Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کی طرف سے سخت دباو پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹوئٹس پر پاکستانیوں کے بند ہونے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہو گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لیے کیے گئے ٹوئٹس پر 333 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے تھے۔

    کشمیریوں کی حمایت پر بولنے پر بھارت کی جانب سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر رحمان ملک، وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف بھی شکایت کی گئی تھیں تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ان رہنماؤں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

    پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مداخلت پر ٹوئٹر انتظامیہ نے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس بحال کرنا شروع کر دیے ہیں اور اب تک 67 اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

    دوسری طرف پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حق میں مواد شیئر کرنے پر ٹوئٹر اکاؤنٹ صارفین شکایات کی صورت میں پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    باغی ٹی وی رپورٹ : ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کا ایک خاص موضوع تھا اور وہ موضوع تھا کشمیر۔ اس موقع پر جو خاص بات تھی وہ تھی پریس کانفرنس کےلیے سجایا گیا سٹیج خاص توجہ کا حامل تھا ۔ میجر جنرل کے پیچھے کشمیری خاص علامت چنار کا پتا تھا ، یہ بیک ڈراپ خاص قسم کا مسج دے رہا تھا جو یہ تھا کہ کشمیر کے لیے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے ،کشمیر ہماری جان سے بھی پیارا ہے اس بات کا اظہار انہوں نے برملا کیا تھا ۔

    چنار کا پتا کشمیر کا عکاس ہے اس کی تاریخ کچھ یوں ہے.کشمیر میں چنار کو ’شاہی درخت‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر قابض ہونے کے بعد سرزمینِ فارس سے لاکر بویا گیا تھا۔

    لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا۔ مصنف، شاعر اور سابق ناظمِ اطلاعات خالد بشیر احمد کہتے ہیں کہ چنار، کشمیر کا دیس واری درخت ہے کیونکہ اس کا ذکر چودھویں صدی کی شاعرہ لل دید کے کلام میں بھی ملتا ہے۔

    حقیقت جو بھی ہو کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اس کی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسے پوری وادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول حصوں میں منقسم اس جنت نظیر کہلانے والی متنازع ریاست کے کئی دوسرے حصوں میں بھی تزئینِ اراضی کے ایک اہم جز کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
    اب یہ بھی خبیں ہیں کہ بھارتی فورسز اس درخت کو جلدی سے کاٹ رہی ہیں اور اس سے کشمیر کا حسن مانند پڑ رہا ہے
    .اب نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ،سرکاری عمارتوں، ہوٹلوں، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ اندھا دھند کاٹا جارہا ہے ۔

    چنار کو کشمیر کی شان اور پہچان سمجھ کر اس سے محبت کرنے والے عام شہری، ماحول شناس کارکن اور ماہرینِ ماحولیات یکساں طور پر اس صورتِ حال سے پریشان اور اس پیڑ کے مستقبل کے بارے میں متفکر ہیں۔

    وہ یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں چنار امتداد زمانہ کے ہاتھوں نیست و نابود نہ ہو جائے۔ سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور نجی اداروں کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند قد و قامت درخت اگر اسی طرح سے کٹتا رہا تو وہ لوگ جو چنار خاص طور پر موسمِ خزاں میں اس کے پتوں کے بدلتے ہوئے رنگوں کو، جو ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگ گئی ہو، دیکھنے کے لیے وادئ کشمیر کا رخ کرتے ہیں یہاں آنا ترک کردیں گے۔
    چنار کے درخت اور پتے کے ساتھ کشمیر کے ادب کا بھی گہرا تعلق ہے اس کو کشمیری زبان میں اہنے شعرو ادب میں استعمال کیا گیا ہے.

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    جدہ : بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت کو کہا ہے کہ جلد سے جلد کرفیو ختم کیا جائے۔

    او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے، ان پابندیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو انسانی حقوق سے بری طرح محروم کررکھا جارہا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ ادویات ناپید ہیں، اسپتال سنسنان ہیں، تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ بھارتی بربریت کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں اور اخبارات بھی بند ہیں۔ آئی پی ایچ آر سی کے مطابق بھارتی فورسزنے پانچ ہزار سے زائد کشمیریوں کو غیرقانونی طور پر ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔

    دوسری طرف صحافیوں ،انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکی سیاسی قیادت کو بھی بغیر کسی قانون کے قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں

  • ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    برلن: کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر عالمی میڈیا بھی تشویش کا اظہار کرنے لگا ،جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

  • دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    نیویارک:کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ،اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیرمیں حالات سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے عرب نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔

    ذرائع کے مطابق ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کشمیرسے متعلق اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔

  • سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر کل آئے ۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروز والہ کے طلبا نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ یکجہتی کشمیر مارچ میں سکول کے سٹاف نے بھی شرکت کی۔ سپیشل بچوں نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالہ سے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اشاروں کی زبان میں نعرے لگا رہے تھے
    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی
    سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروزوالا کے سٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناظم حسین کا کہنا تھا کہ سپیشل بچے آج مودی کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    ناظم حسین کا مزید کہنا تھا کہ سپیشل بچوں کے بھی کشمیر کے حوالہ سے جذبات ہیں ۔آج وزیراعظم کی اپیل پر سپیشل بچے باہر نکلے ہیں ۔وزیراعظم جب بھی اعلان کریں گے سپیشل بچے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے رہیں گے

  • ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    جناب 30 منٹ کھڑے کیوں ہونا ہے ؟
    جواب ملا قوم کو بیدار کرنے کے لیے ۔
    جناب قوم تو پہلے سے ہی بیدار ہے اپنے ضمیر پر سے پیسے کے لالچ کا بوجھ اتاریں تاکہ آپ کا ضمیر بیدار ہو ۔

    قوم کو بہت بہت مبارک ہو کہ میری قوم ابھی بھی زندہ ہے لیکن دکھ تو یہ ہے کہ صرف 30 منٹ کھڑے ہونے کے لیے زندہ ہے ، نعرہ تکبیر کہہ کر آگے بڑھنے کے لیے نہیں ۔ آج قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر بتا دیا کہ ہم آج بھی کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم کشمیریوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، ہم اپنی کشمیری بہنوں کی عزتوں کے لیے ابھی بھی فکر مند ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں کے لیے جان دینے کو تیار کھڑے ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں سے وفا نبھانے کو تیار کھڑے ہیں ۔ آج قوم نے اپنے حکمرانوں اپنے لیڈروں سمیت ثابت کر دیا کہ ہم آج بھی اپنے کشمیری بھاٸیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مبارک ہو میری قوم کو کہ آج ہم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے دنیا والوں کو ۔

    میرے کشمیری لوگو فکر نا کرنا بس ابھی دیکھنا ابھی مودی کا فون آٸے گا کہ پاکستانیوں تم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر ہمیں بہت زیادہ خوف زدہ کر دیا ہے لے لو پلیز لے لو ہم سے کشمیر واپس ، میری کشمیری بہنوں دیکھنا ابھی انڈیین آرمی والے تمہاری عزتوں کو تار تار کرنے کی بجاٸے تمہارے محافظ بن جاٸیں گے اور ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے اعتراف کریں گے کہ پاکستانی قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر ہمیں بہت خوفزدہ کر دیا ہے ، میرے کشمیری بوڑھوں فکر نا کرو ہم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر انڈیا والوں کو اس قدر ڈرا دھمکا لیا ہے کہ وہ آٸندہ کبھی تمہارے جوانوں کو شہید کر کے اجتماعی قبروں کے قبرستان نہیں بناٸیں گے ، میری کشمیری ماٶں آج سر فخر سے بلند کر لو کہ ہم پاکستانیوں نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈین فوجیوں کو اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ اب تمہارے جوان بیٹوں کو کبھی شہید نہیں کریں گے ، کبھی تمہارے سر سے آنچل نہیں کھینچے گے ، میری کشمیری بیٹیوں خوش ہوجاٶ کہ آج کے بعد کبھی تم یتیمی کی زندگی نہیں گزارو گی ، آج کے بعد ہندو تمہیں کبھی پریشان نہیں کریں گے ، آج کے بعد کبھی تمہارے گھروں میں گولی اور بارود نہیں آٸے گا ، آج کے بعد کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آٸیں گے ، آج کے بعد تم میں سے کوٸی معزور نہیں ہوگا ، میری کشمیری بچیوں آج کے بعد کوٸی دکھ تمہارے قریب نہیں آٸے گا کیونکہ آج تمہارے پاکستانی بھاٸی تمہارے لیے 30 منٹ کھڑے ہوٸے ہیں ۔

