Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

    اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

    چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

    چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

    خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

    لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

    قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

    6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

    دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

    کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

    ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

    کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

    بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

    اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

    آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

    یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

  • امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    بھارتی فضائیہ نے امریکا کے آٹھ فوجی ہیلی کاپٹروں کو پاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں کے قریب تعینات کردیا ہے۔بھارت کے ایئرچیف مارشل بریندر سنگھ دھانوا نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے اے ایچ چونسٹھ اپاچی ہیلی کاپٹروں کو پٹھان کوٹ ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے۔

    بھارتی ائیر چیف نے کہا یہ ہیلی کاپٹر ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل کو لوڈ اور انہیں فائرکرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا میں مارکرنے والے میزائل کو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور الیکٹرانیک وار فی‍ئر میں بھی ان کا بہت اچھے انداز میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ میں امریکا کے اپاچی ہیلی کا پٹر کو روس کے قدیمی ہیلی کاپٹر میل ٹوئنٹی فائیو کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

  • کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کی طرف سے سخت دباو پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹوئٹس پر پاکستانیوں کے بند ہونے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہو گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لیے کیے گئے ٹوئٹس پر 333 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے تھے۔

    کشمیریوں کی حمایت پر بولنے پر بھارت کی جانب سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر رحمان ملک، وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف بھی شکایت کی گئی تھیں تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ان رہنماؤں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

    پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مداخلت پر ٹوئٹر انتظامیہ نے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس بحال کرنا شروع کر دیے ہیں اور اب تک 67 اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

    دوسری طرف پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حق میں مواد شیئر کرنے پر ٹوئٹر اکاؤنٹ صارفین شکایات کی صورت میں پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    باغی ٹی وی رپورٹ : ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کا ایک خاص موضوع تھا اور وہ موضوع تھا کشمیر۔ اس موقع پر جو خاص بات تھی وہ تھی پریس کانفرنس کےلیے سجایا گیا سٹیج خاص توجہ کا حامل تھا ۔ میجر جنرل کے پیچھے کشمیری خاص علامت چنار کا پتا تھا ، یہ بیک ڈراپ خاص قسم کا مسج دے رہا تھا جو یہ تھا کہ کشمیر کے لیے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے ،کشمیر ہماری جان سے بھی پیارا ہے اس بات کا اظہار انہوں نے برملا کیا تھا ۔

    چنار کا پتا کشمیر کا عکاس ہے اس کی تاریخ کچھ یوں ہے.کشمیر میں چنار کو ’شاہی درخت‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر قابض ہونے کے بعد سرزمینِ فارس سے لاکر بویا گیا تھا۔

    لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا۔ مصنف، شاعر اور سابق ناظمِ اطلاعات خالد بشیر احمد کہتے ہیں کہ چنار، کشمیر کا دیس واری درخت ہے کیونکہ اس کا ذکر چودھویں صدی کی شاعرہ لل دید کے کلام میں بھی ملتا ہے۔

    حقیقت جو بھی ہو کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اس کی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسے پوری وادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول حصوں میں منقسم اس جنت نظیر کہلانے والی متنازع ریاست کے کئی دوسرے حصوں میں بھی تزئینِ اراضی کے ایک اہم جز کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
    اب یہ بھی خبیں ہیں کہ بھارتی فورسز اس درخت کو جلدی سے کاٹ رہی ہیں اور اس سے کشمیر کا حسن مانند پڑ رہا ہے
    .اب نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ،سرکاری عمارتوں، ہوٹلوں، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ اندھا دھند کاٹا جارہا ہے ۔

    چنار کو کشمیر کی شان اور پہچان سمجھ کر اس سے محبت کرنے والے عام شہری، ماحول شناس کارکن اور ماہرینِ ماحولیات یکساں طور پر اس صورتِ حال سے پریشان اور اس پیڑ کے مستقبل کے بارے میں متفکر ہیں۔

    وہ یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں چنار امتداد زمانہ کے ہاتھوں نیست و نابود نہ ہو جائے۔ سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور نجی اداروں کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند قد و قامت درخت اگر اسی طرح سے کٹتا رہا تو وہ لوگ جو چنار خاص طور پر موسمِ خزاں میں اس کے پتوں کے بدلتے ہوئے رنگوں کو، جو ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگ گئی ہو، دیکھنے کے لیے وادئ کشمیر کا رخ کرتے ہیں یہاں آنا ترک کردیں گے۔
    چنار کے درخت اور پتے کے ساتھ کشمیر کے ادب کا بھی گہرا تعلق ہے اس کو کشمیری زبان میں اہنے شعرو ادب میں استعمال کیا گیا ہے.

