Baaghi TV

Category: کشمیر

  • آرٹیکل 370 کی بحالی  کے سوا مسئلےکا  کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    باغی ٹی وی : مودی سرکار کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی جب اس نے کشمیری سیاسی قیادت کو بلا کر نام نہاد اے پی سی بلائی ، اور اس میں کشمیری قیات آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے سوا کچھ منظور نہ تھا . بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا ز جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس چوبیس جون کو نئی دہلی میں طلب کی تھی۔

    کانفرنس میں چودہ افراد کو ملاقات کی دعوت دی گئی تھی ۔ان میں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ،پیپلز کانفرنس وغیرہ شامل ہیں ۔جموں سے جن شخصیات کو مدعو کیا ہے ان میں غلام نبی آزاد اور پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے ۔اس طرح دعوت ملاقات پانے والوں میں چار سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ ،غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی شامل تھے۔ان جماعتوں نے مودی کی کی کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے مشاورت کر نے کے بعد شرکت کا فیصلہ کیا حالانکہ کانفرنس کا کوئی پیشگی ایجنڈا نہیں تھا.

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصدیق

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    یوں اس کانفرنس کی ناکامی کے بعد بھارت کا ایک اور ڈرامہ فلاپ ہوگیا، جب کشمیری قیادت کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم کی آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے نقطے پر اختام پذیر ہوئی جس کا کوئی نتیجہ نہ تھا ، شرکا نے آڑٹیکل 370 کے کالعدم کرنے پر بھارتی وزیر اعظم پر خوب تنقید کی اور اس کو بحال کرنا ہی واحد حل بتایا

    نریندر مودی نے شرکاء‌ کے عزم اور غیض و غضب کا اندازہ لگاتے ہوئے چانکیائی چال کھیلی اور کہا کہ مناسب وقت پر مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔

    اے پی سی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہم بھی کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کروا کر دم لیں گے۔

    مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک لڑائی جاری رہے گی، پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور رہے گا، دوست بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں۔

    بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی نے مودی لتے لیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ سے دنیا میں بھارت کی دنیا میں بدنامی ہوئی، مودی سرکار کا یہ اقدام ایسا ہے جس سے بھارت کوکوئی فائدنہیں ہوا

  • مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل  ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے ہوئے دھماکہ کےباعث عمارت کی چھت تباہ ہوگئی جبکہ جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکےکےوقت ایئرپورٹ پرایک اعلیٰ سطح اجلاس جاری تھا-

  • مقبوضہ کشمیر اور پاکستان :تحریر: معین الدین بخاری

    مقبوضہ کشمیر اور پاکستان :تحریر: معین الدین بخاری

    کشمیر کا جب بھی ذکر کریں تو دو باتیں ضرور ذہن میں آتی ہیں ایک تو ظلم و ستم کی نا ختم ہونے والی داستان اور دوسری بات قائد اعظم محمد علی جناح کا مشہور قول کہ "کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔” تقریباً 73 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اہل کشمیر کے دکھ درد میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے بلکہ یہ ظلم و ستم کی داستان ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
    کشمیر ایک ایسی بے بسی کی تصویر ہے کہ جہاں اقوام متحدہ کے 194 ممالک میں سے صرف پانچ ممالک (چین، ایران، ترکی اور ملائشیا ) مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے لائی گئی پاکستانی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہیں باقی پوری دنیا اہل کشمیر پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ یوں تو شروع ہی سے کشمیریوں پر بے شمار مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں جن میں غیر قانونی پولیس تشدد، پھر کشمیریوں کا encounter اور معصوم کشمیریوں کی عصمت دری سر فہرست ہیں لیکن مودی کے موجودہ دور حکومت میں تو یہ مظالم ہر حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    آرٹیکل 370 اور 35 میں ترمیم کے بعد ہی کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں پر 9 لاکھ سے زائد فوج سے محاصرہ کر کے تمام کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے یہاں تک انکی فصلیں تباہ، ادویات ناپید اور اشیائے خور دنوش بھی چھین لی گئی ہیں۔ آئے روز درجنوں کشمیریوں کو پابند سلاسل کیا جانے لگا ہے۔ اسی طرح کئی کشمیریوں کو ناحق شہید کر دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ جو کشمیری کشمیر کے علاوہ رہائش پذیر ہیں انہیں بھی جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔
    ایسے سنگین حالات میں بھی کشمیری عوام نے پاکستان سے محبت کا دامن نہیں چھوڑا اور آج تک پر امید ہیں کہ پاکستان کی عظیم افواج اپنے خواب غفلت سے بیدار ہو کر آئیں گے اور انکی تمام مشکلات سے جان بخشی کروائیں گے ۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے اعوانوں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے اور دنیا سے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے لیکن بندہ ناچیز کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اقوام متحدہ تو اپنی پاس کردہ قرارداد کی حفاظت کیلئے بھی ایک لفظ تک نہیں بولا۔

    ادھر پاکستان میں حالات یہ ہیں کہ دیگر سیاستدانوں کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ صاحب نے بھی بیان دیا کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسے وقت میں جب انڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی ہندوستان کا حصہ ہے اور انڈیا کسی بھی وقت فوجی کارروائی سے یہ حصہ واپس لے کر قبضہ کر سکتا ہے تو ہمارے سیاست دانوں اور آرمی چیف کا بیان حیران کن ہے ۔
    آرٹیکل 370 کی ترمیم کے بعد بھارتی جنرل کانفرنس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان خواتین کی عصمت دری جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے اور ہمارے حکمران صرف اس بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ہم کشمیر کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے ۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں ہم جب اپنے سیاستدانوں سے یہ سنتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لوگ پاکستانی اور کشمیری قوم کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ جبکہ آج تیسرا سال خصوصی اور عمومی طور پر 73 سال سے زائد ہو گیا ہے اور پاکستان کشمیر آزاد کروانے کے درپے ہے پھر ہم ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکے جبکہ انڈیا پورے کشمیر پر قابض ہو گیا ہے تو حضرات میرا سوال صرف یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اہل کشمیر سے مخلص ہیں اور کیا واقعی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے؟ اگر جواب آپ کے پاس ہے تو ضرور دیجئے!

  • آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں
    پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنے اور
    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہشمند ہیں، عام انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی پارٹیاں اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امید وار ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ضمن میں کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار 2021 کے انتخابات میں اپنے کارکنوں اور انتخابی ٹیموں کو منظم کرنے اور ووٹروں کو پولنگ کے لیے متحرک کر کے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں جیسا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کا تعلق بیرون ملک سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے خواہشمند بھی ہیں. لہٰذا اطلاعات کے مطابق کئی سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے winelection.ai کی اس ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی کے لیےکانسٹچوینسی مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس ) بنایا اور اس پر عملدرآمد کرایا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے اس سسٹم کی افادیت کے بھرپور اعتراف کے ساتھ ساتھ نیوز ایجنسی رائٹرز اور معروف بین الاقوامی اخبارات نے انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ میں، پی ٹی آئی کی کامیابی میں سی ایم ایس کے نمایاں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ایک کلیدی ہتھیار قرار دیا تھا. جس کے ذریعے پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل الیکشن ڈے مینجمنٹ کی مکمل تیاری کے علاوہ اپنے تمام ووٹروں کی نشاندہی، پولنگ کے دن تمام ووٹروں سے رابطہ، پولنگ اسٹیشن ٹیموں کے ذریعے ہر ووٹ کی کاسٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں سے بروقت نتائج کا حصول یقینی بنایا تھا. پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی اکثریت نے عمران خان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں سی ایم ایس پر عملدرآمد کرایا تھا. جس کی بدولت ان علاقوں میں بھی جہاں رابطے کے دیگر ذرائع ناقص تھے، وہ اپنے ہر ووٹ کے حصول میں کامیاب رہے جبکہ دیگر پارٹیاں ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئیں تھیں.

  • مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتے سے مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کے درمیان مودی نے اچانک مقبوضہ کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے جو کل دلی میں ہو گا۔
    ۔ بھارت نواز پیپلز الائنز میں شامل سبھی جماعتوں نے طے کیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوں گے ۔ اس اجلاس کا اصل مقصد کیا ہے ۔اس کی تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔ مگر جان بوجھ کر حریت پسندوں کو اس اجلاس سے دور رکھا گیا ہے ۔

    ۔ یہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت نے کبھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پر اگر دیکھا جائے تو چند روز پہلے انڈیا پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں مدد کر رہا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی تاجکستان میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی میٹنگ میں ایک ساتھ ہوں گے۔

    ۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کے بارے میں پس پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ ابھی اس مرحلے پر اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے۔ اسے ریاست سے مرکزی علاقہ بنانے اور دوسرے سبھی معاملات میں کشمیر کی قیادت یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ جس کے سبب بین الاقوامی سطح پر انڈیا پر تنقید بھی ہوئی اور پریشر بھی بڑھا ۔ خاص طور پر ابھی بھی انٹرنیشل فورمز پر جو بھارتی سفارت کاروں سے جو سب سے پہلا سوال ہوتا ہے وہ مقبوضہ کشمیر بارے ہی ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو اکثر موقعوں پر سبکی کا سامنا بھی رہا ہے ۔

    ۔ اس لیے اس آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مودی بات چیت کا راستہ کھول کر شاید اب دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول پر ہے۔ سیاسی عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے ریاست میں انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تو اس طرح کے اقدامات سے بھارت کو نکتہ چینی کا جواب دینے میں آسانی ہو گی۔

    ۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کشمیر کے منظر نامے سے حریت پسندوں کو کامیابی کے ساتھ سائیڈ پر کر دیا ہے۔ یاد رکھنے کی چیز ہے کہ اب بات چیت حریت پسندوں سے نہیں بلکہ ہند نواز جماعتوں سے ہو رہی ہے اور یہ جماعتیں زیادہ خود مختاری اور دوسرے سوالات کے بجائے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے جیسے سوالات اٹھائیں گی۔۔ جیسا کہ محبوبہ مفتی نے پہلے تو نہ کی کہ وہ نہیں جائیں پھر ہاں کردی کہ وہ جائیں ۔ اور میڈیا ٹاک میں یہ بھی کہا کہ ہمیں آئین نے جو حق دیا اور جو ہم سے لے لیا گیا۔ اس کی بحالی کا ہم مطالبہ کریں گے۔ ۔ فاروق عبداللہ نے بھی کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنے کی بات کی ہے ۔۔ کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی کشمیر کے سابق وزیر اعلی کے طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پر انھوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے طور پر بحالی اس اجلاس کا سب سے اہم موضوع ہو گا ۔

    ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی لداخ سے کاٹے ہوئے ’’جموں وکشمیر‘‘ کا ’’ریاستی تشخص‘‘ بحال کرنے کا عندیہ دے۔ مگر اس تشخص کی ’’بحالی‘‘ کا اصل مقصد مگر یہ ہوگا کہ لداخ سے کاٹے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ’’صوبائی‘‘ حیثیت بحال کی جائے۔ ایسی بحالی کے لئے ’’ریاستی‘‘ یعنی صوبائی اسمبلی کے انتخاب ہوں ۔ مقبوضہ کشمیر میں محصور ہوئے بے بس ولاچار بنائے شہری ان میں حصہ لیں۔
    ’’اپنے نمائندے‘‘ چنیں تاکہ لداخ سے طاقت کے زور پر الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ’’مقامی اور صوبائی‘‘ معاملات کو براہ راست دہلی سے چلانے کی ضرورت نہ رہے۔ اور نام نہاد ’’منتخب صوبائی حکومت‘‘ ہی یہ فریضہ سرانجام دے۔ تو اس حوالے سے پاکستان کو گہری نظر بھی رکھنا ہوگی اورہوشیار بھی رہنا ہوگا ۔ کیونکہ مودی ایک نئی ’’گیم‘‘ کھیلنے کی تیاری میں ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تیاری میں ۔ اس لیے اس گیم کا حقیقت پسندی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ویسے بھارت اپنا پورا زور لگا چکا ہے کہ کشمیر کے مسئلے وہ اپنا ذاتی مسئلہ قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ تاہم بھارت سے وابستہ دنیا کے تمام تر کاروباری مفادات کے باوجود عالمی سطح پر کشمیر کو ایک تنازع ہی تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تو مقبوضہ وادی میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ تصویری خاکوں ہی نہیں بلکہ میڈیا کی رپورٹ کے ذریعے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے کشمیری اپنے حق کے حصول کے لئے لازوال جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ۔ اگر جائزہ لیا جائے تو مودی سرکار نے اپنی تمام تر قوت اقلیتوں کی نسل کشی میں لگا دیں اس سلسلے میں مقبوضہ وادی پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہزار سے زائد لوگ غائب کئے گئے اس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے گرفتار کرکے غائب کر دیئے گئے ۔

    ۔ بے بسی اور خوف کے سائے میں جیتی کشمیری خواتین کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہیں جو آئے اور انہیں اس خوف سے باہر نکالے کہ اب انکا سہاگ بھارتی فوج کی گولیوں سے محفوظ ہے۔ ۔ مقبوضہ کشمیر کی مجبور اور لاچار خواتین دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین سے انصاف مانگ رہی ہیں۔وہ دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں۔سہاگ اجڑ جانے کے بعد انکی مشکالات اور تکالیف کو سمجھا جائے اور بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ساتھ جو ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اقوام متحدہ میں بیٹھی خواتین اس پر خاموشی کیوں ہیں۔۔ بھارت نے 74 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ، کشمیری جان و مال اور عزت کی قربانیاں دے کر الحاق پاکستان کے لیے وفاداری کی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ عالمی طاقتیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بدترین کرفیو سے پوری طرح باخبر ہیں لیکن صرف معمولی مذمت جیسے بیانات کے سوا کچھ نہیں۔۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مغرب ویسے تو دنیا بھر میں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر شور مچاتا ہے لیکن بھارت نے تقریباً سات سو روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے پوری وادی کو ایک جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کے لیے جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے بھول کر پاکستان آگے بڑھ جائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پورے خطے میں امن کا قیام اس مسئلے کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

    ۔ بھارت کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا ہی ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس نے اب تک جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ مگر بھارت کے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری اپنے حق سے دستبردار ہوئے ہیں اور نہ ہی پاکستان نے ان کے حق میں آواز بلند کرنا چھوڑا ہے۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے 1947 ء سے لے کر اب تک ہمارا واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے۔ اور آج بھی یہ ہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو کرنے اور پورے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کروائے کیونکہ جتنی مرضی تجارت شروع ہوجائے ۔ جتنی مرضی امن کی آشائیں آپ چلا لیں ۔ جتنے مرضی ثقافتی طائفے یہاں وہاں کربھیج دیں ۔ کشمیر مسئلے کے حل ہوئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ اور پر امن تعلقات ہرگز قائم نہیں ہوسکتے۔

  • مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے       کانگرس رہنما

    مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے کانگرس رہنما

    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

  • مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے-

    ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوشش شروع کر دی ہے سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کے ساتھ میٹنگ کے لیے وفاقی داخلہ سکریٹری نے کشمیر اور ہندو اکثریتی خطہ جموں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہیں میٹنگ میں شرکت سے قبل کرونا (کورونا) ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

    جن سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل ہیں۔

    بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو نظر انداز کر دیا، نام نہاد اے پی سی میں شرکت کرنے والوں کو ایجنڈہ تک نہیں دیا گیا –

    مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں 48 گھنٹوں کے لیے اچانک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نے 24 جون کو دوپہر تین بجے نئی دہلی میں میٹنگ رکھی ہے جس میں ہمیں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم نے اس میٹنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہم اپنے موقف کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے رکھیں گے۔‘

    فاروق عبداللہ نے کہا: ’ان کی طرف سے کوئی بھی ایجنڈا فکس نہیں ہے۔ وہاں ہم ہر معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔‘

    اس موقعے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ’ان کا جو بھی ایجنڈا ہو، ہم اپنا ایجنڈا ان کے سامنے رکھیں گے۔ ہم کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند سیاسی اور دیگر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے اور جن کی رہائی ممکن نہ ہو، ان کی کشمیر منتقلی کا مطالبہ کریں گے۔‘

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مودی سے کہیں گے کہ 5 اگست کا اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے مقبوضہ کشمیر میں امن اسی وقت بحال ہو گا جب یک طرفہ فیصلہ واپس لیا جائے گا خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے بغیر جموں و کشمیر اور اس پورے خطے میں امن کی بحالی نا ممکن ہے۔‘

