بلاول بھٹو زرداری نے عباس پور کے جلسے میں اپنے خطاب کا آغاز نعرہ نعرہ بھٹو سے کیا ہے، بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے چاہنے والے کھڑے ہیں تو میڈیا والے کیسے کہ سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ختم ہوگئی ہے، یہ آپ کیلے ٹریلر ہے ہم تو میدان میں نکل چکے ہیں، کشمیر کے جیالوں بھٹو کے ساتھ دے کر آپ نے اپنا آپ دکھایا تھا، 25 جولائی کو وزیراعظم منتخب کرکے ہم بنی گالہ کا رخ کریں گے، یہ تاریخ میں کشمیر کیلئے سب سے اہم الیکشن ہے، دونوں طرف کیلئے ایک پیغام ہوگا، کشمیرکا سودا نا منظور ہے، کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آزاد کشمیرکی عوام کیلئے نا منظورہے، ہم مودی کوشادیون پردعوت نہیں دیتے، ہم مودی کی آنکھؤں میں آنکھیں ڈال کرجواب دے سکتے ہیں، ہمارا کٹھ پتلی وزیراعظم عمران کہتا ہے کہ میں کیا کروں، قائد عوام نے سکھایا ہے کہ ہزارسال جنگ لڑنا پڑی وہ جنگ لڑیں گے، مودی ایک طرف ظلم کررہا ہےعمران خان کا کیا جواب کیا ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیرکے نوجوان کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، کشمیر کی مائیں بہنیں جواب دیں گے، ہم کسی کو کشمیر کے سودے کی اجازتی نہیں دیں گے، کرتے ہوئے کہا عباس پور کے پہاڑوں میں نہیں دں گے، پورے پاکستان کوماننا پڑے گا دنیا کوماننا پڑے گا کشمیرکا فیصلہ کشمیر کی عوام کرے گی، کشمیر کی عوام خود فیصلہ کریںگے ، وہ فیصلہ اسلام آباد کو بھی ماننا پڑے گا، دہلی کوبھی ماننا پڑے گا، تبدیلی چہرہ کیا ہے، تبدیلی کا اصلی چہرہ مہنگائی ہے، ہم مہنگائی میں اپنے ہمسائیوں سے آگے ہیں، اس حکومت نے جس سکے پاس چھت تھی وہ بھی چھین لی ہے، ہم نے غریب طبقوں کا ساتھ دیا، آج بھی تاریخی مینگائی ہے، ہم نے اپنے دور میں کسی کو تنہا نہیں چھوڑا ہے.
Category: کشمیر
-

ایک ووٹ ایک موٹرسائکل کے بدلے بک رہا ہے، سرداربابرحسین
جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے امیدواران کا مرکزی سیکرٹریٹ میں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدواروں اورمرکزی کارکنان نے شرکت کی ہے.
جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے سربراہ سرداربابرحسین نے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقدہ امیدواران کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کشمیر کے وسائل پہ قابض لوگوں کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، عوام 25 جولائی کو کرسی پہ مہر لگا کرہمیں کامیاب کریں، ریاست کشمیر کے لوگوں کا معیارزندگی بلند کرنا اولین ترجیح ہے، مقبوضہ کشمیرکی آزادی کے لیے سیاسی تحریک کھڑی کریں گے، ایک ووٹ کے بدلے ایک موٹرسائیکل دیکرووٹ خریدے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن اس کا نوٹس لے، کشمیر کی تحریک کو دنیا بھرمیں اجاگرکرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے، بلدیاتی انتخابات کیلئے ریاست کومجبورکریں گے، تا کہ نوجوان قیادت آگے آئے اورریاست کشمیرکی تعمیروترقی میں اپنا کردارادا کرے.
ہماری زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت اوریہی ہماری سیاست کا طرہ امتیاز ہے، 25جولائی کو کرسی کو ووٹ دیں کوئی بھی آپ کو ترچھی نگاہ سے نہیں دیکھے گا، ہم کرپشن، لوٹ مار کرنے نہیں بلکہ ریاست کشمیرکو سنوارنے کے لئے آئے ہیں، ڈورٹوڈورمہم چلائی جائے گی، وقت بہت کم ہے مگر ہماری ساری امیدیں اللہ تعالی کی ذات سے وابستہ ہیں، جموں کشمیر یونائیٹڈموومنٹ کشمیر کی واحد جماعت ہے جو مذہبی فرقہ واریت، سیاسی فرقہ واریت کا خاتمہ کرسکتی ہے، ختم نبوت اورحرمت رسول ﷺ کے دفاع کیلئے پوری کشمیری قوم کو متحد کریں گے، جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کسی خاص، فرد، برادری یا گروہ کی جماعت نہیں ہیں، ہم تمام کشمیریوں کی نمائندہ جماعت ہیں، شہدائ، غازیوں اوران کے لواحقین کے لیے ویلفیئر کا بہترین نظام قائم کریں گے، شہداء کے خاندانوں کوخصوصی پروٹوکول دیں گے. -

مسلم کانفرنس کی اہم رکن پی ٹی آئی میں شامل
مسلم کانفرنس کوحلقہ غربی باغ میں 440 وولٹ کا جھٹکا لگ گیا ہے، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف توصیف عباسی کی جارحانہ بیٹنگ جاری ہے.
سینئررہنما اورمسلم کانفرنس شعبہ خواتین راولپنڈی کی صدرشہناز خان نے مسلم کانفرنس چھوڑ کرپاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، چیف آرگنائرزسینیٹرسیف اللہ نیازی سے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات ہوئی ہے، تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات توصیف عباسی اور چیف آرگنائزر تحریک انصاف کے چیف آف سٹاف کرنل (ر) امان اللہ بھی موجود ہیں.
سابق صدر مسلم کانفرنس شعبہ خواتین راولپنڈی نے کہا کہ ہل سرنگ سمیت غربی باغ کا پوراعلاقہ تحریک انصاف کے پرچم تلے متحرک ہوچکا ہے، وزیراعظم عمران خان کے تنازعہ کشمیر پرتاریخی مؤقف نے اہلِ کشمیر کے حوصلوں کو جلا بخشی ہے. -

جعلی سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک کو گرفتار نہ کرنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی
دی وائس کے زیراہتمام جعلی سیگریٹ بنانے والی کمپنی وے وارڈ کے خلاف مظفرآباد مرکزی ایوان صحافت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، مظاہرین نے پلے کارڈ اورکتبے اٹھا رکھے تھے، جن پروے وارڈ کمپنی کے خلاف انتظامیہ اورپولیس کے خلاف نعرے درج تھے، فضا نااہل انتظامیہ ہائے ہائے، دوہرا قانون نا منظور، نااہل پولیس ہاے ہاے، جعلی سیگریٹ کمپنی بند کرو بند کرو، سے گونج اٹھی ہے، اگردوہفتے کے اندربابرتاج کو گرفتارنہ کیا گیا تویہ معاملہ دی وائس کے زیراہتمام انٹرنیشنل سطح پر اٹھایا جائے گا، جعلی کمپنی کی پشت پناہی کرنے والے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، اگرکمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گی تو ہم پشت پناہی کرنے والوں کے ناموں کوچوکوں چرواہوں میں آویزاں کریں گے.
نوجوانوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی پی آزاد کشمیر، ڈی آئی جی، کمشنر مظفرآباد، ایس ایس پی مظفرآباد ڈی سی مظفرآباد کومخاطب کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ جعلی سیگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک بابرتاج نامی شخص جس پرمتعدد ایف آئی آردرج ہوئی ہیں کو آج تک کیوں گرفتارنہیں کیا گیا ہے،بابر تاج اسمبلی میں کیسے پہنچتا ہے، بابر تاج کشمیر ہاؤس میں کیسے پہنچتا ہے، بابرتاج پرائم منسٹر ہاؤس کیسے پہنچتا ہے، سی سی ٹی فوٹیج پی ایم ہاؤس سے جعل ساز بابر تاج تک کیسے پہنچی ہیں، ایسے مقامات پر پولیس کی کڑی سیکورٹی ہوتی ہے پھر نامزد ملزم درجنوں ایف آئی آروالا جعل سازملزم ہرجگہ کیوں کھلے عام گھوم پھررہا ہے؟ آخر اس شخص کو اتنی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟ کیا قانون امیراورغریب کے لیے برابر نہیں ہے ، پولیس ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو ایک دو گھنٹے بعد رہا کیوں کر دیتی ہے؟ اگر اس طرح کوئی اورعام شہری ہوتا تواس کوعمرقید یا سزائے موت دی جاتی، لیکن اس بااثر شخص کو گرفتار کرتے ہی کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہماری ریاست کے اندردوہرا قانون کس لیے قائم کیا گیا ہے؟ ایک عام آدمی کواپنی ضمانتیں کروانے کے لیے مہینوں انتظارکرنا پڑتا ہے، مگراس شخص کو صرف پانچ منٹ میں رہا کردیا جاتا ہے، کیا یہ مافیا اتنا بااثر ہے اس پرپولیس بھی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے؟ آخر اس کے پیچھے رازکیا ہے وہ عوام کے سامنے لایا جائے، اگر پی ایم ہاؤس کی فوٹیج لیک ہوسکتی ہے، اگر پی ایم ہاؤس ہی محفوظ نہیں توایک عام آدمی اپنے آپ کو کیسے محفوظ سمجھے گا؟
گزشتہ چند روز قبل بھی بابرتاج کی کمپنی میں بڑی تعداد میں شراب اوراسلحہ برآمد ہوا، لیکن کیا مجال اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی، ملزم بابرتاج اورکمشنرانکم ٹیکس آخردونوں پی ایم ہاؤس کیا کررہے تھے؟ دونوں کے درمیان جب ہاتھا پائی ہوئی پولیس ہونے کے باوجود اس ملزم کوگرفتارکیوں نہیں کیا گیا تھا، عوام کو بے وقوف نہ سمجھا جائے اس کے پیچھے جن لوگوں کے ہاتھ ہیں ان ہاتھوں کو سامنے لایا جائے، ورنہ ہم اچھی طرح سامنے لانا جانتے ہیں، چند عرصہ قبل بھی اس کی فیکٹری روانی کے مقام پرانکم ٹیکس کی جانب سے چھاپہ مارا گیا ہے، جس پرجعلی سیگریٹ برآمد بھی ہوئے ہے، فیکٹری کوسیل کرنے کے احکامات بھی جاری ہوئے ہیں، لیکن کیا مجال مافیا نے اس فیکٹری کو بند کرنے دیا ہو، ہم نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں نگے، چاہئے اس کے لیے ہمیں بھی کیوں نہ تختہ دارپر لٹکا دیا جائے، ہمیں مجبور نہ کیا جائے ہم کوہالہ پل بند کرکے احتجاج کرینگے.
پاکستان کے مختلف تھانوں میں بھی اس جعل سازکے خلاف ایف آئی آر درج ہیں پھر بھی اس کوگرفتارنہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، اگراس چھوٹی سی ریاست کے اندرجعلی فیکٹریاں بنای جا سکتی ہیں تو دیگرعوام کو بھی چھوٹ دے دینی چاہیے، کیوں کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس بہت کمزورہے، یہ صرف کمزوراوربے بس کے لیے رہ گی ہے، کیوںکہ ان کے بس میں نہیں کے بااثراورامیرپرہاتھ ڈال سکے.
اس موقع پر نواجونوں ک بڑی تعداد موجود تھی، راجہ سمیع بابر، راجہ قیس قدیر، راجہ شیراز، راجہ قاسم فرید، راجہ حسنین، راجہ احسان، احمد گیلانی، عاشر قریشی، ایاز احمد،مزمل ملک، قاسم ریاض، رقیب سلہریا، راجہ زین، حق نوازسلہریا، عماد راجہ، علی راجہ، راجہ احتشام، راجہ مشائق، بلال خان، انس شمریز، ذیشان قاضی، محمد اویس، راجہ نبیل، مہدی شاہ، حنین، راجہ عاصم، راجہ ذوالقرنین، نواز احمد، صفدر راجہ، اسامہ سعید، مدثر شیخ، عمرگل حسن، ملک علیان اعوان، وغیرہ نے شرکت کی ہے. -

پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم کشمیری آج سے ہفتہ شہدا منارہےہیں،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج سےہفتہ شہدامنارہےہیں-
باغی ٹی وی : کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہفتہ شہدامنانےکی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نےدی پاکستان اوربیرون ممالک میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا-
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل احتجاجی ریلیاں اورجلوس نکالےجائیں گے، 8جولائی کوشہید برہان وانی کےیوم شہادت کویوم مزاحمت منایا جائےگا اور برہان وانی کےآبائی قصبےترال کی طرف مارچ کیاجائےگا-
کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق 13جولائی کو 1931کےشہدا کی یاد میں یوم شہدا منایا جائےگا، ہفتہ شہدا کےدوران مقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال ہوگی-
-

ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے بلاول بھٹو
چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے نکیال کشمیرمیں الیکشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بے نظیر سے سیکھا ہے کہ جہاں کشمیرکی بہن، بیٹی کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، عمران خان کوبزدل وزیراعظم قراردیا گیا ہے، موودی تاریخی حملہ کرتا ہے وزیراعظم بزدلانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، ہم آزاد کشمیرکی عوام کے ساتھ ہیں، نا ہم اسلام آباد میں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، نا ہم آزاد کشمیرمیں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، ہماری اولین ترجیح یہ کہ آزاد کشمیرزیادہ روزگاردیئے جائیں گے، زیادہ نوکریاں دی جائیں گی، پیپلزپارٹی کے دورمیں پینشن کا اضافہ ہوا ہے، تنخواہوں بھی ہمارے دور میں اضافہ کیا گیا ہے، ہم عمران کی طرح آپ کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے ہیں، آپ سب سیاسی جماعت کو جانتے ہیں، پیپلز پارٹی کو موقع دیں تاکہ اپنے آباؤاجداد کے خواب کو پورا کرسکوں، عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے نوکروں سے نکال دیا ہے، پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جوعوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،ہم نے غریب کا ساتھ دیا ہے، ہم ہر پالیسی میں کلئیر ہیں، کشمیر کا مستقبل کشمیرکی عوام کریں کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، اسمبلی میں کھڑے ہوکر ہم کہتے ہیں کشمیر کی سودے بازی نا منظور کرتے ہیں، میں آپ کے درمیان ہوں بے نظیر کا مشن، ذولفقار کا مشن نا مکمل ہے، ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے، ایک ہی جماعت ہے جو پاکستان کو ہر مسئلے سے نکال سکتا ہے، تیر کا ساتھ دیں، جیت کا نشان تیر کا نشان ہے.
-

پیپلز پارٹی نے وفاقی وزرا پر کاروائی کیلیے الیکشن کمیشن کو مراسلہ لکھ دیا
پی پی پی آزاد کشمیر کے صدرچوھدری لطیف اکبرنے الیکشن کمیشن آزادکشمیرکومکتوب لکھا ہے، جس میں آمدہ انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت اور ممکنہ دھاندلی کی نشاندہی کی گی ہے، جسکے مطابق انتخابی مہم قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزرا لوگوں کو ووٹ بیچ رہے ہیں، جلسے میں خطاب کے دوران پاکستان سے فنڈز دینے کی بات کررہے ہیں، اس خلاف ورزی کا ہمارے پاس وڈیو ثبوت ہے، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے.
-

ایل اے 2 کے امیدوار نے اپنی پوزیشن کیسے مضبوط کرلیِ؟
بڑجن یوسی کنیلی پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے سینئیرنائب صدراورامیدوار قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے 2 اسلام گڑھ چکسواری چوہدری ظفرانورکی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے، چوہدری ظفرانورکی جارحانہ اننگ جاری ہے، پیپلز پارٹی اورمسلم کانفرنس کی بڑی وکٹیں گرادیں ہیں، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے کارکنان نے پی ٹی آئی کی ہمایت کا اعلان کردیا ہے، چوہدری عابد حسین، چوہدری محمد خورشید، چوہدری محمد خالد، قمر شہزاد، تیمورادریس، خرم شہزاد، چوہدری ازرم، چوہدری دانیال شبیر، چوہدری انس عابد، چوہدری محمد ایوب، چوہدری حاجی محمد یونس، چوہدری محمد قیوم، چوہدری محمد شاہ نواز، چوہدری ندیم ایوب، جنید علی، چوہدری احمد علی، چوہدری غلام رسول، چوہدری محمد شبیر، چوہدری بنارس سنگال، چوہدری محمد رئیس، عامر سہیل، چوہدری محمد توصیف شبیر، چوہدری حسن رضا، چوہدری محمد فاروق، چوہدری محمد معروف، چوہدری محمد ادریس، عنصر خادم، ناظم حسین، محمد شبیر، چوہدری عمران، چوہدری شیربان، چوہدری عاطف، چوہدری عنصر خادم، حافظ ناظم چوہدری، چوہدری یوسف اور چوہدری طارق نے اپنے کنبے قبیلے سمیت شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، کارکنان کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے علاقے میںترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی ہے، علاقے کےمسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے علاقے کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے.
