاکستان پیپلز پارٹی بھی سرگرم ہیں۔میں نے مختلف احباب کی تقاریر کو سنا تو کسی کا موقف لسانیت کا تھا تو کسی کا موقف قومیت پر مبنی تھا۔کسی پارٹی نے اپنا مقصد دعوں کو بنا رکھا تھا۔
    سب سے پہلے آتے ہیں پاکستان مسلم۔لیگ نواز کی طرف۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز صاحبہ نے الیکشن مہم کے حوالے سے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم حکومت میں آتے ہیں تو کشمیر کی آزادی پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار سے ہی ممکن ہے”

    پاکستان مسلم لیگ ن وہ سیاسی جماعت ہیں جو ملک پاکستان میں 3 بار حکومت کر چکی ہے اور ان کے قائد نواز شریف نے مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بلایا تھا اور جب یہ بھارت گئے تو کشمیر کی حریت قیادت ان سے ملاقات کے لیے انتظار کرتی رہی لیکن انھوں نے کشمیر پر ظلم کرنے والے سے ملاقات کی لیکن ان بطل حریت قائدین سے ملاقات کرنا مناسب نہ سمجھا۔اب اس سے واضح ہو گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا بیانیہ اور منشور جو ہے وہ باطل ہے اور حق سچ پر مبنی نہیں ھے۔اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانیہ کی بات کر لیتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے کہ جن کا مقصد صرف و صرف  اقتدار ہے چاہے وہ مودی کی یاری سے ملے یا امریکہ کی چاکری سے ملے اس لیے اس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہونے کے اہل نہیں ھے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں بھی ھے لیکن مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا کہ تقریبا 2 سال کا عرصہ ہو رہا کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لیکن ہمارے وزیراعظم نے اس انداز سے کشمیری عوام کی مدد نہیں کی جس انداز سے وہ چاہتے ہیں۔

    جب میں مختلف سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے رہا تھا تو میری نظر سے ایک جماعت "جموں و کشمیر یونائیٹڈر موومنٹ”
    کا نام گزرا ان کے منشور کو میں نے پڑھا۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف ہے کیا ان کا منشور نہ تو لسانیت پر مبنی اور نہ جاگیردارانہ نظام پر مبنی ھے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا موقف کشمیر کی نصرت پر مبنی ہے۔اور صرف دعوی ہی نہیں بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ان کا عملی کام بھی ھے۔اس کے بعد خدمت خلق اور نوجوانوں کی تربیت ان کا بنیادی مقصد ہے جس سے واضح ہو جاتا کہ یہ جماعت نہ صرف آزاد کشمیر کی نمائندہ جماعت ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی بھی نمائندہ ھے۔اس کے علاوہ منشیات کا خاتمہ بھی ان کے منشور کا حصہ ہے۔منشیات کا خاتمہ وہی کروا سکتا جس کا منشیات کا کاروبار نہ ہو اور الحمدللہ اس جماعت کے قائدین اور نمائندگان میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں ھے۔جموں وکشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد کرپشن کا خاتمہ بھی ہے اور یہ ایسا دعوی نہیں ہے جیسا پاکستان تحریک انصاف نے کیا کہ دوسروں کو کرپشن کیسز میں پھنسا دو اور جب باری آئے جہانگیر ترین کی تو اسے این آر آو دے دیا جائے۔بلکہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ عوامی یگانگت اور اتحاد کو قائم کرنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا مقصد نوجوانوں میں اسلام کے شعور کو بیدار کرنا ھے۔ان کا مقصد جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ اور اسلام کی سربلندی مقصد ہے۔اس سے پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا وہ بس دعوی ہی تھا کیونکہ وہ جماعت خود ہی جاگیردار کے زیر انتظام تھی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دو قومی نظریہ کی سربلندی ہے اور دو قومی نظریہ اسی وقت اجاگر ہو گا جب اسلام پر چلنے والے لیڈران ہماری اسمبلیوں میں جائے گے۔

