Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر میں غلطی کس نے کی — عزیر احمد (نئی دہلی)

    کشمیر میں غلطی کس نے کی — عزیر احمد (نئی دہلی)

    غلطیاں لمحوں میں ہوا کرتی ہیں, اور اس کی سزا صدیوں بھگتنی پڑتی ہے, کچھ یہی کشمیر میں ہوا ہے, کسی نے تو غلطی کی تھی, شاید پڑوسی ملک کے لیڈران نے, یا شاید اپنے ہی ملک کے قائدین نے, یا پھر خود کشمیریوں نے, ان کی سب سے بڑی غلطی تو یہی رہی کہ وہ کبھی متحدہ موقف پیش ہی نہیں کرپائے, کچھ پاکستان زندہ باد کے نعرے سے دل بہلاتے, تو کچھ لوگ ہندوستانی سرکاری مراعات سے مستفید ہوتے, انہیں ہندوستان ہی اچھا لگتا, کچھ ایسے بھی ہوتے جنہیں آزاد کشمیر چاہئےتھا, حالانکہ آزاد کشمیر محض ایک خواب تھا, ایک بھیانک خواب, جس کی تعبیر محض تباہی تھی, دونوں ملکوں میں سے کسی کی بھی خواہش نہیں کہ ایک اور ملک کا درد سر مول لیں, بہرحال آزادی کے متوالے تھے سو جوش اور جذبے کا کیا کہنا, ادھر مراعات سے فائدہ بھی اٹھاتے رہے, ادھر لڑتے بھی رہے.

    حالات ہمیشہ یکساں کہاں رہتے ہیں,ہندوستان کے افق پر بی.جے.پی کا سورج دوبارہ چمکا, امت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا, دل نے کہا یہ بندہ کچھ تو الٹا سیدھا کرے گا, سو الیکشن کا وعدہ تھا, اس نے پورا کیا, مگر محض میجوریٹی کو خوش کرنے کے لئے, کشمیریوں کی کہاں پڑی تھی کہ کم سے کم مشورہ ہی لے لیا جاتا, جس طریقے سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کو ختم کیا گیا ہے, کیا پتہ کل اسی پریزیڈنشیل آرڈر کا سہارا لے کر ملک کے قانون سے Secular, Democratic Republic کے لفظ کا خاتمہ کرکے "Hindu Rashtra” لکھ دیا جائے, اور یہ کوئی بعید بات نہیں, کہ جب آرٹیکل 70 کا خاتمہ کردیا گیا جس کے بارے میں لیگل ایکسپرٹ کہا کرتے تھے کہ یہ صرف بی.جے.پی کی بڑبول ہے, ورنہ اسے اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا, اسے محض ایک گھنٹے کی سیشن میں بغیر ڈیبیٹ اور بغیر ڈسکشن کے ختم کردیا گیا, تو کیا بعید ہے کہ کل جو بولنے والے باقی بھی بچے ہیں ان کی گردن پر چھری رکھ کے بات منوا لی جائے, ہمارے وزیر داخلہ کو تو اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے.

    ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں اب کوئی عار نہیں ہونی چاہئے کہ کم سے کم شمالی ہند کا ہندو اب Polarize نہیں, بلکہ حد درجہ Radicalize ہوچکا ہے, مسلم دشمنی ہی اب اس کے لئے سب کچھ ہے, آر.ایس.ایس نے ہندو ذہن میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت بھر دی ہے, اب ہندو قوم اس نفرت کی بنیاد پر کسی بھی حد تک جاسکتی ہے, انہیں اب نہ ڈوپلمنٹ سے مطلب ہے, نہ ایمپلائمنٹ سے, نہ تعمیر و ترقی سے, اب اگر کوئی بھی پالیسی جو مسلمانوں کے خلاف ہے تو وہ ان کے لئے نیشنل ہِت میں ہے, اور یقین مانئے امت شاہ اور مودی نے اتنا بڑا جو فیصلہ لیا ہے, اس نے انہیں ہمیشہ کے لئے ہیرو بنا دیا, اب جو آوازیں مخالفت میں اٹھا کریں گی بھی, وہ ان کے ووٹ بینک کو ذرہ برابر بھی نقصان پہونچانے والی نہیں, تین طلاق کا فیصلہ عام ہندؤوں کے نزدیک بڑا تاریخی رہا ہے, اس وجہ سے نہیں کہ اس سے مسلم عورتوں کا فائدہ ہوگا, بلکہ اس سے وجہ سے کہ ملاؤں نے اس کی مخالفت کی تھی, اس کے باوجود مودی جی نے پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے پاس کرادیا تھا, سو کشمیر کا معاملہ تو اسے بڑھ کر ہے اور جس طریقے سے چٹکیوں میں اسے حل کیا گیا ہے, اس نے ان دونوں کو ہمیشہ کے لئے ہندو قوم پرستوں کی نگاہ میں امر کردیا ہے.

