Baaghi TV

Category: کشمیر

  • آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے

    صالح عبداللہ جتوئی

    اگست تو ایسا مہینہ جب ہم خوشیاں مناتے تھے اور پورے پاکستان میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور آزادی کی خوشیوں سے لبریز نغمے و ترانے گاۓ جاتے اور صد شکر ادا کیا جاتا اور سجدے کیے جاتے آخر یہ سب کیوں نہ ہو ہم اس مہینے میں آزاد جو ہوۓ تھے لیکن پھر کیا ہوا عرصہ دراز سے شہ رگ پاکستان کشمیر کی زندگی اجیرن کر دینے والے بھارت نے نت نئے طریقوں سے معصوم کشمیریوں کی قید و بند کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا اور اس طرح ہماری شہ رگ مزید دشمنوں کی جکڑ میں آ گئی لیکن پھر کیا ہوا وہ پاکستان جس کی شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں مضبوطی سے جکڑی گئی تو ہم نے بھی لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے اور امن امن کا راگ الاپنے لگ گئے کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اپنا حق مانگنے کے لیے بھی ہتھیار اٹھاۓ تو ہمیں دنیا دہشت گرد ہی قرار نہ دے دے اور پھر ہم نے تقریروں، نغموں، احتجاجوں اور دھوپ میں کھڑے ہونا بہتر سمجھا تاکہ دنیا کو سمجھ آ جاۓ کہ ہم تو ظالموں کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں بھلا اس طرح بھی کوئی ساتھ ہوتا ہے؟
    کیا نغموں سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا؟

    کبھی بھی نہیں
    ‏‎نغموں سے کشمیر آزاد نہ ہو پاۓ گا اس کے لیے مذمت اور رونے دھونے کی بجاۓ انڈیا کی مرمت کرنی ہو گی نغمے تو پون صدی سے گاۓ جا رہے ہیں اور دن بھی کشمیر کے حوالے سے بہت منسوب ہو گئے ہیں لیکن کیا فائدہ ہوا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے آگے اپنا دکھ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انہیں مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اب جو بھی ہو گا وہ تقریروں، منتوں اور نغموں سے نہیں ہو گا بلکہ سخت کاروائی سے ہو گا۔

    اب آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھی دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پہ شامل ہو گیا ہے اور ایک اور دن پاکستان کو نغموں اور احتجاجوں کے لیے مل گیا اب اس کرفیو کو سال بیت گیا لیکن نغموں اور تقریروں سے کیا حاصل ہوا کیا ہمارے رویے سے کسی کے سر پہ جوں تک رینگی؟
    کیا کشمیر آزاد ہوا؟
    چلو آزادی کو چھوڑو یہ بتاؤ کیا کرفیو ختم ہوا یا کرفیو میں نرمی بھی آئی؟
    نہیں نہ اور ایسے آنی بھی نہیں جس طرح ہمارے رویے ہیں کیونکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے ہم صرف باتوں کے شیر ہیں اور کشمیریوں کو بلاوجہ کی تسلیاں دیتے ہیں۔

    ہمارے رویے یہ ہیں کہ ‏‎وہ جس دن ظلم کرتے ہیں ہم اس دن کبھی بلیک ڈے اور کبھی یکجہتی کا دن مناتے ہیں اور رونا روتے ہیں کہ بھارت جا جا کشمیر سے نکل جا اور کبھی چھوڑ دے ہماری وادی والے نغمے گاتے ہیں اور کبھی جمعہ والے دن دھوپ میں کھڑے ہو کے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور بھارت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اب سال گزر گیا اور یہ دن بھی تاریخی ہو گیا اور اسی طرح سالہا سال گزرتے جائیں گے اور 5 اگست کا دن بھی منایا جاتا رہے گا اور نغمے ریلیز ہوں گے اور بات نعروں تک ہی رہ جاۓ گی۔

    ‏‎پتہ نہیں کشمیری ہم سے کیونکر امیدیں لگا کے بیٹھے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے تو ہمیں نت نئے نغموں ترانوں اور دھوپ میں کھڑا ہونے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے موقع مل جاتا اور ہم مذمت بھی اچھے سے کر لیتے ہیں اور کشمیریوں کو جھوٹی تسلیاں بھی دے لیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ کس قسم کا ساتھ ہے جو احتجاج کر کے ہی دیا جاتا؟

    پون صدی سے یہی احتجاج ہی تو جاری ہے لیکن انہوں نے ہمیں کشمیر کیوں نہیں دیا؟
    اگر اس طرح نہیں مانتے تو ایک موسیقی کی محفل بارڈر پہ جا کے ہی منعقد کر کے دیکھ لیں پھر شاید بھارت کشمیر دے دے۔

    واللہ ہمارے یہ رویے بہت تکلیف دہ ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ ہم نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے ترجمانوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کو پابند سلاسل کر کے ظالموں کو ہی خوش کرتے ہیں تو ہم کیسے مخلص ہو سکتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ؟

    ‏‎اللہ ہماری افواج اور سیاستدانوں کو نغموں مذمتوں اور احتجاجوں سے باہر نکال کر صحیح معنوں میں کشمیر کے ایجنڈے پہ کام کرنے اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کشمیری بہن بھائیوں کو آزادیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب..
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر  از قلم : عاقب شاہین

    چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر از قلم : عاقب شاہین

    چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر

    از قلم : عاقب شاہین

    یوں تو کشمیر کی خوبصورتی میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے درختوں کا اہم کردار ہے تاہم چنار کا درخت اپنی عظمت ، قدوقامت اور حُسن کی وجہ سے اپنا ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔۔۔ یہ بہت گھنا ہوتا ہے ، اِس کی شاخیں لمبی لمبی ہوتی ہیں ، پتے بڑے اور انسانی پنجے سے مشابہ ہوتے ہیں۔۔۔ یہ عظیم الشان درخت بے ثمر ہوتا ہے مگر اِس کی لکڑی جوہر دار ہوتی ہے۔۔۔ شدید ترین گرمی میں اِس کا سایہ تپتے وجود کو فرحت کا احساس دلاتا ہے ۔۔۔ اِس کے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز انسان کو مدہوش سا کر دیتی ہے ۔۔۔ تیز بارش میں یہ اپنے نیچے پناہ لینے والوں کو دس منٹ تک بھیگنے نہیں دیتا ۔۔۔ یہ بہت شفیق ، ملنسار اور محبت کرنے والا درخت ہے ۔۔۔
    یہ عظیم الشان درخت 25 میٹر لمبا اور اِس کی موٹائی 50 فٹ بلکہ کہیں کہیں اِس سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔ موسمِ گرما میں جہاں اِس کے بڑے بڑے سرسبز پتے دِل کو موہ لیتے ہیں وہاں موسمِ خزاں میں یہ پتے سُرخ رنگ میں تبدیل ہو کر ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگی ہو ۔۔۔ اِس موسم میں چنار کا درخت ایک عجیب قسم کا نظارہ پیش کرتا ہے جِسے دیکھ کر فطرت شناس لوگ خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔۔۔

    آگئی لو خزاں کی پربت تک
    وادیوں میں چنار جلتے ہیں

    رات کے وقت قمقموں کی روشنیاں جب چناروں کے پتوں پر پڑتی ہیں تو اُنہیں سُرخ رنگِ زیبائی سے رنگ دیتی ہیں اور مظاہرِفطرت کا نظارہ کرنے والے متحیر نگاہوں سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔۔۔ چنار کے درخت نے اپنی منفرد پہچان ، خوبصورتی اور عظمت کی بدولت یہاں کے ادب اور شعروشاعری میں بھی اپنا ایک مقام حاصل کیا ہے ۔۔۔ شیخ عبداللہ نے بھی اپنی سوانحِ حیات کا نام آتشِ چنار رکھا ہے ۔۔۔
    یہ درخت کشمیر کی ثقافت کا ایک انمول حصہ ہے ، کشمیر میں اِسے شاہی درخت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔۔۔ اِس درخت کو میجک آف کشمیر یا جادوئے کشمیر بھی کہتے ہیں ، اِسی لیے تو ڈاکٹر علامہ اقبال جیسے عظیم مفکر نے کشمیری لوگوں کو چنار کے درخت کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا ہے:

    جِس خاک کے خمیر میں ہے آتشِ چنار
    ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

    عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر تسلط جمانے کے بعد سرزمینِ فارس سے لا کر بویا گیا تھا لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا ۔۔۔ کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اِس کی شناخت بن چکا ہے ۔۔۔ افسوس !!! انفراسڑکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ، سرکاری عمارتوں ، ہوٹلوں ، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے کشمیر میں چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کاٹا جا رہا ہے۔۔۔ محافظینِ ماحول کا کہنا ہے کہ کشمیر ہر سال مجموعی طور پر چنار کے تقریباً سات سو درختوں سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔ چنار کے پودے کو تناور ، جلالی اور سجاوٹی درخت بننے میں ایک صدی لگتی ہے لیکن یہاں درجنوں درختوں کو بغیر کسی پچھتاوے اور جواب دہی کے کاٹ ڈالتے ہیں ۔۔۔ مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ صرف سرینگر میں درجنوں ایسے چنار ہیں جو متعلقہ حکام کی لا پرواہی یا پھر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے نتیجے میں سوکھ کر رہ گئے ہیں ۔۔۔
    سیاحت سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند و قامت درخت اگر اِسی طرح سے کٹتا رہا تو وادیِ کشمیر کے حُسن کا نظارہ کرنے والے یہاں آنا ترک کر دیں گے ۔۔۔

    اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر
    کشمیر تیرا حُسن ہوا درد کی زنجیر
    آنسو ہیں تیری آنکھ میں، پیروں میں زنجیر
    قدرت نے چناروں سے کیا تجھ کو مزین
    باطل نے بنایا ہے تجھے درد کی تصویر
    اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر

  • 22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر  از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو کشمیریوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان قربانیوں میں سے ایک قربانی ایسی بھی ہے کہ جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کیساتھ اسلام سے محبت کی انوکھی مثال بھی ملتی ہے جس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی اور اس قربانی پر دنیا عش عش کر اٹھتی ہے
    13 جولائی 1931 کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن 22 کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اسلام کے فریضہ اذان کو مکمل کیا اور یوں دنیا میں یہ پہلی اذان بن گئی کہ جس کی تکمیل کیلئے 22 جانیں اللہ کی راہ میں دے کر اذان کو مکمل کیا گیا
    اس قربانی سے کشمیری قوم نے ثابت کر دیا کہ تحریک آزادی کا فرض ادا کرنے کیلئے فرائض اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے چاہے کوئی بھی قربانی پیش کرنی پڑے وہ دریغ نہیں کرینگے
    یوم شہداء کشمیر کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ آج سے تقریباً 89 سال قبل 25 جون 1931 کو سری نگر میں مسلمانان کشمیر نے اپنی آزادی کی خاطر ظالم قابض مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء نے آزادی کیلئے خطاب کیا اس دوران ایک نامعلوم جوان عبدالقدیر آگے بڑھا اور سٹیج پر جا کر کشمیریوں کو قرآن و حدیث سے آزادی کیلئے ابھارا جس پر پورا مجمع پرجوش ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف نعرے لگانے لگا اور آزادی کشمیر کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوتا دکھائی دینے لگا اس پر سیخ پا ہو کر متعصب سرکار نے عبدالقدیر کو گرفتار کرکے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا جس پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی
    13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کو عدالت پیش کیا جانا تھا اس لئے ہزاروں کشمیری اپنے محسن عبدالقدیر کے دیدار کے جمع تھے اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا ظاہری بات ہے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے فریضہ اذان لازم ہے سو اسلام پسند غیور کشمیریوں میں سے ایک اذان کیلئے آگے بڑھا ابھی اس نے اذان شروع کی ہی تھی کہ بغض و حسد میں مبتلا ڈوگرہ سپاہی نے مؤذن پر گولی چلا دی مؤذن کے گرتے ہی دوسرا کشمیری آگے بڑھا اور آذان کہنا شروع کر دی اس ظالم و متعصب سپاہی نے پھر گولی چلائی اور مؤذن کو شہید کر دیا اتنے میں بغیر خوف اور نتیجے کی پرواہ کئے تیسرا کشمیری اٹھا اور آذان جاری رکھی یوں مسلمانوں کی آزادی سے خوف زدہ ڈوگرہ فوج نے گولیاں چلائیں اور مؤذنوں کو شہید کرتے رہے ادھر کشمیری بھی جذبہ اسلام سے سر شار تھے وہ بھی ایک ایک کرکے سینے پر گولی کھاتے گئے اور آخر کار 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے
    تحریک آزادی کے شروع سے ہی اتنی بڑی قربانی دے کر کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ چاہے جتنی بڑی قربانی دینی پڑے وہ تیار ہیں اور بغیر سوچے قربانی دینگے اور تب سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی کشمیر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
    ادھر موجود قابض ہندو مودی گورنمنٹ نے ڈوگرا راج کی طرح ظلم و تشدد کا راج قائم کرتے ہوئے پچھلے سال 5 اگست سے کرفیو لگا رکھا ہے تاکہ کشمیری آزادی کو بھول جائیں مگر کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ہندو فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں
    ہم چھین کے لینگے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    شاید کشمیر کی صورتحال پر ہی شاعر نے یہ شعر کہا تھا
    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں
    ان شاءاللہ بہت جلد آزادی کشمیر اپنی تکمیل کو ہے اور یہی آزادی کشمیر بربادی ہند میں بدل جائے گی ان شاءاللہ کیونکہ دنیا کشمیریوں کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہے
    کشمیری کٹ تو سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے کیونکہ کشمیریوں کا نعرہ ہے تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ

  • اے کالی سہمی سی راتو   تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو!
    کچھ ٹھہرو سورج نکلے گا
    کچھ ٹھہرو اے زنجیر مری
    ہے آزادی تقدیر مری
    یہ آگے بڑھتے ظالم ہاتھ
    اب کاٹے گی شمشیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    کچھ ٹھہرو، تھام کے دل دیکھو
    اے قاتل ! اے بزدل! دیکھو
    یہ خون کا دریا بہتا ہے
    یہ تم سے بھی کچھ کہتا ہے
    اب بچہ بچہ وادی کا
    برہان سا بن کے نکلا ہے
    تم روک سکو گے کتنوں کو
    تم خون کرو گے کتنوں کا
    یہ خون محبت والوں کا
    آزادی کے متوالوں کا
    سب شرق پہ جمتا جائے گا
    اور آزادی کا سورج پھر
    اس اور نکل کے آئے گا
    یہ خون تو ہے توقیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    تم دیکھو گے ،ہاں دیکھو گے
    اب خون سے لپٹے سب لاشے
    اس سبز ہلالی پرچم میں
    یہ سبز ہلالی پرچم ہی
    اب وادی میں لہرائے گا
    کہ وادی میں ہے آئی جاں
    اب جاگ اٹھا کشمیر میاں
    سب بچے بوڑھے اور جواں
    صبح شام پکاریں ایک زباں
    کشمیر بنے گا پاکستاں
    کشمیر بنے گا پاکستاں

    قلمِ خود
    ثمرین اختر اصباح

  • آزادی کا استعارہ     تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ
    تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    کشمیر جنت نظیر وادی جو کہ ہندو بنیے کی قید میں ہے اور آزادی کی خاطر اٹھنے والے ہر قدم کو اپنے ظلم کا نشانہ بنانا بزدل بھارتی وحشیوں کا پرانہ وطیرہ ہے۔

    آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے بھارت نے کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن جس قدر ظلم و ستم کئے گئے آزادی کی تحریک اس قدر مضبوط ہوتی گئی۔

    آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکنے اور نوجوان نسل کو ایک نئی مشعل راہ پر گامزن کرنے والے مجاھد برھان مظفر وانی نے جو کہ بھارت کے ظلم وبربریت سے تنگ آکر ظالموں کا ہاتھ روکنے اور بنیے سے چھٹکارا پانے کے لئے قلم کتابیں چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا۔
    برھان وانی نے تحریک آزادی کو مضبوط اور مستحکم کیا اور نوجوانوں میں آزادی کا شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کا اصلی چہرہ اور کشمیر پر ہونے والے مظالم کو پوری دنیا پر ویاں کیا۔
    برھان مظفر وانی جیسے عظیم مجاھد کو دیکھ کر بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگی ظالموں کو روکنے اور آزادی کی خاطر جان قربان کرنے کا عظم مصمم کیا جس سے مظلوم کشمیریوں کی آس کے دیے ظلم کی آندھیوں سے بجھنے کے بجاۓ اپنے لڑکھڑاتے قدم جمانے میں کامیاب ہوۓ۔
    نئی امیدوں اور امنگوں نے کشمیریوں کو ظلم کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجاۓ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بنا دیا۔