    محترم قارئین! آپ میرا یہ سوال آزاد کشمیر کی غیور عوام تک پہنچا دے کہ انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کا فیصلہ کرنا ہے نہ کہ نوٹوں کی کھنک پر ذہنی غلامی کی بنا پر ووٹ نہیں ڈالنا۔25 جولائی کے دن آزاد کشمیر کے عوام کا امتحان ہے کہ وہ 73 سالہ ذہنی غلامی سے نکل کر با سیرت اور نیک نمائندگان کو سردار بابر حسین کی قیادت میں کرسی پر مہر لگا کر کامیاب کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ اگر اس جماعت کو موقع دیا گیا تو پھر مودی اور انڈین افواج کو جواب سیف جہاد سے دیا جائے گا نہ کے منت سماجت سے جیسا کہ موجودہ حکومت نے بھی کیا اور گزشتہ حکومتوں نے بھی کیا۔آپ لوگوں کا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہو گا ان لوگوں کو ووٹ کرنے کے لیے جو کہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔اس لیے کرسی پر مہر لگا کر جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کو کامیاب بنانے۔
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    @ABGILL_1

  • کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کی تاریخ . تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر کے نام کے دو حصے ہیں ایک "کش” سے مراد ندی نالے اور "مر” سے مراد پہاڑ ہیں. قدیم روایت اورسروے کے مطابق کشمیر کی تاریخ 10 کڑور سال پرانی ہے جس میں دیومالائی کا قصہ، کشب رشی، ہڑپہ، منجوداڑو کی تاریخ بھی شامل ہے.
    قدیمی تاریخ کے مطابق کشمیر کا پہلا حکمران "گومندوان” تھا اور اسی کے بعد جنگ مہا بھارت کا قصہ ہے اور اس کے بعد پانڈو خاندان کے 22 حکمرانوں نے کشمیر پر حکومت کی راجہ سندر سین اس خاندان کا آخری حکمران تھا اور یہ کشمیر پر بدھ مت کا دور تھا اور اسی دور میں 326ع کو سکندر اعظم بھی آیا تھا.

    1128ع میں راجہ جے سنگھ حکمران بنا جو ایک نیک دل حکمران تھا اس کے دور میں کشمیر میں خوشحالی آئی اس کی حکومت ختم ہونے کے 200 سال تک کوئی بھی حکومت قائم نہیں ہو سکی اور یہ دور افراتفری کا دور رہا اس کے بعد سردار رنچن نے 60 ہزار کا لشکر لے کر کشمیر پر حملہ کیا اور اس نے لوٹ مار مچائی اس پر لداخ کے حکمران کرم سین نے اس پر حملہ کر کے اس کا لشکر تباہ و برباد کیا۔ اس دور کے بعد مسلمانوں کا دور شروع ہوتا ہے. حضرت شاہ ہمدان 700 سادات کے ساتھ کشمیر آئے اور 37 ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا. شاہ صاحب کے ہاتھ پر 10 ہزار سے زائد ہندوؤں نے اسلام قبول کیا.