چوہدری ظفرانور نے شامل ہونے والے افراد کو خوش آمید کہا ہے. -

علی امین ووٹ کی بولی لگانے لگ گئے
کوٹلی آذاد کشمیرمیں وفاقی وزیرامورکشمیرعلی امین گنڈا پوری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ووٹ کی لیڈ پرایک کروڑ کا پیکج دیں گے، آزاد کشمیرمیں ہماری حکومت بنتی ہے تو 500 ارب روپے کا پیکج دیں گے، وفاقی وزیر کے وہاں ہونے سے کشمیر میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے.
اسی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کی الیکشن مہم شروع کرنے آئے تھے، مگر آپ نے جیت کا فیصلہ دے دیا ہے.
علی امین اورمراد سعید کے اس بیان کو لے کرمسلم لیگ ن یوتھ ونگ یورپ کے چئیرمین راجہ محمد خالد نے پی ٹی آئی کے وزرا پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا آزاد کشمیر کی الیکشن کمین میں بیہودہ اورگالیوں والی زبان استعمال کررہے ہیں، ایک ووٹ ایک کروڑََِِِکی بولی لگا کرانتخابی اصلاحآت کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کررہے ہیں، وفاقی وزرا کے خلاف کاروائی کی جائے، ان حلقے کے امیدواروں کو نا اہل کیا جائے، پاکستان میں گالیوں کے کلچر کو فروغ دینے والی جماعت پی ٹی آئی کشمیر کی پرامن فضا کو آلودہ کررہی ہے، کشمیر کا سودا کرنے والی جماعت جس راستے پر چل رہی ہے اس کے آگے راجہ فاروق حیدر جرات کے ساتھ ان کا مقابلہ کررہے ہیں، کشمیرکی عوام اپنی ووٹ کی پرچی سے ان کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیں گے. -

مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ
۔ مودی کی زیرصدارت مسئلہ کشمیر پر نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہو گئی ہے ۔ کیونکہ کانفرنس میں کشمیری کٹھ پتلی لیڈران عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی پھٹ پڑے ہیں اور انھوں نے بھارت کی کشمیر پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا بھارت کے ساتھ اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ وادی میں نئی حلقہ بندیاں بھی ہمیں قبول نہیں۔
۔ اسی طرح سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پانچ اگست کو غیرقانونی طریقے سے دفعہ 370 کو آئین سے حذف کیا گیا۔ ہم نے مودی سے کہا ہے کہ جب طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کرنی چاہیے۔ ۔ حقیقت میں مودی سرکار نے عالمی دبائو کو ٹالنے کیلئے کشمیری لیڈران کو آل پارٹیز کانفرنس کا دانہ ڈالا مگر بھارتی کٹھ پتلی قیادت بھی کشمیر کی آزادی کے برعکس کوئی بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جس ’’ریاست‘‘ کو اب ’’بحال‘‘ کرنے کی تیاری ہورہی ہے اسے لداخ سے الگ کردیا گیا ہے۔وہ دلی سے براہِ راست چلائی Union Territoryہی رہے گا یعنی
’’وفاق کے زیر انتظام‘‘ علاقہ۔۔ لداخ سے الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اب درحقیقت ایک صوبے کی حیثیت میں ’’بحال ‘‘ کیا جائے گا جو آئینی اعتبار سے بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح اس ملک کا
’’اٹوٹ انگ‘‘ہوگا۔۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جموں وکشمیر کو فراہم ہوئی ’’خصوصی حیثیت‘‘ اب بحال نہیں ہوگی۔ اس طرح اپنے طور بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو ’’حل‘‘ کردے گا۔۔ یوں باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں مرکزی حکومت کا مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر تعینات ہو گا۔ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ قرار دیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ لداخ میں ہندو باشندوں کو ملک کے دوسرے علاقوں سے لا کر بسایا جائے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے اے پی سی میں جس واحد معاملے پر بات کی وہ مقبوضہ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق مشاورت ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ حلقہ بندیاں اس طریقے سے کی جائیں کہ مخصوص علاقوں میں ہندو ووٹر اکثریت میں ہوں۔ بھارت حلقہ بندیوں کے معاملے پر الگ جبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارتی آئین کے تحت 2026ء سے پہلے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ برس آسام میں جب مرضی کی حلقہ بندیوں کی کوشش کی تو اسے مقامی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب مودی اسی آئینی خلاف ورزی کو مقبوضہ کشمیر میں متعارف کرانے کی کوشش میں ہے تاکہ کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دیا جا سکے۔ بھارت اس طرح کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے استصواب رائے کے وعدے کے متبادل کے طو پر بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے متعلق بھارت کے عزائم کسی لحاظ سے خیر پر مبنی نہیں۔