    پاکستانیو ! مبارک ہو ہم نے بالآخر وہ طریقہ ڈھونڈ ہی نکالا جس کا علم نا محمد بن قاسم کو تھا ، نا محمود غزنوی کو تھا ، نا صلاح الدین ایوبی کو تھا یہ طریقہ تو صرف اور صرف پاکستانی حکمرانوں کے پاس ہے کہ بغیر ہتھیار اٹھاٸے ، بغیر جنگ کٸیے ، بغیر خون خرابہ کیے کس طرح کشمیر فتح کر لیا ہے آج ہم نے کہ دنیا کفر ہمارے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ، میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اپنی افواج سے جدید ترین ہتھیار ، بلکہ ہر قسم کے ہتھیار لے کر واپس بلا لیں اور ہر جمعہ پاکستانی قوم کو 30 منٹ کے لیے کھڑا کر دیا کریں تاکہ عالم کفر ہم سے خوف زدہ رہے ۔ میری پیاری پاکستانی قوم کبھی تم لوگوں نے محسوس نہیں کیا کہ ہم پاکستانی کم اور کوفی زیادہ ہیں ۔ میدان کربلا میں ایک ایک ہیرا کٹتا رہا اور اہل کوفہ کیسے خاموش رہے تھے جانتے ہو کیسے تھے ؟ بالکل ہم جیسے ، جیسے ہم ہیں ویسے ہی اہل کوفہ تھے ۔ کشمیری ہمارے پرچم کے ساتھ شہید ہوتے رہے ، عزتیں لٹاتے رہے ، جانیں دیتے رہے ، اور ہم ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں وہی جو اہل کوفہ نے سادات کے ساتھ کیا تھا ۔ شاید ہم انڈیا کے ساتھ تجارت بند کرتے ، فضاٸی حدود بند کرتے ، یا نعرہ تکبیر بلند کر کے اعلان جہاد کرتے تو ہم انڈیا کو اتنا نقصان نہ پہنچا پاتے جتنا ہم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈیا کا نقصان کر دیا ہے ۔میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ آٸیندہ جب 30 منٹ کھڑے ہونے کا اعلان کریں تو عالم کفر کو زیادہ خوف زدہ کرنے کے لیے قوم کے مردوں سے کہے کہ وہ ہاتھوں پر مہندی لگا کر ، چوڑیاں پہن کر اور سر پر دوپٹہ لے کر 30 منٹ کھڑیں ہوں تاکہ 30 منٹ کھڑے ہونے کی نوبت ہی نا آٸے بلکہ یہ مسلہ 3 4 منٹ میں حل ہوجاٸے ۔

    محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی کی منتظر قوم کو ایسی بہادری مبارک ہو جس میں صرف 30 منٹ کھڑے ہوکر ہماری قوم نے کشمیر کے ساتھ ساتھ مسٸلہ فلسطین و مسٸلہ برما اور دیگر تمام مساٸل حل کر لیے ہیں ۔

  • مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    نئی دلی:مودی بھی کوئی انسان ہیں ؟ بے گناہ کشمیریوں پر مظالم پر چپ نہیں رہ سکتی ، مودی انسانیت کا قتل کررہا ہے ، جو خاموش ہیں وہ اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف نامور بالی ووڈ اداکارہ اوربھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رکن ارمیلا ماٹونڈکرمقبوضہ کشمیر کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر مودی سرکار پر پھٹ پڑیں۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر نے بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ 22 روز سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اورکشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر مودی سرکار پر برستے ہوئے کہا ہے کہ میرے ساس سُسر کشمیر میں رہتے ہیں اور میرے شوہر مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ 22 روزسے اپنے والدین سے بات نہیں کرسکے ہیں۔

  • پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    کراچی: ہم سب کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں‌، ہم کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور غلامی میں رہتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتے ، کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخری حد تک جائیں‌گے ، ان خیالات کا اظہار پاکستانی فنکاروں نے آج بھرپور انداز سے کیا ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان کےاعلان کے بعد آج 12 بجے پورے ملک میں ’کشمیر آور‘ منایاگیا۔ شوبز فنکاروں نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔

    تفٍصیلات کے مطابق نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان اورمظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس وقت ہم ایک ساتھ امن کی دعا کرتے ہیں اور پُر امید ہیں۔

    اداکار فیصل قریشی اور اعجاز اسلم بھی کشمیریوں کے لیے نکلے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔داکار عدنان صدیقی اوربلال اشرف نے بھی تصاویر شیئر کیں اوربتایا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

    دیگر گلوکاروں کی طرح گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لبرٹی چوک جارہی ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ سب ان کا ساتھ دینے کے لیے لبرٹی چوک آئیں۔واضح رہے کہ شوبز کے تمام فنکار گزشتہ روز سے ہی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیغامات جاری کررہے ہیں۔

    https://www.instagram.com/rabi.fairy/?utm_source=ig_embed

    کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ بد قسمتی سے میں اس وقت ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر آور میں حصہ نہیں لے سکوں گا لیکن میں کہیں بھی ہوں میری حمایت ہمیشہ سے کشمیر کے ساتھ ہے۔

    پاکستان کے صف اول کے ادکار شان نے بھی وزیراعظم کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کی بھرپور حمایت کشمیر کے ساتھ ہے اور وہ بھی مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلیں گے۔ شان نے کہا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو جلد بھارت کی غلامی سے نجات دلا کر رہیں گے

    یاد رہے کہ گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز ہی ٹوئٹر پر تمام لوگوں کو آگاہ کردیاتھا کہ وہ آج کراچی میں ایس ایم بی فاطمہ جناح اسکول کی 2500 طالبات کے ساتھ باہر نکلیں گے اور کشمیر آور منائیں گے.

    شہزاد رئے کی طرح معروف گلوکار فخرعالم نے کہا تھا دنیا کو یاد دلائیں کہ ہمیں انسانی تکالیف کے دوران خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے غیر مند فنکاروں ، اداکاروں اور گلوکاروں نے جس طرح کشمیریوں کی بھرپورحمایت اور ان کے حقوق کی آواز اٹھائی ہے اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی