مسئلہ کشمیر پر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر فقط ایک زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ ہے کوئی نظریہ یا اسلام کا مسئلہ نہیں ہے یہ تحریک آزادی کشمیر اور لاکھ سے زائد شہداء کے مقدس لہو کے ساتھ واضح ترین غداری ہے. یہ کوئی دو چار سالوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان سے قبل سے چلا آنے والا ایشو ہے جس کی بنیاد خالصتاً نظریہ اور مذہب پر کھڑی ہے. بھارت کی متشدد اور جنونی مذہبی حکومت کا کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنا بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط زمین جائداد کا مسئلہ نہیں ہے، کشمیر کے سرخ سیبوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ مذہبی اور نظریاتی مسئلہ ہے یہی بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہی کہ بھارتی حکومت وہ اپنے نظریے پر کھڑی ہے اور ان کا نظریہ اکھنڈ بھارت اور ہندو تواء کا نظریہ ہے وہ اشوکا کا بھارت چاہتے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف قدم اٹھارہے ہیں اور اپنے آئین کے بھی سراسر خلاف جا رہے ہیں. ایسے میں یہ سراسر تحریک آزادی کشمیر سے ناآشنائی والی بات ہے کہ بندہ اس مسئلہ کو فقط جائداد کا مسئلہ بنا دے. کشمیر کے مسئلے کا تعلق دو قومی نظریہ اور اسلام سے ہونے کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بارہا بھارتی گورنمنٹ نے کشمیری نوجوانوں کو پیکجز کی آفر کی اور تعلیم و نوکری کے سبز باغ دکھائے مگر کشمیری حریت پسندوں نے ان تمام بھارتی آفرز و پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے.کشمیریوں کے لیے یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کشمیری پر امن ہوکر اپنے فروٹس اور دیگر چیزوں کو بھارت میں بیچنا شروع کردیں اور بھارتی بدلے میں کشمیر میں فلاحی پراجیکٹس کی تکمیل کرے لیکن وہ دو قومی نظریہ ہی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو سنگینوں اور بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں پتھر اٹھاکر سینہ سپر ہوجانے پر کھڑا کردیتا ہے. یہ اسلام اور نظریے کا ہی تعلق ہے کہ علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت بھٹ، شبیر شاہ، میرواعظ عمر فاروق، یسین ملک سے لے کر ہر چھوٹا بڑا کشمیری حریت رہنما یہ صدا بلند کرتا ہے کہ اسلام کے تعلق سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. یہ کوئی زمینی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا نظریہ ہے جو ہر شہید ہوکر گرنے والے ایک کشمیری کی جگہ پر سو نوجوانوں کو کھڑا کردیتا ہے اور اس نظریہ کی حقانیت تو اب بھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی تسلیم کرچکے اور کھلے الفاظ میں کہہ چکے کہ جناح کا دو قومی نظریہ درست تھا.ہمارے دانشور اور علماء اس کو زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ بتا کر اس سے منہ موڑے رکھیں لیکن اغیار بھی واضح طور پر یہ کہنا شروع ہوگئے کہ مسئلہ کشمیر اسلام و کفر کا معرکہ و مسئلہ ہے. گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ آرٹیکل پوسٹ کیا کہ آرٹیکل 370 کا ختم ہونا ہندوازم کی اسلام پر فتح ہے. کتنی شرم کی بات اور مقام افسوس ہے کہ دشمن تو اس کو نظریہ اور اسلام و کفر کی جنگ سمجھ کر اس پر فتح کے شادیانے بجائیں اور ہم اس کو زمین کے ٹکڑے کی جنگ کہہ کر روگردانی اختیار کرجائیں.

Category: کشمیر
-

مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
Muhammad Abdullah -

بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!
کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …
گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔
گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …
۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟
. پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟
۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟
۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟
آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comیوٹیوب چینل سکرائب کریں
https://www.youtube.com/c/superteamks
فیس بک پروفائل
https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9
ٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -

پاکستان، افغان جنگ اور تحریک آزادی کشمیر — عبدالرحمن
گزشتہ چند دنوں سے کچھ تحریریں پڑھنے کو مل رہی جن افغان اور کشمیر گوریلا وار کا موازنہ کیا جارہا ہے ایک مؤقف یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے تو پھر کشمیر میں ہونے والے ستم کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے کہ ایک طرف اس نے وقت کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوادیے تو دوسری طرف ہندوستان جیسے مکار سے کشمیر کو نہ بچا سکا
کیا کشمیر یا افغانستان کی جنگ کی ہار جیت کا مکمل ذمہ دار صرف پاکستان ہے یا اس میں افغانیوں اور کشمیریوں کا بھی کردار ہے آئیے اس سے متعلق چند نقاط پر بات کرتے ہیںسب سے پہلے افغان قوم کی بات کرتے ہیں ذرا تاریخ دیکھیں تو یہ ہمیشہ سے جنگجو رہے ہیں غوری، غزنوی اور سوری سب انھی میں سے تھے اور ماضی قریب میں پچھلی ایک صدی سے یہ مسلسل جنگ کررہے ہیں پہلے برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ گویا ان کی موجودہ نسل حالت جنگ میں ہی پیدا ہوئی اور پھر ان کو عسکری محاذ پر مختلف قوتوں کی علی الاعلان یا پھر بھرپور خفیہ حمایت ہی نہیں عملی مدد بھی شامل رہی روس کے خلاف امریکہ اور مکمل مسلم دنیا نے ان کی بھرپور مدد و حمایت کی اور امریکہ کے خلاف مسلم دنیا بالخصوص پاکستان نے ان کی مکمل مدد جاری رکھی
اس کے برعکس کشمیری قوم قیام پاکستان سے پہلے راجا ہری سنگھ سے لے اب تک مسلسل غلامی میں رہی اور(ماضی میں ) ان کا جذبہ حریت افغانوں سے موازنہ کرنا سراسر بے ایمانی ہوگا 65 کی جنگ میں پاکستان نے بہت کوشش کی کہ
منظم ہوئی عوام نے اس کی بھر پور حمایت تو کی اور مسلح جدوجہد میں تیزی آئی
یہ منظم اور بھرپور عسکری جدوجہد کا پہلا دور تھا جب کشمیریوں نے ہتھیار اٹھانے شروع کیے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار تھا اور اس عسکری جدوجہد کو انجام تک پہچانے کے لیے شروع کی جانے والی کارگل جنگ اپنوں کی بے وفائیوں کی نظر ہوگئی اور پھر اس کے بعد امریکہ افغانستان میں آگیا اور پاکستان کے لیے مغربی محاذ بھی کھل گیا چونکہ امریکہ کا مقصد پاکستان اچھی طرح سمجھ چکا تھا
اور پھر پاکستان کو کچھ کڑوے گھونٹ بھرنے پڑے جن میں ایل او سی پر باڑ بھی شامل تھی ان تمام عوامل کی بنیاد پر کشمیر کی عسکری جدوجہد سست روی کا شکار ہو گئی
ادھر امریکہ افغانستان میں ایک سال
بھی نہیں ہوا تھا تو جذبہ حریت سے سرشار فاتح افغان قوم نے اس کو دن میں تارے دکھانا شروع کردیئے اور بھرپور گوریلا وار شروع کر دی
اگر آپ دیکھیں کہ تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بندوق اٹھاکر لڑکر شہید ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے تو یقیناً آپ مایوس ہوں گے
2013 تک کشمیر کی حالت یہی رہی کہ لڑنے والوں کی اکثریت مقامی نہیں تھی اس دوران یقیناً سفارتی سطح پر پاکستان کے حکمرانوں نے سفارتی محاذ بالکل ٹھنڈا رکھا لیکن مودی کے مظالم اور پھر برہان مظفر وانی کی شہادت نے ایک بار پھر کشمیریوں کو بھارت کے خلاف عسکری طور پر کھڑا کردیا اور پاکستان کی کھلم کھلا عسکری حمایت کے لیے پاکستان موقع کی تلاش میں ہے مگر پاکستان پہل نہیں کرنا چاہتا ان شاء ﷲ تحریک آزادی کشمیر اس بار ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی

-

مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد
کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

-

ہرکشمیری کے گھر کے باہر بھارتی فوجی بندوق تان کے کھڑے ہیں ، اسے ہی تو فاشزم کہتے ہیں : چیئرمین کشمیر کمیٹی
اسلام آباد: ہرکشمیری کے گھر کے باہرایک بھاری فوجی بندوق تان کے کھڑا ہے ، یہ فاشزم نہیں تو اور کسے کہتے ہیں. ان خیالات کااظہار چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ، چیئر مین کشمیر کمیٹی فخرامام نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات کی قلت ہو گئی ہے، بھارت ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس 50 سال بعد ہو رہا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔فخرامام نے کہا کہ اب وقت قریب ہے کشمیری بھی آزاد ہوجائیں گے ، پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوشاں ہے
-

مسئلہ کشمیر کا حل مفاہمت یا مزاحمت؟ .صابر ابو مریم کا بلاگ
مسئلہ کشمیر تاریخ کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے اوریہ مسئلہ بھی فلسطین کے مسئلہ کی طرح برطانوی استعمار کی سازشوں کے نتیجہ میں اور امریکی حمایت کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہے۔دونوں مسائل کی نوعیت اگر چہ اہمیت کے اعتبار سے جداگانہ ہے لیکن دونوں پر مسلط ظالم نطاموں کی مدد گار حکومتیں اور آلہ کار ایک ہی ہیں جن کا ذکر در ج بالا سطور میں کیا گیا ہے۔
مسئلہ چاہے کشمیر کا ہو یا فلسطین کا یا پھر اسی طرح کے کسی اور خطے کا کہ جہاں ظالم وسامراجی نظاموں نے ملتوں کو محکوم بنا رکھا ہو اور ظلم و ستم کے نا رکنے والے سلسلے قائم ہوں۔ایسے ہر مقام پر اگر کسی حل کی بات کی جائے گی تو یقینا یہی بات سامنے آئے گی کہ مظلوم ملتوں کو حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔
اگر بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بات کی جائے ت وفلسطین و کشمیر سمیت ایسی تمام ملتوں کو یہ حقوق اور اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اپنی زمینوں پر قابض اور جارح قوتوں کو دور کرنے اور اپنے حقوق کے دفاع اور اپنی سرزمینوں کی واپسی کے لئے نہ صرف احتجاج کریں بلکہ مسلح جدوجہد بھی کر سکتے ہیں اور ایسی جدوجہد کو غیر قانونی نہیں کہا جا ئے گا۔
فلسطین کا مسئلہ لگ بھگ ستر سال سے زائد یا پھر اگر بالفور اعلان سے اس کا جائزہ لیا جائے تو ایک سو سال سے زائد کا ہو چکا ہے۔مسئلہ کشمیر کی تاریخ بھی ستر سال سے زائد کی ہو چکی ہے لیکن دونوں مسائل میں جب بھی مفاہمت کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا ہے تو نتیجہ میں مظلوم ملتوں کے حقوق زائل ہوتے رہے ہیں۔
آئیں آپ کو فلسطین کے مسئلہ میں مفاہمت کی مثال پیش کرتے ہیں، جب یاسر عرفات نے امریکی جھانسوں میں آکر فلسطین کے مسئلہ کو صہیونی دشمن اور شیطان بزرگ امریکہ کے ساتھ میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ میں رہا سہا فلسطین بھی فلسطینیوں کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ جاتا رہا اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دشمن اب قبلہ اول بیت المقدس پر بھی اپنا ناجائز تسلط قائم کرنے پر تلا ہوا ہے۔
مسئلہ کشمیر بھی اسی طرح کی مفاہمت کے چکر میں الجھ چکا ہے۔مفاہمت کے نعروں نے جہاں مجاہدین کو نقصان پہنچایا ہے وہاں کشمیر کی مظلوم ملت کو آزادی اور استقلال سے کوسوں دور کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جب تک ظالم و جارح ہندوستانی افواج کو منہ توڑ جواب دیا جاتا تھا تو اس وقت دشمن اپنی حد میں رہتا تھا اور کشمیر پر حملہ کرنے یا کشمیریوں پر تیسرے درجہ کے مظالم ڈھانے سے پہلے درجنوں مرتبہ سوچ بچار کرتا تھالیکن ہم نے جب سے مفاہمت کا زہر گھول کر مزاحمت کو پس پشت ڈال دیا ہے اس دن سے اب دشمن کی ہمت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں درندگی کرتا ہے بلکہ سرحد کے اس طرف آبادیوں پر بھی گولہ باری کرتا ہے اگر چہ بعد ازاں اس جارح دشمن کو افواج پاکستان منہ توڑ جواب دے دیتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دشمن کو یہ جرات ہی کیوں ہو؟
فلسطینیوں کو دیکھیں اگر چہ نہتے ہیں کشمیریوں کی طرح ہی، لیکن گذشتہ کئی برس سے پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اور اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ فلسطین کی مزاحمتی تحریکیں اسرائیل جیسی خونخوار اور دنیا کے لئے طاقتور فوج کامقابلہ بھی کرتے ہیں۔نہ صرف مقابلہ کرتے ہیں اور دفاع کرتے ہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت اس پوزیشن میں آچکی ہے کہ اپنے ڈرون طیارے اڑا کر دشمن کو حیران وپریشان کر رہی ہے۔صہیونی دشمن کی نیندیں اڑا چکی ہے۔وہ صہیونی دشمن جس نے ماضی میں بیک وقت کئی کئی عرب افوج کو چند گھنٹوں میں زیر کر دیا تھا آج لبنان میں حزب اللہ کے مقابلہ میں آنے سے بھاگ رہاہے کیونکہ سنہ2006ء میں 33روزہ جنگ میں بھیانک شکست مفاہمت کی وجہ سے نہیں بلکہ حزب اللہ کی مزاحمت اور استقامت کی وجہ سے ہوئی تھی جسے اسرائیل تو کیا اس کے مٹ جانے کے بعد صہیونیوں کی نسلیں بھی تاریخ میں یاد رکھیں گی۔اسی طرح فلسطین کے اندر ہونے والی لڑائیاں جو پہلے بائیس دن اور پچاس دن تک جاری رہتی تھیں اب حالیہ اسرائیلی حملہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی پائیدار مزاحمت کے باعث چند گھنٹوں میں پسپا ہو جاتا ہے جو صرف اور صرف مزاحمت کے نتیجہ میں ہوا ہے نہ کہ مفاہمت۔
خلاصہ یہ ہے کہ کشمیرکے مظلوم عوام نہتے ہیں اور اپنے پاس موجودوسائل سے جس قدر ہو سکتا ہے وہ اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں لیکن اگر ان کی پائیداری کو کوئی چیز نقصان پہنچا رہی ہے تو وہ صرف اور صرف مفاہمت کا زہر ہے جو کشمیر کے مسئلہ کو حل سے کوسوں دور لے جا رہاہے اور اسمفاہمت کے زہرکے نتیجہ میں کہیں کشمیریوں کی آزادی کی امنگیں دم نہ توڑ جائیں۔پس کشمیر کے عوام کو خود اندر رہتے ہوئے مزاحمت کا انتخاب کرنا ہے اور اسی طرح خطے کی مسلمان ریاستوں کو چاہئیے کہ کشمیر کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں جس طرح فلسطین کے مسئلہ میں چند مسلمان ریاستیں فلسطینیوں کی مالی ومسلح مدد کر رہی ہیں۔کشمیر چونکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مطابق پاکستان کی شہ رگ حیات ہے تو پس پاکستان کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ خود بھی کشمیرکے مظلوم عوام کو مالی ومسلح معاونت کرے او مفاہمت کے زہر سے دور رہتے ہوئے مزاحمت کے راستے کو اختیار کیا جائے کیونکہ تاریخ یہ ثبت کر چکی ہے کہ صہیونی دشمن ہو یا امریکی دشمن ہو یاپھر ان سب شیطانی قوتوں کا پولیس مین بھارت اور اس کی جارح افواج ہوں ان سب کو صرف ایک ہی زبان سمجھ آتی ہے اور وہ زبان مزاحمت کی زبان ہے۔پاکستان کے عوام کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر سطح پر جس قدر ممکن ہو دنیا کی مظلوم اقوام بشمول فلسطین، کشمیر، یمن،بحرین،نیجیریا سمیت میانمار جیسے علاقوں میں حکومتی امداد کویقینی بنانے کے لئے حکومتوں کا ساتھ دے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مفاہمت مفاہمت کا راستہ کھلتے رہنے سے نہ تو کشمیر کوآزادی ملنے والی ہے اور نہ ہی کشمیر سے بھارتی جارحیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔کشمیریوں کے دکھ درد ا مداوا اور آزادی کا واحد راستہ مزاحمت و استقامت ہے جو کشمیرکے عوام کو اندررہتے ہوئے اختیار کرنا ہو گا اور ہمیں ہر سطح پر کھل کر ان کی حمایت اور مددکرنا ہوگی۔بصورت دیگر کوئی اور حل کشمیر اور کشمیریوں سے دھوکہ تو ہو سکتا ہے لیکن حل نہیں ہو سکتا
-

