Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے دورے سے قبل مقبوضہ کمشیر میں گرفتاریاں

    بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے دورے سے قبل مقبوضہ کمشیر میں گرفتاریاں

    سری نگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ہفتے کے روز ضلع پلوامہ میں ایک نوجوان کو گرفتارکرلیا ہے۔

    بھارتی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ گرفتارنوجوان 18اپریل کوضلع کے علاقے کاکہ پورہ میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے دو اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نوجوان بے گناہ ہے اورکسی عسکری سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی کے مقام سے 12کلو میٹر دور ایک دھماکا ہواہے۔

    دھماکہ ضلع جموں کے علاقے للیانہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ریلی کے مقام سے 12کلو میٹر دور ایک میدان میں ہوا۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہے۔تاہم پولیس نے بتایاکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں لگتا ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں ،اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرہ مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

    5اگست 2019 کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد یہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کامقبوضہ جموں وکشمیر کا پہلا دورہ ہے۔ مودی کے متنازعہ دورے کیخلاف آج صبح سے مظفرآباد میں پاسبان حریت کے زیر اہتمام دھرنا دیا گیا ہے۔

    مودی مخالف دھرنے کی قیادت چیئرمین پاسبان حریت عزیراحمدغزالی،پیپلزپارٹی کے رہنما شوکت جاوید میر،عثمان علی ہاشم اور جاوید احمد مغل کررہے ہیں۔برہان وانی شہید چوک میں شہریوں کی بڑی تعداد مودی مخالف دھرنے میں شریک ہے۔دھرنے کے شرکاء نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھائے ہیں اوروہ ”گو مودی گو بیک”کے نعرے لگارہے ہیں۔۔شرکاء نے کتبے اٹھا رکھے ہیں جن پر” مودی کو روک دو”،” جموں وکشمیر آزادی چاہتا ہے” کے نعرے درج ہیں۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

     

  • بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں

    بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں

    مظفرآباد:بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں ،اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرہ مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اورریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

    5اگست 2019 کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد یہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کامقبوضہ جموں وکشمیر کا پہلا دورہ ہے۔ مودی کے متنازعہ دورے کیخلاف آج صبح سے مظفرآباد میں پاسبان حریت کے زیر اہتمام دھرنا دیا گیا ہے۔ مودی مخالف دھرنے کی قیادت چیئرمین پاسبان حریت عزیراحمدغزالی،پیپلزپارٹی کے رہنما شوکت جاوید میر،عثمان علی ہاشم اور جاوید احمد مغل کررہے ہیں۔برہان وانی شہید چوک میں شہریوں کی بڑی تعداد مودی مخالف دھرنے میں شریک ہے۔دھرنے کے شرکاء نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھائے ہیں اوروہ ”گو مودی گو بیک”کے نعرے لگارہے ہیں۔۔شرکاء نے کتبے اٹھا رکھے ہیں جن پر” مودی کو روک دو”،” جموں وکشمیر آزادی چاہتا ہے” کے نعرے درج ہیں۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموںوکشمیر شاخ کے رہنما عبدالمجید ملک نے بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ جموں کشمیر کو کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان کہا کہ نریندر مودی عالمی برادری کی توجہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور وہ جدوجہد آزادی کوہرقیمت پرجاری رکھیں گے۔

    ادھربھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ جموںو کشمیر کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔

    احتجاجی مظاہرے کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔احتجاجی مظاہرین نے آزادی اورپاکستان کے حق میں نعرے لگائے ۔

    وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ جموں و کشمیرکا مقصد اپنی فوج کا مورال بلند کرنا ہے جو جنگ ہارچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذہنی دبائو کے باعث کشمیر میں روزانہ بھارتی فوجی خودکشی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کا دورہ کشمیر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے کیونکہ بھارت 1947ء سے کشمیر پر قابض ہے۔

    انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ کشمیر کا مقصدعالمی برادری کو مقبوضہ جموںو کشمیر کی اصل صورتحال سے گمراہ کرنا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینرمحمد فاروق رحمانی نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ مودی کے دورہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے قبل گزشتہ 48گھنٹے میں بھارتی فوج نے 6 کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف علاقے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر: مودی کا دورہ وادی :اتوار کو مکمل ہڑتال کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر: مودی کا دورہ وادی :اتوار کو مکمل ہڑتال کا اعلان

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: مودی کا دورہ وادی :توار کو مکمل ہڑتال کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف24اپریل بروز اتوار مکمل ہڑتال کی جائیگی جس کا مقصد غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے تاکہ بھارتی وزیر اعظم کو یہ واضح پیغام دیاجاسکے کہ کشمیری جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور وہ اپنی جدوجہد آزادی کو ہرقیمت پر اسکے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کے موقع پر آزاد جموںو کشمیر اور دنیا بھر کے اہم دارلحکومتوں میں مقیم تارکین وطن کشمیری مقبوضہ جموں کشمیرمیں گھناﺅنے بھارتی جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔

    قابض بھارتی انتظامیہ نے مودی کے دورے سے قبل مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں خطے میں پابندیوں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔ مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میںنام نہاد سیکورٹی کے نام پر بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔نریندر مودی 24اپریل کو مقبوضہ علاقے کا ایک روزہ دورہ کریںگے۔

    ادھربھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹ (سی پی آئی-ایم) نے نوجوانوں کی مسلسل گرفتاری اور انہیں ہراساں کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی ایم کے رہنما غلام نبی ملک نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں نے نوجوانوں اور حکام کے درمیان صرف ایک دراڑ پیدا کی ہے اور صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں بے حد بے اطمینانی پیدا ہوئی ہے جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نوجوان پہلے ہی بہت سے چیلنجوں سے نمٹ رہے ہیں جن میں روزگار کے مواقع کی کمی اور دیگر مسائل شامل ہیں اورایسے حالات میں انہیںبلاوجہ ہراساں اور گرفتار کرنا انہیں مزید دیوار سے لگا دینے کے متراد ف ہے۔

  • مودی مقبوضہ کشمیرمیں پنڈتوں کو آباد کرنےکےلیے متحرک ہوگیاہے: مشعال ملک

    مودی مقبوضہ کشمیرمیں پنڈتوں کو آباد کرنےکےلیے متحرک ہوگیاہے: مشعال ملک

    اسلام آباد:پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور جیل میں بند کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیری پندٹ برادری کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیںجسکا مقصد کشمیری مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کو آگے بڑھانا ہے جیسا کہ فلم ‘دی کشمیر فائلز’ میں دکھایا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مشال حسین ملک نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ فسطائی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کے موقع پر24 اپریل کو یوم سیاہ منائیں ۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم کی وجہ سے مقبوضہ جموںوکشمیر لہو لہاں ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیریوں کاپیدائشی حق، حق خود ارادیت دبا رکھا ہے اور اب وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو قلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ۔نہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں وادی میں بدترین انسانی بحران سے بخوبی واقف ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اس بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

  • پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    اسلام آباد:پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی (این جی اوز) کے لیے ساتویں مرتبہ دوبارہ رکن منتخب ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ انتخاب 13 اپریل بروز بدھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں ہوا۔یہ کمیٹی ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو اقوام متحدہ کے کام میں غیر سرکاری تنظیموں کی شرکت کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔

    وزارت خارجہ کے دفتر کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ این جی اوز کی ان درخواستوں پر غور کرتا ہے جو ” ای سو او ایس اور سی“ کو مشاورتی حیثیت اور ایکریڈیٹیشن حاصل کرنا چاہتی ہیں۔کمیٹی میں پاکستان کا انتخاب اقوام متحدہ کے کام میں اس کے کردار اور شراکت میں عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

    این جی اوز کی کمیٹی کے رکن کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا رہے گا جو دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ایک متنوع اور فروغ پزیر سول سوسائٹی ہے۔

    ہم نے ہمیشہ کثیرالجہتی بات چیت میں سول سوسائٹی کی مناسب شرکت کے عزم کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کا مظاہرہ کیا ہے جس کا مقصد انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجوں کا حل تلاش کرنا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    اسلام آباد:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے جہاں بھارتی فوجیوں نے لوگوںکی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی کے ذریعے علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اور پولیس کے ہاتھوں قتل، جبری گرفتاریاں اور تشدد ایک معمول بن چکاہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 05اگست 2019سے اب تک 570سے زائد افرادکو شہید، 2240سے زائدکو زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیاہے جبکہ بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ قابض فوجیوں نے علاقے میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا ۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہے ہیں اور حریت رہنمائوں مشتاق الاسلام اور عبدالصمد انقلابی پر حال ہی میں کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا اس کی واضح مثال ہے۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا کہ بی جے پی کی فسطائی بھارتی حکومت رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اپنی جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بارہا خبردارکیاہے۔

    اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں عالمی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ بنانا چاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی جارحیت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کشمیری پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں وادی کشمیر میں غیر مقامی لوگوں کو بسانے کے لیے الگ کالونیاں تعمیر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو مقبوضہ وادی میں اپنے مقامات پر واپس جانے کا پوراحق ہے لیکن انہیں بھارتی فوجیوں کے تحفظ میں منتخب بستیوں میں بسانے کا کوئی جواز نہیں ۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بہت سے پنڈت خاندان اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ وادی کشمیر میں خوشی سے رہ رہے ہیںجبکہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت پنڈتوں کو الگ کالونیوں میں آباد کرکے مقبوضہ علاقے میں سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی حکومت وادی کشمیر میں پنڈتوں کی آڑ میں ہندو انتہا پسندوں کو بسانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں فوجیوں کو مستقل طور پر آباد کرنے کے لیے فوجی کالونیاں قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے کہ وہ مقبوضہ علاے کی آبادی کو تبدیل نہ کرے لیکن وہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے بھارتی اقدمات کو روکے۔

  • مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    کنور: کشمیری سیاست دان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میںسیاسی مخالفین کو ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

    محمد یوسف تاریگامی نے جو کہ پارٹی کنونشن میں شرکت کے لیے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کنور میں ہیں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کا ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔

    ان کا یہ تبصرہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو طلب کرنے کے بعد سامنے آیا۔فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور کئی دوسرے لیڈیوں کو بھی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے طلب کیا جاچکا ہے۔

    انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ طریقہ ہے جس سے بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں امن بحال کرنے جا ررہی ہے۔ محمد یوسف تاریگامی نے کہ انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ(ای ڈی)، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور این آئی اے کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں چھاپوں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور مخالفین پر کالا قانون یو اے پی اے لاگو کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماﺅں کو ڈرانے اور نیچا دکھانے کی کوشش ہے تاہم ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے۔ محمد یوسف تاریگامی نے مزید کہا کہ بھارت کا کشمیر میں ترقی کا دعویٰ قطعی طور ہر بے بنیا د ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:اگست2019سے ابتک560 سے زائد کشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے:،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019 سے اب تک 560 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 566کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی غیر قانونی حراست کے دوران وفات پا گئے جبکہ بزرگ حریت رہنما، سید علی گیلانی ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران شہید کیا ہے کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے انہیں مجاہدین یا مجاہدکارکن قراردینے کے بعد انہیں قتل کردیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم دوہزار240افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 36خواتین بیوہ اور 85بچے یتیم ہو ئے۔

    رپورٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے کے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں87شہریوں کے قتل کے دعوے کومسترد کردیا گیا۔ بھارتی وزیر نے بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا یہ دعویٰ کیاتھا ۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے پہلے ہزاروں حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، نوجوانوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور ان میں بیشتر اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، غلام احمد گلزار، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، بشیر احمد قریشی، حیات احمد بٹ، عبدالصمد انقلابی، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، سجاد گل اور فہد شاہ شامل ہیں،جنہیں مودی حکومت بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنا رہی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

  • میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے کہا ہے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ اور غصہ پایا ہے اوروہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن نے اپنے اور میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک بیان میں پیغمبر اسلامﷺ کی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو وفات کی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حضرت فاطمہ الزہراءرضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور سادگی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔

    بیان میں خاتون جنت کو صدیوں سے خواتین کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ ان کی زندگی تمام مسلمان خواتین ،بیٹیوں، بہنوں اور ماوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انجمن اور میر واعظ نے بیان میں مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ اس راستے پر چلیں جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لیے منتخب کیا تھا ۔

    انجمن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میرواعظین کشمیر صدیوں پرانی روایت کے مطابق 3رمضان المبارک کو حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی وفات کی برسی پر تاریخی آستانہ عالیہ نقشبند صاحب میں منعقدہ محفل کے دوران انہیں خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے اور انکی مبارک زندگی پر روشنی ڈالتے تھے لیکن عمر واعظ عمر فاروق گزشتہ تین برس سے مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