    ہندؤوں میں ایک بہت ہی کم تعداد باقی بچی ہے جو Constitutional Morality میں یقین رکھتی ہے, اور ایسے لوگ بھی مٹھی بھر ہیں, جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے, اور ان کو بھی کب ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا جائے یا وہ خود ہی پالا بدل لیں کچھ کہا نہیں جاسکتا, آخر کون کب تک مخالفت کرے گا, اسٹیبلشمنٹ سے تو ڈر ہر کسی کو لگتا ہے, ہم لوگ بھی ڈرتے ہیں, ہم کشمیر کے مسئلے پر صحیح سے کچھ لکھ بول نہیں سکتے, مقابلہ اس اسٹیبلشمنٹ سے ہے جس کے ٹرول جب جسے چاہیں اینٹی نیشنل قرار دے دیں, ہم چیخ چیخ کر نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو فیصلہ لیا گیا ہے, یہ غیر جمہوری ہے, غیر اخلاقی ہے, Right to self-determination کا وعدہ کہاں گیا, جس بنیاد پر Accession ہوا تھا اسی کو کیوں ختم کردیا گیا؟ یہ فوجی بوٹ, یہ گلی نکڑ پر چمچماتی بندوقیں, کب تک رکھوگے ایسے؟ بھلا جذبوں کو بھی کبھی مارا جاسکتا ہے, کچھ لمحوں کے لئے انہیں ڈرا دھمکایا کر دبایا جاسکتا ہے, مگر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے, جب بھی موقع ملنا ہے, ان جذبوں کو پھوٹ پڑنا ہے, وہ بھی اس شدت کے ساتھ کہ روکنا بس میں ہی نہ رہے. آج کشمیری ڈرے سہمے ہیں, خاموش ہیں, کل کو یہ خاموشی کسی طوفان میں بدل جائے تو کیا آپ کا انہیں ٹیررسٹ قرار دینا صحیح ہوگا؟ ہم یہ سب سوال اب نہیں پوچھ سکتے, کیونکہ اسے نیشنل سیکورٹی اور انٹیگرٹی سے جوڑ دیا گیا ہے, اور نیشنل سیکورٹی بھی کیا, محض ایک کانسیپٹ, جس کا استعمال اکثر اسٹیبلشمنٹ لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے ہی کرتی ہے, Integrity without Integration محض زمین کا چاہا جانا ہے, اہل زمین کو نہیں.

    کشمیر الگ ہوجائے یا پاکستان سے مل جائے, اس کی حمایت میں میں کبھی نہیں تھا, ہاں یہ میں ضرور چاہتا تھا اور چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کا ہی حصہ رہے, مگر ایسے نہیں, فیصلے کا حق انہیں دیا جائے, اور اس کے لئے لازمی تھا کہ گورنمنٹ ناراض کشمیریوں سے قریب ہو, انہیں اپنے قریب لائے, گلے لگائے, ان کے غم اور غصہ کو سمجھنے کی کوشش کرے, مگر یہ سب کچھ نہ کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ اس Accession پر حملہ ہے جس کی بنیاد پر کشمیر ہندوستان کے ساتھ تھا, 26 اکتوبر 1947 کا یہ الحاق دو ملکوں کا الحاق تھا, یہ ایسے ہی تھا جیسے دو ملک اپنی آئیڈنٹی کو Preserve کرتے ہوئے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوجائیں, اسی لئے تو کشمیر کے جھنڈے کو بھی باقی رکھنے کا وعدہ ہوا تھا, اور کشمیر کے کانسٹیٹیوشن کو بھی, ہندوستانی قانون میں بھلے ہی اسے Temporary لکھا گیا تھا, مگر اس کے خاتمے کے لئے کشمیری حکومت کی منظوری ضروری قرار دی گئی تھی, جسے ہماری گورنمنٹ نے محض گورنر کی منظوری سمجھا, حالانکہ دو دن پہلے گورنر کو خود نہیں معلوم تھا کہ کیا فیصلہ لیا جانے والا ہے, وہ اپنے انٹرویوز میں فرما رہے تھے کہ یہ نئے فوجیوں کی آمد محض روٹین ہے اور اس کا آرٹیکل 370 سے کوئی لینا دینا, اور پھر گورنر کی منظوری حکومت کی منظوری کب سے ہونے لگی سمجھ سے پرے ہے,گورنر خود حکومت اپانئنٹ کرتی ہے, اور فیصلہ لینے کے لئے اپنے ہی ایمپلائی کی منظوری کو عوام کی منظوری سمجھنا محض ہنسنے کا سبب ہوسکتا ہے, قانون نہیں.

    بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوچکا, اور بہت ممکن ہے کہ سرحدوں پر حالات کشیدہ ہوجائیں, ایسی صورتحال میں کشمیریوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے نہیں معلوم, لیکن یہ تو ہے کہ ہندوستانی حکومت کشمیر میں ان آوازوں کو کھونے والی ہے جو کبھی ہندوستان کے ساتھ جڑے رہنے کے فوائد گناتے تھے, اس جلد بازی کے فیصلے سے حکومت نے کشمیریوں کی نظر میں مین اسٹریم پولیٹیکل لیڈرز کو مجرم بنا دیا ہے جو اپنی قوم کو یقین دلاتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم ہندوستانی ہیں, اب وہ کس منہ سے اپنے عوام کا سامنا کریں گے, اور بہت ممکن ہے کہ وہ بھی اپنے خیالات بدل لیں, جو کہیں نہ کہیں ہندوستان کے لئے نقصاندہ ہی ہے.

