Baaghi TV

Category: کشمیر

  • (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    آج کی صدی میں ایک بات کا پرچار عام ہے کہ ہم ایک آذاد ریاست کے رہنے والے ہیں
    لیکن کیا ایسا ہے؟

    آپ کا جواب ہاں میں ہوگا لیکن یہی الفاظ کسی کشمیری بھاٸی یا بہن سے پوچھیں تو اسکا جواب ہاں میں نہیں بلکہ ناں میں ہوگا پاکستان کو آذاد ہوۓ 70 سال سے ذیادہ عرصہ بیت چکا ہے ہر پاکستانی خود کو پاکستانی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہے لیکن کشمیری آج بھی کسی محمد بن قاسمؒ کے انتظار میں ہیں کہ محمد بن قاسم آۓ اور بھارتی درندوں سے ہماری عورتوں ہمارے بچوں بزرگوں کو اذاد کرواۓ۔

    لیکن افسوس کہ 70 سالوں سے کشمیر پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف اگر کوٸی محمد بن قاسم کا روحانی فرذند اٹھتا ہے تو اس پر تخریب کار، شدت پسند اور دہشتگرد کا لیبل لگا کر گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے

    اور یہ ستم بھارت نہیں کرتا بلکہ کشمیر کو اپنا کہنے کا دعویٰ کرنے والا کشمیر کو چھوٹا بھاٸی اور خود کو بڑا بھاٸی ظاہر کرنے والا پاکستان کرتا ہے ہم نے غیروں کے کہنے پر برہان وانی شہید کو قومی سطح پر شہید کہنے سے گریز کیا

    ہم نے جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ جیسی کشمیری تنظیموں پر پابندی لگا کر غیروں کو خوش کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔۔

    قاٸد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن ستم بالاۓ ستم ہے کہ ہم قاٸد کے فرمان سے روگردانی کرچکے ہیں 170 دن ہونے والے ہیں شہ رگ کو شکاری کے پنجے میں جکڑے ہوۓ مگر ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ شہ رگ کے بغیر ذندہ رہ رہے ہیں

    کشمیر کی آذادی کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑے ہونا تقاریر کرنا امریکہ سے مدد مانگنا کیا یہ مسلمانوں کا وطیرہ ہوسکتا ہے نہیں ہرگز نہیں۔
    اسلام تو کہتا ہے کہ مظلوم مسلمان عورتوں بزرگوں بچوں کی مدد کے لیے نکلو جبکہ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہوں لیکن افسوس ہم صرف کھڑے رہ سکے نکل نہیں سکے.

    1947۶ کے وقت جب قاٸد اعظمؒ نے پاکستان حاصل کیا تو معاہدے کے مطابق کشمیر پاکستان کی سرحد میں طے پایا۔ لیکن یہ بات بھارت اور اس کی عوام کو ہضم نہ ہوٸی اور کشمیر پر 1948 کو قبضہ کرلیا مجاھدین نے اپنی طاقت کے بل پر لڑ کر آدھا کشمیر اذاد کرا لیا لیکن آدھا حصہ آذاد نہ کرواسکے

    اس طرح آذاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دو حصوں میں منقسم ہوگیا اور بھارتی درندوں کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں نا رکنے والا ظلم کا ایک سلسلہ چل پڑا۔۔
    کشمیر پر ظلم صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی کررہے ہیں جب سے مودی سرکار نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہے کسی بھی مذہبی جماعت کی طرف سے اس کرفیو کے ہٹانے اور 370A قانون ختم کرنے کی طرف زور نہیں دیا گیا

    بھارت کے مسلمانوں کی حالات زار پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھاٸیوں کی مدد کے لیے اواز کیوں نہیں اٹھاتے۔

    اقبالؒ نے انکے متعلق کیا خوب دعا کی ہے

    خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
    وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

