Baaghi TV

Category: کشمیر

  • وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے،اور آج سے آزادکشمیر الیکشن مہم میں حصہ لیں گے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان ازبکستان کا دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں اور آج یعنی ہفتے کو آزاد کشمیر کے شہر باغ کا دورہ کریں گے اور انتخابات کی مہم میں حصہ لیں گے۔

    وزیراعظم باغ کے بعد بھمبر، میرپور اور مظفر آباد میں بھی جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  • آزاد کشمیر کے  انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آزاد کشمیر کے انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آج کل الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا گلی چوراہوں ایک ہی بات پہ بحث ہورہی کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں جیت کا سہرہ کس پارٹی کے سر سجے گا یہ تو 26 جولائی کو پتا چلے گا مگر اس وقت انتخابی دنگل کا معرکہ بہت زور وہ شور سے شروع ہو چکا ہے۔ بڑی پارٹیوں کو ٹکٹ کی تقسیم میں ہر حلقے میں مشکل کا سامنا ہے۔ سفارش، اقرباء پروری، مرکز کی پسند اور ناپسند، سینئر رہنماؤں کی دو دو حلقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نے پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ہر ایک حلقہ سے ہر جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مرکزی قیادت اور لیڈران کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز کر لیا ہے۔
    اب ایک نظر آزاد کشمیر پہ ڈالتے ہیں۔آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازا 40 لاکھ ہے۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اضلاع میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفر آباد، ضلع میر پور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔
    آزادکشمیر کے 29 حلقوں میں 22 لاکھ 37 ہزار 58 ووٹ جبکہ مہاجرین کے 12 حلقوں کیلئے 4 لاکھ 44 ہزار 634 ووٹ ہے ،گو کہ یہ انتخابات پاکستان کے حالات یا آزاد خطے کے تقدیر بدلنے کے لئے اتنے اہم نہیں ہوتے لیکن کشمیر میں انتخابات کا موسم آتے ہی ہر گھر ، بازار ، چوراہے اور گلی کوچوں میں سیاست پر بحث کی جاتی ہے۔

    ووٹ کا فیصلہ برادری کا سربراہ کرتا ہے۔ بڑی برادریاں الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کراتی ہیں جبکہ چھوٹی برادریوں کو اپنی بقاء کے لئے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو برادری یا فرد بڑی برادریوں سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو داستان عبرت بنادیا جاتا ہے آزاد کشمیر کے انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ہر دور میں یہ انتخابات خونی تصادم کی شکل اختیار کرتے رہے ہیں۔ برادریاں اپنی گردن بلند رکھنے کے لئے باقی برادریوں کی گردنیں اتارنے سے گریز نہیں کرتیں۔جیت ایک سیاسی جماعت یا ایک برادری کی ہوتی ہے مگر شکست انسانیت کی ہوتی ہے۔ ایک نشست کی خاطر عزتوں کی پامالی ہوتی ہے، تعلقات اور دوستیوں کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔
    موجودہ الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کو کوئی بہتر طریقے سے اپنے منشور میں شامل نہیں کیا ۔ایسا لگتا ہے جیسے کشمیری شہدا کے خون کے ساتھ غداری کی جا رہی ہے اور معصوم کشمیریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    آزاد کشمیر میں انتخابی مہم اس وقت غیرریاستی یعنی پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے بڑے لیڈر چلا رہے ہیں۔ مقامی قیادت بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ پاکستانی لیڈرز اپنی انتخابی تقریروں میں بالعموم وہی زہر اگل رہے ہیں جو پاکستان میں ان کا خاصہ ہے یعنی گالم گلوچ، دشنام طرازی، الزامات اور بہتان، جوش خطابت میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں، اسے ابھی پاکستان کا حصہ بننا ہے۔ 
    کہیں کشمیر سے تعلق ظاہر کرنے کے لئے فوٹو شاپ کی مدد لی جارہی ہے تو کہیں پہ وہی نعرہ روٹی کپڑا مکان تو کہیں اس تبدیلی کی رٹ لگائی جارہی ہے جو مجھ سمیت بہت سے پاکستانی امید لگائیں بیٹھں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کشمیر کے لوگ کس پارٹی کے سر پہ اقدار کا تاج سجاتے ہیں یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

  • کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    جب سے بھارت نے کشمیر کی آزاد حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے تب سے کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں
    بھارت چاہتا ہے کہ کشمیر کی جگہ دو علاقے بن جاٸیں ایک کو وہ جموں کشمیر کا نام دینا چاہتے ایک کو لداخ کا اسی وجہ سے آرٹیکل 370 ختم کیا گیا ہے اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور مودی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا نظام لیفٹینٹ گورنر چلاٸیں جو کے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے
    جہاں آرٹیکل 370 ختم ہوا وہیں اس کی ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرمملکت تبدیلی و حکم نامے جاری کرنے کے مجاز ہونگے
    کشمیر میں اس وقت بدترین حالات ہیں بھارتی جارحیت اپنے عروج پہ ہے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں
    کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اقوام متحدہ کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی چپ سادھ رکھی ہے
    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس ارٹیکل کے خاتمے کے بعد انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوگا
    بھارت اقوام متحدہ کی بھی کسی قرارداد کو خاطر میں نہیں لا رہا ..

    کشمیریوں کی صبح آہ و بکا کرتے ہوتی ہے اور شام تک کسی نا کسی گھر کا چراخ گل کر دیا جاتا ہے کبھی آزادی پسند کہہ کے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے تو کبھی دہشتگردانہ کارروائياں کر کے نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے ..
    پیلٹ گنز سے نشانہ بنایا جاتا ہے رسیوں سے باندھ کے گاڑیوں کے پیچھے گھسیٹا جاتا ہے کشمیری بہنوں کی اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے مطلب کے انسانی حقوق کی پامالی کا وہ کام نہیں جو قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں پہ نا کیا ہو ..
    آرٹیکل 370 ختم کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے اس سازش کا لب لباب یہ ہے کہ بھارت کشمیر میں غیر کشمیری آبادکاری کرنا چاہتا ہے اور یہی قانون بھارتی راستے کی رکاوٹ تھا اب بھارتی کشمیر میں آباد ہونگے تو بہت جغرافیاٸ تبدیلیاں واقع ہونگی اور کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جاۓ گا ..
    مقبوضہ جموں کشمیر کا جھنڈا الگ ہوتا تھا اس قانون کے خاتمے کے بعد یہ حق بھی کشمیر سے چھین لیا گیا ..
    اتنا بھارتی جارحیت ہونے کے باوجود عالمی دنیا کا مسلہ کشمیر پہ چپ رہنا المیہ ہے .؟
    کیا اقوام متحدہ کشمیر کو فلسطین بننے دیگا .؟

  • آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت
    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں 25 جولائی 2021 کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کو زور لگا رہے۔

    آزادکشمیر الیکشن کو کامیاب بنانے کیلئے وفاقی وزراء بھی PTI کے حق میں بھرپور مہم چلارہے ہیں جبکہ دوسری طرف مریم نواز بھی اس وقت آزاد کشمیر میں ہیں اور بلاول بٹھو زرداری بھی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

    ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں وہیں دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے آزادکشمیر میں گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلم کانفرنس، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں برسرِ اقتدار تھیں۔ آزادکشمیر کی عوام ان پرانے سیاستدانوں سے نالاں ہوچکی ہے۔ یہ سیاستدان ہر بار پارٹیاں اور انتخابی نشانات بدل کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں۔

    یہ سیاستدان ہماری بھولی بھالی کشمیری عوام کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے جھوٹے وعدوں کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ہماری سادہ لوح عوام ان سیاستدانوں کے وعدوں اور دعووں پر اعتبار کرلیتی ہے پھر بعد میں پانچ سال پچھتاتی رہتی ہے۔