    اس فیصلے سے نکل کر کیا آتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا, لیکن سردست کشمیریوں سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنی زمینیں بیچنے کی غلطی نہ کریں گے, کہیں نہ کہیں آرٹیکل 35 کو ختم کرنے کے پیچھے مقصد ڈیموگرافی کی تبدیلی ہی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے ایک مسلم میجوریٹی والے اسٹیٹ کے سر درد سے چھٹی مل جائے, ویسے خدا کی ذات پر اس قدر بھروسہ ہے کہ بار بار میرے ذہن میں پاک پروردگار کا وہ فرمان آرہا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو, تو غالب گمان ہے کہ ذات باری تعالی نے کچھ اور پلان کررکھا ہے, لوگ چالیں چلتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ سب سے بہتر چال چلنے والا بس اوپر والا ہی ہے.

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔

  • آرٹیکل 370 اور مسئلہ جموں و کشمیر ۔۔۔ تحریر: حافظ معظم

    جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت نے خطے کے امن کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے، بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.

    آرٹیکل 35 اے کی رو سے

    کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جا سکتا تھا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہوتا

    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں مستقل شہریت حاصل نہیں کر سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں ملازمت کا حقدار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
    دراصل آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے عوام کی مستقل شہریت کی ضمانت تھا، بھارت نے اسے منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر دیا ہے، آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آتے تھے.
    جن میں
    سیکیورٹی
    خارجہ امور
    کرنسی شامل ہیں،

    آرٹیکل 370 کے تحت ان اختیارات کے علاوہ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے کنٹرول میں تھے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی کے زریعے کشمیریوں کے جداگانہ تشخص کو ختم کر کے اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لا کر بسانا چاہتا ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے.
    جہاں ایک طرف آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت اس علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے قراردادیں اپنی رہی سہی اہمیت بھی گنوا چکی ہیں جن کے مطابق جموں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور بھارت نے یو این میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا لیکن افسوس یہ قراردادیں صرف فائلوں کی حد تک ہی محدود رہیں.
    قائد اعظم کے فرمان کے مطابق "کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے” آج بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتا ہوا جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے ایسے وقت میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کاز کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرے، امریکہ سمیت عالمی دنیا سے کسی اچھے کی امید رکھنا احمقانہ سوچ ہو گی، ہمیں کشمیر کاز کو بچانے کے لیے جو بھی کرنا ہو گا خود کرنا ہو گا، کشمیری گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے، وہ اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر چکے ہیں آج ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم زبانی دعووں کی بجائے عملی اقدام اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق حل کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں.

  • کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟
    سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ ولال کیوں؟؟؟؟

    ایک مشترکہ سوال جو ہم سب کے ذہنوں میں ہے کہ….!!!!
    کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    اپنی اس تحریر میں…میں حالات و واقعات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گی…جس سے یقیناً آپ سب اتفاق کریں گے….
    اگر کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو کشمیر کی وادیوں کو بذات خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا….یا کبھی تصاویر میں کشمیر کا حسن دیکھا ہو تو…آپکی آنکھیں ضرور گواہی دیں گی…
    اس سر سبزو شاداب خطے کی دلکشی کی….
    وہاں کی شفاف فضاء کی…
    فر فر بہتے سفیدوسبز پانی کے دریائوں کی….
    اور قدرت کے خوبصورت رنگوں کی چمک کی….
    جو ہمیں یہاںدیکھنے کو میسر نہیں ….بڑی سے بڑی پینٹ کمپنی اپنے رنگوں میں وہ چمک اور دلکشی پیدا نہیں کر سکتی جو وہاں کے سر سبز خطوں میں ہے….
    لیکن یہ کیا….؟؟؟

    وہ خوبصورت رنگ مدھم کیوں پڑتے جا رہے ہیں…؟؟؟

    وہ خاموش پر سکون فضائیں چیخ وپکار سے کیوں گونج رہی ہیں…؟؟؟

    بہتے دریا کا سفید پانی اب سرخی مائل کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟

    سر سبز کشمیر اب اپنی پہچان کھو کر سرخ و لال کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟؟

    پرندوں کی میٹھی بولیوں کی جگہ مائوں کی دلدوز چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟؟؟

    بچوں کی کلکاریوں کی جگہ دہشت زدہ سہمی ہوئی گھٹی گھٹی آوازیں کیوں سماعت کو چیرتی ہیں؟؟؟؟

    نوجوان بچے اور بچیوں کی سکول و کالج جاتے ہوۓ ہنسی اور قہقوں کی آوازیں کہاں کھو گئ ہیں؟؟؟

    بڑی بوڑھوں کی لاٹھی کی ٹک ٹک (جو اپنے آس پاس والوں کو متوجہ کر کے احساس دلاتی تھی کہ بزرگ جا رہا ہے عزت سے سلام کیا جاۓ) وہ آواز وہ ٹک ٹک کس خوف سےخاموش ہو گئ ہے؟؟؟؟؟؟