    بھارتی بزدل فوج برھان مظفر وانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آزادی کی جدوجہد سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہر طرف سے بھارت کو جب شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو برھان وانی ان پر ایک بپھرے طوفان کی مانند نمودار ہوئے اور بھارتیوں کو چَھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

    جبکہ بھارت برھان مظفر وانی کو شہید کرکے آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا بلکہ اس شہادت نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت بخشی۔

    اس مرد مجاھد کا جنازہ تاریخی جنازہ تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور کئی دفعہ جنازہ پڑھایا گیا۔

    "جس دھج سے کوئی مقتل سے گیا وہ شان سلامت رہتی ہے”
    "یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    بھارتی بزدل فوج نے ان کے جنازے پر انکے نواحی گاؤں کی طرف راستوں کو بند کردیا اب جبکہ ان کی برسی کے موقع پر بھی بھارت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے کہ اس مرد مجاہد کے نواحی گاؤں کی طرف جانے والے رستوں کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اس فوج کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    بھارت نے اگر ایک برھان وانی کو شہید کیا ہے تو کشمیر سے ہزاروں برھان وانی شہادت کی تمنا دل میں لئے اور ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے حق کی راہوں پر نکل چکے ہیں۔

    برھان مظفر وانی کو شہید کرکے مٹانے والوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں اور برھان مظفر وانی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے ان کی سوچ انکا نظریہ اور مقصد قائم و دائم رہا اور نئے جوش و جذبے سے پروان چڑھا برھان وانی ایک سوچ بن چکا ہے جس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    بھارتی فوج کشمیریوں کی انکھیں تو چھین سکتی ہے لیکن آزادی کے خوابوں کو کبھی نہیں چھین سکتی جس قدر مظالم زیادہ ہوں گے آزادی کی تحریک بھی اس قدر تقویت پکڑے گی اور مستحکم ہوگی شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں جاۓ گا اس کا صلہ آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    ہم بحیثیت پاکستانی شہری اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ بھارت کے مظالم کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ مظلوم کشمیریوں کو ظلم سے بچایا جاسکے اور انکا حق خودارادیت دیا جاۓ تاکہ وہ بھی ہندو بنیے کے مظالم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد فضاؤں میں اپنی زندگی بسر کرسکیں۔

    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

  • برہانِ کشمیر  بنا جنتوں کا مہمان    ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان
    ازقلم
    محمد عبداللہ گِل
    آزادی ایک وہ عظیم الشان نعمت ہے جس کا اندازہ اس کے کھو جانے کے بعد ہوتا ہے۔دنیا کا ہر جاندار آزاد رہنا پسند کرتا ہے حتی کے جب ہم پرندوں کو یا دوسرے جانوروں کو پنجروں میں قید بناتے ہیں تو وہ بھی اپنی آزادی کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق جستجو کرتے ہیں۔کچھ یہی فطرت حضرت انسان کی ہے۔
    جب موجودہ غلام قوموں کی طرف ہم نظر پھیریں تو سب سے پہلے ہماری نظر جنت نظیر اس کی طرف جاتی ہے۔کشمیر ہی وہ اس ہے جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔لیکن جیسے مشہور ہے کہ خوبصورت چیزوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے۔اسی طرح وادی کشمیر کو بھی نظر لگ گئی اور وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک انڈین درندوں کی قید میں ہے۔
    ‎برہان مظفر وانی شہید کشمیر کی خوبصورت جنت نظیر وادی میں جنم لینے والا عظیم سپوت، شجاع، بہادر، دلیر اور نڈر نوجوان تھا جو کہ جذبۂ شہادت اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تھا۔ جوانی نے ابھی انگڑائی ہی لی تھی کہ اپنی قوم پر ظلم کے ٹوٹتے ہوئے پہاڑ دیکھ کر برداشت نہ کر سکا قوم کی حوصلہ افزائی و ہر قسم کی قربانی اور مدد کیلئے ہمہ تن کمر بستہ ہوا۔ پھر اس بہادر نوجوان نے اپنی مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی کو خون جگر سے سیراب کیا اور اپنے مقبوضہ خطے کی تحریک آزادی اور اپنی قوم کی حق خودارادی کی خاطر اپنی جان کا عظیم اور قیمتی نذرانہ پیش کر کے زندۂ و جاوید ہو گیا۔ تو پھر اس باصلاحیت سرفروش نوجوان کی شہادت نے مقبوضہ ‎ کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی اور حق خودارادی اور جذبۂ شہادت ایمانی ‎کو ایک نیا موڑ، نیا ولولہ، نیا جذبہ دیا خاص کر اس نوجوان کی شہادت نے کشمیری نوجوان نسل کے اندر حق خودارادیت اور کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی کی ایک نئی جہت پیدا کی اور ان کے سینوں میں شہادت کی نئی امنگ پیدا کر دی اور ایسی روح پھونک دی ہے کہ جس کیلئے کبھی بھی فنا اور موت نہیں ہے کیونکہ جس قوم کی آزادی میں شہداء کا خون شامل ہو جائے وہ قوم کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی شکست سے دوچار ہو سکتی ہے۔ وادی کشمیر کی تحریک آزادی کو تو الحمدللہ ہزاروں مجاہدین، غازیوں اور شہداء کے خون نے سیراب کیا ہے ‎ایسی قوم جس کا مطمع نظر شہادت ہو اور شہادت کو اپنے لئے باعث فخر بھی سمجھتی ہو اور شہادت کے بدلہ میں جنت کا خوبصورت اور حسین ترین منظر سامنے ہو اللہ تعالی اور اس کے محبوب پاکؐ کی رضا اور خوشنودی کا بھی یقین ہو وہ قوم بھلا شہادت کی موت سے کیسے پیچھے ہٹ سکتی ہے ان شاءاللہ آزادی کشمیری عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ کشمیری عوام پر سفاک درندہ صفت بھارتی سامراج نے 73سال سے قتل وغارت، بربریت اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ارباب اقتدار و صاحب اختیار اپنے کانوں میں روئی اور آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہو کر سوئے ہوئے ہیں جیسا کہ دنیا کی کوئی خبر ہی نہیں، رات دن گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹینکوں کے گولوں کی گڑگڑاہٹ عورتوں، بچوں بوڑھوں بیماروں، زخمیوں اور بے سہارا نہتے کشمیریوں کی چیخ و پکار خون کے بہتے ہوئے دریا عالمی ادارہ تحفظ انسانی، اقوام متحدہ، یورپی یونین و دیگر عالمی اداروں کو کیوں دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ظلم کی انتہا ہو چکی ہے اب تو مقبوضہ کشمیر کی زمین کا چپہ چپہ ان مظلوم کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے بھارت کے ظلم کی وجہ سے ان مظلوم کشمیریوں کی آہ وبکا، دلوں کو ہلا دینے اور چیر دینے والی چیخوں سے زمین و آسمان کا خلا بھی بھر چکا ہے تن تنہا نہتے مظلوم غیور کشمیری عوام اپنی حق خودارادی اور جدوجہد تحریک آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس طرح دوسری قومیں آزادی سے اپنی زندگی گزار رہی ہیں اسی طرح کشمیریوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کی زندگی گزاریں اپنی قسمت کے خود فیصلے کریں
    کشمیری قوم نے بھی اپنی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے جس تحریک آزادی کشمیر کہتے ہے۔اس تحریک آزادی میں ہزاروں نامور شہدا کا لہو موجود ہے۔لیکن جب ہم بات کرتے ہیں ایک ایسے شیر کی جو کہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر ہے

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    برہان وانی شہید رحمتہ اللہ کو آج 4 سال ہو گئے شہید ہوئے لیکن ایک وجہ جو ان کو یاد کیے ہوئے ہیں ان کی شجاعت و بہادری ہے جس کے ساتھ انھوں نے اپنی جان راہ خدا میں جہاد فی سبیل اللہ میں قربان کر دی۔
    برہان وانی شہید کی بھی چاہت تو ڈاکٹر بنے کی تھی اور ذہین بھی تھے۔لیکن جن سے رب تعالی نے جہاد کا کام لینا ہو،انھوں نے دنیاوی تعلیم کو خیرباد کہ کر حزب المجاہدین میں شمولیت کر لی
    جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی شہادت نے کشمیر اور دوسرے مظلوم ممالک کی تحریکوں میں ایک ولولہ اور جوش بھر دیا ہے۔جب انسان اپنا جان و مال اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دیتا ھے تو رب جلیل بھی اس دنیا و آخرت میں صلہ دیتا ہے۔کیونکہ بہترین صلہ نے والا تو اللہ ہی ہے۔اللہ کے صلہ کو دیکھا جائے تو دین سے وفا کے بدلے میں غلام حضرت بلال کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوتا ہے۔یہ ہی حال ادھر کشمیر کے شیر کا ہے جس نے مظالم کی دنیا میں ہی جنم لیا۔یہ تصور کر کے ہی خوف آتا ہے کہ آپکا جنم ایک ایسی جگہ پر ہوا ہو جسے اسیر بنا لیا گیا ہو۔

    بقول اقبال:-
    غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
    جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

    قارئین گرامی! اگر اس شعر کو دیکھا جائے تو آج شاعر اسلام علامہ اقبال کہ اس شعر کی حقیقی تصویر جنت نظیر وادی کشمیر کی صورتحال برہان وانی اور دیگر شہدا کی شہادت کے بعد دیکھی جا سکتی ہے۔انسان جب دوسروں کے بارے غور و فکر کرنا شروع کر دے تو اللہ اسے عزتوں سے نوازتے ہیں

    کیونکہ ارشاد ربانی ہے:-

    قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾

    آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے ۔

    آج آپ دیکھ لیں کمانڈر برہان مظفر وانی شہید کی شہادت کو 4 برس بیت گئے لیکن دنیا اسلام ان کو یاد کر رہی ہے کشمیر میں بھی آزادی پسند ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں

    I am Burhan Waani
    I am Pakistani

    کشمیر کے اس شعر کی شہادت کے بعد غاصب فوجیوں نے یہ کہا ہم نے برہان وانی کو مٹا دیا لیکن حقیقت یہ ھے کہ برہان وانی کی محبت اور عقیدت لوگوں کے دلوں سے نہیں نکل سکتی۔اس پر مجھے جگر مراد آبادی کا شعر یاد آ رہا ہے

    ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

    یہ مقام و مرتبہ تو اللہ نے دنیا میں دیا ہے آگے جو رب تعالی نے وعدے کر رکھے ہیں کہ خون کے قطرے گرنے سے پہلے ہی جنت میں داخلے کا فیصلہ کر دیا جاتا ھے۔

  • برہان وانی (Burhan Wani) تو آج بھی زندہ ہے!!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    برہان وانی (Burhan Wani) تو آج بھی زندہ ہے!!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    تحریک آزادی کشمیر ظلم کی تصویر سے بھلا کون واقف نہیں؟ پچھلے 74 سالوں سے مظلوم کشمیری کم وسائل مگر چٹان جیسے حوصلے اور جذبہ ایمانی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور 10 لاکھ مسلح فوج سے اپنی آزادی کی خاطر عام رائفلوں اور پتھروں سے لڑ رہے ہیں اور اس لڑائی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی
    محاذ کشمیر کی جنگ دنیا کی سب سے اونچائی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی ترین جنگ ہے جس سے خود بھارت بھی پریشان ہے مگر اسے اس کا لے پالک اسرائیل سہارا دیئے ہوئے ورنہ اسی محاذ کشمیر پر انڈیا مالی و فوجی لحاظ سے کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ادھر کشمیریوں کے حوصلے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس مسلح تحریک آزادی میں اب تک ایک لاکھ کے قریب نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جن میں سے ایک انتہائی اہم قربانی برہان مظفر وانی کی بھی ہے
    ایک پوسٹر بوائے سے مجاہد بننے والا یہ حزب المجاھدین کا کمانڈر برہان مظفر وانی 19 ستمبر 1994 کو مظفر وانی اور میمونہ وانی کے ہاں پیدا ہوا
    برہان وانی نے بچپن ہی سے انڈین آرمی سے نفرت کی اور رفتہ رفتہ اس نفرت کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر بھی کرتا رہا
    2010 میں برہان وانی نے حزب المجاھدین کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ عسکری زندگی کا آغاز کیا اور اس کے عسکری جوہر دیکھتے ہوئے اسے 2011 میں حزب المجاھدین کا کمانڈر بنا دیا گیا
    برہان جس علاقے میں بھی جاتا انڈین فوج کے بڑے بڑے کمانڈر اس علاقے سے راہ فرار کو ترجیح دیتے اور یوں اس کی جرات و بہادری کی ڈھاک انڈین فوج پر چھا گئی دوران زندگی اسے ٹاپ کمانڈر قاسم عبدالرحمان شہید کی قربت بھی نصیب ہوئی اور وہ قاسم عبدالرحمان کو اپنا استاد مانتا تھا انڈین فوج پر برہان کا اس قدر رعب پڑ چکا تھا کہ ہندو سرکار نے برہان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپیہ مقرر کر دی تھی
    8 جولائی 2016 کو مقبوضہ وادی کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوگر ناگ میں انڈین فوج کی بہت بڑی تعداد نے جدید ترین ہتھیاروں سے کئی گھنٹے طویل معرکے کے بعد برہان کو شہید کیا جس کے بعد وادی میں تاریخی تصادم انڈین فوج اور کشمیریوں کے مابین شروع ہو گیا اور ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد نوجوانوں نے اپنی جان راہ شہادت میں قربان کی اور اس شہادتوں کے بعد نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ آزادی پیدا ہوا جو کہ اب بھی جاری و ساری ہے
    22 سال کی عمر میں برہان وانی دس لاکھ مسلح فوج کو ایسا زخم دے گیا کہ سات عشروں سے زائد میں ایسا زخم بھارت کو نا ملا تھا 22 سالہ لڑکا وہ کام کرگیا کہ 50 ,50 سال سے عسکری خدمات دینے والے ہندوں,اسرائیلی دماغ دنگ رہ گئے کہ ایسا کیوں کر ہو گیا ؟ مگر ایسا اس لئے ہوا کیونکہ برہان مظفر وانی اس محمد ذیشان تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند ہے کہ جس نبی علیہ السلام نے کم وسائل ہونے کے باوجود اپنے دور کی سپر پاور کو شکشت دیکر تاریخ کو حیران کر دیا اور آج پوری دنیا کی سپر طافتیں اسی نبی کی جنگ مہارت پر عمل پیرا ہونے کو ہی کامیابی قرار دیتی ہیں
    برہان اس لئے بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے کہ وہ سیدنا صدیق اکبر,سیدنا عمر فاروق ,سیدنا عثمان غنی ,سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضوان اللہ علیہ اجمعین کا روحانی فرزند ہے کہ جنہوں نے انتہائی کم وسائل کیساتھ پوری دنیا پر حکمرانی کی اور ثابت کر دیا کہ جنگیں وسائل سے نہیں بلکہ قوت ایمانی سے لڑی جاتی ہیں اور برہان زندہ اس لئے بھی ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے مجوسیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ایسا اکھاڑ پھینکا کہ آج دن تک دوبارہ مجوسیت کھڑی نہیں ہو سکی
    برہان اس لئے آج بھی رول ماڈل ہے کیونکہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے اس وقت کی سپر پاور صلیبیوں سے بیت اللہ واپس لیا اور سپر پاور بھی وہ کہ جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا سلطان کی ضرب سے گھٹنوں کے بل جا گری تھی
    آج انڈیا بریان وانی کو یاد کر کر کے غم زدہ رہتا ہے کیونکہ برہان کی شہادت کے بعد نوجوان اس قدر مسلح تحریک میں شامل ہوئے کہ پہلے تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی اس روز کی پھلتی پھولتی مسلح تحریک آزادی سے خوفزدہ انڈیا نے ظلم و بربریت کی گندی ترین مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ سال اگست سے تاحال تاریخ کا سب سے لمبا کرفیو لگایا ہوا ہے اور اس کرفیو کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے مگر انڈین گورنمنٹ کیلئے رزلٹ پھر بھی صفر ہی ہے کیونکہ کشمیری آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں کل بھی ان کا نعرہ تھا بھارت سے لینگے آزادی ،کشمیر بنے گا پاکستان اور آج بھی ان کے نعرے یہی ہیں
    انڈیا کی اس ساری بربریت پر عالمی برادری مایوس کن حد تک خاموش ہے مگر کشمیری قوم کھلے عام ہندو سرکار کو کہہ رہی ہے کہ سن لے انڈیا برہان تو رب کی جنتوں کا مہمان بن گیا مگر اللہ کی قسم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کو وہ ایسا سبق سکھا گیا کہ قیامت تک ہندو دھرم میں خوف کی لہر پیدا ہو کر رہ گئی ہے
    ایک طرف مٹھی بھر مجاہدین ہیں تو دوسری طرف انڈیا کی دس لاکھ مسلح اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوج مگر پھر بھی کئی سالوں سے میرے غیور کشمیروں کی صدا آزادی کو دبا نا سکی تیری ہندوں مائیں غم سے مر جاتی ہیں کہ جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے فوجی بیٹے کی مقبوضہ کشمیر میں پوسٹنگ ہو گئی ہے اور جب کہ دوسری طرف کسی کشمیری ماں کا ایک بیٹا شہید ہوتا ہے تو وہ ماں پہلے بیٹے کی کلاشن دوسرے بیٹے کو پکڑا کر کہتی ہے چل بیٹا اپنے رب کے فرمان کے مطابق اپنے شہید بھائی کا بدلہ لے اور مظلوم ماؤں, بہنوں,بیٹیوں اور بزرگوں کی مدد کر اور پھر اس کی شہادت کے بعد تیسرے پھر چھوتھے حتی کہ بیٹے کے بیٹے کو کلاشن پکڑا کر حکم ربی سنا کر خود غاصب پلید ناپاک ہندوں فوج کے خلاف جہاد کے لئے بیجھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو بیک وقت دو,دو بھائی اور کئی مرتبہ باپ بیٹا اکھٹے برسر پیکار رہتے ہیں اور کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ذلت آمیزی انڈیا کو تب ملی جب میری عفت مأب پاک دامن کشمیری بہنوں بیٹیوں نے اپنے غیور سنگ باز بھائیوں کے شانہ بشانہ ہندو کی گندی فوج کا مقابلہ پتھروں سے شروع کیا ان شاءاللہ کشمیر منرل دور نہیں
    تو چھین لے آنکھیں مجھ سے
    خواب تو کیسے چھینے گا ؟

  • قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان    بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    درد امت
    ظلم و ستم کی انتہا ہے وادئ کشمیر میں
    سسک رہی ہےانسانیت وادئ کشمیر میں

    کیوں خاموش ہے اس سربریت پہ سارا جہان
    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان

    حقوق انسانی کے دعویدار بھی خموش ہیں
    یا سب دعویدار ہی یاں ضمیر فروش ہیں

    ان معصوموں پہ ڈھایا گیا ظلم کا کوہ گراں
    ان کو بھی ملے دنیا میں ان کے درد کا درماں

    کوئی تو کرے بلند صدا بنے ان کا غمگسار
    کہ جل گئے سب کھیت گھر گلستان و گلزار

    پنجئہ جبر میں اذیتیں، مصیبتیں، صعوبتیں
    ہیں کس قدر کٹھن ان کی حیات کی مسافتیں

    خواب خرگوش میں گم ہوئے ہیں دنیا کے حکمران
    یو۔این سمیت سعودیہ، انڈونیشیا و پاکستان

    ہیومن رائٹس و میڈیا کا بھی یاں فقدان ہے
    ہر باضمیر فردا اس جبر پہ ہاں پریشان ہے

    سلامتی کونسل اور مسلم اتحاد کا کیا کمال ہے
    شاہین کا انسانیت کے نام لیواؤں سے یہ سوال ہے

    قرأةالعين عینیہ شاہین

  • مجھے کشمیر کہتے ہیں    بقلم:مریم وفا

    مجھے کشمیر کہتے ہیں بقلم:مریم وفا

    کشمیر…!!!
    [بقلم:مریم وفا]۔
    میں دنیا کا ایک خطہ ہوں،مجھے کشمیر کہتے ہیں…
    میری جنت سی دھرتی پر دریا خون کے بہتے ہیں…
    میرے پھولوں کے چہروں پر،وحشت رقص کرتی ہے…
    کہ میرے گلشن کے آنگن میں درندے راج کرتے ہیں…
    میں اپنوں کا بھی ستایا ہوں،مجھے غیروں سے کیا شکوہ؟
    میرے اپنے بھی اب تو دمِ اغیار بھرتے ہیں…
    میری ماؤں کی چیخوں کو نہیں سنتا کوئی اب تو…
    وہ جن ماؤں کے بیٹوں کے لاشے روز ہی گرتے ہیں…
    میرے گلشن کے پیڑوں پر بسیرا ہے خزاؤں کا…
    مگر میرے مکین اب بھی اُمیدِ بہار رکھتے ہیں…!!!!
    ==============================

  • مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم   تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم۔
    تحریر:ثناء صدیق۔
    ترقی پذیر ممالک جنہوں نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ان تمام ممالک کا مسئلہ آزادی کے بعد سیاسی استحکام کا حصول رہا ہے- مگر کشمیر جو برطانوی سامراج کے دور کی ایسی ریاست ہے جو اج تک سیاسی طور پر آزاد اور مستحکم نظر نہیں آ سکی- آزادی کی تحریکوں اور قربانیوں کے باوجود کشمیر پر بھارت کا تسلط اب ایک عام بات بن چکی ہے- کشمیر پر قبضہ کر لینے کے بعد بھارت نے کشمیری عوام کا استحصال کرنے اور کشمیر کی عوام کے تحفظ کے لیئے لاتعداد مسائل کھڑے کئے ہیں- کانگریسی قیادت کی رائے شماری کی گارنٹی کے باوجود تب سے لے کر آج تک تمام ہندوستاتی حکومتوں نے کشمیری عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کی بجائے ہمشہ انتقام کا نشانہ بنایا -بھارت سے اگرچہ کشمیر کے مسلمانوں نے آزادی کی جنگ لڑی ہے مگر ایک دو گروپ کے متحرک ہونے سے پوری قوم کی تقدیر بدل نہیں جاتی-
    ان مظلوموں کو دنیا کی غیر متزلزل اور حقیقی مدد درکار ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو ہمشہ ہندوں کی تنگ نظری اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے -7 دہائیوں کے گزرنے کے باوجود کشمیر کی تقدیر نہیں بدل سکی – کشمیر کے لوگ پاکستان سے اپنی امنگوں کا اظہار کرتے ہیں- مگر پاکستان نے ہمشہ امریکہ سے دوستی کا ساتھ نبھایا کہ شاید امریکہ مسئلہ کشمیر پر ٹھوس طریقے سے بات کرے گا- مگر امریکہ کے رسمی جملوں کے علاوہ کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ نہ نکلا – دنیا جانتی ہے جنوبی اشیاء میں مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا- مگر بھارت کو منصفانہ طریقوں سے کشمیر کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں اور امریکہ اس بات پر اپنے منہ سے بھاپ بھی نہیں نکالتا- کشمیر میں کیا کیا نہیں ہو رہا؟
    جہاں ہر طرح کے انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں- انسانیت اور انسانی جان کی کوئی قدر نہیں- کشمیر کے اوپر بھارت کی موجودہ صورتحال ،انارکی، کی ہے- جس میں کشمیر کے اوپر کوئی رول اور کوئی مثبت گورنمنٹ نہیں ہے جو کشمیریوں کا کوئی بھی مطالبہ مان سکے- مسئلہ کشمیر کے لیے دنیا کے منصفوں کی کوئی ،لیگ آف نیشن وجود میں نہیں آئی جو انسانیت کی گرتی لاشوں اور کشمیر کے انسانی،طبی سیاسی اور ،تعلیمی مسائل کو گرنے سے بچا لے- UN کشمیر کے نام پر برائے نام جملے ادا کرتی ہے- UN تنظیم مسئلہ کشمیر کے نام پر دنیا کو لیڈ کیوں نہیں کرتی؟ UN کے پاس ایسا سسٹم کیوں موجود نہیں ہے کہ جو دوممالک کے جھگڑے کو ختم کر سکے اپنے ہیومین رائٹس کی تنظیموں کے قانون کو لاگو کروا سکے یا بین الااقوامی سطح پر مثبت سیاست کا حکم دے سکے- اجکل کے دور میں مسئلہ کشمیر جو ایک عالمی مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا کے اندر پاور اور رولز ہونے کے باوجود حل نہیں ہو سکا- اس مسئلے کو لے کر جنوبی اشیاء کے ممالک ایک جھگڑے کی صورتحال میں ہے- دنیا کا بین الااقوامی سسٹم مسئلہ کشمیر کے بارے میں انارکیل سسٹم ہے- دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہ سکتے ہے UN کے پاس کوئی رول اور قانون نہیں ہے جو دنیا کو منظم کر کے مسئلہ کشمیر کے اوپر اپنی قرارداد اور رولز کو لاگو کر سکے- بھارت کا کشمیر میں فری ہینڈ ہونا اور اپنی من مرضی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ UN کے اصولوں اور قانون اس کے مثبت رویہ کی غیر موجودگی ہے- کشمیر کو بھارت کے پنجے میں گے کو 74 سال ہو چکے ہیں لیکن بھارت تب سے آب تک کشمیر کی سالمیت کے لیے بڑی مضطرب ہے- بھارت کا سیکولر چہرہ کشمیر کے اندر بڑا واضح ہے- کشمیر پر بھارت کے قبضے کے بعد تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو برداشت کا سلوک بھارت نے کیا ہے- بالخصوصB.J.P کی دور حکومت میں جو مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے- یہ بھارت اور دنیا کے منصفوں کے لیے سوالیہ نشان ہے؟ بھارت کے اندر مسلمانوں کے لیئے بالخصوص کشمیر کے لوگوں کے لیے ہندوجنونیت کا رنگ بہت غالب ہے- اس کی واضح مثال B.J.Pکے وحشیانہ رویہ کی ہے جو وہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہیں- بھارت کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سیکولر کا چہرہ اپنانا چھوڑ دے اگر اپنانا ہے تو کشمیر کے لوگوں کو حقوق آزادی کی عملی شکل دے- بھارت پر یہ بات عائد ہوتی ہے کہ ہندو جنونیت کا اثر ختم کر کے کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو ہر طرح کے حقوق کی آزادی دے- ہندو جنونیت کی لہر کو ختم کر کے کشمیر کامسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرے-
    =============================