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما اور پی اے جی ڈی کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ’ہم بھارتی حکومت کے ایجنڈے پر دستخط کرنے نہیں جا رہے ہیں۔ اگر ان کی تجویز ہمارے حق میں ہوگی تو ہم حمایت کریں گے اور اگر حق میں نہیں ہوگی تو ہم برملا مخالفت کریں گے۔‘

    تاریگامی کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارتی حکومت نے میٹنگ کا کوئی ایجنڈا مقرر کیا ہے یا نہیں، ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں۔ ہم میٹنگ میں اپنے موقف کو دہرائیں گے۔ آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم آسمان کے تارے نہیں مانگیں گے بلکہ وہی مانگیں گے جو ہمارا تھا۔ ہمیں وہاں اپنے عوام کا وکالت نامہ لے کر جانا ہے۔‘

  • مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت کومسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے بھی مذاکرات کرنے چاہیے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ اگر مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے پاکستان سے بھی بات کرنی چاہیے اور خطے میں امن لانا چاہیے۔

    حریت کانفرنس میں کہا کہ حقیقی نمائندوں کےبغیرمسئلہ کشمیرپربات چیت بےمعنی ہے، اےپی سی عالمی برادری کوگمراہ کرنےکی کوشش ہے-

    جبکہ ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکام نے افغان طالبان سے دوحہ میں خفیہ ملاقات کی ہے تاکہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی یقین دہانی حاصل کی جاسکے۔

    دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے۔

  • "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟؟
    "کشمیر ہماری شہ رگ ہے” بانی پاکستان محمد علی جناح کے یہ الفاظ عوام پاکستان کے کشمیر موقف کی ترجمانی کرتے ہیں. کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں. پاکستان اور پاکستان اور پاکستانیوں سے کشمیر اور اہل کشمیر کے لیے جانوں کے نذرانے تک پیش کیے ہیں. قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے جس کو ہندو بنیے کی دوستی کی خاطر فراموش نہیں کیا جاسکتا.
    کوئی بھول سکتا ہے کشمیر میں بھارتی مظالم کو تو بھول جائے، کوئی بھول سکتا ہے افواج پاکستان کے ہزاروں شہداء کو تو بھول جائے، کوئی ہندو بنیئے کے ہاتھوں قیام پاکستان سے لے کر اب تک لاکھوں پاکستانیوں کی شہادتوں کو بھول سکتا ہے تو بھول جائے لیکن خدارا اس قوم کو بھولنے کو نہ کہے… یہ کشمیر کاز سے جڑے ہر انسان کی برداشت کی آخری حد ہے.
    ہر تھوڑے وقفے بعد عوام پاکستان کا نظریہ پاکستان اور کشمیر کاز پر ٹمپریچر چیک کرنے کو نئے نئے حربے و ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں. واللہ پاکستان کی عوام کشمیر پر کسی کمپرومائزنگ پالیسی، کسی ڈاکٹرائن یا فارمولے پر راضی نہیں ہوگی. کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ محمد علی جناح نے طے کیا تھا کشمیر پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے. کشمیر کو بھارت کو دینا پاکستان کی گردن بھارت کے ہاتھ میں دے دینا ہے.
    یہ ڈرامے یا ویب سیریز یہ امن کی آشائیں کس کی اجازت کے ساتھ لکھی اور ترتیب دی جاتی ہیں. کیوں ان کو روکا نہیں جاتا اور مستزاد یہ کہ موجود وجہ تنازعہ پاکستانی رائٹر عمیرہ احمد کی اسٹوری "دھوپ کی دیوار” جس میں نظریہ پاکستان کی دھجیاں اڑائی گئیں، کشمیر کاز کو یکسر فراموش کرکے بھارت سے دوستی اور امن کی پینگیں بڑھانے کی تلقین کی گئی، گندے پلید ہندو کو افواج پاکستان کے جوانوں کے برابر کا شہید کہا گیا یہ کس کی اجازت سے ہورہا ہے؟ کس نے اس کو لاجسٹک سپورٹ دی ہے. کس نے کراچی، لاہور، سوات اور کشمیر کے علاقوں میں اس سیریز کی شوٹنگ کی اجازت دی اور سپورٹ فراہم کی ہے.
    کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان سے جڑے لوگوں کے دل حد سے دکھی اس وقت ہوئے جب عمیرہ احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس نے 2019 میں افواج پاکستان کے ادارے ISPR کو اپنی اس کہانی کا مسودہ بھیجا تھا کہ آیا اس میں کہیں ترمیم کی ضرورت تو نہیں تو ادارے کی طرف سے اس کو بلا کر شاباش دی گئی اور مسودے کو من و عن اپروو کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں.
    اس پر عوامی پریشر آیا محب وطن حلقوں سے آوازیں اٹھیں تو نیوز کو ایڈٹ کردیا گیا، عمیرہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا اور اس نے بیان بدل لیا یا بدلوا دیا گیا کہ یہ اس کی ذاتی تخلیق ہے وہ خود اس کی اچھے برے ہونی کی ذمہ دار ہے کسی نے اس کو نہ سپورٹ کیا نہ کسی نے اس کو قائل کیا یہ لکھنے کے لیے….
    اداروں کو شفاف تحقیقات کرنی چاہیں کہ ان کا نام کیوں اورکس مقصد کے لیے استعمال ہوا کیونکہ کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان پر سستی کے ساتھ اگر افواج پاکستان کا نام جڑتا نظر آتا ہے تو محب وطن حلقے اس پر شدید دکھی ہوتے ہیں. کشمیر کاز فقط کوئی چند رٹے رٹائے جملے یا نعرے نہیں یہ ایک تحریک ہے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں اور کشمیریوں کا خون اس میں شامل ہے. کشمیر پاکستان کا مستقبل و بقاء ہے ہم ہرگز بھی اس ایشو پر کسی ذرا سی بھی سستی کے متحمل نہیں ہوسکتے.
    محمد عبداللہ

  • فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے آزادی کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں، اسرائیلی وبھارتی بربریت کا سامنا کرنے والے فلسطینی و کشمیری منزل کے حصول کیلئے پرامید ہیں، لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود جذبہ حریت زندہ ہے، ان خیالات کا اظہارکشمیری ، فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں نے کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست میں کیا-

    غزہ، فلسطین سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی بلال ایلاستال ، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ٹھہرے ہیں کا کہنا تھا کہ فلسطین میں کم از کم دو دہائیوں سے کٹھ پتلی انتظامیہ نے اسرائیلی مفادات کا تحفظ کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ اسرائیلی کو بربریت کرنے کی آزادی مل گئی-

    بلال ایلاستال کا کہنا تھا کہ فلسطینی مایوس نہیں ہیں بلکہ اپنے بچوں کو آزادی دلانے اور اسرائیل سے اپنی زمینیں واپس لینے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، اسرائیل دہشتگرد ملک ہے جو انسانی حقوق کو بھی روندتے ہوئے بربریت سے باز نہیں آتا،-

    پاکستان سے متعلق فلسطینی کیا سوچتے ہیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کی پشت پر ہے، وہ پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے-

    مقبوضہ جموں کشمیر سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے نوجوان عمر بٹ کا کہنا تھا کہ کشمیرکے اندر بھارتی غاصبانہ قبضے کے بعد سے آج تک ہر گھر کی ایک نہیں بے شمار درد بھری کہانیاں ہیں، ہزاروں آدھی بیوائیں اپنی شوہروں کی خبر تک جاننے سے محروم ہیں، پیلٹ گن سے ہزاروں بچے ، جوان اور بوڑھے بینائی کھوچکے ہیں، مگر جذبہ حریت سرد نہیں ہوا-

    سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کیلئے ہے، پاکستان کا نام لے کر کشمیری اپنی جان دے رہے ہیں، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی واضح کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کیلئے عملی اقدامات کی جانب آنا ہوگا-

    نوجوان صحافی رضی طاہر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کشمیر و فلسطین کیلئے بے چین ہیں ، وہ ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں-

    ڈاکٹر عبداللہ خلیل کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کے اتحاد کے بغیر مقبوضہ فلسطین و کشمیر کا حل ممکن نہیں ہے، میڈیا فورم سے محمد عدنان اسحاق، شمس حسین فاروقی، محمد ابوبکر صدیق، محمد آصف سیف نے بھی گفتگو کی اور امید ظاہر کی کہ امت مسلمہ کے نوجوان فلسطین اور کشمیر کیلئے سفارت کاری کریں گے اور مظلوموں کی آواز بنیں گے۔