    حقیقت یہ ہے کہ 700 پیروکاروں کے اس گروہ میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے تاکہ دور دراز علاقوں سے کشمیر تک نہ صرف ایک محفوظ اور آسان سفر اور وادی میں آرام سے قیام کو یقینی بنایا جاسکے ، کیونکہ وہ ایک مخصوص طرز زندگی کے مطابق تھے ، لیکن اسلام اور اسلامی ثقافت کو پھیلانے کے ان کے ایجنڈے کا حقیقت میں ترجمہ کرنے کے لئے۔ اس کے ساتھ ہی ، شاہ حمدان اپنی ایک بہت بڑی لائبریری لائے جسے ایک کتبور ، لائبریرین سید کاظم نے برقرار رکھا تھا۔ ان میں سے کچھ نے تبی اور حکیم کے نام سے بھی کام کیا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مسلم دوائیوں کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہیں۔ انہوں نے عرب دنیا سے وسطی ایشیائی ثقافت کی بھرپور ثقافت کے ساتھ اسلام کو ناکام بنا دیا اور ایسی جگہ پر تجربہ کیا جو معاشرتی مداخلت کا بھوکا تھا۔ ایران سے کشمیر میں نئی ​​علوم ، ثقافت اور اقدار لانے کے اس عمل سے ، حمادانی نے کشمیر کے منفرد معاشرتی اور ثقافتی اور مذہبی ماحول کو فروغ دینے میں مدد فراہم کی۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں کچھ دستکاری موجود تھیں لیکن زوال پذیر تھیں۔ انہوں نے امیر کو حمام دری ، کفش دوزی ، دزندگی ، کباب پازی ، حارثہ پازی ، قلعہ پازی ، گلکاری ، زرگری ، احفی ، قلین بافی ، کاگاز سازی ، قلمدان سازی ، اکاکی ، سوزان کاری ، اور جلد کی تعارف کا سہرا دیا۔ مثال کے طور پر ، پہلی جماعت حمام ، خانقاہ موالہ میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کشمیر کا واحد مقام ہے جہاں ایک منزل پہلی منزل پر چلتی ہے۔ عام طور پر حمام زمین کے فرش میں کام کرتے ہیں۔ اس نے اسلامی اخلاق کو انسانی ترقی کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔

    1339 میں ، شاہ میر شاہ راج خاندان کا افتتاح کرتے ہوئے ، شاہ میر کشمیر کا پہلا مسلم حکمران بن گیا۔ اگلی پانچ صدیوں تک ، مسلم بادشاہوں نے کشمیر پر حکمرانی کی ، جس میں مغل سلطنت بھی شامل ہے ، جس نے 1586 سے 1751 تک حکمرانی کی اور افغان درانی سلطنت ، جس نے 1747 سے 1819 تک حکومت کی۔ اسی سال رنجیت سنگھ کے ماتحت سکھوں نے کشمیر کو الحاق کرلیا۔ 1846 میں ، پہلی اینگلو سکھ جنگ ​​میں سکھ کی شکست کے بعد ، معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے اور معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں سے اس خطے کی خریداری پر ، جموں کے راجہ ، گلاب سنگھ ، کشمیر کا نیا حکمران بن گیا ۔ برطانیہ کے ولی عہد کی بالادستی (یا اقتدار) کے تحت اس کی اولاد کی حکمرانی 1947 تک برقرار رہی ، جب سابقہ ​​سلطنت متنازعہ علاقہ بن گئی ، جس کا %49 حصہ پر ہندوستان نے زبردستی قبضہ کر لیا اور اب تک وہاں کے لوگوں پر ظلم و ذیادتی کرتا ہوا آ رہا ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    سیاحت معیشت کی آمدنی کو بڑھاوا دیتی ہے ، ہزاروں ملازمتیں پیدا کرتی ہے ، کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دیتی ہے ، اور غیر ملکیوں اور شہریوں کے مابین ثقافتی تبادلے کا جذبہ پیدا کرتی ہے.
    پاکستان کو 2020 کے لئے سب سے بہترین تعطیل کا مقام قرار دیا گیا تھا اور اسے 2020 کے لئے دنیا کی تیسری سب سے اعلی امکانی مہم بھی قرار دیا گیا تھا۔ جیسے ہی ملک میں سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے ، سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں کشمیر کی سیاحت پر کشمیر "پیراڈائز آن ارتھ” کے نام سے مشہور ، جموں و کشمیر اپنی قدرتی شان ، برف سے ڈھکے پہاڑوں ، بہت سارے جنگلات کی زندگی ، شاندار یادگاروں ، مہمان نواز افراد اور مقامی دستکاری کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ملکی اور ایک حد تک غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ پہاڑی مقامات اور قدرتی مناظر ، اور مناسب حفاظت کی فخر کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق 2018 میں ، 1.4 ملین سے زیادہ سیاحوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔

    زرخیز، سبز، پہاڑی وادیاں آزاد کشمیر کے جغرافیہ کی خصوصیت ہیں ، جو اسے برصغیر کا ایک خوبصورت خطہ بنادیتی ہیں۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور جہلم ویلی اضلاع سمیت آزادکشمیر کے علاقوں میں موسم گرما میں انتہائی ٹھنڈا موسم ہوتا ہے جو کہ پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے. وادی کشمیر خوبصورت مناظر سے بھری ہوئی ہے اور یہاں سیاحوں کی توجہ کے بہت سے مقامات جیسے گنگا چوٹی ، دریائے نیلم ، بنجوسہ جھیل ، پیر چناسی ، منگلا ڈیم ، ٹولائپر اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ ان مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ، مقامی معیشت کو ایک بہت بڑا فروغ ملا اور ہم نے بھی شہر میں تیزی سے معاشرتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ فاسٹ فوڈ پوائنٹس ، صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سہولیات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں کو ان ریستورانوں اور ہوٹلوں کی ضرورت سے آگاہی حاصل ہوگئی۔ اب ، آزادکشمیر میں چھوٹے سے بڑے بڑے ہوٹل ، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں بہتر سہولیات اور بہتر انتظام ہے جس نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔

    کسی بھی خطے کے لئے انفرا اسٹرکچر سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف خوبصورت مقامات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، ہمارے پاس ایک اچھا انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو ان مشکل مقامات تک پہنچنے کے لئے مشکل اور مشکل سڑک پر مشکل سفر ہونے کے خوف کے بغیر سفر کرنا آسان ہوجائے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ماضی میں لوگ کشمیر جانے نہیں آئے تھے۔ ناران کا اسلام آباد سے فاصلہ 282.2 کلومیٹر ہے اور تولی پیر کا محض 142.2 کلومیٹر ہے لیکن لوگوں نے ناران کی آمد کو اس لئے ترجیح دی کہ صرف ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اور وہاں جانے کے لئے آسان اور آرام دہ سفر ہے۔ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ ، بنیادی ڈھانچے میں پیشرفت ہوئی ہے جس نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ تاہم ، ہمیں خطے میں سڑکوں ، رسائ پوائنٹس اور ہوٹلوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ذہن اور وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • کشمیر کے الیکشن پرسیاست . تحریر: محمداحمد

    کشمیر کے الیکشن پرسیاست . تحریر: محمداحمد

    کشمیر میں تمام جماعتوں کو اوران کے ماننے والوں کو مبارک ہو اور فاتح جماعت کو بھی اڈوانس مبارکباد
    تمام لوگوں سے چند سوالات ہیں ہمیشہ کے طرح یہ بھی الیکشن گزر جاہیں گے سب رہنماؤں کو چاہیے وہ ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ لوگوں سے آپ کو عزت ملے ۔ کل کو تمام سیاسی رہنما ایک ہی جگہ رہیں گے نفرت کو اتنا بھی آگے نہیں لے کے جانا چاہیے کہ جب ایک دوسرے سے سامنہ ہو تو چہرے سے شرمندگی کے آثار ہوں.

    سب اپنے مفادات اور نظریات کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کو حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے دریغ نہیں کریں گے مختلف طریقوں سے اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں عمران خان صاحب کے سوا کسی نے بھی آزادی کشمیر یا کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات نہیں کی جبکہ دوسری طرف مودی کشمیریوں پر ظلم کررہا تھا تو نواز شریف جندال سے کاروباری تعلقات بنا رہے تھے، مریم صفدر کو بتانا چاہیے 2015 میں اوفا مشترکہ اعلامیہ میں نوازشریف نے مودی کو خوش کرنے کے لئے مسلۂ کشمیر کیوں شامل نہیں کیا تھا؟ ‏

    اگرپاکستان مسلم لیگ نون الیکشن ہار گئی تو آزاد کشمیر کے الیکشن چوری کرنے کا الزام عمران خان پر ہوگا لیکن تمام احباب کو سب یاد ہے سابق وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا تھا ہر الیکشن چوری ہوتا ہے میں نے بھی چوری کرواۓ ہیں کیا کر لیں گے خداراہ کسی نے انسانی حقوق کی بحالی کی بات کی مقبوضہ کشمیر میں وہاں کے لوگوں پر جو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے آخر کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

    میری تمام احباب سے گزارش ہے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے کشمیر اپنے تشخص کے بارے میں ضرور سوچنا کہ کشمیری ہمارے منتظر ہیں ایسا نہ ہو کے یہ الیکشن ہمیں تقسیم در تقسیم کرتا چلا جاہے خدارا اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کے کیجیے
    یہ میری ذاتی رائے ہے ، آپ سب کی اختلاف رائے ہو سکتی ہے.
    خدا سب کا حامی و ناصرہو. آمین.

    @JingoAlpha

  • تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    کشمیر ایک جنت کی وادی ہے جہاں لوگ دور مقامات سے سیر کرنے کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس جنت نظیر وادی کو نظر لگ گئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں

    مگر افسوس صد افسوس! مسلم امہ انکھوں پہ پٹی باندہ کہ سوئ ہوئی ہے کسی کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ رہے کیا ان کا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا اپنا حق مانگتے ہیں؟

    ہم سب کو چاہیے کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے اس کو اجاگر کریں اور لوگوں کو دیکھیں کہ دیکھیں کتنے معصوم بچے یتیم ہوگے کتنی بہنیں، بیٹیاں یتیم ، لاوارث ہوگئیں

    یاد رکھو بے ضمیر مسلمانوں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ظلم جب حد اے بڑھ جاتا ہے مٹ جاتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں عمران خان صاحب کا اور ان انصافین کا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹ کی پرواہ کئے بغیر ظلم کو لوگوں تک پہنچایا اور دیکھایا کہ دیکھو اے بے حس لوگ 73 سال سے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں مگر آج تک ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا اب تو نسل کشی شروع کر دی ہے

    میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہیں کیا اپ کو اپکا حق نہیں دیا گیا کیا اپ پرجہاں رہتے ہیں ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑے گے پھر ایسا دوہرا معیار انڈیا میں کیوں؟

    زرا سوچیئے سب ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں دکھ تکلیف اسی کو ہوتی ہیں جس کو درد ہوتا ہے دکھ درد اسی کو ہوتا ہے جس کے گھر کوئی چلا گیا ہو یا معزور کر دیا جاتا ہے

    میرا کشمیر جہاں انسان کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر بنا دی گئی ہے۔ کل کا واقع ہے جہاں ایک بزرگ کشمیری خاتون کوانڈین آرمی نے جس بیدردی، سفاکیت سے فوجی گاڑی تلے کچلا اور شہید کیا اسکے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔

    کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہے اقوام متحدہ؟

    کشمیریوں کی یہ قربانیاں پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام پر قرض ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران یا مقتدر قوتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟

    @MalikGii06

  • کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    ج کل مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کی الیکشن کیمپین میں نوازشریف کو کشمیر کا بیٹا ثابت کررہی ہیں۔
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان کو کشمیر کا سفیر قرار دے رہے ہیں۔
    آئیے ماضی کے جھروکوں میں دیکھتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ درست مخلص کون ہے۔
    سب سے پہلے بات کرتے ہیں
    سابق وزیر اعظم نواز شریف
    کی جو تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہے۔
    مگر کمال کی بات ہے۔ تینوں دفعہ ہی کشمیریوں کا کوئی خاص فائیدہ نہیں کر پائے۔ بلکہ نوازشریف
    تو کشمیر کو صرف الیکشن کی حد تک ہی یاد رکھتے تھے۔
    جب ووٹ لینے ہوتے تو کشمیر کو چل پڑتے۔ اور اس کے بعد کشمیر کو بھول جاتے تھے۔
    آجکل مریم صفدر اعوان نوازشریف کو کشمیر کا سچا دوست قرار دے رہی ہیں۔ محترمہ مریم صفدر اعوان کی باتوں پر کتنا یقین کرنا چاہیے یہ تو مریم صفدر اعوان کے اس بیان کہ "میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے” سے ہی واضح ہے۔
    پھر اس کے کچھ ہی عرصے بعد مریم صفدر کے اثاثے ایک ارب روپے سے زیادہ کے نکلتے ہیں۔ مریم صفدر اعوان کی بیٹی کی شادی پر نریندر مودی کی آمد ہوتی ہے۔ اور
    مودی جو مسلمانوں اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے
    اس کی جاتی عمرہ آمد پر خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔
    یہاں تک کہ شریف خاندان کی انڈین تاجر سجن جندال جو کہ را کا فنانسر ہے کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں۔ ان خفیہ ملاقاتوں کی ضرورت شریف خاندان کو کیوں ہے ؟ اس کا اندازہ شریف خاندان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کو بخوبی ہے۔
    اس کے علاوہ نوازشریف کشمیریوں کے خون سے بے وفائی کرتا ہے۔ اور تاریخ میں پہلی دفعہ حریت رہنماؤں کو ناراض کرتا ہے۔ جس کے ردعمل میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی 2015 میں نوازشریف کی بے وفائی کی وجہ سے پاکستانی سفارت خانے کی عید ملن دعوت میں احتجاج کے طور پر شرکت نہیں کرتے۔
    اور نوازشریف کی بھارت نوازی اس حد تک ہوچکی ہے۔ کہ
    حضرت نوازشریف نے آج تک
    کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گرد کا نام لے کر آج تک انڈیا سے رسمی احتجاج تک نہیں کیا۔
    جبکہ اب بات کرتے ہیں کشمیر کے حقیقی سفیر جناب وزیراعظم عمران خان کی۔ جس نے ابھی حال ہی میں دورہ ازبکستان میں بھارتی حکومت کے غیر قانونی ، کشمیر میں ریاستی ظلم و بربریت کی وجہ سے
    بھارتی وزیر خارجہ سے ہاتھ تک نہیں ملایا۔

    اقوام متحدہ سے لے کر غیر ملکی سفیروں کو کشمیر پر بھارتی ظلم کو بے نقاب کیا۔
    وزیراعظم عمران خان کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے مودی حکومت بیک فٹ پر جا چکی ہے۔
    اور کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے ستر سال بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ زندہ ہوا۔
    وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے ایشو پر دوست ممالک کو بھارتی ظلم سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کو انڈر پریشر رکھا۔
    وزیراعظم عمران خان نے اب آزاد کشمیر کی سیاحت کو
    پروان چڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس سے آزاد کشمیر کی عوام کے روزگار میں اضافہ بھی ہوگا۔ اورعوام کو اچھی تفریح بھی میسر ہوگی۔
    پورے آزاد کشمیر کو جنوری تک ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔
    یہ اتنا زبردست قدم ہے جس کا عوام کو ہر گزرتے دن
    کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتاجائے گا۔ ہر خاندان کو
    سات لاکھ روپے سے زائد سالانہ ہیلتھ انشورنس میسر ہوگی۔
    جس سے غریب عوام اور مڈل کلاس لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں گی۔ اور عوام کو میڈیکل کی بہتر سہولیات ملیں گی۔
    مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کے پینتیس سے زائد حلقوں میں سے صرف ایک درجن کے قریب کشمیر کے الیکشن میں امیدوار کھڑے کرکے ایک ناکام الیکشن کیمپین چلا رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے تمام حلقوں میں اپنے وننگ ہارسز کھڑے کیے ہیں۔ اب فیصلہ آزاد کشمیر کی عوام کو کرنا ہے کہ پچیس جولائی کو بلے کے نشان پر مہر لگا کر حقیقی اور خوشگوار تبدیلی لانی ہے یا پھر وہی پرانا اور بانجھ سٹیٹس کو کا سسٹم ہی برقرار رکھنا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چند عرصہ پہلے ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن میں کیے گئے وعدے فتح کو فوراً بعد عملدرآمد شروع کردیا ہے۔
    جس سے آنے والے سالوں میں تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلنے کا روشن امکان ہے۔