    آج حالات بدل چکے ہیں۔ عوام کافی حد تک سمجھدار ہوچکی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگ اپنے سیاسی حقوق کو پہچانیں اور انفرادی مفاد کے بجائے علاقائی سطح پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

    آزادکشمیر کے علاقے ابھی تک پسماندہ ہیں۔ اسکول، ہسپتال اور سڑکیں تک موجود نہیں ہیں۔ کشمیری عوام سمجھ لے آپ کے منتخب سیاستدان ہر بار ووٹ لینے کے چکر میں آپ کو تعمیر و ترقی کے لالی پاپ دے جاتے ہیں۔

    آج الحمدالله ہماری نوجوان نسل باشعور ہوچکی ہے۔ نوجوان سمجھ چکے ہیں ان موسمی سیاستدانوں کا نہ کوئی مستقل نظریہ ہوتا ہے اور نہ کوئی وژن! ان سیاستدانوں کا نظریہ اقتدار کی سیاست اور انکا وژن کرپشن ہے۔ لہذا اس بار ووٹ صرف اسی امیدوار کو دیں جو عملی طور پر آپکے حلقے کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مخلص ہو. اس امیدوار کو ووٹ دیں جسکو عوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہو اور وہ امیدوار اچھے اور برے حالات میں عوام کے درمیان ہو۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تعلیم کیلئے اسکول اور کالجوں کی ضرورت ہے۔ صحت کیلئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں بہترین طبی عملے اور ادویات کی ضرورت ہے۔ آمد ورفت کیلئے پختہ سٹرکوں اور شاہرات کی ضرورت ہے۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تیز ترین 3G اور 4G سروس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 7 سال سے تھری جی اور فور جی سروس چل رہی ہے لیکن بدقسمتی آزادکشمیر میں ابھی تک ناکارہ 2G سروس چل رہی ہے۔

    آزادکشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے۔ میرٹ پر جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو آزادکشمیر ترقی کرے گا۔

    امید ہے اور دعا ہے جو سیاسی جماعت بھی آزادکشمیر برسراقتدار آئے وہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مخلص ہو۔ میری دلی دعا ہے الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو ایمانی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ اللہ پاک وطن عزیز پاکستان اور آزادکشمیر پر اپنا خصوصی کرم نازل فرمائے ۔

    پاکستان زندہ باد
    آزادکشمیر تابندہ باد

  • ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 22 سے نامزد امیدوارکرنل (ر) ظفرخادم نے پائینولہ میں کارنرمیٹنگ سے خطاب کیا ہے.

    ہمارا مقابلہ کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ریاست کشمیرکے دشمنوں سے ہے، جنہوں نے کشمیریوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالا ہے، ہم نے سیاست کا آغازکاروبارنہیں خدمت اورعبادت سمجھ کرکیا ہے، کرسی کا نشان مضبوط اورمستحکم ریاست کشمیرکا نشان ہے، کشمیرمیں امن، روزگاراورتجارت کی بہتری کے لیے کرسی پرمہرلگائیں، ہم آپ کے ووٹ کی حفاظت اورحلقے کے مسائل حل کریں گے۔

    کرنل(ر)ظفرخادم کا کہنا تھا کہ میں نے ایل اے 22 دیکھا امیدواروں نے جو وعدے کئے وہ وفا نہیں ہوئے ہیں، ہم جھوٹ کی جگہ سچ لانا چاہتے ہیں، خیانت کی جگہ امانت ودیانت لانا چاہتے ہیں، لوٹ کھسوٹ کی جگہ ریاست کشمیرکے خزانے کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ہم سوچ و بچارکے بعد سیاست میں آئے ہیں، ہم کسی کا ووٹ خراب کرنے نہیں آئے بلکہ ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے میدان میں نکلے ہیں.

    منتخب ہونے کے بعد خود نہیں کھاﺅں گا بلکہ حلقے پرلگاﺅں گا، 25 جولائی تک ترقیاتی کاموں پرپابندی ہے اس کے بعد اللہ نے جتنی توفیق دی ہے کام کروائیں گے، خدمت کی سیاست کریں گے، مسئلہ کشمیرذاتی یا سیاسی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، مقبوضہ کشمیرکی عوام اپنے خون سے تحرےک آزادیی کشمیرکی آبیاری کررہے ہیں، کشمیرکی آزادی پاکستان کی مضبوطی اوراستحکام کی ضمانت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریںگے.

  • عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل نے راولا کوٹ بلدیہ اڈہ میں انتخابی دفترکا افتتاح کیا ہے،
    کرسی کا انتخابی نشان عزم، یقین اوراجالوں کا نشان ہے، ہم ریاست کشمیرکا مستقبل روشن کرنے آئے ہیں، خدمت انسانیت کی بنیاد پرووٹ لے کرایل اے 21 سے کامیابی حاصل کریں گے، منشیات فروش اورقبضہ مافیا راولا کوٹ پہ قابض ہے، کرپشن، لوٹ مارکی سیاست کے خاتمے کے لئے کرسی پرمہرلگائیں، ہماری تحریک آپ کے مفادات کا تحفظ کرے گی.

    اس موقع پرایل اے 21 سے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی، امیدوارانجینئرکاشف جمیل کے انتخابی دفتر پہنچنے پراہلیان علاقہ نے ان کا بھرپوراستقبال کیا ہے، پھولوں کے ہار پہنائے گئے ہیں.

    افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21 سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل کا کہنا تھا کہ عوام 25 جولائی کو کرسی پرمہرلگا کرکرپشن کے سرداروں کومسترد کردیں گے، عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، کرسی پرمہرلگا کراپنی تقدیربدلیں اور ریاست کشمیر کو مضبوط بنانے کے لئے ہمارا ساتھ دیں، کرپشن کا خاتمہ اورقومی خزانہ لوٹنے والوں کا احتساب کریں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے ووٹ کے تقدس کواب تک پامال کیا گیا ہے، حلقہ ایل 21 کی عوام ہرطرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، ہمارے نوجوان ڈگریاں لیکرسڑکوں پردھکے کھانے پرمجبورہیں، ہم لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے سیاست میں اترے ہیں، قوم ہمارا ساتھ دے انہیں کبھی مایوس نہیں کریں گے۔

  • نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    جاتلاں میں جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوارچوہدری خالد حسین کی جانب سے ایک کامیاب جلسہ کیا گیا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد نے پرجوش اندازمیں پھولوں کی پتیاں نچھاورکرکے استقبال کیا ہے، پنڈال جیوے جیوے خالد حسین کے نعروں سے گونج اٹھا ہے.

    جاتلاں کے مقامی لوگوں نے ایک جلسے کا انعقاد کیا ہے، جلسے کے مہمان خصوصی جموع کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی ٹکٹ پرنامزد امید وارچوہدری خالد حسین ہیں، علاقہ مکین نے پرجوش استقبال کیا ہے پھولوں کی پتیاں نچھاورکی ہیں، ہارپہنائے گئے ہیں، جاتلاں کی عوام نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، 25 جولائی کوکرسی پرہی مہرلگایئں گے، مزید کہا کہ اب باری والوں کی کشمیرمیں کوئی جگہ نہیں ہے، خدمت کرنے والوں کوموقع دیں گے، نظریاتی جماعت ہی کشمیر کے مستقبل کی ضامن ہے.

    چوہدری خالد حسین نامزدامیدوارنے علاقہ مکین کا شکریہ ادا کیا ہے، عوام کے توقعات پرپورا اترنے کا عزم کیا ہے، ہم ایک نظریہ کو لے کر سیاست میں آئے ہیں، نظریاتی ساست ہی ہمارا مقصد ہے.

  • شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    نامزد امیدواراسمبلی تحریک انصاف آزاد کشمیر حلقہ ایل اے 29 خواجہ فاروق احمد کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ گاہ آمد پروفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور، مراد سعید اوررہنما پی ٹی آئی آزاد کشمیرسردارتنویرالیاس خان کا شانداراستقبال کیا گیا ہے.

    وفاقی وزیرمراد سعید کوجلسے شرکا نےاپنے کاندھوں پراٹھا لیا ہے، جلسہ گاہ میں پنڈال عوام ے بھرا ہوا ہے، شرکا نے پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی بھی کی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ شرکا یہ محبت 25 جولائی کوکس نشان پرمہرلگائے گی.

    جلسہ سے علی امین گنڈہ پور، مراد سعید اورتنویرالیاس نے خطاب کیا ہے، شرکا سے خطابات کرتے ہوئے مہمانوں نے پارٹی کا منشوربتایا ہے، مزید کہا ہے کہ 25 جولائی کو کشمیرکی غیرت مند عوام بلے کے نشان پرمہر گا کریہ ثابت کرے گی کہ کشمیرکے اصل محافظ پی ٹی آئی کی جماعت ہے.

  • بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    بنجوسہ جھیل پر لوگ مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے،محبت کے اظہار کے لئے "آئی لو یو” کے نعرے

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اس وقت آزاد کشمیر میں موجود ہیں –

    باغی ٹی وی : مریم نواز آزاد کشمیر میں ایک طرف وہ انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وہیں آزاد کشمیر کے خوبصورت مقامات سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

    مریم نواز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کافی متحرک ہیں مریم نواز کی جانب سے ٹوئٹر پر آج بنجوسہ جھیل کے مقام سے خوبصورت تصاویر شئیر کی گئی ہیں جنہیں صارفین کی جانب سے خوب پسند بھی کیا جا رہا ہے۔


    مریم نواز نے شئیر کی گئی تصاویر میں پیلے رنگ کا جوڑا زیب تن کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ کی طرح دلکش دکھائی دے رہی ہیں-

    مریم نواز کا تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہنا ہے یہاں ہر منٹ میں تازگی مل رہی ہے۔


    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے لیگی رہنما پرویز رشید کے ساتھ بھی تصویر شئیر کی اور انہیں اپنا ’بڈی ‘ قرار دے دیا۔


    بنجوسہ جھیل پر سیر کے لیے آئے لوگ بھی مریم نواز کو دیکھ کر خوش ہو گئے کراچی سے آئے سیاحوں نے مریم نواز کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جب کہ مریم نواز نے بھی ان سے گپ شپ کی۔

    مریم نواز کے لیے لوگوں نے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ’ لو یو‘ کے نعرے بھی لگائے جبکہ مریم نواز نے ’آئی لو یو ٹو ‘ کہہ کر چاہنے والوں کی محبت کا جواب دیا۔


    اس موقع پر نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے ہمراہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی موجود ہیں۔

  • پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    آزاد کشمیرمیں پی ٹی آئی کی امید وارڈاکٹرنازیہ نیازراجہ کو کامیاب بنانے کےلئے پربھرپورکوشش کی جا رہی ہے، ڈھڈمبرکالونی پچنند کے علاقہ مکینوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں.

    ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی ہدایت پرضلعی صدرپاکستان مسلم لیگ ق ملک اسد محمود کوٹ گلہ اورحاجی عمرحبیب، ملک شیر، افضل باٹا کی آزاد کشمیرالیکشن مہم کے سلسلے میں ڈھڈمبرکالونی پچنند میں میٹنگ منعقد کی گئی ہے.

    اس میٹنگ میں کشمیری برادری کے حاجی شوکت حسین جرال، حاجی محمد عظیم، محمد منیر، محمد ظفر، راجہ وسیم، قاضی افتخار، قاضی ممتاز، محمد شکیل جرال، محمد جمیل جرال، موسیٰ جرال شانی جرال، قمرجرال، قاضی ذوالفقار، راجہ طاہر محمود، اوردیگر اہلیان ڈھڈمبر کالونی پچنند نے ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی قیادت پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرنازیہ نیازکی حمایت کا اعلان کردیا ہے.

    ڈاکٹرنازیہ نیازراجہ نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کریں گی. 25 جولائی کو بلے کے نشان کامیابی کا نشان ہوگا.