آزادی کی قدر کیا ہیں پڑھیں ایک بزرگ کا احوال ۔۔۔!حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ
کل میں نے ایک پاکستان ہجرت کر آنے والے اپنے علاقے کے ایک بزرگ سے ازراہ گپ شپ پوچھا کہ کچھ انڈیا کے بارے بتائیں
ہنس پڑے کہ ہم تو بلونگڑے تھے اس وقت
پورے 72سال ہو گئے آزادی کو
جب ہم چھوٹے تھے تو
بہت لوگ مل جاتے تھے
جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا تھا
مگر اب تو ایسے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں
اب کوئی 90سالہ بزرگ ہی ہمیں ان مظالم کے قصے سنا سکتا ہے
جو قیام پاکستان کے وقت درپیش آئے تھے
لاکھوں جانیں ضائع ہوئی تھیں
کتنی عزتیں پامال ہوئی تھیں
کتنی مسلم خواتین سکھوں کی باندیاں بنیں
تب جا کر ہمیں اپنی پہچان ملی
آج ہم گائے ذبح کررہے ہیں
ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں
ہماری سرکاری چھٹیوں کا نظام اسلامی تہواروں پر ہے
کیا کسی غیر اسلامی ملک میں یہ سب ممکن تھا
اور بھی آزادی کی کیا کیا مثالیں دوں
مگر افسوس ہم اس آزادی کا مطلب غلط سمجھ بیٹھے
ہم نے اس آزادی کو فرقہ واریت کی آزادی سمجھ لیا
ہزاروں خاندانوں کے چراغ اس فرقہ واریت نے گل کر دئے
ہم نے اس آزادی کو کرپشن کی آزادی بنادیا
تو کسی نے اس آزادی سے قومیت اور لسانیت کا فائدہ اٹھایا
بدقسمتی سے ہم ایک قوم نہ بن پائے
ہم اپنی بدمستیوں میں ایسے مگن ہوئے
کہ بھارت ہماری شہ رگ کشمیر کو ہم سے چھین کر چلا گیا
اور ہم کچھ کرنے کی بجائے
کشمیریوں کی لاشوں پر بھی سیاست کرنے لگے
70سال تک ہم صرف کشمیریوں کے جذبات سے کھیلتے رہے
اور حقیقت میں ہم لوگوں نے کشمیریوں کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ آپس میں قومیت, لسانیت اور فرقہ واریت کھیلتے رہے
آج چودہ اگست کا دن ہے
صرف آزادی کے فنکشن منانا کافی نہیں
بلکہ ہمیں آزادی کے تمام تقاضوں کو بروئے کار لانا ہوگا -

14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر
چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے دیکھا۔
میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘
یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار ہے۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔
کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں
-

عید قربان، جشن پاکستان اور کشمیریوں کو پیغام —- غنی محمود قصوری
اس مرتبہ عیدالاضحی یعنی عید قربان اور جشن آزادی یعنی یوم آزادی پاکستان ایک ساتھ آئے ہیں مگر المیہ کہ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہندو پلید نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے کم و بیش ایک ہفتے سے زائد دنوں سے پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے انٹرنیٹ سروس و موبائل فون سروس بھی بند ہے تلاشی کے بہانے نہتے کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے
کچھ اسی قسم کا منظر ہمارے بزرگوں نے 1947 میں بھی دیکھے ہیں جس کے کئی عینی شاہدین ابھی بھی الحمدللہ حیات ہیں ہمارے انہی بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت ہندوستان پلید کے بطن سے اور انگریز بے ایمان کے جبری قبضے سے لاکھوں شہادتیں اور عزتیں لٹوا کر اپنے گھر بھار گلی محلے مال مویشی چھوڑ کر 14 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی گئی تھی آج اس 14 اگست 1947 کے دن کی نسبت سے ہم یوم جشن آزادی مناتے ہیں
ہندوستان میں اتنے عرصے سے رہتے ہوئے آخر علیحدہ ہونے کی نوبت کیوں آئی وجہ صرف اور صرف دو قومی نظریہ تھا چونکہ ہندو کڑوروں خود ساختہ جعلی خداءوں کا ماننے والا اور مختصرا گائے کا پیشاب پینے والا ہے جبکہ مسلمان ایک اللہ کو ماننے والا اور گائے کا گوشت کھانے اور اس کے پیشاب سے بچنے والا ہے اور پیشاب کو پلید جاننے والا
دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کے لئے پیش کیا گیا کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء کا بھی نظریہ ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نظریہ بھی دو قوموں کے مابین تھا ابراہیم کا نظریہ تھا کہ اللہ ایک ہے اس کے مقابل جو لوگوں نے خود ساختہ جعلی خدا بتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے وہ سب رد ہیں باطل ہیں ان سے بیزاری ہے خیر بات لمبی ہو جائیگی مختصر لکھتا ہوں کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک اللہ کا حکم مانتے ہوئے اور دیگر نظریوں کا رد کرتے ہوئے بتوں کے ٹکڑے کیئےاور نمرود کے سامنے کلمہ حق بیان کیا پھر اس کے بعد اپنے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق قربان کرنے کا فیصلہ کیا مگر ادھر اللہ احکام الحاکیمین نے ابراہیم علیہ السلام کے نظریہ کی قدر کی اور ان کے لخت جگر کی بجائے مینڈھا یاں دنبہ قربان ہوا اسی نسبت سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جد ابراھیم علیہ السلام کے نظریہ کی بنا پر ہر سال 10 ذی الحج کو جانور قربان کرکے عیدالاضحی یعنی عید قربان مناتی ہے
وہی ہندو نجس پلید کہ جس پر ہمارے بڑوں نے تقریبا 1 ہزار سال حکومت کی اور پھر ہمارے ہی بڑوں کی جہاد سے دوری کی بدولت انگریز ہندوستان پر قابض ہوا تو اللہ کریم نے ٹیپو سلطان اور شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسے مجاھدین کیساتھ امت کے غم خوار علامہ اقبال اور قائد اعظم اور ان کے دیگر غیور ساتھی ہندوستان کی دھرتی پر پیدا کیئے جنہوں نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ پر جدوجہد کرتے ہوئے انگریز اور ہندو مکار سے آزادی حاصل کی اس ظالم انگریز اور ہندو کی چالوں کی بدولت وادی جموں و کشمیر جنت نظیر مقبوضہ وادی کشمیر بن گئی اور تاحال مقبوضہ ہی ہے جس کی آزادی کیلئے غیور کشمیری قوم اب تک 1 لاکھ کے قریب شہادتیں اور ہزاروں عزتیں نچھاور کر چکی ہے یوں تو 1947 سے اب تک کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر گزشتہ ہفتے سے کشمیریوں پر مظالم کے ایسے پہاڑ توڑے جا چکے ہیں کہ جن کا بیان نا ممکن ہے اس کمیونیکیشن کے دور میں ہونے کے باوجود کشمیری موبائل اور انٹرنیٹ سے محروم سخت کرفیو میں اب تک سینکڑوں مذید شہادتوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں کیونکہ کشمیری قوم مسلمان اور دو قومی نظریہ کی بنا پر تحریک آزادی کشمیر جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ کے فضل سے آزادی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے سو ہندو ظالم دن بدن کشمیریوں پر نت نئے طریقوں سے ظلم کر رہا ہے مگر افسوس تو مسلمان حکمرانوں پر ہے کہ جو اتنا کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود چپ چاپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں عالم اسلام کے حکمران آزادی کے نبوی طریقے کو (جہاد جو کہ کہنا اس وقت جرم ہے) چھوڑ کر خالی بیانات اور ہندو کو بد دعائیں دینے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ روز قیامت انہی لفظی بیانات کے جہاد سے ہم اللہ کے غضب سے بچ جائینگے جو کہ دراصل خود کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں
اور آخر میں میرا کشمیری قوم کو پیغام امت محمدیہ کے غیرت مند کشمیریوں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آزادی کیلئے 10 لاکھ سے اوپر قربانیاں دی گئیں آج تمہاری قربانیاں بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں سو ڈٹے رہنا گھبرانا مت کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مت جاتا ہے سو ایک اللہ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جاءو میرا رب آج بھی وہی ہے جو فرعون کے گھر موسی کی پرورش کرتا ہے ابابیلوں سے ہاتھی مرواتا ہے اور مچھروں سے نمرود جیسے خود ساختہ جعلی خدا کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے باقی آزادی تو ان شاءاللہ تمہیں ملنی ہی ہے کیونکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ ہند کی بشارت دے کر گئے ہیں مگر کل روز قیامت ان خاموش تماشائیوں کے گریبان ہونگے اور تمہارے ہاتھ کیونکہ میرا رب قرآن میں فرماتا ہے
ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہکشمیریوں سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ
-

کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
آپ کے ہاتھ میں ہے.

Muhammad Abdullah