    زندگی کتنی حسین ہے…
    اسکا مزہ لینے کی بجاۓ وہ لوگ ہر سانس اک قرض کی طرح کیوں لے رہے ہیں…؟؟؟

    زندگی کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کی بجاۓ وہ زندگی جیسی نعمت سے ہی محروم کیوں ہو رہے ہیں…؟؟؟

    وقت جو پر لگا کر گزر جاتا ہے…
    یہی وقت وہاں لمحوں کی قید سے آزاد نہیں ہوتا….لمحہ لمحہ سال کی طرح کیوں ہو گیا…؟؟؟ہم پاکستانی گرمی کی شدت سے پسینہ میں شرابور ہو کر شکایت کرنے لگتے ہیں….

    وہاں…کشمیری بچے اپنے ہی خون میں غوطہ زن ہو کر بھی والدین سےکیوں شکایت نہیں کرتے….؟؟؟

    آج یہاں ہماری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئ باہر کا بچہ پتھر مار دے تو ہم پورے طیش سے اسکے گھر جھگڑنے چلے جاتے ہیں….

    وہاں اولادیں قتل ہو رہی ہیں والدین حرف شکایت لبوں میں دبائے..سسکیوں اور آہوں کے درمیان رب تعالی سے زیر لب دعا گو کیوں ہیں… ؟؟؟

    نظریں دور کہیں افک پر ٹکی ہوئ ہیں….کہ کب کوئ قاسم …حافظ سعید بن کر آۓ اور اس ظلم کی زنجیر کی اک اک کڑی کو اپنی ایمانی طاقت و قوت سے توڑ ڈالے….

    آج یہاں والدین بیماری سے لڑتے ہیں….یہ سوچ کر کہ ہمارے بعد یہاں ہمارے بچوں کی نگہداشت کرنے والا کون ہو گا…؟؟؟

    وہاں والدین بچوں کی نگہداشت کرنے سے پہلے ہی شہیدکیوں کیے جا رہے ہیں…؟؟؟

    لکن ان معصوم بچوں کی امید بھری نگاہیں اب بھی بارڈر کے اس پار اس منظر کو دیکھنے کیلیے ٹکی ہوئی ہیں….

    کہ کب کوئی حافظ سعید کا سپاہی…سیف اللہ کی تلوار ہاتھ میں تھامے ایمان و قوت …شجاعت و حوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر آۓ اور ظلم و جبر کی اس دنیا کا سر قلم کر دے….اور قید کے اندھیرے سے نکال کر آزادی اور ایمان کی روشنی میں لے آۓ….
    یہ ظلم کے اندھیرے کشمیر کی وادی پر کیوں چھا گئے ہیں…؟؟ میں بتاتی ہوں….

    انڈین 10 ہزار فوجی کشمیر مین ظلم و ستم کیلیے کیوں بھیجے گۓ….؟؟

    میں بتاتی ہوں…
    28 ہزار انڈین فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں اتارے گۓ…؟؟؟
    میں بتاتی ہوں…
    قارئین کرام ….!!!

    وجہ بہت واضح اور صاف ہے…..
    جب کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ پر عملی طور پر کام کرنے والے دین کے ترجمان …حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاۓ گا…..
    تو یہی ہو گا نہ…؟؟
    جب اجلاس اور تقاریر میں چیخ چیخ کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے والے حافظ سعید کی آواز کو زندان میں دبا دیا جاۓ گا۔
    ….تو پھر ایسا ہی ہو گا نہ….؟؟؟
    کشمیریوں کو جانے والی ہر وہ مدد جو حافظ سعید کے سپاہیوں کی شکل میں ان کو میسر تھی….ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ کر ہر مدد ہر کاوش سلاخوں کے پیچھے قید ہو کر رہ گئ ہو تو ….

    ایسا تو ہونا ہی تھا نا…؟؟؟
    انڈین فوج سے لے کر انڈین حکمران تک جس آواز سے لرزتے تھے…وہ آواز دبا دی گئ ہو …
    تو ایسا تو ہوناہی تھا نا…؟؟
    جو وجود انڈیا اور کشمیر کے درمیان ظلم کے خلاف اک دیوار بن کے کھڑا تھا….وہ وجود ہی ہٹا دیا جاۓ …..
    تو بتاؤ کیا یہ نہیں ہونا تھا…؟؟؟
    اب تک انڈین فوج کے ہاتھ جس زنجیر سے بندھے تھے….وہ حافظ سعید اور انکے ساتھی ہی تو تھے…..
    اب تک جس للکار سے خوف کھا کر وہ بلوں میں چھپے بیٹھے تھے…وہ للکار حافظ سعید کی ہی تو تھی….
    اب تک انڈیا کے مذہبی رہنما ان کے مذہب سے متعلق سب سے بڑا خطرہ جس ذات کو بتاتے تھے …وہ نام وہ ذات حافظ سعید ہی تو تھے….

    مگر افسوس…!!! صد افسوس…!!!پاکستان کی اس پالیسی اور پاکستانی حکمرانوں کے اس فیصلے پر افسوس ہی تو کر سکتے ہیں…
    حکام اعلی …..!!!!سوچو ذرا….!!!اپنے کیے ہوۓ فیصلے پر نظر ثانی کرو کہ کہیں….
    کشمیر پر آنے والے اس ظلم کے عذاب کی وجہ ..تمہارا حافظ سعید کو گرفتار کرنے والا گناہ تو نہیں…؟؟؟؟

    کہیں حافظ صاحب کو گرفتار کر کے تم نے انڈیا کی کشمیر کو کچلنے اور اس زمین کو اپنا بنانے کی راہیں ہموار تو نہین کر دیں…؟؟؟

    ظلم و جبر کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر میں اب بھی ایک کشتی اس طوفانی ظلم کا سامنا کر کے کشمیر کو اس طوفان سے بچا سکتی ہے….

    اس کشتی کو زنجیروں سے آزاد کر کے تو دیکھو….!!!
    کہیں دیر نہ ہو جاۓ….

    اس سے پہلے کہ اس طوفان کی لہریں کشمیر کے ہر مسلمان گھر کو نگل لیں…تم حافظ سعید کو رہا کر دو….

    اتنی جانوں کا نقصان تم اپنے سر نہیں لے سکتے…پاکستانی حکمرانو اب بھی وقت ہے اپنی پالیسی کو بدلو…اپنے فیصلے کو مسترد کرو…کایا پلٹ سکتی ہے… بس حافظ صاحب کو رہا کرنے کی دیر ہے..

    سر سبز کشمیر اب سرخ و لال ہو رہا ہے….
    اے حافظ سعید تو کب آزاد ہو رہا ہے…
    کشمیر کا ہر باشندہ تجھے ہی پکار رہاہے….
    توڑ کہ غلط فہمیوں کا پھندہ تو کب رہا ہو رہا ہے….

  • پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    بھارتی راجیہ سبھا میں بی جے پی صدر /وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف ایک قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں125 ووٹ جبکہ مخالفت میں 61 ووٹوں کے ساتھ پاس کرکے سمری بھارتی صدر کو بھیج دی گئی جسے دستخط کرکے مقبوضہ وادی کشمیر میں آرٹیکل 35-A منسوح کرکے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم اور کشمیر کا اسپیشل ریاستی سٹیٹس ختم کر دیا گیا،
    واضح رہے کہ بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر چل کر اب وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے جہاں پہلے ہزاروں فوجی کالونیاں بناکر ہندووں پنڈتوں کو آباد کیا گیا،اب رہے سہے کشمیریوں کو ایل او سی کے آس پاس کے علاقوں میں دھکیل کر ان کو مہاجر یا اقلیت ظاہر کر کے کشمیر پر مستقل قبضہ مسلط کر لے گا،
    اور اس طرح ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیر کو خاموش کر دیا جائے گا
    واضح رہے قرارداد پیش کرنیوالا وہی بدنام زمانہ امیت شاہ ہے جس نے الیکشن میں مودی سرکار کی کامیابی کیلئے کشمیر میں خودکش حملہ کروا کہ اپنے ہی چالیس فوجی جوانوں کی قربانی کا بکرا بنا دیا تھا، اس کے علاوہ تمام غیر قانونی کاموں مساجد پر حملے،مسلمان کا قتل ،دلتوں ،سکھوں کے مقدس مقامات پر قابض ہوکر مندروں میں تبدیل کرنے کیلئے حکومتی سطح پر بھی امیت شاہ کی خدمات لی جاتی ہیں،
    کشمیر کی صورتحال دن بہ دن مزید بگڑتی جارہی ہے ،شبیر شاہ کے علاوہ یسین ملک شدد علالت میں تہاڑ جیل میں قید ہیں،سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت لیڈر نظر بند ہے ،پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے،گزشتہ چار دن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رکھا ہوا،پیٹرول ادویات ،اشیأ ضروریات زندگی میں شدید قلت کا سامنا ہے اس صورتحال میں جہاں پاکستان کشمیریوں کا واحد وکیل اور سہارا سمجھا جاتاتھا اب یہ ایٹمی پاکستان سر سبز گرین پاکستان اور خطہ میں اکنامک ٹائیگر بننے کے خواب سجائے اپنی دھن میں مگن اپنے فارن منسٹر کو جلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی مدد کے لیئے فریضہ حج پر بھیج کر وہاں سے کشمیریوں کیلئے خصوصی دعاؤں کا پیغام بھجوایا گیا ہے،

    کشمیریوں نے پاکستان پر ہونے والے بھارتی حملوں کو اپنے اوپر لیتے ہوئے پاکستان کی خاطر جان کی بازیاں لگا دی کشمیر اصل میں اپنی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،اور انہیں یہ قربانیاں دینے میں ایک بار لغزش نہیں آئی،بلکہ وہ اسے اپنا مذ ہبی فریضہ سمجھتے ہوئے شھادت نوش کرتے ہیں،
    ایک دفعہ کشمیریوں کی مدد کیلئےبات گئ کہ جن کشمیریوں کے گھروں ،بستیوں اور باغات کو انڈین آرمی نے کیمکل ہتھیار استمعال کرتے ہوئے آگ لگا دی ان کی مدد کیلئے کچھ امداد پاکستان سے بجھی جائے،تو جب یہ پیغام کشمیریوں تک پہنچا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے امداد لینے سے انکار کر دیا کہ ہماری قربانی اللہ کی رضا کی خاطر ہے اور یہ امداد لینے سے دکھاوا اور لالچ سے ہماری قربانیاں رائیگاں نہ چلی جائیں،
    آرٹیکل 35-A کی منسوحی سے جہاں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے گئےتو یہاں محب وطن پاکستانیوں میں شدید غم و غصہ ہے،
    جبکہ حکومت پاکستان اس معاملے میں مکمل طور پر بے حِس دکھائی دیتی ہے بیانات اور واضح پالیسی کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے
    جبکہ معتبر حلقوں میں یہ بازگشت جارہی ہے پاکستانی حکمرانوں کی مرضی کے بغیر انڈیا اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا،اگر تو یہ بات درست تو عمران خان صاحب یہ آپ کی بیک چینل ڈپلومیسی کسی کشمیری اور پاکستانی کیلئے قابل قبول نہیں اورنہ ہی یہ پاکستان کے لئیے نیک شگون ثابت ہوگی،
    وزیر اعظم عمران خان صاحب ہمیں بھی سر سبز گرین پاکستان چاہیے مگر کشمیر کے بغیر نہیں ،
    شاہ محمود قریشی صاحب اللہ نے آپ کو حج کی سعادت نصیب فرمائی مگر کشمیر بھائیوں کیلئے تو مساجد میں نماز پر پابندی لگا دی گئی،
    آپ حج پہ دعا ضرور کریں مگر کشمیری بہنوں کی عزتیں کو تار تار ہونے سے بھی بچائیں،
    آرمی چیف صاحب آپ کور کمانڈ کانفرنس ضرور بلائیں مگر اعلامیہ نعرہ تکبیر ہونا چاہیے

  • کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    خان صاحب آپ کو ہم نے وطن سے غداروں، کرپٹ مافیہ کی صفائی اور تبدیلی کے لیے منتخب کیا ۔
    آپ نے ایک سالہ دور میں ہمیں سینکڑوں سالہ تجربہ کروا دیا ۔
    آپ نے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنوانے کی تجویز تو دی مگر گستاخ رسول آسیہ مسیح کو بری کر دیا گیا۔ ہم نے سنا کہ ثابت نہیں ہوا جو چار بار ثابت ہو چکا تھا آپ کے دور حکومت میں ایک دم ثبوت ختم ہو گئے ۔ہم نے سنا ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اس حکومت کے خلاف بات نہیں کرنے دینی یہ وطن کو اوج ثریا تک پہنچادیں گے اس حکومت کے پاؤں مضبوط کرنے ہیں ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ ہم چپ ہو گئے ۔ ہم نے برداشت کیا
    آپ نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا۔جو صرف سوکھی روٹی کھاتا تھا وہ بھی اس کے ہاتھ سے چھین لی گئی۔کرائے دار سڑکوں پہ آ گئے ۔
    ہمیں کہا گیا برداشت کریں کچھ عرصہ بعد یہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہی ملک کے مفاد میں ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    ہمارے ملک سے تیل و گیس کے ذخائر نکلے ۔آپ نے چودہ ارب لگا کر وہ کام ٹھپ کردیا ۔اور کہا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ آپ نے نیشنل ایکشن پلان کے نام پہ ملک کی محب وطن جماعت اور فلاحی تنظیم جو روز سینکڑوں لوگوں کو کھانا دیتی تھی ۔جو لوگوں کو کپڑے اور شیلٹر دیتی تھی جو عید پہ ترسے ہوئے لوگوں کو گوشت دیتی تھی جو ہر مصیبت میں سب سے پہلے پہنچتے تھے سیلاب، بارش، زلزلہ ہو یا کوئی مصیبت وہ پہنچتےتھے، بین کردی گئی۔
    کہا گیا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ
    اس محب وطن جماعت کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا اس اللہ کے شیر کو جو عالم کفر کے ظالموں کو للکارتا تھا جو کشمیر کے لئے بولتا تھا جو کشمیریوں کے دل کی دھڑکن تھا۔ اس کی گرفتاری بھی وطن کے نام پہ کی گئی ۔اور کہا گیا یہی وطن کے حق میں بہتر ہے
    ہم چپ رہے
    ہم نے برداشت کیا
    لیکن اب بات ہے ہماری شہہ رگ کی
    اب بات ہے ہماری اس سلامتی کی جس کے نام پہ ہم نے سب برداشت کیا ۔
    اب بات ہے ہمارے وطن کی ۔
    اب بات ہے ان محبان وطن کی جو اس وطن کے لئے ستر برس سے زائد عرصہ سے کٹ رہے ہیں ۔
    اب کشمیر کا سودا کیا تو مطلب پاکستان کا سودا کیا ۔
    ہمیں یہ سال کا امن نہیں چاہیے ۔کشمیر دے کر بھارت سے خشک سالی سے مرنے کا پلان کامیاب نہ ہوگا ۔
    نواز و بے نظیر جو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے ان پر ریاست سے غداری کی باتیں عام ہوئیں تو عوام نے انھیں دلوں سے نکال دیا ۔آپ نے بھی کوئی غیر مقبول فیصلہ کر لیا تو قوم کا اعتماد کھو دیں گے۔ ریاستی خود مختاری اور سلامتی چیز ہی ایسی ہے جس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

  • جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
    ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.