    ترقی اور امن کے دور میں صرف کشمیر، فلسطین، برما کے مسلمانوں سمیت ساری دنیا میں صرف مسلمان ہی ذلت کی ذندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہیں۔۔؟
    کشمیر پر ظلم و جبر کی داستانیں 170 دن سے رقم کی جارہی ہیں لیکن عالمی ضمیر اجلاس کی حد تک بیدار ہے
    ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے

    اللّٰہ قاضی حسین احمدؒ (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان) پر کروڑوں رحمتیں نازل فرماۓ جنہوں نے

     ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
     نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

    کے مصداق 5 فروری 1997۶ کو اپنی جماعت کے لوگوں سمیت ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور بھارتی ظلم و جبر اور اسکے تسلط کے خاتمے کے لیے گلی گلی نگر نگر نکلے۔۔

    اس میں کوٸی دو راۓ نہیں ہیں کہ کشمیر کی آذادی کے لیے جنگیں ہوٸی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر کٸ معاہدے بھی طے پا چکے ہیں مگر بھارت ہٹ دھرمی اور چالاکی سے ان معاہدوں کو روندتا چلا جاتا ہے
    پاکستانی حکمران ہر دور میں امریکی غلامی کا پاس رکھتے رہے ہیں اور بھارت کے خلاف کسی بھی سخت اقدام کے لیے اپنی آواز اٹھانے سے محروم ہیں

    اُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
    یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند

    حکمرانوں کی بے حسی، لاچارگی، ستم ظریفی کے باوجود ہر سال مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمعیت علما۶ اسلام، مرکزی جمعیت اھلحدیث شامل ہیں
    اس امید سے

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    کشمیر کی اذادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ریلیاں جلوس منعقد کرتی ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔۔

    کشمیر ان شاء اللہ ایک دن آذاد ہوگا اور حقیقی معنوں میں جنت کا نظارہ ضرور پیش کرے گا۔۔

    بیداری
    محمد قاسم انصاری

  • مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ  کےکس  فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جشن منایا اوربہت سے لوگوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سروسز جلد ہی دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔
    ایک کاروباری شخص اشتیاق احمد نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت خوش کن خبر ہے کیونکہ انٹرنیٹ کو معطل ہوئے اب پانچ ماہ سے زائد کاعرصہ ہو گیاہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوںنے کہاکہ ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وادی میں کاروبار کے لئے بدترین مرحلہ رہا ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا بنیادی ذریعہ ہے جس پر ہر ایک ، خاص طور پر کاروبار سے وابستہ افراد ، انحصار کرتے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وادی میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ ایک اور تاجر امید کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر منحصر کاروبار کو بھر پور فائدہ ملے گا۔
    شہر کے مضافات میں مقیم ایک طالبہ ، آفرین مشتاق نے کہا کہ طلبا برادری سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی اور عدالت عظمی کی جانب سے یہ فیصلہ اگرچہ دیر سے ہوا ہے لیکن یہ تازہ ہوا جھونکا ہے۔

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح انداز میں کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہے۔ یہ جمہوری ملک ہے، یہاں ہم کسی کو اس طرح نہیں رکھ سکتے۔ انٹرنیٹ پر پابندی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ لوگوں کے حقوق نہیں چھینے جانے چاہیے۔ سات دنوں کے اندر دفعہ 144 پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومتی دلائل کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ کہیں بھی دفعہ144 لگائی جائے تو اسے غیرمعینہ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر معمولی حالات میں ہی اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔اس دفعہ کا استعمال بار بار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو اس پر واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔

  • پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
    میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
    الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
    ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
    اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
    کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
    یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
    سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
    افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ

  • مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ میں مختلف نسلوں اور قبائل کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سب سے بڑی آبادی گجر اور بکروال قبیلہ کی ہے۔ عام طور پر اونچے پہاڑوں، جنگلاتی علاقوں اور چراگاہوں میں رہنے والی یہ آبادی، سخت جاں ہے اور ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ حکومتیں انکی فلاح و بہبود کا تذکرہ تو کرتی ہیں لیکن عملی طور اس پسماندہ آبادی کی زبوں حالی کی تصویر بدلتی نظر نہیں آتی۔


    جموں و کشمیر اور لداخ میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے، اس میں سے قبائلی لوگوں کی آبادی 11 اعشاریہ 9 فیصد یعنی 14 لاکھ 93 ہزار 299 ہے۔پورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں و کشمیر میں کل 12 قبائل آباد ہیں، جن میں گجر، بکروال، بلتی، بیڈا، بوٹو، بروکپا، چنگپا، گررہ، مون، پورگپا، گدی اور سیپی شامل ہیں۔ ان سب قبیلوں میں گجر بکروال قبیلہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا قبیلہ ہے۔


    کشمیر میں 12 قبائل آباد ہیںاورپورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گجر و بکروال قبیلہ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔موجودہ وقت میں جموں و کشمیر میں کل شرح خواندگی 71 فیصد ہے، گجروں کا لیٹریسی ریٹ محض 32 فیصد اور بکروال کا لیٹریسی ریٹ 23 فیصد ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں یہ قبیلہ بہت پیچھے ہے۔

    قبیلے کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانے کے لیے 1970 میں اس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے 263 موبائل اسکولوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ان موبائل اسکولز کا مقصد تھا کے گجر و بکرال کا وہ طبقہ جو اپنے مال مویشی کے ساتھ موسمی ہجرت کرتا ہے ان کو تعلیم فراہم کروائی جائے، اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ موبائل اسکولز اس قبیلہ کے ساتھ رہیں گے، اور قبیلہ کے بچوں کو تعلیم دیں گے۔

    اس دوران 263 موبائل اسکولز میں سے 175 موبائل اسکولز شروع کئے گئے۔ پھر بعد میں کچھ اسکولز کو بند کر کے ریگولر اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا، اور باقی 88 موبائل اسکولز رہ گئے۔آج یہ 88 موبائل اسکولز کاغذی ریکارڈ پر تو ہیں لیکن زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، قبیلہ میں تعلیم کو اور بڑھاوا دینے کے لیے 2011 میں جموں و کشمیر حکومت نے 100 دیگر موبائل اسکولز کا اعلان کیا، جو ابھی تک شروع نہیں کیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں یونیورسٹی کی شعبہ لائف لرنینگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کویتہ سوری کے مطابق فی الوقت جموں و کشمیر کے سبھی اضلاع میں سے صرف راجوری ضلع میں بعض موبائل اسکولز کام کررہے ہیں۔

    گجر بکروال قبیلہ کی تاریخ پر ایک نظر

    گجر بکروال قبیلے کی ابتدا تاریخ داں وی اے سمتھ کی کتاب ‘ہندوستان کی ابتدائی تاریخ’ کے مطابق 465 قبل مسیح میں ہوئی۔ ان کی اس کتاب میں راجستھان میں گجر مملکت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ‘جیوگرافی آف جموں و کشمیر’ کے مصنف اے این رینہ لکھتے ہیں کہ ‘گوجر جارجیہ کے باشندے تھے۔ جس کے بعد وہ وسطی ایشیا، عراق، ایران، اور افغانستان کے راستے برصغیر ہند و پاک پہنچے۔ گجروں کے نام سے ہی آج کا گجرات جانا جاتا ہے۔ گجر اسکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے اس قبیلے کی جینیاتی اساس وسطی ایشیا میں تلاش کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گوجر اصل میں ترکی النسل ہیں۔ متعدد گجر مورخین کا ماننا ہے کہ گجر سن ڈائنسٹی سے منسلک تھے اور ہندو بھگوان رام کے پیروکار تھے جن کی اکثریت بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔

    بھارت میں گجروں کی آباد ی جموں و کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے علاوہ دہلی، اترپردیش، پنجاب، راجستھان، گجرات، ہماچل پردیش، بہار اور ہریانہ میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی گجر بستے ہیں۔ گجر قبائل سے وابستہ لوگ مسلمان، ہندو، اور سِکھ مذاہب کے پیروکار ہیں۔

    2011 کی مردم شماری کے مطابق گجر قبیلہ کی کل آبادی 980654 ہے جبکہ بکروالوں کی آبادی 113198 ہے۔ گجر اور بکروال طبقہ کو 1991 میں انڈین شیڈول ٹرائب کے اندر لایا گیا۔ گجر بکروال طبقے کی معیشت مال مویشی، بھیڑ بکریاں، کھیتی باڑی اور دودھ بیچنے پر منحصر ہے۔ یہ طبقہ 12 مہینے خانہ بدوشی کی وجہ سے 6 ماہ کشمیر میں اور چھ مہینے جموں میں گزارتا ہے۔ بکروال اور گوجر طبقوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق بکروال مجموعی طور پر خانہ بدوش ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، "بکروال” میں ‘بکر’ کا معنی بکرا ہے اور ‘وال’ کا مطلب رکھوالا، بکروال بھیڑ بکریوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔

    بکروال برادری مذہب اسلام سے تعلق رکھتی ہے، اور بکروالوں کی آبادی جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔قبیلہ کی تہزیب و تمدن اور ثقافت پر ایک نظر تہذیب و تمدن اور ثقافت کے اعتبار سے یہ قبیلہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، اس قبیلہ میں خواتین شلوار قمیض اور سر پر گوجری ٹوپی کے ساتھ منفرد طرح کے زیورات پہنتی ہیں۔ اور مرد شلوار قمیض کے ساتھ گوجری پگڑی پہنتے ہیں۔ گجر مرد اپنی خوبصورت لمبی داڑھی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوجری زبان اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ خوبصورت گیت اور بیت اس زبان کی منفرد پہچان ہیں۔

    ریاست جموں وکشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے قطعا درست نہیں بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے شروع شروع میں گجرات(بھارت)اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشو و نما پائی چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب اردو کی خالق، گوجری زبان میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

    گوجری فوک میں نغمے، بلاڈ اور فولک کہانیاں جنہیں داستان کہا جاتا ہے بہت دستیاب ہیں۔ گوجری زبان کے سیکڑوں گانوں میں نوروو، تاجو، نئرا، بیگوما، شوپیا، کونجھڑی اور ماریاں مشہورہیں۔ گوجری زبان میں اب لکھنے کا رواج بھی عام ہوچلا ہے۔ مشہور لکھاریوں میں سین قادر بخش، نون پونچی اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے لکھاریوں میں میاں نظام الدین، خدا بخش، زابائی راجوری، شمس الدین مہجور پونچی، میاں بشیر احمد، جاوید راہی، رفیق انجم، ملکی رام کوشن، سروری کاسانا، نسیم پونچی اورموجودہ دور میں منیر احمد زاہدجیسے لوگوں نے نام کمایا ہے اور اپنی شاعری، نثر اور تنقیدوں کے ذریعے گوجری زبان کی خدمت کی ہے۔

    قبیلہ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت آج پورے بھارت میں جہاں لوگ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، وہیں گجر بکروال قبیلہ اپنے بنیادی مسائل کے لیے پریشان ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!!   تحریر غنی محمود قصوری

    بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری

    آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
    یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
    آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
    اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
    مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے

  • سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی : چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان تاشقند ،شملہ اورلاہورمعاہدوں کے تمام پہلوؤں سے دستبرداری کا اعلان کرے..بھارت نے یکطرفہ طور پر ان معاہدوں کوختم کردیا ہے،بعض کشمیریوں کو گھر خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے گھروں پرجلد قبضہ کرلیا جائے گا،لداخ کے مسلمانوں کو بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،

    واضح‌رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ روا رکھنے کے لیے تین ماہ سے زیادہ عرضے سے کرفیو لگا رکھا ہے.خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟

  • ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام….از… محمد نعیم شہزاد

    نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت گردانہ ذہنیت کی سیاہ ترین مثال ہے۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، آج سے بہتر برس پہلے جس تحریک آزادی کو کچلنے کی مذموم سعی لاحاصل کی گئی ایک بار پھر وہ تحریک آزادی ویسے ہی حالات سے دوچار کر دی گئی ہے۔ جور و ستم کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں اضافہ تو ہوا ہے مگر طرز واردات اور مکروہ سوچ وہی ہے۔

    اپنے ناجائز غاصبانہ قبضے کو جائز ثابت کرنے کا خواب سچ کرنے کی خاطر دہشت گرد بھارتی قوم راجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ راج کی صورت میں ہو یا نریندر مودی اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی صورت، ایک ہی خاص انداز نظر آتا ہے اور ایک ہی مقصد کہ مسلم اکثریت کو کسی طور اقلیت میں بدل ڈالا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا جاتا ہے، نہ کسی کی جان سلامت اور نہ آبرو محفوظ، محرک صرف ایک ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے یا انھیں ہجرت پر مجبور کر دیا جائے تاکہ مسلمان کشمیر میں اقلیت کا درجہ پا لیں اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادیں اور دنیا کے مسلمہ جمہوری تقاضوں کو نبھاتے ہوئے کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست ظاہر کیا جا سکے۔

    بھارت کی سفاکانہ، غیر منصفانہ اور غیرانسانی سوچ تو سب پر واضح ہے اور ہندتوا کا جنون بھی کسی سے مخفی نہیں مگر عالمی طاقتیں کیوں محو تماشہ اور لب بام ہیں، کیا دنیا میں مسلم کے لیے یہی انصاف کا معیار ٹھہرا دیا گیا ہے؟
    وہ کون سا ظلم ہو گا جو نہتے کشمیریوں پر روا نہیں رکھا جاتا؟
    کیا کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں نہیں بدل دیا گیا؟
    مگر یہ سب کس جرم کی پاداش میں؟؟؟
    ایک نہیں کئی ایک سوال ہیں مگر جواب کون دے گا؟

    ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت اور انتقام کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔ کشمیری قوم ایک عرصہ سے اس آگ میں جھونکی ہوئی ہے اور اب اس کی حدت میں عام شہریوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالرز بھی جل رہے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ رد عمل کے طور پر بھارت کو بھی اس آگ میں جلنا ہو گا۔ مگر دہرا معیار انصاف یہاں بھی آڑے آتا ہے اور کشمیریوں کے اس رد عمل کو دہشت گردی اور militancy کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    بھارت اور اس کے ہمنوا ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں۔ ظلم کی ایک طویل داستان ہے جو اہل کشمیر اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔ قربانیوں اور شہادتوں کے یہ انمٹ نقوش کسی بڑے آتش فشاں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ظلم و نا انصافی کی تلافی اور تدارک کا وقت گزر چکا اور ہم بحیثیت مجموعی انسانیت کے مجرم ہیں، جس سنگین بے حسی کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں اس کا تصور بھی محال ہے۔

    ایک زندہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر وحشیانہ تشدد، محرم رشتوں کے سامنے معصوم کلیوں کو نوچنا، پیلٹ گن سے بینائی چھیننا اور جسم کا پور پور اذیت میں مبتلا کر دینا اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جسد خاکی تک کو ہوا کر دینا معمولی جرم نہیں ہیں۔ اس سب پر مستزاد کمیونیکیشن لاک ڈاؤن اور سوشل میڈیا بلاکنگ اور سسپنشن ہے۔ تمام ایسے اکاؤنٹ جو کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں بلاک کر دیے جاتے ہیں مگر ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    تحریر: محمد نعیم شہزاد

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے  کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی.

    وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی،جے یو آئی اور دیگر جماعتوں سے اتحاد کی درخواست کی ہے . مل کر الیکشن لڑ کر بھارت کو اتحاد کا پیغام دینا چاہتے ہیں،انہوں نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی نے ہماری درخواست قبول کی ہے،ہماری کسی کی ذات سے لڑائی نہیں صرف یکجہتی کا پیغام دینا ہے،ہمیں نوازشریف،خورشیدشاہ اورمریم نواز کی صحت پر تشویش ہے،ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل جوڑ رکھا ہے،