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    جدہ : بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت کو کہا ہے کہ جلد سے جلد کرفیو ختم کیا جائے۔

    او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے، ان پابندیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو انسانی حقوق سے بری طرح محروم کررکھا جارہا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ ادویات ناپید ہیں، اسپتال سنسنان ہیں، تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ بھارتی بربریت کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں اور اخبارات بھی بند ہیں۔ آئی پی ایچ آر سی کے مطابق بھارتی فورسزنے پانچ ہزار سے زائد کشمیریوں کو غیرقانونی طور پر ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔

    دوسری طرف صحافیوں ،انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکی سیاسی قیادت کو بھی بغیر کسی قانون کے قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں

  • ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    برلن: کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر عالمی میڈیا بھی تشویش کا اظہار کرنے لگا ،جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

  • دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    نیویارک:کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ،اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیرمیں حالات سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے عرب نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔

    ذرائع کے مطابق ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کشمیرسے متعلق اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔

  • سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر کل آئے ۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروز والہ کے طلبا نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ یکجہتی کشمیر مارچ میں سکول کے سٹاف نے بھی شرکت کی۔ سپیشل بچوں نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالہ سے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اشاروں کی زبان میں نعرے لگا رہے تھے
    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی
    سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروزوالا کے سٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناظم حسین کا کہنا تھا کہ سپیشل بچے آج مودی کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    ناظم حسین کا مزید کہنا تھا کہ سپیشل بچوں کے بھی کشمیر کے حوالہ سے جذبات ہیں ۔آج وزیراعظم کی اپیل پر سپیشل بچے باہر نکلے ہیں ۔وزیراعظم جب بھی اعلان کریں گے سپیشل بچے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے رہیں گے

  • ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    جناب 30 منٹ کھڑے کیوں ہونا ہے ؟
    جواب ملا قوم کو بیدار کرنے کے لیے ۔
    جناب قوم تو پہلے سے ہی بیدار ہے اپنے ضمیر پر سے پیسے کے لالچ کا بوجھ اتاریں تاکہ آپ کا ضمیر بیدار ہو ۔

    قوم کو بہت بہت مبارک ہو کہ میری قوم ابھی بھی زندہ ہے لیکن دکھ تو یہ ہے کہ صرف 30 منٹ کھڑے ہونے کے لیے زندہ ہے ، نعرہ تکبیر کہہ کر آگے بڑھنے کے لیے نہیں ۔ آج قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر بتا دیا کہ ہم آج بھی کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم کشمیریوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، ہم اپنی کشمیری بہنوں کی عزتوں کے لیے ابھی بھی فکر مند ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں کے لیے جان دینے کو تیار کھڑے ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں سے وفا نبھانے کو تیار کھڑے ہیں ۔ آج قوم نے اپنے حکمرانوں اپنے لیڈروں سمیت ثابت کر دیا کہ ہم آج بھی اپنے کشمیری بھاٸیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مبارک ہو میری قوم کو کہ آج ہم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے دنیا والوں کو ۔

    میرے کشمیری لوگو فکر نا کرنا بس ابھی دیکھنا ابھی مودی کا فون آٸے گا کہ پاکستانیوں تم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر ہمیں بہت زیادہ خوف زدہ کر دیا ہے لے لو پلیز لے لو ہم سے کشمیر واپس ، میری کشمیری بہنوں دیکھنا ابھی انڈیین آرمی والے تمہاری عزتوں کو تار تار کرنے کی بجاٸے تمہارے محافظ بن جاٸیں گے اور ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے اعتراف کریں گے کہ پاکستانی قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر ہمیں بہت خوفزدہ کر دیا ہے ، میرے کشمیری بوڑھوں فکر نا کرو ہم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر انڈیا والوں کو اس قدر ڈرا دھمکا لیا ہے کہ وہ آٸندہ کبھی تمہارے جوانوں کو شہید کر کے اجتماعی قبروں کے قبرستان نہیں بناٸیں گے ، میری کشمیری ماٶں آج سر فخر سے بلند کر لو کہ ہم پاکستانیوں نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈین فوجیوں کو اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ اب تمہارے جوان بیٹوں کو کبھی شہید نہیں کریں گے ، کبھی تمہارے سر سے آنچل نہیں کھینچے گے ، میری کشمیری بیٹیوں خوش ہوجاٶ کہ آج کے بعد کبھی تم یتیمی کی زندگی نہیں گزارو گی ، آج کے بعد ہندو تمہیں کبھی پریشان نہیں کریں گے ، آج کے بعد کبھی تمہارے گھروں میں گولی اور بارود نہیں آٸے گا ، آج کے بعد کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آٸیں گے ، آج کے بعد تم میں سے کوٸی معزور نہیں ہوگا ، میری کشمیری بچیوں آج کے بعد کوٸی دکھ تمہارے قریب نہیں آٸے گا کیونکہ آج تمہارے پاکستانی بھاٸی تمہارے لیے 30 منٹ کھڑے ہوٸے ہیں ۔

    پاکستانیو ! مبارک ہو ہم نے بالآخر وہ طریقہ ڈھونڈ ہی نکالا جس کا علم نا محمد بن قاسم کو تھا ، نا محمود غزنوی کو تھا ، نا صلاح الدین ایوبی کو تھا یہ طریقہ تو صرف اور صرف پاکستانی حکمرانوں کے پاس ہے کہ بغیر ہتھیار اٹھاٸے ، بغیر جنگ کٸیے ، بغیر خون خرابہ کیے کس طرح کشمیر فتح کر لیا ہے آج ہم نے کہ دنیا کفر ہمارے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ، میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اپنی افواج سے جدید ترین ہتھیار ، بلکہ ہر قسم کے ہتھیار لے کر واپس بلا لیں اور ہر جمعہ پاکستانی قوم کو 30 منٹ کے لیے کھڑا کر دیا کریں تاکہ عالم کفر ہم سے خوف زدہ رہے ۔ میری پیاری پاکستانی قوم کبھی تم لوگوں نے محسوس نہیں کیا کہ ہم پاکستانی کم اور کوفی زیادہ ہیں ۔ میدان کربلا میں ایک ایک ہیرا کٹتا رہا اور اہل کوفہ کیسے خاموش رہے تھے جانتے ہو کیسے تھے ؟ بالکل ہم جیسے ، جیسے ہم ہیں ویسے ہی اہل کوفہ تھے ۔ کشمیری ہمارے پرچم کے ساتھ شہید ہوتے رہے ، عزتیں لٹاتے رہے ، جانیں دیتے رہے ، اور ہم ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں وہی جو اہل کوفہ نے سادات کے ساتھ کیا تھا ۔ شاید ہم انڈیا کے ساتھ تجارت بند کرتے ، فضاٸی حدود بند کرتے ، یا نعرہ تکبیر بلند کر کے اعلان جہاد کرتے تو ہم انڈیا کو اتنا نقصان نہ پہنچا پاتے جتنا ہم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈیا کا نقصان کر دیا ہے ۔میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ آٸیندہ جب 30 منٹ کھڑے ہونے کا اعلان کریں تو عالم کفر کو زیادہ خوف زدہ کرنے کے لیے قوم کے مردوں سے کہے کہ وہ ہاتھوں پر مہندی لگا کر ، چوڑیاں پہن کر اور سر پر دوپٹہ لے کر 30 منٹ کھڑیں ہوں تاکہ 30 منٹ کھڑے ہونے کی نوبت ہی نا آٸے بلکہ یہ مسلہ 3 4 منٹ میں حل ہوجاٸے ۔

    محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی کی منتظر قوم کو ایسی بہادری مبارک ہو جس میں صرف 30 منٹ کھڑے ہوکر ہماری قوم نے کشمیر کے ساتھ ساتھ مسٸلہ فلسطین و مسٸلہ برما اور دیگر تمام مساٸل حل کر لیے ہیں ۔