    Muhammad Abdullah
  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    1931 سے اس پاکستان کے نام پر کشمیریوں نے جانیں دی ہیں میرے حکام بالا….. جب پاکستان نہیں تھا تب بھی کشمیریوں کے دل میں پاکستان تھا….. پاکستان بننے کے بعد ہر اٹھنے والے جنازے ہر لٹنے والی عزت اور یتیم ہونے والے بچے ہر بے سہارا ماں اور ہر بے کس بوڑھے نے پاکستان کے پرچم کی سربلندی کے لیے سب برداشت کیا.. قائد گئے تو تم سے ایک چپہ بھی نہ لیا گیا. ظلم یہ کیا کہ ایل او سی بنوا دی. ہم نے مصلحت کہہ دیا. ستر سالوں سے تمہاری منہ سے نکلتی گولیوں پر اعتبار کیا. تمہارے چھوٹے موٹے ایڈوینچرز میں ہزاروں کشمیری جان سے گئے املاک تباہ ہوئی. مگر تمہاری ٹویٹس نے خاموش کروا دیا. ہم نے مان لیا. ہمارے بزرگوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تمہیں کچھ نہیں دے گا. پر تم نے کہا جی ہم نے سائن کیے ہیں اسی پر فیصلہ ہو گا. ہم بے مان لیا. مجاہدین پر پابندیاں، نظربندیاں، گرفتاریاں اور مقدمات ہوئے ہم نے کہا کہ مشکل حالات میں سٹیٹ کی ساتھ کھڑے ہو جاؤ اللہ خیر کرے گا. تم نے ترانے بنا کر رانجھا راضی کیا اور کشمیریوں کے خون پر ناچ گانا شروع کر دیا. ہم نے مان لیا کہ چلو شاید یہی سفارتی زبان ہے. پوری دنیا میں مستقل مندوب رکھے مشیر بھیجے عیاشیاں کی مگر ہم نے کہا چلو کام تو ہو رہا ہے. میرے کشمیری شیروں کی طرف جانیں دیتے رہے. اور تم گیدڑوں کی طرح اپنی بیرکوں اور سرکاری بنگلوں سے ٹویٹ کرتے رہے. افسوس صد افسوس… ایک لاکھ جانیں جانا، ہزاروں عصمتیں لٹ جانا بچوں کا یتیم ہونا ماؤں کی آہیں سب کے لیے چند ٹویٹس اور گانے ہی تھے. کیا سفارتکاری کا یہ ثمر ہوتا ہے. ہم نے ہر موڑ پر آپکا ساتھ دیا مگر یاد رکھیں محبت کی وجوہات مٹ رہی ہیں، اسلام محفوظ نہ پاکستان گالی نہیں دیتا مگر اپنے گریبان میں جھانکے گا ضرور جانیں دینے والوں کو دہشت گرد کہلوایا تم نے. امن کے لالی پاپ دے کر بیغیرتی کی نیند سلایا تم نے. کشمیر پر ستر سال سیاست سیاست اور سیاست. ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے کشمیری پاکستان کے منکر ہو جائیں ان کی چیخوں سسکیوں آہوں کا حساب لو. ہندو بنیے سے جواب لو. کشمیر بزور شمشیر لو. اعلامیے مذمتیں اور یو این او کے لالی پاپ اب پرانے ہو چکے. تم اپنے بے پناہ چاہنے والوں کو اپنا دشمن بنا لو گے اگر تم نے کشمیر سے غداری کی. کہنے سننے کو بہت کچھ ہے مگر………..

  • جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا مسئلہ ۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

    جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا مسئلہ ۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

    آزادی۔۔۔۔
    اس ایک لفظ کے لیے انسان کتنا پر جوش ہو جاتا ہے۔۔۔کہ وہ اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کا جذبہ بیدار اور بڑھا لیتا ہے۔۔۔
    وطن عزیز پاکستان کے ماہ آذادی کی آمد کے ساتھ تو اس انمول چیز۔۔۔”آزادی”کی اہمیت کا اندازہ اور بھی بخوبی ہونے لگتا ہے۔۔۔
    وہ نا قابل فراموش قربانیوں کی خونچکاں داستان۔۔۔جھنجوڑ اور تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔
    جان سے زیادہ خرچہ آیا۔۔۔۔
    گھر اپنے تب نام لگا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ منزل کے حصول کے لیئے پہلے ایک حوصلہ جاگنا ہوتا ہے۔۔۔پھر اس راہ پر گامزن رہنے اور بھاگنے کی صلاحیت از خود جنم لیتی ہے۔۔۔۔
    جو ناممکن کام کو ممکن میں بدل دیتی ہے۔۔۔۔پاکستان کا وجود اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

    کشمیر کے عوام بھی ستر سال سے جذبہ آذادی سے سرشار اس راہ پر گامزن اور قربانیوں کی انمٹ داستان خون جگر سے تحریر کرتے جا رہے ہیں۔۔۔
    سفاک و جابر قابضین کی طرف سے ہر ظلم کے وار اور حربے کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔مگر ان کے جذبے میں دراڑ نظر نہیں آئی۔۔۔
    کشمیری قیادت کے لہجوں کی مضبوطی رگوں میں ہلچل مچا دیتی ہے۔۔۔اور بے خبر انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے۔۔۔!!!
    کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کُشی کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔۔
    اور جس بے دردی سے ان کے خون کو وادی کے سبزہ زاروں پر بہایا جا رہا ہے۔۔۔اس نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ ضرور دیا ہے۔۔۔مگر خالصتاً انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کا حل یو این او کی قراردادوں کی شکل میں موجود ہونے کے باوجود دنیا اس قدر بے حس کیوں ہو گئی ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کو مرنے کے لیئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔
    بھارت کی طرف سے اب کشمیریوں کے محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالی کس سے پوشیدہ رہ گئی ہے۔۔۔؟؟؟
    روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نوجوانوں کو شہید کرنے کی روایت کس کے ساتھ کھلا ظلم اور نسل کُشی ہے۔۔۔؟؟؟
    پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کو بھر پور واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔۔۔
    اگر یہ خطہ پر امن نہیں ہوتا تو آگ کی چنگاریاں سلگتی رہیں گی اور اس علاقے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔۔۔
    یہ دنیا انسانوں کی ہے اور اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں انسانوں کے قتل کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔بلکہ باہم بات چیت اور حقائق کی رو سے ہی مسائل کا حل نکالا جانا اربوں انسانوں کی زندگیوں کے لیئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔
    اس اہم مسئلے نے دو ایٹمی قوتوں کو آمنے سامنے کر رکھا ہے۔۔۔اور بد قسمتی یہ ہے کہ انڈیا جیسا جمہوری ملک کبھی بات چیت پر سنجیدگی سے آمادہ ہوتا نظر نہیں آیا۔۔۔
    جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہیں۔۔۔۔اگر دنیا یہ مانتی ہے تو پھر عمل کیوں نہیں کرتی۔۔۔؟؟؟؟
    اٹھارہ سالہ افغان جنگ کا حل بھی آج مذاکرات میں ہی نہیں ڈھونڈا جا رہا۔۔۔۔؟؟؟
    لیکن لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع نے کس کا فائدہ کیا۔۔۔؟؟؟
    یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کی طرف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔۔۔اور بھارت کو مذموم مقاصد سے باز رہنے کا مخلصانہ مشورہ بھی۔۔۔۔
    اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے پر آمادہ بھی۔۔۔
    لیکن اگر وہ یہ بات اور زبان سمجھنے سے قاصر رہا۔۔۔تو پھر ہماری تاریخ کے انمٹ ابواب اسے سبق سکھانے کے لیئے کافی ہیں۔۔۔!!!
    اور کسی غلطی کی صورت میں نا قابل شکست افواج پاکستان اس کے دانت کھٹے سے کھٹے ترین کرنے کے لئیے ہمہ وقت بیدار و تیار ہیں۔۔۔
    کہ
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔۔۔
    بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نہتے کشمیریوں کو نہ جھکا سکی توایمان،اتحاد کے ،تنظیم کے ماٹووالی دنیا کی منظم ترین اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج کے سامنے بھلا کیسے ٹھہر سکے گی۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

    پاکستان کے عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے،کھڑے ہیں۔۔۔۔اور کھڑے رہیں گے۔۔۔ ان شآ ء اللّٰہ۔

    لیکن دنیا کا بھلا اسی میں ہو گا کہ سلگتا ہوا مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کشمیریوں کو آذادی و حق خود ارادیت دینے کا وعدہ وفا کر دیا جائے۔۔۔!!!
    اور امن و ترقی کے خواب کو بکھرنے نہ دیا جائے۔۔۔۔!!!!!!
    ستر سالوں سے بہتا لہو اب جواب مانگ رہا ہے۔۔۔حقوق کی پامالی کا۔۔۔۔انسانی جانوں کے بے دریغ قتل عام کا۔۔۔۔عورتوں اور بچوں کے پژمردہ چہروں پر لکھی حقوق کی خلاف ورزیوں کی داستان کا۔۔۔۔!!!!!
    اور بیدار ہونے کا اس سے آگے بڑھ کر کوئی وقت نہ ہو گا۔۔۔!!!

    اللّٰہ سے دعا ہے کہ دشمن کے چین قرار اُڑے رہیں۔۔۔
    اور اس کے ہر وار بیکار جائیں۔۔۔!!!
    میرے وطن۔۔۔۔چمن۔۔۔”پاکستان” اور اس کے محافظوں کا اللّٰہ حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین۔۔۔!!!!!