۔ صورتحال یہ ہے کہ دو سال کے دوران ہزاروں افراد کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لاکر کشمیر میں آباد کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف مسلسل آپریشن ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی املاک کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ باغات کو کاٹا جا رہا ہے اور دکانوں کو منہدم کرنے کی پالیسی اختیار کر کے روزگار تباہ کئے جا رہے ہیں۔۔ دوسری جانب افغانستان کی بدلتی صورت حال اور امریکی رویے میں تبدیلی نے مودی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان سے کشمیر پر مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔ مودی مذاکرات سے قبل کشمیر کا معاملہ اس حد تک الجھا دینا چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بجائے مودی حکومت کے اقدامات زیر بحث رہیں۔ مودی کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کے لئے اے پی سی جیسے اقدامات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ یوں بھارت کا خیال ہے کہ یہ بین الاقوامی مداخلت کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مودی چاہے جتنی بھی پلاننگ کرلے مگر یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ اس کے یہ منصوبے کتنے کامیاب ہوتے ہیں ۔ ۔ اس نام نہاد کانفرنس میں بھارت نواز آٹھ پارٹیوں کے 14رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ کانفرنس میں کشمیریوں کی اصل نمائندہ حریت قیادت کو نظرانداز کردیا گیا۔
۔ جبکہ مودی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جو کہ ایک ڈھکوسلا ہے ۔ دلاسا ہے ۔ بالکل ایسا ہی ہے کہ یہ کرلو تو ریاستی حیثیت بحال کر دیں گے ۔ یعنی مودی نے ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی سازش رچ دی ہے ۔ ۔ کیونکہ اگر کشمیریوں کو یہ بھارتی فیصلہ قبول ہوتا تو وہ کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کے بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہ کرتے اور نہ ہی وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھتے۔۔ اس طرح مودی سرکار کی کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ کشمیریوں کی منزل درحقیقت مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ بھارتی تسلط سے آزادی ہے جس پر وہ کسی مفاہمت کیلئے تیار نہیں اور پاکستان کا بھی یہی دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یواین قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ ۔ دوسری جانب حریت قیادت نے بجا طور پر بھارت اور دنیا کو باور کرادیا ہے کہ مودی کا رچایا جانے والا ڈرامہ کشمیروں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔۔ دراصل مودی کشمیریوں سے غداری کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ کیونکہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں اور پاکستان کی شرکت کے بغیر تنازعۂ کشمیر کے حل کیلئے کوئی بھی ملاقات یا مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے۔ کشمیری عوام بھارت سمیت مودی پر اعتماد کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ مودی نے کشمیر کو جھنڈے ،شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے اپنے زرخریدوں کی بھی تذلیل کی ہے جبکہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔
۔ کشمیری عوام اپنی دھرتی کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں وہ اب تک اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جبکہ انکی مالی قربانیوں کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں جنہوں نے درحقیقت اپنا مستقبل قیام پاکستان سے بھی پہلے پاکستان کے ساتھ منسلک کرلیا تھا۔ اسی تناظر میں کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیریوں کی منزل ہے اور انکی اس منزل کا حصول ہی دراصل تکمیل پاکستان ہے۔
۔ بھارت نے گزشتہ دوسال سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا عملی طور پر کچھ نہ کرنا اور کرفیو ہٹانے کے لیے بھارت پر دباؤ نہ ڈالنا عالمی بے حسی اور بے ضمیری کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی اور عالمی پلیٹ فارموں پر لابنگ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو احساس دلائے کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا تب تک خطے میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔
